Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
اے بی نے خاموشی سے حور کے روم کی کھڑکیوں کو باہر سے چیک کیا تو کھڑکیوں کے پٹ کو کھولے دیکھ کرمسکرایا اور کھڑی کے ایک پٹ کو آرام سے کھولتا روم کے اندر داخل ہوا تو سامنے حور اُسے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنی چوڑیوں کو ایک ایک کرکے اُتارتی ہوئی نظر آئیں جو ابھی تک ساڑھی میں ملبوس تھی۔
وہ مسکرا کر قدم آہستگی سے اُسکے پیچھے بڑھانے لگا جبکہ حور اُسکی موجودگی سے انجان اپنی نازک گوری کلائیو سے سرمئی چوڑیاں اُتار رہی تھی۔۔۔
“جانم تُم کیوں اتنی محنت کر رہی ہوں میں ہو نا اِن سب کو کرنے کے لیے۔۔۔!!
وہ اُسکے پیچھے کھڑا ہوا اور اُسے اپنے حصار میں لیتااُسکی دونوں کلائیوں کو اپنی گرفت میں لے کر اُسکی چوڑیوں کو ایک ایک کر کے اُتارنے لگا۔۔۔
حور اچانک سے اُسکی حرکت پر اپنی نظریں سامنے شیشے پر مرکوز کرتیں اُسے دیکھنے لگی جو اُسے اپنے حصار میں قید کیے کھڑا اپنی ٹھوڑی کو اُسکی نازک شولڈر پر رکھے اور خاموشی سے مضبوط ہاتھوں سے اُسکی نازک کلائیوں سے چوڑیاں اُتار رہا تھا۔۔
“آپ یہاں کیوں آئے ہیں چلے جائے ورنہ مم۔۔میں۔۔!!!
وہ یکدم سے غصے میں آ کر خود کو اُسکے حصار سے آزاد کرانے لگی۔۔۔
اُسکی مزاحمت کرنے پر اور جانے والی دھمکی پر اے بی نے اپنی نظریں اٹھاکر اُسے شیشے میں دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اُسکی ساڑھی کے پلو کی جانب آہستگی سے بڑھانے لگا۔۔۔
“یہ آپ کیا کک۔کر رہے ہیں۔۔؟؟
حور اُسکے ہاتھ کو اپنی ساڑھی کے پلو کی جانب بڑھتا ہوا دیکھ کر شدت سے کانپی اور پھر غصے سے اُسکے بازوؤں میں بری طرح سے مچلتے ہوئے بولی۔۔۔
“جانم اسے پیار کہتے ہیں جو ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے اور بیوی اپنے شوہر کے ساتھ لیکن میری معصوم اور نازک سی بیوی تو بہت شرمیلی ہے وہ معصوم کہا مجھ سے پیار کرنے کی ہمت کر سکتی ہے اِسی لیے تو میں یہ پیار والا سیکشن خود انجام دیتا ہوں۔۔!!!
اپنے تپش زدہ لبوں کو اُسکی نازک گردن سے بالوں کو سائیڈ پر کرتے ہوئے نرمی سے رکھتا وہ بوجھل آواز میں بولا۔۔۔
حور کا چہرہ اُسکی بے باک حرکت اور الفاظوں پر شدت سے گلال ہوا جیسے دلچسپی سے اے بی نے سامنے شیشے میں دیکھا اور اچانک سے اُسکا رخ اپنی طرف کرتا اُسےڈریسر کی کرسی پر بیٹھاکر وہ خود نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنی جیب سے حور کی من پسند چاکیلٹ نکال کر اُسکے آگے بڑھا کر مسکرایا۔۔۔
“یہ تت۔۔۔۔تو۔۔۔؟؟
حور ساکت نظروں سے وہ چاکلیٹ دیکھتی اُسے بولی۔۔۔
“یہ میری بیوی کی من پسند چاکیلٹ جیسے میں پہلے اپنا رقیب سمجھتا تھا لیکن جب تُم مجھ سے دور ہوئی تو یہ میرا رقیب سے ساتھی بن گیا تھا۔۔۔!!!
وہ مسکرا کر بولا۔۔
حور نے تیزی سے ہاتھ آگے بڑھا کر اُس چاکلیٹ کو لینا چاہا لیکن اے بی نے ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے اُسے مخمور نظروں سے دیکھا۔۔۔
“نہیں بیوی تُمہیں چاکلیٹ کو اب سے ایسے نہیں کھانا بلکہ میں بتاتا ہو کہ اب تمہیں چاکلیٹ کو کیسے کھانا ہے۔۔۔۔!!
چاکلیٹ کے ریپر کو کھولتا وہ اُسے معنی خیز نظروں سے دیکھتا مسکراتے ہوئے بولنے لگا۔۔۔
حور اُسکے چاکلیٹ پیچھے کرنے پر بری طرح سے منہ بسور کر اُسے دیکھنے لگی جو مسکراتے ہوئےچاکیلٹ کا ریپر کھول رہا تھا۔۔۔
“آپ بہت برے ہے ایک چاکلیٹ کھانے کے لیے بھی کوئی اتنا تڑپاتا ہے کیا اور اوپر سے چاکلیٹ بھی یمی اور ٹیسٹی اوپر سے میرا من پسند۔۔۔!!
وہ منہ بسور کر بولتی ہوئی اے بی کو کوئی چھوٹی سی بچی لگے۔۔۔
“بیوی آج میں تُمہیں الگ انداز میں چاکلیٹ کھانا سیکھاؤ گا اور یہ طریقہ بہت یمی اور ٹیسٹی ہے آئی سیور تُمہیں بہت پسند آئے گا۔۔۔!!
اے بی نے چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“کیا سچ میں چلے جلدی سے سیکھائے مجھے بھی اب اُسی طرح کھانا ہے جو آپ مجھے سیکھانا چاہتے ہیں۔۔!!
وہ ساری ناراضگی بھولا کر خوشی سے اے بی کو دیکھتی بولی تو اُسکی خوشی سے چمکتے چہرے کو مہبوت ہو کر دیکھنے لگا۔۔۔
“ہہہہمم اب آپ مجھے جلدی سیکھائے بھی نہ ورنہ چاکیلٹ خراب ہو جائے گی۔۔۔!!!
وہ تیزی سے ساڑھی کو اٹھا کر نیچے فرش پر اُسکے سامنے بیٹھ کر اُسے بری طرح سے جھنجھوڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“ہاں چلوں جانم منہ کھولو اپنا۔۔۔!!
وہ اُسکے جھنجھوڑنے پر چونکا اور اُسے دیکھنے لگا جو اُسے خفگی سے دیکھ رہی تھی تو معنی خیزی سے مسکراتا اُسنے چاکیلٹ کو منہ میں اُسطرح لیا کہ دوسری طرف سے حور بھی لے سکے۔۔۔۔۔
“یہ کیا آپ بھی۔۔۔!!!
حور یہ طریقہ دیکھ کر بری طرح سے سٹپٹا کے رہ گئی تھی کیونکہ جس طرح وہ اُسے سیکھانے کا کہہ رہا تھا وہ طریقہ لندن اور بہت سے یورپی ملکوں میں بوائے فرینڈ اپنی گرل فرینڈ کو کھلاتے تھے۔
“سیویٹی ڈر کیوں رہی ہو یہ طریقہ تو بہت یمی اور ٹیسٹی ہے۔۔۔!!
اے بی نے معنی خیز لہجے میں کہا اور اُسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر تیزی سے چاکلیٹ کا وہ حصہ اُسکے منہ میں ڈالا جو اُسکی طرف تھا۔۔۔
حور یکدم سے اُسکی حرکت پر اپنی ساکت نظروں کو اُسکے چہرے پر گاڑ کر اُسے دیکھنے لگیں جو چاکلیٹ کو دوسری طرف سے اُسے شریر نظروں سے دیکھتا آرام سے کھا رہا تھا کہ ایک ہی جھٹکے سے چاکلیٹ منہ میں لے کر اپنے چاکلیٹ لگے ہونٹوں سے اُسکے ہونٹوں کو چھونے لگا جبکہ چاکلیٹ کا ذائقہ اور اُسکے سانسوں کی مہک کو حور شدت سے محسوس کرتی بری طرح سے کانپنے لگی۔۔۔
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ پیچھے ہٹے۔۔۔؟؟
حور نے اُسکے سینے پر اپنے دونوں نازک ہاتھوں کو رکھتے ہوئے اُسے پیچھے دھکیلا اور شدید غصے سے اپنے منہ پر لگے چاکلیٹ کو صاف کرتی بولی۔۔۔۔
“سجنی محبت اُسے اے بی کے انداز میں شدید محبت کہتے ہیں اور جب تُم میرے پاس آ جاؤ گی نا تو ہر روز تُم سے کیا کروں گا۔۔۔!!!
اپنے منہ پر لگے چاکلیٹ کو صاف کرتے ہوئے وہ معنی خیزی سے اُسکی ہونٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
حور اُسکی بے باکی سے کہنے پر تیزی سے نیچے فرش سے اٹھی اور جلدی سے واش روم کی جانب بڑھنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے اے بی نے اُسے کلائی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تو وہ اُسکے سینے سے آ کر لگی۔۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“شام یہ تُم نے میری آنکھوں پر اپنے ہاتھ کیوں رکھے ہیں ہٹاؤ انہیں مجھے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا۔۔۔!!
عشوہ اپنی آنکھوں کے اوپر رکھے شام کے ہاتھ کے اوپر اپنا نازک ہاتھ رکھتی خفگی سے بولی۔۔۔
“عشو ڈارلنگ اگر میں اپنے ہاتھ ہٹاؤ گا تو میرا سرپرائز دینے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ میں تُمہیں سرپرائز دینے کے لیے یہاں لے کر آیا ہوں۔۔۔!!
شام نے اپنا دوسرا ہاتھ اُسکے نازک ہاتھ کے اوپر رکھتے ہوئے کہا۔۔
“شامی تُم نہ اب بدل گئے ہو پہلے تو بلکل بھی ایسے نہیں تھے صبح گھر والوں کے سامنے مجھے گود میں اٹھایا اور اب اتنی رات کو مجھے گھر سے باہر لے کر آئے ہو اور وہ بھی اِسطرح میری آنکھوں کو بند کر کے نجانے اب تُم مجھے کہا لے کر جا رہے ہو۔۔؟؟
عشوہ صبح کے اُسکی حرکت کو سوچ کر شرم سے سرخ ہوتی چڑ کر بولی جبکہ شام نے کسی کو اشارہ کیا اور پھر اُسنے اپنے ہاتھ عشوہ کے آنکھوں سے ہٹایا تو پہلے تو عشوہ کی آنکھیں اپنے آس پاس کے منظر کو دھندلی نظروں سے دیکھنے لگی پھر فائر کی آواز پر اپنا سر اوپر اٹھا کر آسمان میں چمکتے اپنے اور شام کے نام کو حیرت سے دیکھنے لگی۔
“شام یہ سب۔۔۔؟؟
منہ کھولے وہ آسمان کی طرف اشارہ کرتی بولی۔۔۔
“عشو ڈارلنگ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے اصلی سرپرائز تو تُم ہو جو میری زندگی میں میری بن کر آئی ہو یہ تو مصنوعی خوشیاں ہے جو ہماری اصل خوشیوں سے کم ہے اور دیکھنا میں تمہارے لیے بھی بہت جلد ایک خوشی ثابت ہونگا۔۔!!
وہ محبت سے اُسے اپنے بے حد نزدیک کرتا ہوا بولا تو عشوہ کی دھڑکنیں اُسکی اتنی نزدیکی پر منتشر ہونے لگی تھیں۔۔
“شام ممم۔ مجھے لگتا ہے تُم آجکل بہت الٹی سیدھی فلمیں دیکھنے لگے ہو جو یہ حرکتیں کر رہے ہو وہ بھی اپنی کزن کے ساتھ۔۔۔!!
عشوہ تیزی سے اُس سے الگ ہوتی شرم سے اپنی نظروں کو نیچے جھکا کر خفگی سے بولی۔۔
“عشو ڈارلنگ یہ الٹی سیدھی فلمیں کیسی ہوتی ہے اور تُم کیسے اِن فلموں کے بارے میں جانتی ہوں اور بائے دی وے میں یہ حرکتیں اِس وقت اپنی کزن سے نہیں اپنی بیوی سے کر رہا ہوں۔۔!!
معنی خیزی سے کہتا وہ اُسکا چہرہ گلال کر گیا تھا۔۔
“تُم بہت بدتمیز انسان بن گئے ہو شام پاکستان میں آکر مم۔میں بڑے پاپا سے تُمہاری شکایت لگاتی ہوں۔۔!!
وہ اپنا گلال چہرہ مزید نیچے جھکاتی خفت سے بولی تو اُسکی دھمکی پر شام نے قہقہہ لگاتے ہوئے اُسے اپنی طرف زور سے کھینچا۔۔۔
عشوہ اُسکے یکدم سے کھینچنے پر بری طرح سے اُسکے چوڑے سینے پر آ گری تھی جبکہ شام اب اُسکی پشت پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اُسکی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا اُسے سمٹنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔
جہاں وہ دونوں کھڑے تھے وہاں یکدم سے ایک روشنی جل اٹھی جو دل کی شکل کا تھا اور یہ دیکھ کر شام مسکرانے لگا جبکہ عشوہ تعجب سے دل کی صورت میں جلتے روشنی کو دیکھنے لگی۔۔۔
شام پلیز چھوڑو مجھے۔۔۔!!
عشوہ اُسکے بازوؤں میں پھڑپھڑاتی گھبراتے ہوئے بولی تو شام نے اپنی پکڑ اور مضبوط کیا اور اُسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“نہیں جان چھوڑنے کے لیے تو میں نے نہیں پکڑا اب ساری زندگی میں نے تُمہیں ہی پکڑنا ہے تو تُم ابھی سے ایڈجسٹ کر لوں۔۔۔!!
شام گھمبیر لہجے میں کہتا اُسکے لبوں پر جھکا تو وہ اُسے اپنے لبوں پر جھکتے ہوئے دیکھ کر کپکپانے لگی اور تیزی سے اپنا چہرہ اُسکے چوڑے سینے پر چھپا کر اپنی آنکھوں کو میچنے لگی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اُسکی آنکھیں اپنے سینے پر وزن محسوس کرتے جھٹ سے کھلی تو اُسنے آنکھیں پوری کھول کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور اُس وجہ کو جاننے کی کوشش کیا تو ہاتھ ایک نرم چیز پر پڑی تو اُسنے نیچے جھک کر دیکھا تو رعابہ کو دیکھ کر مسکرایا جو بلانکٹ میں اپنا کومل وجود چھپائے اُسکے سینے پر سر رکھے محو خواب تھیں۔۔۔
یکدم سے اُسنے اُسکے اوپر سے بلانکٹ ہٹایا اور اُس کے اوپر جھکا اور اُسے بغور دیکھنے لگا جو سوئی ہوئی معصوم پری لگ رہی تھی۔۔
“گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ۔۔!!
وہ اُسکے کان میں ہلکی آواز میں شرگوشی کرتا اپنے لب اُسکے لبوں پر رکھتا شدت سے اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔
رعابہ جو گہری نیند میں تھی اپنے لبوں پر نمی محسوس کرتی آنکھیں کھول کر اُسے اپنے اوپر جھکے دیکھ کر شرم سے گلال چہرہ لیے آنکھیں زور سے میچتے نازک ہاتھ اُسکے سینے پر رکھ کر اُسے دور کرنے لگی مگر وہ مدہوشی سے اُسکے چہرے کو چھو رہا تھا اُسکی مزاحمت کرنے پر اُسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے بیڈ کراؤن سے لگاتا ابکے اُسکی نازک گردن کو لبوں سے چھونے لگا۔۔
“پلیز اذان چھ۔۔چھوڑے مجھے۔۔!!
مزاحمت روک کر وہ بے بسی سے بولی۔۔۔
“نہیں جانِ من نہیں آج میں ہماری نئی زندگی کی یہ صبح اور بھی خوبصورت بنانا چاہتا ہوں میں نے کہا تھا نا میں تُمہارے باگڑ بلے کو تُمہارے پاس لے کر آؤ گا تو میں نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے اب تُم میری بات مان جاؤ۔۔۔!!!
نازک ہاتھ بیڈ کراؤن سے ہٹاتا اپنے مضبوط گرفت میں لیتا اُسے مخمور نظروں سے دیکھتا بوجھل آواز میں بولا۔۔
رعابہ اُسکی بات پر اپنی پلکیں عارضوں پر گرا کر اور خودسپردگی کے انداز میں اُسنے اپنا سر اُسکے سینے پر رکھا تو اذان اُسے پلکیں عارضوں پر گراتے اور اپنے سینے پر سر رکھتے ہوئے دیکھ کر مسکرانے لگا۔۔
“میری جنگلی بلی اِسطرح شرماتی بلکل بھی اچھی نہیں لگتی ہے وہ صرف مجھے باگڑ بلا کہہ کر لڑتی ہوئی اچھی لگتی ہے۔۔!!
وہ اُسکی گردن پر ہاتھ سے لکیر کھینچتے ہوئے آہستگی سے نیچے لے جا کر شریر لہجے میں بولا تو رعابہ اُسکی بات پر اُسے سخت نظروں سے دیکھنے لگی اور اپنے نازک ہاتھ اُسکے ہاتھوں پر رکھ کر اُسے مزید گستاخیوں سے روکنے لگی۔۔۔
“کیا مطلب ہے تمہارا کہ میں جنگلی بلی ہو اور ہر وقت لڑتی رہتی ہوں تم بھی تو کم نہیں ہو باگڑ بلے ہر وقت تو لڑا کرتے تھے۔۔!!
سختی سے اُسی دیکھتی بولی۔۔
“ہاں تُم میری جنگلی بلی ہو جو کاٹنے کو ہر وقت دوڑتی ہو اور میں تو معصوم باگڑ بلا تمہاری لڑائیوں کو خاموشی سے دیکھتا ہو اور برداشت کرتا ہوں۔۔۔!!!
اُسکے ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر تکیوں پر رکھتے ہوئے وہ اُس کے اوپر جھکا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر معنی خیزی سے بولا۔۔۔
رعابہ اُسکی حرکت پر اُسے سختی سے دیکھنے لگی جو اُس پر جھکا بغور اُسکے گلابی ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اُسکا ارداہ بھانپ کر تیزی سے اپنا منہ دوسری طرف کرتی شدت سے اپنی آنکھوں کو زور سے میچنے لگی۔۔۔
“جنگلی بلی آنکھیں کیوں بند کر رہی ہوں کیا ڈر لگ رہا ہے باگڑ بلے سے۔۔۔؟؟
شریر آواز اُسے اپنے کانوں کے پاس بے حد قریب سنائی دیا تو وہ اور زور سے اپنی آنکھیں میچنے لگی۔۔
اذان شاہ نے اپنا دائیاں ہاتھ اُسکی انگلیوں سے نکالا جسکی گرفت اُسکی حرکت پر وہ شرم سے مضبوط کر رہی تھیں وہ اپنے اُسی ہاتھ کو آگے بڑھا کر اُسکے سرخ چہرے کو اپنی طرف کرتا اُسکی لرزتی پلکوں پہ اپنے ہونٹ رکھتا اُسے مزید شرمانے پر مجبور کرنے لگا ابکے اُسکے ہونٹ پلکوں سے نیچے گالوں کی جانب سفر کرنے لگے اور رعابہ اُسکی لمس پر بیڈ شیٹ کو شدت سے دبوچنے لگی۔۔۔
“پلیز اذان نہیں۔۔۔!!
آنکھیں سختی سے میچے وہ روہانسی انداز میں بولی۔۔
اذان شاہ اُسکی بات کو نظر انداز کرتا گالوں سے نیچے بڑھنے لگا اور پھر لبوں کے پاس پہنچ کر مدہوشی سےاسکے لبوں پر جھکتا شدت سے اپنی سانسوں کو اُسکی سانسوں میں الجھانے لگا۔۔۔
رعابہ اُسکی شدت پر بری طرح سے مچلنے لگی اور خود کو اُس سے چھڑانے لگی جبکہ وہ اپنی شدت اور بڑھا کر اُسکی سانسوں کو بری طرح سے منتشر کرنے لگا۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
ارحام انصاری نے جب اپنی آنکھیں کھولی تو خود کو ایک سیاہ رنگ کے سادہ کمرے میں پایا تو وہ بیڈ سے اٹھنے لگا کہ درد کی شدت سے اپنا بازوؤں تھام کر واپس بیڈ پر گرا۔۔۔
“ارحام لیٹے رہوں میں نے ابھی تمہارے بازو سے گولی نکالا ہے ابھی تُمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔!!
اپنے پاس اپنے بڑے بھائی کی آواز سن کر وہ آنکھیں کھول کر اُسے دیکھنے لگا جو سامنے کھڑا اُسے پریشانی سے دیکھ رہا تھا۔۔
“بھائی آپ۔۔۔؟؟
وہ نکاہٹ سے بولا۔۔
“ہاں میں حامی اور یہ کیا ہے کس نے تمہارا یہ حال کیا ہے وہ تو شکر کروں کہ کسی نے مجھے بروقت اطلاع دیا ورنہ تُم اس سنسان جگہ میں خون بہنے کی وجہ سے۔۔!!
آگے کے الفاظ اُسکے لبوں سے ادا نا ہوسکے تو ارحام نے انہیں دیکھا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہنے لگا کیونکہ وہ اپنی آرمی والی بات سب سے چھپائے ہوئے تھا اپنے بھائی سے بھی جہنیں وہ اپنی ہر بات شئیر کرتا تھا۔۔
“بھائی یہ میرے یونی کے دشمن گروپ کا کام ہے آپ فکر مت کرے انہیں میں دیکھ لونگا۔۔۔!!
وہ درد کے باوجود بھی مسکرایا جبکہ جاسم نے اُسے بری طرح سے گھورا اور بیڈ پر اُسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔
“اپنی حالت دیکھو کیا تُم اِس حالت میں انکے ساتھ لڑ سکتے ہو نہیں تم ابھی اس بیڈ سے اچھی طرح اٹھ نہیں سکتے تو لڑوں گے کہا سے اور ابھی میں نے گھر میں بھی کسی کو نہیں کہا ہے وہ پریشان ہونگے اور پھر لاڈ صاحب اُنہیں پریشان ہونے کے خیال سے خود کو مزید تکلیف دینگے تاکہ اٹھ کر انکے سامنے مسکراتے ہوئے انہیں یقین دلا سکے کہ وہ بلکل ٹھیک ہے۔۔!!
اُسے گھورتے ہوئے واپس بیڈ پر لٹا کر اٹھا اور کہنے لگا جبکہ ارحام انصاری اُنکی بات پر زور سے قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔۔۔
“آہہہ۔۔۔!!
ہنسنے کی وجہ سے اُسکے زخم پر زور پڑا اور وہ کراہا کر رہ گیا اور جاسم اُسکی تکلیف سے کراہنے پر تیزی سے آگے بڑھا اور اُسکے بازو کی جانب دیکھنے لگا جہاں بینڈچ سرخ ہونے لگا تھا۔۔۔
“پلیز بھائی آپ پیچھے ہو جائے میں خود مینج کر لونگا اور ابھی آپ کو ویسے بھی بھابھی کے پاس ہونا چاہیے وہ پریشان ہو رہی ہونگی ویسے بھی کافی رات ہوگئی ہے یہاں آصف تو موجود ہوگا میری دیکھ بھال کرنے کے لیے۔۔۔!!
وہ تکلیف کی پرواہ کئے بغیر مسکراتے ہوئے بولا تو جاسم نے اُسے گھورا اور سامنے رکھی درد کی گولی اُسے پکڑا کر پانی گلاس میں ڈال کر دینے لگا تو وہ گولی منہ میں رکھتا گلاس اُسکے ہاتھوں سے لے کر وہ گولی نگلنے لگا۔۔۔
“حامی میں تو جا رہا ہوں یاد رکھنا تُم اگر بستر سے اٹھے نا تو میں واپس آکر تمہاری اچھے سے کلاس لونگا۔۔!!
ہاتھ اٹھا کر اُسے وارننگ دیتا وہ کہنے لگا۔۔
“اوکے بھائی میں اس بستر سے بلکل بھی نہیں اٹھو گا آپ بے فکر رہے۔۔۔!!
وہ مسکرا کر کہنے لگا۔۔۔
جاسم آصف کو اچھے سے سمجھا کر اپنے فلیٹ سے باہر نکلا جبکہ ارحام انکے نکلتے ہی زدر چہرہ لیے اپنا بازو پکڑ کر بمشکل بیڈ سے اترا اور آصف کی جانب دیکھنے لگا جو باہر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا آہستگی سے اُسکے پیچھے بڑھا اور اُسکی گردن کی مخصوص رگ کو دبا کر اُسے بے ہوش کرکے پیچھے ہٹا اور پرسرار مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بازو کو تھامتا تیزی سے فلیٹ سے باہر نکلا۔۔
