117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

“بیٹا اب تُمہاری طبعیت کیسی ہے۔۔؟؟
ڈاکٹر نے جب اسکے ہوش میں آنے کی نوید سنائی تو شازم اور دلکش تیزی سے اُسکے روم کی جانب بڑھے اور جب اندر داخل ہوئے تو اُسے پٹیوں میں جکڑے دیکھ کر اپنے دل میں تکلیف دہ درد محسوس کرنے لگے اور اپنے اندر ڈھیروں ہمت مجتمع کرکے دونوں آگے بڑھے اور شازم نے اُسے دیکھتے ہوئے اسکی خیریت دریافت کیا جبکہ دلکش اپنی سرخ نم آنکھوں سے اسکے سر کی جانب دیکھ رہی تھی جو پٹی میں جکڑا ہوا تھا۔۔
“فرسٹ کلاس اور مما جانی یہ کیا آپ رو رہی ہیں دیکھے میں بلکل ٹھیک ہو لو گرو آپ ہی اپنی زوجہ کو سمجھائے دیکھیں تو رو رو کر اپنی آنکھیں سوجا چکی ہے۔!!
دلکش کی آنکھوں میں آنسوؤں دیکھ کر وہ خفگی سے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا تو دلکش نے آگے بڑھ کر اسے اپنے گلے لگایا اور زور زور سے رونے لگی۔۔
“شاہ بچے کیوں اپنا خیال نہیں رکھتے ہو تُم ہاں تُمہیں اس حالت میں دیکھ کر تمہیں پتہ نہیں ہے کہ مجھ پر کیا بیتی ہے اور ایک تُم ہو صرف اپنا نقصان کرنے پر ٹلے ہوئے ہو۔۔!!
اُسے الگ کرتے ہوئے وہ غصے سے بولی تو انکی غصے سے کہنے پر اے بی نے بے چارگی سے شازم کو دیکھا جو اُسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
“بابا آپ سمجھائے نا مما جانی کو اگر یہ اسطرح روئے گی نا تو اس ہاسپٹل میں سیلاب آ جائے گا اور آپ سمیت مجھے بھی اٹھا کر لے جائے گا۔۔!!
شرارتی لہجے میں کہتا وہ دلکش کو مسکرانے پر مجبور کر گیا جبکہ شازم حیرت سے اسے دیکھنے لگا جسنے اُسے آج چھ سال بعد پہلی بار بابا کہہ کر بلایا تھا۔
“مسٹر شازم ابھی آپکا بیٹا مکمل ٹھیک نہیں ہوا ہے آپ پلیز انہیں سمجھائیں ورنہ بہرام شاہ کے زخم بھرنے کے بجائے اور بھی زیادہ گہرے ہو جائے گے۔۔!!
ڈاکٹر روم میں داخل ہوا تو دلکش کو روتے ہوئے دیکھ کر شازم سے کہنے لگا تو شازم انکی بات سمجھتے ہوئے دلکش کو بھلا کر باہر لے کر چلا گیا اور ڈاکٹر صاحب نے آگے بڑھ کر اے بی کا چیک اپ کیا اور اسے اچھے سے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر باہر نکلا جبکہ اے بی انکے باہر جاتے ہی دواؤں کے زیر اثر آنکھیں موند گیا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
شاہ بخت کے ساتھ حور اور حنیہ سعد ہاسپٹل میں پہنچے تو سامنے شازم اور دلکش کو دیکھ کر ان کی جانب بڑھے جبکہ شاہ بخت ڈاکٹر کے کیبن میں چلا گیا اے بی کے بارے میں پوچھنے کے لئے اور حور اذان شاہ کو سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر اُسکی جانب بڑھی۔۔
“بھائی یہ سب کیسے ہوا ہے اور وہ ٹھیک تو ہے نا۔۔؟؟
اپنی نم سرخ آنکھیں اُس پر ٹکا کر وہ اُسکے بارے میں اذان شاہ سے پوچھنے لگی تو اذان شاہ نے اُسکی جانب دیکھا اور اپنا ہاتھ اسکے سر پر رکھتا اسے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگا۔
“پرنسس شاہ اب بلکل ٹھیک ہے بس چھوٹی موٹی چوٹیں آئی ہیں اُسے اور وہ تم اُسکی دیکھ بھال کرو گی تو ٹھیک ہو جائے گے۔۔!!
مسکرا کر اُسے اپنے ساتھ لگا کر وہ کہنے لگا تو حور اسکی چھوٹی موٹی چوٹ پر اُسے تعجب سے دیکھنے لگی۔
“کیا میں اُن سے مل سکتی ہوں۔۔؟؟
اپنی آنکھیں اُس پر جما کر وہ پوچھنے لگی۔۔
“کیوں نہیں لیکن ابھی بڑے پاپا ملنے جا رہے ہیں وہ دیکھو مجھے تو لگتا ہے وہ سبق سکھانے جا رہے ہیں اپنے داماد کو آخر کو انہوں نے اُسے اپنا داماد چنا ہے اور پرنسسس مجھے لگتا ہے وہ آپ کو شاہ کے ساتھ ہاسپٹل سے ہی رخصت کرے گے۔۔!!
شاہ بخت کو تیزی سے اے بی جس میں روم تھا وہاں سنجیدگی سے بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ اس سے شرارتی لہجے میں کہنے لگا تو حور اُسکی رخصتی والی بات پر سٹپٹا کے اُسکے کندھے پر ہلکے سے مکا مارنے لگی۔۔
“پرنس بھائی آپ بہت برے ہے۔!!
منہ بسور کر وہ اُسے دیکھنے لگی جو اب اسکے منہ بسورنے پر ہنسنے لگا۔۔
دوسری طرف شاہ بخت جب روم میں داخل ہوا تو اُسے بیڈ سے ٹیک لگا کر سامنے دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے پاکر سنجیدگی سے اُسکی جانب بڑھا۔۔
“سسسرِ محترم آپ کو اپنے اس غریب خانے میں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور خدا کا شکر ادا کریں کہ اُنہوں نے آپکے شرہف داماد کو بچا لیا ورنہ سسسرِ جی اِس وقت ہم ہاسپٹل میں نہیں قبرستان میں ملتے آپ میرے قبر پر بیٹھ کر پھول چڑھا رہے ہوتے۔۔!!
اے بی اپنی زخموں کی پرواہ کئے بغیر شاہ بخت کو اپنے سامنے دیکھ کر شرارتی لہجے میں کہنے لگا تو شاہ بخت نے اُسے سخت نظروں سے گھورا۔۔
“دامادِ محترم اگر قبر میں بھی ہوتے تو ہم وہاں سے بھی آپ کو نکال کر تُم سے ضرور ملتے بیکاوز بہت سے حساب کتاب ابھی رہتے ہیں جو ہمیں آپ سے پورے کرنے تھے۔۔!!
شاہ بخت نے بھی بلکل اسی کے انداز میں مسکرا کر کہا تو اے بی اپنے سینے پر لگی پٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرانے لگا اور اُسکے پیچھے کسی کو ڈھونڈنے لگا۔۔
“یہ آپکی معصوم بیٹی نظر نہیں آ رہی کیا وہ نہیں آئی ہے اپنے زخمی شوہر کو دیکھنے اور سسسرِ محترم ہم آخری بار چار دن پہلے ملے تھے اور آپکے گھر کے باہر جو پارک ہے وہاں ہم نے صبح کے دس بجے سے لے کر دوپہر کے دو بجے تک ایک ساتھ خوبصورت وقت گزارا تھا۔۔!!
شاہ بخت کے سامنے بے شرمی سے حور کے بارے میں اُسنے پوچھا تو شاہ بخت نے اُس بے شرم کو گھورا اور اپنا فون نکال کر اذان شاہ کو حور کو اندر بھیجنے کے لئے میسج کیا۔
“لگتا ہے بہنا تمہاری رخصتی پکی ہوگئی ہے جو بڑے پاپا تُمہیں اندر بلا رہے ہیں۔۔!!
دوسری طرف اذان شاہ کو جب میسج موصول ہوا تو اُسنے شرارتی نظروں سے حور کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“پرنس بھائی آپ کو میں بعد میں دیکھوں گی۔۔!!
سرخ چہرہ لیے وہ شرماتی ہوئی بولی اور تیزی سے اے بی کو دیکھنے اُس روم کی جانب بڑھی جہاں وہ ایڈمٹ تھا۔
“داماد صاحب میری بیٹی اب سے تمہاری ذمہ داری ہے اور یہ آج سے یہی رہے گی جب تک تُم مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتے اور ہاں میری بیٹی کو تکلیف دیا نا تو میں سب کچھ بھول جاؤ گا اور اپنی بیٹی کو تُم سے بہت دور لے جاؤ گا۔۔!!
حور کے اندر داخل ہوتے ہی شاہ بخت نے اُسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اے بی کی جانب دیکھتے ہوئے اُسے وارننگ دیتے ہوئے کہنے لگا۔
“آپ فکر مت کرے سسسرِ محترم میں آپکی بیٹی کو اپنی رانی بنا کر رکھوں گا بلکہ میں سارے گھر کے کام بھی خود کرو گا برتن پونچھا کپڑے دھونا سب میں خود کروں گا اور کیا آپ کو یہ سب منظور ہے بیوی۔۔!!
شرارتی انداز میں شاہ بخت سے کہتا آخر میں حور کو ایک آنکھ دبا کر شرارت سے بولا۔۔
“ایسے کیسے فکر نہ کرو داماد صاحب جب میں اپنی بیٹی کو تمہارے جیسے بے شرم انسان کو دے رہا ہوں تو میری فکر تو بنتی ہیں۔۔!!
شاہ بخت نے مصنوعی انداز میں اُسے غصے سے گھورتے ہوئے کہنے لگا تو اے بی انکی بات پر زور دار قہقہہ لگا اٹھا جبکہ شاہ بخت یہ کہہ کر ان دونوں کو وہاں اکیلا چھوڑ کر روم سے باہر نکلا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“بیوی وہاں کیوں کھڑی ہو یہاں آؤ میرے پاس۔۔!!
اے بی نے اُسے روم کے بیچوں بیچ کھڑے دیکھ کر بیڈ پر اسکے لئے تھوڑی سی جگہ بنا کر اُسے اپنے پاس بلایا تو حور آہستگی سے چل کر اُسکے پاس بیٹھ گئی تو اے بی نے اُسے دیکھا اور پھر ہاتھ آگے بڑھ کر اُسے اپنے سینے سے لگا کر وہ اُسکی خوشبو کو اپنے دل میں اتارنے لگا۔۔
“یہ سب کیسے ہوا ہے۔۔؟؟
وہ اسکے سینے پر سر رکھے اُسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتی اُس سے پوچھنے لگی تو اے بی نے اسکی کمر پر ہاتھ رکھا اور اُسے مزید اپنے نزدیک کرتا اپنے ہونٹ اُسکی پیشانی پر رکھ کر اُسے دیکھنے لگا۔۔
“بیوی یہ بہت لمبی کہانی ہے پھر کبھی تُمہیں سناؤ گا اور ویسے بھی تُمہارا شوہر اتنا کمزور نہیں ہے اتنے چھوٹے سے ایکسیڈنٹ پر مر جائے گا۔۔!!
وہ اپنے لبوں سے اُسکے آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو چنتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا جبکہ حور نے اُسکی بات پر خفگی سے اُسکے سینے پر مکا مارا تو وہ اُسکے مکا مارنے پر درد سے کراہ اٹھا۔۔
“آپ بہت برے ہے دیکھے ایسی باتیں کر کے مجھے آپ غصہ دلا کر خود ہی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اب آپ کبھی بھی مرنے اور مارنے کی باتیں نہیں کریں گے۔۔!!
وہ اُسکی تکلیف پر گھبرا کر تیزی سے اُسکے چوڑے سینے پر اپنے لب رکھتی سر اوپر اٹھا کر اُسے غصے سے دیکھنے لگی جو اُسکی بے ساختہ حرکت پر اُسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔
“بیوی جب تُم اسطرح میرے زخموں پر مرحم رکھوں گی نا تو میرا دل ہمشیہ ایکسڈنٹ کا چاہیے گا اور مجھے لگتا ہے کہ میں تمہارے اِس مرحم کا سوچ کر روز ایکسڈنٹ کروا کر ہاسپٹل میں منتقل ہو جایا کروں گا۔۔!!
وہ اپنے سینے پر لگے پٹیوں پر اُسکی لپ اسٹک کے نشان پر ہاتھ پھیرتے ہوئے معنی خیزی سے بولا جبکہ حور اُسکی بات پر غصے سے اُسے گھورنے لگی۔۔
“آپ نا بہت بڑے ٹھرکی ہے۔۔؟؟
اُس سے الگ ہوتی وہ شرم سے سرخ اپنا چہرہ لیے غصے سے بولی لیکن اُسکے ہاتھ بڑھا کر زور سے کھینچنے پر وہ اُسکے اوپر آ گری مگر پھر تیزی سے اپنے ہاتھوں کو پیچھے بیڈ پر دائیں اور بائیں جانب رکھتی وہ اُسکی تکلیف کی وجہ سے اُسکے اوپر سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگیں تو اے بی اُسکی کوششوں کو ترک کرتا وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اسکی پشت پر رکھتا اُسے اپنے اوپر جھکا کر ہاتھ آگے بڑھا کر اپنے چہرے کے اوپر آتے اُسکے بالوں کو پیچھے ہٹانے لگا جبکہ حور اتنی زیادہ قربت پر شرم سے اپنی نظریں چرانے لگی۔۔
“نا بیوی نا میں صرف اپنے گھر کی ملکہ کے لئے ٹھرکی ہو باقی سب عورتوں کے لیے کھڑوس بدتمیز غصیل انسان ہو۔۔!!
اُسکی پشت پر دباؤ بڑھا کر اُسے مزید اپنے نزدیک کرتا وہ بولا اور اپنے لبوں سے اُسکی گلابی گالوں کو پیار سے چھونے لگا ابھی وہ آگے بڑھتا کہ پیچھے سے کسی نے گلا کھنکارا تو حور تیزی سے اُس سے الگ ہوتی دور کھڑی ہوئی جبکہ اے بی نے سخت نظروں سے آنے والے کو دیکھا جو اذان شاہ تھا اور دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا مسکرا رہا تھا۔
“سالے صاحب اب میں بلکل ٹھیک ہو تو پھر کیوں کباب میں ہڈی بننے اندر چلے آئے آپ وضاحت کرنا پسند کریں گے۔۔!!
اُسے سخت نظروں سے گھورتا وہ اُس سے پوچھنے لگا تو اذان شاہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور کرسی اٹھا کر بیڈ کے سامنے رکھ کر اس پر بیٹھا اور ان دونوں کو معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگا۔
“لگتا ہے میں نے غلط وقت پر انٹری مارا ہے لیکن داماد جی فکر مت کرے بس تھوڑی دیر بعد آپ ڈسچارج ہو کر اپنی بیوی کے ساتھ اپنے گھر رخصت ہو جائے گے یہی کہنے میں یہاں آیا تھا اور یہ فرمان اوپر سے آیا ہے جب تک آپ مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتے آپکی بیگم آپکے پاس آپکی تیمارداری کے لیے ہوگی اور بہنا آپ کو اگر گھر میں کوئی اپنی ضروری چیزیں لینے جانا ہے تو چلے میں آپکو لے کر چلتا ہو پھر واپسی پر آپ کو آپکے شوہر کے گھر چھوڑتا ہو کیونکہ اب تو یہ آپ کو وہیں پر ملے گے۔۔!!
اذان شاہ نے جو خبر سنائی اسے سن کر اے بی کا دل بھنگڑا ڈالنے کو چاہا جبکہ حور سٹپٹا کے رہ گئی کیونکہ اُسکے گھر میں رہنا مطلب اسکے کمرے میں یہ سوچ کر وہ شرم سے سرخ پڑنے لگی۔۔
“تو بیوی اسکا مطلب ہے سسسرِ محترم چاہتے ہیں کہ تُم اس بدمعاش پلس بے غیرت کے ساتھ اسکے گھر میں رہوں اور وہ بھی اکیلے اور سالے صاحب میری بیوی میرے ساتھ ہی میرے گھر پر جائے گی جو چیز اُسے چاہیے ہوگی میں بھاٹیا جی سے کہہ کر منگوا لونگا اور ہاں اذی تُم جاؤ جا کر بھابھی کو ٹائم دو بلکہ آج کچھ سرپرائز دو تُم لوگوں کی شادی کو ایک ماہ پورا ہوگیا ہے ناں تو آج تُم بھابھی کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس میں یہ رات گزارو اسطرح میں اپنی بیوی کے ساتھ وقت تو گزاروں گا تُم جو بار بار کباب میں ہڈی بن کر تو نہیں آؤ گے۔!!
شرارتی انداز میں کہتا وہ اسے شرم سے دوچار کرنے لگا جبکہ اذان شاہ اسے مصنوعی غصے سے گھورتا اٹھا کیونکہ وہ خود بھی آج رات رعابہ کو سرپرائز دینے چاہتا تھا اسی لئے اسکی باتوں کا برا منائے بغیر وہ روم سے باہر نکلا۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“تُم اِس وقت یہاں کیا کر رہے ہو جاؤ یہاں سے اگر تمہیں کسی نے دیکھ لیا تو میرے لیے مصیبت ہو جائے گی۔۔!!
ریحام چھپ کر مینشن کے پچھلی سائیڈ پر بنے چھوٹے سے جم میں اپنے بازو کی ڈریسنگ کرنے آئی تھی اچانک سے جم میں اندھیرا ہوا تو وہ صوفے پر سے اٹھی اور اندازے سے سامنے وارڈروب کی جانب موم بتی لینے کے لیے آگے بڑھی کہ تبھی اُسے کسی نے اپنے حصار میں لیا اور اپنے موبائل کی ٹارچ روشن کر کے اُسے دیکھنے لگا جو اُسے دیکھ کر غصے سے اُسکے حصار میں بری طرح سے مچل رہی تھی۔۔
“اپنی وائف کی تیمارداری کے لیے آیا ہو اور یہ کیا تُم ابھی اپنا زخم چیک کر رہی ہوں پتہ بھی ہے نہ کہ زخم کی سہی سے دیکھ بھال نہیں کرو گی تو انفیکشن بھی ہو سکتا ہے ڈیم اٹ گرل تُم بلکل بھی اپنا خیال نہیں رکھتی ہو اب زخم بھی مجھے صاف کرنا ہوگا اور ڈریسنگ بھی مجھے ہی کرنا پڑے گا چلوں یہاں آؤ اور ایک کیوٹ بچی کی طرح بیٹھ کر مجھے پیار سے دیکھو تاکہ تُمہیں اچھا فیل ہو۔۔!!
ارحام انصاری نے اُسے کلائی سے پکڑا اور سامنے ٹیبل پر بٹھا کر خود ٹیبل کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ کر میڈیکل کٹ سے روئی نکال کر اُسکی آستین کو اوپر کرتا اُسکے زخم کو نرمی سے صاف کرتے ہوئے غصے سے کہنے لگا۔۔
“آہ آرام سے جاہل انسان کیا مجھے مارنے کا ارادہ ہے۔۔؟
اُسکے زور سے پٹی باندھنے پر وہ کراہا کر چیختی ہوئی بولی تو ارحام انصاری اسکے چلانے پر اُسے سخت نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“نہیں اپنا بنانے کا ارادہ ہے مس ریحام شاہ تُمہیں اور یہ جو تُمہارا بوائے کٹ ائیر اسٹائل ہے نا یہ مجھے گرلز ائیر اسٹائل میں چاہیے ورنہ میں پہلا میشن انہیں بڑھانے کا کرو گا۔۔!!
ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے شولڈر تک آتے ییلو رنگ کے ریشمی بالوں کو ناپسندیدگی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو ریحام کو بلکل لڑکا ظاہر کر رہا تھا اور اُسنے سوچا تھا کہ پہلے وہ اُسکے حلیے کو ٹھیک کروائے گا کیونکہ یہ روپ اُسے بلکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔۔
“اچھا تو تُمہیں میرے بوائے اور چھوٹے بالوں سے پروبلم ہے تو یہ تّم کس خوشی میں اپنے بال لڑکیوں طرح کی بڑھا رہے ہو ہاں بتاؤ مجھے بڑے آئے میرے چھوٹے بالوں پر تنقید کرنے والے۔۔!!
سخت نظروں سے اُسکے براؤن لمبے بالوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی جو اُسنے اِن دو مہینے میں مینشن کی وجہ سے بڑھا دیئے تھے اور اب اُسنے پونی میں قید کیے ہوئے تھے اور یہ دیکھ کر اُسے پہلی بار ارحام انصاری پر سخت غصہ آیا جو اُسنے اُسکے سامنے اظہار بھی کر دیا تھا۔
“جب تک وائف تُم اپنے بالوں کو نہیں بڑھاؤ گی تب تک میں اسی طرح اپنے بال لڑکیوں کی طرح بڑھاؤ گا اور تُم کیوں عتراض کر رہی ہو تُم تو مجھ سے سخت نفرت کرتی ہوں۔۔!
صوفے پر اپنے دونوں ہاتھ اُسکے دائیں اوربائیں جانب رکھتا وہ اُسکے اوپر جھکتے ہوئے معنی خیزی سے بولا جبکہ وہ اُسے اپنے اوپر جھکے دیکھ کر گھبراتے ہوئے پیچھے کھسکنے لگی۔۔
“اور اگر میں تمہاری بات نہ مانو تو۔۔؟؟
اپنی شہادت کی انگلی اسکے سینے پر رکھتی وہ اُسے زور سے پیچھے کرتی صوفے سے اٹھی اور چیلنجنگ انداز میں بولی۔
“تو میں تُمہیں اغوا کر کے اٹھا کر لے جاؤ گا۔۔!!
اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کرتا وہ زومعنی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو ریحام اُسکی حرکت پر اپنی نظریں اُسکے چہرے پر ڈال کر اُسے گھورنے لگی۔
“کب بیوی کی طرح محبت سے دیکھوں گی تُم ریحام ارحام انصاری مجھے ہائے وہ دن میرے لئے قسم سے خوشی کا دن ہوگا جب تُم مجھے بیوی کی طرح پیار سے دیکھوں گی اور مزے مزے کے پکوان بنا کر اپنے اِن خوبصورت مومی نازک ہاتھوں سے مجھے کھلاؤ گی۔۔!!
وہ اُسکے سفید نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں لے کر لبوں سے لگاتے ہوئے بوجھل لہجے میں کہنے لگا جبکہ ریحام اپنے ہاتھ پر اسکی لمس کو محسوس کرتی زور سے کانپی اور اُسے دور کرتی پیچھے ہٹی تو ارحام نے تیزی سے اُسے آگے بڑھ کر پیچھے سے پکڑا اور اُسکے پیٹ پر اپنے ہاتھ رکھ کر اُسکی گردن کے پیچھے اپنا لمس چھوڑنے لگا۔
“کیوں دیکھوں میں تُمہیں بیوی کی طرح ہاں جب کے میں تُمہیں اپنا شوہر نہیں سمجھتی ہو۔۔!!
غصے سے پیچھے مڑتی وہ بولی۔۔
آہہہہ۔۔!!
ارحام اُسے ہی دیکھ رہا تھا وہ یکدم سے اپنے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے چہرے پر تکلیف لا کر وہ نیچے بیٹھتا چلا گیا اور ریحام نے اُسے تکلیف سے کراہتے ہوئے دیکھا تو غصہ بھول کر تیزی سے نیچے اسکے بلکل سامنے بیٹھ کر اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگی۔۔
“ارحام تُم ٹھیک تو ہونا یہ کیا ہو رہا ہے تُمہیں۔۔۔؟؟
اُسے دیکھتی پریشانی سے اُسکے بازو کو تھام کر بولی جبکہ ارحام انصاری جو اپنا بازو پکڑے ناٹک کر رہا تھا اُسنے ایک ہی جھٹکے میں اُسے فرش پر گرایا اور اُسکے دونوں ہاتھوں کو سر کے اوپر لے جاتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے سختی سے جکڑتا اُسے دیکھنے لگا جو تعجب سے اُسے دیکھ رہی تھی۔
“جانم میں بلکل ٹھیک ہو مجھے کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے یہ سب ایک ڈراما تھا میں تُمہیں اپنے لئے تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا اور میں اس میں کامیاب بھی ہوگیا ہوں۔۔!!
ارحام باری باری اسکی آنکھوں کو چھوتے ہوئے کہہ کر اپنے لب اسکی ناک پر رکھتا اُسکا چہرہ شرم سے سرخ کر گیا تھا تبھی وہ ناک سے ہوتا ہوا اُسکے لبوں پر جھکا اور شدت سے اپنے لبوں سے لگا کر اسکی سانسوں کو منتشر کرنے لگا۔۔
ریحام اپنی آنکھیں سختی سے میچے اُسکی لمس کو اپنے لبوں پر شدت سے محسوس کرتی کانپنے لگی اور اپنے دونوں ہاتھ اُسکے ہاتھوں سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ اُسکی کلائیوں پر اپنا گرفت اور مضبوط کرتا اُسکی گردن پر جھکا اور شدت سے اپنے لبوں سے چھونے لگا۔
“تُم ایک بے شرم انسان ہو پیچھے ہٹو اور یہاں سے چلے جاؤ۔۔!!
اپنی آنکھیں کھول کر وہ تیز لہجے میں کہنے لگی تو ارحام انصاری نے اپنے لب دوبارہ اُسکے لبوں پر رکھ دیئے تھے اور اُسکی پھٹی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے دیکھنے لگا جو اُسکی حرکت پر مشتعل ہو رہی تھی۔۔
“وائفی ایسی بھی کیا جلدی ہے ابھی تو رات کا مزا آیا ہے اُسے خراب کرنے پر کیوں ٹل گئی ہو میں اب روز آؤ گا جب تک تُم میرے روم میں نہیں آ جاتی تب تک میں یہاں آنا بند نہیں کروں گا۔۔!!
زومعنی نظروں سے اُسکے نازک سراپے کو دیکھتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اُسکی کلائی سے ہٹا کر وہ اُسکی پیشانی سے لکیر کھینچتا ہوا نیچے ناک سے ٹھوڑی اور لبوں سے نیچے لے جاتا گردن سے نیچے آکر رکھا اور اُسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا جو اُسکی انگلی کو اپنے گردن کے نیچے محسوس کرتی شرم سے گلال چہرہ لیے وہ اپنی دھڑکنوں کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کرنے لگی لیکن اچانک سے اُسکی اگلی حرکت پر اُسکا تنفس تیز ہونے لگا اور وہ گہری گہری سانسیں لینے لگی۔۔
ارحام انصاری جو اُسکی سفید گردن کے نیچے اپنی انگلی رکھے ہوئے تھا وہ یکدم سے نیچے جھکا اور اُسی جگہ پر اپنے لب رکھتے ہوئے اپنا لمس چھوڑنے لگا جہاں تھوڑی دیر پہلے اُسنے اپنی انگلی رکھی ہوئی تھیں۔
ریحام اُسکی لمس پر زور سے اُسکے حصار میں تڑپنے لگی اور خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی لیکن ارحام نے اُسکی ساری کوششوں کو ناکام بنا کر اپنے لب اُسکے لبوں پر رکھے اور شدت سے اُسکی سانسوں میں اپنی سانسوں کو الجھانے لگا اور ہاتھ نیچے لے جا کر اُسکی کلائی کو شدت سے جکڑتا اُسکی مزاحمت کو روکنے کی کوشش کرنے لگا
ریحام جو اُسکی سخت گرفت پر بری طرح سے مچل رہی تھی وہ اُسکی لمس کو اپنی کلائی پر محسوس کرتی مزاحمت چھوڑ کر اب اپنی ٹانگوں کو اُسکے ٹانگوں کے بیچ میں پھنسا کر اُسے خود پر سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ ارحام انصاری اُسکی ٹانگوں کو اپنے ٹانگوں کے بیچ میں محسوس کرتا مسکرانے لگا اور اُسکے دونوں ٹانگوں کو اپنے ٹانگوں کے درمیان میں پھنسا کر اُسکے وار کو ناکام بنانے لگا۔۔
اِسی طرح ساری رات ریحام کے لڑتے ہوئے اور ارحام انصاری کے اپنی شدتوں کو اُس پر لٹاتے ہوئے آہستہ آہستہ لڑتے اور شدتیں نچھاور کرتے ہوئے گزرنے لگی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اذان یہ سب میرے لئے کیا ہے۔۔!!
اذان شاہ رعابہ کو لے کر اپنے فارم ہاؤس میں آیا تھا جو شہر سے بہت دور اور سب سے پرسکون جگہ پر تھا جب وہ رعابہ کو لیے اندر داخل ہوا تو پورے فارم ہاؤس میں لائٹس آف تھی لیکن جب وہ دونوں چھت پر پہنچے تو رعابہ وہاں کی سجاوٹ دیکھ کر خوشی سے اذان شاہ سے پوچھنے لگی۔
پورے چھت کو خوبصورتی سے لائٹس سے سجا گیا تھا وہ دونوں جہاں کھڑے تھے وہاں پنک کلر کی لائٹس سے ایک خوبصورت دل کی شکل میں راہ بنایا گیا تھا اور سامنے ایک ٹیبل بھی رکھا ہوا تھا جس کے اوپر بہت سارے کینڈل اور بہت سے گلاب کی پتیوں کے اوپر ایک سرخ کلر کا کیک رکھا ہوا تھا جو دل کی صورت کا بنا ہوا تھا۔
“جی جانِ اذان یہ سب کچھ میں نے صرف آپ کیلئے سجایا ہے کیونکہ ہماری شادی کو آج پورا ایک ماہ ہوگیا ہے تو میں نے اِسی خوشی میں یہ سب کیا ہے اور جانم آج ہم دونوں کی اشپیشل ڈے ہے سو ہم پہلے ڈنر کریں گے پھر یہ کیک کاٹے گے اور پھر ساری رات میں آپکو۔۔۔!!
مخمور نظروں سے اُسکے خوبصورت نازک سراپے کو دیکھتا وہ اپنی بات ادھورا چھوڑ گیا لیکن رعابہ نے اُسکی بات کا مفہوم اچھے سے جانا اور اسی لیے وہ شرم سے سرخ چہرہ لیے سامنے ٹیبل کی جانب بڑھی جہاں اذان نے ڈنر کا انتظام کیا تھا۔۔
“تو بیوی اِس کا مطلب ہے تُم بھی یہی چاہتی ہوں کہ میں ساری رات تُمہیں چاہوں اور اپنی باہوں کی قید تُمہیں میں مقید کروں۔۔!!
پیچھے سے آکر اُسے اپنے حصار میں لے کر وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا رعابہ کرسی کھینچ کر بیٹھنے ہی والی تھیں کہ اُسکی حرکت پر وہ بری طرح سے اُسکے حصار میں تڑپنے لگی جبکہ اذان شاہ نے اُسے اپنی باہوں میں بھرا اور اُسی کرسی پر بیٹھ کر اُسے اپنی تائی پر بٹھایا اور سامنے رکھے باؤل میں سے چاول نکال کر پلیٹ میں ڈال کر اُسے کھلانے لگا رعابہ جو اُسکی تائی پر بیٹھی ہوئی تھی اُسکے اِسطرح کھلانے پر بری طرح سے سٹپٹا کے رہ گئی لیکن اُسکے ہاتھوں کو لبوں کی جانب دیکھ کر وہ سرخ چہرہ لیے مجبوراً کھانے لگی لیکن کچھ دیر بعد اُسکی انگلیوں کو وہ اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتی بری طرح سے لرزتی ہوئی کہنے لگی۔
“آپ رہنے دیں میں خود کھا لوں گی۔۔!!
گھبراہٹ کے مارے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا اور وہ جو مزے سے اُسے کھلا رہا تھا تو اُسکی بات پر مسکرا کر بری طرح سے اُسکے کانپتے وجود کو اور پھر اُسکے بری طرح سے لرزتے ہوئے ہونٹوں کی جانب دیکھنے لگا جہاں پر اُسے اُسکے ہونٹوں کے کناروں پر ایک چاول کا ٹکڑا نظر آیا تو وہ یکدم سے آگے بڑھا اور اپنے ہونٹ اُسکے بری طرح سے لرزتے ہوئے ہونٹوں پر رکھ کر چاول کا ٹکڑا ہٹا کر شدت سے اُسکے نازک ہونٹوں کو چھونے لگا۔۔
رعابہ اُسکی شدت پر اپنے دونوں ہاتھوں کو اُسکے سینے پر رکھتی اُسے خود سے دور کرنے لگی لیکن وہ اُسکی مزاحمت پر شدت کم کرنے کے بجائے اور بڑھانے لگا۔۔
“پلیز اذان دد۔۔دور رہے یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔؟
رعابہ نے اُسکے سینے پر دباؤ بڑھا کر اُسے پیچھے کی جانب دھکا دیا تو اُسکے دھکا دینےکی وجہ سے وہ دونوں کرسی سمیت نیچے گرے۔۔
“جانِ من م سے محبت اسے شوہر کی محبت کہتے ہیں اور تُم مجھے بلکل بھی نہیں روک سکتی ہوں آج کی رات صرف ہماری ہے لیکن اس سے پہلے تم مجھے اپنے ان نازک ہاتھوں سے کھانا کھلاؤ گی جیسے میں نے تُمہیں ابھی کھلایا تھا اسی طرح چلوں شروع ہو جاؤ۔۔!!
وہ اپنے اوپر گری رعابہ کو کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر بوجھل لہجے میں کہنے لگا تو رعابہ اُسکی فرمائش پر شرم سے سرخ پڑنے لگی۔۔
“اذان۔۔؟؟
وہ غصے سے اُسے دیکھتی بولی۔۔
جی اذان کی جان۔۔!!
سر کم کرتا وہ شرارتی لہجے میں بولا تو رعابہ نے غصے سے سامنے ٹیبل پر رکھے باؤل میں سے مٹھی بھر کر بریانی لیا اور اسکے منہ میں بری طرح سے ڈالا جبکہ اپنی جنگلی بلی کی حرکت پر اذان ساکت رہ گیا مگر تھوڑی دیر بعد شرارتی انداز میں مسکرانے لگا کیونکہ اسکے دماغ میں یکدم سے ایک آئیڈیا آیا تھا۔
“بیوی اب انہیں صاف بھی تُم کرو گی وہ بھی اپنے ان گلزار خوبصورت نرم لبوں سے۔۔!!
رعابہ کے مقابل کھڑے ہو کر بے باکی سے اُسنے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے نرم لبوں کو چھوا جبکہ رعابہ اُسکی بات پر ساکت رہ گئی اور اپنی پھٹی آنکھوں سے اُسکے ہونٹوں کے کناروں پر لگے چاولوں کے ٹکروں کو دیکھنے لگی جو اُسکے منہ پر بری طرح سے لگانے پر جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔۔
“یہ تت۔تُم کیا کہہ رہے ہو ممم۔میں بھلا کیسے۔۔؟؟
وہ کانپتی ہوئی بولی۔۔
“بیوی جس طرح مرضی صاف کر لوں لیکن تُمہیں انہیں صاف صرف اپنے نرم لبوں سے کرنا پڑے گا اور ہاں میں تو بلکل بھی تُمہاری مدد نہیں کرو گا۔۔!!
کرسی پر بیٹھ کر کہتے ہوئے اُسنے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر ایسے باندھے جیسے رعابہ مدد کے لیے اسکے ساتھ زبردستی کریں گی۔۔
رعابہ اب اپنی حرکت پر سخت پچھتا رہی تھی اگر وہ اسکے چہرے پر بریانی نہ لگاتی تو وہ صاف کرنے کا ضد نہ کرتا اور وہ بھی اسطرح جسکو سوچ کر رعابہ نے جھرجھری لیا پھر آہستگی سے آگے بڑھی اور اذان شاہ جو کرسی پر بیٹھا تھا وہ اُسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر اٹھا اور اُسے دیکھنے لگا جو آہستگی سے اُسکی طرف قدم اٹھا رہی تھی کہ تبھی اچانک سے اسے ایک شرارت سوجھا تو اُسنے اپنے قدم آگے بڑھا کر رعابہ کو کمر سے پکڑا اور اسے اپنے بے حد نزدیک کرتا اُسے مخمور نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنے لبوں کی جانب انگلی رکھ کر اُسے اشارہ کرنے لگا۔
رعابہ سرخ چہرہ لیے اپنے دونوں ہاتھ اُسکے چوڑے سینے پر رکھے اُسی کو دیکھ رہی تھی کہ اُسے اپنے لبوں پر انگلی رکھ کر اُسے کس کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے دیکھ کر زور سے وہ اپنی آنکھوں کو میچ کر اپنے کپکپاتے لبوں کو اُسکے لبوں پر رکھتی اُسکے لبوں کے کناروں سے چاولوں کو ایک ایک کر کے اپنے لبوں سے چننے لگی اور اذان اپنے لبوں پر اُسکی نرم لبوں کو محسوس کرتا مدہوشی سے اِن نرم لبوں کی نرماہٹ کو شدت سے چھونے لگا۔۔
رعابہ جو اپنی آنکھیں سختی سے میچے اُسکے لبوں کو چھو رہی تھیں کہ یکدم سے اپنے نازک لبوں پر اُسکی شدت بھری لمس محسوس کرتیں وہ بھی اچانک سے اپنی شدت اُسکے لبوں پر بڑھانے لگی۔۔
اذان شاہ اُسے لیے سامنے خوبصورتی سے سجائے گئے بیڈ روم کی جانب بڑھا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے کے بعد اُسنے پیچھے مڑ کر دروازہ بند کر دیا جبکہ رعابہ شرم سے سرخ چہرہ لیے اپنی دھڑکنوں کو سنبھالنے لگی مگر اُسے اپنی جانب بڑھتا ہوا دیکھ کر وہ گلال چہرہ لئے ڈھرکتے دل کے ساتھ پیچھے ہٹنے لگی جبکہ وہ اُسکے بے حد نزدیک پہنچ کر اُسے دونوں کندھوں سے پکڑتا اُسے مخمور نظروں سے دیکھتا ہاتھ آگے بڑھا کر وہ اُسکی سیاہ ساڑھی کے پلوں کو آہستگی سے اُسکے شولڈر سے ہٹانے لگا۔
رعابہ اُسکی انگلیوں کو محسوس کرتی بری طرح سے کانپنے لگی اور وہ ساڑھی کا پلو ہٹانے کے بعد نیچے پھینکتے ہوئے اُسے پیچھے بیڈ پر دھکا دے کر اُسکے ساڑھی سے آزاد بری طرح سے مچلتے نازک وجود کو مخمور نظروں سے دیکھتے ہوئے شرٹ کے بٹنو کو کھول کر شرٹ اتارنے کے بعد نیچے پھینکتے ہوئے آگے بڑھا اور آہستگی سے اُسکے اوپر جھکا اور اُسکے دونوں ہاتھوں کو سر کے اوپر لے جاتے ہوئے اُسکے لبوں کو اپنے لبوں سے شدت سے چھونے لگا۔۔
رعابہ اُسکی لمس پر بری طرح سے مچلتی ہوئی اُسکی قید میں مقید اپنے ہاتھوں کو سختی سے چھڑوانے لگی لیکن وہ اُسکی کوشش کو خاطر میں لائے بغیر شدت سے اُسکے لبوں کو چھو رہا تھا کہ اچانک سے اُسنے اپنے لبوں سے اُسکی ٹھوڑی کو چھوا تو اُسکی لمس پر رعابہ بری طرح سے کانپنے لگی اور ابکے اُسکی ٹھوڑی سے نیچے گردن پر پرتپش لمس کو محسوس کرتی وہ اپنے لبوں کو بھیچنے لگی۔
اذان شاہ جو اُسکی گردن کو نرمی سےچھو رہا تھا اپنے ہاتھ نیچے لے جا کر اُسکی بیک کو اوپر اٹھا کر اپنے ہاتھ پیچھے لے جاتے ہوئے وہ بلاؤز کی زپ کو آہستگی سے کھولنے لگا جبکہ رعابہ نے جب اپنی پشت پر اسکی انگلیوں کو حرکت کرتے ہوئے محسوس کیا تو وہ اپنا سر نہ میں ہلانے لگی۔
“نہیں اذان۔۔!!
وہ بری طرح سے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہنے لگی تو اذان شاہ نے اسکی بات کو نظر انداز کیا اور ہاتھ آگے بڑھا کر سائیڈ لمیپ بند کرتے ہوئے اُسنے بلاؤز کو اسکے نازک سراپے سے ہٹایا اور بیڈ کے نیچے پھینک کر اُسکی نازک گردن کو شدت سے چھوتے ہوئے آرام سے نیچے بڑھا اور اپنا لمس چھوڑنے لگا اور ساتھ ہی وہ اُسکے ہاتھوں کو نیچے کرتا اپنے ہاتھ اسکے نرم شولڈر سے نیچے لے جا کر آہستگی سے سہلانے لگا۔۔
رعابہ کی ساری رات اذان شاہ کی شدتوں کو سہتے اور اُسکے پیار کی بارش میں بھیگتے ہوئے گزری تھی کبھی اذان شاہ کی شدتوں پر وہ تڑپتی تو کبھی اُسکی شدتوں کو برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتی اور اذان شاہ کی ساری رات اپنی شدتوں کو اس پر لٹاتے ہوئے گزرا تھا۔۔