Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
وہ دونوں رات کا کھانا کھا کر اپنے روم میں داخل ہوئے تو اے بی سامنے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا اور اپنی واچ رکھتے ہوئے پیچھے مڑا تو اُسے بیڈ پر منہ لٹکا کر بیٹھے دیکھ کر وہ بیڈ کی جانب بڑھا اور اُسکے نزدیک بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
“بیوی تُم خفا کیوں ہو میں نے کہا تھا نا کہ ترکی جانے سے پہلے میں تُمہیں ساسوں ماں اور سسسرِ محترم سے ملانے لے کر جاؤ گا پھر یہ تمہارے منہ پر کیوں بارہ بج رہے ہیں۔؟؟
جو منہ خفگی سے لٹکا کر بیٹھی ہوئی تھی تو اُسکے چہرے پر خفگی دیکھ کر وہ غصہ بھول کر مسکرایا اور اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“آپ بہت بڑے جھوٹے ہیں۔۔!!
وہ بس اتنا کہہ کر خفگی سے اپنا منہ بسورتی اُسکے چوڑے سینے کے بالوں سے کھیلنے لگی اور وہ اُسکی بات پر تعجب سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
“بیوی میں وکیل نہیں ہو۔۔!!
اے بی نے اسکی کلائی کو پکڑا اور نرمی سے اپنے لبوں سے اُسکی نازک کلائی کو چھوتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا حور اسکی بات پر اپنا عمل ترک کرتی اُسے تعجب سے دیکھنے لگی۔۔
“اب یہ وکیل کہا سے آگیا میں آپ سے کیا کہہ رہی ہو اور آپ پتہ نہیں یہ وکیل کو کیوں بیچ میں گھسیٹ رہے ہیں۔۔!!
غصے سے اپنی چھوٹی ناک کو وہ زور سے رگڑ کر اور سرخ کرتی سخت لہجے میں بولی تو اے بی اُسکی حرکت پر اُسے سخت نظروں سے دیکھنے لگا اور نیچے جھک کر اُسکی سرخ اور چھوٹی ناک کو لبوں سے چھونے لگا۔۔
“بیوی تُمہیں تکلیف دینے کا حق میں نے خود کو بھی نہیں دیا تو پھر میں تمہیں کیسے یہ حق دے سکتا ہو یاد رکھنا آئندہ یہ حرکت تُم کبھی نہیں کرو گی ورنہ میں بھول جاؤ گا کہ تُم میری کون ہو میں یاد رکھوں گا تو بس اتنا کہ تُم میری زندگی کی جان لینے والی سب سے بڑی دشمن ہو۔!!
شدت جنون سے وہ اُسکی گردن پر ہاتھ رکھ کر سرد لہجے میں بولا تو حور کو اسکے الفاظ سن کر اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی محسوس ہونے لگی۔۔
“پلیز چھ۔چھوڑے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔!!
اُسکے سختی سے پکڑنے پر وہ کھانستے ہوئے بولی تو اُسکی حالت دیکھ کر اے بی کو ہوش آیا تو اُسے دیکھنے لگا۔۔
جو اُسکی سخت پکڑ پر سرخ چہرہ لیے سر نیچے جھکا کر بری طرح سے کھانس رہی تھی یہ دیکھ کر اُسے اپنی جنونیت پر سخت غصہ آیا اور آگے بڑھ کر فکرمندی سے اُسکی پشت کو سہلانے لگا۔۔
“سوری سنو وائٹ میں تمہارے معاملے میں پتہ نہیں کیوں اتنا سخت ہو جاتا ہو کیا درد ہو رہا ہے۔۔!!
اُسکی گردن پر اپنی انگلیوں کے نشان دیکھ کر وہ نرمی سے اُن نشانوں پر اپنے لب رکھتا اس سے پوچھنے لگا تو حور روتی ہوئی اسکے سینے سے لگ کر اپنا سر ہاں میں ہلانے لگی۔
“بیوی میں نے تمہیں یہ درد دیا ہے نا اب میں ہی انکا دوا بنو گا تو جانم یہ درد ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔!!
اُسکی گردن سے دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھ کر وہ اُسکی گردن پر جھکا اور اپنا لب نرمی سے اُن نشانوں پر پھیرنے لگا حور اُسکی نرم لمس پر شرم سے اپنی آنکھوں کو زور سے میچنے لگی۔
اُسے آرام سے نیچے بیڈ پر لٹا کر اپنے شرٹ کے بٹن کھولنے لگا اور پھر شرٹ اتار کر سائیڈ پر اچھالنے کے بعد ہاتھ آگے بڑھا کر لیمپ بجھا کر وہ اُسکے اوپر جھکا اور اُسے کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اُسکی پشت پر لے جاکر اُسکی فراک کی ڈوریوں کو آہستگی سے کھولنے لگا۔
حور اپنی پشت پر اُسکی انگلیوں کو محسوس کرتی زور سے کانپتی اپنے دونوں ہاتھوں کو سختی سے اُسکی گردن کے گرد حمائل کرتی تڑپنے لگی۔۔
“پلیز کنگ نہیں چھ۔۔چھوڑے اب مجھے بلکل بھی تکلیف نہیں ہو رہی ہے۔۔!!
حور اسکی شدتوں کا سوچ کر سہم کر سٹپٹا کر بولی جبکہ اے بی اُسکی اگلی بات منہ سے نکالنے سے پہلے ہی اپنے لب اسکے لبوں پر رکھ کر اُسکے لبوں پر قفل لگا کر اُسے خاموش کروانے کے بعد وہ اُسکی فراک کو سائیڈ پر پھینک کر اُسکی آنکھوں کو باری باری چھومتا نیچے بڑھا اور اُسکی ناک کو لبوں سے چھو کر اُسکے نرم لبوں کی نرماہٹ کو شدت سے محسوس کرنے کے بعد وہ نیچے گردن کی جانب بڑھا اور اپنی شدتوں بھرے لمس چھوڑنے لگا۔۔
بیوی نہیں میں نے تمہیں تکلیف پہنچایا تھا نا تو اب اپنے پیار سے تمہارے اُس تکلیف کو کم کر رہا ہوں۔۔!!
حور اُسکی شدتوں پر بری طرح سے مچلتی اُسکی پشت پر سختی سے اپنے نازک ہاتھ پھیرنے لگی اور وہ اپنی پشت پر اسکی انگلیوں کو محسوس کرتا وہ بے خودی کے عالم میں نازک گردن سے نیچے کی جانب بڑھا اور شدت سے وہ اُسکے پیٹ پر اپنے لبوں کے گرم لمس چھوڑنے لگا۔۔
وہ اپنی جسارتوں سے اُس چھوٹی سی جان کو تڑپا رہا تھا لیکن وہ معصوم سی جان اُسکی شدتوں سے تکلیف نہیں بلکہ راحت محسوس کر رہی تھی اور وہ اپنے پورے مومی بدن پر اسکی لمس کو بارش کی پھوار کی طرح اپنے اوپر برستا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کل رات سب کو ٹھیک گیارہ بجے تیار ہو کر لاؤنج میں جما ہونا بے۔۔!!
اِس وقت سبھی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ تبھی شاہ بخت کی آواز پر سب نے نظریں اوپر اٹھا کر شاه بخت کی جانب دیکھا جو اپنی نظریں نیچے جھکائے سنجیدگی سے چائنیز رائز سے انصاف کر رہا تھا۔۔
“ڈیڈ کیا ہم سب واپس لندن جا رہے ہیں۔۔؟؟
سام نے ڈرتے ہوئے پوچھا تو شاه بخت نے نظریں اٹھا کر اُسے سختی سے دیکھا اور انگلی اٹھا کر دونوں بھائیوں کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تُم دونوں یہی رہوں گے اور ایزل عشوہ بھی یہی رہیں گی کیونکہ یہاں میں نے تُم چاروں کا ایڈمیشن ایک کالج میں کیا ہے۔۔!!
ان دونوں کو بغور دیکھتے ہوئے اسنے ان دونوں کے سر پر بہت بڑا دھماکہ کیا لیکن پھر ایزل اور عشوہ کا سن کر وہ پرسکون ہوگئے کیونکہ دونوں بھائی ان کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے اسی لیے یہاں رہنے کا سن کر ڈر گئے تھے لیکن ان دونوں بہنوں کا سن کر وہ دونوں بھائی اب مطمئن ہو کر کھانا کھانے لگے تھے لیکن ایزل اور عشوہ کی جان نکل گئی یہاں اور وہ بھی ان دونوں کے ساتھ رکھنے کا سن کر اور وہ ڈرتی ہوئی بڑے پاپا کی جانب دیکھنے لگی جو خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے۔۔
“بٹ بڑے پاپا میرے پیپرز ہونے والے ہیں تو میں یہاں کیسے پڑھ سکتی ہو وہاں تو سب ٹھیک سے چل رہا تھا آپ کیوں ہمیں یہاں پڑھانا چاہتے ہیں۔۔!!
ایزل نے ہمت کر کے ان سے پوچھا تو اسنے نیپکن سے منہ صاف کیا اور اُسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے حنیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“وائفی کل رات ٹھیک گیارہ بجے سب مجھے اچھے سے تیار ملنے چاہیے ورنہ میں کسی کو نہیں چھوڑو گا۔۔!!
سب پر طائرانہ نظر ڈال کر وہ کہنے لگا تو ریحام اور رعابہ نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا جبکہ اذان جو رعابہ کے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا شاه بخت کی بات پر تعجب سے انہیں دیکھنے لگا کیونکہ وہ جب صبح رعابہ کے ساتھ فارم ہاؤس سے آیا تھا تب پہلی ٹکر انکی ان سے ہوئی تھی لیکن اس وقت انہوں نے تو اس سے اس بات کا ذکر تک نہیں کیا تھا۔۔
“بڑے پاپا کیا آپ نے کوئی اشپیشل پارٹی ارینج کیا ہے جو سب کو تیار ہونا کا کہہ رہے ہیں۔۔؟
اذان شاہ نے اُن سے پوچھا کیونکہ اس گھر میں صرف وہی ہے ان سے فری ہو کر بات کرنا اچھے سے جانتا تھا۔۔
“ہاں یہی سمجھو برخوردار۔۔!!
اُسے جواب دے کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور بلند عالم کو اشاره کرتا گھر سے باہر نکلا اور اسکے پیچھے تیزی سے بلند عالم بھی نکلا۔۔
“ویسے بگ برو اس پارٹی کی تیم کیا ہوسکتی ہے آپکو کچھ آئیڈیا ہے کیونکہ ڈیڈ کی چوائس سے میں اچھی طرح واقف ہو۔۔!!
سام نے اذان شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“کیوں تُم جان کر کیا کروں گے۔۔؟؟
اذان شاہ نے سخت نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“بگ برو اُسی طرح میں اور میری بیگم تیار ہو کر ساتھ جائے گے ناں۔۔!!
سام نے بے شرموں کی طرح کہا تو ایزل اسکی بے باکی سے کہنے پر شرم سے چہرہ جھکا گئی جبکہ اُسکی بے شرمی پر اذان شاہ نے اسے گھورا۔
“شٹ اپ خبردار اگر اب تُم نے ایزو کو اکیلے اپنے ساتھ باہر لے کر جانے کا سوچا تو میں تُم دونوں بھائیوں کو اپنے فلیٹ میں شپٹ کر دونگا اور ویسے ابھی تُم لوگوں کا صرف نکاح ہوا رخصتی نہیں سمجھے۔۔!!
اذان شاہ نے سختی سے دونوں بھائی کو گھورتے ہوئے کہا تو دونوں بھائی اذان شاہ کی بات پر اپنی مٹھیوں کو زور سے بھینچنے لگے۔۔
“اب تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو جاؤ اپنے کمروں میں اور تُم صرف ریحام اور رعابہ کے ساتھ آؤ گی اور یہ دونوں میرے ساتھ۔۔!!
ایزل اور عشوہ کو وہیں جمے ہوئے دیکھ کر اذان نے انہیں غصے سے کہا تو وہ دونوں بہنیں تیزی سے کرسی سے اٹھی اور اپنے اپنے روم کی جانب بڑھی۔۔
“رعابہ یہ کچھ پیسے ان سے تم چاروں جاکر اپنے لئے آج کی پارٹی کے لیے ڈریس لینا اور ان دونوں کو بلکل بھی ایزو اور عشو کے آس پاس گھومنے بھی مت دینا اوکے۔۔!!
رعابہ اور ریحام کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا اور کرسی پیچھے کھسکا کر اٹھا اور رعابہ کو اپنے پیچھے آنا کا کہہ کر روم کی جانب بڑھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“اذان آپ نے مجھے بلایا۔؟؟
رعابہ روم میں اسکے پیچھے داخل ہو کر کہنے لگی تو اذان شاہ نے تیزی سے آگے بڑھ کر روم کا دروازه بند کیا اور اُسے اپنی جانب کھینچ کر اپنے ہاتھ اسکی نازک کمر پر پکڑ کر اُسے اپنے بے حد نزدیک کرتا اُسکے چہرے کو محبت سے چھونے لگا۔۔۔
“جنگلی بلی آفس جانے سے پہلے ایک کس تو کرنا میرا حق بنتا ہے تو اسی لئے تُمہیں یہاں بلایا اگر تُم یہ کس والا سین باہر چاہتی ہو تو چلو میں وہی یہ سین سب کے سامنے کرتا ہوں۔۔!!
اسکی کمر پر اپنی گرفت سخت کرتا جزبات کی رو میں بہتا اپنے دہکتے لبوں سے اُسکے گال کو چھونے لگا تو رعابہ اُسکی بے باکی سے کہنے پر اور اُسکی پرحدت لمس پر شدت سے اپنی آنکھیں بند کیے اُسے خود سے دور کرنے لگی۔۔
“اذان آپ کو اور کوئی کام نہیں سوجھتا جو ہر وقت بس یہی کرتے ہیں اور اب آپ مجھ سے دور رہے اب میں آپکی بے شرمیوں کو برداشت نہیں کروں گی۔۔!!
رعابہ نے خفگی سے منہ بسور کر کہا تو اذان شاہ نے اسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے جکڑا اور اُسے لیے پیچھے بیڈ کی پر گرا۔۔
“جنگلی بلی ہاں مجھے اور کچھ سوجھتا نہیں ہے جب تُم میرے سامنے ہوتی ہو تو میں خود کو بھی بھول جاتا ہو یاد رہتا ہے تو بس تمہارا چہرا اور اپنا پیار۔۔!!
اپنے دونوں ہاتھ اسکی پیٹ پر رکھ کر وہ اپنے لب اُسکی گردن پر رکھتے ہوئے کہنے لگا تو رعابہ اُسکی لمس پر شدت سے اپنی آنکھوں کو میچنے لگی۔۔
“ابھی تو آپ آفس کے لیے جلدی سے نکلے ورنہ بڑے پاپا آپکو سخت گیر باس کی طرح آفس سے باہر نکال دے گے۔۔!!
رعابہ اُسکی شدتوں سے پریشان ہو کر روہانسی آواز میں سرگوشی کرنے لگی تو اذان شاہ کو اسکی حالت پر رحم آیا اور اپنی گرفت ہلکی کر کے اسے اپنے اوپر سے احتیاط سے ہٹا کر کہنیوں کے بل اٹھا اور اُسے دیکھنے لگا جو اسکے قریب لیٹی زور سے آنکھیں بند کیے ہوئی تھی۔۔
“جنگلی بلی ابھی تو میں میٹنگ اٹینڈ کرنے جا رہا ہو لیکن واپس آکر میں بلکل بھی تُمہیں نہیں چھوڑو گا تیار رہنا میری شدتوں کو سہنے کے لیے آج میں تمہیں بلکل بھی نہیں بخشو گا۔۔!!
اسکے چہرے سے بالوں کو ہٹا کر وہ اپنے لب اُسکی گردن پر رکھ کر پیچھے ہٹا اور ذومعنی لہجے میں کہہ کر رعابہ کو شرم سے دوچار کر کے روم سے باہر نکلا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کیوں مجھے اِس روم میں بند کیا ہے۔۔؟؟
وہ اُسے اپنے سامنے دیکھتی غصے سے چلائی تو وہ سپاٹ چہرہ لیے چند قدم چل کر اُسکے مقابل کھڑا ہوا اور ہاتھوں میں تھمی چاقو اسکی گردن پر رکھ کر زور سے چاقو کی نوک کو اسکی گردن پر دبانے لگا جبکہ وہ اپنی گردن پر جلن محسوس کرتی آنکھیں بند کرتی بری طرح سے کانپنے لگی۔۔
“اِس وجہ سے مسسز تُمہیں قید کیا ہے یہ کیا ہے اور کیوں تُم نے مجھے طلاق کے کاغذات بھیجے ہیں۔؟؟
وہ شخص الٹا غصے سے اُس سے سوال کرنے لگا اور ساتھ ہی اسکی گردن پر چاقو کا دباؤ بڑھانے لگا اور وہ طلاق کے کاغذات کا سن کر ساکت رہ گئی کیونکہ اُسنے تو اُسے طلاق کے کاغذات نہیں بھیجے تھے۔۔
“میں نے کوئی کاغذات نہیں بھیجے تمہیں شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے مم۔میں بھلا ایسا سوچ بھی نہیں سکتی ہو تو پھر کیوں تُم سے طلاق لوں گی۔۔!!
وہ حلق کے بل زور سے چیخی تو اُسکی بات پر مقابل نے شدید غصے سے اپنے جیب سے طلاق کے کاغذات نکالے اور اسکی نظروں کے سامنے کرتے ہوئے اسے غصے سے دیکھنے لگا۔۔
“تو مسسز یہ کیا ہے ہاں اگر تُم طلاق نہیں مانگنا چاہتی تو پھر یہ کس نے بھیجا ہے ہاں بتاؤ مجھے۔۔؟؟
طلاق کے پیپرز اپنے سامنے دیکھ کر وہ شاکڈ رہ گئی کیونکہ اُن پیپرز پر سائن اُسی کے تھے لیکن یہ سائن اسنے کب کیے تھے یہ اسے خود پتہ نہیں تھا۔۔
“Believe Me.”
“میں سچ میں نہیں جانتی ان پیپرز کے بارے میں ارحام۔۔!!
وہ اپنی نظریں اُسکے غصے سے سرخ چہرے پر مرکوز کرتی بولی تو ارحام انصاری نے اُسکی بات پر چاقو دور اچالا اور طیش میں آکر آگے بڑھا اور سختی سے اُسے ٹھوڑی سے پکڑ کر اپنی سرخ نظروں سے اُسے گھورنے لگا پھر اچانک سے چہرے پر جھکا اور اپنے ہونٹوں سے اُسکے ہونٹوں کو شدت سے چھونے لگا۔۔
ریحام جو کرسی پر رسیوں سے بری طرح سے جکڑی ہوئی تھی اُسے ایسا لگا جیسے کسی نے اسکے ہونٹوں پر جلتا ہوا کوئلہ رکھ دیا ہو وہ اسکی شدت پر اپنے ہاتھوں کو رسیوں سے آزاد کرانے لگی لیکن بے سود وہ رسیاں ارحام انصاری کی طرح ضدی واقع ہوئی تھی جو کھل ہی نہیں رہی تھی تو وہ بے بسی سے اُسکی شدتوں کو برداشت کرنے لگی۔۔
“اب اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ارحام انصاری کو دھوکا دینے کا انجام کیا ہوتا ہے مس ریحام سعد شاہ۔۔!!
وہ اُسے سختی سے پیچھے کرتا اپنی شعلے ابلتی نظروں سے اُسکے ہونٹوں کو دیکھنے لگا جو کناروں سے بری طرح سے پھٹے ہوئے تھے اور ان میں سے خون بہہ رہا تھا۔۔
ریحام اپنی سرخ آنکھیں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی جبکہ اپنے ہونٹوں سے اٹھتی جلن سے وہ تکلیف محسوس کر رہی تھی۔۔
“ارحام میں سچ کہہ رہی ہو پلیز تُم میرا یقین کیوں نہیں کر رہے ہو میں کیسے تُم سے طلاق لے سکتی ہوں جبکہ میں تُم سے۔۔!!
وہ اُسکی بات بیچ میں سے کاٹ کر زور سے غرایا۔۔
“چپ رہو تُم اور کتنا جھوٹ بولو گی ابھی بھی تُم چاہتی ہو کہ میں تُم پر یقین کرو یہ پیپرز پر تُمہارے سائن دیکھنے کے بعد بھی ڈیم اٹ۔۔!!
اور مس ریحام سعد شاہ تُم بھی اب کان کھول کر سن لوں میری بات میں تُمہیں کبھی بھی نہیں چھوڑو گا۔۔!!
وہ انگھوٹے سے اُسکی ہونٹوں کے کناروں سے بے دردی سے خون کو صاف کرتا سرد لہجے میں کہنے لگا تو ریحام اسکی بات پر اپنی سرخ نظریں اُسکے خوبرو چہرے پر ٹکا کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں جھوٹ نہیں بول رہی مسٹر ارحام انصاری کب سے کہہ رہی ہو کہ یہ سائن میرے ضرور ہے لیکن میں نے کب کیے ہیں یہ مجھے خود پتہ نہیں ہے۔۔!!
وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زور سے ہلاتے ہوئے چیخ کر بولی تو ارحام انصاری شدید غصے میں آ کر اُسنے نیچے گرے ہوئے چاقو کو اٹھایا اور کر تیزی سے اسکی طرف بڑھا۔۔
وہ اُسے چاقو لیے اپنی جانب غصے سے بڑھتے ہوئے دیکھ کر اپنی آنکھوں کو شدت سے بند کرکے اپنی موت کا انتظار کرنے لگی لیکن ایک منٹ بعد اسکو اپنا نازک وجود کسی نرم شے پر محسوس ہوا تو جھٹ سے اُسنے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو خود کو ایک جہازی سائز بیڈ پر پایا تو وہ اپنی نظریں پورے بیڈ روم میں ڈورہا کر دیکھنے لگی مگر جب اُسنے اُسے اپنے سامنے خونخوار تیور لیے کھڑے دیکھا تو وہ سہم کر پیچھے کھسکنے لگی۔۔
ارحام اُسے سہم کر پیچھے کھسکتے ہوئے دیکھ کر سپاٹ چہرہ لیے آگے بڑھا اور اُسے پیروں سے سختی سے پکڑ کر اپنے نزدیک کرتا اسکے چہرے پر جھکا اور شدت سے اُسکے چہرے کو چھونے لگا۔۔
ریحام اُسکی شدت سے چھونے پر بری طرح سے مچلنے لگی لیکن ارحام انصاری اسکی مزاحمت کو خاطر میں لائے بغیر اُسکی فراک کو کندھے سے ہٹا کر نیچے پھینک کر وہ اُسکی نازک صراحی دار گردن پر جھکا اور شدت سے اپنا دہکتا ہوا لمس چھوڑنے لگا اور پھر اپنے عنابی ہونٹوں کو نیچے لے جا کر اُسکے گورے بدن پر شدت سے اپنا پرحدت لمس چھوڑنے لگا۔۔
ریحام اُسکی پرحدت لمس پر بری طرح سے تڑپتی بیڈ شیٹ کو شدت سے پکڑنے لگی اور اپنی نازک کومل جیسے وجود پر بے بسی سے اُسکے ہونٹوں کو شدت سے محسوس کرتی پیروں کو زور سے پھٹکنے لگی۔۔
ارحام انصاری جو اُسکے اوپر جھکا تھا اچانک سے وہ اسکی نازک کمر کو سختی سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگا جو اُسکی شدتوں پر بری طرح سے کانپ رہی تھی اور اپنے سینے پر سختی سے اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔۔
“مس میزائیل اب میں تُمہیں کبھی بھی خود سے دور نہیں کرو گا کبھی بھی نہیں میں تُمہیں بہت چاہتا ہوں تُم میری زندگی بن چکی ہو پہلے تو میں صرف جینے کے لئے سانسیں لیتا تھا لیکن جانم جب سے تُم میری زندگی میں زندگی بن کر آئی ہو تب سے میں صرف تمہارے لیے سانسیں لیتا ہوں۔۔!
اپنی آنکھیں اُسکے خوبصورت چہرے پر محبت سے جماتے ہوئے وہ کہنے لگا اور ساتھ میں اپنے عنابی ہونٹوں کو شدت سے اُسکی بیوٹی بون پر رکھتا اُسے شدت سے تڑپانے لگا۔۔
“پلیز ارحام مجھے جانے دو میں وعدہ کرتی ہو تّم سے کبھی دور ہونے کی بات نہیں کرو گی بلکہ میں تمہارے گھر پر آؤ گی لیکن ابھی نہیں پلیز وقت کی نزاکت کو سمجھو اگر تُم اسطرح کرو گے تو ہمارے گھر والے ایک دوسرے کے دشمن بن جائے گے۔۔!!
اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے وجہیہ چہرے پر پھیرتی نرمی سے اُسے سمجھانے لگی لیکن وہ اُسکی بات پر غصے سے پاگل ہو گیا اور شدت سے اُسکے چہرے پر جھکا اور اپنا دہکتا ہوا لمس اسکی پیشانی ہونٹوں پہ تو کبھی ٹھوڑی پر تو کبھی گردن پر چھوڑنے لگا جبکہ ریحام اُسکی شدت سے چھونے پر اپنی منتشر ہوتی سانسوں پر بمشکل کنٹرول کرنے لگی۔۔
“وقت کی نزاکت کو تُم سمجھو جانم وہ پتہ نہیں کون ہے جس نے ہمارے درمیان تلخی پیدا کرنی کی کوشش کی ہے اور تُم چاہتی ہو کہ میں اِس سچویشن میں تُمہیں خود سے دور کرو تو بھلا تُم ہی بتاؤ میں کیسے تُمہیں اُس انسان کے بیچ چھوڑ سکتا ہو جو تمہارے سائن کر سکتا ہے ہاں بتاؤ مجھے۔۔!!
ارحام انصاری جنونی انداز میں اپنا ایک ہاتھ سختی سے اُسکے ریشمی بالوں میں اٹکا کر اُسکا چہرہ بلکل اپنے چہرے کے قریب کرتا غصے سے کہنے لگا۔۔
ریحام جو اُسکی سخت گرفت کو اپنے بالوں میں محسوس کر رہی تھیں وہ اپنے ہونٹوں کو شدت سے بھینچنے لگی۔
“میں چھوڑنے کی بات کب کر رہی ہو تُم میری حفاظت مجھ سے دور رہ کر بھی کر سکتے ہو اور تم تو مجھے بہتر جانتے ہو کہ میں کوئی معمولی ڈرفوک قسم کی لڑکی نہیں ہو میں ری ہو جو اپنے حق کے لیے لڑنا اچھے سے جانتی ہے اور اگر تُم سے بھی مجھے اپنا حق کسی دن وصولنا پڑا نہ تو میں پیچھے بلکل بھی نہیں ہٹو گی۔۔!!
اپنے دونوں ہاتھ اُسکی گردن کے گرد حمائل کرتی پہلے تو سنجیدگی سے بولی پر آخر میں اُسکے چہرے کو دیکھتی شرارتی لہجے میں کہنے لگی۔۔
ارحام انصاری اسکی حق والی بات پر سنجیدگی سے اپنا فولادی ہاتھ اُسکی نازک کمر پر سختی سے رکھتا اُسے اوپر اٹھا کر دیکھنے لگا جو اُسکی سخت گرفت پر بلبلا کر رہ گئیں تھی۔۔
“جانم حق تّم مجھ سے اپنا حق کیسے لوں گی یہ تو بتاؤ زرا نہیں بلکہ کر کے دیکھاؤ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ میری مس میزائیل اپنا حق اپنے فائر بریگیڈ سے کیسے وصولتی ہے۔۔!!
اُسکی کمر پر گرفت مزید سخت کرتا وہ اُسکے بری طرح سے کانپتے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے بولا۔۔
“مسٹر فائر بریگیڈ صاحب تُم مجھے بلکل بھی ہلکا لینے کی کوشش مت کرو ورنہ میں اپنا حق سچ مُچ تُم سے لے لونگی پھر مت کہنا کہ میرے ساتھ تُم نے اچھا نہیں کیا۔۔!!
وہ اپنے دونوں ہاتھ اُسکی گردن پر سختی سے پھیرتی اُسی شرارتی لہجے میں کہنے لگی جو پہلے وہ کہہ رہی تھی۔۔
ارحام اُسکی کانفیڈنس کو تعجب سے دیکھنے لگا لیکن زور دار جھٹکا تو اُسے تب لگا جب وہ اُسکے چہرے پر جھک کر اپنے نازک ہونٹ اُسکی پیشانی پر رکھ کر وہ اپنے نرم ہونٹوں کی لمس کو اُسکی پیشانی پر چھوڑنے کے بعد اب وہ نیچے اُسکے ہلکی سی بڑی ہوئی بڑیڈ پر جھکی اور مومی گال اسکی بڑیڈ کی چھبن کی پرواہ کیے بغیر اپنے گالوں سے پھیرنے لگی اور پھر اچانک وہ نیچے ٹھوڑی کی جانب بڑھ کر نرمی سے اُسکی ٹھوڑی کو چھونے لگی۔۔
تبھی یکدم سے ارحام نے اُسے گردن کی جانب بڑھنے سے پہلے ہی تیزی سے اپنے دونوں ہاتھ اُسکے گالوں پر رکھے اور پھر اپنے ہونٹوں سے اُسکی نازک ہونٹوں کو الجھا کر شدت سے اُن نرم گلابی پھنکڑیوں کو چھونے لگا۔۔
ریحام کی ساری کانفیڈنس اُسکی حرکت پر دری کی دری رہ گئی اور نازک ہونٹوں پر اُسکا سلگتا ہوا لمس محسوس کرتی شدت سے اُسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتی آنکھیں سختی سے میچ گئی جبکہ ارحام ابکے اُسکے چہرے پر کانفیڈنس کی جگہ شرم کی لالی دیکھ کر خوبصورتی سے مسکرایا اوراپنی شدتوں میں اور تیزی لا کر اُسے مزید گلال کرنے لگا۔۔
