117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ابھی تک پتہ نہیں چلایا تُم لوگوں نے اُس کار ڈرائیور کے بارے میں اور اذان شاہ کے متعلق کے وہ میری بیوی کو لے کر کہا گیا ہے۔۔!!
وہ دوسری طرف موجود اپنے خاص آدمی کو سختی سے بولا جس کو اسنے ڈرائیور اور اذان شاہ کے بارے میں پتہ لگانے کے لئے کہا تھا۔۔
“سر وہ ڈرائیور ہماری سوچ سے بھی زیادہ چالاک نکلا اسنے اپنا چہرہ ماسک سے چھپایا ہوا تھا تاکہ ہم اسکے بارے میں پتہ نہ چلا سکے۔۔!!
آدمی نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔
“وہ دنیا کے آخری کونے میں بھی کیوں نہ چھپا بیٹھا ہو اُسے گردن سے پکڑکر اگر میں نے باہر نا کھلا نا تو میرا نام بدل کر رکھ دینا۔۔!!
سختی سے دیوار پر مکا مارتے ہوئے کہنے لگا تو آدمی اسکی سخت آواز پر ڈرتے ہوئے اب سوچ رہا تھا کہ کیسے اسے اذان شاہ کے متعلق بتائے۔۔
“اذان شاہ اسکا پتہ چلا کچھ یا وہ بھی مجھے ہی پتہ کرنا پڑے گا۔۔!!
وہ اسکی خاموشی پر طیش میں آکر بولا۔۔
“سر وہ انکا بھی پتہ نہیں چل رہا۔۔!!
آدمی ڈرتے ہوئے آخر کار بولا تو اسنے بات سن کر غصے سے پاگل ہو کر فون دیوار پر دے مارا اور پھر ریلنگ کی جانب بڑھا اور گھر کے سامنے بنے پارک کو دیکھنے لگا جو رات کی وجہ سے بند تھا تبھی اسے سامنے ایک کار کی کھڑکی کے اوپر جھکی عروج کھڑی ملی جو ہنس کر کار ڈرائیور سے باتیں کر رہی تھی۔۔
“یہ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہے۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اُسے اب گھر کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر خود سے ہمکلامی کرنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥
“آنٹی یہ ارحام کہا ہے نظر نہیں آ رہا کیا آج پھر سے گھر نہیں آیا اپنے روز کے معمول کی طرح۔۔!!
عروج لاؤنج کے صوفے پر بیٹھی سامنے ارحام انصاری کی ماں سے بولی جو اسے اس وقت یہاں دیکھ کر حیران تھی حیران تو گھر کے سبھی لوگ تھے کیونکہ وہ پہلے کبھی اس طرح بنا بتائے نہیں آتی تھی۔۔
“عروج خیریت میری یاد کیوں اس وقت باره بجے تمہیں آیا ہے کہ تُم پاگلو کی طرح کسی اجنبی کی کار میں تنہا اسکے ساتھ اپنے گھر سے نکل کھڑی ہوئی ہو اور کیا تایا اور تائی سے پوچھ کر آئی ہو تُم یا ایسے ہی منہ اٹھا کر چل کر صرف مجھ سے ملنے کے لئے یہاں آئی ہو۔۔!!
وہ سیڑھیوں سے اتر کر سنجیدگی سے کہنے لگا تو عروج اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر پہلوں بدلنے لگی اور اسکی یہ حرکت ارحام سے پوشیده نہ رہی وہ چل کر اسکے بلکل سامنے آ کھڑا ہوا تو وہ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی۔۔
“حامی وہ ممم۔۔میں۔۔!!
عروج میں میں کرنے لگی تو اُسنے ضبط سے سرخ ہوتی اپنی آنکھیں اٹھا کر اسے غصے سے دیکھنے لگا اور پھر یکدم سے اپنا ہاتھ اٹھا کر اسے زور سے تھپڑ مارا تو وہ اسکے زور سے تھپڑ مارنے پر دور جا گری جبکہ ارحام کو شدید غصے میں دیکھ کر سب گھر والے حیرت زده رہ گئے تھے۔۔۔
“وہ کار ڈرائیور کون تھا بتاؤ مجھے لڑکی۔۔۔؟؟
عروج اسکے اجنبی انداز پر ساکت رہ گئی جبکہ اُسکی بات پر مرتضی انصاری آگے بڑھے اور اسے کندھوں سے پکڑ کر عروج سے دور کرنے لگے تو وہ انہیں دیکھنے لگا۔۔
“بابا پوچھے اپنی بھتیجی سے کہ وہ شخص کون تھا جس نے میری بیوی کو اپنی کار سے ٹکر مارا اور آپکو پتہ ہے اس کی وجہ سے میرا اور ریحام کا بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے۔‌۔!!
وہ سامنے صوفے پر گرتے ہوئے چیخ کر کہنے لگا تو عروج اسکی بات پر صدمے سے پیچھے ہٹنے لگی اور ارحام کو اس حالت میں دیکھ کر اسکی ماں آگے بڑھی اور اسے سینے سے لگا کر غصے سے عروج کو دیکھنے لگی جو ساکت نظریں لیے ارحام انصاری کو اپنی وجہ سے اتنا ٹوٹا ہوا دیکھ کر نیچے گر کر بری طرح سے رونے لگی۔۔
“اب کیا فائدہ رونے کا ہاں میرا بچہ تو تمہاری ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے واپس نہیں آ سکتا اور تمہیں پتہ ہے مس عروج تُمہیں مجھ سے عشق نہیں بلکہ تمہیں میری قربت کی طلب تھی جسے تُم نے عشق کا نام لے کر ہمشیہ مجھے تکلیف دیا اور یہ بات کہتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے کہ تُم اپنے دوست جس نے تُمہیں ہمشیہ اپنی چھوٹی بہن کی طرح چاہا ہے اور تُم اسکے متعلق یہ سوچتی ہو بہت دکھ ہوتا ہے ۔۔۔!!
وہ طیش میں اٹھا اور اسکے مقابل کھڑے ہو کر غصے سے چیخا عروج اسکی آواز پر سہمی اور پیچھے ہٹی۔۔
“بابا آپ ابھی کے ابھی اس لڑکی کو میری نظروں کے سامنے سے ہٹائے ورنہ میں کچھ غلط کر بیٹھو گا اسکے ساتھ اور تُم یہ سوچ رہی ہوگی نا کہ مجھے کیسے پتہ چلا تو سن لوں یہ جو تُم ابھی جس کے ساتھ آئی ہو نا اسکی کار کی وجہ سے اس دن اسی کار نے تو میری ریحام کو ٹکر مارا تھا۔۔
مجھے گاڑی کا نمبر اچھے سے یاد تھا اور آج تمہیں اس کار سے نکلتے ہوئے دیکھ کر مجھے پتہ چل گیا کیونکہ تم ہی تو میری سب سے بڑی دشمن ہو جو مجھے حاصل کرنے کے لیے اتنی حد تک جا سکتی ہوں۔۔!!
اپنے باپ کو کہنے کے بعد وہ غصے سے اسکی جانب مڑا اور نفرت سے کہنے لگا تو عروج اسکی بات پر ڈر کے مارے پیچھے ہٹنے لگی۔۔
“اب کھڑی کیا دیکھ رہی ہو نکلو میرے گھر سے کیا اب اور تماشا لگانا چاہتی ہو تُم میری زندگی کا اور تمہاری وجہ سے ریحام آج مجھ سے دور ہے اور یاد رکھنا میں تم خاندان کے چاہیے کسی بھی فنکشن میں مجھے نظر آئی نا تو میں اسے وقت تمہیں شوٹ کر دونگا۔۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہتا اپنے روم کی جانب بڑھا جبکہ عروج شرمندگی کے مارے اپنے تایا کے سامنے اپنا سر جھکائے کھڑی تھی۔۔
انہوں نے اسے سخت نظروں سے گھورا اور جاسم کو اپنے بھائی کو فون کرنے کا کہہ کر اسے اپنی بیٹی کی حرکتوں کے بارے میں حکم دے کر وہ اپنی بیوی کو اشاره کرتے ہوئے اپنے روم کی جانب بڑھے۔۔
“بابا یہ لڑکی یہاں سے ایسے نہیں جا سکتی کیونکہ یہ قاتل ہے میرے اور ریحام کے بچے کا سو اسے تھوڑی دیر بعد پولیس آ کر لے جائے گی اپنے ساتھ اور اسے سزا قانون کی جانب سے ملے گا کیونکہ مجھے عورتوں پر ہاتھ اٹھانا بلکل بھی پسند نہیں ہے ورنہ یہ پولیس کے ساتھ باہر نہیں بلکہ اسکی لاش انصاری ہاؤس سے نکلتی ہاں اگر میری بیوی یہاں ہوتی تو وہ ضرور اسے سزا دیتی لیکن یہ لکی ہے کہ وہ یہاں نہیں ہے۔۔!!
مرتضی انصاری جو اپنے روم کے دروازے کی جانب پہنچے ہی تھے کہ اپنے پیچھے ارحام انصاری کی غصیلی آواز سن کر وہ پلٹے اور سیڑھیوں کی جانب دیکھنے لگے جو سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے عروج کو نفرت سے دیکھ رہا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ریحام بچے اس طرح خاموش رہ کر تُم سچائی سے نہیں بھاگ سکتی ہو۔۔!!
اذان شاہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا انہیں یہاں آئے ہوئے تین دن ہوئے تھےلیکن ریحام سارا دن خاموش اپنے روم میں ارحام کی تصویر کے سامنے بیٹھی گھنٹوں لگاتی تھی اور اذان شاہ سے اسکی یہ حالت دیکھی نا جاتی تو وہ روز اسکے پاس آ کر کچھ دیر اسے سمجھا کر وہ مایوسی سے اسکے روم سے باہر نکلتا تھا مگر آج اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جو بھی ہو جائے وہ اپنی بہن کو اس شخص کی یادوں سے باہر لے کر آئے گا۔۔
“اذان بھائی میں ایسا کیا کروں کہ ارحام کو سکون ملے بتائے ایسا کیا کروں۔۔!!
ارحام انصاری کی تصویر کو دیکھتی وہ نم آواز میں بولی۔۔
“بچہ تُم اپنی اس صلاحیت کو دوسروں کے ساتھ کیوں شئیر نہیں کرتی ہو جو تمہیں آتا ہے جیسے تم فائٹنگ کرنا جانتی ہوں تو یہاں ایک اکیڈمی ہے جہاں بچیوں کو انکی Safety کے لیے فائٹنگ سیکھایا جاتا ہے۔۔!!
اذان شاہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“اذان بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اس طرح بیٹھ کر مجھے کچھ اچھا نہیں لگے گا بلکہ مجھے دوسروں کے لیے کچھ ایسا کرنا چاہیے جس سے میرے ارحام کو سکون ملے۔۔!!
وہ اپنے آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی بولی۔۔
“یہ ہوئی نا اچھے بچوں والی بات پیاری بہنا۔۔!!
اذان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“بھائی آپ مجھے وہاں لے کر چلے میں وہاں کل سے ہی جوائن کرنا چاہتی ہو میں مصروف رہو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔۔!!
وہ ابکے سنجیدگی سے بولی۔۔
“ٹھیک ہے کل صبح تیار رہنا میں آفس جاتے وقت تمہیں اکیڈمی چھوڑ دونگا اور ہاں اب چلو باہر رعابہ سام شام بھوک کے مارے کئی بے ہوش نہ ہو جائے۔۔!!
اذان نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی بیڈ سے اٹھی اور اسکے پیچھے روم سے باہر نکلی اذان شاہ ابھی تو ریحام سے اتنا جھوٹ بول کر تو پرسکون ہوگیا تھا لیکن اب آنے والا وقت اسکے لئے بہت برا ثابت ہونے والا ہے یہ اسے بلکل بھی اندازه نہیں تھا کیونکہ اسنے شیر اور شیرنی کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کی جو غلطی کی ہے اب اسے خدا کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا کیونکہ جو اسے بچا سکتا تھا وہ تو آجکل ترکی میں تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اے بی جب سے اسے یہاں ترکی لے کر آیا تھا تب سے وہ اسے مسلسل اگنور کر رہا تھا جسکی وجہ سے وہ کافی پریشان ہو گئیں تھی وہ یہاں ایک شاندار اپارٹمنٹ میں اسٹے کر رہے تھے۔۔
اے بی اپنی شوٹنگ کی وجہ سے بھاٹیا کے ساتھ باہر گیا تھا اور حور اُسکے اگنور کرنے کی وجہ سے اسکے ساتھ باہر نہیں گئی تھی تاکہ وہ اسکی خفگی دور کرنے کے لیے کچھ سوچے
دوسری طرف اے بی کیمرہ مین کی بار بار فوز بدلنے کی وجہ سے سخت بیزار ہو رہا تھا اسنے بھاٹیا کو اپنے پاس بلایا تو وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا۔۔
“بھاٹیا جی یہ آخری فوٹو شوٹنگ ہے نا اس کے بعد میں بلکل بھی فارغ نہیں ہو کیونکہ مجھے حور کے ساتھ وقت گزرانا ہے۔۔!!
سخت اکتائے ہوئے انداز میں وہ بولا۔۔
“نہیں سر بس یہی ہے۔۔!!
بھٹایا نے کہا۔۔
“اچھا ایک کام کروں وہ جو کار میں باکس رکھا ہے اسے حور کو دے دینا اور اسے تیار ہونے کا بھی کہنا تب تک میں یہاں سے فارغ ہو جاؤ گا۔۔!!
اے بی نے اپنے لمبے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اسنے بال اس فوٹو شوٹ کی وجہ سے پھر سے بڑھائے تھے۔۔
“اوکے سر۔۔!!
بھاٹیا نے کہا اور قدم باہر کی جانب بڑھائے۔۔
حور اے بی کو کیسے منائے یہی سوچ رہی تھی کہ ڈور بیل کی آواز پر وہ اٹھی اور روم سے باہر نکلی۔۔
“بھابھی یہ سر نے دیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ آپ تیار ہو کر انکا انتظار کریں وہ شوٹنگ ختم ہونے کے بعد آئے گے مجھے تو لگتا ہےوہ آپ کو پورا استنبول گھمانا چاہتے ہیں۔۔!!
بھاٹیا صاحب کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی کیونکہ وہ اے بی کے ساتھ ہی گیا تھا تبھی اسکے ہاتھ میں ایک باکس دیکھ کر وہ آگے بڑھی اور اسکے ہاتھ سے باکس پکڑتی اسکی بات پر شرمیلی مسکان چہرے پر سجا کر وہ اپارٹمنٹ کے اندر بڑھی تو بھاٹیا اسکے اندر کچھ بھی بولے بغیر بڑھنے پر اپنے کندھے اچکا کر مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اے بی شوٹ سے فارغ ہو کر اپارٹمنٹ کی جانب بڑھا اور جب وہ اپارٹمنٹ کے سامنے پہنچا تو اپنی کار سے باہر نکلا تبھی اُسکی نظریں سامنے کی جانب اٹھی تو پلٹنے سے انکاری ہوگئی کیونکہ حور اسکن اور بلیک کلر کی ساڑھی میں ملبوس اپنی سبھی انگلیوں کو آپس میں الجھائے وہ اسکے سامنے کنفیوز کھڑی تھی۔۔
“تُم تیار ہو۔۔!!
اپنی آنکھوں پر کنٹرول کرتا وہ اسے سنجیدگی سے کہنے لگا تو حور نے شرم سے اپنا سر ہاں میں ہلایا۔۔
“چلو۔۔!!
وہ سنجیدگی سے پیچھے اپنی کار کی جانب مڑا اور اُسے سختی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو اسکی سنجیدگی اور لہجے کی سختی کو محسوس کرتی اپنا مرجھایا ہوا چہرہ لیے پرمدہ قدموں سے آہستگی سے آگے بڑھی۔۔
“ایک منٹ۔۔!!
حور تھوڑی دیر بعد کار رکنے پر اپنی نظریں اوپر اٹھا کر باہر نیلگوں سمندر کے کنارے بنے چھوٹے ریزورٹ کو تعجب سے دیکھتی کار کے دروازے کو کھول کر باہر نکلنے ہی والی تھی کہ اسکی سنیجدہ آواز پر ٹھہر گئی۔۔
اے بی کار سے باہر نکلا اور اسکی سائیڈ کا دروازہ کھول کر نیچے بیٹھ کر اپنا گھٹنا اسکے سامنے کرتا وہ اسکی پاؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔
اپنا پاؤں یہاں رکھو۔۔!!
اے بی سنجیدگی سے بولا تو حور اسکے پتھریلے تاثرات دیکھ کر سہم کر اپنا پاؤں اسکے گھٹنے پر رکھتی کانپتی ہوئی اسے دیکھنے لگی جو سنجیدگی سے پائل اسکے پیروں میں پہنا رہا تھا۔۔
“کنگ آپ مجھ سے ناراض ہے۔۔؟؟
وہ اپنے دونوں نازک مومی پیروں پر اسکی گرم انگلیوں کی لمس کو محسوس کرتی سٹپٹا کر بولی۔۔
“کیا نہیں ہونا چاہیے۔۔؟؟
سنجیدگی سے الٹا سوال پوچھا گیا۔۔۔
“کنگ پتہ نہیں کیوں مم۔۔مجھے آپ کے ساتھ وہ لڑکی باتیں کرتی بلکل بھی اچھی نہیں لگی تو میں اُس ہمایوں کے پاس آپ کو جلانے کی وجہ سے گئی تھیں ورنہ میں تو بلکل بھی نہیں جانا چاہتی تھی۔۔!!
وہ جلدی سے بولی۔۔
اے بی کے مونچھوں تلے دبے عنابی ہونٹ اُسکی جلن والی بات پر مسکرا اٹھے تھے۔۔
وہ اسکا نازک سفید پاؤں احتیاط سے نیچے خوبصورت دبیز قالین پر رکھتا اوپر اٹھا اور اُسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا اُسکے چہرے کو بغور دیکھنے لگا جو اسکے پاکستان سے لے کر ترکی آنے تک اسکی اگنور کرنے کی وجہ سے مرجھا کر رہ گیا تھا۔۔
“یہ جلن تو مجھے بھی بے پناہ یہاں ہوا تھا جب تُمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھا تھا مائے لو اور تُمہیں پتہ ہے کبھی کبھی مجھے سسسر محترم کے اوپر بھی بہت زیادہ جلن محسوس ہوتا ہے کہ تُم اتنے سالوں سے انکے پاس تھی اور تمہاری یہ خوبصورت آنکھیں صرف انہی دیکھ کر خوش ہو جایا کرتی تھی یہ سوچ کر تو مجھے ان پر کبھی کبھی رشک ہوتا تھا۔!!
اُسکے چہرے کو چھو کر گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتا وہ اپنے دل پر انگلی رکھتے ہوئے اچانک سے اسکی صراحی دار گردن سے اسکے ریشمی بالوں کو سائید پر کرتا وہ جھکا اور نرمی سے اپنا لمس اسکی گردن پرچھوڑنے لگا تو حور اُسکی پرتپش سانسوں کو محسوس کرتی زور سے آنکھیں میچنے لگی۔۔۔
“کنگ پلیز یہ ہمارا روم نہیں ہے جو آپ۔۔!!
وہ سٹپٹاتی ہوئی بولی۔۔
ششش۔۔۔!!
اُسنے خمار بھری آواز میں اُسکے کپکپاتے نازک ہونٹوں کے اوپر شہادت کی انگلی رکھ کر اُسے خاموش کرایا اور پھر اُسکے کومل وجود کو اپنے مضبوط بازؤوں میں بھرتا قدم سامنے بنے چھوٹے سے ریزورٹ کی جانب بڑھا۔۔۔
“کنگ آپ تو خفا تھے پھر اتنی جلدی کیسے مان گئے۔۔!!
وہ اسکی گردن پر ہاتھ ڈالتی تعجب سے بولی اے بی اسے لیے اندر روم میں داخل ہوا اور اُسنے سامنے دیکھا تو معنی خیزی سے مسکرا کے حور کا چہرہ پکڑ کر اسی جانب کرتا اسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا۔
حور سامنے ساکت نظروں سے بیڈ کی جانب دیکھ رہی تھی جسکی سفید بیڈ شیٹ کے اوپر پھولوں کی مدد سے دل کی صورت بنایا گیا تھا۔۔
“جانم تمہارے چہرے کی رونق مجھے خفا ہونے نہیں دیتا ہے اور یہ دیکھوں ہوٹل والوں نے لگتا ہے میری دل کی آواز سن لی ہے جو انہوں نے اس رات کو اور بھی زیادہ حسین بنانے کے لئے اتنا احتمام کیا ہے۔۔!!
اُسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسے بغور دیکھتا وہ اسے بیڈ پر لیٹا کر اپنے دونوں ہاتھ بیڈ پر اُسکے دائیں بائیں رکھتا اُسکے چہرے کے اوپر جھکا اور اپنے عنابی ہونٹوں سے اسکے خوبصورت نازک ہونٹوں کو چھونے لگا حور اپنے ہونٹوں پر اسکی بڑی ہوئی شیو محسوس کرتی آنکھیں زور سے میچنے لگی جبکہ وہ اپنی شدتوں سے اسے شرمانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔
“پلیز کنگ مم۔مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔!!
حور اُسکے چوڑے سینے پر اپنا نازک ہاتھ رکھتی سٹپٹا کر نڈھال ہوتی سانسوں کو درست کرتی بولی تو اے بی نے اسکی قربت کی وجہ سے خمار کی وجہ سے ہوتی اپنی سرخ آنکھیں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھا جو شرم سے سرخ ہوتی اپنی آنکھیں زور سے بند کیے ہوئی تھی۔۔
“بیوی مجھے پتہ ہے تم بھاگنا چاہتی ہو کیونکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہم نے ایک ساتھ ڈنر کیا تھا اور اب میں بلکل بھی تمہارے بہانے نہیں سنو گا اگر تُم نے ایک اور نیا بہانہ سوچا نا تو میں تُمہارا حال بہت برا کرو گا۔۔۔!!
اپنے دونوں ہاتھ اسکی نازک انگلیوں میں پھنسا کر گھمبیر لہجے میں کہتا اسکی نازک گردن پر جھکا اور شدت سے اپنا لمس چھوڑنے لگا حور اسکی بات سن کر گھبراہٹ کے باعث اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی کہ اسکی لمس کو اپنی گردن پر محسوس کرتی وہ شدت سے بیڈ شیٹ کو پکڑ کر دبوچنے لگی۔۔
اے بی اچانک سے اٹھا اور روم میں نظریں ڈورہا کر کچھ ڈھونڈنے لگا تبھی اسے حور کی آنکھوں پر باندھنے کے لیے کپڑا مل گیا تو آگے بڑھا اور اُسے اٹھا کر بغور حور کی جانب دیکھا جو بیڈ پر لیٹی زور سے کانپ رہی تھی تو وہ کپڑا لیے اسکی جانب بڑھا اور اُسے اٹھا کر آنکھوں میں وہ کپڑا باندھ کر اسے اپنی مضبوط بازؤوں میں بھرتا بیڈ سے نیچے اترا اور اسے لیے روم سے باہر نکلا۔
“یہ آپ مجھے کہا لے کر جا رہے ہیں۔۔؟؟
آنکھوں پر کپڑا باندھنے کی وجہ سے اسے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا تو وہ بے بسی سے اندازے سے اسکی گردن پر ہاتھ رکھتی بولی۔۔
“جانم سرپرائز۔۔!!
اے بی کی گھمبیر آواز سننے کے بعد وہ اسکا لمس اپنے کان کے بے حد قریب محسوس کرتی شرم سے سرخ ہو کر اپنی گرفت اسکی گردن پر مضبوط کرنے لگی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ارحام کیا اس طرح بیٹھ کر تمہارا سوگ کرنا سہی ہے۔۔۔!!
جاسم کب سے اسکے روم میں بیٹھا اُسے سمجھا رہا تھا جو سامنے بیڈ کے نیچے اپنا سر پیچھے بیڈ کے اوپر رکھے آنکھیں بند کیے ریحام کو سوچ رہا تھا۔۔
“بھائی تو کیا کروں میں بولے آپ وہ اس کا بھائی اسے نجانے کہا لے کر گیا ہے اور میں یہاں تکلیف سے مر رہا ہو اسے ڈھونڈنے کے لیے کہا کہا نہیں گیا لیکن وہ پتہ نہیں کہا ہے۔۔!!
وہ شدید غصے سے آخر کار پھٹ پڑا کیونکہ صبح سے وہ روم میں بند تھا اور نا کچھ کھایا تھا اسنے اور نا ہی کچھ پیا تھا اب جاسم‌ کے پوچھنے پر وہ اپنا غصہ کنٹرول نا کر سکا۔۔
اذان شاہ کے اوپر اسے بہت غصہ تھا جس نے اسکی ریحام کو پتہ نہیں کیا کہہ کر اس سے دور کیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کراچی سے باہر جانے پر راضی ہوگئی تھی۔۔
“تو میرے بھائی ایک بہتر اوپشن ہے میرے پاس تُمہیں اسے ڈھونڈنے میں بھی آسانی ہوگا اور ملک کے سبھی شہروں میں امن بھی قائم ہوگا۔۔!!
جاسم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“اب ایسا کونسا اوپشن ہے جسکی وجہ سے ملک میں میری وجہ سے امن قائم ہوگا اور کیسے آسانی ہوگی مجھے اسے ڈھونڈنے میں اب خاموش کیوں ہوگئے ہیں بتائے ناں۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ارحام ایس پی کی جاب اور اس سے زبردست آئیڈیا اور نہیں ملے گا کیونکہ اس طرح تمہاری پوسٹنگ بار بار بدلی گی اور تم ریحام کو بھی ڈھونڈ سکتے ہو اور تمہیں خوار ہونے کی ضرورت بھی نہیں کرنی پڑے گی کیونکہ میں نے تمہاری جاب کے لیے اپلائی کر دیا تھا اور تُم اسلام آباد میں ایس پی تعنات بھی ہوگئے ہو ‌۔۔۔!!
جاسم نے کہا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور تیزی سے الماری کی جانب بڑھا۔۔
“یہ تم وہاں ابھی نہیں جا سکتے ہو۔۔!!
اسے ایک چھوٹا سا سفری بیگ تیار کرتے ہوئے دیکھ کر جاسم‌ نے جلدی سے کہا۔۔
“بھائی جانا تو مجھے ابھی ہوگا کیونکہ وہاں مجھے بہت کچھ سیٹ کرنا پڑے گا اور آج مجھے آپ کی یہ سرپرائز دینے والی عادت پر بہت زیادہ پیار آ رہا ہے۔۔!!
بیگ بیڈ پر پھینکتا وہ جاسم کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“لیکن ارحام میرے بھائی ابھی کیا تمہارا وہاں جانا سہی ہے۔!!
جاسم کی بات پر وہ آگے بڑھا اور اُسے بغور دیکھنے لگا۔
“ہاں جاسم بھائی میں بہت سہی کر رہا ہو اگر میں اور یہاں رہا نہ تو پاگل ہو جاؤ گا ویسے بھی میں اسلام آباد میں اپنی جاب کے سلسلے میں جتنی جلدی جوائنگ کروں گا وہ اسلام آباد کے لئے اچھا ہوگا۔۔۔!!
وہ سگریٹ سلگا کر سنجیدگی سے بولا۔۔
“ارحام مجھے پتہ ہے کہ تمہارا ایس پی اسلام آباد میں تعنات ہونے کا سن کر تم نہ اصل میں یہاں سے بھاگنا چاہتے ہو لیکن یار اتنی جلدی بھی کیا ہے۔۔!!
جاسم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“بھائی جتنی جلدی میں اسلام آباد جا کر تھانا جوائن کروں گا اس شہر کے لیے اتنا زیادہ اچھا ہوگا ورنہ آجکل حالات ایسے ہے کہ ہر جگہ چور اور ڈاکووں کا راج پھیلا ہوا ہے اگر کسی نے اس راج کو ختم نہیں کیا نا تو انکی بدمعاشی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔۔!!
وہ سنجیدگی سے الماری کی جانب بڑھا اور اندر سے اپنا ریوالور نکال کر اپنے پینٹ کے پیچھے اڑستے ہوئے کہنے لگا۔۔
“میرے چھوٹے بھائی تمہاری جوائنگ سے وہاں کے حالات سدھرنے کے بجائے مزید بگڑ جائے گے اس لیے میری مانو تم وہاں مت جاؤ یہی کراچی میں رہو۔۔!!
جاسم‌ نے کہا۔۔
“ناممکن بھائی۔۔!!
وہ سنجیدگی سے بولا اور بیگ کندھوں پر لٹکا کر آگے بڑھا اور اسے گلے سے لگا کر انکا ماتھا چھومتے ہوئے روم سے باہر نکلا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥