Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
“چھوڑو مجھے کمینے انسان۔!!!
چھت پر پہنچ کر ریحام اپنی کلائی اُسکی سخت گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اُسکی گرفت تھی کہ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی تھی۔
“تّم باتیں ہی ایسی کرتی ہو مسسز کے مجھے زبردستی کرنا پڑتا ہے تّمہارے ساتھ اور اب تو یہ ہاتھ مجھے ہتھکڑیوں سے باندھنا پڑے گا تب تُمہیں عقل آئے گی کہ میں تُمہارا شوہر ہوں اور ایک بات ہمشیہ یاد رکھنا میری جنگلی بیوی مجھے کبھی بھی ہلکا نہ لینا ورنہ میں حساب برابر کرنا اچھے سے جانتا ہوں۔!!
سامنے دیوار پر زور سے اُسکی پشت کو لگاتا وہ اپنے دونوں ہاتھ اُسکے گالوں پر رکھتا اُسکے چہرے کے اوپر جھکا اور اپنی آنکھیں اُسکی آنکھوں میں ڈال کر بولا۔
ریحام جو اُسکی بات غصے سے سن رہی تھی اپنے ہاتھ زور سے اُسکے سینے پر مارتی اُسے خود سے دور کرتی تیز نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“بہت خوب تو یہاں رومیوں جولیئن اپنی فیملی کی نظروں میں دھول جھونک کر عشق و عاشقی کی باتیں کر رہے ہیں ویل ڈن اور تُم رومیوں اتنے تیز نکلے کہ لڑکی سے نکاح بھی کر لیا اور اپنے یار دوستوں کو بھی انوائیٹ نہیں کیا۔”
اے بی اوپر پہنچ کر اُن دونوں کو دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہنے لگا وہ دونوں ایک دوسرے کے بے حد نزدیک کھڑے تھے تیزی سے الگ ہوئے تو ارحام انصاری نے اے بی کو دیکھا تو سخت بدمزہ ہو گیا وہ کے یو میں اُسے پہنچان چکا تھا کیونکہ اُسکی حرکتیں ہی ایسی تھی اور پھر وہ اُسے اچھے سے جانتا تھا کہ وہ ایک نمبر کا کمینا انسان بے اور یہ بھی پتہ تھا کہ وہ حور کی نظروں میں اچھا بننے کے لئے یونی میں اپنا حیلہ بدل کر آیا تھا۔۔
“اور تُم بھی کم نہیں ہو مسٹر اے بی دی سپر اسٹار۔!!
ارحام نے ریحام کو پیچھے کرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا تو اے بی اُسکی بات پر معنی خیزی سے مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور اپنا فون اُن دونوں کے آگے لہراتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“انصاری میرے یار تُم میری سنو وائٹ کے سامنے میرا پردہ رکھنا اور میں تُم دونوں کے نکاح والی بات کا تم دونوں کی فیملی سے رکھوں گا۔۔”
فون پر چلتے اُن دونوں کے باتوں کی آواز جو اُسنے ریکارڈ کیا تھا سنا کر کمینگی سے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ دونوں ریکارڈ سن کر غصے سے تلملانے لگے۔۔۔
“تُم دونوں اب نہیں بچو گے میرے ہاتھوں ایک کم تھا جو دوسرا بھی میری زندگی میں اتنا بڑا طوفان لانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔۔!!
ریحام سخت مشتعل ہو کر اُن دونوں کو سختی سے گھورتی بولی۔۔۔
“مس میزائیل جلدی سے موبائل پکڑوں اور وائس ریمو کر کے نیچے پھینکوں تب تک میں اِسکو سبق سیکھاتا ہو بہت شوق ہے اُسے ہر بار میرے کام میں ٹانگ اڑانے کی آج اچھے سے بتاتا ہوں۔۔!!
ارحام انصاری سے اُسکی پریشان صورت دیکھی نہ گئی تو وہ اچانک سے اے بی کو پیچھے دھکا دیتے ہوئے تیزی سے ریحام سے بولا۔۔
ریحام اُسکی بات پر جلدی سے آگے بڑھی اور نیچے گرے اے بی کے مہنگے فون کو نیچے سے اٹھا کر وہ وائس ڈیلیٹ کر کے فون زور سے نیچے پھینکتے ہوئے اُن دونوں کو آپس میں گتم گھتا ہوتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔۔
“ہاہاہاہا ہاہاہاہا۔!!!
“انصاری وائس کہا کہا سے تُم ختم کروں گے۔۔؟؟
زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے اپنے اوپر جھکے ارحام سے بولا جبکہ ارحام اُسکی بات پر اچنبھا سے اُسے دیکھنے لگا جو پرُسرار نظروں سے اُسے اور ریحام کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“انصاری میرے یار جگر تُم اپنے بھائی جاسم کے دوست کو ابھی بھی نہیں جانتے حیرت کی بات ہے ہم کتنے سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں لیکن تُم مجھے پھر بھی پہچان نہ سکے کہ میں جو کام کرتا ہوں وہ بہت ہوشیاری سے کرتا ہوں۔۔۔!!
اپنے لبوں کے کناروں سے خون صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔
“کمینے انسان تُم نے اگر نہیں بتایا کہ وہ وائس اور کہا کہا بھیجا ہے تو میں کیوٹی کو تُم بدظن کر دونگی سمجھے۔۔!!
ریحام اُسے سختی سے دھمکی دے کر بولی تو اُسکی دھمکی پر اے بی قہقہہ لگا کر زور سے ہنسا اور زرداری سے کہنے لگا۔۔۔
“ایک منٹ میں تُم دونوں نے اذان میرے جگری دوست کے روم میں جاکر اُسکے فون سے یہ تُم لوگوں کی عشقِ داستان والی جو وائس ہے نا اگر اُسے ڈیلیٹ نہیں کیا نا تو تُم دونوں سسسرِ محترم کے ہاتھوں مر جاؤ گے۔۔۔”
اپنی انگلیوں پر گنتی گنتے ہوئے کمینگی سے اُنہیں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ دونوں تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھے اور جلدی سے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگے۔۔۔
اُنہیں تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ مسکرایا اور آگے بڑھا اور نیچے جھک کر اپنا موبائل اٹھا کر تیزی سے اُن دونوں کی وائس کو ڈیلیٹ کرنے لگا جو اُسنے اذان شاہ کے نمبر پر بھیجنے سے پہلے اپنے فون کا وائی فائی بند کر دیا تھا جسکی وجہ سے وہ وائس ڈاؤن لوڈ نہیں ہوسکا تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“حور بیٹا آپ میرے روم میں آئے مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔!!
شاہ بخت اُسے رعابہ کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے دیکھ کر اُسکی جانب بڑھا اور اُسے اپنے روم میں آنا کا کہہ کر خود اپنے روم کی جانب بڑھا۔۔
“جی بابا۔۔؟؟
حور روم میں داخل ہوئی اور اُنکے ساتھ بیڈ پر بیٹھ کر اُن سے بولی جو سنجیدگی سے غور سے اُسے دیکھ رہے تھے۔۔
“بیٹا میں تمہای زندگی کا جو بھی فیصلہ کرو گا تو کیا آپ کو اعتراض تو نہیں ہوگا نا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ آپ اُس شخص کے ساتھ جائے وہ ایک بے شرم اور بد زبان انسان ہے جو آپ کے لئے بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے اور میں نہیں چاہتا کہ آپ کو اُسکی وجہ سے کوئی تکلیف ہو۔۔!!
شاہ بخت نے اپنی نظریں اُسکے چہرے پر ڈال کر کہا تو حور نے بے چینی سے اپنی ساری انگلیاں آپس میں ملا کر اُنہیں دیکھا۔۔۔
“بابا لیکن وہ۔۔؟؟
حور کچھ کہتی اُس سے پہلے تیزی سے شاہ بخت نے اُسکی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔
“بیٹا وہ شخص ایک دھوکے باز اور بدتمیز انسان ہے جو کسی کی نہیں صرف اپنے لئے سوچتا ہے اور وہ تُمہیں حاصل بھی صرف اپنے لئے کرنا چاہتا ہے اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے۔۔۔!!
شاہ بخت نے اُسے اے بی سے بدظن کرتے ہوئے کہا تو حور بے یقینی سے اُنہیں دیکھنے لگی جو اُسکے سب کچھ تھے جن کی بات وہ آنکھیں بند کر کے بھی یقین کر سکتی تھی۔۔
“نہیں بابا وہ ایسے بلکل بھی نہیں ہے وہ تو مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔۔!!
بے یقینی سے اُنہیں دیکھتی خود کو بھی یقین دلاتے ہوئے اُن سے بولی جبکہ شاہ بخت نے آگے بڑھ کر اُسکی گود پر کھے اُسکے نازک ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر نرمی سے کہا۔۔
“حور بچہ میں بھلا کیوں جانتے ہوئے اپنی بیٹی کو اُس انسان کو سونپو جو ایک فریب اور مکار مطلبی انسان ہے۔۔!!
شاہ بخت تاسف سے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے بولا جو اُس شخص سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور وہ شخص اپنی بدتمیزی اور بد زبانی کی وجہ سے اُسکی نظروں میں گر گیا تھا اور بھلا وہ کیوں اپنی بیٹی کو اُس کو دیتا۔۔۔
“بابا آپ میرے بڑے ہیں اور جو آپ نے میرے لئے سوچا ہوگا وہ سہی سوچا ہوگا۔۔!!
حور کھڑی ہو کر نم آنکھوں سے اُنہیں دیکھتی بولی اور شاہ بخت اُسکی بات پر اٹھا اور اُسے سینے سے لگاتا محبت سے اُسکے سر پر اپنے لب رکھتا اُسے یقین دلانے لگا کہ وہ شخص اُسکے ہوتے ہوئے اُسکے ساتھ کچھ برا نہیں کرے گا۔۔
جبکہ دوسری طرف سعدی جو شاہ بخت سے نکاح کے حوالے سے بات کرنے آیا تھا وہ اُسکی اور حور کی بات سننے کے بعد تاسف سے شاہ بخت کو دیکھتے ہوئے وہاں سے ہٹا اور اُس بارے میں ڈھولکی کی تقریب ختم ہونے کے بعد بات کرنے کا سوچ کر وہاں سے چلا گیا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“کہاں رکھا ہوگا کھڑوس بھائی نے اپنا فون۔۔؟؟
ریحام ارحام انصاری کے ساتھ مل کر کب سے اذان کے روم میں اُسکا فون ڈھونڈ رہے تھے فون انہیں کہیں نہیں ملا تو وہ دونوں سخت جھنجلاہٹ میں پورے روم میں چکر کاٹنے لگے۔۔۔
چکر کاٹنے کی وجہ سے وہ دونوں ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے اور بری طرح سے نیچے ایک دوسرے کے اوپر گر گئے۔۔
“آہ۔۔!!
تُم آرام سے نہیں چل سکتے ہو ایک تو اُس وائس کی ٹینشن اوپر سے تُمہارے پاس وڈیو اب میں کیا کروں سمجھ نہیں آ رہا۔۔؟؟
ریحام اپنے دونوں ہاتھ اُسکے سینے پر رکھتی اُسے غضبناک نظروں سے دیکھتی غصے سے بولی۔۔۔
ارحام جو نیچے فرش پر گرا اُسکے بالوں کی خوشبو سے اپنے ہوش کھو رہا تھا وہ اُسکے شولڈر تک آتے بالوں کو نرمی سے چھو کے اُسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا جو اُسکے اوپر جھکی اُسے گستاخی کرنے پر اکسا رہی تھی۔۔
“جانم آج پتہ چلنے دو ہماری عشق کی داستان کو پوری دنیا والوں کو پھر میرے لئے آسانی ہو جائے گی تُمہیں پانا اور تُم بھی جدا ہونے کی ضد نہیں کروں گی۔۔۔!!
بالوں کو نرمی سے مٹھی میں لے کر اُسکا چہرہ اوپر اٹھا کر وہ نیچے فرش سے اٹھا اور اُسے اپنی گود پر بٹھا کر خمار آلود لہجے میں بولا۔۔۔
ریحام اُسکی بات پر اُسکے اوپر جھکی ہوئی تھی اور اُسے بری طرح سے گھور رہی تھی کہ اُسکے نرمی سے بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھانے اور پھر گود پر بٹھانے کی حرکت پر اپنی نظریں تیزی سے اُس پر سے ہٹا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ اُسکا ارداہ بھانپ کر اُسے تیزی سے اپنے چوڑے سینے سے لگاتا اپنا چہرہ اُسکی نازک گردن پر چھپانے لگا۔۔
“پپ پلیز چھوڑو مجھے اگر ہمیں اِسطرح کسی نے دیکھ لیا نا تو میں مر جاؤ گی۔۔!!
ریحام کے لہجے میں آج پہلی بار بے بسی دیکھ کر ارحام کے اندر زور سے کچھ چھبا تو وہ نرمی سے اُسے خود سے الگ کرتا اپنے لب اُسکی پیشانی پر رکھتا اپنی آنکھیں بند کر کے اُسے محسوس کرنے لگا۔۔۔
“مائے لائف ہمیشہ یاد رکھنا کہ ارحام انصاری اپنی جان تو لے سکتا ہے لیکن تُمہیں کبھی بھی کسی کے سامنے شرمندہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی کبھی شرمندہ ہونے دے گا۔۔!!
دونوں آنکھیں باری باری چھومتا وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا جبکہ ریحام اُسکے الفاظ پر اپنی پیشانی اُسکے سینے پر رکھتی اُس پر آج پہلی بار اعتبار کرنے پر مجبور ہونے لگی۔۔
کیونکہ اُسکے پاس اُنکی جیم اور سارا کی بنائی گئی وڈیو ہونے کے باوجود بھی اُسنے اُس وڈیو کا غلط استعمال نہیں کیا تھا ہاں اُسے دکھا کر وہ اُسے تنگ ضرور کرتا تھا۔۔۔
“میں آج صرف ایک بار تُم پر اعتبار کرنا چاہتی ہوں پلیز تُم میرے اِس اعتبار کو کبھی بھی مت توڑنا ورنہ پھر یہ اعتبار میں کسی پر نہیں کر سکوں گی۔۔!!
دونوں ہاتھ اُسکے گالوں پر رکھتی وہ امید سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔
“وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہارے اعتبار کو کبھی نہیں ٹوٹنے دونگا۔۔!!
اُسکے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتا اور لب پیشانی پر رکھ کر گھمبیر آواز میں بولا تو ریحام اُسکی بات پر اور لمس پر شرم سے اپنی آنکھیں زور سے میچ گئی تھی۔
لیکن بہت جلد اُنکے ساتھ کچھ ایسا ہونے والا تھا جسکی وجہ سے اعتبار کی جگہ نفرت کا جان لہوا احساس ریحام کے دل میں اُسکے لئے بیدار ہو جائے گا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
چاچو آپ پلیز ڈیڈ سے میری اور ایزل کی شادی کی بات کرے نا۔۔!!
سام نے معاذ سے کہا جو اُسکی بات پر بے چینی سے اپنے روم میں چکر کاٹ رہا تھا کہ اُسکی جانب مڑا اور اُسے دیکھنے لگا جو 19 سال کی عمر میں اُسکی اٹھارہ سالہ بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔۔
“سام بچے تمہارا دماغ تو درست ہے کہ نہیں اِس عمر میں تُمہیں شادی کے علاؤہ کوئی اور کام کا خیال نہیں آ سکتا تھا کیاجو مجھے بھائی کے ہاتھوں مروانے پر تل گئے ہو۔۔!!
معاذ نے تیز نظروں سے اُسے گھورتے ہوئے کہا تو سام نے بڑے ہی کمینگی انداز میں مسکراتے ہوئے اُنہیں دیکھا اور آگے بڑھ کر اُنہیں اُنکے کارنامے یاد دلانے لگا۔۔
“چاچو اگر آپ نے ڈیڈ سے بات نہیں کیا نا تو وہ انگریز کے بچے کی چاکلیٹ والی بات میں اور شام جا کر ڈیڈ سے کر دے گے۔۔!!
مسکرا کر وہ اُنہیں دھمکی دیتے ہوئے بولا تو معاذ اُسکی دھمکی کو خاطر میں لائے بغیر بولا۔۔
“ایک شرط پر داماد صاحب۔۔!!
معاذی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
سام اُسکے داماد صاحب کہنے پر حیرت سے اُسے دیکھنے لگا جو کمینگی سے مسکرا رہا تھا وہ حیرت انگیز تاثرات کو چھپا کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“مطلب چاچو آپ ڈیڈ سے بات کرنے والے ہیں۔۔!!
خوشی سے اُسے زور سے گلے لگاتے ہوئے بولا تو معاذی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“ہاں اور یہ میں نے بہت پہلے سوچا تھا اور تمہاری خواہش جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور اب تم لوگوں کا بھی نکاح اذان کے نکاح والے دن ہوگا۔۔۔!!
معاذی نے سنیجدگی سے کہا تو سام تُم لوگوں پر تعجب سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“تم لوگوں کے ساتھ شام اور عشو کا نکاح بھی ہوگا۔۔!!
مسکراتے ہوئے اُسے ایک اور خوشخبری سنا کر وہ شاہ بخت سے بات کرنے روم سے باہر نکلا جبکہ سام وہی کھڑا ایزل کے بارے میں مسکراتے ہوئے سوچنے لگا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“بھائی یہ میری خواہش ہے پلیز آپ مان جائے نا اور کل ہی مہندی کی فنکشن میں ہم ان سب کے بھی نکاح پڑھوا لیتے ہیں۔۔!!
معاذ کب سے شاہ بخت کے سامنے بیٹھا اُسے منا رہا تھا جبکہ شاہ بخت سنجیدگی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
“معاذی سب بچوں سے انکی راضا مندی پوچھی ہے تُم نے۔۔؟؟
اُسے بغور دیکھتے ہوئے اُسنے سوال پوچھا۔۔۔
“جی بھائی سب بچے راضی ہے اور انکی خواہش بھی ہے آپ بس لندن جانے سے پہلے ان سب کا نکاح پڑھوائے تاکہ وہ اُس ماحول میں رہ کر کچھ غلط نہ کر بیٹھے مجھے ہمشیہ یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ وہ وہاں کے ماحول میں رچ بس نہ جائے۔۔!!
معاذی نے آخر میں اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تو شاہ بخت نے سامنے بیٹھے بلند عالم اور سعدی کی جانب دیکھا جو اُسکے حکم کے منتظر بیٹھے تھے۔۔
“ٹھیک ہے بلند عالم کل نکاح خواں کو بھی بلانا مہندی کی تقریب میں نکاح بھی ہوگا اور ویسے بھی میں جلد یہ سارے فنکشن ختم کرنا چاہتا ہوں اُس لڑکے کی وجہ سے جو ہمارے بیچ موجود ہے اور وہ بے شرم انسان کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔!!
اُسنے سب کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ معاذ اور بلند ہاں میں سر ہلانے جبکہ سعدی نے بے چینی سے پہلو بدلا اور اُسے دیکھا لیکن اے بی کے حوالے سے بات کرنے کی ہمت کہا سے لاتا جس نے سب کی نظروں میں خود کو برا ظاهر کیا تھا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“ارحام بیٹا آپ اکیلے کیسے جائے گیں آئے ہم آپکو آپکے گھر تک چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔!!
شازم نے جب رعابہ سے ارحام کے کار کی خرابی کا سنا تو اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو سب سے مل رہا تھا۔۔۔
“نہیں انکل آپ لوگ جائے مجھے ویسے بھی اپنے فلیٹ میں ایک ضروری کام ہے اور وہ یہی قریب ہے۔۔۔!!
وہ مسکراتے ہوئے بولا البتہ نظریں ریحام کے چہرے کو بغور دیکھ رہی تھی جو اُسکی نظروں سے نروس ہوتی نظریں نیچے جھکا کر زمین کو گھور رہی تھی۔۔
“تو بیٹا پھر ہم آپ کو آپکے فلیٹ تک چھوڑ دیتے ہیں۔”
اب کے دلکش نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“اوکے آنٹی۔۔!!
وہ سب کی جانب دیکھتے ہوئے آخر میں دلکش کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولا اُسکے کہنے پر سب دلکش اور شازم کے ساتھ باہر نکلے جبکہ ریحام جو انکے پیچھے جا رہی تھی وہ اُسکے پیچھے تیزی سے بڑھا اور اُسکے کندھوں سے کندھا ملا کر چلنے لگا۔۔
“پلیز اب کوئی نیا تماشا مت کرنا اِس وقت سب گھر والے یہی موجود ہے اور میں تمہارے اوپر اعتبار صرف تمہارے اتنے دنوں وڈیو ہونے کی وجہ سے کر رہی ہوں اِسلئے زیادہ پھیلنے کی کوشش مت کرنا۔۔!!
وہ آہستگی سے سب کو دیکھتی اُسے گھورتے ہوئے بولی جو جان بوجھ کر اپنا کندھا اُسکے کندھے سے ٹچ کر رہا تھا۔۔
“ڈارلنگ سب آگے بڑھ رہے ہیں اور سب کا دھیان ہماری طرف نہیں ہے اور ویسے بھی یہاں اندھیرا بھی بہت ہے اِس لئے ہمیں کوئی نہیں دیکھ سکتا۔۔!!
اچانک سے اُسکی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے اپنے سے لگاتا یکدم سے اُسکے گال پر اپنے لب رکھتا اور اُسے لئے اپنے قدم آگے بڑھاتے ہوئے بولا جبکہ اُسکی لمس پر وہ گلال چہرہ لیے سب کو دیکھتی زور زور سے خود کو اُس سے چھڑانے لگی۔۔
“دیکھو تُم سمجھنے کی کوشش کرو یہ سہی نہیں ہے جو تُم کر رہے ہو اگر کسی نے ہمیں اِسطرح دیکھا تو۔!!
وہ اپنے کندھے پر اُسکی گرم نرم لمس محسوس کرتی شدت سے کانپتی ہوئی بولی جبکہ ارحام اُسکی باتوں کو نظر انداز کیے اُسکے کندھوں پر اپنے لب رکھے اُسے کانپنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔
“ایک شرط پر ریحام ڈارلنگ اگر تُم میرے فلیٹ پر ٹھیک رات کے تین بجے آؤ گی ویسے ابھی تو رات کے دو بج رہے ہیں تمہارے پاس سوچنے کے لئے بہت وقت ہے اگر تُم مان گئی تو میں تُمہیں چھوڑو دو گا اور اگر نہیں مانی تو آگے تُم خود سمجھدار ہو۔ !!
اُسکی کمر پر گرفت سخت کرتا وہ اپنا موبائل سامنے کرتے ہوئے معنی خیز نظروں سے موبائل اسکرین پر چلتی وڈیو کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو ریحام وڈیو کو دیکھتی شرم سے سرخ پڑنے لگی۔۔
“ٹھیک ہے میں آ جاؤ گی پلیز تُم مجھے چھوڑو اور اِس وڈیو کو بند کر دوں اور وہ انکل آنٹی تُمہیں بلا رہے ہیں۔”
اپنی آواز کے کپکپانے پر قابو کرنے کی کوشش میں وہ تیزی سے بولی تو ارحام اُسکی تیزی پر خوبصورتی سے مسکرانے لگا۔۔
“اوکے وائف ڈئیر رات تین بجے میں تمہارا اپنے فلیٹ پر ویٹ کروں گا ویسے بھی تمہیں سرپرائز بھی تو دینا ہے ہماری شادی کو پورے تین دن ہوئے ہیں لیکن میں نے تُمہیں ابھی تک کوئی سرپرائز نہیں دیا ہے۔۔۔!!
اُسکی پیشانی پر اپنے لب رکھتا وہ گھمبیر لہجے میں بولا تو ریحام اُسکی گھمبیر آواز سن کر کانپتی ہوئی اُس سے دور ہوئی اور تیزی سے گھر کے اندر بڑھی جبکہ وہ اُسے بھاگتے دیکھ کر مسکرانے لگا اور رعابہ کے آواز دینے پر اُنکی جانب بڑھا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“ہیلو۔۔!!
رات کے تین بچتے ہی ارحام انصاری کی کال اپنے فون پر دیکھ کر وہ زور سے کانپتی اپنی نظریں فون پر ڈال کر فون اٹھاتی اور تیزی سے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر اپنے کار کی کی اٹھا کر اپنے روم سے باہر نکلی اور فون کان سے لگا کر بولی۔۔
“جانم تین بج رہے ہیں۔۔!!
دوسری جانب اُسکی آواز سن کر وہ کار کے سامنے پہنچ کر جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی اور دروازه بند کرتی کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہنے لگی ۔۔
“مم میں بس نکل رہی تھی کہ تُم نے کال کر دیا بس پہنچنے والی ہوں۔۔!!
نظریں ونڈو اسکرین پر ڈالتی وہ کانپتی آواز میں بولی تو ارحام اُسکی آواز پر مسکرایا اور اُسے کہنے لگا۔۔
“جانم میں تُمہیں آج بہت شاندار سرپرائز دینے والا ہو سو تُم تیار رہنا۔۔!!
اُسکی بات پر اسٹرینگ پر اُسکی گرفت مضبوط ہوئی اور ونڈو اسکرین سے نظر آتے سامنے فلیٹ کی جانب مرکوز تھی۔
“میں پہنچ گئی اب جو بات کرنی ہے تُمہیں یہی باہر آکر کروں میں اندر نہیں آؤ گی۔۔!!
کار سے باہر نکلی اور سامنے فلیٹ کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
“نہیں جانم اندر تو تُمہیں آنا پڑے گا بیکاؤز سرپرائز کا ارینج تو میں نے اپنے فلیٹ کے اندر کیا ہے اور یہ ہماری شادی کے بعد ایک خوبصورت سرپرائز ہوگا جو میں نے صرف تمہارے لئے سوچا ہے۔”
بوجھل آواز میں کہتا وہ اُسکا چہرہ شرم سے گلال کرنے پر مجبور کر گیا تھا وہ سرخ چہرہ لیے آگے بڑھی اور تیزی سے سیڑھیوں چھرنے لگی۔۔
جب وہ اُسکے فلیٹ کے دروازے کے سامنے پہنچی تو دروازه یکدم سے کھلا اور کسی نے اُسے تیزی سے اندھیرے فلیٹ کے اندر کھینچا تو غصے سے اُس شخص کو مارنے ہی والی تھی کہ مقابل نے اتنی ہی تیزی سے اُسکے لبوں کو شدت سے چھو کر اُسے قابو کرنے لگا۔۔
ریحام اِس لمس کو پہنچانتی پرسکون ہو کر اپنی آنکھیں زور سے میچنے لگی جبکہ ارحام نے اُسکے لبوں کو آزاد کیا اور اُسے لئے صوفے کی جانب آہستگی سے بڑھا صوفے پر آرام سے بٹھا کر خود نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر مخمور لہجے میں کہنے لگا۔۔
“جانم میں تمہارے ساتھ ہر گزرتا دن خوبصورت بنانا چاہتا ہو اِسی لئے یہ سرپرائز اتنی جلدی ارینج کیا ہے آج ہم دونوں یہ رات جاگ کر گزارے گے۔۔!!
لیکن اُس سے پہلے تُمہیں میری ایک چھوٹی سی خوائش پوری کرنی پڑے گی۔۔!!
اُسکے ہاتھوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لے کر چھومتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا تو ریحام نے گلال چہرہ نیچے جھکا کر اُسکے چہرے کی جانب دیکھا۔۔
“وہ کک۔کیا۔؟؟
اُسکی نظروں سے گھبرا کر وہ تیزی سے بولی تو ارحام اٹھا اور اُسے بازؤوں میں بھرتے ہوئے اپنے روم کی جانب بڑھا تو یہ دیکھ کر ریحام خوفزدہ ہو کر اُسے دیکھنے لگی۔
“یہ نہیں ہوسکتا تُم مجھے نیچے اتارو۔۔!!
وہ گھبراتی آواز میں سرگوشی کرتی بولی تو ارحام اُسکی بات کو نظر انداز کرتا روم میں داخل ہوا اور دروازه اپنے پیروں سے بند کرتا اُسے لئے بیڈ کی جانب بڑھا۔۔
اور آرام سے اُسے بیڈ پر بٹھا کر خود واڈروب کی جانب بڑھا یہ دیکھ کر ریحام پرسکون ہوگئی تھی لیکن اُسکی سکون بیڈ روم کی خوبصورت ڈیکوریشن اور اُسکے ہاتھوں میں عروسی جوڑے کو دیکھ کر رخصت ہونے لگی۔۔
“جانم میں تُمہیں صرف اپنے حلال پیسوں سے خریدے گئے عروسی جوڑے میں دیکھنا چاہتا ہوں وہ جوڑا تو اُن کمینے لوگوں کی حرام کی کمائی کا تھا اور یہ میری حق حلال کی کمائی کا ہے تھوڑا سستا ہے لیکن تُمہارے شوہر کی پسند کا ہے۔۔”
وہ اِس سرخ رنگ کے مہنگے عروسی جوڑے کو شریر لہجے میں سستا کہنے لگا تو ریحام نے گلال چہرہ لیے عروسی جوڑے کو پکڑا اور بیڈ سے اٹھ کر اُسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“صرف تُمہاری خواہش کا احترام کر رہی ہوں ورنہ مجھے ہیوی ڈریس پہنا موت سے کم نہیں لگتا ہے۔۔!!
عروسی جوڑے کو چھو کر وہ بولی تو ارحام آگے بڑھا اور اُسکی پیشانی پر اپنے لب رکھتا اُسے شرم سے پلکوں کی جھالر کو لرزنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“جانم اب اگر تّم باہر نہیں نکلی نا تو میں دروازه توڑ کر اندر آ جاؤ گا۔!!
ارحام کب سے روم کے چکر کاٹ رہا کہ واش روم کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر سنجیدگی سے کہنے لگا دوسری طرف ریحام جو ڈیپ گلے کی وجہ سے سرخ دوپٹہ اپنے گرد اوڑھے کھڑی تھی اُسکی بات پر بے چارگی سے خود کو سامنے لگے آئینے میں دیکھنے لگی۔
وہ سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس اور بھاری کامدار دوپٹا زیب تن کیے غضب دا رہی تھی صرف ڈیپ گلے اور ڈیپ بلاؤز کی وجہ سے وہ کافی بے چین ہو رہی تھی۔۔
“مم۔میں باہر ایک شرط پر آؤں گی اگر تُم اپنی آنکھیں بند کروں گے تب ورنہ میں باہر نہیں نکلوں گی۔۔!!
وہ گھبراتی آواز میں بولی تو ارحام نے مسکراتے ہوئے اوکے کہا اُسکی آواز پر ریحام نے اپنی کانپتی ہاتھوں سے دوپٹے کو اچھے سے اپنے کندھوں پر درست کیا اور قدم واش روم سے باہر نکالے۔
“بے بی اب اور کتنا ترپاؤ گی۔۔!!
ارحام آنکھوں پر ہاتھ رکھے جھنجلا کر بولا۔۔
“پلیز ابھی آنکھیں مت کھولنا ورنہ میں دوباره اندر چلی جاؤ گی۔۔!!
وہ گھبرا کر اُسے بیڈ کے سامنے کھڑے دیکھ کر نروس ہوتی نظریں نیچے جھکا کر بولی۔
ارحام اُسکی آواز سن کر اپنی آنکھوں سے آہستگی سے ہاتھ ہٹانے لگا تو ریحام جو نظریں نیچے جھکا کر کھڑی تھی وہ یہ دیکھ نا سکی۔۔
“جانم تُم اِس حق حلال سے لئے گئے لباس میں بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی ہوں۔۔!!
قدم اُسکے سامنے روکتا وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اُسکی کمر پر ہاتھ ڈال کر اُسنے اُسے زور سے اپنی کھینچا تو اُسکے زور سے کھینچنے پر اُسکے سر سے دوپٹا نیچے فرش پر گرا تو وہ تیزی سے اُس سے الگ ہوتی اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھتی کپکپانے لگی۔۔۔
ارحام کی نظریں جب اُسکے لرزتے سراپے پر پڑی تو مدہوش ہو کر تیزی سے آگے بڑھا اور اُسے دوباره سے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا کر اُسکے دونوں ہاتھ اُسکی نازک کلائیوں سے ہوتا ہوا اوپر شولڈر تک آہستگی سے رینگنے لگے۔
“پلیز ارحام نہیں۔۔!!
وہ سسکی لے کر اپنا سر نہ میں ہلانے لگی لیکن ارحام کہا اُسکی آواز سن رہا تھا وہ مکمل بہک چکا تھا اب وہ اُسکی مزاحمت کی پرواہ کیے بغیر اُسے اپنے مضبوط بازؤوں میں بھرتا بیڈ کی جانب بڑھا۔
اُسے بیڈ پر نرمی سے لیٹا کر خود سائیڈ ٹیبل پر جلتی لیمپ کو بند کرتا وہ اُسکے اوپر جھکا اور لب اُسکی نازک گردن پر رکھتا اُسے کپکپانے پر مجبور کر گیا تبھی ریحام نے جب اپنے تپتے گالوں پر اُسکا دہکتا لمس محسوس کیا تو اپنے ہاتھ اُسکے مضبوط کندھوں پر گاڑھنے لگی۔۔۔
“دیکھے مم۔میں نے تمہاری خواہش پوری کر دی ہے اب تم مجھے جانے دو میں وعده کرتی ہو کبھی بھی تُم سے طلاق کی بات نہیں کروں گی۔۔۔!!
وہ اُسے خود سے دور کرتی بے بسی سے بولی۔جبکہ ارحام جو اُسکے چہرے کو اپنے ہونٹوں سے چھو رہا تھا اُسکے ہاتھ اُسکی پشت پر حرکت کر رہے تھے اور اُسکی بلاؤز کے زپ کو آہستگی سے کھول رہے تھے۔۔
“نہیں جانم میں تُمہیں اچھے سے جانتا ہو ابھی تو تُم ڈر اور شرم کے مارے ہاں کر رہی ہوں جب مجھ سے الگ ہو جاؤ گی تو جنگلی بلی بن کر انکار کر دو گی اِسی لئے تو میں تُمہیں روز یاد دلاتا ہو کہ میں تُمہارا شوہر ہوں۔!!!
وہ اپنے لب اُسکے شولڈر پر رکھتا خمار آلود لہجے میں بولا جبکہ ریحام بے بسی سے اُسکے گرم نرم لمس کو اپنے وجود پر محسوس کرتی آنکھیں زور سے میچنے لگی۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“باس یہ دونوں گولی سے تو بچ گئے تھے لیکن اِس سے بلکل بھی نہیں بچے گے۔۔!!
زریاب خان کے خاص آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا تو زریاب خان نے جیم کے گھر سے ملے کیمرے کی جانب سنجیدگی سے دیکھا جسکی وجہ سے اُسے جیم اور سارا کو مارنے والوں کے بارے میں پتہ چلا تھا۔۔
“یہ دونوں اِس بار بلکل بھی نہیں بچنے چاہیے اور پتہ کروں انکے ساتھ اور کون کون ہے کیونکہ یہ اکیلے نہیں ہوسکتے انکے ساتھ کوئی اور بھی ہوسکتا ہے جو انہیں لیڈ کر رہا ہے اور یہ شنکر اُسنے اپنا کام کر دیا یا نہیں جو میں نے اُسے کرنے کو کہا تھا۔۔!!
زریاب خان نے سپاٹ لہجے میں کہا اور آخر میں شنکر کے بارے میں پوچھنے لگا جسکو اُسنے ڈرگز ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں کے ہر چھوٹے بڑے جگہوں پر اسمگل کرنے کو کہا تھا۔۔
“باس اُسنے آپکا کام تو کب کا کر دیا تھا اب وہ ایک ہفتے کے لیے کہی روپوش ہوگیا ہے پولیس کے ڈر سے سالا بہت ڈرفوک نکلا ہے۔۔۔!!
اُسکے آدمی نے خباثت سے مسکراتے ہوئے اُسے شنکر کے روپوش ہونے کے بارے میں بتایا تو زریاب خان نے کمینگی سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“دعا کروں کہ میرا پرانا دوست مجھے واپس مل جائے اُسکا غصہ اور کام کرنے کا انداز بہت ہی خطرناک قسم کا ہے اگر وہ آج واپس آگیا تو ہم کامیابیوں کی جانب بڑھے گے۔۔!!
اپنے دوست کو یاد کرتے ہوئے زریاب خان نے کہا تو اُسکے آدمی نے تعجب سے اُسے دیکھا کیونکہ جب سے وہ اُسکے ساتھ کام کر رہا تھا تب سے اُسکے منہ سے اُسکے کسی دوست کا ذکر نہیں سنا تھا۔۔
