Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
حور آہستگی سے باکس کھول کر اندر دیکھنے لگی تو دھنگ رہ گئی کیونکہ اندر جو ڈریس تھیں وہ دیکھ کر اُسکے گال گلابی ہونے لگے اُسنے سیاہ ڈریس نکال کر دیکھا جو پیروں تک چھوتا تھا اور اسکا جس طرح کا گلا تھا یہ دیکھ کر یکدم سے اُسکے پسینے چھوٹنے لگے گلا ڈیپ اور آستینوں کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔
“کنگ یہ مم۔میں نہیں پہن سکتی اس ڈریس کے تو آستینیں بھی نہیں ہے اور پھر میں اُسے پہن کر آپ کے سامنے کیسے آؤ گی اور یہاں باہر کسی نے اگر مجھے اسطرح دیکھا تو۔۔۔!!
وہ ڈریس پکڑتی باہر نکلی اور اے بی کو دیکھاتی شرم سے نظریں نیچے جھکا کر خفگی سے بولی۔۔۔
“سنو وائٹ تُم لوگوں کی فکر مت کرو یہ جگہ میں نے خرید لیا ہے صرف تمہاری کمفر ٹیبل کے لئے تاکہ تُم ایزی ہو کر باہر آؤ اور رہی میری بات مجھ سے کیسی پردہ میں تو تُمہارا محرم ہو اور میاں بیوی تو ایک دوسرے کے لباس ہوتے ہیں اور پھر میں بھلا تمہیں کیوں بے لباس کروگا سب کے سامنے ہاں اکیلے میں یہ مشکل ہے۔۔۔!!
آگے بڑھ کر اُسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر کہا پھر آخری کے لائن شریر لہجے میں کہنے لگا تو حور اُسکی آخری لائن پر شرم سے اپنا چہرہ اُسکے سینے پر چھپا گئی تھی۔۔۔
“بیوی اسی طرح کھڑے رہنے کا ارداہ ہے کیا اگر ہے تو میں بلکل تیار ہو تمہیں پکڑنے کے لیے۔۔!!
اُسے ٹھوڑی سے پکڑ کر وہ معنی خیزی سے بولا جبکہ حور اُسکی بات پر بری طرح سے سٹپٹا کے رہ گئی تھی۔۔
“لیکن پھر بھی مم۔میں کیسے۔۔۔؟؟
وہ اُسے دیکھنے سے کترا رہی تھی اسی لیے نظریں جھکا کر گھبراتے ہوئے بولی۔۔
“سنو وائٹ اگر تُم ایک منٹ کے اندر اندر کیمپ کے اندر جا کر یہ ڈریس پہن کر باہر نہیں نکلی نا تو میں خود یہ کام کر دوگا تمہیں ڈریس پہنانے والا کام اور تم اچھے سے جانتے ہو کہ میں کتنا پاگل ہو اور جو بات کہتا ہو وہ کر کے دیکھاتا بھی ہو سو اگر مجھ سے پہننا نہیں چاہتی ہو تو اندر جاؤ ورنہ تمہیں میں لے کر جاؤ گا پھر ہوسکتا ناشتہ بھی تمہیں میں کرنے نا دو۔۔۔!!
وہ مخمور نظروں سے اسے دیکھتا بوجھل لہجے میں بولا تو حور اسکی بات پر شرم سے بری طرح کانپتی پیچھے ہٹیں اور تیزی سے اس سے الگ ہوتی کمیپ کی جانب بھاگی اور اے بی وہی کھڑا اُسے جاتا ہوا دیکھنے لگا۔۔۔۔
حور کمیپ میں پہنچ کر بیڈ پر گری اور اپنی تیزی سے ڈھک ڈھک کرتے دل پر ہاتھ رکھتی شرم سے گلال چہرہ باکس کے اوپر رکھے ڈریس کو دیکھنے لگی۔۔
اے بی بے چینی سے کیمپ کے باہر کھڑا اپنی سنو وائٹ کا انتظار کر رہا تھا اور اسنے پارک میں بنے ایک اورچھوٹے سے کیمپ میں اپنے کپڑے بدلے تھے اور اب بلیو رنگ کے ٹیکسڈو میں ملبوس وہ وجاھت کا شاہکار لگ رہا تھا۔۔۔
تبھی اُسنے یکدم سے اپنی رولیکس کی گھڑی پر ٹائم دیکھا جو صبح کے دس بجا رہا تھا۔۔۔
“کوئین۔۔!!
وہ تیزی سے کیمپ کے اندر داخل ہوا تو حور کو دیکھ کر دم بخود رہ گیا کیونکہ حور ڈریس تو پہنے ہوئے تھی مگر وہ پیچھے ہاتھ بڑھا کر زپ کو بند کرنے کی کوشش میں شاید ہلکان ہو گئی تھی جو روہانسی شکل بنائی آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی۔۔
“ایک منٹ کوئین میں ہلیپ کرتا ہوں۔۔۔!!
وہ اُسکے پیچھے تیزی سے بڑھا اور کہتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر زپ کو بند کرنے ہی لگا تھا۔۔
“نہیں کنگ مم۔میں خود کر لوں گی۔۔۔!!
وہ تیزی سے پیچھے پلٹی اور اپنا سر جھکا کر گھبراتے ہوئے کہنے لگی تو اے بی نے اسکی بات کو نظر انداز کیا اور اُسکی پشت کو اپنے سینے سے لگاتا اپنا سر اُسکے شولڈر پر رکھتا اُسے دیکھنے لگا جو اُسکی نزدیکی پر بری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔
“جانم تُم ابھی سے ڈر رہی ہو اور جو میں تمہارے ساتھ آگے کروں گا تم تو بے ہوش ہو جاؤ گی اور خوامخواہ الزام مجھ معصوم پر لگے گا کہ میں نے اپنی بیوی کو ڈرا کر بے ہوش کر دیا ہے اور پھر سسسرِ محترم تو مجھے جان سے مارنے پہنچ جائے گے۔۔۔!!
اُسکی نازک گردن کے پیچھے سے اسکے بالوں کو نرمی سے ہٹاتا وہ اپنے دہکتے لبوں کو رکھتا اور آہستگی سے اپنا ایک ہاتھ نیچے لے جا کر زپ کو بند کرنے لگا۔۔
حور اپنی نازک گردن اور کمر پر اُسکی گرم انگلیوں کے لمس کو محسوس کرتی اُسکے حصار میں تڑپنے لگی اے بی اُسکی گردن پر لب رکھے ہوئے تھا اُسنے پیچھے اُسکے ڈریس کے زپ کو بند کرنے والے ہاتھ کو روکا اور پھردوسرے ہاتھ سے اُسنے اسکی نازک گردن کے اوپر سے لکیر کھینچا اور نیچے کمر پر لے جانے لگا اور حور اپنی پشت پر گرم انگلیوں کے لمس کو محسوس کرتی اپنے لبوں کو بری طرح سے بھینچنے لگی۔۔
“پلیز نہیں کنگ۔۔!!
آنکھیں سختی سے میچے وہ روہانسی انداز میں بولی۔۔
اے بی اُسکی روہانسی آواز کو نظر انداز کرتا اُسکی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اوپر اٹھا کر اپنے سینے سے لگاتا اُسکی پشت پر اپنے لب رکھتا نرمی سے اپنا لمس چھوڑنے لگا اور ساتھ میں اسے لیے نیچے لگے بیڈ کی جانب بڑھا تو حور یہ دیکھ کر تڑپنے لگی۔۔
“کنگ یہ آپ کیا کر رہے ہیں پلیز چھوڑے مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے کک کل رات میں نے کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔۔!!
حور نے بے چارگی سے کہا۔۔۔
“جان اب اور نہیں میں آج یہ دوریاں ختم کرنا چاہتا ہو اور تم ابھی ناشتے کو تو بھول ہی جاؤ اور صرف میری محبت کی بارش میں بھیگنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔۔۔!!
اے بی نے اسکا رخ اپنی جانب کیا اور اسکے دونوں گالوں پر ہاتھ رکھ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتا وہ بوجھل آواز میں کہتا اُسکے لبوں پر جھکا اور شدت سے اسکے گلابی لبوں کو چھونے لگا۔۔۔
حور یکدم سے اسکی حرکت پر اپنے دونوں ہاتھ اُسکے سینے پر رکھتی زور سے اسکی پناہوں میں مچلنے لگی وہ اسکے نازک لبوں پر جھکا اپنے ہاتھ اسکی پشت کی جانب بڑھا کر ڈریس کو آہستگی سے ہٹانے لگا۔۔
حور کو جب اپنی پشت پر اسکی پرتپش انگلیوں کا لمس دوبارہ محسوس ہوا تو وہ شدت سے تڑپتی اسکے چوڑے سینے پر اپنا سر رکھ کر اسکی کوٹ کو مٹھیوں میں جکڑ کر شدت سے دبوچنے لگی۔۔
اے بی اُسے بیڈ پر نرمی سے لٹا کر خود پیچھے ہٹا اور اس پر بلانکٹ اوڑھا کر اپنا کوٹ اتارنے کے بعداپنے شرٹ کے بٹنو کو کھولتے ہوئے اُسے دیکھنے لگا جو آنکھیں بند کیے بلانکٹ میں چھپی بری طرح سے لرز رہی تھیں شرٹ نیچے پھینکتا وہ اسکی جانب بڑھا اور آہستگی سے اسکے اوپر سے بلانکٹ ہٹا کے اسے دیکھتا یکدم سے مدہوشی سے وہ اسکی گردن پر جھکا اور بلانکٹ اپنے اوپر اوڑھ کر وہ اسکے نازک وجود کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں اٹھا کر اپنے سینے سے لگاتا اُسکی خوشبو کو محسوس کرنے لگا۔۔۔
حور اسکی گرم انگلیوں اور سانسوں کی تپش کو گردن پر محسوس کرتی شرم سے گلال ہونے لگی اور اپنے دونوں ہاتھ سختی سے اسکی چوڑی پشت پر گاڑھنے لگی۔۔
اے بی جو اسکے چہرے کو نرمی سے لبوں سے چھو رہا تھا اسکی ناخنوں کو پشت پر محسوس کرتا مسکرایا اور شدت سے اپنے ہونٹوں سے اسکے گلاب جیسے ہونٹوں کو چھونے لگا۔۔
وہ مدہوشی سے اسکے لبوں کو چھو رہا تھا تبھی اُسکے فون کی رنگ ٹون بجی تو وہ پیچھے ہٹا اور اپنے پینٹ کی جیب سے اپنا فون نکال کر نمبر کو غصے سے دیکھنے لگا جو اذان شاہ کا تھا اُسنے اپنا مہنگا فون بند کرکے اسکے اوپر سے اٹھا اور کمیپ کے کونے میں فون پھینک کر آگے بڑھا اور دروازے کا پردہ گرا کر زپ لگا وہ پیچھے پلٹا اور اپنے قدم حور کی جانب بڑھانے لگا جو بیڈ پر بلانکٹ اپنے سر تک اوڑھے بری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔
بیڈ کے دونوں اطراف میں تیز روشنی جل رہی تھی جسکی وجہ کمیپ میں روشنی پھیلی ہوئی تھی وہ آگے بڑھا اور بیڈ پر بیٹھ کر سامنے بیڈ سائیڈ پر لگے ایک بٹن کو دبا کر کمیپ میں مکمل اندھیرا کرنے کے بعد وہ حور کے اوپر سے بلانکٹ ہٹا کر دور اچالتے ہوئے اس پر جھکا اور نرمی سے اسکے وجود کو اپنے لبوں سے چھونے لگا اور اسکے ہاتھوں کو سختی سے جکڑتا اسکے مچلتے وجود کو آرام سے تسخیر کرنے لگا تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“شاہ فون اٹھاؤ ورنہ بڑے پاپا مجھے اوپر اٹھا لے گے۔۔!!
اذان شاہ جب حور کے روم میں داخل ہوا تو اسے وہاں ناپاکر اسکے روم سے نکل کر گھر کے لان کی جانب بڑھتا وہ اے بی کو کال ملانے لگا لیکن مسلسل اسکے کال ملانے کے باوجود بھی اے بی اسکی کال کو اٹھا نہیں رہا تھا تو یہ دیکھ کر وہ بے چینی سے پورے لان کے چکر کاٹتے ہوئے اسے ڈھیروں میسجز کرنے لگا لیکن پھر بھی وہ کوئی رسپانس نہیں دے رہا تھا آخر تھک کر سامنے کرسی پر بیٹھا اور خود سے کہنے لگا۔۔
“اذان آپ پریشان لگ رہے ہیں اور آپ نے ناشتہ بھی سہی سے نہیں کیا ہے چلے آئے ہم دونوں مل کر ناشتہ کرتے ہیں۔۔۔!
رعابہ اسی ڈھونڈتی لان میں آئی تو اسے پریشانی سے چکر کاٹتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھی اور اسکے کندھے پر اپنا نازک ہاتھ رکھتی بولی۔۔
“جانم جب سے تُم میری زندگی میں آئی ہو نا تو میری ساری پریشانیاں میری زندگی سے ایک ایک کر کے رخصت ہو رہی ہے لیکن صرف ایک پریشانی جو مجھے لگتا کہ شاید کبھی ختم نہیں ہوگا۔۔!!
اذان نے جب اپنے کندھے پر اسکی لمس کو محسوس کیا تو پیچھے مڑا اور مسکرا کے اسے اسکی کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
اور وہ پریشانی کی وجہ میرا کمینا دوست اور داماد ہے جو ہر وقت اپنی حرکتوں کی وجہ سے مجھے بڑے پاپا کے سامنے مجبور کرتا ہے کہ میں اسکے خلاف کچھ ایسا بولو جس سے وہ بچ جائے لیکن اس بار میں اسے بلکل بھی نہیں بچاؤ گا۔۔!!
بے بسی سے کہتا وہ آخر میں غصے سے بولا تو رعابہ نے اپنا ایک ہاتھ اُسکے بائیں گال پر رکھ کر اُسے پرسکون کرنا چاہا لیکن اپنے لمس سے اذان شاہ کے جزبات کو بھڑکانے لگیں تو تیزی سے نیچے جھکا اور اسے اپنے باہوں میں بھرتا سامنے بنے ریسٹ روم کی جانب بڑھا جو اسنے مہمانوں کے لئے بنایا تھا وہ اسے لیے اپنے قدم اسی طرف بڑھانے لگا۔۔جبکہ وہ اب پچھتا رہی تھی کہ اسنے یہ حرکت کیوں کیا اور اگر اسےپتہ ہوتا کہ یہ حرکت اس پر بھاری پھرنے والا ہے تو وہ کبھی یہ نہ کرتی لیکن اب تو بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔
“اذان یہ آپ کیا کر رہے ہیں مجھے نیچے اتارے اور اس وقت اپنے دوست کے بارے میں سوچے۔۔۔!!
اپنے دونوں ہاتھ اُسکے سینے پر رکھتی وہ سٹپٹا کے بولی تو اذان شاہ نے نظریں اسکے چہرے پر ڈال کر اسے نظریں نیچے جھکانے پر مجبور کیا۔۔
وہ اسے لیے ریسٹ روم میں داخل ہوا اور پیروں سے دروازہ بند کرتا اسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا اور اسے بیٹھ پر بٹھا کر خود پیچھے مڑا دروازے کی جانب بڑھا اور دروازہ بند کرتے ہوئے لاک لگانے لگا۔۔
“اذان پلیز مجھے جانے دو ابھی بہت کام ہے مجھے اور کک۔کل یونی میں میرا ایک اہم ٹیسٹ بھی ہے مجھے اسکی بھی تیاری کرنی ہے کیونکہ رات کو ولیمہ ہے تو مجھے ٹائم نہیں ملے گا۔۔۔!!
وہ گھبرا کر بولی۔۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے ارحام انصاری کو بہت سے کال ملانے کے بعد جب اسے اسکا نمبر مسلسل بند ملا تو اسنے ارسم کو فون کیا تاکہ یونی کے حوالے سے کچھ پوچھ سکے اور ارحام انصاری کے نمبر بند ہونے کے بارے میں بھی تو ارسم سے اسے اپنے اور ریحام کے ایک اہم ٹیسٹ کے بارے میں پتہ چلا تو وہ ریحام کے روم کی جانب پریشانی سے بڑھی لیکن روم اسے جب اندر سے لاک ملا تو وہ اذان شاہ کو ڈھونڈتی یہاں لان میں آئی اور اب بری طرح سے پچھتا رہی تھی کہ وہ کیوں یہاں آئی اسے بلکل بھی نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔
“جانم میرا دوست اتنا کمینا بے کہ وہ میرا فون نمبر دیکھ کر بھی جان بوجھ کر میری کال کو نہیں اٹھا رہا ہے تو میں بھلا کیوں اسکی فکر کرو اسے بڑے پاپا سے آج میں بلکل بھی نہیں بچاؤ گا۔۔۔!!
اسکے دائیں جانب بیڈ پر گرنے والے انداز میں گرا اور پھر اسکی گود پر اپنا سر رکھتا وہ اسکا سرخ آنچل اپنے چہرے پر رکھتا اپنی آنکھیں بند کرتا آنچل میں اُسکی خوشبو کو وہ محسوس کرنے لگا رعابہ جو اسکی قربت پر سمٹ رہی تھی وہ اپنا آنچل اسکے چہرے پر دیکھتی کانپتی ہوئی وہ اپنا آنچل آہستگی سے اسکے چہرے سے ہٹانے لگی اور اسے دیکھنے لگی جو آپ اپنا سر اسکی گود میں رکھے آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔۔۔
“بیوی ابھی نہیں رات کو میں تمہیں سرپرائز دونگا ابھی تو میں صرف تمہاری خوشبو کو محسوس کرنا چاہتا ہوں اور تمہاری انگلیوں کو اپنے سر پر محسوس کرنا چاہتا ہوں۔۔!!
اسکا ایک نازک ہاتھ اپنے گھنے سلکی بالوں پر رکھتا بوجھل لہجے میں بولا جبکہ رعابہ اُسکی بے ساختہ حرکت پر گلال چہرہ اوپر اٹھا کر روم میں نظریں ڈورہا کر وہ اسے دیکھنے سے اجتناب برت رہی تھی لیکن اپنے ہاتھ کی پشت پر وہ اسکی لمس محسوس کرتی تیزی سے نیچے نظریں جھکا کر دیکھنے لگی۔۔
اذان شاہ جو اسکی نازک ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیے چھوم رہا تھا اپنی نظریں اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی کہ اسکی نظروں کو اپنے اوپر اٹھتا دیکھ تیزی سے نظریں چرانے لگی۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
حور جو اے بی کے چوڑے سینے پر سر رکھے زور سے اپنی آنکھوں کو بند کیے ہوئے تھیں وہ اپنے کندھوں پر اسکی انگلیوں کو محسوس کرتی شرم سے اپنا چہرہ اسکے چوڑے سینے میں چھپانے لگی۔۔
اے بی اپنی انگلیاں کو اسکے کندھوں پر نرمی سے پھیر رہا تھا کہ تبھی کمیپ کے کونے پر اپنے فون کے مسلسل میسج ٹون پر چڑ کر اٹھا اور حور کو نرمی سے خود سے الگ کرتے ہوئے تیزی سے کونے پر گرے اپنے فون کی جانب بڑھا اور اسے اٹھا کر میسجز پڑھنے لگا۔۔
“اے بی دی سپر اسٹار تم آج اپنے سسسر کے گھر کے بلکل سامنے ایک چھوٹے سے پارک میں ایک کیمپ میں اپنی بیوی کے ساتھ کیا کر رہے ہواگر یہ نیوز میڈیا والوں کو پتہ چلا تو تمہارا کچھ نہیں ہوگا مگر تمہاری بیوی پوری دنیا کے سامنے بدنام ہو جائے گی کیونکہ وہ لڑکی دن کے اجالے میں ایک سیلبریٹی کے دن کو رنگین کر رہی ہیں۔۔!!!
“اور اگر میں نے یہ خبر مرچ مصالحہ لگا کر پورے ملک میں اور ملک سے باہر پھیلا دیا تو تمہاری بیوی تو خودکشی کرنے پر مجبور ہو جائے گی ویسے شیر ایک کام کرکے اچھا کیا جو دنیا کے سامنے اپنا اور اپنی بیوی کے رشتے کے بارے میں ابھی تک تم نے نہیں بتایا اور یہ کام کر کے تم نے میرا کام اور بھی آسان کر دیا ہے کیونکہ اگر تم میرے پاس نہیں آئے تو میں تمہاری بیوی کو اچھے سے بدنام کر سکوں گا۔۔!!
“زی کے اب تم زندہ نہیں بچو گے۔۔۔!!!
وہ میسجز انتہائی گھٹیا قسم کے کچھ یوں تھے اور خاص کر اسکی سنو وائٹ کے حوالے سے زی کے نے جو لکھا تھا اسے پڑھ کر اسکی غصے سے سبز آنکھوں میں سرخ ڈورے پڑنے لگے تھے اور سخت طیش میں آکر غراتے ہوئے اپنے فون کی اسکرین پر نظر آتے نمبر کو گھورتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“کنگ کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔؟؟
حور اُسکی غصے سے سرخ ہوتی نظروں سے خوفزدہ ہونے کے باوجود بھی ہمت کرتی اسکے سرخ چہرے پر اپنا نازک ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔۔
“ہاں سنو وائٹ میں ٹھیک ہوں تم تیار ہو جاؤ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑتا ہو مجھے ایک اہم کام نبٹا کر آنا ہے اور اگر میں صحیح سلامت واپس آیا تو تمہارے پاس آؤ گا۔۔۔!!
اسکی کپڑے سامنے سے اٹھا کر جو حور نے اسکے لائے ہوئے ڈریس کو پہننے کے بعد سامنے رکھے تھے دیتے ہوئے بولا حور جو بلانکٹ میں خود کو چھپائے ہوئے تھی وہ اسکی بات پر شرم سے اپنی نظریں جھکا کر اسکے ہاتھوں سے اپنے کپڑے تھام کر نظریں تیزی سے اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔۔
جو شرٹ لیس اسکے سامنے کھڑا تھا تو حور نے جلدی سے اپنی نظروں کو اسکے مضبوط چوڑے سینے سے ہٹایا اور لرزتی انگلیوں سے بلانکٹ کو چھوا اے بی نے اسکی نظروں کی التجاء کو سمجھا تو وہ مسکرا کر آگے بڑھا اور اسکے دونوں گالوں پر باری باری اپنے لب رکھتا اسکے نرم سفید گالوں کو مزید سرخ کرنے کی وجہ بنا۔۔۔
“اوکے سنو وائٹ میں باہر ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا اور قدم آگے بڑھاتا کیمپ کے دروازے کی زپ کو کھول کر باہر نکلا۔۔۔
اور باہر نکل کر وہ اُس زی کے کے گھٹیا میسجز کو سوچنے لگا اور اسنے غصے سے اس شخص کو پورے چھ سال بعد کال کیا تو دوسری طرف جیسے وہ شخص اسی کے کال کا ویٹ کر رہا تھا اسکے کال کرتے ہی اسنے ایک ہی لمحے میں کال اٹھا لیا۔۔
“بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں میرے شیر تمہارے کال کرنے پر اور مجھے اگر پتہ ہوتا کہ اس لڑکی کی وجہ سے تمہیں اتنی جلدی میری یاد آئے گی تو میں بہت جلد یہ کام کرتا خیر ابھی بھی دیر نہیں ہوا اب تو تم ضرور آؤ گے اپنے اصل کی جانب میرے ببر شیر۔۔۔!!!
دوسری جانب ایک بھاری اور سپاٹ آواز سن کر وہ سخت غصے سے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچنے لگا۔۔۔
“خبردار خبردار اگر تُم نے اپنی گندی زبان سے میری بیوی کا نام لیا ورنہ زیکے میں تمہیں وہاں پہنچ کر ختم کر دو نگا جہاں تم بیٹھ کر یہ بکواس کر رہے ہو۔۔۔!!!
سرد لہجے میں کہتا وہ دوسری جانب شخص کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔
“ماڑا یہی غصہ تو چاہیے مجھے تمہارا بہرام شاہ لیکن تم اب میرے نہیں اپنی بیوی کے قبضے میں ہو اور یہ غصہ فالتو چیزوں میں ضائع کر رہے ہو۔۔۔!!
وہ زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے آخر میں افسردگی سے کہنے لگا تو اے بی اسکی زبان سے دوبارہ حور کا نام سن کر وہ غصے سے پاگل ہونے لگا۔۔۔
“بس زیکے بس بہت ہوگیا اب میں وہیں آکر تمہاری بکواس کو ختم کر دونگا تمہیں مار کر بہت شوق ہے نا تمہیں میرے غصے کو دیکھنے کا تو انتظار کرنا میرے غصے کے لئے۔۔۔!!
نفرت سے اسکا نام لیتا وہ سرد لہجے میں کہنے لگا تو اسکے آنے کی بات پر وہ شخص خوشی سے جھوم اٹھا کیونکہ وہ اسکے لئے ہمیشہ اچھا ثابت ہوا تھا آج وہ اس مقام میں صرف اسکی وجہ سے پہنچا تھا لیکن اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ اس مقام تک لا سکتا ہے تو نیچے پھٹک بھی سکتا ہے۔
“میں تو پورے پانچ سال سے انتظار کر رہا تھا لیکن آج رات بارہ بجے یہ پانچ سال تمہارے چوبیس سال کے ہوتے ہی چھ سال میں بدل جائے گااور شیر تم فکر مت کرو میں نے تمہاری سالگرہ کا اچھے سے انتظام کیا ہے۔۔!!
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تو اے بی نے اسکی فضول بکواس سننے سے بہتر سمجھا کہ فون بند کر کے آگے کے بارے میں سوچے لیکن اس سے پہلے حور کو گھر پر چھوڑنے
💕💕💕💕💕💕💕
اے بی حور کے ساتھ اذان شاہ مینشن کے پاس پہنچ کر سام کو کال کرتے اسے دیکھنے لگا جو سرخ چہرہ نیچے جھکا کر کھڑی تھی۔۔
“ڈیڈ مائیکل کی کال ہے میں دیکھتا ہو میں نےکالج کے بارے میں جو پوچھا تھا شاید اسی بارے میں اسنے مجھے کال کیا ہو۔۔!!
دوسری جانب سام جو ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا شاہ بخت کو حور کے حوالے سے جھوٹ بولنے کے بعد ناشتہ کر رہا تھا سامنے رکھے اپنے موبائل پر رانگ نمبر دیکھ کر ایک ترچھی نظر سب پر ڈالتا اٹھا اور شاہ بخت سے کہتے ہوئے تیزی سے گھر سے باہر نکلا لیکن سامنے اے بی کے ساتھ حور کو دیکھ کر ان کی جانب بڑھا۔۔۔
“شاہ آپ آئندہ آپی کو جہاں لے کر جائے گے تو پہلے مجھے بتائیے گا ورنہ ڈیڈ ہنگامہ کریں گے۔۔۔!!
سام گھر سے باہر نکلا اور تیزی سے انکی جانب بڑھتے ہوئے بولا تو اے بی اسکے نرمی سے کہنے پر مسکرایا جبکہ حور منہ کھولے حیرت سے اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھنے لگی جو پہلے تو وہ سختی سے باتیں کیا کرتا تھا تو آج ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ اس سے نرمی سے بات کر رہا تھا۔۔
“اپنی آپی کو اندر لے کر جاؤ وہ بہت تھک گئی ہوگی کیوں سنو وائٹ ٹھیک کہا نا میں نے۔۔۔!!
سام سے کہنے کے بعد وہ حور سے شریر لہجے میں پوچھنے لگا تو حور اسکی بات پر شرم سے گلال چہرہ لیے تیزی سے گھر کے اندر بڑھی اے بی اسکے بھاگنے کی تیز رفتاری کو دیکھ کر مسکرایا جبکہ سام تعجب سے اسے پھر اے بی کو دیکھنے لگا جو گھر کے اندر داخل ہوتی حور کو دیکھ رہا تھا۔۔
“شاہ آپی چلی گئی اب واپس آجائیں ۔۔!!
وہ آخر میں اسکی بات کو سمجھتا شریر لہجے میں کہنے لگا تو اے بی نے اسے گھورا اور پھر زور سے قہقہہ لگانے لگا تو سام نے بھی اسکے قہقہہ لگانے پر خود بھی زور سے قہقہہ لگانے لگا۔۔۔
سالے صاحب ٹھیک ہے اب اجازت چاہتا ہو میں تمہاری آپی کو صحیح سلامت واپس لے کر آیا ہو لیکن امانت سمجھنا اسے تم میرا اور اگر میں زندہ بچ کر آیا تو میں تم سے اپنی امانت لے کر جاؤ گا۔۔!!
وہ آگے بڑھا اور اسے گلے سے لگا کر سنیجدگی سے بولا تو سام نے اسے مسکراتے ہوئے اس سے وعدہ کرنے لگا کہ وہ اسکی امامت کا اچھے سے خیال رکھے گا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
اپنی کار تیزی سے اس پرانے کارخانے کے سامنے روک کر وہ غصے سے نیچے اترا کیونکہ زی کے نے اسے اسی جگہ کا پتہ دیا تھا اب وہاں کسی کو نا دیکھ کر وہ طیش میں اپنی کار سے باہر نکلا اور کارخانے کے اندر کی جانب بڑھا۔۔۔
“اب مجھے بلا کر کہا چھپے ہو تُم زریاب خانزادہ باہر نکلو۔۔!!
کارخانے میں داخل ہو کر وہ شدت سے چیختے ہوئے زریاب خان کو پکارنے لگا جو سامنے کے روم میں لیپ ٹاپ کی اسکرین میں اسے خوشی سے دیکھ رہا تھا کہ اپنے سامنے کھڑے آدمی کو اشارہ کرتے ہوئے اسے باہر بھیجا تو وہ تیزی سے باہر نکلا۔۔
“زریاب خان تم کل بھی بزدل تھے اور آج بھی اتنے بزدل ہو جو میرے سامنے آنے سے ڈر رہے ہو۔۔!!!
اے بی چاروں جانب اپنی نظریں ڈورہا کر طنزیہ انداز میں بولا وہ آدمی جو بڑے بڑے باکس کے پیچھے چھپا ہوا تھا اُسنے ایک چھوٹی سی ریوالور میں ایک انجیکشن ریوالور کی نال پر لگایا اور اے بی کی گردن کا نشانہ لینے لگا
اے بی جو زریاب خان کو آوازیں دے رہا تھا تبھی اسنے اپنی گردن ایک چھبن محسوس کیا تو ہاتھ گردن پر رکھ کر اس چھبن کی وجہ کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا پھر نظریں نیچے جھکا کر انجیکشن کو غصے سے دیکھنے لگا جو بے ہوش کرنے کے لیے اس گھٹیا انسان نے چھپ کر اس پر چلایا تھا یکدم سے اسکی نظروں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو وہ حور کا نام بڑبڑاتے ہوئے نیچے بیٹھتا چلا گیا شاید دوائی نے اپنا کام شروع کردیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا ہاہاہاہا شیر اب میں تمہارے ساتھ آج کے دن وہ کرو گا جو میں نے تمہارے ساتھ چھ سال پہلے نہیں کیا تھا اور یہ تمہاری سالگرہ کا تحفہ ہوگا میری طرف سے۔۔۔!!!
زریاب خان روم سے باہر نکل کر اے بی کے بے ہوش وجود کو دیکھتے ہوئے کمینگی سے مسکراتے ہوئے کہنے لگا اور دو تین آدمیوں کو اسے وہاں سے اٹھانے کا کہہ کر خود کارخانے سے باہر نکلنے لگا۔۔۔
