117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“ہممممم۔تُو تُم میں سے کسکو اے بی کا آٹوگراف چاہیے۔؟؟
وہ سگریٹ لبوں سے لگا کر بھاٹیا کو ایک کرسی یونی کے بیچوں بیچ لگانے کا کہ کر سامنے جما بہت سے اسٹوڈنٹ سے بولا۔
“سر مجھے چاہیے آپکا آٹوگراف ممم میں آپکی بہت بڑی فین ہو۔مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ میں اِس وقت آپ کو اسکرین سے ہٹ کر ریئل لائف میں دیکھ رہی ہو۔”
ایک لڑکی خوشی سے پاگل ہو کر آگے بڑھتے ہوئے بولی۔جبکہ وہ سنجیدگی سے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا سب اسٹوڈنٹ کو بغور دیکھ رہا تھا۔
جب اُسنے لڑکی کو خوشی سے اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو ہاتھ اٹھا کر اُسے آگے بڑھنے سے منا کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔اور اے بی کی طرح اُسکا آٹوگراف بھی بہت قیمتی ہے۔تُو کیا تُم میرے آٹوگراف کے بدلے مجھے عاصم گبول لا کے دو گی۔۔جو کہ حرام خور جھوٹ بول کر ناجانے یونی کے کس کھونے میں جا چھپا ہے۔”
اپنی سنو وائٹ کی سرخ آنکھیں یاد آتے ہی وہ پھر سے اپنا غصہ کنٹرول نہ رکھ سکا اور غصے میں آ کر کرسی سے اٹھا اور اُس کرسی کو زور سے پھینکتے ہوئے سخت لہجے میں بولا۔تو لڑکی اُسکی آواز پر سہم کر پیچھے ہٹنے لگی۔
“مسٹر دی سپر اسٹار میں تُمہیں بتا سکتا ہو کہ عاصم گبول وہ اس وقت کہا چھپا ہوا ہے۔لیکن میری بھی ایک شرط ہے۔بلکہ تُم اُسے ایک قیمت ہی سمجھ لینا۔”
جب تُم اِس لڑکی کو جانے دو گے۔تبھی میں تُمہیں عاصم گبول کے بارے میں بتاؤ گا کیونکہ میں ارحام انصاری اُسکا جانی دشمن اچھے سے جانتا ہوں کہ وہ اِس وقت کہا چھپا ہوگا۔”
ری کے ساتھ اُس بھیڑ میں کھڑے ارحام انصاری جو کب سے اے بی کے تماشے کو بیزاری سے دیکھ رہا تھا وہ آگے بڑھتے ہوئے حور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔جو اے بی کے پاس خاموشی سے سر جھکائے کھڑی رو رہی تھی۔جبکہ اے بی اُسے کلائی سے پکڑے اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔اور حور کی موجودگی کی وجہ سے کسی حد تک وہ اپنا غصہ کنٹرول کرنے میں کامیاب بھی ہوا تھا۔
“لیڈی راکٹ اپنے عاشق کو اچھے سے سمجھا دو کہ اے بی سانس لینا تو چھوڑ سکتا ہے۔لیکن اپنی سنو وائٹ کو کبھی بھی نہیں۔”
حور کی کلائی پر گرفت مضبوط کر کے وہ ری سے کہ کر ارحام انصاری کو اپنی سرد نگاہوں سے گھورنے لگا۔۔جبکہ ارحام اُسی طرح سخت بیزاری سے کھڑا اُس پاگل جنونی انسان کو دیکھ رہا تھا۔
“اے مسٹر اے بی سی تُم ایک پاگل اور سائیکو عاشق ہو تو اِسکا یہ مطلب نہیں کہ یہاں کھڑے سبھی مرد تُمہاری طرح ایک عاشق ہوگے۔اور میرا اُسے پتھر تو مارنے کا دل چاہے گا۔لیکن ہار پہنانے کا بلکل بھی نہیں اور تُم کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔اپنے اُس دوست سے جا کر موبائل پر آتے وڈیو کال کو کاٹ کر آؤ ورنہ بڑے پاپا نے اگر یہ تماشا دیکھ لیا نا تو تُمہارے ساتھ مجھے بھی گولی مار دے گے۔”
اے بی کو سخت غصے سے دیکھتے ہوئے کہہ کر وہ ارحام انصاری سے چٹخ کر بولی۔جو اے بی کے اُسے ری کا عاشق کہنے پر بری طرح سے اُسے گھور رہا تھا۔
“لیڈی میزائیل اب کوئی فائدہ نہیں۔کیونکہ تمہارے انکل اور ڈیڈ یہ لائف ٹیلی کاسٹ وہاں لندن بیٹھے دیکھ رہے ہوگے۔وہ دیکھو ارسم بلکل اے بی کے سامنے کسی ماہرکمیرہ مین کی طرح کھڑا وڈیو بنا رہا ہے۔اِسکا مطلب کہ اُسے ابھی تک پتہ نہیں چلا ہے کہ موبائل پر کسی کی وڈیو کال چل رہی ہے.”
ارحام انصاری نے لیڈی میزائیل پر زور دیتے ری کو ارسم کی طرف متوجہ کرتے ہوئے بولا۔جو اے بی کے سامنے موبائل کا بیک کیمرہ ایسے پکڑے ہوئے تھا۔جیسے کوئی لڑکی رجسٹر جرنل پکڑ کر کھڑی ہے۔ری اُسکے بے وقوف دوست کو سخت گھورتی ہوئی آگے بڑھی اور اُسکے ہاتھ سے اپنا فون لے کر اپنے چہرے کے تاثرات درست کرتے اسکرین پر دیکھنے لگی۔جبکہ شاہ بخت اے بی کا سارا ڈراما غصے سے دیکھ رہا تھا ری کا چہرہ اسکرین پر نظر آتے وہ سخت لہجے میں بولنے لگا۔
“یہ سب کیا ہے۔اور یہ پاگل انسان کون ہے۔جسے حور دیکھ کر ڈر رہی ہے۔اور اُسنے حور کو اِسطرح کیوں پکڑا ہوا ہے۔؟؟
شاہ بخت کے سوال پر ری گھبراتے ہوئے سعدی کو دیکھنے لگی ۔جبکہ سعد نے اُسے تیز نظروں سے دیکھا تو وہ نظریں جھکا کر بولنے لگی۔
“بڑے پاپا یہ اے بی ہے جو ایک فہمس فلم اسٹار ہے۔اور یہ سائیکو انسان لندن ائیرپورٹ سے کیوٹی کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔اور اُسنے ابھی تک حور کو ہرٹ نہیں کیا ہے۔حور اُسکی پاگلوں والی حرکتوں سے بس ڈر گئی ہے۔”
ری اُسی طرح اپنی نظریں جھکا کر بولی۔جبکہ اے بی ری کو اتنی فرمابرداری سے نظریں نیچے جھکائے وڈیو کال پر کسی سے بات کرتی نظر آئی تو حور کو کلائی سے کھینچ کر وہ اسی جانب اپنے قدم بڑھانے لگا اور جب ری کے سامنے کھڑا ہوا تو اُسنے تیزی سے اُسکے ہاتھ سے موبائل کھینچ کر آنکھوں کے سامنے کیا تو اُسے نظروں کے سامنے دو سوبر مرد نظر آئے جنہیں دیکھتے وہ خوبصورتی سے مسکرانے لگا۔
“How are you Uncles.”
شاہ بخت اور سعدی کو ایک ساتھ پوچھتے اُسنے سگریٹ کا کش لیا اور دھوا فضا میں چھوڑتے ری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اُن دونوں سے کہنے لگا۔
“انکل آپ یہ کیسا عجوبہ دنیا میں لے کر آئے ہیں۔اِس لیڈی راکٹ نے تو قسم کھائی ہوئی ہے کہ اے بی سے پنگا لینا ہے۔ہر وقت بس اپنی کیوٹی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔کسی ماں کی طرح یار اگر یہ اِسی طرح سنو وائٹ کو کسی باڈی گارڈ کی طرح سیکورٹی دے گی۔تو سنو وائٹ ڈھیٹ ہو جائے گی۔اور خود کی حفاظت کرنا اسے نہیں آئے گا۔اور اگر میں وہاں وقت پر نہ پہنچتا تو آج وہ عاصم منگول میری سنو وائٹ کو نقصان پہنچاتا اور اگر اُسے کچھ ہو جاتا تو میں راکٹ لیڈی کو سیدھا اوپر ٹرانسفر کراتا۔”
حور کو اسکرین کے سامنے کرتے اُسنے سگریٹ زور سے نیچے پھینکتے ہوئے کہا۔تو شاہ بخت اور سعدی نے اُسکے پریشان چہرے کی جانب غور سے دیکھا۔۔۔جو حور کی وجہ سے ان دونوں کو بہت زیادہ پریشان لگ رہا تھا۔اور ساتھ ہی ری کی لاپرواہی کی وجہ سے وہ سخت غصے سے اُسے گھور رہا تھا۔
“بس
خاموش ایک آواز بھی اب مجھے تُمہاری نہیں آنی چاہیے ورنہ۔”
شاہ بخت اچانک سے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا۔تو وہ شاہ بخت کی سخت آواز پر دوسرا سگریٹ سلگا کر شاہ بخت کو مسکراتی نظروں سے دیکھنے لگا۔جیسے کہ رہا ہو کہ وہ ایک ڈھیٹ انسان ہے تو کیوں اُسکی سخت آواز پر کان دھرے گا۔
“میرے سویٹ سے ہونے والے سسسرِ محترم پہلی بات تو آپ اے بی کو دھمکی زرا سوچ سمجھ کر دیجئے کیونکہ سامنے آپکا کمینا + بے غیرت اور ہونے والا داماد کھڑا ہے۔کیونکہ وہ اتنا کمینہ ہے کہ آپکی دھمکی آپ ہی پر اپلائی نہ کر دیں۔”
شاہ بخت کے سامنے ہی وہ حور کو سختی سے خود سے لگا کر آنکھ شرارتی انداز میں دباتے ہوئے بولا۔تو شاہ بخت اُس کمینے کی حرکت پر پیچ و تاب کھانے لگا۔اور سعدی اُسکی حرکت پر تیزی سے اپنے موبائل پر اذان شاہ کو کال ملاتے ہوئے روم سے باہر نکلا۔
💞💞💞💞💞💞
“اذان شاہ تُم اتنے لاپرواہ ہوگے یہ مجھے اندازہ نہیں تھا۔کوئی بے غیرت کمینا وہاں پاکستان میں تُمہاری بہن کو تنگ کر رہا ہے۔اور تُم یہاں اپنے آفس میں بیٹھے میٹنگ اٹینڈ کر رہے ہو۔”
سعد اذان شاہ کے کال ریسیو کرتے ہی غصے سے بولا۔اذان شاہ جو سامنے لیپ ٹاپ پر ڈایزئنر کے بنائے گئے گرافک کو غور سے دیکھ رہا تھا۔اپنے ٹیبل پر رکھے فون کی رنگ ٹون پر اُسنے اپنا فون اٹھایا اور کان سے لگایا ہی تھا کہ اپنے باپ کی ایک سال بعد آواز سن کر وہ تعجب سے فون کان سے ہٹا کر نمبر کو دیکھنے لگا۔جو لندن کا تھا۔
“خیریت والد صاحب آپ نے ایک سال بعد مجھے فون کیا
اپنے بے لگام بیٹے کو۔ہوں اب میں سمجھا ڈیڈ کہ آپ نے کیوں کال کیا ہے۔کئی آپ نے میرے ایک سال کے ضد سے
ہار مان کر تو مجھے واپس بلانے کے لیے کال نہیں کیا۔”
اذان شاہ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا۔تو دوسری جانب سعد جو غصے سے پاگل ہو رہا
تھا اُسکی بات نے تو اُسے مزید آگ لگا دیا۔
“شٹ اپ اذان شاہ میں کبھی بھی وہ گھٹیا ضد تمہارا پورا نہیں کرو گا۔اِس وقت کراچی یونی میں جاؤ اور جا کر اپنی دونوں بہنوں کو اُس پاگل انسان سے بچاؤ ورنہ میں بھول جاؤ گا کہ تُم میرے بیٹے ہوں۔”
سعد نے دونوں بہنوں پر زور دیتے ہوئے اُسے دیکھا جو اُسکے بہنوں کہنے پر اپنی مٹھیاں زور سے بھینچنے لگا۔
“Dad Please , stop calling her my sister”
(ڈیڈ پلیز آپ اُسے میری بہن کہنا چھوڑ دیں)”
غصے سے سرخ چہرہ لیے وہ سرد لہجے میں بولا۔تو سعد نے اُسکی اگلی بات سنے بغیر کال کاٹ دیا اور وہ اپنے باپ کے کال کاٹنے کی وجہ سے غصے سے اپنا مہنگا فون سامنے دیوار پر زور سے دے مارا۔
“ڈیڈ آپ کیوں حوری کو میرا ہونے نہیں دیتے کیوں آپ ایک ہی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔وائے آپ جانتے ہیں کہ میں حوری کو کتنا چاہتا ہوں۔پھر آپ کیوں میری زندگی کو مجھ سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔”
اذان شاہ نے غصے سے اپنے آفس کا نقشہ بگاڑا اور پھر باہر نکلا تاکہ جلد وہ کے یو پہنچے اور اپنی بہن اور حوری کو گھر صحیح سلامت چھوڑ کر آئے۔
💞💞💞💞💞💞
“تُم ایک بدتمیز انسان ہو جسے بڑوں سے بات کرنے کی تمیز تک نہیں اور تُمہارے ماں باپ پر بہت غصہ آ رہا ہے کہ وہ کیسے والدین ہے۔جو اپنے بیٹے کے کرتوتوں سے آنکھیں بند کرکے بیٹھے ہیں۔”
“ہاہاہاہاہاہا!
“سسسرِ محترم آپ میرے لو گیرو کو جتنا جی چاہے گالیوں سے نواز سکتے ہیں۔میں کچھ بھی نہیں کہو گا لیکن میری مما جانی کو غلطی سے بھی ایک لفظ آپ نے بولا نہ تو،یہ اے بی آپ کی بیٹی کو ایک ایسی جگہ لے کر جائے گا۔جہاں صرف اے بی اور اُسکی سنو وائٹ ہوگی۔اور تیسرا وہ بے چارہ وہاں آنے کی کوشش میں بے گناہ مارا جائے گا۔سو بی کیئر فل سنو وائٹ کے اینگری ڈیڈی۔”
شاہ بخت اپنی بات پوری کرتا اُس سے پہلے وہ ہنستے ہوئے اُسکی بات کاٹ کر بولا۔اُسکا لہجہ جتنا شرارتی تھا۔الفاظ اتنے ہی خطرناک۔جبکہ اُسکی بات پر شاہ بخت نے غصے سے اپنا لیپ ٹاپ زور سے دیوار پر دے مارا۔اور اے بی اپنے ہونے والے سسسرِ کی حرکت پر زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے ری کی جانب متوجہ ہوا۔
“لیڈی راکٹ سسسرِ محترم اتنا زیادہ غصہ کیوں کرتے ہیں۔اور تّم لوگوں کی فیملی بہت ہی انٹرسٹنگ ہے۔بہت مزا آنے والا ہے ۔مجھے اپنے سسرال میں۔ بٹ سنو وائٹ تّم میری طرح لکی نہیں ہو۔کیونکہ تُمہارے سسرال میں صرف دو لوگ ہے۔ایک تو میرے لو گیرو جو تمہارے ہونے والے کمینے شوہر کے بابا ہے۔اور مما جانی جو اے بی کی پہلی لو لائف
ہے۔اور دوسری تُم مائے سنو وائٹ۔”
ری سے کہ کر وہ حور کو مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے محبت سے بولا تھا۔جبکہ حور کب سے جو اُسکے پناہوں میں قید تھی۔اُسکی بات پر بری طرح سے پھر پھرانے لگی۔
“اے یو مسٹر چھوڑو میری حوری کو ورنہ میں تُمہیں جان سے مار دوں گا۔”
اے بی جو حور کو اپنی پناہوں میں قید کیے اپنا سر اُسکے نازک شولڈر پر رکھے اُسے محبت سے دیکھ رہا تھا اِس سرد آواز پر وہ غصے سے پیچھے پلٹا اور سامنے کھڑے اذان شاہ کو سخت تیور سے دیکھا لیکن اُسے دیکھ کر وہ اپنا غصہ بھول کر اب طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے اُسکی جانب بڑھا۔
“ہٹلر بھائی تُم بیچ میں مت آؤ میں اِس سائیکو انسان کے لیے اکیلی کافی ہو۔بہت بدتمیزی سے اِس نے بڑے پاپا سے بات کیا تھا نا اب میں بتاتی ہو۔بڑوں سے بات کیسے کرتے ہیں انکی عزت کیسے کرتے ہیں۔”
ری اپنی دونوں آستینیں غصے سے اوپر چڑھا کر قدم اُسکی جانب بڑھاتے ہوئے بولی۔تو اذان شاہ جو حور کو اُسکے باہوں میں دیکھ کر غصے سے پاگل ہو کر آگے بڑھ رہا تھا۔۔ ری کی بات پر وہ سخت نظروں سے اُسے دیکھنے لگا جو اے بی کی جانب بڑھ رہی تھی۔اور کب سے اس سارے تماشے کو بہت زیادہ بیزاری سے دیکھتے ارحام انصاری اب سخت اکٹھا گیا تھا۔اُسنے اپنے سارے گروپ کو حور کو وہاں سے غائب کرنے کا اشارہ کیا جو کہ اب اے بی کے پیچھے کھڑی ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔اِنہیں اشارہ کرنے کے بعد وہ خود آرام سے یہ تماشا ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔لیکن تماشا ختم ہونے کے بجائے بڑھتے دیکھ کر وہ سخت غصے سے بولا۔
“اے یہ یونیورسٹی ہے تُم لوگوں کا گھر نہیں جو تم لوگ بچوں کی طرح لڑ رہے ہو۔اور مس میزائیل تّمہاری بہن کو میں نے یونی کے پچھلی گیٹ پر بھیجا ہے۔جاؤ اور اپنے
اِس بھائی کو بھی لے کر جاؤ ورنہ یہ دونوں سائیکو مل
کر کے یو کو جنگ کا میدان بنا لیں گے۔”
وہ ری کی جانب غصے سے بڑھا اور اُسے سختی سے پکڑ کر سائیڈ پر کرتے ہوئے آرام سے بولا۔ری اُسکی بات سننے کے بعداے بی کے پیچھے دیکھنے لگی جہاں حور اب کھڑی نہیں تھی۔
💞💞💞💞💞💞
“بھائی اب ہماری حور بلکل محفوظ ہیں۔ریحام اور اذان شاہ کے پاس ہے۔وہ دونوں اُسے گھر لے گئے ہیں۔اب ہماری بچی اُس نمونے سے بلکل دور ہے آپ پلیز اب ٹیشن نا لیں۔میں نے بلند عالم کو بھی سیکورٹی کے لیے کہا ہے۔”
شاہ بخت اِس وقت اپنے بیڈروم میں الماری سے کپڑے نکال کر بیگ میں غصے سے ڈال رہا تھا تبھی فون کی رنگ ٹون نے روم کی خاموش فضا میں جلترنگ بجا کر ماحول کے سکوت کو مٹا کے رکھ دیا تھا۔
اُسنے غصے سے آگے کو جھک کر بیڈ سے فون اٹھا کر کان سے لگایا تو دوسری طرف سعدی کی آواز پر وہ تھوڑا ریلکس ہو کر بیڈ پر بیٹھا اور اپنی پیشانی مسلنے لگا۔۔۔جو غصے کی وجہ سے اب تکلیف کے باعث پھٹ رہا تھا
تبھی اچانک سے اُس انسان کا جنون اُسکے نظروں کے سامنے نمودار ہوا تو وہ تیزی سے اٹھا اور بیگ اپنے کندھوں سے لگا کر وہ موبائل بیڈ سے اٹھا کر بلند عالم کے نمبر پر تیزی سے میسج ٹائپ کرنے لگا اور جب روم سے باہر نکلا تو وہ میسج بلند عالم کو اُسنے بھیجا اور اپنے قدم ابھی آگے بڑھانے والا تھا کہ حنیہ نے اُسے پیچھے سے روکا۔
“شاہ آپ اتنے غصے میں کہا جا رہے ہیں۔؟؟
حنیہ شاہ بخت کو تیزی سے موبائل پر کسی کو میسج کرتے روم سے باہر بیگ لیے نکلتے ہوئے دیکھ کر بولی۔شاہ بخت تھوڑی دیر پہلے سعدی کی کال سن کر اب تھوڑا سا مطمئن ہوگیا تھا لیکن اپنی بیٹی کو کھونے کے ڈر کی وجہ سے وہ آج ہی پاکستان جا کر اپنی بیٹی کو یہاں واپس لانے جا رہا تھا۔اپنی نظریں فون کی اسکرین پر مرکوز کیے وہ بلند عالم کو میسج کر رہا تھا۔حنیہ کی آواز پر اپنی آنکھیں بند کرکے غصے پر کنٹرول کرنے لگا۔
“بس وائفی ایک ضروری میٹنگ کے سلسلے میں پاکستان جا رہا ہوں۔اپنا اور میرے اُن دونوں شیطانو کا اچھے سے خیال رکھنا سعدی اور معاذی یہی ہے۔اور رملہ بھابھی کل کہ فلائٹ سے یہاں پہنچے گی۔ہانیہ بھابھی تو ویسے بھی یہی پر ہے۔اور ہماری ایزل عشوہ مجھے یقین ہے وہ دونوں اپنی بڑی مما کو بور ہونے بلکل بھی نہیں دے گی۔”
شاہ بخت فون جیب میں رکھتے ہوئے آگے بڑھ کر حنیہ کو سینے سے لگاتے ہوئے بولا۔تو حنیہ اُسکے پاکستان جانے کا سن کر منہ بسور کر اُسے دیکھنے لگی۔اور یہ کرتے ہوئے وہ شاہ کو بلکل بچی لگی۔وہ اپنی آنکھوں میں خمار لیے نیچے جھکا اور شدت سے اُسکے لبوں کو چھو کے وہ اپنی سانسیں اُسکی سانسوں سے جوڑنے لگا۔پھر اُسنے اُسے اوپر اٹھایا اور اپنے قدم روم کی جانب بڑھانے لگا۔حنیہ شرم سے گلال ہوتی اپنا سر اُسکے سینے میں چھپا گئیں۔اور وہ سارا غصہ بھول کر اپنی جان اپنی وائفی کے وجود کی نرماہٹ میں کھو گیا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
“یہ کیس جتنا ہمارے لئے اہم ہے۔اُتنا آپ سب کیلئے رسکی۔۔سو آپ سوچ سمجھ کر اپنے قدم آگے بڑھانا اور یہ کیس آپ اکیلے ہینڈل نہیں کریں گے۔بلکہ آپ سب کے ساتھ ایک ٹیم ہوگی۔ جو میں نے خود تشکیل دیا ہے۔اور آپ سب کا لیڈر ایک بہت ہی انٹیلجنٹ اور جنونی فوجی ہے۔اور اُسنے آپ سب کو ایک چیلنج دیا ہے۔اور وہ یہ ہے۔ٹیم میں سے صرف وہ اُس فوجی کو اپنے ٹیم میں جگہ دے گا۔جو فوجی اُس تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تو وہ اُسے اپنے ساتھ اپنی ٹیم کا حصہ بنائے گا۔”
کرنل آصف خان نے وہاں بیٹھے سبھی فوجیوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“بٹ سر ہم اُس تک پہنچے گے کیسے۔اور اُسے کیسے پہچانیں گے۔کیونکہ آپ نہ ہمیں اُسکے بارے میں کچھ بتا رہے ہیں۔اور نہ ہی اُسکا نام تو پھر ہم سب اُسے ڈھونڈے گے کیسے۔”
ایجنٹ غازی اپنی جگہ سے اٹھا اور اُنہیں سیلوٹ کرتے ہوئے نظریں نیچے جھکا کر بولا۔تو کرنل آصف خان اُسکی بات پر مسکرانے لگے۔
“ایجنٹ غازی کیونکہ اُسے کسی پر بھی بھروسہ نہیں ہے۔۔خاص کر کسی انجان شخص پر پھر چاہے وہ ایک پاک آرمی کا فوجی آفیسر ہی کیوں نہ ہو۔اُسنے آج تک جتنے بھی کیس ہینڈل کیے۔۔۔وہ سب اُسنے اکیلے کیے ہیں۔۔کیونکہ اُسے کسی کے انڈر کام کرنا پسند نہیں ہے۔لیکن اِس بار سچویشن کچھ مختلف نوعیت کا ہے۔اس بار ہمیں اُسکی سخت ضرورت ہے۔اُسیلئے جب میں نے اُس سے اِس کیس کے بارے میں اور ٹیم کے بارے میں ڈسکس کیا تو اُسنے مجھے صرف ایک شرط پر ٹیم کے ساتھ یہ کیس ہینڈل کرنے کی ہامی بھری ہے۔کہ وہ آپ سب کا امتحان لینا چاہتا ہے۔وہ دیکھنا چاہتا ہے۔کہ کون اُسکے ساتھ کام کرنے کے قابل ہے۔اور کون نہیں۔”
کرنل صاحب کی بات پر ایجنٹ غازی نے سامنے بیٹھے اپنے ساتھی کی جانب دیکھا جو ایک لڑکی تھی۔اور وہ بھی کرنل صاحب کی بات پر کافی حیرت سے اِنہیں دیکھ رہی تھی۔۔
یکدم سے وہ کھڑی ہو کر بولی۔
“اوکے سر میں اور ایجنٹ غازی اِس چیلنج کو پورا کرنے کیلئے بلکل تیار ہے۔ہم اُنہیں ہر حال میں ڈھونڈے گے۔اور کامیاب ہو کر اِس کیس پر ہم دونوں کمانڈر کے ساتھ مل
کر اپنے ملک دشمنوں کو انکے انجام تک پہنچائیں گے۔”
لڑکی آرام سے کرنل صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔۔لیکن لڑکی کی بات پر ایجنٹ غازی نے اُسے سخت غصے
سے دیکھا۔
“ایجنٹ ایس آر مجھے یقین ہے۔آپ اور ایجنٹ غازی ضرور اُس تک پہنچے گے۔کیونکہ میں نے یہ ٹیم آپ دونوں کی قابلیت کو دیکھ کر تشکیل دیا ہے۔آپ دونوں انٹیلجنٹ اور قابل فوجی ہیں۔”
کرنل آصف خان نے اُن دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔اور پھر ایجنٹ ایس آر کو دیکھتے ہوئے بولے۔جو ایجنٹ غازی کی سخت نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی۔
💞💞💞💞💞💞💞
“ایجنٹ ایس آر آپ خود کو سمجھتی کیا ہے۔آپکی وجہ سے ہم دونوں اُس انجان انسان کو ڈھونڈ رہے ہیں۔جسکا نام تک ہم نہیں جانتے۔اور اُسے ہم کل رات سے بے وقوفو کی طرح شہر کے چھوٹے بڑے سبھی گلیوں میں ڈھونڈ رہے ہیں۔اور وہ بھی کبھی فقیر بن کر تو کبھی پاگل بن کر۔ڈیم اٹ۔”
ایجنٹ غازی اپنے حلیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غصے سے بولا۔کیونکہ اُسنے جب بھی اپنا حلیہ بدلا تھا۔تو صرف اپنے ملک کے دشمنوں کو گمراہ کرنے کے لیے بدلتا تھا۔
لیکن آج اُسنے ایک ایسے شخص کیلئے اپنا حلیہ پاگلوں کی طرح بنایا تھا۔جو ایک گمنام فوجی تھا۔جسے آج تک کسی نے دیکھا تک نہیں تھا۔اور اب وہ اُسی گمنام فوجی کے کہنے پر اُسے پورے شہر میں ایک ایک گلی میں ڈھونڈ رہے تھے۔اُسے غصہ اِس بات پر آ رہا تھا۔وہ دونوں کل سے اُسے ڈھونڈ رہے تھے۔آج دوسرا دن تھا اور رات کے دو بج رہے تھے۔
اور انکے پاس اُسکے بارے میں کچھ بھی موجود نہیں تھا جسکی وجہ سے وہ اُسے آسانی سے ڈھونڈ سکتے تھے۔
“سر میں خود کو کیا سمجھتی ہو۔یہ مجھے پتہ نہیں۔لیکن اِس وقت میں خود کو ایک فوجی ضرور سمجھ رہی ہو۔اور بہتر ہے۔آپ بھی خود کو ایک ذہین فوجی سمجھ کر کمانڈر کو ڈھونڈے ورنہ اگر میں نے اِنہیں ڈھونڈ لیا اور آپ نے نہیں تو آپ کو کمانڈر اپنی ٹیم میں نہیں لیں گے۔”
ایجنٹ ایس آر نے سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔جو اُس وقت ایک فقیرنی کے بھیس میں اپنی تیز نظریں چاروں اطراف میں ڈورہا رہی تھی۔
“تھینکس گاڈ آپ نے مجھے یاد دلا دیا کہ مجھے کمانڈر اپنی ٹیم سے نکالے گے۔”
ایجنٹ غازی چڑ کر سخت غصے سے بولا۔تو اُسکی بات کو غور سے سنتی ایجنٹ ایس آر کو تبھی گلی کے نکڑ پر کچھ سرسراہٹ سا محسوس ہوا تو وہ اُسے خاموش رہنا کا کہتی خود آہستہ چل کر اُس جانب بڑھنے لگی۔
“اوہ کم آن تُم جو کوئی بھی ہو جلدی سے باہر نکلو۔بھاگنے کی کوشش بلکل بھی مت کرنا۔ورنہ میں تم پر گولی چلا دو گی۔”
وہ پستول نکال کر سرد لہجے میں بولی۔تو ایجنٹ غازی نے اُسے الجھانے کے لیے کہا اور خود اپنا پستول نکالا اور اُس طرف آرام سے اپنے قدم بڑھانے لگا۔
“ویری انٹرسٹنگ جوانوں تُم دونوں مجھے وہاں ڈھونڈ رہے ہو۔اور میں تُم دونوں کو اتنی جلدی بے وقوف بنا کر اور تم لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر آرام سے خاموشی سے گلی کے بیچوں بیچ پہنچ گیا۔اور وہ کیسے یہ بھی میں خود بتاتا ہو تم دونوں کو۔کیونکہ تُم لوگوں نے مجھے نہیں ڈھونڈا تو تم لوگ کہا میری پہیلی کو سمجھ سکو گے۔تم لوگوں نے کبھی لائف لائن پر چڑھ کر کسی بلڈنگ کے اندر گھسنے کی کوشش کی ہے جوانوں۔لائف لائن مطلب پائپ میں پائپ کو لائف لائن کہتا ہو۔”
اُنہیں حیرت سے منہ کھول کر اپنی جانب پستول تانے اور آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے پر وہ سگریٹ ہونٹوں سے لگاکر اپنے قدم آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔تو اب کے وہ گلی میں ایک گھر کے سامنے جلتی مدھم بلب کے نیچے کھڑا انہیں صاف طور پر دیکھائی دینے لگا۔کیونکہ پہلے تو اندھیرے کی وجہ سے وہ دونوں اسے سہی سے دیکھ نہیں پا رہے تھے۔
“کون ہو تم۔؟؟
ایجنٹ غازی نے آگے بڑھ کر پستول سختی سے اُسکی کنپٹی پر رکھتے ہوئے کہا۔تو اُسکے سوال پر اور کنپٹی پر پستول کا سخت دباؤ محسوس کرکے ماسک کے پیچھے چھپے اُسکے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ پھیلا۔
“میں تم دونوں کا کمانڈر مارخور۔”
سگریٹ نیچے پھینک کر وہ اپنے پیروں تلے بری طرح سے مسل کر سرد لہجے میں بولا۔تو اُسکی بات پر انہیں ایسا لگا جیسے وہ اُن دونوں سے نہیں بلکہ اپنے دشمنوں سے بات کر رہا ہوں۔