117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

“مائے گاڈ بابا یہ واچ آپ نے میرے لئے منگوایا تھا ۔۔؟؟
حور نے خوشی سے خوبصورت واچ کو چھوا اور پھر مسکرا کے شاہ بخت سے پوچھنے لگی۔۔۔جو سامنے حنیہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھا محبت سے اپنی بیٹی اپنی زندگی حور کو دیکھ رہا تھا۔
اور حنیہ باپ بیٹی کے پیار کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔اور دعا کر رہی تھی۔۔۔کہ اُسکی بیٹی اٗسی طرح ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہے۔
“کیوٹی آپ جب بھی اداس ہوگی نا تو یہ واچ آپکو ہماری یاد دلائی گی۔اگر آپ جب بھی پریشان ہو تو اِس واچ کو ڈیڈی سمجھ کر اپنی ہر بات اِس سے
شئیر کرنا اوکے مائے پرنسس۔۔”
شاہ صوفے سے اٹھا اور آگے بڑھ کر اُسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے پیار سے بولنے لگا۔تو حور خوشی سے اِنکے سینے پر اپنا سر رکھ کر آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی۔
“بابا آپ ورلڈ کے بیسٹ ڈیڈی ہے۔آئی لو یو سو مچ۔”
وہ اپنا سر اوپر اٹھا کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔تو شاہ بخت نے مسکراتے ہوئے اُسکے معصوم چہرے کو پیار سے دیکھا۔۔۔اور پھر حنیہ کی جانب دیکھتے ہوئے شرارتی لہجے میں حور سے کہنے لگا۔
“کیوٹی لگتا ہے۔آپکی مما جیلس ہو رہی ہے۔۔ہمارے پیار سے ہگ کرنے پر کیوں وائفی سہی کہا نا میں نے۔؟؟
حنیہ کو شرارتی انداز میں دیکھتے وہ حور کو حنیہ کی جانب متوجہ کرتے ہوئے بولا۔تو حنیہ نے اُس بے شرم کو تیز نظروں سے گھورا۔
“بابا لگتا نہیں لگ رہا ہے۔کیونکہ مما جیلس کے مارے ہمیں ایسے دیکھ رہی ہے۔۔۔۔۔جیسے چوہا بٹر کو للچائی نظروں سے دیکھتا ہے۔”
حور ناک پر پھسلتے گلاسس کو درست کرتی شرارتی لہجے میں بولی۔اِس طرح کرتی وہ اِنہیں ایک کیوٹ سی ڈول لگ رہی تھی۔
“بڑے پاپا اب ہمیں ائیرپورٹ کے لئے نکلنا چاہیے ورنہ ہم لیٹ ہو جائے گے۔کیونکہ دوسری فلائٹ کے ٹکٹ شاید ہمیں کل تک ملیں اور کل تو ہمارا یونی میں پہلا دن ہوگا۔اور اگر ہم پہلے ہی دن لیٹ ہوگئے تو ساری زندگی لیٹ ہو جائے گے۔”
ری وہاں آ کر تیزی سے حور کے بیگ کو بیڈ سے اٹھا کر شاہ بخت سے اپنے ازلی مردانہ انداز میں بولی۔۔۔اور روم میں داخل ہوتے سعد نے اُسے ناگواری سے دیکھا۔
“اوکے مائے پرنسس ائینڈ مائے ٹائیگر میں تو آپ لوگوں کو ائیرپورٹ تک چھوڑنے نہیں آ سکو گا۔۔کیونکہ آج سڈنی میں میرا ایک اہم میٹنگ ہے۔۔۔۔۔اُسی لئے مجھے ابھی آفس کے لئے نکلنا ہوگا۔”
شاہ بخت اُن دونوں کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئیں بولا۔تو اُن دونوں نے اُسے دائیں اور بائیں سے کندھے سے پکڑ کر زور سے کہا۔
“بابا اٹس اوکے۔۔۔آپ نے آج ہمارے ساتھ اتنا سارا وقت گزارا ہے نا۔یہ ہمارے لئے بہت یاد گار ہوگا۔اورجب ہم دونوں واپس آئے گے نا۔تو آپ کو بلکل بھی نہیں چھوڑے گے۔اور آپ ہمیں پورے لندن کی سیر کرانے لیں کر جائے گے۔”
دونوں نے یک زبان ہو کر کہا۔۔تو شاہ بخت نے مسکرا کر ان دونوں کے سر پر اپنے لب رکھتے ہوئے اُنہیں پرومس کیا تو دونوں نے زور دار نعرہ لگاتے ہوئے اُسے ہگ کیا۔
💕💕💕💕💕💕
“سر آپکی فلائٹ کا وقت۔”
“بھٹایا جی یہ فلائٹ مجھے اوپر پہنچانے کے لیے ہے یا پھر میرے پاکستان پہنچنے کے لئے لندن ائیرپورٹ پر تیار کھڑی ہے۔؟
بھاٹیا آگے کچھ کہتا اے بی وائن کا گلاس اپنے آنکھوں کے سامنے کرتے ہوئے بولا۔
“سر یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔بھلا فلائٹ آپ کو اوپر پہنچانے کے لئے کیوں ائیرپورٹ پر تیار کھڑی ہوگی۔”
بھاٹیا صاحب نے موبائل دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے ہوئے کہا۔
“بھاٹیا جی آپ بھی نا کتنے معصوم ہے۔اے بی دی سپر اسٹار پاکستان کے لئے آج لندن ائیرپورٹ پر جائے گا۔اور یہ بریکنگ نیوز لٹو کی طرح گول گول سارے شہر میں اِس وقت گھوم رہا ہوگا۔اور اے بی کے پاگل دیوانے فینز اُسکی صرف ایک جھلک دیکھنے کے لئے وہاں سردی اور دھوپ کی پرواہ کئے بغیر آپ کو ملے گی۔اور آپ چاہتے ہیں۔۔کہ اے بی وہاں اتنی بھیڑ میں چلا جائے ڈیم اٹ۔”
وہ گلاس غصے سے سامنے دیوار پر مارتے ہوئے بولا۔تو بھاٹیا اُسکی خونخوار نظروں سے خوفزدہ ہو کر اپنے قدم پیچھے لینے لگا۔
“سوری سر مم۔میں ابھی سیکورٹی کو تیار کرتا ہو۔تاکہ آپ ایزی ہو کر ائیرپورٹ تک پہنچ سکیں۔”
بھاٹیا موبائل پر نمبر ڈائل کرتے ہوئے گھبرا کر بولا۔تو اے بی اُسے اپنی سرخ نگاہوں سے دیکھتے اپنا ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر اُسے روکتے ہوئے کہنے لگا۔
“اے بی اپنی حفاظت خود کرنا اچھے سے جانتا ہے۔اُسے آپکے اِن سو کالڈ گارڈز کی ضرورت نہیں ہے۔۔میں اپنا چہرہ ماسک سے چھپا کر جاؤ گا۔۔اور ہاں بزنس کلاس سے نہیں بلکہ میں اکنامی کلاس سے جا رہا ہو۔اِس طرح میں میڈیا اور فینز کی نظروں میں نہیں آؤ گا۔”
وہ سامنے کرسی پر رکھے بلیک ہوڈی کو اٹھاتے ہوئے بولا۔تو بھاٹیا نے اُسے پریشانی سے دیکھا جو لاپرواہی سے اپنی بات کہہ کر اب ہوڈی پہن رہا تھا۔وہ ہوڈی پہن کر اسٹول کھینچ کر بیٹھا اور پھر سے دو تین پیک اور وائن کے چڑھانے لگا۔
💕💕💕💕💕💕
“کیوٹی کیا ہوا تم رک کیوں گئیں۔؟؟
ری جب جہاز کے اندر داخل ہوئی تو اُسے گھبڑاہٹ کے مارے اردگرد اپنی نظریں ڈورہا کر دیکھنے پر وہ آگے بڑھی اور اُسے کندھوں سے پکڑ کر پوچھنے لگی۔
“ری آپ پلیز مم۔مجھے اکیلا مت چھوڑے آپکو پتہ ہے نا۔مم۔میں اونچائی سے ڈرتی ہو۔”
حور اپنے کپکپاتے نازک ہاتھ اُس کے ہاتھوں میں رکھتے ہوئے روہانسی ہو کر بولی۔تو ری اُسکے گالوں پر بہتے آنسوؤں کو نرمی سے صاف کرتے ہوئے کہنے لگی۔
“ایسکیوز می۔۔۔۔!!اگر آپ لوگوں کا یہ بہن والا لو ختم ہوگیا ہو۔۔۔تو کیا میں اپنی سیٹ پر جا سکتا ہوں۔”
اپنے پیچھے ایک بھاری مردانہ آواز سن کر وہ دونوں پلٹ کر پیچھے دیکھنے لگی۔اور سامنے کھڑے اے بی کی نظریں جب حور پر پڑی تو پلٹنے سے انکاری ہوگئی ۔اور حور اُس شخص کی نظروں سے نروس ہو کر خوف سے ری کے ہاتھوں پر دباؤ بڑھانے لگی۔
“اے مسٹر جاؤ اور خاموشی سے اپنی سیٹ پکڑو ورنہ میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤ گا۔تُمہیں جہاز سے نیچے پھینکنے میں سمجھے۔”
ری اپنی انگلی اٹھا کر سختی سے اے بی کو دیکھتی اپنے ازلی مردانہ لہجے میں اسے دھمکی آمیز لہجے میں بولنے لگی۔لیکن اے بی کہا اُسے سن رہا تھا۔جو اُسے اپنے انداز میں جواب دیتا۔وہ تو کب سے اُسی طرح کھڑا حور کو دیوانوں کی طرح دیکھ رہا تھا۔
جب سامنے محبوب کا خوبصورت چہرہ ہو۔
تو ہمیں موت بھی منظور ہے اے دنیا والو۔
اے بی کی نظریں حور کی آنکھوں سے جب چار ہوئی ایک شاعری اُسکے لبوں سے خود بخود نکلی۔اُسکی شاعری سن کر سبھی نے ہوٹنگ کرنا اسٹارٹ کر دیا۔اور حور اُس شخص کہ بے باکی سے شاعری پڑھنے پر گھبڑاہٹ کے مارے زور سے کانپنے لگی۔
“My Snow White.”
ڈر سے کپکپاتا نازک وجود اے بی کی نگاہوں سے بلکل بھی پوشیده نا رہ سکا۔وہ اُسے بے قراری سے پکارتے ہوئےآگے بڑھا اور اُسے نیچے گرنے سے بچانے ہی والا تھا۔کہ ری آگے بڑھی اور تیزی سے اُسے تھام کر سامنے والی سیٹ پر بیٹھا کہ وہ خود اسکے لئے جوس لینے کو بھاگی۔
“Are you OK My snow white.”
وہ انسان جو کبھی کسی کے آگے نہیں جھکا تھا۔آج حور کے سامنے نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے بے چینی سے بولا۔۔۔۔اُسکے چہرے پر اگر ماسک نا ہوتا تو وہاں بیٹھے سبھی مسافر حیرت زده رہ جاتے۔کیونکہ وہ اے بی دی سپر اسٹار تھا۔جو اپنے آگے کسی کو جھکانا تو اچھے سےجانتا تھا لیکن خود جھکنا اُسے کبھی بھی منظور نہیں تھا۔۔۔۔۔حور جو اُس سے خوفزدہ تھی۔۔اُسے اپنے بے حد نزدیک اور اپنا ہاتھ پکڑتے دیکھ وہ زور سے رونے لگی۔
“اسٹاپ اٹ۔۔۔۔۔!!
سنو وائٹ آج کے بعد تُمہاری اِن خوبصورت آنکھوں میں آنسو بلکل بھی نہیں آنے چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ میں خود کو اور تُمہیں ختم کر دو گا۔کیونکہ اب یہ آنکھیں صرف اے بی کی پراپرٹی ہیں۔اور اگر تُمہیں کسی نے رولایا تومیں اُس انسان کو کاٹ کر رکھ دونگا۔”
جنونی انداز میں کہ کر وہ دیوانگی کی حد پار کرتی اپنی سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگا۔جو اپنے نازک ہاتھ اُسکی مضبوط گرفت سے روتے ہوئے آزاد کروا رہی تھی۔
“اے مسٹر چھوڑو میری کیوٹی کو ورنہ انجام بہت برا ہوگا۔”
ری نے جوس کا گلاس سامنے کھڑی لڑکی کو غصے سے پکڑایا اور خود اے بی کی جانب بڑھی اور اسے بری طرح سے کھینچتے ہوئے اُسنے حور سے دور کیا اور پھر اُسکی جانب دیکھتے ہوئے وہ اُس سے سخت لہجے میں بولی۔
“اُسے چھوڑنے کی بات پر انجام تو میں آپکا بھی برا کر سکتا ہو مس ہوں سوری آئی مین مس + بوائے۔
کیونکہ کوئی شخص جب آکر اے بی کو اُسکی فیورٹ چیز چھوڑنے کا کہے گا۔تو اے بی دی سپر اسٹار اُس کو گلاب کا پھول تو نہیں پہنائے گا۔۔ہاں اُس شخص کے مرنے کے بعد وہ اُسکے لئے اُسکی فیملی کو ایک روز کا خوبصورت بکے ضرور بھیجیں گا۔”
وہ ماسک اپنے چہرے سے ہٹا کر ری کی آنکھوں میں دیکھتے سرد لہجے میں بولا۔اور اُسکی بات پر آج پہلی بار ری کو کسی سے اتنا خوف محسوس ہوا کہ وہ کانپتے ہوئے قدم پیچھے لینے لگی۔
“او مائے گاڈ اے بی۔”
سب مسافرو نے جب اے بی کا چہرہ دیکھا تو وہ خوشی کے مارے چیخ مارتیں ہوئے اُسکی جانب بڑھنے لگیں۔اور کچھ اُسے دیکھ کر اموشنل ہو کر رونے لگے تھے۔
جبکہ حور اچانک سے اتنی زیادہ بھیڑ دیکھ کر بری طرح سے روتے ہوئیں گھبراہٹ کے عالم میں آگے بڑھ کر ری کے سینے پر اپنا سر رکھا۔۔
اور یہ منظر دیکھ کر اے بی غصے سے پاگل ہو گیا اور تیزی سے آگے بڑھ کر اُسے ری سےالگ کرتے ہوئیں غصے سے اپنے شور مچاتیں فینز سے کہنے لگا۔
“آئی سے سٹاپ اٹ ڈیم اٹ۔دیکھ نہیں رہیں تم سب لوگ کہ وہ تم لوگوں کی وجہ سے ڈسٹرب ہو رہی ہے۔”
سختی سے اُسے خود میں بھینچتے وہ غصیلی آواز میں بولا۔تو اُسے حور کے لئے اتنا زیادہ جنونی دیکھ کر اُسکے کچھ فینز تو حور کو رشک سے دیکھنے لگے تھے۔تو کچھ حسد سے جبکہ ری شاکڈ نظروں سے اے بی کو حور کے لئے پاگل دیکھ کر کھڑی کی کھڑی رہ گئیں تھی۔
“کیوٹی چلو جلدی سے ورنہ یہ سائیکو انسان ہمیں نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔”
ری حور کو کندھوں سے پکڑ کر آہستگی سے کہہ کر اے بی کی جانب دیکھنے لگی۔جو اب اپنے فینز کو غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اُسے اپنے فینز کی جانب متوجہ دیکھ ری حور کو لیے سامنے چھوٹے سے واش روم کی جانب بڑھی اور اندر داخل ہو کر باہر دیکھنے لگی۔
“سنو وائٹ۔”
اے بی کی نظریں جب اپنے فینز سے ہٹی تو حور کو وہاں نا پاکر وہ پاگلو کی طرح اُسے ڈھونڈنے لگا۔اُسی وقت فلائٹ کی کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ ہونے کی اناؤسمنٹ سن کر غصے سے اُسنے سامنے سیٹ پر زور سے مکا مارا اور تیزی سے دروازے کی جانب بڑھا۔
💞💞💞💞💞💞
“ری مم۔میں اِس طرح باہر کیسے۔؟
حور آئینے کے سامنے کھڑی حیرت سے خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔کیونکہ وہ اِس وقت ائیرپورٹ کے ایک چھوٹے سے واش روم میں اسکول یونیفارم پہنے کوئی کیوٹ سی بچی لگ رہی تھیں۔اور ری سنجیدگی سے اُسکے بالوں کی پونی ٹیل بنا رہی تھی۔
“کیوٹی اگر ہمیں باہر نکلنا ہے۔تو تُمہیں یہ سب کرنا پڑے گا۔ورنہ وہ سائیکو انسان تُمہیں اٹھا کر لے جائے گا۔تُم نے اُسے دیکھا نہیں کہ وہ کیسے ایک ہی نظر میں تُمہارا عاشق بن گیا۔اور وہ پاگل انسان تُمہارے پاس کسی کو بھی آنے نہیں دے رہا تھا۔حتکہ مجھے بھی نہیں۔تو مجھے جہاز سے نکلتے ہی پہلا خیال تُمہارے اسکول یونیفارم کا آیا اسی لیے میں نے کسی بھی طرح کرکے تُمہارا بیگ کسی سے منگوایا اور اب تم ریڈی ہو۔دیکھو تو میں بھی خود اپنی کیوٹی کو پہنچان نہیں پا رہی ہو۔تو وہ سائیکو انسان کس کھیت کی مولی ہے۔میری سونیو کو پہنچان کر دیکھائے تو میں مانو اُس پاگل عاشق کو بڑا آیا سنو وائٹ کہنے والا مائے فٹ۔”
ری غصے سے سامنے دیوار پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی۔تو حور اُسے اتنا زیادہ غصہ کرتے دیکھ کر وہ ڈرتی اُسکے پیچھے آن کھڑی ہوئی اور اُسکے کندھوں پر اپنا نازک لرزتا ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگی۔
“ری پرنس اُنہیں میں کیا بتاؤ گی ۔؟؟ جب وہ مجھے اسکول یونیفارم میں دیکھیں گے۔”
حور کو اذان شاہ کا خیال آیا تو وہ پریشانی سے ری سے بولی۔تو ری بھی یکدم سے اپنے بڑے بھائی کے بارے میں سوچ کر پریشان ہونے لگی۔کیونکہ اِس بارے میں تو اُسنے بھی سوچا نہیں تھا۔اور اے بی نے کہا اُسے سوچنے
کا موقع دیا تھا۔کہ وہ اذان شاہ کے متعلق سوچتی۔
“او مائے گاڈ۔۔!!
کیوٹی وہ ہٹلر تو بال کی کھال نکالنے میں ماہر ہیں۔اگر اُسے پتہ چلا کہ اّسکی حوری کو کسی نے رولایا ہے۔تو وہ پہلے تو مجھے گولی سے اڑائے گا۔پھر اُس شخص کو۔”
وہ پریشانی سے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے حور سے بولی۔جو پرنس کے بارے میں سوچتے ہوئے خود بھی کافی پریشان لگ رہی تھی۔تبھی اُسے اذان شاہ کا کل رات والا کال یاد آیا جب اُسنے اپنی خواہش کا ذکر اُس سے کیا تھا۔تو وہ خوشی سے ری کو کندھوں سے پکڑ کر زور سے گول گول گھوما کر بولی۔
“ری برو یاد ہے۔ آپ کو کل رات پرنس نے مجھے کال کیا تھا۔اور اُنہوں نے اپنی ایک خواہش مجھ سے کئی تھی۔کہ
وہ مجھے اُسی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔جب آخری بار اُنہوں نے مجھے لندن میں دیکھا تھا۔اور ری برو آپکو پتہ ہے میں اُس وقت اسکول گرل تھی۔اور اُنکی فلائٹ بھی صبح سات بجے کی تھی۔اور حیرت کی بات دیکھیں میں نے بلکل اُسی طرح کا یونیفارم پرنس کو کسی دن سرپرائز دینے کے لیے آڈر پر بنایا تھا۔اور وہ میرے بیگ میں موجود ہے۔”حور خوشی سے اُسے گول گول گھماتی ہوئی بولی۔
“شکر کیوٹی یہ مسلہ بھی خدا نے خود حل کر دیا ورنہ قسم سے وہ ہٹلر آج مجھے گولی مار دیتا۔اور یہ سب اگر بڑے پاپا کو پتہ چل جاتا نا تو وہ مجھے بم سے باندھ کر اڑا دیتے۔”
ری جھرجھری لیتے ہوئے بولی۔تو حور پہلی بار مسکرانے لگی۔اور مسکراتے ہوئے اُسکے بائیں گال پر ڈمپل نمودار ہوتے ہوئے دیکھ کر ری نے خوشی سے آگے بڑھ کر اُسکے ڈمپل پر اپنے لب رکھ دئیے۔
“ری..؟؟
حور سرخ چہرہ لیے نروس ہو کر اپنا سر نیچے جھکاتے ہوئے بولی۔تو ری نے زوردار قہقہہ لگایا اور اُسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے شرارتی لہجے میں کہنے لگی۔
“کیوٹی تم شرما تو ایسے رہی ہو۔جیسے میں ری نہیں تمہارا ہونے والا شوہر ہو۔جس کو تم رومنٹک موڈ میں دیکھ کر بری طرح سے کانپ رہی ہو۔۔اور قسم سے اگر تمہارا بندہ سچ میں اِس وقت تمہارے سامنے رومنٹک موڈ میں کھڑا ہوتا نا تو تم نے تو بے ہوش ہو ہی جانا تھا۔
ارے یار کیوٹی باہر تو مت جاؤ وہ بدتمیز کمینا سائیکو انسان تُمہیں ابھی بھی باہر پاگلو کی طرح ڈھونڈ رہا ہے۔”
ری کے بے شرمی سے کہنے پر وہ شرم سے گلال چہرہ لئے باہر کی جانب بھاگی لیکن ری کی بات پر خوفزدہ ہو کر واپس اُس کے پاس بھاگتی ہوئی واش روم میں داخل ہوئی تھی۔
💕💕💕💕💕💕💕
اذان شاہ کا سیکرٹری جمال بھاٹیا جی کے ساتھ کھڑا بیزاری سے اے بی کا انتظار کر رہا تھا لیکن اے بی تھا کہ ابھی تک باہر نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
” اے بی سر۔”
بھاٹیا کی پرجوش آواز پر اُسنے سامنے دیکھا تو اے بی جو بلیو شرٹ پر وائٹ پینٹ پہنے جیکٹ کندھوں سے لگائے وہ اِس وقت کسی ریاست کا ایک خوبصورت مغرور شہزادہ لگ رہا تھا۔ اپنے قدم اُنکی جانب سنجیدگی سے بڑھا رہا تھا۔ لیکن اُسکی سیاہ سرخی مائل آنکھیں اپنے اردگرد کسی کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹک رہی تھی۔
“ویلکم ٹو پاکستان دی سپر اسٹار اے بی۔”
جمال خوش اخلاقی سے آگے بڑھا اور اُسکے آگے اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے بولا۔لیکن اے بی نے اُسکے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنا سر ہلایا۔
جمال کو اپنے اگنور کرنے پر شدت سے سبکی محسوس ہوا تو اُسنے اپنا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے سخت نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔جو ائیرپورٹ کہ چاروں جانب اپنی نظریں ڈورہا رہا تھا۔
“بھاٹیا جی کیا آپ نے ابھی یہاں سے کسی پنک شرٹ کے اوپر بلیک مفلر ڈالیں کسی لڑکی کو جاتیں ہوئے دیکھا ہے۔؟
اے بی نے بیقراری سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بھاٹیا سے پوچھا جو اُسکے سوال پر حیرانی سے اُسے دیکھنے لگا۔جو اسے اپنے ہوش میں بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا۔
“نہیں سر میں نے تو یہاں کسی پنک شرٹ والی لڑکی کو نہیں دیکھا۔کیوں سر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔اُس لڑکی
کے متعلق اُسنے کیا کیا ہے۔”
بھاٹیا نے اُسے بے چینی سے اپنے ماتھے پہ آئے سلکی بالوں کو پیچھے کرتے کبھی ادھر تو کبھی اُدھر چکر لگاتے ہوئے دیکھا تو وہ اُس سے پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
“بھاٹیا جی اُسنے کیا کیا یا کیا نہیں اُسکے متعلق سوچ کر آپ اپنا یہ تربوز کی طرح پھیلتے وجود کو لاغر مت کرے۔بلکہ جا کر اُسے ڈھونڈے ورنہ میں آپکے یہ تندرست وجود پر راکٹ باندھ کر آپ کو چاند کی سیر کروانے پہنچا دونگا.”
بھاٹیا کو کالر سے پکڑ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اے بی نے اُسے وارننگ دیتے ہوئے کہا۔تو بھاٹیا اُسکے سخت غصے سے وارننگ دینے پر شدت سے کانپ اٹھا تھا۔
“یس سس۔سر میں اِنہیں ڈھونڈنے کے لئے اپنے آدمیوں کو لگاتا ہو۔وہ لڑکی جلد آپ کو مل جائے گی۔آپ فف۔فکر مت کریں۔”
بھاٹیا ہکلاتے ہوئے بولا۔تو اے بی نے حور کو سوچتے ہوئے اسکے کالر کو نرمی سے چھوڑا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسکے شرٹ پر نادیدہ مٹی کو جھاڑنے لگا۔
“بھاٹیا جی سنو وائٹ مجھے صحیح سلامت چاہیئے اُسے تکلیف پہنچانے کا حق صرف اے بی کا ہے۔اور اگر تُمہارے آدمیوں نے اُسے چھونے کی خطا کیں تو آپکو اّن سب کی لاشیں اے بی مینشن کے باہر ملے گیں۔کیونکہ اُسے صرف
اے بی کو چھونے کی اجازت ہے۔کسی سڑک چھاپ غنڈو
کی نہیں۔بھاٹیا جی آپ تو سمجھ گئے ہونگیں۔
اب اُن سب کی باری جائیں اور جاکر آپ اُنہیں بھی اچھے سے سمجھائیں کہ سنو وائٹ کو چھونے کی غلطی اُنہیں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔اُسی لئے آپ اِنکے ساتھ کچھ لیڈی گارڈز بھی لگائے اِس کام کے لئے۔”
بھاٹیا کو اُسکا لہجہ تو عام سا لگ رہا تھا۔۔۔لیکن تیور اُسکے اتنے ہی خطرناک لگ رہے تھے۔اور آنکھوں پہ جنون کی وجہ سے سرخی پھیل رہا تھا۔یہ سب دیکھ کر بھاٹیا کو یکدم سے وہ ایک دیوانہ عاشق لگ رہا تھا۔۔۔۔جو اپنی محبوبہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے تڑپ رہا تھا۔
جبکہ جمال اپنے نظر انداز ہونے پر غصے سے اُن دونوں کو گھورتے ہوئے ائیرپورٹ سے باہر نکلتا چلا گیا تھا اب اُسے اے بی کے پرپوزل کو ریجیکٹ کرنے والی بات باس کو بھی تو بتانی تھیں۔
💕💕💕💕💕💕💕
“سر اے بی نے ہمارے شاہو برانڈ کے لیے ماڈلنگ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔”
اذان شاہ آفس میں داخل ہونے سے پہلے اپنے سیکرٹری سے اے بی کے متعلق پوچھنے لگا۔۔۔۔جس کو وہ اپنے کپڑوں کے برانڈ شاہوں کے لئے ایز آ ماڈل لینا چاہتا تھا۔تو جمال نے اُسے اے بی کے پرپوزل ریجکیٹ کرنے کا بتایا
“اے بی اتنی بڑی آفر کو کیوں ٹھکرا رہا ہے۔شاہو برانڈ میں کام کرنا ہر ایکٹر کی خواہش ہیں۔۔۔۔ کہ وہ آیز آ ماڈل ماڈلنگ کریں۔۔۔جمال وہ بے وقوفی کر رہا ہے۔ایک کروڑ کو ٹھکرا کر۔”
اذان شاہ اپنے روم کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔اُسکے لہجے میں دولت کا غرور صاف نظر آ رہا تھا۔اُسکا سیکرٹری جمال اُسکی بات پر متفق انداز میں اپنا سر ہلانے لگا۔۔۔۔اور اُسے اے بی کے اوپر سخت غصہ آ رہا تھا کہ اُسنے کیوں اُسے نظر انداز کیا تھا۔
“بلکل سر وہ بہت بڑا بے وقوف ہے۔جو اتنا بڑا اور شاندار آفر کو ٹھکرا رہا ہے۔۔سر وہ بہت ہی گھمنڈی ضدی اکڑو مزاج کا انسان ہے۔۔
اور اپنے سامنے تو وہ ہر انسان کو کیڑا سمجھتا ہے۔۔اچھا ہوا جو اُس نے خود انکار کر دیا۔۔۔۔ورنہ سر خامخواہ ہمیں اُسکے نخرے برداشت کرنے پڑ جاتیں۔”
اپنے سیکریٹری کی بات پر اُسکے چلتے قدم آفس کے روم کہ سامنے آ کر رکیں تھے۔تو اُسے رکتے دیکھ کر اسکا سیکریٹری خاموش ہوگیا۔
“انٹرسٹنگ..!! پہلی بار اپنے جیسے ضدی انسان کی زندگی کے ساتھ کھیل کر مجھے بہت مزا آنے والا ہے۔جمال جیسے بھی کر کے اُس اے بی کو مناؤ۔۔کیونکہ اُسنے میرا پرپوزل ریجکیٹ کر کے اچھا نہیں کیا۔سزا تو اُسے ملنی چاہییے ۔”
سرد لہجے میں کہہ کر وہ جمال کو ایک نئی فکر میں مبتلا کرکے اپنے آفس روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔اور جمال کو اپنے باس سے ڈر لگنے لگا۔ کیونکہ باس نے اُسے کام جو ایسا دیا تھا۔جسے کرنا شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے برابر تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اے بی اُسکے باس سے بھی زیادہ خطرناک انسان ہے۔۔آج تک کسی میں اتنی ہمت پیدا نہیں ہوئی تھی کہ وہ اے بی سے پنگا لے سکیں۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ اے بی ایک آگ برساتا ہوا سورج تھا۔جسکے چھونے سے انسان جل کر ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔
💕💕💕💕💕💕
“تو سنو وائٹ ہمارا جدا ہونا بھی اتنی جلدی خدا نے طے کر دیا تھا۔نن۔۔نہیں میں تُمہیں اتنی آسانی سے اپنی زندگی سے جانے نہیں دو گا۔سنا تُم نے۔۔مم۔میں کبھی ہار نہیں مانو گا۔اور ویسے بھی اے بی نے کبھی ہارنا سیکھا ہی نہیں تُم دنیا کے جس کھونے میں بھی چلی جاؤ میں تُمہیں ڈھونڈ نکالو گا۔”
اے بی ایئرپورٹ سے آ کر سیدھا اپنے روم کی جانب بڑھا اور روم کے اندر داخل ہو کر اپنے روم سے منسلک سوئمنگ پول کی جانب بڑھا اور وہاں پہنچ کر اُسنے اپنے قیمتی اور برانڈ کپڑوں کی پرواہ کیے بغیر سوئمنگ پول کے اندر غصے سے کودا اور جنونی انداز میں سوئمنگ کرنے لگا۔بھاٹیا جو اُسے اذان شاہ کے متعلق بتانے آیا تھا۔
وہ اسے اتنے جنونی انداز میں سوئمنگ کرتے دیکھ خاموشی سے کھڑا ہو کر اُسے دیکھنے لگا۔جبکہ اے بی کی آنکھوں کے اسکرین پر حور کی خوبصورت تصویر نمودار ہوئیں تو اُسکا غصہ یکدم سے غائب ہوگیا۔۔اور وہ اُسی طرح آنکھیں بند کر کے اُسے مسکراتے ہوئے سوچنے لگا۔
“سر وہ اذان شاہ کا سیکریٹری آپ سے ملنا چاہتا ہے۔”
بھاٹیا سوئمنگ پول کے پاس آ کر اے بی کے سامنے جھکتے ہوئے بولا۔اے بی جو آنکھیں بند کیے حور کے خیالوں میں گم تھا۔اُسکی آواز پر اُسنے ناگواری سے اپنی آنکھیں کھول کر اُسے غصے سے دیکھا اور پھر اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر سوئمنگ پول کے اندر اُسنے اُسکا سر زور سے سوئمنگ پول کے اندر ڈالتے ہوئیں جنونی انداز میں اسکا سر کبھی وہ باہر تو کبھی اندر کرنے لگا تھا۔
“بھاٹیا جی مجھے کتنی بار اپنی زبان کو تکلیف دینا پڑے گا۔روز آپ کو سمجھانا پڑتا ہے۔کہ جب شیر خونخوار ہو نا۔۔۔۔تو اُسے اپنی پرچھائی بھی نہیں دکھانا چاہیے۔اور ایک آپ ہے۔اپنا یہ بدصورت چہرہ دکھا کر اُسے شیطان سے حیوان بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔”
وہ ناگواری سے بھاٹیا کا سر باہر نکالتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔تو بھاٹیا نے گہری سانسیں لیتے ہوئے اے بی کے خوبرو چہرے کو دیکھا۔جو کہ اب اذان شاہ نام پر غصے اور جنون کی وجہ سے خطرناک حد تک سرخ ہو رہا تھا۔
“یہ اذان شاہ وہیں ہے نا۔جسکے سیکریٹری نے آج ایئرپورٹ پہ آ کر مجھے ویلکم کیا تھا۔اور اُس شخص کی وجہ سے میری سنو وائٹ میری زندگی مجھ سے گم ہو گئی۔”
ضبط کے باعث اپنے لبوں کو زور سے بھینچ کر بولا۔وہ اپنی دیوانگی میں اِس قدر آگے نکل چکا تھا‌۔کہ اُسے اپنے نقصان کی بھی فکر اب نہیں رہی تھیں۔کیونکہ غصے سے لبوں کو بھینچنے کی وجہ سے اُسکے ہونٹوں سے خون کی ایک نھنی سی لکیر نکل کر ٹھوڑی سے ہوتا ہوا نیچے سوئمنگ پول کے پانی میں گر رہا تھا۔
“یس سس۔سر ۔”
بھاٹیا گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولا۔تو اُسنے سختی سے ایک ہاتھ اپنے گھیلے بالوں پہ پھیرا اور پھر ہاتھوں سے زور سے پول کے پانی کو جھاڑ کہ وہ خاموشی سے سوئمنگ پول سے باہر نکلا اور سامنے رکھے کرسیوں کی جانب بڑھنے لگا۔