117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

مائی لٹل کوئین گڈ مارننگ۔”
حور جو بیڈ پر بیٹھی اپنی آنکھیں مسل رہی تھی۔اپنے کان کے بے حد قریب وہ ایک گھمبیر آواز سن کر اور اپنی کمر پر ایک نرم لمس محسوس کرتی جھٹکے سے اپنی پوری آنکھیں کھول کر سامنے دیکھنے لگی۔
تو بیڈ کے سامنے ایک ٹیبل کو دیکھ کر وہ فورأ اپنی جگہ سے اٹھی اور ٹیبل کی جانب آہستہ قدموں سے بڑھنے لگی۔
جب ٹیبل کے عین سامنے پہنچی تو سامنے ٹیبل پر جو اے بی نے اُسکے لئے گلاب کی پھنکڑیوں کی مدد سےخوبصورتی سے ہارٹ بنایا ہوا تھا۔وہ ہارٹ اور اُسکے اوپر اپنا اور اے بی کا نام جو اُسنے بہرام شاہ لکھا تھا دیکھ کر خوشی سے چیخ اٹھی تھی۔
“کنگ کیا یہ ہارٹ آپ نے میرے لئے بنایا ہے۔؟
اُسے خوشی سے دیکھتی وہ جلدی سے نیچے ٹھنڈے فرش کی پرواہ کیے بغیر نیچے بیٹھی اور مسکرا کر ایک ہاتھ آگے بڑھا کر گلاب کی پھنکڑیوں کو چھونے لگی۔
“یس مائی لٹل کوئین یہ ہارٹ بہرام شاہ نےصرف اپنی بیوی کیلئے بنایا ہے!! وہ بھلا کسی اور کے لیے کیوں بنائے گا۔”
اے بی اُسکے پیچھے بیٹھا اور اُسے محبت بھری نظروں سے دیکھتااُسے اپنے حسار میں قید کرتا اُسکی نازک سفید گردن پر اپنے دہکتے ہونٹ رکھتے ہوئے مخمور لہجے میں بولا۔
“اوہ سو سویٹ کنگ آپ کتنے اچھے ہیں۔!!کیونکہ آپنےمجھے اتنے سالوں بعد ملنے کے بعد یہ خوبصورت تحفہ جو دیا ہے۔”
حور تیزی سے پیچھے پلٹی اور اُسکے گلے سے لگ کر خوشی سے بولی۔
وہ اُسکی اتنی زیادہ قربت پر بے خود ہوکر اُسکو سختی سے کمر سے پکڑتا اپنے ساتھ لگا کر اُسے لئے اوپر اٹھا اور پیچھے رکھے صوفے کی جانب بڑھا اور اُسے آرام سے لیٹاکر وہ خود اُسکے اوپر جھکا۔جبکہ حور کا دل اُسکو اپنے چہرے کے اوپر جھکتے ہوئے دیکھکر زور سے دھڑکنے لگا۔
“کنگ پلیز چھوڑے۔!!
حور نے اُسے اپنے ہاتھوں سے دور کرتے ہوئے گھبرا کر کہا۔تو اے بی جو اُسکی گردن پر جھکا اپنی شدت بھرے لمس کے چھاپ چھوڑ رہا تھا۔اُسکی مزاحمت کرنے پر مسکرا کر اٹھا اور اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“بے بی اب اگلی بار احتیاط کرنا۔ورنہ میں بہک گیا نا۔تو تُم میری شدتوں کو برداشت نہیں کر سکوں گی۔”
وہ اُسکے گلابی گالوں کو بے باکی سے چھو کے مخمور لہجے میں بولا۔تو حور اُسکی بے باکی سے کہنے اور چھونے پر خود میں سمٹنے لگی۔
“کنگ پلیز آپ یہاں سے چلے جائے۔”
وہ اپنے دونوں ہاتھ گلال چہرے پر رکھتی کپکپاتی آواز میں بولی۔جبکہ اے بی اُسکی حرکت پر مسکرایا اور آگے بڑھا اور اُسکے دونوں ہاتھوں کو چہرے سے ہٹا کر اُسنے اپنے عنابی ہونٹ اُسکی پیشانی پر رکھ دیئے۔
“کوئین آپ میرے بارے میں ابھی کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی اوکے۔!!میں خود سب کو ایک زبردست سرپرائز دونگا۔اور وہ سرپرائز تُمہارے لیے بھی ہوگا۔”
وہ اپنی پیشانی اُسکی پیشانی سے ٹچ کرتا گھمبیر آواز میں بولا۔تو وہ اپنے چہرے پر اُسکی گرم سانسیں محسوس کرتی آنکھیں زور سے میچنے لگی۔
اِسی طرح دونوں خاموشی سے آنکھیں بند کیے ایک دوسرے کو اپنے بے حد نزدیک محسوس کرنے لگے پھر اے بی نے اُسے الگ کیا اور صوفے پر بیٹھا کہ وہ اُسے دیکھنے لگا۔جبکہ وہ آنکھیں بند کیے زور سے کانپ رہی تھی اُسے دیکھتے ہوئے وہ پیچھے قدم بڑھانے لگا اور جب اُسکی چوڑی پشت کھڑکیوں کے شیشوں لگیں تو وہ نظریں اُس پر سے ہٹا کر کھڑکیوں کے پٹ کھول کر باہر نکلا اور آسمان کی جانب دیکھنے لگا جہاں پر چاند اپنے پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا وہ نیچے دیکھنے لگا اور پھر پرُسرار انداز میں مسکرانے لگا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“مس میزائیل اب تُم شرافت سے اٹھ جاؤ ورنہ میں مجھے بدمعاش بننے میں ایک منٹ بھی نہیں لگے گا۔”
ارحام اپنے سینے سے لگی ریحام کو دیکھتے بوجھل آواز میں بولا۔جو اُسکے سینے پر سر رکھے سوئی ہوئی تھی۔
“اوکے مس ریحام۔!!!جیسے آپکی مرضی اب آج کا بھی ہمارا پورا دن یہاں اِس خوبصورت جھونپڑی میں گزرے گا۔”
خمار بھری نظروں سے اُسکے سراپے کو دیکھتا وہ اُسکے اوپر جھکا اور اپنے لب اُسکے لبوں سے الجھانے لگا۔
ریحام جو پرسکون انداز میں سوئی ہوئی تھی۔وہ اپنے لبوں پر گرم لمس محسوس کرتیں کسمساکر اپنے ہاتھوں سے اُسے اپنے اوپر سے ہٹانے لگی۔
ارحام اُسکی کمزور سی مزاحمت پر اُسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑتا اور اُسے بیک سے پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے اُسکے ہاتھوں کو پیچھے اُسکے کمر پر جھکڑتا اپنی شدت اور بڑھانے لگا۔
ریحام اپنے ہاتھ پاؤں بری طرح سے مارتی اُسے غصے سے خود سے دور کر رہی تھی۔آخر وہ نڈھال ہوکر مزاحمت چھوڑ کر اپنی آنکھیں زور سے بند کرتیں بے بسی سے اُسکی شدت کو اپنے لبوں پر محسوس کرنے لگی۔
“جان تُم میری باتیں مانو گی۔!!تو فائدے میں رہوگی۔ورنہ پھر تُمہارا حال اِس سے بھی برا ہوسکتا ہے۔چلوں وائف اب خاموشی سے اور اچھے بچوں کی طرح یہ ڈریس پہن کر آؤں۔”
اُسے نڈھال دیکھ کر وہ اُسے خود سے الگ کرتا بے باکی سے اپنے لبوں پر ہاتھ پیھرتے ہوئے بولا۔اور پھر ایک شاپنگ بیگ اُسکی جانب بڑھا کر اُسے جلدی تیار ہونے کا کہنے لگا۔
“کیا ہے اِس میں۔!! اور تُم نہ مجھ سے دور ہی رہنا ورنہ میں تُمہیں مار دو گی۔زبردستی کر کے تّم سمجھ رہے ہو کہ میں تُم سے ڈر جاؤ گی۔!!
مسٹر انصاری یہ تُمہاری سب سے بڑی بھول ہے۔کیونکہ میں ریحام سعد شاہ ہوں۔جو کہ نہ کسی سے گھبراتی ہے۔اور نہ ہی کسی کی دھمکیوں سے ڈرتی ہے۔”
ریحام ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے ہاتھوں سے بیگ چھین کر اور دوسرا ہاتھ اُسکے چوڑے سینے پر اُسکے دل کے مقام پر رکھ کر غصے سے بولی۔تو ارحام جو غور سے اُسکی بات سن رہا تھا۔اپنے سینے پر اُسکا ہاتھ دیکھنے لگا۔جو اُسکی دل کے مقام پر رکھا اُسے بے خود کر رہا تھا۔
“بے بی تُم خود ایسی غلطیاں کرتی ہوں۔کہ مجھے زبردستی کرنا پڑتا ہے۔!! اور جب میں بہک کر تُمہارے ساتھ زبردستیاں کرتا ہو تو تُم غصہ کرتی ہو۔!!
ڈارلنگ اب تُم خود ہی دیکھوں اگر تُم ایسی حرکتیں کروگی تو میں بے چارا تُمہارا شوہر ہوں تو میں تُمہاری اِن حرکتوں پر اپنے ہوش کھو بیٹھوں گا۔اور پھر بہک جاؤ گا۔”
اپنے سینے پر رکھے اُسکے ہاتھ کی جانب اشاره کرتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔تو ریحام اپنی حرکت پر سخت خجل ہوتی وہ تیزی سے اپنا ہاتھ ہٹا کر بیگ پکڑتی نظریں ڈورانیں لگی۔
“اب تُم کیا یہاں سے باہر جا سکتے ہو۔؟؟
اپنی خجل کو اُس سے چھپاتی وہ تیزی سے بولی۔تو ارحام اُسکی بات پر اُسے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“وائف ابھی بھی باہر زور دار بارش ہو رہا ہے تو میں کیسے باہر جا سکتا ہو اور اوپر سے میرا شرٹ تو تُمہارے پاس ہے۔اور جیکٹ بھی تُمہارے نیچے ہے اب اگر میں باہر گیا تو اِس حلیے میں ٹھنڈ کی وجہ سے مر جاؤ گا۔”
اپنی شرٹ کی جانب اشاره کرتا وہ بوجھل لہجے میں ‌بولا۔تو ریحام نے تیزی سے نظریں نیچے جھکا کر اُسکی شرٹ کو دیکھا اور اپنی ابتر حالت کو دیکھتی تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور شرم سے اپنا رخ دوسری جانب موڑ کر اُس سے بولی۔
“پلیز تُم یہاں سے چلے جاؤ میں تُمہیں اب اور برداشت نہیں کر سکتی ہو اب اگر تُم نے کچھ الٹا سیدھا کیا تو میں بھول جاؤ گی کہ ہم یہاں ایک اہم میشن کے لیے آئے تھے۔”
اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر وہ سنجیدگی سے بولی۔تو اُسکی بات پر آگے بڑھا اور اُسے پیچھے سے اپنے حسار میں قید کرتا گھمبیر لہجے میں بولا۔
“جان میں صرف تُمہارے لئے اِس ٹھنڈ کو برداشت کرنے باہر جا رہا ہوں کیونکہ ارحام انصاری مر تو سکتا ہے لیکن اپنی جان کو تکیلف میں کبھی نہیں دیکھ سکتا۔”
اپنے دہکتے ہونٹوں کو اُسکے شولڈر پر رکھتا اُسے کپکپانے پر مجبور کر گیا تھا۔ریحام پیچھے پلٹی اور اہنے ہاتھ آگے بڑھا کر کپکپاتے ہوئے اُسے خود سے دور کرتے ہوئے بولی۔
“پلیز۔!!
اُسکی بات پر وہ اُسکے بری طرح سےکپکپاتے لبوں کو ٹھنڈی اہ بھر کر دیکھتا اپنے قدم پیچھے لینے لگا۔جبکہ ریحام اُسے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھ کر ایک گہری سانس خارج کرتی پرسکون ہو کر نیچے شاپنگ بیگ کی جانب دیکھنے لگی۔
💕💕💕💕💕💕💕
“وہاٹ ہمارے کھڑوس بھائی کی شادی اور ہمیں کسی نے بتایا تک نہیں۔”
سام نے ساکت نظریں دونوں بہنوں کی جانب مرکوز کرتیں ہوئے کہا۔تو ایزل اُسکی آواز پر سخت نظروں
سے اُسے دیکھتی غصے سے بولی۔
“جب تُمہیں اپنی شرارتوں سے فرست ملے گی تب تّم کو اپنے آس پاس ہوتے ہنگاموں کی خبر ہوگی نا۔”
ایزل اُسکی سخت نظروں کی پرواہ کیے بغیر تیز لہجے میں بولی۔تو عشوہ نے شام کو اشاره کیا اور خود آگے بڑھ کر ایزل کو کندھوں سے سنبھال کر بولی۔
“ایزو ڈئیر تُم سام برو کو چھوڑو چلوں ہم تینوں چل کر ڈھیر ساری شاپنگ کرتے ہیں۔اخر کو ہمارے بگ برو کی شادی ہے ہمیں سب سے اچھا لگنا ہے۔”
عشوہ اپنے ہاتھ اُسکے غصے سے سرخ ہوتے گالوں پر رکھتی چہک کر بولی۔تو ایزل شاپنگ کا سن کر غصہ بھول گئی اور عشوہ کو کندھوں سے پکڑ کر خوشی سے چیخ مارتے ہوئے بولی۔
“عش مطلب ہم مال جا رہے ہیں۔”
وہ اُسے گول گول گھماتی خوشی سے بولی۔تو سام اُسے اتنا خوش دیکھ کر بدمزہ ہوگیا اور شام کو کندھوں سے پکڑ کر راز داری سے بولا۔
“شام برو۔!! یہ ساری لڑکیاں شاپنگ کا نام سن کر اتنا زیادہ شور کیوں مچاتی ہے۔ہم لڑکے تو سال میں ایک بار مال میں جاتے ہیں۔اور یہ پورے سال کی شاپنگ ایک دن میں کر آتی ہے۔”
شرارتی نظروں سے ایزل کے خوشی سے دھمکتے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔تو شام نے بھی شرارتی نظروں سے عشوہ کو دیکھا جو سام کی بات پر اُسے اور شام دونوں کو بری طرح سے گھور رہی تھی۔
“ایزو ڈارلنگ شاید یہ دونوں بھول رہے ہیں۔کہ وہاں اذان برو کی شادی میں بہت ساری حسینائے موجود ہونگی اور اُنہیں امپریس کرنے کئیلے اِنہیں اچھے کپڑے اور اسٹائل کیری کرنا پڑے گا۔اور اُس کے لیے اُن دونوں کے پاس بہت سارے پیسے ہونے چاہیے جو کہ صرف ہمارے پاس ہے۔!!
اور ایزو مجھے اچھے سے پتہ ہے۔بڑے پاپا سے یہ لوگ پیسے مانگ نہیں سکتے ہے۔بیکاؤز یہ جانتے ہے کہ وہ اِنہیں گولی تو مار سکتے ہے۔لیکن اتنے سارے پیسے وہ بھی لڑکیوں کو امپریس کرنے کیلئے اِن دونوں کو کبھی بھی نہیں دے گے۔”
عشوہ شام اور سام کے آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے ایزل سے بولی۔تو سام نے آئی برو اچکا کر شام کی جانب دیکھا جو عشوہ کو سخت نظروں سے گھور رہا تھا۔تبھی وہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر بری طرح سے ہنسنے لگا۔
“Oh come on baby۔”
یہ دھمکیاں نا تُم شام کو دینا مجھے نہیں کیونکہ سام کبھی بھی کسی کا احسان نہیں لیتا وہ محنت پر یقین کرتا ہے۔”
عشوہ کے گال زور سے کھینچتے ہوئے وہ شرارتی لہجے میں بولا۔تو شام اپنا نام سن کر سام کو سخت غصے سے دیکھنے لگا۔
“سام برو تُم اتنے سارے پیسے کہا سے لاؤ گے۔جو اتنے زیادہ ہیوی ڈائیلاگ مار رہے ہو۔اگر ڈیڈ کو پتہ چل گیا کہ اُنکا بیٹا چور بن گیاہے۔تو تُمہارے ساتھ ساتھ مجھے بھی شاه ولا سے بے دخل کر‌ دے گے۔”
شام جھرجھری لیتے ہوئے بولا۔تو سام نے اپنے ڈرفوک بھائی کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے اُسے گردن سے پکڑ کر سخت غصے سے کہا۔
“شام آپی سے کہہ کر ڈیڈ سے پیسے مانگے گے۔اور اب یہ بات اِن دونوں کو پتہ نہ چلے ورنہ ایک روپیہ بھی نہیں دونگا۔”
گردن سے پکڑ کر وہ اُسکے کان میں شرگوسی کرتے ہوئے بولا
تو ایزل اِنہیں شرگوسی کرتے ہوئے دیکھ کر عشوہ کو اشاره کرنے لگی۔
“شام پیسے تو ہمارے پاس آئیں گے۔اِن دونوں بہنوں سے بھی کئی زیادہ۔اور ہم بھائی کپڑے بھی لے گے اور ان دونوں سے خوبصورت بھی ہم لگے گیں۔”
سام ایک آنکھ شرارت سے دبا کر شام سے بولا۔تو شام اُن دونوں کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے قہقہہ لگانے لگا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“ہیلو سام خیریت ہے آپ نے مجھے اِس وقت کال کیا ہے۔؟؟
حور جو اے بی کے جانے کے بعد شاور لے کر اسٹدی ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے نوٹس سمیٹ رہی تھی۔تبھی بیڈ پر رکھے اپنے فون کی بیل پر وہ مڑی اور بیڈ کی جانب بڑھ کر اپنا سیل اٹھا کر نمبر دیکھتے ہوئے مسکرا کر کان سے لگاکر بولی
“آپی اذان برو کی شادی ہے اور ہمارے پاس کچھ اچھا پہننے کو نہیں ہے۔اور ڈیڈ سے مانگنا شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے۔اِسلئے میں نے آپکو کال کیا ہے آپ ڈیڈ سےہمارے لئے کچھ پیسے مانگے۔تاکہ ہم دونوں شاپنگ کر سکے۔”
سام تیزی سے بولا۔تو حور اُسکی بات پر مسکرانے لگی اور پھر کچھ سوچ کر بولی۔
“ٹھیک ہے لیکن ایک شرط پر میں بابا سے بات کروں گی۔”
شرارتی لہجے میں کہتی وہ قدم ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا کر وہاں سے برش اٹھا کر بالوں میں پھیرتے ہوئے بولی۔
“آپی پلیز ہمیں ڈیڈ کے ہاتھوں چھتر نہ پڑے آپ ایسی شرط بتائے کہ ہم اُس پر پورے اترے ورنہ آپکو نہیں پتہ کہ ڈیڈ کے ہاتھ کتنے بھاری ہے۔اور اُنکے بھاری ہاتھ ہم کمزور جان کہا برداشت کر سکتے ہیں۔”
سام دوسری طرف اپنے اچھے خاصے کسرتی جسم کو کمزور کہتے ہوئے درد بھری آواز نکال کر بولا۔تو شام جو سامنے ہی بیٹھا تھا اُسکے ناٹک پر زور سے قہقہہ لگا اٹھا تھا۔
“اب میرا چھوٹا بھائی اتنا بھی کمزور نہیں ہے۔اچھا خاصا باڈی بلڈر ہے۔بابا کی مار کو تو یوں (چٹکی بجا کر) برداشت کر سکتا ہے۔”حور مسکراتے ہوئے بولی۔
“نہیں آپی آپ چنگیز خان کو نہیں جانتے وہ جب غصے میں آ کر کمر پر جوتے مارتے ہیں نا تو مجھے لگتا ہے کہ میں بہت زیادہ کمزور ہوں۔”
سام اپنی بہن کی بات پر شریف مسکین چہرہ بنا کر ایسے بولا جیسے کے حور پاکستان میں نہیں بلکہ اُس کے سامنے بیٹھی ہوئی ہے۔
“بس بس میرے چھوٹے سے کمزور بھائی میں بات کرتی ہو بابا سے تُم بس رونے مت بیٹھ جانا ورنہ میں تُمہیں چھپ کیسے کراؤں گی۔بیکاؤز میں لندن میں نہیں بلکہ اِس وقت پاکستان میں ہوں۔”
حور نے ہنستے ہوئے کہا۔تو سام نے قہقہہ لگاتے ہوئے اوکے کہا۔اور فون کان سے ہٹا کر زور سے شام کو گلے سے لگا کر اُسے شاپنگ مال جانے کی تیاری کا کہنے لگا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“عشو پکا وہ دونوں یہاں نہیں آئے گے۔؟
ایزل لندن کے مہشور شاپنگ مال کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔تو عشوہ چڑ کر سیڑھیوں کی جانب بڑھتے ہوئے بولی۔
افکورس ایزو وہ دونوں نہیں آئے گے۔کیونکہ جیب میں جب پیسا ہوگا اُن دونوں کے تب شاپنگ کرنے آئے گا ناں۔اُن دونوں کے پاس تو ابھی پاکستانی ایک روپیہ بھی نہیں ہے۔تو اتنے سارے پیسے وہ کہا سے لائے گے۔”
عشوہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اُسے دیکھا جو اُسکے ساتھ چل رہی تھی۔یہ بات سن کر ایزل بہت خوش ہوئی کہ وہ دونوں یہاں نہیں آئے گے۔
“تھنکس گاڈ کے وہ دونوں یہاں تو ہمارا سر کھانے نہیں آئے گے۔اب سکون سے میں شادی کے لیے ڈھیر ساری ڈریس اور کاسمیٹکس خریدوں گی۔”
ایزل شاپنگ مال میں داخل ہو کر خوشی سے گول گول گھوم کر عشوہ سے بولی۔جبکہ عشوہ اُسے اتنا خوش دیکھ کر مسکرانے لگی۔
دوسری جانب وہ دونوں جو آئسکریم کے چھوٹے سے شاپ کے سامنے کھڑے تھے جب اُنہوں نے دونوں بہنوں کو مال کے اندر داخل ہوتے دیکھا تو شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“اے ایزو تُم یہاں۔؟؟
ایزل جو خوشی سے گول گول گھوم رہی تھی وہ اپنے کلاس فیلو واسٹن کی آواز پر اُسے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
“ہائے واسٹن تُم امریکہ سے کب آئے اور یہاں کیا کر رہے ہو۔”
ایزل نے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے ہیلو ہائے کرنے کے بعد اُس سے پوچھنے لگی۔تو واسٹن اپنی دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“بس امریکہ میں میرا کام ختم ہوا تو میں رات کی فلائٹ سے سیدھا یہاں آ گیا میں اپنے دوستوں کو بھی تو بور نہیں کرنا چاہتا تھا۔”
ہنس کر وہ اپنے ہاتھ اُسکے شولڈر پر رکھتا ہوا بولا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“شام جلدی سے پتہ کروں کہ یہ انگریز کی اولاد کون ہے۔جو میری ایزل کو ہاتھ لگا رہا ہے۔”
اُسکی مسکراہٹ اُس لڑکے کو بے تکلفی سے مسکرا کر ایزل کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُس سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر ہونٹوں سے غائب ہوا۔اور اُسکی جگہ غصے نے لے لیا۔وہ سخت طیش میں آکر اپنے سامنے کھڑے شام کے کندھوں پر زور سے مکا مارتے ہوئے بولا۔
“مجھے کیا پتہ کون ہے۔افففف ظالم جاؤ اُس انگریز پر غصہ نکالو مجھ بے چارے پر کیوں نکال رہے ہو ہائے اللہ اتنی زور سے مارا کہ دن میں تارے نظر آ رہے ہیں۔”
شام اپنے شولڈر پر ہاتھ رکھتے ہوئے روہانسی آواز میں بولا۔
“جو بھی ہے یہ انگریز کی اولاد لیکن آج مال سے پاگل بن کر ہی نکلے گا۔شام جلدی سے عشو کو فون کروں اور اُسے بولو کہ اپنی بہن کو سنبھالو ورنہ یہ اگر بیچ میں آئی نہ تو نہیں بچے گی۔”
غصے سے لڑکے کو دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔شام اُسکی بات پر گھبرایا کیونکہ وہ اُسے کئی سے بھی شرارتی وہ سام نہیں لگ رہا تھا۔جو کچھ دیر پہلے سب کو چھیرتے ہوئے اُسکے ساتھ مال میں داخل ہو رہا تھا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
“مس میزائیل۔اب ہم بہت جلد ملے گیں۔ایک نئے میشن کے ساتھ۔”
اذان شاہ کے شاندار مینشن کے آگے کار روکتے ہوئے ارحام نے مسکراتے ہوئے کہا۔تو ریحام اُسے غصے سے گھور کر دروازه کھولتے ہوئے بولی۔
“مسٹر اب اگر تُم مجھے نظر آئے نہ تو میں تُمہیں قتل کر دو گی۔اور کمانڈر سے اب میں کہوں گی مجھے اِس ٹھرکی کے ساتھ کوئی میشن نہیں کرنا۔”
غصے سے کار کا دروازه زور سے بند کرتیں ہوئے بولی۔تو وہ مسکرا کر سامنے دیکھنے لگا۔جہاں پر وہ غصے سے چوکیدار سے مینشن کا بڑا دروازه کھولنے کا کہہ رہی تھی۔
“وائف اب تو میں تُمہیں روز نظر آؤں گا۔کیونکہ تُمہاری ایک کمزوری جو تُمہارے شوہر کے ہاتھوں لگی‌ ہے اب تُم میری ہر بات سے آسانی سے مانو گی۔”
وہ ایک ڈیوائس اپنی پینٹ کی جیب سے نکال کر ری کو شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔جو ابھی تک کھڑی چوکیدار سے لڑ رہی تھی۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
ری گھر کے اندر داخل ہو کر سب سے چھپ کر اپنے روم کی جانب بڑھی اور روم میں داخل ہوتے تیزی سے بیڈ کی جانب بڑھ کر بلانکٹ اوڑھ کر سونے کی کامیاب ناٹک کرنے لگی۔
وہ چوکیدار کو پیسے دے کر اُسے کسی کو نہ بتانے کا کہ کر آئی تھی اب اُسے باہر رات گزارنے کا کسی کو جواب تو نہیں دینا پڑے گا۔
“ری برو آپ ابھی تک سو رہی ہے۔؟؟
آدھا گھنٹہ گزرا تھا کہ اُسے روم میں حور کی آواز سنائی دی تو وہ مسکرا کے بلانکٹ ہٹا کر اٹھی اور اُسے دیکھتے ہوئے بولی۔
“کیوٹی آج تو ہمیں شاپنگ پر جانا تھا میرے کھڑوس بھائی کی شادی جو ہے۔”
مسکرا کر کہتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی۔جو اب اُسکے بیڈ پر بیٹھی اُسے معصومیت سے دیکھ رہی تھی۔
“ہوں میں تو بھول گئی اور یہ ہماری بھابھی بھی تو ہمارے ساتھ شاپنگ کرنے جائے گی اور جب میں روم میں گئی تو محترمہ ابھی تک سو رہی تھی۔”
شرارتی لہجے میں کہہ کر وہ اُسے دیکھنے لگی۔جو اُسکی بات پر ہنستے ہوئے کہنے لگی۔
“کیوٹی کیوں نہ ابھی چل کر اُسے اٹھاتے ہیں۔؟
ری شرارت سے اپنی آنکھ دبا کر بولی۔تو حور اُسکی شرارت سے آنکھ دبا کر بولنے پر قہقہہ لگا کر سر ہاں میں ہلاتے ہوئے بیڈ سے اٹھی اور ری بھی جلدی سے بلانکٹ دور اچال کر بیڈ سے اتری۔
💕💕💕💕💕💕💕
“ری برو اب مزا آئے گا۔”
وہ دونوں رعابہ کے روم میں داخل ہوئی تو حور نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر آنکھیں بیڈ پر مرکوز کرتے ہوئے ری سے بولی۔
“کیوٹی مزا تو جب آئے گا تب ہم یہ اُس پر اپلائی کرے گے۔”
ریحام اپنے ہاتھ میں بلیک کلر کا مارکر پکڑے رعابہ کے سر پر پہنچ کر شرگوشی کرتے ہوئے بولی تو حور نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے قہقہے کا گلا گھونٹا۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہے اپنی رعابہ بھابھی۔”
ریحام اپنا ٹیلنٹ رعابہ کے چہرے پر دیکھتیں ہوئے حور سے کہنے لگی۔جو رعابہ کے چہرے پر نقش و نگار دیکھ کر اپنی ہنسی کنٹرول کر رہی تھی۔
“ری برو اب جلدی سے نکلو ورنہ بھابھی صاحبہ اٹھ گئی نا تو ہمیں اوپر اٹھا لی گی مفت میں۔”
جب ہنسی کنٹرول سے باہر ہوئی تو حور نے ریحام کو کہا اور اپنے قدم جلدی سے روم سے باہر بڑھانے لگی۔
“ایسے کیسے اٹھائے گی ہمارے کھڑوس بھائی ہے نا ہمیں بچانے کے لیے۔”
ریحام شرارتی لہجے میں کہہ کر رعابہ کو پرسکون انداز میں سوتے ہوئے دیکھ کر بولی تو حور جو روم سے باہر نکل رہی تھی اُسکی بات پر زور سے قہقہہ لگا اٹھی تھیں اور اُسکے زور دار قہقہہ لگانے پر رعابہ ہڑبڑا کر اٹھی۔
“کیا ہوا کون ہے۔؟
وہ آنکھیں بمشکل کھولتی بولی تو ری اور حور اُسے اٹھتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے پردے کے پیچھے جاکر چھپی اور پردے کے اوٹ سے اُسے دیکھنے لگی جو آنکھیں مسل کر روم میں نظریں ڈورہا رہی تھی۔
“یا اللہ میں اتنی لیٹ ہوگئی اب ری برو تو مجھے جان سے مار دے گی۔”
رعابہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے کلاک پر ٹائم دیکھتی بڑبڑاتے ہوئے بیڈ سے اٹھی اور واش روم کی جانب بڑھی جبکہ وہ دونوں جو پردے کے پیچھے سے اُسے دیکھ رہی تھی اُسے واش روم میں داخل ہوتا دیکھ کرجلدی سے روم سے باہر نکلی اور باہر نکل کر زور سے قہقہہ لگانے لگی۔
💕💕💕💕💕💕💕
“حور۔!!!
رعابہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنا چہرہ دیکھ کر زور سے حور کا نام لے کر پیر پٹک کر روم سے باہر نکلی اور پورے اذان شاہ کے مینشن پر اُسے ڈھونڈنے لگی۔
“حور نکلو باہر ورنہ آج میں تُمہیں نہیں چھوڑو گی یہ تُم نے اچھا نہیں کیا اب نہیں بچو گی تُم میرے ہاتھوں سے۔”
حور کے روم میں داخل ہو کر غصے سے چلاتی ہوئی بولی۔جبکہ ری اور حور جو بیڈ پر بیٹھی اپنی ہنسی کنٹرول کر رہی تھی اُسے دیکھ کر زور سے قہقہہ لگانے لگی۔
“بھابھی یہ آپ کے چہرے پر کیا ہوا ہے کئی پارلر کی کوئی کریم وریم تو نہیں لگایا تھا آپ نے جو آپکا نقشہ بگڑا ہے۔”
ری اُسکے پورے چہرے پر ڈاٹ دیکھ کر ہنستے ہوئے بولی۔تو رعابہ ری کی بات پر سخت غصے سے اُن دونوں کی جانب بڑھی تو وہ دونوں اُسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر بیڈ سے اترے اور روم کے دروازے کی جانب بھاگے اور وہ بھی اُنکے پیچھے غصے سے بھاگی
“ری برو اچھا نہیں کیا اب میں نہیں چھوڑو گی اور حور میں تو تّمہیں بہت معصوم سمجھتی تھی تُم اتنی چالاک نکلو گی مجھے اندازہ نہیں تھا۔لیکن آج میں تُم دونوں کی چالاکیاں اچھے سے نکالتی ہو۔!!
وہ شدید غصے سے سرخ چہرہ لیے اُن کے پیچھے بھاگ رہی تھی کہ سامنے سے آتے اذان شاہ سے بری طرح سے ٹکرا گئی اور اذان شاہ جو پہلے سے ہی سخت غصے میں کہی جا رہا تھا وہ اُسے سامنے دیکھ کر سخت نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے دانت کچکچا کر بولا۔
“دیکھ کر نہیں چل سکتی اسٹوپڈ گرل ؟
بازو سے پکڑ سخت لہجے میں کہتا اُسے سائیڈ پر کرتے ہوئے خود آگے بڑھا تھا کہ کچھ یاد آنے پر وہ پلٹا اور اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“تُم نے بڑے پاپا کو ہماری شادی سے انکار کیا کہ نہیں۔؟؟
بغور اُسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا۔تو رعابہ اُسکے سوال پر سٹپٹائی اور پیچھے ہٹنے لگی کیونکہ اُسنے سعد سے کل اِس بارے میں بات کیا تھا
جو سچائی اُنہوں نے بتایا تھا اُسے سن کر شاک رہ گئی تھی اور پھر اُنکی بات پر ڈرنے لگی تھی۔کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ سچائی وہ اُسے کسی بھی طرح کر کے اُسے بتائے۔
اور وہ پریشانی سے یہ بات کل سے سوچ رہی تھی کہ کیسے اُسے سچائی بتاتی کہ۔اُس سے آگے سوچ کر جھرجھری لینے لگی۔اور پھر اُسے دیکھنے لگی جو اُسے غصے سے دیکھ رہا تھا۔
“میں اُن سے اِس بارے میں کبھی بات نہیں کروں گی اور اگر آپ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تو آپ خود کیوں نہیں اُن سے بات کرتے ہیں.!!
رعابہ اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔تو اذان اُسکی بات پر ضبط سے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچنے لگا
“انکار تو تُم کروں گی لیکن اب اپنے باپ سے کیونکہ کل بڑے پاپا کے کہنے پر وہ یہاں ہمارے نکاح کی تیاریاں دیکھنے آئے ہیں اور مجھے رات کو تمہارے منہ سے انکار سننا ہے اگر تُم نے اُن سے بھی بات نہیں کی تو یاد رکھنامیں تُمہیں برباد کر دوں گا۔”
انگلی اٹھا کر اُسے دھمکی دیتے ہوئے بولا۔تو اُسکی دھمکی کو نظر انداز کرتی مسکرا کر قدم اُسکے پاس آہستہ آہستہ بڑھاتے ہوئے بولی
“اذان شاہ میں نہیں بتاؤ گی جاؤ تُمہیں جو کرنا ہے جا کر کروں اب ہماری ملاقات نکاح والے دن ہوگی۔”
وہ اُسکی کالر کو سختی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچ کر مسکرا کر بولی تو اذان شاہ اُسکی بے باکی پر حیرت سے اُسے دیکھنے لگا اور غصے سے ایک ہاتھ سے اُسکی کمر کو سختی سے پکڑ کراپنی گرفت اُسکی نازک کمر پر مضبوط کرتا اور پھر دوسرا ہاتھ اُسکی گردن پر رکھ کر سخت لہجے میں بولا۔
“مس رعابہ عالم میں تُم سے سخت نفرت کرنے لگا ہوں اور تُمہیں پتہ ہے کیوں کیونکہ تُم میری اچھی دوست نہیں بن سکی بلکہ دشمنی پر اتر آئی ہو۔!!
بولو کیوں بڑے پاپا کو ہماری شادی سے انکار نہیں کیا ہاں جواب دو اور اب کیوں اپنے باپ کو انکار نہیں کرنا چاہتی کیوں تُم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔؟
اُسے زور سے دیوار سے پن کرتا اپنے دونوں ہاتھ اُسکی نازک گردن پر رکھتے ہوئے زور سے دباتے ہوئے بولا۔تو رعابہ اُسکی سخت گرفت پر بلبلا کر رہ گئی تھی۔
“اذان شاہ نہیں ہے میرے پاس تُمہارے سوالوں کے جواب اور اگر ہوئے بھی نا تو میں کبھی اپنی زبان نہیں کھولو گی۔”
گردن پر دباؤ کی پرواہ کئے بغیر وہ بمشکل بولی۔تو اذان شاہ اُسکی بات پر طیش میں آکر اُسکی گردن کو سرخ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“اوکے تو تُم نہیں بتاؤ گی۔”
اُسے اُسی طرح اپنی زبان پر قفل لگائے کھڑے دیکھ کر اُسکا چہرہ سختی سے دبوچتے ہوئے غصے سے غرایا۔تو رعابہ عالم تکلیف کی پرواہ کئے بغیر اُسے دیکھنے لگی۔
“نہیں بتاؤ گی۔”
وہ نفی میں سر ہلا کر بہادری سے بولی۔
“میں نے سنا ہے آج تُمہارے بابا تُمہاری ماما کو لینے جا رہے ہیں اور ایک راز کی بات بتاؤ تُمہیں مس رعابہ اگر وہ واپس نہ آئے اور بیچ راستے میں کسی نے اُنکا ایکسیڈنٹ کروایا تو تُم کیا کروں گی۔”
پرسرار مسکراہٹ چہرے پر سجاتا وہ اُسکی ٹھوڑی سےنیچے اپنی شہادت کی انگلی لے جاکر ایک لکیر کھینچتا ہوا بولا۔تو رعابہ اُسکی دھمکی اور لمس پر کانپ کر رہ گئی تھی۔
“نہیں تُم اِنہیں کچھ نہیں کروں گے میں تُمہیں بتاتی ہو تُم پلیز اُنکو کچھ مت کرنا۔”
وہ لرزتی ہوئی کپکپا کر بولی۔تو اذان اُسکے جلدی سے ماننے پر اور اُسے اپنی دھمکی سے ڈرتے ہوئے دیکھ کر مسکرانے لگا