Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
“سام مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے تمہارے کھڑوس بھائی سے۔۔!!
رعابہ گھر کے اندر داخل ہوتی سام سے کہنے لگی جو خود بھی اذان شاہ کے ریکشن کا سوچ کر ڈر رہا تھا۔۔
“رعابہ بھابھی آپ یہ ڈرنے والی بات کرکے مجھے مزید مت ڈرائے ورنہ میں آپکو کھڑوس کے آگے چھوڑ کر بھاگ جاؤ گا۔۔!!
سام نظریں پورے گھر میں ڈورہا کر کہنے لگا تو رعابہ اُسکی بات پر اسے غصے سے گھورنے لگی۔۔
“تم بھاگ کر تو دیکھاؤ میں بھی تمہارے کارنامے اذان کے سامنے نہیں بلکہ بڑے پاپا کے سامنے کھول کر رکھ دونگی۔۔!!
رعابہ اُسکی جانب غصے سے دیکھتی بولی۔۔
“بھابھی میں تو مزاق کر رہا تھا میں بھلا کیوں آپ کو اکیلا چھوڑ کر جا سکتا ہو۔۔!!
سام نے اسکی دھمکی پر ہنستے ہوئے کہا۔۔
“آگئے نا لائن پر اب سیدھے سے لاؤنج میں چلو وہاں بڑے پاپا انتظار کر رہے ہونگے ہمارا کیونکہ ہم لوگ لیٹ ہوگئے ہیں تمہارے اس ناٹک کی وجہ سے اور اذان تو مجھے بلکل بھی نہیں چھوڑے گے۔۔!!
رعابہ اُسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو سام تیزی سے لاؤنج کی جانب بڑھا۔۔
“رعابہ کہا تھی تُم میں تمہیں پورے شہر میں پاگلو کی طرح ڈھونڈ رہا تھا اور تُم اسکے ساتھ اور سام تُمہیں تو میں اچھے سے دیکھ لونگا پتہ ہے مجھے تُم نے بدلہ لینے کے لئے یہ سب کیا ہے۔۔!!
اذان شاہ ان دونوں کو لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئیں دیکھکر تیزی سے رعابہ کی جانب بڑھا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر فکر مندی سے پوچھنے لگا پھر آخر میں سام کو سخت نظروں سے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔۔
“بھائی میں تو آپکی بیگم کو پارلر لے کر گیا تھا آپ مجھ بے چارے پر الزام لگا رہے ہیں۔۔!!
سام منہ بسور کر کہنے لگا تو اذان شاہ نے اسے گھورا۔۔
“جیسے میں تمہیں جانتا نہیں ہو تُم نے جان بوجھ کر پہلے تو رعابہ کو اپنے ساتھ ملایا پھر مجھے پورے شہر میں پاگلو کی طرح گھمایا اب بیٹا میں تمہیں پارٹی سے آنے کے بعد اچھے سے گھماؤ گا۔۔!!
اسے دیکھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولنے لگا۔۔
“کیا مطلب آپکا کہ میں نے آپکو پاگلو کی طرح پورے شہر میں گھومایا اور یہ آپ اب کس خوشی میں مجھے پارٹی کے بعد گھمانا چاہتے ہیں۔۔!!
سام نے بغور اسکے خوبرو چہرے کو گھورتے ہوئے کہا۔۔
“بچوں تُم لوگ یہاں کھڑے ہو وہاں شاه بخت بھائی سب کو بلا رہے ہیں۔۔!!
معاذی نے تیزی سے کہتے ہوئے لاؤنج کی جانب اپنے قدم بڑھائے تو سام بھی اسکے پیچھے بڑھا جبکہ رعابہ ابھی آگے بڑھنے والی تھی اذان شاہ نے اسے پیچھے سے پکڑا اور اپنی جانب کھینچا تو اسکے زور سے کھنیچنے پر اسکی پشت اسکے چوڑے سینے سے جا لگی۔۔
“اذان یہ تُم کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے اگر ہمیں کوئی اس طرح دیکھ لیں گا تو کیا سوچے گا۔۔!!
رعابہ اپنے پیٹ پر رکھے اُسکے مضبوط ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کرتی سٹپٹاتی ہوئی بولی تو اذان اسکی بات پر اپنے ہونٹ اسکی گردن پر رکھ کر اُسے دیکھنے لگا جو اسکی حرکت پر بری طرح سے گھبرا کر آنکھیں زور سے میچنے لگی۔۔
“جانم دیکھنے دو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کسی کے دیکھنے سے اور تُمہیں بھی آج پتہ چل جائے گا کہ اذان شاہ تُمہیں کتنی شدت سے چاہتا ہے ۔۔!!
اسکے بالوں کو زور سے پکڑ کر وہ اسکا سر پیچھے اپنے چہرے کے سامنے کرتا گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا۔۔
“پلیز اذان چھوڑے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔!!
وہ اسکا چہرہ اپنے چہرے کے بے حد قریب دیکھ کر اپنی تیز چلتی ڈھرکنوں کو سنبھالتی ہوئی بولی۔۔
“جانم تکلیف تو مجھے بھی ہوا تھا تمہیں غائب دیکھ کر اب اسکی سزا میں تمہیں دو نگا اور آج ہی لیکن وقت نہیں بتا سکتا مگر تمہیں سزا تو آج ضرور مل کر رہے گا اور اس سام اور شام کو تو میں لندن بھیج کر ہی رہوں گا۔۔!!
اسکے ہونٹوں کو چھو کر اسے الگ کرتا آخر میں سام کی حرکت یاد آتے ہی وہ غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر کہنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شاہو یہ پارٹی میں اس طرح کے کپڑوں میں کون آتا ہے بیٹا۔۔؟؟
دلکش اور شازم ابھی ہوٹل کے اندر داخل ہوئی تھی کہ سامنے سے اے بی اور حور کو آتے ہوئے دیکھکر وہ انکے حلیے کو تعجب سے دیکھتی کہنے لگی۔۔
“مما جانی آپکا سویٹ +کمینا بیٹا اور آپکی نازک سی بہو اسطرح کے کپڑوں میں پارٹیوں میں جاتے ہیں اور بھلا کس کی اتنی جرأت جو وہ اے بی کی کاپی کرے کیوں بھاٹیا جی۔۔||
اے بی نے دلکش کو کندھوں سے پکڑ کر بھٹایا سے آخر میں پوچھا تو اسکی بے شرموں کی طرح کہنے پر حور اسے گھورنے لگی۔۔
“میرے پیارے سے بے شرم بیٹے یہ پارٹی کس خوشی میں رکھا ہے تُم دونوں سسسر اور داماد نے ویسے دل ہمارے پیارے کمینے بیٹے کا سسسر بھی بہت عیجب ہے پہلے تو بہرام سے اس طرح ملتا تھا جیسے بہرام اسکا سب سے بڑا دشمن ہے لیکن اب ایسے ملتا ہے جیسے وہ اسکا بہت اچھا دوست ہے۔۔!!
شازم نے کہا تو سنجیدگی سے تھا لیکن اسکا لہجہ شرارتی تھا جیسے محسوس کر کے اے بی کمینگی سے مسکرایا۔۔
“لو گرو وہ کیا ہے نا کہ آپکا بیٹا اب اتنا شریف ہوگیا ہے کہ سسسرِ محترم کو ہار ماننی پڑی اس شریف انسان سے اور پھر انہوں نے بڑے ہی پیار سے اپنے اس شریف داماد کے آگے خود دوستی کا ہاتھ خوشی سے پھیلا دیا اور آپکا بیٹا تو ٹھہرا شریف اور ویسے بھی اسے تو اپنی بیوی چاہیے تھی اسی لیے سب باتوں کو بھول کر اسنے پھیلے ہوئے ہاتھ کو انتہائی محبت سے تھام لیا۔۔!!
اے بی نے حور کی جانب معنی خیزی سے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اسکے دیکھنے پر شرم سے اپنا سر جھکا گئی تبھی پیچھے سے کسی کی آواز سن کر وہ سب پیچھے مڑے اور سامنے کھڑے شخصیت کو دیکھ کر شازم کو جھکٹا لگا۔۔
“بابا۔۔!!
شازم کے لب ہلے تو سامنے کھڑے شخص نے اپنے بوڑھے ہاتھ سے اسے اپنی جانب بلائے تو وہ بھاگتے ہوئے انکے سینے سے لگا۔۔
“شاہو بچے یہ۔۔؟؟
دلکش سامنے سید علی شاہ کو دیکھ کر تعجب سے اے بی سے پوچھنے لگی جو اپنی نم آنکھوں سے اپنے باپ کو سید علی شاہ یعنی اپنے دادا سے ملتے ہوئے دیکھ رہا تھا اپنی ماں کی بات پر وہ آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے انہیں دیکھنے لگا۔۔
“مما جانی یہ سب سسسرِ محترم بتائے گے ابھی تو اس لمحے کو انجوائے کرے اور ایک باپ بیٹے کو اچھے سے ایک دوسرے سے ملنے دے پھر سب کچھ شاه جی آپ سب کو بتا دے گے۔۔!!
اے بی نے سامنے کھڑے شاه بخت کی جانب مسکراتے ہوئے دیکھا اور دلکش سے کہا جو شازم سائیں کو آج اتنے سالوں بعد بہت زیادہ خوش دیکھ رہے تھے۔۔
“ہاں تو دادما صاحب اب تو آپ خوش بہت زیادہ ہے نا اپنی ساری فیملی کو پا کر اور ہاں میں اپنی بیٹی کو دے رہا ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اسے صرف اپنے تک محدود کر لوں گے اسے روز تم ہم سے ملانے لے کر آؤ گے اگر تم اسے روز لے کر نہیں آئے تو میں اپنی بیٹی کو اپنے گھر واپس لے کر آوں گا ۔۔۔!!
شاہ بخت نے سنجیدگی سے کہا تو اے بی نے کمینگی سے مسکرا کر انہیں دیکھا جو اسے آج بہت اچھے موڈ میں لگ رہے تھے۔۔
“سسسرِ محترم ایک سال تو آپ اپنی بیٹی کو بھول ہی
جائے کیونکہ وہ صرف اپنے شوہر کے ساتھ ایک سال گزارے گی نا ہی فون کال اور نا ہی وہ آپ سب سے ملے گی جب تک ایک سال پورے نہیں ہونگے تب تک آپ سب کو صبر کرنا ہوگا۔۔!!
اے بی نے سنجیدگی سے شاه بخت کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“اوکے بچہ منظور ہے یہ شرط لیکن صرف ایک سال یاد رکھنا پھر وہ ایک سال گزرتے ہی ہمارے ساتھ ایک سال گزارے گی۔۔!!
شاہ بخت نے بھی اسی کی طرح سنجیدگی سے اسکے اوپر دھماکہ کیا۔۔
“وہاٹ ایک سال سنو وائٹ آپ لوگوں کے ساتھ نو ہر گز نہیں سسسرِ محترم یہ میں ہونے نہیں دونگا۔۔!!
وہ غصے سے چیختے ہوئے کہنے لگا تو شاه بخت اسکے غصے سے سرخ چہرے کو بغور دیکھنے لگا جو اسکی بات پر غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔
“کیوں نہیں ہونے دو گے جب ہم اپنی بیٹی کے بغیر ایک سال گزار سکتے ہیں تو پھر تُم اپنی بیوی کے بغیر کیوں نہیں داماد جی۔۔!!
سنجیده چہرہ لیے وہ اے بی کے غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر معنی خیزی سے کہنے لگا۔۔
“سسسرِ محترم بیوی اور بیٹی میں فرق ہے اور میں ایک دن اپنی بیوی سے دور نہیں رہ سکتا کجا کے ایک سال۔۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“داماد جی حوصلہ میں ایک سال نہیں رکھو گا اپنی بیٹی کو صرف ایک دن وہ رہی گی ہمارے ساتھ فکر مت کرو۔۔!!
شاہ بخت نے اسکے مضبوط کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تو اے بی پرسکون ہو کر انہیں دیکھنے لگا جو مسکرا رہے تھے تو وہ بھی مسکرانے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شاہ آپ نے بڑے پاپا کے ساتھ مل کر شازم انکل کو اتنا بڑا سرپرائز دیا ہے تو اب آج آپ ہم سب کو ایک سونگ بھی سنائے گے۔۔!!
اذان شاہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“اذی یہ چونچلے تمہیں پتہ ہے نا کہ میں نے کب کے بند کر دیئے ہیں۔۔!!
وہ جوس کا گلاس اپنے دادا سید علی شاہ کے منہ سے لگاتے ہوئے انہیں پینے کا کہہ کر اذان شاہ کو سنجیدگی سے جواب دینے لگا۔۔
“شاہو بچے ہمیں یہ نہیں پینا ہے بہت بد ذائقہ ہے۔۔!!
علی شاہ کے بچوں کی طرح ضد کرنے پر مسکرا کر گلاس سامنے ویٹر کو تھما کر نیچے انکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور نیپکن سے انکے منہ کو صاف کرتے ہوئے انکی پیشانی پر محبت سے اپنے ہونٹ رکھ کر کھڑا ہوا اور اذان شاہ کو غصے سے دیکھنے لگا جو سامنے اسٹیج کی جانب بڑھ رہا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ اسٹیج پر کیا کرنے گیا ہے۔۔
“ہیلو گائیز آپ سب کو پتہ ہے یہ جو آپ کے اے بی دی سپر اسٹار ہے نا یہ ایک ایکٹر کے ساتھ ساتھ ایک بہت ہی اچھے سنگر بھی ہے کیوں شاه سہی کہا نا میں نے۔۔!!
اذان شاہ نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے سب کو بتایا پھر آخر میں شرارتی لہجے میں اے بی سے پوچھنے لگا جو اپنے دادا سید علی شاہ کو دیکھ رہا تھا۔۔
اسکی بات پر اے بی نے اسے سختی سے گھورا جو مشکوک مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اُسکے دیکھنے پر اپنا ایک آنکھ دبا کر اُسے اسٹیج پر بلانے لگا۔۔
تو وہ سنجیدگی سے اسٹیج کی جانب بڑھا اور اسٹیج پر پہنچ کر میوزیک بینڈ والوں کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں کچھ بتانے لگا پھر اسٹیج کے بیچوں بیچ رکھے کرسی کی جانب آہستگی سے بڑھا۔۔
حور جو سامنے اسٹیج کے نیچے رعابہ اور ریحام لوگوں کے ساتھ کھڑی تھیں اسکی خوبصورت آواز پر اسٹیج کی جانب حیرت سے دیکھنے لگی جو آنکھیں بند کیے گٹار کو اپنی انگلیوں سے چھیر رہا تھا۔۔
laiyaaan laiyaaan main tere naal dholna
ve laiyaaan laiyaaan main tere naal dholna
ik dil si ve rea
mere kol na
ve main lutti gayi
dholna ve main lutti gayi
laiyaaan laiyaaan main tere naal dholna
ve laiyaaan laiyaaan main tere naal dholna
hoooo
اے بی آنکھیں بند کیے اپنی انگلیاں گٹار پر پھیرتے ہوئے وہ پورے سُر کے ساتھ گانا گا رہا تھا اور اُسکی خوبصورت آواز کا سحر اِس سارے ماحول میں چھایا ہوا تھا۔۔
sadran de boohe ve main tere layi khole
howin na tu kadi hun akhian to ohle
tere naal tarna , tere naal dubna
tere naal jeena , tere naal marna
pyar mera tu takri ch tol naaa
ve pyar mera tu takri ch rol naaa
ik dil c reha , mere kol na
ve main lutti gayi
dholna ve main lutti gayi
laiyaaan laiyaaan
حور جو اُسکی آواز کے سحر میں کھو کر اُسے ہی دیکھ رہی تھی تبھی یکدم سے اسنے اپنی آنکھیں کھولی اور کسی کی نظروں کو اپنے اوپر محسوس کرتا سامنے دیکھنے لگا جہان حور کھڑی اسے بغور دیکھ رہی تھی کہ اسکے دیکھنے پر وہ تیزی سے اپنی نظریں نیچے جھکا کر شرم سے سرخ ہوتی اپنی انگلیوں کو مڑورنے لگی۔۔
وہ گٹار پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے تیزی سے اپنا سر نیچے جھکاتے ہوئے دیکھ کر مسکرایا اور اپنی خوبصورت آواز میں آگے کے سُر گنگناتے ہوئے سب کو سحر زده کرنے لگا۔۔
tu jo chuu le pyar se
aaram se mar jaaun
aaja chanda baahon mein
tujh mein hi gum ho jayuu main
tere naam pe kho jaun
saiiyaaaaannn
saiyyyaaaannnnnnnnn aaannnn
رعابہ جو کب سے کسی کی نظریں اپنے اوپر محسوس کر رہی تھی وہ اردگرد دیکھنے لگی لیکن وہاں کسی کو اپنی جانب متوجہ نہ پاکر وہ تیزی سے ہوٹل سے باہر نکلی اور کب سے دو آنکھیں جو اسے بغور دیکھ رہی تھیں وہ اسے دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“میم آر یو اوکے۔۔؟؟
ریحام اپنے چکراتے سر کو تھامتی ہوئی باہر نکلی اندر شور کی وجہ سے اسے گھبراہٹ محسوس ہواتو وہ باہر نکلی تاکہ پرسکون ہو سکے لیکن اُسکا سر تھا کہ بری طرح سے چکرا رہا تھا تبھی ایک لڑکی آگے بڑھی اور اسے تھام کر صوفے پر احتیاط سے بٹھا کر پوچھنے لگی۔۔
“یس ائی ایم اوکے۔۔!!
وہ سر اٹھا کر اس لڑکی کو اپنی دھندلی ہوتی نظروں سے دیکھنے لگی جو صوفے پر اسکے ساتھ بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“اوکے آپ ایک کام کریں میرے ساتھ آ جائے یہاں آپ بیٹھے گی تو آپکا سر ٹھیک ہونے کے بجائے اور زیادہ درد کرے گا۔۔!!
لڑکی نے اسے پکڑتے ہوئے کہا۔۔
“نہیں میں یہی ٹھیک ہو۔۔!!
ریحام اسکی ہاتھ کو دور کرتی سخت لہجے میں بولی وہ ایسے لوگوں کو اچھے سے جانتی تھی جو اکیلی لڑکیوں کو دیکھ کر ان سے ہمدردی کا ناٹک کر کے اپنے ساتھ لے جا کر انہیں ایسے کاموں کے لیے مجبور کرتی تھی جو ان بے چاری لڑکیوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں سوچا ہوگا۔۔
“بلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا میں تو صرف آپکی مدد کرنا چاہتی ہو خیر مجھے کیا یہی مر جاؤ میں تو چلی اندر پارٹی انجوائے کرنے سنا ہے اے بی آیا ہے۔۔!!
لڑکی اسکی غصیلی آواز پر پیچھے ہوتی نخوت سے اسے دیکھتی بولی۔۔
“ہوں تو تُم یہاں کیا کر رہی ہو جاؤ جاکر اندر انجوائے کرو میں خود کو سنبھال سکتی ہو اچھے سےجانتی ہو میں تم جیسیوں کو بے بس لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر انکے ساتھ تم لوگ کیا کیا کرتی ہوں۔۔!!
غصے سے کہتی وہ اس لڑکی کو دیکھنے لگی جو اپنی سچائی اسکے منہ سے سن کر ڈرنے لگی کیونکہ ریحام جو کہہ رہی تھی سب سچ تھا وہ اور اسکے گروه بڑے بڑے مال اور اسطرح کی پارٹیوں میں کسی نشے میں دھت لڑکیوں کو اور زندگی سے بیزار لڑکیوں کو ہمدردی کا ناٹک کر کے اپنے ساتھ لے جا کر دھندے میں لگاتی تھی۔۔
“مم۔۔میں۔۔!!
وہ لڑکی گھبرا کر کہتی جلدی سے ہوٹل کے اندر داخل ہوئی اور ریحام صوفے سے اٹھی اور سڑک کی جانب بڑھی سر ابھی بھی بری طرح سے چکرا رہا تھا جسکی وجہ سے وہ سامنے سے آتی کار کو اپنی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے نا دیکھ سکی۔
ارحام انصاری جو ابھی کار پارک کر کے ہوٹل کی جانب بڑھ رہا تھا تبھی کسی کی زور دار چیخ پر نظریں اٹھا کر سامنے سڑک کی جانب دیکھنے لگا جہاں کسی لڑکی کو بری طرح سے زخمی حالت میں دیکھ کر تیزی سے اسکی جانب بھاگا اور جب وہاں پہنچا تو لڑکی کے سامنے سڑک پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکو کندھے سے پکڑ کر سیدھا کرنے لگا۔۔
“ریحام۔۔!!
لڑکی کے چہرے پر جب اسکی نظر پڑی تو اسے شاک لگا اور ریحام کے سفید چہرے پر خون دیکھ کر وہ شدت سے چیختے ہوئے اسے بری طرح سے ہلا کر جنونی انداز میں اسکا نام لینے لگا۔۔
“ریحام آنکھیں کھولو پلیز۔۔!!
اسے اپنے سینے سے لگاتا وہ دیوانگی سے بولا آنکھوں سے آنسوؤں بری طرح سے بہہ رہے تھے جبکہ ریحام کے چہرے سے بہتے ہوئے خون اسکی سفید شرٹ کو داغ دار کر رہے تھے۔۔
“ریحام مجھے اتنا مت ترپاؤ پلیز آنکھیں کھولو ورنہ میں بھی کسی گاڑی کے آگے کھڑا ہو کر اپنی جان دے دونگا۔۔!!
وہ سڑک کے بیچوں بیچ بیٹھا اسے اپنے چوڑے سینے سے لگا ئے بچوں کی طرح روتے ہوئے ضد کرنے لگا جیسے وہ اسکی ضد پر جلدی سے اٹھ جائے گی۔۔
“اسطرح بیٹھنے سے آپ اپنی بیوی کو نہیں بچا سکتے ہیں انہیں ہاسپٹل لے کر جائے ورنہ وہ مر بھی سکتی ہے۔۔!!
ایک شخص نے آگے بڑھتے ہوئے کہا جو اپنے کام کی وجہ سے یہاں سے گزر رہا تھا اسے پاگلو کی طرح چلاتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھ کر اُسے ریحام کو ہاسپٹل لے جانے کے لیے کہنے لگا۔۔
“نہیں ریحام مجھے نہیں چھوڑ سکتی میں بچاؤ گا اسے ہاں اسے کچھ بھی ہونے نہیں دونگا وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔!!
وہ جنونی انداز میں اس شخص کی بات سن کر بولا اور پھر ریحام کو اپنے مضبوط بازؤوں میں بھرتا وہ تیزی سے اپنی کار کی جانب بڑھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“بہت زبردست اے بی سر آج ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ ایک کامیاب ایکٹر کے ساتھ ایک کمال سنگر بھی ہے۔۔!!
اے بی گٹار کرسی سے ٹکا کر اسٹیج سے نیچے اترا اور حور کی جانب بڑھنے ہی والا تھا کہ میڈیا والوں کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ ان سب کو گھورنے لگا۔۔
“کیوں کیا اے بی صرف ایکٹنگ کی میدان میں اپنے جوہر دیکھا سکتا ہے باقی دوسرے میدانوں میں اسکے آنے پر کیا آپ سب لوگوں نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔۔!!
طنزیہ نظروں سے میڈیا والوں کو دیکھتا وہ ان سب کو اپنے اذلی مغرور انداز میں جواب دینے لگا تو اسکی بات پر سارے رپوٹر زور سے قہقہہ لگانے لگے۔۔
“نو سر یہ تو خوشی کی بات ہے کہ آپکی ایکٹنگ کے ساتھ اب ہم آپکے سونگ بھی سنے گے کیا اب آپ ایک اپنا سونگ البم بھی بنائے گے۔۔؟؟
ایک رپوٹر نے مسکراتے ہوئے کہا اور مائک اسکے سامنے کرتی اس کے البم کے بارے میں پوچھنے لگی جو خود اے بی کو پتہ نہیں تھا کہ کب اسنے اپنا سونگ البم بنانے کا سوچا تھا وہ اس رپوٹر کی جانب جھکا جو اسکے جھکنے پر بے باکی سے مسکرائی۔۔
“اگر مس نتاشا آپ مجھے البم کے لیے کروڑوں روپے دے گی تب میں سوچو گا سونگ البم بنانے کا ورنہ میں ابھی اتنا امیر نہیں ہوا کے اپنا سونگ البم بنا سکوں۔۔!!
سنجیدگی سے اس رپوٹر کو کہہ کر وہ پیچھے ہوا تو رپوٹر اسکی بات پر ہنسنے لگی۔۔
“اے بی سر میں سمجھتی تھی کہ آپ صرف اسکرین میں فنی ڈائیلاگ بولتے ہیں اصل زندگی میں آپ ایک کھڑوس انسان ہے لیکن آج آپکو مزاق کرتے ہوئے دیکھ کر میری غلط فہمی دور ہوگئی ہے ویسے آپ اسکرین سے زیادہ اصل زندگی میں اچھا مزاق کرتے ہیں۔۔!!
رپوٹر بے باکی سے کہنے لگی تو اے بی نے اس رپوٹر کو سخت نظروں سے گھورا اور سامنے کھڑے بھاٹیا کو اشاره کرنے لگا جو اسکے اشاره کرنے پر آگے بڑھا۔۔
حور جو کب سے اسے میڈیا کے سامنے کھڑے دیکھ کر جل رہی تھی اسے ایک لڑکی رپوٹر کے آگے جھکتے ہوئے دیکھکر وہ غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر آگے کھڑے ایک جونئیر ایکٹر کی جانب بڑھی جو اے بی کو طنزیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
“آپ ہمایوں ملک ہے نا۔۔؟؟
حور اس ایکٹر کو دیکھتی ہوئی اس سے ایسے بات کرنی لگی جیسے وہ اس دنیا میں صرف وہی واحد لڑکی ہے جو اسکی بہت بڑی فین ہے اور ہمایوں ملک اپنے سامنے اے بی کی خوبصورت بیوی کو دیکھ کر خباثت سے مسکراتے ہوئے اپنا سر ہاں میں ہلانے لگا۔۔
دوسری طرف اے بی حور کو اس برباد زمانہ ایکٹر کے ساتھ دیکھ کر غصے سے پاگل ہونے لگا کیونکہ وہ ایکٹر جس لڑکی کے ساتھ بھی کھڑا ہوتا تھا دوسرے دن انکی افئیر کی غلط خبریں نیوز چینل پر چلتی تھی۔۔
اے بی سب میڈیا والوں کو نظر انداز کرتے ہوئے طیش کے عالم میں ان دونوں کی جانب بڑھا لیکن ہمایوں ملک کی حرکت پر غصے سے پاگل ہونے لگا کیونکہ حور کو وہ اپنی جانب کھینچ رہا تھا اور وہ بری طرح سے خود کو اس سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
اے بی جب انکے سامنے پہنچا تو اسنے حور کو اپنی طرف کھینچا اور اسے سینے سے لگا کر غصے سے ہمایوں ملک کو دیکھنے لگا جو اے بی نام کے طوفان کو اپنے سامنے قہر کی صورت بنے دیکھ کر خوفزدہ ہونے لگا تھا۔۔
“ہمایوں ملک تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی ہاں۔۔!!
اے بی کی سخت آواز پر ہمایوں ملک گھبراتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگا لیکن سامنے میڈیا والوں کو دیکھ کر وہ چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ لا کر اے بی کو دیکھنے لگا۔۔
“اے بی یہ تمہاری بیوی ہے میں تو سمجھا تھا یہ تمہاری دل کو بھلانے کیلئے ایک گڑیا ہے جو تُم ہم سب کی آنکھوں میں اپنی بیوی کا پٹی لگا کر دن رات تُم اسے مزے سے استعمال کرتے ہو اور ویسے کبھی مجھے بھی موقع دو نا اس مزے کو چھکنے کے لیے۔۔!!
خباثت سے مسکراتے ہوئے حور کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو اے بی اسکی گھٹیا بات پر شدید غصے سے پاگل ہو کر حور کو پیچھے کرتا ہمایوں ملک کو بری طرح سے مارنے لگا۔۔
“ہمایوں ملک اس بار تُم نے غلط جگہ پر پنگا لیا ہے اے بی دی سپر اسٹار کی بیوی کو اپنی گندی نظروں سے دیکھ کر اور اب تُم اپنی انہیں نظروں سے اپنے بنے بنائے فلمی کیریئر کو تباہ ہوتا ہوا دیکھو گے۔۔!!
“اور اب تمہیں اس فلم انڈسٹری میں ہیرو تو دور کی بات کوئی ولن بھی بنانے کو تیار نہیں ہوگا اور میں تمہیں برباد ہونے کے بعد جان سے مار ڈالو گا تاکہ تُم خودکشی جیسے گناه سے تو بچ سکوں۔!!
سرخ آنکھیں اسکے خون سے بھرے چہرے پر ڈال کر وہ نفرت سے کہنے لگا تو ہمایوں ملک اسکی دھمکی پر بری طرح سے کانپا کیونکہ وہ جو کہتا تھا وہ کر کے بھی رہتا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شاہ یہ آپ مجھے یہاں کیوں لیں کر آئے ہیں۔۔؟؟
رعابہ اِس ہوٹل کے شاندار روم کو تعجب سے دیکھتی اذان شاہ سے بولی جو اُسے سنجیدگی سے روم میں لا کر دروازه بند کرتے ہوئے پیچھے مڑا اور اُسے بغور دیکھنے لگا جو اُسے اپنے حسن سے مدہوش کرنے کا باعث بن رہی تھی۔۔
“ہممم مس جنگلی بلی اب تو ہم آپ کے شاہ سجن بن گئے بٹ ویری نائس نیم شاہ اور اب تُم روز اِسی نام سے پکارنا مجھے ۔!!
خمار بھری آواز میں کہتا اپنے قدم آگے بڑھانے لگا۔۔
رعابہ اُسے خطرناک حد سنجیده دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگی اور وہ اُسے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھ کر مسکرایا۔۔
“شاہ وہ سام شام کے کہنے پر کیا تھا پلیز مجھے جانے دو اور آئیندہ میں ایسا بلکل بھی نہیں کرو گی پکا میں وعده کرتی ہوں۔۔!!
اُسکے خطرناک تیور دیکھ کر وہ گھبراتی ہوئی بولی اور پیچھے بڑھتے ہوئے اسے دیکھنے لگی جو چند انچ کے فاصلے پر کھڑا تھا تبھی اچانک سے وہ پیچھے بیڈ پر گری اور اذان شاہ اسے بیڈ پر گرے دیکھ کر مسکرایا اور اپنے قدم بیڈ کی جانب بڑھانے لگا۔۔
“رعابہ جانم تُم نے بھی ان لوگوں کے ساتھ ملکر مجھے بہت ستایا ہے اور اب بے بی تمہیں میں بلکل بھی نہیں چھوڑو گا۔۔!!
وہ سنجیدگی سے رعابہ کی جانب آہستگی سے قدم بڑھاتے ہوئے کہنے لگا تو رعابہ اسکی بات پر بری طرح سے کانپنے لگی۔
“شاہ میری غلطی نہیں ہے اس میں وہ دونوں ضد کر رہے تھے تو مجھے مجبورأ ان دونوں کی بات ماننا پڑا۔۔!!
رعابہ اُسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر کھسیانی ہنسی ہنس کر وہ بیڈ سے اٹھی اور پیچھے رکھے صوفوں کی جانب اپنے قدم پیچھے لینے لگی تاکہ وہ صوفوں کے پیچھے چھپ کر اپنے آپ کو بچا سکے لیکن وہ بے وقوف یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ بے جان صوفے اسے اذان شاہ سے نہیں بچا سکتے ہیں۔۔
“جانم آج تُم نے مجھے بہت تنگ کیا ہے اور سزا تو تمہیں ضرور ملے گی اور تمہارے لئے مجھے سزا بھی بہت خطرناک سوچنا پڑے گا۔۔!!
وہ اسکے سامنے کھڑا ہوا اور اُسکی کمر میں اپنے ہاتھ ڈال کر اُسے اپنے بے حد نزدیک کرتا ذومعنی لہجے میں کہنے لگا۔۔
“شاہ اس میں ممم۔میری کوئی غلطی نہیں ہے تو پھر سزا کیوں۔۔؟؟
رعابہ اُسکی مضبوط پناہوں میں سہمتے ہوئے بولی تو اذان شاہ اسکی بات پر نیچے جھکا اور اپنے ہونٹوں سے اسکی پیشانی کو چھو کر وہ اسکے نازک دل کو دھڑکا گیا۔۔
“غلطی نہیں جانم گناه کیا ہے تُم نے مجھے تڑپا کر اب گناه کی سزا کے لیے تیار ہو جاؤ تم بے بی۔۔!!
ہاتھ اسکی سرخ گالوں پر پھیرتا وہ معنی خیز نظروں سے اسکے سراپے کو دیکھنے لگا جو سرخ رنگ کی خوبصورت ساڑھی میں ملبوس تھی۔۔
“نہیں میں نے آپکو تڑپایا نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں مم۔میں تو بس یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ آپ کو جب میں کئی نہیں ملوں گی تو آپ مجھے ڈھونڈنے کے لیے کتنے پاگل ہونگے لیکن آپکو پریشان دیکھ کر میں نے ان دونوں کو یہ گیم ختم کرنے کا کہا تو وہ مجھے یہاں لے کر آگئے آپکے پاس آئی ایم سوری میں نے آج واقع میں آپکو بہت زیادہ تنگ کیا ہے۔۔!!
رعابہ شرمندگی سے سر جھکا کر بولی تو اذان شاہ نے اسکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور اُسکے لرزتے ہونٹوں کی جانب بغور دیکھنے لگا جو بری طرح سے لرز رہے تھے وہ یکدم سے ان کپکپاتے نازک ہونٹوں پر جھکا اور شدت سے انہیں چھونے لگا۔۔
“نہیں شاہ دور رہے آپ اور پارٹی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے جو آپ یہاں بھی شروع ہوگئے ہیں کچھ تو خیال کر لیں یہاں بڑے پاپا کے ساتھ سب گھر والے موجود ہے۔۔!!
رعابہ اسے دور کرتی خفگی سے بولی جو اُسکی گردن پر اپنی پرحدت لمس چھوڑ رہا تھا۔۔
“لیکن اپنی جنگلی بلی کو سزا تو مجھے آج اور ابھی اسی وقت سزا دینا ہوگا ورنہ وہ روز اپنے تیز ناخنوں سے مجھے نوچے گی۔۔!!
اسکی گردن پر انگلی سے لکیر کھینچ کر نیچے لے جاتے ہوئے وہ معنی خیز لہجے میں کہنے لگا تو اُسکی حرکت پر رعابہ شرم کے مارے زور سے آنکھیں میچ گئی تھی۔۔
“میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے جو آپ مجھے سزا دینا چاہتے ہیں۔۔!!
آنکھیں بند کیے ہی وہ منہ بسور کر بولی۔۔
“نہیں جان غلط نہیں اُسے گناه کہوں جو تُم نے آج کیا ہے وہ بھی اپنے معصوم شوہر کے ساتھ۔۔!!
اُسکی نازک کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔
“ہاہاہاہا ویری فنی آپ اور معصوم ہنہہہہہ آپ سے تو بڑا بے شرم میں نے آج تک اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا ہے۔۔!!
اسکی معصوم شوہر کہنے پر وہ زور سے قہقہہ لگاتی بولی لیکن اسکی پرتپش سانسوں کو اپنی گردن پر محسوس کرتی آنکھیں سختی سے دوباره میچ گئی اور وہ گردن پر جھکا اپنا دہکتا لمس اسے شدت سے محسوس کرانے لگا۔۔
“میری جنگلی بلی میں نے کب کہا کہ میں بے شرم نہیں ہو میں تو بہت بڑا بے شرم انسان ہو جسکا ثبوت تو روز میں تمہیں دن رات دیتا ہو ویسے میری تیز بلی تُم نے مجھ پر یہ کس طرح کا جادو کیا ہوا ہے جو میں تمہارے ساتھ زور بے شرمی کرنے لگا ہوں۔۔!!
اپنی آنکھیں اُسکی سرخ ناک پر مرکوز کرتیں وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو رعابہ اُسکی بات پر مزید سرخ ہوتی اپنی انگلیوں سے بیڈ شیٹ پر لکیر کھینچنے لگی۔۔
“اذان بھائی آپ کو یاد کیا جا رہا ہے نیچے اور پلیز اب آپ نیچے جلدی تشریف لے کر آئے کیونکہ میں اب بار بار یہاں نہیں آؤ گا آپکو بلانے کے لیے پتہ نہیں کیوں یہاں آگئے ہیں سب وہاں نیچے انجوائے کر رہے ہیں اور یہ کھڑوس صاحب یہاں روم میں بند ہو کر خوامخواہ میرا بھی موڈ ڈیڈ نے خراب کر دیا۔۔!!
“جانم یہ مت سمجھنا کہ تم سزا سے بچ گئی ہو میں تُمہیں سزا ضرور دونگا لیکن گھر پہنچ کر ابھی پارٹی کو اچھے سے انجوائے کرنا گھر میں تمہیں صرف اذان شاہ کی جانب سے خطرناک سزائیں ملے گی۔۔!!
سام کی آواز پر وہ غصے سے رعابہ کے اوپر سے اٹھا اور اپنا شرٹ ٹھیک کرنے لگا جبکہ رعابہ اسے خود سے دور دیکھ کر پر سکون ہو کر وہ اٹھی اور ساڑھی کا پلو درست کرنے لگی تبھی اذان شاہ نے اُسکے دائیں اور بائیں جانب اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا رعابہ اُسکی بات پر سہمتی ہوئی اسے دیکھنے لگی جو اپنی بات کہہ کر دور ہوا اور دروازے کی جانب بڑھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“نہیں نہیں۔۔!!
وہ ہاتھوں میں پیپرز لیے اپنی سرخ آنکھوں سے پیپرز کے اندر لکھے لفظوں کو بار بار پڑھتے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلا رہا تھا۔۔
جب وہ ہاسپٹل میں اُسکے بے ہوش وجود کو لے کر گیا تھا تو جو خبر ڈاکٹر نے اسے سنایا اُسے سن کر وہ پہلے تو بے حد خوش ہوا۔۔
لیکن ڈاکٹر کی اگلی بات پر وہ بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگا جو اسے ایک پیپرز تھما کر اُسکی زندگی کے اِس خوشی کو ایک ہی جھٹکے میں اپنے الفاظوں سے چھین کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
اور وہ وہی کھڑا آنکھیں پیپرز پر مرکوز کیے خالی نظروں سے اُس پیپرز کو دیکھنے لگا جو ریحام کے رپورٹ تھے جن میں انکے بچے کے بارے میں لکھا ہوا تھا جو اس حادثے کی وجہ سے ختم ہوگیا تھا۔۔
“یہ نہیں ہوسکتا میرا بچہ نہیں بلکل بھی نہیں یہ جھوٹ ہے وو وہ ڈاکٹر جھوٹ بول رہا تھا اور یہ رپورٹ بھی شاید کسی اور کا ہو مم۔میں نہیں مانتا بلکل بھی نہیں۔۔!!
ہاسپٹل سے باہر نکل کر رپورٹ کو سرخ نگاہوں سے گھورتا وہ شدت سے چلایا آنکھوں سے ہنوز آنسوؤں بری طرح سے بہہ رہے تھے اور زمین پر اپنے مہنگے کپڑوں کی پرواہ کیے بغیر نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔
“نہیں یہ جھوٹ ہے وہ ٹھیک ہے اور میں اُسے کچھ ہونے بھی نہیں دونگا بلکل بھی نہیں۔۔!!
آسمان کی جانب دیکھتا وہ شدت سے چیخا اور رپورٹ کو سرخ نظروں سے گھورتا اپنے لرزتے ہاتھوں سے ان پیپرز کو اپنی مضبوط مٹھیوں میں لے کر بری طرح سے مڑورنے کے بعد دور اچھال کہ زور زور سے روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔
“اور یہ جس کی وجہ سے ہوا ہے میں اسے زنده نہیں چھوڑو گا وہ اب ارحام انصاری کے قہر سے نہیں بچ سکتا بلکل بھی نہیں۔۔!!
اپنے آنکھوں سے آنسوؤں کو صاف کرتا وہ نفرت سے اس کار ڈرائیور کے بارے میں سوچتے ہوئے خود سے کہنے لگا جس کی وجہ سے اسکی ریحام اس حالت میں تھی۔۔
“اذان شاہ مجھے ابھی اور اسی وقت تم سے ملنا ہے۔۔!!
تبھی اپنا موبائل جیب سے نکال کر اسنے سنجیدگی سے اذان شاہ کو میسج کیا اور ہاسپٹل کی جانب بڑھا اب اسنے سوچ لیا تھا کہ جو بھی ہو جائے وہ اسے ایک منٹ بھی اب خود سے دور بلکل بھی ہونے نہیں دے گا چاہے ریحام کے گھر والے مانے یا نا مانے وہ اسے کبھی نہیں چھوڑے گا۔۔
