Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
“ارحام ڈارلنگ مجھے نہیں لگتا جو تُم میں بات ہے وہ جیم لارسن میں ہوگا اففف تُمہارا شدت سے چھونا اور پیار کرنے کا انداز سب سے جدا ہے۔”
ارحام اُسی صوفے پر جا کر بیٹھا جہاں سارا اور جیم ایک دوسرے میں گم ساری حدیں پار کر رہے تھے۔
تبھی ریحام وہاں آکر ارحام کے سامنے کھڑی ہوئی اور اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے بالوں کو سختی سے پکڑ کر اور پھر اُسکا چهره اوپر اٹھا کر اُن دونوں کو طنزیہ نظروں سے دیکھتی ارحام کی تھائی پر بیٹھی اور اُسکی شرٹ کے بٹنو کو کھولنے لگی۔اور ارحام اُسکی بے باکی سے چھونے پر اُسے حیرت سے دیکھنے لگا۔لیکن پھر وہ اپنے چہرے سے حیرت بھرے تاثرات مٹا کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
“ڈارلنگ تمہارے لئے میرے پیار میں شدتیں تو ہوگی ہی جب تُم جیسی خوبصورت حسین لڑکی میرے سامنے ہو تو یہ دل چاہتا ہے کہ میں تُمہارے پورے وجود پر شدت سے اپنی مہر لگا دو۔”
ارحام نے ایک ہاتھ اُسکی کمر پر ڈال کر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ کو اُسکے ہونٹوں کے اندر ڈالتے ہوئے کہا۔تو ریحام اُسکے بے باکی سے چھونے پر سخت نظروں سے اُسے گھورنے لگی۔
جبکہ ارحام انصاری خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجائے ابکے اُسے بالوں میں ہاتھ ڈال کر سختی سے اُسے بالوں سے پکڑ کر جھٹکے سے اُسکا چهره اوپر اٹھا کر اُسنے اپنے عنابی ہونٹ اُسکی سفید نازک گردن پر رکھ دیئے۔
ریحام نے جب اُسکا دھکتا ہوا لمس اپنی گردن پر محسوس کیا تو وہ تیزی سے اُسکی تھائی سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی جس کے نتیجے میں وہ صوفے پر اُسکے اوپر گر گئیں۔
“ارحام ڈارلنگ تُم مجھے ابھی شادی سے پہلے اِسطرح چھو نہیں سکتے because ہمارے درمیان یہ پہلے طے ہوا تھا۔جب تُم نے پہلی بار مجھے ڈیٹ کیا تھا۔”
وہ اُسکے اوپر سے اٹھنے کی کوشش کرتی غصے سے بولی۔اور ارحام جو مسکرا کر اُسے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا تبھی اُسنے گرفت مضبوط کرتے کروٹ بدلا جسکی وجہ سے اب وہ اُسکے نیچے تھی اور وہ اُسکے اوپر جھکا اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں رکھے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“ریحام مائے لو شادی بھی بہت جلد ہو جائے گیں لیکن اُس سے پہلے ہمیں یہ خوبصورت وقت کو سیلبریٹ کرنا چاہیے کیوں جیم سہی کہا نا میں نے۔”
وہ اُسے دیکھتے ہوئے اپنا ایک آنکھ کمینگی سے دبا کر جیم سے پوچھنے لگا جو اُنکی بات پر سارا کو خود سے الگ کیے بیٹھا اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
“یس بڈی یہ خوبصورت لمحے پھر شادی کے بعد کہا نصیب ہونگے بلکہ ویٹ میں تُمہاری خواہش کو ابھی اور اِسی وقت پوری کرتا ہوں۔تُمہاری گرل فرینڈ تُمہیں بنا رشتے کے چھونے نہیں دے رہی نا تو میں اور سارا ابھی اور اُسی وقت اپنے فلیٹ میں تُم دونوں کی شادی کا بندوبست کر دیتے ہیں۔”
جیم کی بات پر ریحام شاک رہ گئی تو دوسری طرف ارحام انصاری خوبصورتی سے مسکرا کر جیم کو دیکھتے ریحام کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا۔
“بڈی نیکی اور پوچھ پوچھ۔”
ریحام کو دیکھ کر وہ مسکرایا اور جیم سے بولا تو جیم نے سارا کو اشاره کیا اور بار سے باہر نکلا۔اُنکے نکلتے ہی ریحام شدید غصے میں آ کر اُسکے سینے پر پنچ مارنے لگی۔
“ایجنٹ غازی ہم ڈراما کر رہے تھے تو کیا ضرورت تھی اپنی ٹھرک پن دیکھانے کی اب کیا کریں کیونکہ وہ دونوں تو لگتا ہے ہماری شادی کرا کہ ہی مرے گیں۔”
اپنا سر پکڑ کر ٹینشن کے مارے اُسکے دائیں جانب صوفے پر بیٹھ گئی جبکہ ارحام تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے شرٹ کے بٹنو کو بند کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“اب جب تک ہم اُن دونوں سے معلومات نہیں نکالتیں ہمیں وہیں کرنا پڑےگا جو وہ چاہے گیں۔اب نکاح کرنا پڑے گا ورنہ اُن دونوں کو ہم پر شک ہو جائے گا۔”
ارحام سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔تو وہ اپنے لب کاٹتے ہوئے اپنا سر ہلانے لگی۔تبھی جیم اور سارا کو وہ اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھنے لگے۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“میں اِس ڈریس کو نہیں پہن سکتی یہ بہت ہیوی ہے۔”
ری آئی برو اچکا کر عروسی جوڑے کو دیکھتی سارا سے بولی جو بڑی مشکل سے جیم کے ساتھ مل کر اُس کلیئے کراچی کی ایک مہشور بوتیک سے خرید کر لائی تھیں۔
“بے بی آج کے دن تُمہیں یہ ڈریس ہر حال میں پہننا پڑے گا۔بیکاؤز سویٹ گرل آج تمہارا نکاح ہے۔اور گولڈن نائٹ بھی اور مجھے لگ رہا ہے تُمہیں اِس ڈریس میں دیکھ کر آج تو تمہارا بوائے افف سوری تمہارا ہونے والا شوہر تُمہیں نہیں چھوڑے گا کیونکہ تم نے اُسے بہت تڑپایا ہے۔بے چارا تُمہیں چھونا چاہتا ہے۔لیکن تُم شادی کا کہ کر اُسکے آرمان پر پانی پھیرتی تھی۔آج رات کو وہ تُمہیں کوئی موقع نہیں دے گا اور تمہیں حاصل کر کے ہی رہے گا۔”
سارا نے بے باکی سے اُسکے سرخ گالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔تو ری اُسکی بات پر جھرجھری لینے لگی۔کیونکہ اگر اِس طوائف کی باتیں سچ ہوگئی تو وہ کل صبح اپنے گھر والوں کو کیا جواب دے گی۔
“اب وہ اتنا معصوم بھی نہیں ہے روز تو اپنی خواہش پوری کرتا ہے۔کبھی اِس کلب پر تو کبھی آس ہوٹل پر جانے کا کہتا ہے تو میں خوشی خوشی اُسکے ساتھ چلی جاتی ہو۔میں نے کبھی منا نہیں کیا اور جو یہ فضول کا ضد لے کر بیٹھا ہے۔اُسے میں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ میں یہ سب شادی کے بعد مانو گی۔”
وہ اُسکے ہاتھوں سے عروسی جوڑا لے کر تیز لہجے میں بولی تو سارا نے بے باکی سے مسکراتے ہوئے اُسکے ہاتھوں سےجوڑا لیا اور اُسے کمر سے پکڑ کر واش روم کی جانب بڑھ کر اُسے اندر کرتی وہ عروسی جوڑا اُسے دیتے ہوئے سگریٹ سلگا کر اپنے سرخ رنگے ہونٹوں پر لگاتے ہوئے بولنے لگی۔
“بے بی یہ مرد ذات سب ایک جیسے ہوتے ہیں اپنی خواہش میں اندھے ہو کر یہ نہیں دیکھتے کہ عورت کیا چاہتی ہے۔بس اپنی خواہش پوری کرنے کے بعد وہ عورت ذات کو ایک طوائف کہہ کر اپنے راستے الگ کر دیتے ہیں۔کم ذات۔”
سارا نے زریاب خان کے بارے میں سوچا اور سگریٹ غصے سے نیچے زمین پر پھینکتے ہوئے کہا۔جس نے شروع میں اُس کی آنکھوں میں اُسے اپنی بیوی بنانے کا خواب سجایا اور پھر بعد میں اُسے استعمال کر کے یہ کہ کر چھوڑ دیا کہ وہ اُسے اپنی رکھیل تو بنا سکتا ہے۔ لیکن بیوی نہیں۔
“مس سارا کوئی بات ہے جو آپ مجھے پریشان لگ رہی ہے۔”
ری آگے بڑھ کر اُسے کندھوں سے تھام کر بولی۔تو سارا اپنے آنسو صاف کرتی مسکرا کر اُسے دوباره کھینچ کر واش روم کے اندر کرکے باہر سے دروازه بند کرتی بولی۔
“بے بی جب تک تُم ایک ہاٹ دلہن بن کر باہر نہیں آؤ گی تب تک میں ٹینشن فیل کروں گی۔سو تُم اِس ڈریس کو کھڑی ہو کر مت دیکھو بلکہ اُسے جلدی سے پہن کہ باہر نکلنے کی کرنا ورنہ وہ تمہارا والا میرے والے کے ساتھ ملکر مجھے قتل کر دے گا۔”
سارا کی آواز پر ری نے دروازے کو بری طرح سے گھورا اور لہنگا سامنے رکھ کر وہ شاور لینے کے لئے اندر چلی گئی اور شاور لینے کے بعد وہ لہنگا پہن کر چولئ کو اٹھانے کے لیے وہ آگے بڑھی تو سامنے سرخ رنگ کے ڈیپ گلے والی چھوٹی سی چولئ کو دیکھ کر وہ غصے سے پاگل ہونے لگی۔
“وہاٹ ربش میں یہ پہنوں گی۔وہ بھی اُس ٹھرکی کے لیے نو نیور اگر وہ شوہر بھی ہوتا نا تو میں یہ پہن کر اُسکے سامنے کبھی نا جاتی۔”
سرخ ڈیپ گلے والی بلاؤز کو نیچے فرش پر پھینکتی سخت غصے میں خود سے بولی۔لیکن پھر اپنے میشن کا سوچ کر نیچے جھکی اور اُس بلاؤز کو بری طرح سے گھورتی پہننے لگ گئیں۔
کچھ دیر بعد لاکھ کوششوں کے باوجود بھی جب اُس سے بلاؤز کی ڈوریاں باندھی نہیں گئیں تو وہ چڑ کر ڈوریوں کو اُسے طرح چھوڑ کر واش روم سے باہر نکلی اور پیٹ مور کر سارا کو آواز دیتی اُسے ڈوریاں باندھنے کا کہنے لگی۔
جبکہ ارحام سارا کے کہنے پر روم میں بیٹھا کب سے اُسکا ویٹ کر رہا تھا۔تبھی یکدم سے اُسے غصے سے واش روم سے باہر نکلتے ہوئے اُسنے دیکھا تو صوفے سے اٹھا۔
اُس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتا ریحام اچانک سے اُسکے سامنے پیٹ موڑ کر کھڑی ہوگئی تھی اور پھر اُسے سارا مارگریٹ سمجھ کر اُسے چولئ کی ڈوریوں کو بند کرنے کا کہنے لگی۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“جیم ڈارلنگ تُمہارا پلان تو بڑا ہی زبردست ہے۔جب یہ لوگ اپنا یہ وڈیو دیکھے گے نا تب مجھے بہت مزا آئے گا اور اب کیا ہم اِن دونوں کو روز پیسے کے لیے بلیک میل کرے گے۔؟
سارا لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظر آتے ریحام اور ارحام کو دیکھتے ہوئے کمینگی سے بولی۔تو جیم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے کمر سے پکڑا اور اُسے اپنے اوپر گرا کر اسنے اپنے لب اُسکی گردن پر رکھتے ہوئے بولنے لگا۔
“سارا یہ جو اتنا زیادہ خرچ کیا ہے ہم دونوں نے اِن لوگوں پر وہ بھلا ہم ایسے کیسے جانے دے گے۔ہم ان دونوں سے پائی پائی سود سمیت نکالے گیں۔”
وہ دونوں ہاتھ آگے اُسکے پیٹ پر رکھتا ہوا ایک آنکھ دبا کر ہنستے ہوئے کمینگی سے بولا۔تو سارا اُسکی ہوشیاری پر پلٹ کر اپنے دونوں ہاتھ کرسی کی پشت پر رکھ کر اُسکے چہرے کے اوپر جھکی۔
💞💞💞💞💞💞💞
تُم۔؟؟
ریحام نے جب سارا کو خاموش کچھ نہ کہتے ہوئے پایا تو تیزی سے پیچھے پلٹی تو سامنے سارا کے بجائے جب اُسنے ارحام کو اپنے بے حد نزدیک دیکھا تو حیران رہ گئیں۔
تبھی یکدم سے وہ ہوش میں آتی سخت غصے میں آ کر زور سے اُسے خود سے دور کرتی تیز لہجے میں بولی۔
“ہاں میں تُمہارا ہونے والا شوہر۔”
ارحام نے اپنے ہاتھ اُسکی پشت پر رکھ کر اُسے اپنی جانب کھینچتے ہوئے گھمبیر آواز میں کہا۔جبکہ ری اُسکے زور سے کھینچنے پر وہ اُسکے سینے سے آ کر لگی تھی۔
“ارحام انصاری مت بھولنا کہ یہ نکاح صرف ایک ڈراما ہے۔اُس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔!!!اور میں اِن دونوں کو ختم کرنے کے بعد یہ رشتہ بھی ختم کر دو گی۔”
وہ اپنی بیک پر اُسکی گرم سانسیں محسوس کرتی ٹھہر کر بولی۔تو ارحام جو اُسے بیک سے پکڑے ہوئے تھا۔وہ اُسے اپنی مخمور نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“ڈارلنگ میرا بھی تُم سے ایک وعده ہے۔!!!میں تُمہیں بہت جلد بیوی سے اپنے بچوں کی ماں بنا کر ہی دم لوں گا بلکل اُسی طرح جس طرح آج میں نے تُمہیں ری سے ریحام بنایا ہے۔”
نیچے جھکا اور اُسکو اپنے بازؤوں میں بھرتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوا اور اُسکے برائیڈل کپڑوں کی جانب اشاره کرتے مسکرا کر بولنے لگا۔
“مسٹر ارحام انصاری آج تو تُم کامیاب ہوئے ہو لیکن اگلی بار میں تُمہیں کامیاب ہونے کا موقع نہیں دو گی۔”
ریحام اپنی نظریں سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر نظر آتیں اپنے دلہن والے روپ میں مرکوز کرتیں ہوئے سنجیدگی سے بولنے لگی۔
جبکہ ارحام نے اُسکی باتوں کو نظر انداز کرتے اُسے نیچے اتارا اور خود تیزی سے پیچھے بیڈ کی جانب بڑھا اور وہاں رکھے اُسکے جیولری اور دوپٹے کو اٹھا کر ڈریسنگ ٹیبل کی جانب دوباره بڑھا۔
“اوہ مس میزائیل میں اپنی خاندانی رسم کرنا تو بھول گیا۔وہ کیا ہے ناکہ ہمارے خاندان میں دلہا اپنی دلہن کو اپنے لئے خود سجاتا سنوارتا ہے۔”
وہ اُسکے دونوں بازؤوں پہ بازو بند اور گلے پر خوبصورت ہار پہنانے کے بعد آخر میں دوپٹہ اُسکے سر پر سیٹ کرتیں ہوئے بولا۔اور پھر سامنے ٹیبل پر کمر بند کو اٹھا کر نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اُسکی کمر پر باندھنے لگا
“بڈی اگر تُمہارا یہ رومینس والا سین ختم ہوگیا ہو تو جلدی سے اپنی دلہن کو اٹھاکر نیچے لے کر آؤ نیچے مولوی صاحب تُم دونوں کا انتظار کر رہے ہیں۔”
جیم نے باہر سے دروازه زور سے مارتے ہوئے ہنس کر بولا۔تو ارحام اُسکی آواز پر ریحام کو دیکھنے لگا جو شرم سے سرخ ہوتی چہرہ نیچے جھکا کر کھڑی تھیں۔
💞💞💞💞💞💞💞
“ریحام شاه بنت سید سعد شاہ آپکا نکاح ارحام ولد مرتضی انصاری سے سکہ رائج الوقت بیس لاکھ روپے حق مہر کیا جاتا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے؟
ری مولوی صاحب کے سوال پر اپنا سر اٹھا کر سامنے کے صوفے پر جیم کے ساتھ بیٹھے ارحام کو دیکھنے لگی جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“کیا ہوا سویٹی کیا تُمہیں یہ حق مہر کم لگ رہے ہیں۔جو تُم مولوی کو جواب نہیں دے رہی ہوں۔؟
اُسے خاموش دیکھ کر سارا نے دونوں کندھوں سے تھام کر اُسکے کان میں ہلکی آواز میں شرگوشی کرتے ہوئے کہا۔
“قبول ہے۔”
لبوں پر زبان پھیرتی بمشکل بولی۔
قبول ہے۔”
دوسری بار پھر مولوی صاحب کے سوال پر وہ بولی۔
قبول ہے۔”
تیسری بار کہتے اُسنے اپنی نظریں اٹھا کر ارحام انصاری کو سرد نگاہوں سے دیکھا پھر مولوی صاحب کے نکاح نامے پر سائن کرنے کا کہنے پر وہ پیپرز پر سائن کرنے لگی۔
مولوی صاحب اب ارحام انصاری کی جانب متوجہ ہوا اور وہی سوال اُس سے پوچھنے لگا جو نکاح میں ہر دلہے سے پوچھا جاتا ہے۔
“بڈی بہت بہت مبارک ہو۔اب کوئی پابندی نہیں ہے جب دل چاہے اپنی منمانیا کرنا اور بھابھی کو بلکل بھی موقع مت دینا۔”
اُسکے جواب دینے پر جیم نے اٹھا اور ٹیبل پر رکھا چاکلیٹ کا ڈبہ اٹھاکر اُسکے منہ میں زبردستی ڈال کر زور سے ہنستے ہوئے اُسے مبارکباد دینے لگا
💕💕💕💕💕💕💕
“بڈی رات کے بارہ بج رہے ہیں تُم اپنی دلہن کو اٹھاؤ اور ہاں آج بلکل بھی نہیں چھوڑنا بلکہ خوب بدلے لینا بھابھی سے اور تُم دونوں کو یہ رات بہت بہت مبارک ہو۔”
کھانا کھانے کے بعد جیم نے ارحام کی جانب دیکھتے ہوئے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر ہنس کر قہقہہ لگاتے ہوئے کمینگی سے بولا۔
“ہماری سویٹی آج اتنی قیامت دا رہی ہے تو ہمارے دلہے میاں کہی بہک کر بدلے کو بھول ہی نا بیٹھ جائے کیوں سویٹی سہی کہا نا میں نے۔”
سارا نے بے باکی سے اُسکے ڈریس کو دیکھتے ہوئے کہا۔تو ری اُسکی بے باکی پر شرم سے گلال چہرہ اور نیچے جھکانے پر مجبور ہوگئی۔
“دلہے میاں کیا دیکھ رہے ہیں آپ جلدی سے اٹھا کر لے جائے اپنی دلہن کو ورنہ اگر میرا ایمان خراب ہوگیا تو تُمہیں یہ رات اکیلے گزارنا پڑے گا ۔”
سارا کمینگی انداز میں اپنا آنکھ دبا کر ارحام سے بولی
تو ارحام اُسکی بات پر اپنی جگہ سے اٹھا اور ریحام کی جانب برھا۔
“اجازت ہے مس میزائیل۔؟
وہ نیچے جھک کر گھمبیر آواز میں اُس سے اجازت مانگنے لگا۔تو ری نے شرماتے ہوئے اپنا نازک ہاتھ اُسکے مضبوط مردانہ ہاتھ پر رکھ دیا تو ارحام اُسکی رضا سے اُسے اپنی گود میں اٹھا کر روم کی جانب بڑھنے لگا۔
“یہ ناٹک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اب مجھے نیچے اتاروں وہ دونوں یہاں نہیں ہے اور یہاں کوئی کیمرہ بھی نہیں لگا جو ہمیں ڈراما کرنا پڑے گا۔”
بیڈ روم میں داخل ہو کر ریحام نے اپنا ایک ہاتھ اُسکے کندھے پر رکھتے ہوئے غصے سے کہا۔جبکہ ارحام اُسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اُسے لیے خاموشی سے بیڈ کی جانب بڑھا۔
“یہ تُم کیا کر رہے ہو میں کہہ رہی ہو نا کہ مجھے نیچے اتارو ہمارا نکاح صرف ایک ڈراما ہے اِس سے آگے کچھ بھی نہیں۔”
وہ اُسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی بیک پر محسوس کرتی بری طرح سے لرزتے ہوئے بولی۔لیکن وہ خاموشی سے اُسکی بیک کو چھو کر ہاتھ نیچے لے جاکر اُسکی کمر بند کو کھولنے لگا۔
“یہ تُم کیا کر رہے ہو۔؟؟
ریحام نے جب اپنی کمر پر اُسکا لمس محسوس کیا تو وہ گھبرا کر بولی۔جبکہ ارحام کمر بند کھولنے کے بعد اُسکے اوپر سے دوپٹہ اتار کر نیچے پھینکتے ہوئے ابکے ایک ایک کر کے چولئ کی ڈوریاں کھولنے لگا۔
“پلیز میرے ساتھ یہ سب مت کرو مم میں اپنے گھر والوں کو کیا جواب دو گی۔!!!! اور تت تُم بھی میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ہو۔”
وہ اُسکے چولئ کی ڈوریاں کھولنے پر اپنی سرخ نظریں اُسکے سنجیده چہرے پر گاڑ کر غصے سے بولی۔وہ اپنے اور اُسکے رشتے کا سوچ کر مکمل بہک چکا تھا۔تو اب کہا اُسکی بات سن رہا تھا۔
وہ ریحام کو ایک جھٹکے سے نیچے بیڈ پر گرا کر اُسے اپنی مخمور نظروں سے دیکھتا اُس پر جھکا اور اُسکی بیک کو اوپر اٹھاکر وہ ہاتھ نیچے لے جاکر اُسکی چولئ کو اُسکے تن سے جدا کرکے شدت سے اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا کر اپنا سر اُسکی گردن میں چھپا کر اُسکی خوشبو کو اپنے اندر بسانے لگا۔
جبکہ اپنی سفید گردن پر اُسکے ہونٹ محسوس کرتی ریحام اپنی گردن جھلستی ہوئی محسوس ہونے لگی۔یکدم اُسے اپنی کلائیوں پر شدید درد محسوس ہوا تو وہ اپنی آنکھیں کھول کر سر اوپر کرکے بیڈ کراؤن کی جانب دیکھنے لگی جہان ارحام اپنے ہاتھوں سے اُسکی دونوں کلائیاں سختی سے جھکڑ کر کراؤن سے ٹکائے خود اُسکی گردن پر جھکا ہوا تھا۔
اُسکی دونوں کلائیوں کی سرخ چوڑیاں اُسکی شدت سے پکڑنے پر ٹوٹ کر بیڈ پر گری ہوئی تھی تو کچھ اُسکی کلائیوں کو بری طرح سے زخمی کر چکی تھیں۔
💞💞💞💞💞💞💞
زور سے آنکھیں بند کیے وہ اپنے ہونٹوں پر اُسکے ہونٹوں کو محسوس کرتی زور سے سسکی لیں کر زور سے اُسکی پشت کو پکڑ کر اُسے اپنے ساتھ لگا گئیں تھی۔
دوسری جانب ارحام جو اُسکے لبوں پر جھکا ہوا تھا۔ اُسکی آواز پر وہ ہوش میں آتا اُسکے اوپر سے اٹھا اور اُسکا حلیہ دیکھ کر جلدی سے سامنے پڑی سلک کی چادر اُسکے وجود پر اوڑھا کہ پیچھے ہٹا۔
اور ری کو جب اپنے ہونٹوں پر اُسکا لمس محسوس نہیں ہوا تو جھٹکے سے اُسنے اپنی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو بیڈ کے سامنے خاموشی سے ارحام انصاری کو کھڑا پایا جو اپنی سرخ مخمور آنکھیں اُس پر ٹکائے اپنا شرٹ اتار رہا تھا
“دیکھو میں پھر سے تّمہیں کہہ رہی ہو یہ جو تُم کر رہے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے۔!!! تُم ایک لڑکی پر ایسے زور زبردستی نہیں کر سکتے اور لڑکی بھی وہ جو ایک آرمی آفیسر ہے۔”
ریحام سفید سلک چادر کو سختی سے خود سے لگا کر اپنے آپکو اُس سے چھپاتی تیز لہجے میں بولنے لگی۔جبکہ ارحام انصاری اُسے ڈرتے ہوئے دیکھ کر طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجاتا واپس اُسکے اوپر جھکا اور جھٹکے سے اُسکے اوپر سے چادر کھینچ کر بولا۔
“وائف فلحال تو میں تُمہیں چھوڑ رہا ہو.!!! بیکاؤز پہلے میں ہمارا میشن ون ختم کروں گا۔!!! اور پھر اُسکے بعد میں بہت جلد تُمہیں چھونے کا میشن شروع کر دو گا۔”
وہ شرٹ اُسکے چہرے پر پھیر کر بے باکی سے اُسے دیکھتے بولا۔تو ری اُسکی بات پر اور حرکت پر اُسے سخت غصے سے دیکھنے لگی۔
“مطلب یہ ڈراما تُم مجھے ڈرانے کے لئے کر رہے تھے۔”
وہ اپنے حلیے کو ایک بار پھر دیکھتی چٹخ کر بولی۔لیکن جب اپنے اوپر اُسنے اُسکی بے باک اور مخمور سرخ نگاہوں کو دیکھا تو تیزی سے آگے بڑھ کر اپنے اوپر چادر اوڑھ کر اُس سے چھپنے لگی۔
“وائف اب چھپانے کا کیا فائدہ جب میں نے سب کچھ دیکھ لیا اور ویسے بھی شوہر سے کیسی پردہ داری۔”
وہ اُسکے اوپر سے چادر کھینچ کر دور اچالتے ہوئے بولا۔جبکہ ری اُسکی حرکت پر شرم سے سرخ ہونے لگی۔ارحام انصاری اُسے بھیگی بلی بنے دیکھ کر اُس پر ترس کھا کر اپنی شرٹ اُسے دیتے ہوئے کہنے لگا۔
“مس میزائیل ابھی تو تُم اپنے شوہر کے اِس بڑے سے شرٹ سے کام چلا لوں کیونکہ وہ جو تُم نے لہنگے کے اوپر پہنا ہوا تھا نا وہ میرے ڈرامے کی وجہ سے اور میرے زور سے اچالنے کی وجہ سے کھڑکی سے باہر گر گیا بے چارا۔”
وہ مسکین صورت بنا کر اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔تو ریحام اُسکے ڈرامے والی بات پر حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔
“اب اِیسے نا مجھے تُم دیکھو وائف ورنہ میں تُمہیں اپنے سینے سے لگا دوں گا۔اور میں نے اگر تُمہیں سینے سے لگا دیا نا تو سمجھو اُن کے ساتھ آج ہمارا بھی کام تمام ہو جائے گا۔”
وہ اُسکے حیرت سے دیکھنے پر خوبصورتی سے گنگنا کر بے باکی سے بولا۔تو ری نے تیزی سے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے ہاتھ سے شرٹ کھینچ کر جلدی سے پہننے لگی۔
“یہ سب ڈراما کیوں کیا اور مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تُم ڈراما کرنے والے ہو کیا اِس روم میں تُمہیں کوئی کیمرہ ملا ہے۔؟؟
وہ سخت لہجے میں کہتی اُسے دیکھنے لگی۔جو اپنی نظریں اُسکے نازک سراپے پر ٹکائے اُسے سرخ لہنگے کے اوپر اپنے سے بڑے سائز کا اُسکا وائٹ شرٹ پہنے دیکھ کر بہکنے لگا۔
“تُم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔؟
وہ سخت لہجے میں کہہ کر اُسے پکارتے ہوئے بولی۔تو اُسکی آواز پر اپنی نظریں اُسکے نازک سراپے سے بمشکل ہٹا پایا تھا جبکہ اُسے سخت نظروں سے گھورتی اب کے آگے بڑھی اور اُسے جھنجھوڑ کر اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے پوچھنے لگی
“مسٹر ارحام انصاری بتاؤ جلدی ورنہ اُن دونوں کے ساتھ آج تُم بھی میرے ہاتھوں مروں گے۔”
اُسکی دھمکی پر وہ گہری سانس خارج کرتا اُسےکمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اُسنے بولنا شروع کیا جبکہ ریحام اُسکے چوڑے سینے سے لگی غور سے اُسکی باتوں کو سننے لگی۔
“مجھے پتہ تھا کہ یہ لوگ ایسے مفت میں ہماری شادی پر اتنا زیادہ خرچ نہیں کر رہے بلکہ ہماری وڈیو بنا کر یہ ہمیں بلیک میل کرکے ہم سے پیسے نکالنا چاہتے ہیں۔۔!!
“اور وہ کمینا جیم لارسن ہماری وڈیو کے ذریعے تُمہیں بلیک میل کرکے اپنی حوس پوری کرنے کا ذریعہ بنا رہا تھا تاکہ وہ سارا مارگریٹ سے بھی چھٹکارا حاصل کر سکے۔”
ارحام کی باتیں غور سے سنتی ریحام نے اُسے ساکت نظروں سے دیکھا جو کہ اُسکے دیکھنے پر اپنے لب اُسکی پیشانی پر رکھ کر اُسے اپنے سینے سے لگا کر اُسکی پشت کو سہلانے لگا۔
“اِسی لیے میں نے تُمہارے ساتھ وہ کیا جو وہ دونوں چاہتے تھے۔لیکن میں نے بھی اُن دونوں کی کمزوری جان کر اِنہیں اپنے جال میں پھانس لیا ہے۔”
وہ اُسکی پشت کو اپنے ایک ہاتھ سے سہلاتے اور دوسرے ہاتھ کی مدد سے بالوں کو چہرے سے ہٹا کر سنجیدگی سے بولا۔
“وہ کیسے۔؟؟
ریحام اُس سے الگ ہوتی پوچھنے لگی۔تو اُسکی بات پر وہ پرسرار مسکراہٹ چہرے پر سجاکر آگے کیا کرنا ہے اُسے بتانے لگا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
