117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

💕💕💕💕💕💕💕
“کنگ آپ مجھے چھوڑ کر کہا چلے گئے تھے۔؟؟
وہ اُسکے سینے سے لگی منہ بسور کر بولی۔تو حور کی بات پر اُسنے اُسے اپنی تھائی پر بٹھایا اور اُسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نرم لہجے میں بولا۔
“مائے لٹل کوئین کچھ باتیں ایسی ہے۔جہنیں میں آپ سے ابھی شئیر نہیں کر سکتا وقت آنے پر وہ سب میں آپ سے شئیر کروں گا۔اِسی لئے میں آپ سے دور رہنا چاہتا تھا۔لیکن اُس دن آپکو کے یو میں دیکھ کر میں خود کو روک نا سکا۔”
بہرام اُسکے گلابی گالوں پر اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاکر اے بی والی بات چھپا کر اُسے کے یو والی ملاقات کے بارے میں محبت سے بولنے لگا۔
جبکہ حور اُس کی لمس پر تیزی سے اپنی پلکیں جھکانے پر مجبور ہو گئی تھی۔وہ اُسے سرخ عارضوں پر پلکیں جھکاتے دیکھ کر مسکرانے لگا۔
“کنگ آپ ابھی اِس وقت رات کے تین بجے کیوں آئے ہیں ہم کل یونی میں بھی تو مل سکتے تھے۔؟
وہ اپنے چہرے پر اُسکی گرم لمس کی حدت محسوس کرتی بوجھل پلکیں نیچے جھکائے بولی۔اے بی جو اُسکے چہرے کو چھو رہا تھا۔اُسکی بات پر ہاتھ نیچے کرتے ہوئے مسکرایا۔
“میں تُم سے دل کے بارے میں یہاں پڑھنے کےلئے آیا تھا۔لیکن یہ سب ہوگیا تُم پریشان ہو کر اپنا چشمہ بھول گئیں اور یہ تک بھول گئی کہ تُم سہی سے دیکھ بھی نہیں سکتی ہوں۔ویسے بغیر چشمے کے تُم مجھ تک پہنچی تو پہنچی کیسے۔”
وہ اُسکے ناک کو زور سے اپنی انگلی سے دباتے ہوئے بولا۔تو وہ اُسکی حرکت پر اپنی نظریں اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی۔جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“بہت مشکل سے اندھیرے میں ہاتھ آگے بڑھا کر ٹٹول ٹٹول کر آپ کو سوچتے ہوئے میں سیڑھیوں سے نیچے اتری تھی۔اور کہی بار تو میں ٹھوکر لگنے کی وجہ سے گرتے گرتے بھی بچی تھی۔”
حور اُس سچویشن کو یاد کرتی جھرجھری لیتے ہوئے بولی۔
“اوہ کوئین اُس وقت آپکو کہی چوٹ تو نہیں لگی تھی نا۔”
اے بی بیڈ سے اٹھا اور اُسے تیزی سے بیڈ پر لیٹا کر پریشانی سے وہ اُسکے اوپر جھکا اور اُسکے چہرے کو دیکھنے کے بعد اپنے ہاتھوں سے اُسکے شولڈر سے اُسکی شرٹ کو ہٹاکر بغور دیکھنے لگا تو جب اُسکے شولڈر پر کسی بھی چوٹ کا نشان اُسے نظر نہیں آیا تو اُسنے اپنا ڈھکتا ہوا لمس اُسکی شولڈر پر رکھ دیا۔
حور جو بیڈ پر لیٹی اُسکے چھونے پر اپنی آنکھیں زور سے میچ کر بیڈ شیٹ سختی سے پکڑے ہوئے تھی۔وہ اُسکا لمس اپنے شولڈر پر محسوس کرتی بری طرح سے کانپنے لگی۔
جبکہ وہ اُسکے شولڈر سے ہوتا ہوا اب اُسکے بازوؤں کو دیکھنے لگا جب وہاں بھی اُسے کوئی چوٹ نظر نہیں آیا تو وہ تیزی سے بیڈ سے اٹھا اور بیڈ کے نیچے بیٹھا اور اُسکے دونوں ٹانگوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھکر اُسنے اُسکے ٹراؤزر کے پانچوں کو اوپر اٹھایا تو اُسے اُسکے سفید پنڈلیوں پر سرخ نشان نظر آیا تو وہ آگے جھکا اور اپنے لب اُس سرخ نشان پر رکھ دئیے۔
“کوئین یہ سب جو میں آپکے ساتھ کرتا ہوں یہ میرا حق ہے کیونکہ اِسکا سرٹیفکیٹ میں چار سال پہلے آپکی رضا مندی سے حاصل کر چکا ہو۔اور وہ میرے پاس موجود ہے اور بہت جلد میں اُس سرٹیفکیٹ کو اپنی فیملی اور آپکی فیملی سے شئیر کروں گا۔”
اب کے وہ اٹھا اور گھمبیر آواز میں کہتا اُسکے گلال چہرے کے اوپر جھکا اور مدہوش ہو کراُسکی پیشانی ٹھوڑی اور لبوں کو نرمی سے چھونے لگا
جبکہ حور نے جب اُسے استحقاق سے اپنے چہرے پر جھکتے دیکھا تو لاج کے مارے وہ تیزی سے اپنی نظریں جھکا گئیں اور اُسکے چوڑے سینے پر اپنے رکھے ہاتھوں پر اُسکی تیزی سے چلتی دھڑکنوں کی ڈھک ڈھک کو محسوس کرنے لگی۔
کیونکہ اُسے یہ تو پتہ تھا کہ اُسکے اور بہرام شاہ کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے اور وہ اُس کے اوپر مکمل حق رکھتا ہے۔
💕💕💕💕💕💕💕
“عالم مجھے پتہ تھا یہ لڑکا ایک نہ ایک دن ضرور آئے گا۔وہ اٹھارہ سال کی عمر میں بہادری سے اتنا بڑا کام کر سکتا ہے۔تو وہ ہمارے سامنے کیسے نہیں آسکتا۔!!
اور اب سے ہم سب کو حور کے آس پاس رہنا ہوگا۔تاکہ وہ جنونی پاگل لڑکا اِسکی مدد سے اُسے ہم سے جدا نہ کر دیں۔”
شاہ بخت سامنے ٹیبل پر رکھے پیپرز کی جانب اشارہ کرتے بلند عالم اور سعدی معاذی سے کہنے لگا۔جو سامنے اُن پیپرز کو دیکھ رہے تھے۔جو اُنکی پرنسس کو کسی بھی وقت اُن سے جدا کرنے کا باعث بن سکتی تھی۔
“شاہ بھائی کیا ہم اِن پیپرز کو ختم نہیں کر سکتے۔اور اگر ایسا ہوگیا نا تو آئی سویر وہ پاگل لڑکا ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا۔یہ پیپرز جب اُسکے پاس موجود نہیں ہونگے۔تو وہ انسان ہماری پرنسس کو لے جانا تو دور کی بات اُسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکے گا۔”
معاذی نے ہاتھ آگے بڑھا کر اُن پیپرز کو اٹھاتے ہوئے غصے سے کہا۔شاہ بخت اور بلند عالم اُسکی بچکانہ بات پر مسکرانے لگے۔جبکہ سعدی اُسکی بات پر سخت غصے سے اٹھا اور اُسے کندھوں سے پکڑ کر شرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“چھوٹے۔چھوٹے کب عقل آئے گی تُمہیں دو جوان بچیوں کے باپ ہو لیکن عقل ابھی تک وہی سترہ سالہ لڑکوں والی ہے تمہاری ابے یہ اسکول کے کسی بچے کے پیپرز نہیں ہے جو ہم اِنہیں جلاکر یہ قصہ ختم کر سکتے ہیں۔!!
“پاگل انسان یہ نکاح کے کاغذات ہے۔اور اُس لڑکے کی جانب سے ہمارے لئے ایک وارننگ کے وہ کسی بھی وقت اپنی بیوی کو اپنے ساتھ اِن کاغذات کی مدد سے اُسے سب کے سامنے سے اسے اٹھا کر لے جائے گا۔تو آپ سب تیاری کر لیں رخصتی کی کیونکہ وہ بہت جلد رخصت کروا کر حور کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آئے گا۔”
سعدی غصے سے پیپرز کو اٹھاتے ہوئے اُسے دیکھنے لگا جو اُس لڑکے کی وارننگ والی بات پر غصے سے باہر قدم بڑھانے لگا۔
جبکہ شاہ بخت اور بلند عالم اُسے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر گہری سانس لینے لگے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اب یہ سب باتیں اُن چاروں شیطانوں سے شئیر کرنے جا رہا ہے۔
“سعدی تُم اُس سے بڑے کم عقل ہوں۔کیا ضرورت تھی اُسے یہ سب باتیں بتانے کا اب وہ جا کر ان چاروں شیطانوں کو بتا دے گا۔!!”
“پھر وہ پانچوں پاکستان پہنچتے ہی مل کر اُس لڑکے کو روز صبح شام ڈھونڈنے کے لیے گھر سے باہر نکلے گے۔”
شاہ بخت اُسے غصے سے گھورتے ہوئے بولا۔جبکہ بلند عالم ٹیبل پر رکھے ایک کارڈ کو اٹھا کر اس پر درج نمبر کو غور سے دیکھنے لگا۔
“سر یہ کارڈ اس پر آپکے لئے کچھ لکھا ہے۔”
بلند عالم وہ کارڈ تیزی سے شاہ بخت کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔تو شاہ بخت نے آگے بڑھ کر اُس کارڈ کو تھاما اور اُس پر لکھے لفظ کو پڑھنے لگا جس پر خوبصورت ہینڈ رائٹنگ میں کال می سسسرِ محترم لکھا ہوا تھا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“کوئین میں ابھی تُمہارے سامنے بلکل بھی نہیں آناچاہتا تھا لیکن آپکی فیملی نے سچویشن ایسی پیدا کی ہے کہ مجھے نا چاہتے ہوئے بھی سامنے آنا پڑا تاکہ تُمہیں مجھ سے کوئی جدا نہ کر سکیں۔”
وہ اپنے سینے سے لگی حور کے نرم بالوں میں ہاتھ پھنسائے چھت کو گھورتے ہوئے بول رہا تھا۔یکدم نظریں نیچے سینے سے لگ کر سکون سے سوتی حور کو دیکھنے لگا جو سوتے ہوئے کیوٹ لگ رہی تھی۔
تبھی اُسکی محویت سامنے ٹیبل پر رکھے حور کے موبائل کے رنگ ٹون نے توڑا تو وہ مسکرانے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ دوسری جانب کون ہوسکتا ہے۔
“Ciao caro papà”
اٹالین زبان میں دوسری جانب موجود شاہ بخت کو اُسنے مسکرا کر سلام کیا۔تو شاہ بخت اُسکی آواز پر اپنی مٹھیاں زور سے بھینچنے لگا۔
“سسسرِ محترم اپنی بیٹی سے اتنی لاپرواہی۔آپکو پتہ ہے یہ نمبر میں نے آپ کو کس کا دیا ہے۔چلے آپ خود ایک بار فون کان سے ہٹا کر غور سے نمبر کو دیکھیں۔”
اپنے ہاتھ حور کے بالوں میں محبت سے پھیرتے ہوئے بولا۔تو شاہ بخت اُسکی بات پر فون کان سے ہٹا کر نمبر دیکھنے لگا جو کسی اور کا نہیں بلکہ اُسکی پرنسس کا تھا یہ دیکھ کر اُسکے لئے سعدی جو پانی کا گلاس تھوڑی دیر پہلے رکھ کر گیا تھا اُسنے غصے میں اکر وہ دور پھینکا اور فون کان سے لگا کر غرایا۔
“کمینے انسان دور رہو میری بیٹی سے ورنہ تُمہارے لِئے اچھا نہیں ہوگا۔”
شاہ بخت نے غصے سے کرسی کو زور سے ٹھوکر مارا اور تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔اے بی اپنے سسسر کی بات پر حور کے اوپر جھکا اور اُسکے دونوں آنکھوں کو باری باری چھومتا ہوا وہ اپنے سینے پر رکھے اُسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پھنسا کر لبوں سے لگاتے ہوئے بولا
“یہ ناممکن ہے سسسرِ محترم کیونکہ میں جب تک زندہ ہو تب تک میں اپنی بیوی کو اپنے لمس سے اور اپنی زندگی سے کبھی بھی جدا نہیں کروں گا۔”
اپنے ہاتھ کے نیچے دبے اُسکے ہاتھ کو وہ اپنے دل کے قریب رکھتے ہوئے بولا۔تو شاہ بخت اُسکی بے باکی سے کہنے پر طیش میں آکر سامنے لگے آئینے کو توڑتے ہوئے کہنے لگا۔
“برخوردار میں اپنی بیٹی کو اتنا مجبور کروں گا کہ وہ تُم سے خود جدا ہونے کے لئے تڑپے گی۔ ابھی تُم جتنی مرضی اُسے اپنا اور اپنے اُس سو کالڈ رشتے کا احساس کیوں نہ کرواؤ لیکن یاد رکھنا وہ بعد میں اپنے بابا اور ماما کو ہی چنے گیں۔”
شاہ بخت طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔
“افسوس صد افسوس سسسرِ محترم جب آپ یہاں آئے گے تب تک وہ مکمل میری بیوی بن چکی ہوگی۔بلکہ وہ شاید میرے بچے کی ماں بھی۔”
اے بی کے الفاظ بیچ میں کاٹ کر شاہ بخت نے سخت غصے میں آکر اُس سے کہا۔
“جسٹ شٹ اپ اب تُم حد پار کر رہے ہو برخوردار۔”
اُنکی سخت آواز سن کر وہ ڈھیٹوں کی طرح مسکرانے لگا اور بیڈ سے اٹھ کر سامنے بند کھڑکیوں کی جانب بڑھا اور کھڑکیوں کے پٹ کھول کر آسمان پر نظر آتے چاند کو دیکھنے لگا۔
“سسسرِ محترم میں نے اپنی حد تو کب کا پار کر دیا ہے اب تو بس مجھے آپکے آنے کا انتظار ہے آپ پاکستان میں قدم رکھے گے اور میں اپنی بیوی کو آپ سے اور اپنی سویٹ سی ساسوں ماں سے بہت دور لے کر جاؤ گا۔جہاں میں اور میری سنو وائٹ اور ہمارے ڈھیر سارے بے بی اوراب میں سچ میں اُسے لے کر جاؤ گا کیونکہ پچھلے ہفتے میں نے آپ کو صرف ایک چھوٹی سی دھمکی دی تھی۔”
شاہ بخت دوسری جانب سنو وائٹ سن کر حیرت سے بلند عالم کو دیکھنے لگا اور ساتھ ہی اُسکے منہ سے زیر لب سنو وائٹ بھی نکلا جسے سنتے ہی اے بی کمینگی سے مسکرانے لگا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“تُم کیوں ہمارے لئے کام کرنا چاہتے ہو۔؟؟
زریاب خان سامنے آرام سے بیٹھے شخص کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔جو کرسی پر بیٹھا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
جبکہ وہ اُسکی بات پر مسکرایا اور بڑے ہی بہادری سے اپنا ایک ٹانگ اُسکے سامنے ٹیبل پر رکھ کر اور ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر سگریٹ نکال کر منہ میں دباتے ہوئے اپنے ٹپوری انداز میں بولنے لگا۔
“صاب یہ جو پاپی پیٹ ہے نا اپن اِس کے واسطے یہ کام کرنا منگتا ہے۔”
ایک آنکھ دبا کر اُسنے دوسرا ہاتھ اپنے پیٹ پر پیھرتے ہوئے کہا۔تو زریاب خان نے اُسے ترچھی نظروں سے دیکھا اور پھر ہاتھ آگے بڑھا کر ٹیبل پر رکھا اپنا ریوالور اٹھایا۔
“نوٹ بیڈ صاب تُو کام سے پہلے اپن کو ٹپکائے گا۔”
سگریٹ نیچے پھینک کر وہ آگے جھکتے ہوئے اپنا ایک آنکھ ہنستے ہوئے دبا کر بولا۔جبکہ زریاب خان اُسکی بہادری پر مسکرایا اور ریوالور آگے بڑھا کر اُس سے بولا۔
“بہت جگر والے ہو تُم جو پستول دیکھ کر بھی نہیں گھبرائے کیا نام ہے تُمہارا اور دبئی میں کیا کر رہے تھے۔؟
زریاب خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔تو اُسنے ریوالور پکڑا اور ہوا میں ایک فائر کرتے ہوئے ہنس کر بولا۔
“صاب اپن کا نام شنکر ہے۔اور دبئی میں سالا اپن اپنے ماں باپ اور بہن بھائی کو دو وقت کی روٹی کھلانے کے واسطے گیا تھا۔لیکن اپن کو یہ تیرا کالا آدمی یہاں کڈنیپ کرکے لے آیا۔”
ریوالور زریاب خان کے پیچھے کھڑے اُسکے خاص آدمی پر کرتے ہوئے بولا۔وہ آدمی ڈرتے ہوئے پیچھے ہٹا اور اُسے ڈرتے ہوئے دیکھنے لگا تو اُسے ڈرتے دیکھ کر اُسنے یکدم سے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔
“میں تو تُمہیں یہاں کام کے لئے لایا تھا۔”
آدمی گھبراتے ہوئے بولا۔تو شنکر نے ریوالور ٹیبل پر پھینکتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر مارتے ہوئے ہنس کر کہا۔
“تُو سالا اپن سے ایسے ڈر رےلا ہے جیسے اپن تیرا بھیجا اڑا دے گا۔”
وہ دونوں ہاتھ ٹیبل پر مارتے ہوئے ہنس کر اُسے دیکھنے لگا۔جو اب سائیڈ پر کھڑا اُسے گھور رہا تھا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“عارف کیس سوسائیڈ نہیں بلکہ مرڈر کیس ہے اور ایجنٹ غازی مجھے پتہ ہے اُسے کس نے مارا ہے۔”
ایجنٹ آیس آر نے اُس جگہ کو جہاں عارف اور اُسکے دوست کی وڈیو بنائی گئی تھی بغور دیکھتے ہوئے ایجنٹ غازی سے بولی تھی۔
“مس میزائیل آئی ایم شیور کے آپ میرا نام لینے والی ہے۔”
ایجنٹ غازی آگے بڑھ کر اُسے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔تو اُسنے غصے سے زور سے اُسکے پاؤں پر لاٹ مارا۔تو ایجنٹ غازی اُسکے وار پر ڈھیٹوں کی طرح مسکرانے لگا۔
“ایجنٹ غازی آپ سیریس ہوکر میری پوری باتیں سننا پسند کریں گے۔یا میں آپکو اِس کلاس روم سے باہر پھینک دو اب آپ خاموشی سے میری باتوں کو غور سے سنیں۔”
تیز نظروں سے اُسے دیکھتی وہ آگے بڑھ کر بولی۔جبکہ غازی اُسکی بات پر اپنے چہرے پر سنجیدگی سجا کر آنکھیں اُسی جگہ پر مرکوز کر دی جہاں وہ ثبوت ڈھونڈ رہی تھی۔
“ایجنٹ آیس آر تو یہ مرڈر کس نے کیا ہوگا آپ کو کچھ پتہ چلا۔؟؟
وہ دونوں کب سے ثبوت ڈھونڈ رہے تھے مگر قاتل اتنا شارپ تھا کہ اُسنے ثبوت دور کی بات اپنا پنگر پرنٹ بھی وہاں نہیں چھوڑا تھا۔
وہ دونوں پیچھے ایک سرد آواز سن کر تیزی سے پلٹے جبکہ مارخور اپنا چہرہ ماسک سے کور کیے اپنی نیلی آنکھیں اُن دونوں پر مرکوز کیے کھڑا تھا۔
“نو سر قاتل بہت ہی شارپ اور انٹیلجنٹ ہے اُسنے اپنے پنگر پرنٹ تک نہیں چھوڑا ہے اِسی لیے ہمیں ثبوت ڈھونڈنے میں مشکل درپیش ہو رہی ہیں۔”
ایجنٹ آیس آر کمانڈر کو وہاں دیکھ کر تیزی سے بولی۔جبکہ مارخور کی نظریں ایجنٹ غازی پر مرکوز تھی جو لاپرواہی سے کرسی پر بیٹھا دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
“ایجنٹ غازی وہ قاتل اِسی یونی میں موجود ہے اب سے آپ ہر نئے آنے والے اسٹوڈنٹ پر نظر رکھیں گے۔اور آپ ایس آر کے ساتھ مل کر زریاب خان کی بار میں ایک بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کی حیثیت سے جائے گی اور وہاں آپ کو میرا ایک خاص بندہ ملے گا اور اُس سے ساری انفارمیشن حاصل کر کے آپ دونوں وہاں سے سیدھا میرے اِس فلیٹ پر آئے گے۔”
دونوں کو باری باری دیکھتے ہوئے بولا۔اور پورے کلاس روم کو طائرانہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ایجنٹ غازی اور ایس آر نے بھی روم کے کھونے کھونے میں اپنی نظریں دوڑائیں۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“جیم ڈارلنگ تُم کل رات کا کہا غائب تھے میں نے تمہارا کتنا ویٹ کیا تھا لیکن تُم کل رات نہیں آئے تو میں باس کے ساتھ چلے گئی تھی۔”
سارا بار کے ایک کھونے صوفے پر آرام سے بیٹھے اپنے بوائے فرینڈ جیم کو حرام شے پیتے ہوئے دیکھ کر اپنے سیاہ ہیل سے ٹک ٹک کرتی اُسکی جانب بڑھنے لگی۔
اور وہاں پہنچ کر اچانک سے اُسکی تھائی پر بیٹھی اور لاڈ سے اُسکی گردن پر ہاتھ رکھتی اپنے ہونٹوں پر لگے سرخ لب گلوز کے نشان کو وہ اُسکے براؤن بڑے ہوئے شیو پر چھوڑتی اُسکے ہوش اڑانے لگی۔
“سارا ڈارلنگ آرام سے ورنہ اگر میں بہک گیا نا تو آج تُمہیں میرے پیار کی شدتوں سے کوئی بھی نہیں بچا سکے گا۔”
وہ اپنے دانت اُسکی سفید گردن پر گاڑتے ہوئے بولا۔تو سارا نے اُسے سخت نظروں سے گھورا اور اپنے مومی ہاتھ اُسنے اپنی گردن پر اُس مقام پر رکھ دیے جہاں جیم نے زور سے بائٹ کیا تھا۔
“جیم ڈارلنگ یہ مت بھولنا کہ تُمہاری یہ سب شدتیں صرف سارا مارگریٹ برداشت کر سکتی ہے۔کوئی اور نہیں اور اگر کبھی کسی نے تُمہاری اِن شدتوں کو برداشت کیا نا تو جیم لارسن میں تُمہیں اسے سونپ دو نگی۔”
سارا اپنے ہونٹ بے باکی سے اُسکے بڑے ہوئے شیو پر رکھتے ہوئے بولی۔تو جیم اُسکی بے باکی سے چھونے پر اور اُسکے وجود سے پھوٹتی گرل کلون کی خوشبو سے پاگل ہوتااُسے صوفے پر گرانے والے انداز میں گرا کر تیزی سے اُسکے بلیک شرٹ کو کندھوں سے ہٹاتا وہ اُسکے اوپر جھکا۔
“جیم لارسن کیا آج مجھے مارنے کا ارادہ ہے۔؟؟
سارا چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھتی کمینگی سے مسکراتے ہوئے بولی۔تو جیم اُسکی بات پر اُسکے ہاتھوں کو زور سے صوفے کے پیچھے لے جاکر اُسکے منہ پر ہاتھ رکھکر وہ اُسکی سفید گردن پر اپنے دانت زور سے کاٹنے لگا۔
“یس مس مارگریٹ آج میں تُمہیں مار کر خود تُمہارے پیار میں شہید ہونا چاہتا ہو۔بلکہ تُم کو قتل کر کے خود کو کھونا چاہتا ہوں۔”
وہ اُسکے وجود کو درندوں کی طرح کاٹتا ہوا بولا تھا۔اور وہ لڑکی بھی سب کچھ بھول کر اِس حرام کے نشے میں گم ہو کر جیم کے کسرتی جسم پر ہاتھ پھیرنے لگی۔۔یہ سوچے سمجھے بغیر کے کچھ دیر بعد اُنکے ساتھ کیا ہونے والا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“وہ دیکھو حرام زادے کو اتنے سارے معصوم لوگوں کو ابدی نیند سلا کر خود یہاں مزے کر رہا ہے۔اور اُس بے غیرت کو تو دیکھوں نجانے کتنی معصوم لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کرکے اب اُس مردود کے ساتھ مل کر عیاشی کر رہی ہیں۔”
غازی اور ایس آر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھے شخص نے ناگواری سے اپنے پیچھے رکھے سرخ رنگ کے صوفے پر ایک دوسرے میں گم جیم اور اُسکی گرل فرینڈ سارا کو دیکھتے ہوئے بولا جو زریاب خان کے سب کالے دھندوں میں اُسکے ساتھ ملے ہوئے تھے۔
“آپ کہیں تو میں ابھی انکا کام تمام کر کے آتی ہو۔؟
ایس آر پرُسرار انداز میں مسکراتی اپنے جیب میں ہاتھ ڈال کر اُس شخص کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔جو کہ اب اُسکی بات پر خوبصورتی سے مسکرانے لگا تھا۔
“نیکی اور پوچھ پوچھ۔”
وہ شخص ایک آنکھ دبا کر اپنی جگہ سے اٹھا اور اُسے وکٹری کا نشان دیکھا کر مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا جبکہ غازی جو کب سے خاموش بیٹھا اُنکی باتیں سن رہا تھا اُس شخص کے وہاں سے جاتے ہی وہ غصے سے بولا۔
“ایجنٹ ایس آر تُم کیوں اُسکے ساتھ فری ہو رہی تھی۔یاد رکھنا ہم یہاں دوستیاں بنانے نہیں بلکہ میشن کے لیے آئے ہیں۔”
ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے وہ آگے جھکا اور اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے بولا۔ایس آر کو اُسکے لفظوں سے اُس شخص کے لیے صاف جلن محسوس ہوا تو وہ مسکرا کر اُسے دیکھتے ہوئے بولی۔
“ایجنٹ غازی ہم دونوں ابھی وہی تو کرنے جا رہے ہیں۔”
اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل کے نیچے سے بڑھا کر اُسکے گھٹنوں پر رکھتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر بولی۔تو غازی اُسکے لمس پر اپنے غصے پر کنٹرول کرتا مسکرا کر اُسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اُسے دیکھنے لگا۔