117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

💕
“ریحام آپ اِس وقت کہا جا رہی ہے۔وہ بھی کھانا کھائے بغیر۔؟؟
تینوں یونی سے آ کر سیدھا اپنے اپنے روم کی جانب بڑھی۔لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ری اپنے روم سے نکلی اور باہر پورچ کی جانب بڑھی۔کہ تبھی پیچھے سے اذان شاہ کی آواز پر وہ پلٹ کر اُسے دیکھنے لگی۔جو صوفے پر بیٹھا اُسی کو دیکھ رہا تھا۔
“برو ٹیشن کی وجہ سے مجھے بھوک نہیں لگ رہی تو بس ٹیشن کو کم کرنے کیلئے مجھے بائیک رسینگ کا خیال آیا تو مائنڈ سیٹ کرنے کے لیے میں باہر جا رہی ہو۔”
وہ ارحام انصاری کی باتوں اور حرکت کی وجہ سے سخت ٹیشن محسوس کر رہی تھی۔تو بائیک رسینگ کا سوچ کر وہ بائیک کی چابی لے کر باہر نکلی تاکہ مائنڈ فریش کر سکے۔
اذان شاہ کو جواب دے کر وہ قدم باہر کی جانب تیزی سے بڑھانے لگی۔اور اذان شاہ وہیں کھڑا اُسے حیرت سے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔کیونکہ اُسے کبھی ٹینشن میں اُسنے آج تک جو نہیں دیکھا تھا۔
“اسٹرینج آج میری بہن کسی کو ٹیشن میں کرنے کے بجائے خود ٹیشن میں مبتلا ہے۔واہ اور یہ ٹینشن ہمارے لئے مبارک ثابت ہو۔”
وہ مسکرا کر سامنے دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے خود سے بولا۔تبھی اُسکے سیل پر کسی کی کال آنے لگی تو اسنے جیب سے موبائل نکال کر کان سے لگاتے ہوئے کہا تو دوسری جانب اپنے باپ کی آواز پر وہ صوفے پر بیٹھا۔
“بیٹا کل تیار رہنا ہم سب آ رہے ہیں پاکستان تُمہاری اور رعابہ کے نکاح کی رسم ادا کرنے کے لئے اور تُم انکار بلکل بھی نہیں کر سکتے کیونکہ یہ فیصلہ تمہارے بڑے پاپا نے کیا ہے۔”
سعد کی بات پر وہ جھٹکے سے صوفے سے اٹھا اور زور سے بولا۔تو دوسری جانب سعدی نے سیل کان سے دور کیا اور معاذی کو بے چارگی سے دیکھا۔جو سامنے بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“واٹ ڈیڈ آپ بڑے پاپا سے میری اور حوری کی شادی کے لیے بات نہیں کر سکتے تھے۔جب اُس وقت اُنہوں نے رعابہ اور میرے نکاح کرنے کا آپ سب کو اپنا فیصلہ سنایا۔”
غصے سے اپنے سلکی براؤن بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پورے لاؤنج کا چکر کاٹ رہا تھا وہ سرد لہجے میں بولا تو دوسری جانب سعدی نے بے بسی سے رملہ اور حنیہ بھابھی کو دیکھا جو سامنے بیٹھی پریشانی سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔
کیونکہ تینوں اچھے سے جانتے تھے کہ ‌اذان شاہ حوریہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔اور یہ کبھی نہیں ہوسکتا تھا۔کیونکہ جو بات وہ اُس سے چھپا رہے تھے۔۔وہ بات شاه بخت کے کہنے پر اُسے نہیں بتا سکتے تھے۔اگر اُنہوں نے اُسے وہ سچ بتا دیا تو وہ ٹوٹ جائے گا۔
“دیکھو اذان شاہ تُم حور کو بھول جاؤ کیونکہ تُمہاری شادی صرف رعابہ سے ہوگی کسی اور سے کبھی بھی نہیں اور تُم بھی ہمشیہ صرف رعابہ کے بارے میں سوچوں گے۔ کسی اور کے بارے میں نہیں وہی تمہارے نصیب میں لکھی ہے۔”
سعدی نے مضبوط لہجے میں کہا۔تو اُنکی بات پر وہ غصے سے موبائل سامنے دیوار پر مارتے ہوئے اوپر سیڑھیوں کی جانب بڑھا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“ساجدہ تُم ٹیبل سیٹ کروں تب تک میں ریڈی ہو کر سب کو لے کر آتی ہوں۔اور لگتا ہے ری برو آج کھانا نہیں کھائے گی۔!!
وہ بھی اپنے کھڑوس بھائی کی طرح عیجب مزاج کی ہے۔!! جب دل چاہا اٹھ کر کسی کو بھی سبق سیکھانے پہنچ جاتی ہے۔اور لگتا ہے آج کل میرا باگڑ بلا میرے پیچھے کچھ بڑا کر رہا ہے۔خیر تم ٹیبل سیٹ کرواؤ میں اُس کو بھی لے کر آتی ہو۔”
سامنے کھڑی ساجدہ کو ٹیبل سیٹ ‌کرنے کا کہ کر وہ بیڈ سے اٹھی اور واش روم کی جانب بڑھی تو ساجدہ اُسکے حکم پر جلدی سے روم سے باہر نکلی
تھوڑی دیر بعد خاموشی سے کوئی روم میں داخل ہوا اور بیڈ کی جانب بڑھا۔جہاں رعابہ کے کپڑے رکھے ہوئے تھے۔جو اُسنے اپنی کم عقلی پر باہر چھوڑ دیے تھے۔
“دلبر میرے کب تک مجھے۔”
رعابہ سفید رنگ کے باتھ گاؤن میں ملبوس گنگناتی واشروم سے باہر نکلی تو اپنے بیڈ پر اذان شاہ کو دیکھکر اُسے زوردار جھٹکا لگا تو وہ تیزی سے واش روم میں گھس کر اذان شاہ سے پوچھنے لگی۔
“باگڑ بلے کسی کے روم میں داخل ہونے سے پہلے نوک کیا جاتا ہے۔اور خاص کر لڑکیوں کے بیڈروم میں آنے سے پہلے اور تُم تو ایسے ہی منہ اٹھا کر میرے روم میں آگئے۔”
وہ دروازے سے سر باہر نکال کر اُسے گھورتی تیز لہجے میں بولی۔تو اذان شاہ اُسکی بات پر بیڈ سے اٹھا اور واشروم کی جانب بڑھنے لگا۔
رعابہ اسے واش روم کی طرف آتے ہوئے دیکھکر گھبڑاہٹ کے مارے واشروم کا دروازه بند کرنے کے بجائے وہ اپنے دونوں ہاتھ دروازے کے ہینڈل سے ہٹا کر پیچھے ہٹنے لگی۔
“واہ یہ معصومیت شاید اُسے ہی دیکھ کر بڑے پاپا تُمہیں اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں۔اور ڈیڈ وہ تو چاہتے ہی یہی تھے۔کہ تُم اُنکے بیٹے کی بیوی بنوں۔اب تُم ہی سب کے سامنے ہمارے نکاح سے انکار کروں گی۔”
اذان شاہ واشروم کے دروازے کو زور سے بند کرتا اندر داخل ہوا اور اُسے دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں بولا۔
رعابہ اُسے واش روم کے اندر دیکھ کر شرم اور گھبڑاہٹ کے باعث پیچھے ہٹنے لگی۔اور وہ اُسے پیچھے ہٹتے دیکھکر قدم اُسکی جانب بڑھانے لگا۔
رعابہ جو اُسے اپنی جانب بڑھتا ہوا دیکھ رہی تھی وہ خوف کے باعث شاور کے نیچے کھڑی ہوئی تو اچانک ہی شاور سے پانی ان دونوں کے اوپر گرنے لگا۔
“بولو انکار کروں گی۔؟؟
وہ دونوں ہاتھ دیوار پر رکھ کر اُسے دیکھتے ہوئے بولا رعابہ کو جب کوئی راه فرار نظر نہیں آیا تو اُسنے غصے سے اُسے دیکھا۔جسکی سفید شرٹ شاور سے گرتے پانی کی وجہ سے مکمل بھیگ چکا تھا۔اور مضبوط جسم سے چھپکا ہوا تھا۔
“اگر میں نے انکار کے بجائے ہاں کہ دیا تو۔؟
رعابہ نظریں دوسری جانب کرتی بہادری سے بولی۔اذان شاہ نے اُسکی بات پر سخت غصے میں آکر اُسے سختی سےکلائی سے پکڑا اور اُسے اپنی جانب کھینچا تو وہ اُسکے زور سے کھینچنے پر اُسکے چوڑے سینے سے آکر لگی تھی۔
“تو میں تُمہیں نکاح ہوتے ہی جان سے مار دو گا۔”
وہ اُسے سختی سے گردن سے دبوچ کر سرد لہجے میں بولا۔رعابہ اپنی گردن پر سختی سے رکھے اُسکے ہاتھوں پر اپنے نازک ہاتھ رکھتی اُسکے ہاتھوں کو ہٹانے لگی۔
“چھ۔چھوڑوں۔!!
تکلیف کے باعث اُس سے کچھ بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔لیکن وہ بمشکل یہ چند الفاظ منہ سے نکال سکی تھی۔
“پہلے تُم مجھے جواب دو ہاں یا نہیں۔؟
وہ اپنا گرفت اور مضبوط کرتا آنکھیں اُسکی سرخ آنکھوں میں ڈالتا غرا کر بولا۔تو وہ اُسکی بات پر اپنا سر جلدی سے ہاں میں ہلانے لگی۔
“ویری گڈ میرے کیوٹ سی پیاری سی دوست اب تُم اِسی طرح جاؤ گی۔اور سب کو انکار کروں گی۔کیونکہ آج رات سب لندن سے آ رہے ہیں۔”
رعابہ کے سرخ گالوں کو سہلاتے ہوئے کہہ کر وہ سامنے سے ٹاول اٹھاکر اُسکے بالوں کو نرمی سے خشک کرنے لگا۔۔۔
آج رعابہ عالم پہلی بار اُسے اسطرح اپنے نزدیک دیکھکر وہ اپنی ڈھرکنوں کو بے ترتیب ہوتے محسوس کرنے لگی تھی۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“مس کیوٹی۔؟؟
حور جو بیڈ پر بیٹھی سمیر،شمعون لوگوں سے وڈیو کال پر باتیں کر رہی تھیں۔اپنے روم کے بلند قامت کھڑکیوں پر نوک ہونے کے بعد اُسے وہاں سے کسی کی ہلکی آواز سنائی دی تو وہ تیزی سے کال بند کرکے کھڑکی کی جانب بڑھی اور پردے ہٹا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔اور یہ کیا حرکت ہے۔؟
حور اُسے سختی سے دیکھتی بولی۔جو جالیوں پر ہاتھ رکھے اوپر آ رہا تھا۔اور اُسکے سوال پر مسکرا بھی رہا تھا۔اور اِسی چکر میں اُسکا ہاتھ پھسلا اور وہ سیدھا نیچے بنے سوئمنگ پول میں جا گرا۔
“بہرام شاہ آپ باہر کیوں نہیں نکل رہے۔؟
وہ جو آگے بڑھ کر اُسے سہارا دینے والی تھی۔اُسکو سوئمنگ پول میں گرتے ہوئے دیکھ کر زور سے قہقہہ لگانے لگی لیکن اُسے سوئمنگ پول میں کوئی ہلچل محسوس نہ ہوا تو وہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اُسے آواز دینے لگی۔
“مائے گاڈ لگتا ہے اُنہیں سوئمنگ کرنا نہیں آتا اِسی لئے تو وہ باہر نہیں نکل رہے اب کیا کروں رات کے تین بج رہے ہیں۔اور می بی اِس وقت سب سو رہے ہونگے۔”
وہ پریشانی سے سوئمنگ پول کی جانب دیکھتی ہونٹوں کو چباتی خود سے بولنے لگی۔پھر بہرام کے بارے میں سوچتی وہ ہمت مجتمع کرکے تیزی سے وہاں ہٹی اور روم سے نکل کر سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔
جبکہ دوسری طرف اے بی سوئمنگ پول کی گہرائی میں جا رہا تھا۔اُسے کھڑکی سے ہٹتے ہوئے دیکھکر وہ اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا کر آنکھیں موند گیا تھا۔
حور سوئمنگ پول کے پاس پہنچ کر کچھ وقت وہیں کھڑی پول کو اور اِس جما دینے والی سردی کو سوچ کر بری طرح سے کانپنے لگی پھر بہرام کا سوچ کر تیزی سے آگے بڑھی اور پول میں کھود گئیں
سوئمنگ کرتی پول کی گہرائی میں جاتے اے بی کی جانب تیزی سے بڑھنے لگی۔وہ بمشکل اُس تک پہنچ کر اُسے بازوؤں سے پکڑ کر باہر نکالنے لگی۔
“اوہ مائے گاڈ اب اُسے ہوش میں کیسے لاؤ۔؟
وہ اُسکے مضبوط وجود کو سوئمنگ پول سے نکال کر اپنے بھیگے بالوں پر ہاتھ پھیرتی خود سے بولنے لگی۔
اے بی جو بےہوشی کے ایکٹنگ کر رہا تھا۔وہ اپنا ایک آنکھ کھول کر اُسے دیکھنے لگا۔جو پریشانی سے اردگرد کسی کو ڈھونڈ رہی تھی۔
“اب صرف ایک طریقہ بچا ہے۔اِنہیں ہوش میں لانے کا لیکن میں کیسے۔حور کول ڈاؤن یہ صرف ایک انسانیت کی خاطر تُمہیں کرنا پڑے گا۔جسٹ انسانیت کی خاطر۔”
سر پر ہاتھ رکھ کر اُسے دیکھنے لگی جو بے ہوش تھا۔پھر کچھ سوچ کر وہ نیچے جھک کر اُسکے ہونٹوں پہ اپنے نرم ہونٹ رکھ کر اُسے مصنوعی سانس دینے لگی۔
“مس کیوٹی یہ آپ کیا کر رہی ہے۔؟؟؟
وہ اُسے اپنے اوپر جھکے دیکھ کر کھانسنے کی ایکٹنگ کرتا اٹھا اور اُس سے دور ہوتا ہوا منہ بسور کر بولنے لگا۔
“ایک تو میں نے بڑی مشکل سے اُسے پول سے باہر نکال کر اُسکی جان بچائی اور اوپر سے یہ مجھ پر الزام لگا رہا ہے۔ایک تو اُسے بچانے کے چکر میں اپنا چشمہ روم میں بھول آئی اب میں کیسے جاؤ اندر۔”
وہ اندھیرے میں اُسے گھورتی اٹھی اور ہاتھ ٹٹول ٹٹول کر اپنا راستہ ڈھونڈنے لگی۔تاکہ وہ گھر کے اندر جا سکے۔
ایک تو اندھیرے کی وجہ سے اور اس پر گلاسسز نہ پہننے کی صورت میں اُسے صاف نظر نہیں آ رہا تھا۔اور وہ غصے سے اندر جانے کے بجائے سوئمنگ پول کی طرف بڑھنے لگی۔
“مس کیوٹی کیا بیمار ہونے کا اراده ہے آپکو جو آپ پھر سے سوئمنگ کرنے جا رہی ہے۔”
وہ اُسے سوئمنگ پول کی جانب دوبارہ بڑھتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے گھیلے کپڑوں کی پرواہ کیے بغیر اُسکی جانب بڑھا اور اُسے کمر سے پکڑ کر ہنستے ہوئے بولا۔
حور اندھیرے میں ہاتھ ادھر ادھر کرتی گھر کے اندر جانے کا سوچ کر احتیاط سے قدم آگے بڑھا رہی تھی۔اُسکی آواز اور لمس پر وہیں رکی۔
“میں اندر جانا چاہتی ہو لیکن مجھے چشمے کے بغیر کچھ بھی صاف نظر نہیں آ رہا اب میں اِن گھیلے کپڑوں کے ساتھ تو یہاں ساری رات نہیں بیٹھ سکتی۔”
پیچھے پلٹ کر بے چارگی سے کہہ کر اپنے نازک ہاتھ آگے بڑھاتی اُسے چھونے لگی۔جو اُسکی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔اور اُسکے یکدم سے چھونے پر خود کو کچھ کرنے سے کنٹرول کر رہا تھا۔
“بس اتنی سی بات کیلئے مس کیوٹی آپ رو رہی ہیں۔؟؟
نیچے جھکا اور کمر سے پکڑ کر اُسے اپنے بازؤوں میں بھرتے ہوئے مسکرا کر بولا۔اُسکی آواز سننے کے بعد حور کو یکدم سے اُسکی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس ہونے لگی۔تو وہ دونوں ہاتھ اُسکی گردن پر رکھ کر ٹھنڈ کی وجہ سے وہ اُسکے سینے میں سمانے لگی۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“جس نے بھی یہ بے ہودہ مزاق میرے بھائی تمہارے ساتھ کیا ہے۔میں اُسے زندہ نہیں چھوڑو گا اور مجھے پتہ ہے تّم نے سوسائڈ نہیں کیا بلکہ اُسنے تُمہارا قتل کیا ہے۔”
زریاب خان نے غصے سے سامنے اسکرین پر عارف خان کی وڈیو کو دیکھتے ہوئے کہا اور طیش میں آکر اُسنے کرسی اٹھا کر اسکرین پر دے مارا۔
“باس وہ انسان بہت چالاک ہے۔اُسنے اپنے خلاف کوئی ثبوت بھی نہیں چھوڑا کیونکہ اُسنے عارف خان کا کیس ایسا کیا ہے۔سب کو ایسا لگ رہا ہے کہ یہ قتل کیس نہیں بلکہ یہ ایک سوسائڈ کیس ہے۔”
اُسکے خاص بندے نے ڈرتے ہوئے اُسے بتایا تو وہ سخت غصے میں آکر اپنی جگہ سے اٹھا اور ٹیبل پر رکھے اپنے ریوالور کو اٹھا کر اُسکے پاؤں پر گولی چلاتے ہوئے کہنے لگا۔
“تُم لوگ صرف مفت کی روٹیاں توڑتے ہو۔اِسی لئے اُسنے تُم لوگوں کو اتنی آسانی سے بے وقوف بنا لیا۔اور اب ثبوت کے یو میں جاکر میں خود ڈھونڈوں گا۔”
وہ ریوالور دیوار پر مار کر سخت لہجے میں بولا تو وہ آدمی جو گولی لگنے کی وجہ سے نیچے گرا تڑپ رہا تھا۔اُسکی بات پر پیچھے دیوار سے ٹیک لگا کر اُسے دیکھنے لگا جو اپنے کچھ ضروری کاغذات ٹیبل سے اٹھا رہا تھا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“مس کیوٹی آپ کا روم تو بہت خوبصورت ہے۔”
اے بی اُسے اپنے بازؤوں میں اٹھائے روم میں داخل ہوا اور تعریفی نظروں سے روم کو دیکھتے ہوئے بولا۔
روم بہت ہی خوبصورت تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی شہزادی کی خوابگاه میں کھڑا ہو۔پردے سے لے کر پنیچر تک وہاں کی ہر چیز پنک کلر میں تھی۔
“یہ سب پرنس بھائی کا کمال ہے کیونکہ سب انہوں نے اپنی نگرانی میں سیٹ کروایا تھا۔”
وہ اپنے دونوں ہاتھ اُسکی گردن پر ڈالتے ہوئے بولی۔تو اے بی اُسے بیڈ پر آرام سے بٹھا کر وہ خود آگے ٹیبل کی جانب بڑھا جہاں اُسے اسکا چشمہ رکھا ہوا نظر آیا تھا۔
“یہ لیں مس کیوٹی آپ کا بیوٹی فل چشما۔”
وہ چشمہ اُسکی آنکھوں میں لگا کر پیچھے ہٹا اور مسکراتے ہوئے بولا۔تو حور نے اپنا چشمہ درست کیا اور اُسے دیکھا۔جو سامنے کھڑا اُسے غور سے دیکھ رہا تھا۔اُسکی نظریں اُسکے چہرے سے ہو کر جب گردن پر لٹکے لاکٹ پر آکر ٹھہری تو وہ ساکت ہو کر رہ گئیں۔
“یہ ‌لاکٹ تو۔؟؟
وہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتی بیڈ سے اٹھی اور تیزی سے آگے بڑھ کر اُسکے گلے پر لٹکے لاکٹ کو تھام کر حیرانگی سے اُس سے پوچھنے لگی۔
“ہاں پتہ ہے مجھے مس کوئین یہ لاکٹ بہت خوبصورت ہے۔لیکن پلیز آپ اُسے مانگنے کے لیے مجھے فورس بلکل بھی نا کریں میں اُسے آپکو کیا کسی اور کو بھی نہیں دے سکتا۔کیونکہ یہ میرے لئے بہت زیادہ اشپیشل ہے۔۔اِس لاکٹ کو دیکھ کر مجھے اُسکی یاد آتی ہے۔” لاکٹ پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا
جبکہ حور اُسکے مس کوئین کہنے پر اُسے حیرت سے دیکھنے لگی۔مس کوئین اُسے تین سال پہلے صرف اُسکا دوست کہا کرتا تھا۔کیونکہ وہ کسی اور کو اجازت ہی نہیں دیتا تھا۔کہ اُسکے علاوه کوئی اُسے کوئین بلائے۔
“سچ سچ بتاؤ تُمہیں لاکٹ کہا سے ملی ہے۔؟؟
اُسے کالر سے پکڑ کر سخت غصے میں بولی۔تو اے بی اُسے غصے میں دیکھ کر خوبصورتی سے مسکرانے لگا۔اور اپنے ہاتھ اُسکے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں بولنے لگا۔
“مس کوئین یہ لاکٹ میرا ہے۔تو ظاہر سی بات ہے۔یہ صرف میرے گلے میں مل سکتا ہے کسی دوکاندار کی دکان میں تو نہیں۔”
اپنی کالر سے اُسکے ہاتھوں کو ہٹا کر اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔حور جو اُسکے کالر پر ہاتھ ہٹانے کے بعد لاکٹ کو چھو کر دیکھ رہی تھی۔اُسے آنکھیں ترچھی کرکے دیکھنے لگی۔
“تُم جھوٹ بول رہے ہو۔تُم نے میرے کنگ کے ساتھ کچھ برا کیا ہے۔اِسی لئے یہ لاکٹ تُمہارے پاس ہے۔جو میں نے تین سال پہلے اُسے اُسکی برتھ ڈے پر دیا تھا۔”
وہ روتی اُسکے چوڑے سینے پر مکے برسانے لگی۔تو اے بی اچانک سے جھکا اور اپنے سینے پر مکے برساتے اُسکے نازک ہاتھوں پر اپنے لب رکھ دیے اور پھر اُسنے اُسے اپنے سینے سے لگایا تاکہ وہ جلد ہی پرسکون ہو جائے۔