117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

💞💞💞💞💞💞
“شام میں نے انکو کہی تو دیکھا ہوگا۔؟؟
سام بہرام شاہ کے اردگرد گھوم کہ شام سے بولا۔تو بہرام نے اپنے گلاسسز کو درست کرتے اُن دونوں کو اپنی سبز آنکھوں سے دیکھا کم‌ اور گھورا زیادہ کیونکہ وہ دونوں آدھے گھنٹے سے اُسے بیچ راستے میں روکے کسی پوليس آفیسر کی طرح سوال کر رہے تھے۔
“اے بی کول ڈاون یہ صرف ایک معمولی بات ہے۔”
اپنے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے تیزی سے اُسنے اپنے کندھے سے بیگ اتارا اور بیگ کے اندر سے پانی کی بوتل نکال کر اُن دونوں ٹوئنز بھائیوں کو مسکراتی نظروں سے دیکھ کر بوتل منہ سے لگا کر پانی پینے لگا اور دل میں کہنے لگا۔
“سام برو مجھے بھی یہ چہرہ کچھ جانا پہنچانا لگ رہا ہے۔جیسے یہ کسی فلم اسٹار کی شکل ہو۔یس برو یاد آیا یہ تو اے بی دی سپر اسٹار ہے۔”
شام نے اپنی آنکھیں چھوٹی کیے بہرام کے چہرے کو بغور دیکھا پھر اُسکے چہرے کے نقش اُسے یکدم سے اے بی کی طرح لگنے لگے تو وہ سام کو جھنجھوڑتے ہوئے چیخ کر بولا۔
کیونکہ وہ اے بی کا سب سے بڑا فین تھا۔
“ون منٹ لٹل بوائے میں کوئی اے بی وے بی نہیں ہو۔میرا نام سید بہرام شازم شاہ ہے میں نیک انسان ہوں ایک سید گھرانے سے تعلق رکھتا ہو۔اور وہ ایک بگڑا ہوا اور بدمعاش لفنگا انسان کہا میری طرح لگتا ہے۔”
وہ چشمہ اتار کہ سام کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔تو سام اُسکی سبز آنکھوں کو دیکھنے لگا۔جو بہت ہی الگ اور یونیک لگ رہے تھے اسے اور پھر یکدم سے اُسے یاد آیا کہ اے بی کی آنکھیں تو سیاه رنگ کی تھیں اُسکی تو سبز رنگ کی ہے۔اور یہ اے بی کی طرح کانفیڈنس بھی اُسے نہیں لگا جو بات بھی نظریں نیچے جھکا کہ کر رہا تھا۔۔۔اگر اے بی اُسکے سامنے ہوتا تو اُن دونوں بھائیوں کو اچھے سے سبق سیکھاتا
“بہرام برو آپکی جو لمبی اور ریشمی زُلف ہے نا یہ ہمیں شک میں مبتلا کر رہی ہیں۔بلکل اُسی طرح کے کلر اور اُسی طرح کے اسٹائل شام کچھ تو گڑبڑ ہے۔”
سام اُسکے سنہرے اور سلکی لمبے بالوں کو آنکھیں چھوٹی کیے شام کو اور اُسے مخاطب کر کے بولا۔تو بہرام کا دل چاہا کہ زور سے اُسکے کان کے نیچے ایک رکھ کر دے جو کب سے اپنی لمٹ کراس کر رہا تھا۔
“لٹل بوائے یہ لمبے بال مجھے خود ایک ماه سے بہت زیادہ تنگ کر رہے تھے۔میں اِنہیں ہی کاٹنے کے لئے باربر شاپ میں جا رہا تھا لیکن آپ لوگوں نے مجھے سڑک کے بیچ میں روک لیا۔اور اب میں یہاں کھڑا اِن سے بہت الجھن محسوس کر رہا ہوں۔”
وہ اپنے لمبے سنہرے بالوں کو ہودی میں چھپا کہ اُن دونوں کو گھورتے ہوئے بولا تھا۔جو اُسکے چہرے کو ابھی تک اپنی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے۔
“شام برو کچھ تو گڑبڑ ہے۔مجھے تو لگ رہا ہے۔یہ اے بی سر ہی ہے۔اور اپنے فینز کے ہاتھوں پکڑے جانے پر اب یہ ایکٹنگ کر رہے ہیں۔”
سام اپنی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر دو قدم پیچھے ہٹ کر اے بی کے چہرے کو ترچھی نظروں سے دیکھتے ہوئے شام سے بولا۔تو اے بی اُسکی بات پر دانت پھیس کہ رہ گیا تھا۔اور شمعون سام کی بات پر اے بی کو دیکھنے لگا۔
اور اُنہیں اِس طرح دیکھ کر اب کے اے بی کا ضبط چٹخ کہ رہ گیا اور اِس سے پہلے کہ وہ اُن دونوں کا حشر نشر کرتا اُسنے سڑک کی دوسری جانب سے ایک سوبر سے شخص کو تیزی سے آتے ہوئے دیکھا۔تو وہ آہستہ سے قدم پیچھے باربر شوب کی جانب بڑھانے لگا۔
“تُم دونوں یہاں کیا کر رہے تھے۔وہاں تُمہاری ماں تُم لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہو رہی ہے۔اور تُم لوگ یہاں مزے سے کھڑے باتیں کر رہے ہو۔”
سعد وہاں آکر اُن دونوں کو سختی سے کندھوں سے پکڑ کر اُنہیں گھورتے ہوئے بولا۔تو وہ دونوں سعدی چچا کو وہاں دیکھ کر خوشی سے اُسے پیچھے کی طرف اشاره کرتے ایک ساتھ بولے تھے۔
“سعدی چاچو کہا تھا نا کہ ہم ایک دن ضرور سپر اسٹار سے ملے گے۔تو یہ دیکھیں ہمارا سپر اسٹار ہمارے سامنے کھڑا ہے۔لیکن چاچو یہ کہ رہے ہیں کہ میں کوئی اے بی وے بی نہیں ہو۔”
سعدی اُس پاگل انسان کا نام سن کر سخت غصے سے سامنے دیکھنے لگا۔لیکن وہاں کسی کو ناپاکر وہ اُن دونوں بھائیوں کو سخت غصے سے دیکھنے لگا۔
“کہا ہے وہ تُم لوگوں کا سپر اسٹار یہاں تو مجھے صرف دو موٹے انگریز نظر آ رہے ہیں۔وہ اے بی سپر اسٹار نہیں۔”
سعد سخت چڑ کر آگے بڑھا اور اُن دونوں بھائیوں کو کان سے پکڑ کر سخت لہجے میں بولا۔تو وہ دونوں بھائی اُنکی بات پر تیزی سے پیچھے پلٹ کر دیکھنے لگے۔اور پیچھے دو موٹے انگریز برگر ہاتھ میں لئے اُسی جانب آتے ہوئے اُنہیں نظر آئے لیکن اے بی انہیں وہاں کہی نظر نہیں آیا تو وہ دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔
جبکہ باربر شوب کے اندر بیٹھا طنزیہ نظروں سے اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا جو اپنے ساتھ کھڑے سوبر شخص سے کچھ کہ رہے تھے۔
“اتنی جلدی تو میں خود کو کسی کے ہاتھ نہیں لگنے دو گا۔خاص کہ اپنی سنو وائٹ کی فیملی کے ہاتھو۔!!
ٹک ٹوک ٹک ٹوک۔!!
اور بہت جلد میرے سالو تم لوگوں کے یہ پیارے اور اکلوتے داماد جی تُم لوگوں سے ملاقات کریں گے۔!!اور اپنی دونوں انمول لوگوں کو تُم لوگوں کے گھر سے سیدھا میں اپنے گھر لے جاؤ گا۔ ویٹ ائینڈ واچ۔۔”
نظریں باہر کھڑے اُن تینوں پر گاڑے اپنے مہنگے بلیک ڈایل واچ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تھا۔اور باربر شاپ کا ملک جو اُسکے پیچھے کھڑا تھا اُسکے اشارے پر اُسکے بالوں کو کاٹنے لگا۔
وہ یہاں صرف اُن لوگوں کے پاس آیا تھا جن کے پاس سید علی شاہ موجود تھے۔اور یہ بات اُسکے آدمی نے اُسے بتایا تھا اور اُسنے جسکی تصویر اُسے وائس ایپ کیا تھا جس کو سندھ میں سید علی شاہ زخمی حالت میں ملےتھے وہ کوئی اور نہیں اُسکی سنو وائٹ کے بابا تھے۔تو وہ اُسی وقت یہ بات جان کر لندن کے لیے نکلا تھا۔اور کل رات یہاں پہنچتے ہی وہ شاہ مینشن چوری سے انکے روم میں اِنہیں دیکھنے گیا تھا۔اور اِنہیں صحیح سلامت دیکھ کر وہ وہاں سے خاموشی سے نکل آیا تھا تاکہ وہ اپنے نئے میشن کے لیے پاکستان پہنچے لیکن سنو وائٹ کے جڑواں بھائیوں کے اپنے اے بی والے لُک کی جانب مبذول کرانے پر اُسے اپنے لمبے بالوں کا خیال آیا جو و جلدی میں وہ کاٹنا بھول گیا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
“ری برو اب تو وہ اے بی دی سپر اسٹار چلا گیا ہے۔پھر یہ ڈر کس بات کا جبکہ سارے نیوز چینل میں اُسی کی باتیں چل رہی ہے اور اُسکے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ وہ دو سال اکیلا تہنا رہنا چاہتا ہے۔اِسی لئے وہ اچانک ہی کل رات سے اپنے گھر سے غائب ہے۔ابھی تک کسی کو اِسکے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا ہے۔کہ وہ کہا چلا گیا ہے۔”
رعابہ نے زور سے صوفے پر آکر بیٹھتے ہوئے ری کو مخاطب کرکے کہا۔تو ری کے دائیں جانب بیٹھے اذان شاہ نے اُسکے چہرے کو بغور دیکھا جہاں پر کسی بھی شرارت کا نام و نشان اُسے نظر نہیں آیا تو وہ اپنی نظریں میگ پر مرکوز کرتے ہوئے بولا۔
“مس ڈراما کوئین تُم کیوں پوچھ رہی ہو۔کئی تُمہیں تو اُس جلاد سے عشق وشق کا تو بخار نہیں ہوگیا ہے۔جو تُم اُسکے غائب ہونے پر اتنی غمگین صورت بنا کر یہاں آکر میری بہن سے افسوس کر رہی ہوں۔”
میگ کے صفحے پلٹ کر وہ طنزیہ انداز میں بولا۔تو رعابہ نے اُسے تیز اور چھبتی نظروں سے گھورا اور صوفے سے اٹھ کر غصے سے اُسکی جانب تیزی سے بڑھی اور اُسکے ہاتھوں سے میگ چھین کہ پھاڑتے ہوئے بولی۔
“مسٹر اذان شاہ وہ میں اِس لئے کہ رہی تھی کہ ہم تینوں نے جو ایڈمیشن لیا تھانا کراچی یونی میں تو اُسکو ضائع کرنے سے بہتر نہیں ہے کہ ہم تینوں وہیں پڑھنے کیلئے چلے جائے۔”
وہ میگ کے ٹکرے ایک ایک کر کے پھونک مارتی اذان شاہ کے چہرے پر پھینکتے ہوئے بولی۔تو اذان شاہ اُسکے اِس بے ہودہ عمل پہ غصے سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔جبکہ ری جو ٹیبل پر اپنے پاؤں رکھے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔وہ پاؤں ٹیبل سے ہٹا کر نیچے رکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اُن دونوں کے سامنے کھڑے ہو کر بولی۔
“ہٹلر کل ہم تینوں کا یونی میں پہلا دن ہیں توتُم ہمیں اپنے دعاؤں کے ساتھ کراچی یونی بھیجوں ناکہ لندن۔اور ویسے بھی کیوٹی نے بڑے پاپا سے ضد کرکے اُنہیں منایا ہے۔تُم اُسے مایوس مت کروں کیونکہ اُسکا خواب ہے ڈاکٹر بننا۔اور اگر تُم اپنی حوری کو تکلیف میں دیکھنا چاؤ گیں۔تو یہ تمہاری مرضی ہے۔”
ری اپنا ایک ہاتھ جیب سے نکال کر اذان شاہ کے مضبوط کندھے پر رکھتے ہوئے بولی۔جبکہ اذان شاہ حوری کے ڈاکٹر بننے کا خواب جان کر اپنی بہن کو دیکھنے لگا جو اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔
“ری برو آپ بھی کسے دعا کا کہ رہی ہیں۔یہ کہا جانتے ہیں کہ دعا کہتے کس کو ہے۔یہ تو بس اپنی میں کو جانتے ہیں۔اِنہیں آئینے میں صرف اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔۔کہا دوسروں کا یہ صرف اپنی خوشیاں چاہتے ہیں۔کسی اور کی نہیں چاہے وہ انسان خوشیوں کے لئے ترس ترس کر مر ہی کیوں نا جائیں اِس بات سے اِنہیں کہا فرق پڑے گا۔”
رعابہ نظریں اذان شاہ کے پرسوچ چہرے پر گھاڑتی ری کو مخاطب کرتے ہوئے بولی‌۔تو اذان شاہ اُسکی بات پر تاسف سے اُسے دیکھنے لگا۔جو اب اُسے گھور رہی تھی۔
“رعابہ تُم تو چھپ ہی رہوں تو تُمہارے لئے بہتر ہوگا۔ورنہ میں تُمہاری چلتی زبان کو بریک لگانا اچھے سے جانتا ہوں۔”
انگلی اٹھا کر اُسے سختی سے وارن کرتے ہوئے بولا تھا۔تو رعابہ اُسکی وارننگ پر غصے سے ناک چرا کر اُسے دیکھنے لگی جو اب ری کی جانب متوجہ تھا
“ریحام میں اور بڑے پاپا صرف اِس لئے آپ دونوں کو لندن واپس بھیج رہے تھے۔تاکہ وہ شخص دوباره ہماری حوری کو نقصان نہ پہنچا دے۔اب اُس انسان کا کسی کو پتہ نہیں ہے۔تو یہ بہت اچھی بات ہے۔آپ دونوں کے یو میں سکون سے جا کر پڑھ سکتی ہے۔”
اذان شاہ نے آج پہلی بار اپنی بہن کہ سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولا تھا۔جبکہ ری اپنے بڑے بھائی کے لہجے میں محبت محسوس کرتی تیزی سے اُسکے سینے سے لگی۔
“اب میرا صرف ایک میشن ہے کہ حوری اسٹورنگ بنے ہٹلر کیونکہ اب اُسے اپنے لئے خود لڑنا پڑے گا۔اگر ہماری کیوٹی اسٹورنگ بنے گی تو اُسے آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کسی میں ہمت پیدا نہیں ہوگی۔”
ری اذان شاہ سے الگ ہوتی بولی۔تو اذان شاہ اور رعابہ نے اُسے دیکھا جو خود کو ایک نئے عزم کیلئے مکمل تیار کیے ہوئی تھی۔
💞💞💞💞💞💞💞
حور جو یونی کے لیے تیار ہو رہی تھی تبھی اُسکی نظریں سامنے ٹیبل پر رکھے باکس پر پڑی تو باکس دیکھ کر یکدم سے اُسے کل رات کے اے بی کی شدت یاد آئی تو وہ کانپتی پیچھے ہٹنے لگی۔
“سنو وائٹ میرے جانے کے بعد تُم اِسے کھول کر ضرور دیکھوں گی ورنہ اگر تُم نے اُسے ہاتھ بھی نہیں لگایا نا تو میں واپس آ کر تُمہیں اپنے ساتھ لے جاؤ گا۔”
اُسکی دھمکی اچانک دماغ میں گردش کرنے لگی تو خوفزدہ ہوکر وہ اُس باکس کی جانب اپنے قدم بڑھا
کر ٹیبل سے باکس اٹھا کر روتے ہوئے ریپر اتارنے لگی۔اور جو چیز باکس کے اندر اُسنے دیکھا اُسے دیکھ کر
وہ روتی نیچے بیٹھنے لگی۔
“نہیں ۔۔؟؟
وہ اُس باکس کو خود سے دور اچھال کر بری طرح سے وہیں نیچے زمین پر بیٹھ کر روتی سامنے ایک ریوالور کو دیکھنے لگی۔جس پر Bh لکھا ہوا اُسے صاف نظر آیا۔تبھی اُسے اپنے پیروں کے پاس ایک کارڈ نظر آیا تو وہ تیزی سے آگے بڑھ کر اُس کارڈ کو اٹھاتی اپنے آنسوؤں کو پونچھ کر اُسکے اندر لکھے الفاظوں کو پڑھنے لگی۔
“میں جانتا ہوں۔سنو وائٹ تُم ریوالور دیکھ کر ڈر گئی ہوگی۔لیکن یہ دینا ضروری تھا۔اگر دو سال بعد ہم ملے گے۔تو تُم یا تو میرا استقبال اِس ریوالور سے کرنا یا پھر اُسی انداز میں جو کل رات میں آخری ملاقات میں تُم سے جس انداز میں ملا تھا۔”
کارڈ میں لکھے لفظ پڑھ کر وہ اپنے ہونٹ پر ایک ہاتھ رکھ کر وہ ریوالور کو دیکھنے لگی جو اُس کمینے انسان کا تھا۔اور اُسنے اُسے خود کو مارنے کے لیے اُسے تحفے میں دیا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
“ری مم۔میں کیسے پوری یونی میں اکیلی۔؟
حور جھجک کر یونی کے گیٹ پر رک کر ری سے بولی تھی۔جو رعابہ کے ساتھ مل کر رعابہ کی ایڈمیشن فارم لینے کے لیے جا رہی تھی۔
وہ دونوں بزنس پڑھنا چاہتی تھی اور حور میڈیکل۔اب ری اور رعابہ کا ڈیپارٹمنٹ ایک تھا اور اُسکا الگ اِسی لیے وہ نروس ہو رہی تھی۔یہ سوچ کر کہ وہ اکیلی کیسے وہاں جائے گی۔اور کل اُسنے انٹری ٹیسٹ بھی پاس کیا تھا اور آج اسکا پہلا دن تھا۔
“کیوٹی یہ سفر آج سے آپ کو خود اکیلے طے کرنا ہوگا۔ورنہ آپ ساری زندگی اپنے ڈر کی وجہ سے پیچھے رہ جائے گی۔”
اُسکے دونوں ہاتھ تھام کر ری بولی تھی۔تو حور اُسکی بات پر مسکرا کر اُسے اور رعابہ کو دیکھتی بولی۔
“ری برو آپ بلکل ٹھیک کہ رہی ہو۔میں اپنے ڈر کی وجہ سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکوں گی۔سب سے پیچھے رہ جاؤ گی۔آج ہی میں اپنے ڈر سے لڑوں گی۔”
حور اپنے ڈر اور جھجک کو ذہن سے جھٹک کر ری کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر مضبوط لہجے میں بولی۔اور وہ اپنی اِس کمزوری کو اپنی طاقت بنا کر شاید کسی کو یہ بھی دکھانا چاہتی تھی کہ وہ اُس سے بلکل بھی نہیں ڈرتی ہے۔
“حوری اب تُم اپنے ڈیپارٹمنٹ کو ڈھونڈوں اور ہاں تُم کسی سینئر اسٹوڈنٹ کو موقع مت دینا رینکنگ کا وہ لوگ آج کے دن جونیئر اسٹوڈنٹ کے ساتھ بہت برا کرتے ہیں۔تُم بھی اُن سے بچ کہ رہنا۔”
رعابہ اپنا گاؤں سنبھال کر حور کے سامنے کھڑی ہو کر بولی۔تو حور اُسکے گاؤن کو دیکھ کر ایک بار پھر سے اپنی ہنسی بمشکل کنٹرول کر گئی ورنہ وہ اُسکے ہنسنے پر خفہ ہوجاتی۔
“اوکے مس میں ان سے بچ کر رہتی ہو۔ورنہ وہ لوگ ری کے ہاتھوں ضائع ہو جائے گیں۔اگر انہوں نے کیوٹی کو تنگ کیا تو وہ اُنہیں کی رینکنگ کرنے پہنچ جائے گی۔”
رعابہ کو شرارتی انداز میں آنکھ مارتی وہ ری کو وہ پہلی والی حور لگی اسی طرح شرارتیں کرتی اُسے چھیڑتی ہوئی اُسے مسکرانے پر مجبور کر گئی کیونکہ آج اُسکے چہرے پر ڈر نام کا کوئی سایہ تک اُسے نظر نہیں آیا تھا۔
“کیوٹی اِسی طرح ہنستی رہنا کیونکہ تُم ہنستے ہوئے بہت زیادہ خوبصورت لگتی ہو۔اور ڈرتی ہوئی تُم بلکل چڑیل لگتی ہوں۔”
ری رعابہ کو اشارہ کرتی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھتے ہوئے بولی۔تو حور اُسکی بات پر مسکرانے لگی اور اُنہیں جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔
💞💞💞💞💞💞
“اے بیٹری وہاں دیکھو تّمہارے لئے قدرت نے خود ایک پارٹنر بھیج دیا ہے۔بلکل تُمہاری طرح چشمش ہے۔اور تُم دونوں کپل ڈانس کروں گے۔اور اگر تُم نے انکار کیا نا تو تُم کو اُسے سب کے سامنے کس کرنا پڑے گا۔اور وہ بھی یہاں لبوں پر.”
وہ اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے سامنے بیٹھے اسٹوڈنٹ کو دیکھنے لگا۔جو آج سب جونئیر اسٹوڈنٹ کی حالت ریکنگ کی وجہ سے بہت برا کر رہا تھا۔اور اُن لوگوں سے خود کو بچاکر وہ اپنی کلاس کی جانب جا ہی رہا تھا۔
پتہ نہیں کس بدتمیز نے اُسے دیکھا اور جا کر اِن شیطانوں کو بتا دیا اب وہ نظریں نیچے جھکا کے اُن لوگوں کے سامنے کھڑا تھا۔
تبھی اُن میں سے ایک اسٹوڈنٹ کی آواز پر اُسنے اپنی سبز آنکھیں اوپر اٹھائیں اور آگے سے اپنی سنو وائٹ اور اُسکے پیچھے ایک سینئر اسٹوڈنٹ کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا اور اب اُسکی نظریں سنو وائٹ کے گھبراہٹ کے باعث سفید چہرے پر مرکوز تھیں جو اُن کی جانب قدم خوف سے جانب بڑھا رہی تھیں۔اور یہ دیکھ کر وہ سختی سے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچنے لگا۔
“اب تُم دونوں ایک خوبصورت کپل ڈانس کروں گے۔وہ بھی سب کے سامنے اور سونگ ہم ڈیسائڈ کرے گے۔کیوں بیٹری تُمہیں منظور ہے۔”
سینئر اسٹوڈنٹ اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا۔تو وہ بھی اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی آواز بدل کہ بولنے لگا۔
“But Sir, this is wrong.”
اگر آپ سب کچھ ڈیسائڈ کرے گے۔تو پھر میں کیسے ڈانس کر سکوں گا۔اور آپ جو ہماری ریکنگ کر رہے ہیں ہمارا بھی تو کچھ حق بنتا ہے۔کہ ہم اپنی خواہش آپ سے شئیر کریں۔اور میں چاہتا ہوں کہ آپ سونگ میری پسند کا لگائیں اور آپ اِسی میری خواہش سمجھے یا کچھ اور لیکن پلیز سر سونگ میری پسند کا۔”
وہ چشمہ درست کرتے ہوئے بے چارگی سے بولا۔تو اُسکی بات پر سب اسٹوڈنٹ متفق ہوکر اپنے لیڈر کی جانب دیکھنے لگے جو خود بھی ہامی بھرکر اپنا موبائل اُسکی جانب بڑھا کے بولا۔
“میرے سامنے ہوشیاری بلکل بھی نہیں چلے گی۔ورنہ میں وہ دوسرا کس والا ریکنگ تُم دونوں پر اپلائی کروں گا۔”
وہ اسٹوڈنٹ اُن دونوں کو دیکھتے ہوئے بولا۔تو اُسنے اپنا سر ہلا کر موبائل پر اپنی پسندیدہ سونگ پلے کیا۔اور حور کی جانب بڑھا اور اُسے دیکھنے لگا جو اُسکے مقابل کھڑے ہونے پر بری طرح سے کانپنے لگی تھی۔
“دیکھو یہ صرف ایک ریکنگ ہے۔۔ اور اگر ہم دونوں نے اِنکی بات نہیں مانی تو پھر اِن لوگوں نے جو ہمیں کس والا گھٹیا ریکنگ کا کہا ہے۔وہ ہم دونوں کو مجبوراً کرنا پڑے گا۔۔!!اور وہ بھی یہاں سب کے سامنے اور مجھے اُس گھٹیا ریکنگ سے یہ کپل ڈانس سب سے زیادہ بہتر لگا۔
شاید آپ میری قربت کا سوچ کرپریشان ہو رہی ہے۔تو اِسکے لئے میرے پاس ایک بہتر حل ہے۔اگر آپ مناسب سمجھیں تو کیا میں آپ کا سر یہاں اپنے سینے پر رکھ سکتا ہو۔اِس طرح آپ کسی کو دیکھ نہیں سکی گی۔لیکن آپ میری قربت سے تو نہیں ہاں اِن لوگوں کی نظروں سے تو ضرور نروس ہونے سے بچ جائے گی۔ “
گھمبیر لہجے میں کہ کر وہ اُسکی جانب دیکھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اُسکی نازک کمر کے گرد حمائل کرکے وہ اُسکا سر اپنے چوڑے سینے پر رکھتے ہوئے آگے بڑھا۔
Shining in the shade in sun like a pearl up on the ocean
Come and feel me
Girl feel me
Shining in the shade in sun like a pearl up on the ocean
Come and heal me
Girl heal me
Thiking about the love we making
And the life we sharing
Come and feel me
Girl feel
Shining in the shade in sun like a pearl up on
Come and feel me
Common heal me
ہوا جو تو بھی میرا میرا
تیرا جو اقرار ہوا
تو کیوں نا میں بھی
کہ دو کہ دو
ہوا مجھے بھی پیار ہوا
تیرا ہونے لگا ہوں کھونے لگا ہوں
جب سے ملا ہوں تیرا ہونے لگا ہوں
حور جو اُسکے چوڑے سینے پر اپنا سر ٹکائے اپنی آنکھیں زور سے میچے دونوں‌ نازک ہاتھ اُسکے شانوں پہ رکھے ہوئی تھی۔
اُسے اپنی کمر پر اُسکے ہاتھ رینگتے ہوئے محسوس ہوئے تو وہ کانپتی ہوئی اُسکے شانوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے لگی۔
اور بہرام اپنے شانوں پر اُسکی گرفت کو مضبوط محسوس کرتا مسکرا کر اُسکی کمر پر اپنا پکڑ اور مضبوط کرتا اُسے لیے پیچھے اُس اسٹوڈنٹ کی جانب بڑھا جہاں وہ سب مزے سے کھڑے اُنہیں ڈانس کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
وہاں پہنچ کر اُسنے حور کو ایک ہاتھ سے خود سے لگا کر اور پھر اپنا دوسرا ہاتھ سامنے کھڑے لڑکے کوزور سے جان بوجھ کہ اُسنے مارا۔!!
وہ لڑکا اِسکے زور دار وار کو بلکل بھی سہہ نا سکا اور دور جا گرا اور یہ دیکھ کر وہ حور کو تیزی سے اپنےپیچھے کھڑا کرکے منہ کھولے ایکٹنگ کرنے لگا۔
“سس۔سوری میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا آپ ٹھیک تو ہے نا۔آپکو زیادہ چوٹ تو نہیں آیا پلیز آپ سب کھڑے کیا کر کے اٹھائے اِنہیں اور ہاسپٹل لے کر جائے دیکھ نہیں رہے اُنکا کتنا خون بہ رہا ہے۔”
وہ اپنا چشمہ درست کرتے گھبرا کر اُن سب لڑکوں سے بولا۔تو حور جو اُسکے پیچھے کھڑی تھی۔وہ اُسے اپنے سے کمزور لڑکوں سے ڈرتے دیکھ کر وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی اپنی ہنسی کا گلہ گھوٹنے لگی۔
“اے بیٹری یہ تُم نے جان بوجھ کر کیا ہے۔میں نے خود دیکھا تُم ہنس رہے تھے۔اور تُم ایسے لگتے نہیں ہو۔جو تُم خود کو ظاہر کر رہے ہو۔دیکھ لوں گا میں تُمہیں۔اور تُم سب ہنس کیوں رہے ہو۔اب چلو یہاں سے یا پھر منگواؤ تُم سب کے لئے ایمبولینس۔”
وہ لڑکا انگلی اٹھاکر اُسے دھمکیاں دیتا ہوا آخر میں چڑ کر اپنے سارے گروپ سے کہنے لگا۔جو اُسے کمر پکڑے دیکھ کر
ہنس رہے تھے۔
“لیکن سر ابھی اِس وقت تو آپکو سب سے زیادہ ایمبولینس کی ضرورت ہے۔آپکے اِن لڑکوں کو نہیں کیوں جوانوں سہی کہا نا میں نے۔”
بیگ پر گرفت سخت کرتا دوسرے ہاتھ سے حور کا ہاتھ پکڑ کر وہ آہستہ آہستہ پیچھے قدم لیتے ہوئے بولا تھا۔جبکہ حور حیرت سے اپنے نازک ہاتھ پر رکھے اُسکے سفید مردانہ ہاتھ کو دیکھنے لگی جو گرفت مضبوط کیے اُسے لیے پیچھے کی جانب بڑھ رہا تھا۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اُسے لے کر دائیں جانب بھاگنے لگا۔
“پکڑو اُن دونوں کو شاید یہ بیٹری کی اولاد عارف خان سے پنگا لینے کا انجام اچھے سے نہیں جانتا اِسی لئے یہ الجھنے کی غلطی کر رہا ہے۔”
وہ لڑکا غصے سے اپنے لڑکوں کو اُن دونوں کے پیچھے لگاتے ہوئے سختی سے بولا تھا۔
💞💞💞💞💞💞💞
“تُم نے اُس دن میرے ساتھ ریکننگ کیا تھا نا اب آج تُمہاری باری ہے اب دیکھنا میں تُمہارے ساتھ کیا کرتی ہوں۔”
ری اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے کھڑی سامنے کھڑے لڑکوں کو دیکھتی سامنے سے آتے ارحام انصاری کو دیکھ کر اپنے دل میں اُس سے مخاطب ہوکر بولی۔
“ریکننگ ہوگا ضرور لیکن میرے انداز میں کیا تُم لوگوں کے پاس بائیک ہے۔اور اگر نہیں ہے۔۔تو میں خود ارینج کرتی ہو۔اور پھر تُم لوگ دیکھنا کے ری وہ کیسے اپنے انداز میں کسی کے ساتھ ریکننگ کرتی ہے۔”
ری آئی برو اچکا کہ اُن لڑکوں کو دیکھتی بائیک کا پوچھتے ہوئے بولنے لگی نظریں ہنوز ارحام پر ٹکی ہوئی تھی۔ اُسکی بات پر وہاں کھڑے سارے لڑکے اُسے تعجب سے دیکھنے لگے۔جو ارحام انصاری کو اپنی نگاہوں کی گرفت میں لئے کھڑی تھی۔
“اے لڑکی سنو غلطی سے بھی اُسے بیچ میں مت گھسیٹو ورنہ تُمہارے ساتھ وہ ہمارا بھی حال برا کر دے گا۔اور میں تو اُسے اتنے مہینوں سے امپریس کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔تاکہ وہ بھی مجھے اپنے گینگ میں شامل کر لیں اگر تُمہاری وجہ سے اُسنے مجھے اپنا دشمن بنایا تو میں کیا کروں گا۔”
ایک لڑکا آگے بڑھ کر ری سے بولا۔کیونکہ اُسے پتہ چل گیا کہ وہ کیوں اس سے بائیک مانگ رہی ہے۔اور ری نے ارحام سے نظریں ہٹا کر اُس لڑکے کو غصے سے دیکھا۔
“تُمہارے پاس بائیک ہے یا نہیں۔؟
وہ اپنا سوال غصے سے دوبارہ ڈوراہا کہ اُسے دیکھنے لگی۔جو اُسکی سخت نظروں پر اپنے قدم پیچھے ہٹا کر اُسکو چابی پکڑا کہ سامنے اشاره کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“وہاں بلیک کلر کی بائیک پارک ہے وہ میری ہے۔پلیز آپ میرا نام مت لینا ورنہ وہ اپنے سارے گینگ کے ساتھ مجھے ٹارچر کریں گا۔”
ری اُسکی بات پر طنزیہ مسکان چہرے پر سجھا کر قدم سامنے پارک کیے بائیک کی جانب بڑھانے لگی۔اور وہ لڑکا اُس پاگل لڑکی کو اپنی بائیک کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ
بزنس ڈیپارٹمنٹ کے اندر تیزی سے بھاگا۔
دوسری جانب ارحام انصاری جو اپنے سارے گینگ کے ساتھ بزنس ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ رہا تھا اُسنے ناگواری سے آگے سے آتے بلیک کلر کے ہیوی بائیک کو اپنی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا۔
Guy’s I see Move away.
اپنی جگہ سے ہلے بغیر اپنے سارے گینگ کو سائیڈ پر ہونے کا اشاره کرکے خود شدید غصے سے اُس بائیک سوار کو دیکھنے لگا۔
“تُم جو کوئی بھی ہو اچھا نہیں کیا میرے اندر کے درندے کو جگا کر اب بھگتو۔”
بائیک کی سپیڈ کو مکمل نظر انداز کرتے ارحام نے غصے سے بائیک سوار کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔تو ری نے سپیڈ اور بڑھاتے ہوئے اُسے طنزیہ نظروں سے دیکھا۔
جو بائیک کو نزدیک آتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے سائیڈ پر ہوا اور یہی ری سے بہت بڑی غلطی ہوگئی اور اُس سے بائیک بے قابو ہوتے سامنے لگے درخت کی جانب بڑھنے لگا۔
اِس سے پہلے کہ وہ بری طرح سے نیچے گرتی اُسنے تیزی سے بائیک سے جمپ ماری اور سائیڈ پر جو ارحام اٹھ رہا تھا اُسکے اوپر جا گری۔
ارحام جو کھڑا ہو رہا تھا اُسکے گرنے پر وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور سیدھا جا کر نیچے گرا جبکہ ری اُسکے اوپر اپنے دونوں ہاتھ اُسکے مضبوط کندھوں پر رکھے اُسے سخت نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“یہ کیا بے ہودگی ہے۔اگر بائیک ریس کا اتنا ہی شوق ہے تو جا کر گروانڈ میں اپنا یہ شوق پورا کروں کیونکہ یہاں پر تُمہیں اپنا یہ شوق مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔”
وہ اپنے دونوں ہاتھ اُسکی کمر کے گرد سختی سے جھکڑتے ہوئے غصے سے بولا۔تو ری کمر پر اُسکے ہاتھ محسوس کرتی اپنے دونوں ہاتھ اُسکے کندھوں پر گھاڑنے لگی۔اور غصے سے اُسے دیکھنے لگی۔
“تُم نے ہی تو مجھے یہ شوق پورا کرنے کا موقع دیا تھا اور میں تُمہارے بغیر کیسے اپنا شوق گروانڈ میں پورا کر سکتی تھیں۔”
مس میزائیل کی تیز آواز سن کر اُسکی سخت گرفت کمر پر ڈھیلی پڑنے لگی۔تو ری کمر پر گرفت ہلکا محسوس کر کے تیزی سے اٹھی اور اپنے سر سے ہیلمٹ اتار کر دور اچالتی وہ اُسے گھورنے لگی۔
💞💞💞💞💞