117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

🖤🖤🖤🖤🖤
“حور بچہ اگر آپ کو یونی جانا تھا تو آپ ہم میں سے کسی کو کہتی آپ کو لے کر جاتے آپ یوں اکیلی تو نا جاتی۔۔۔!!
حور سام کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوئی تو شاه بخت کو دیکھتی وہ ڈر کر پیچھے ہوئی لیکن سام نے اسکے ہاتھ کو تھام کر دبایا تاکہ اسے کچھ صوصلہ ملے اور خود وہ شاه بخت کو جواب دینے لگا۔۔
“ڈیڈ میں آپی کو صبح چھوڑ کر آیا تھا اور ابھی وہ اپنی کلاس فیلو کے ساتھ آئی ہے کیوں آپی سہی کہا نا میں نے۔۔!!
سام نے شاه بخت سے کہہ کر آخر میں حور کی جانب دیکھتے ہوئے اپنی ایک آنکھ دبا کر پوچھنے لگا۔۔
“ہاں بابا ممم۔میں سام کے ساتھ صبح گئیں تھی اور ابھی اپنی دوست کے ساتھ آئی ہو اور بابا آج کچھ ضروری نوٹس وغیرہ بھی تو بنانے ہیں مجھے اسی لیے میں نے اس سے ہلیپ لیا تھا اسی وجہ سے میں تھوڑی لیٹ ہوگئی تھی۔۔!!
حور نے روانی میں جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔۔
“بیٹا آئندہ مجھے بتا کر جانا اوکے اور میں آج ہی لندن اپنے اہم میٹنگ کے لیے جا رہا ہو رات کو ابھی مجھے یہاں اذان بچے کے آفس میں بھی جانا ہے وہ کہی کسی ضروری کام کے لئے گیا ہے تو اہم میٹنگ سب مجھے دیکھنا ہے۔۔۔!!
حور کے گال کو پیار سے سہلاتے ہوئے کہنے لگا تو حور نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
“سعدی تم‌ سب کا خیال رکھنا اور کل کی ٹکٹ کنفرم کرنا مجھے سب کل لندن میں ملنے چاہیے ورنہ آگے تم سمجھدار ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرو گا۔۔!!
سعدی کی مڑتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔۔
“بھائی آپ بے فکر ہو کر جائے میں سب کا بہت اچھے سے خیال رکھو گا اور کل سب لندن میں آپ کو ملے گے۔۔!!
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔
“بھائی یہ آپ کے لئے کورئیر دے کر گیا تھا میں بھول گیا تھا اور اس میں کسی نے اپنا نام بھی نہیں لکھا ہے ہاں یہ لکھا ہے کہ اسے ضرور کھولنا یہ اہم ہے۔۔!!
معاذی تیزی سے آگے بڑھا اور ایک کاکی کلر کے باکس کو انکی جانب بڑھاتے ہوئے گھبرا کر کہنے لگا مبادا شاه بخت اسے بھولنے کی سزا نا دیں۔۔۔
“معاذی کب بھولنے کی عادت ختم ہوگا تمہارا اگر یہ اہم ہوا میرے لئے تو بے وقوف انسان۔۔۔!!
غصے سے اسے گھورتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور اسکے ہاتھ سے باکس لے کر کہنے لگا تو معاذی نے اپنی نظریں جلدی سے نیچے جھکا دی۔۔۔
شاہ بخت وہ باکس غور سے دیکھنے لگا جس میں بھیجنے والے نے نا اپنا نام لکھا تھا ہی کچھ اور بس اردو میں یہ لکھا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے مسٹر شاہ آپ کے لئے اسطرح میرے متعلق جو بھی آپکی غلطیاں فہمیاں ہے وہ اسے پڑھ کر شاید ختم ہو جائے گے۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“مسٹر ارحام انصاری اب مجھے اپنی شکل کبھی بھی مت دکھانا کیونکہ تمہاری اس حرکت سے مجھے تم سے شدید نفرت ہوگئی ہے تم نے اپنی اصلیت تب مجھ پر ظاہر کیا جب میں تم سے شاید اپنی فیلنگ جو مجھے تمہارے لیے محسوس ہو رہے تھے وہ شئیر کرنے والی تھی لیکن خدا کا شکر ہے مجھے تمہارے کھیل کا پتہ چل گیا ورنہ تم یہ جان کرمجھے پھر سے استعمال کرتے کیونکہ تم ایک گھٹیا انسان ہو۔۔!!
ریحام نے اپنے اوپر جھکے ارحام انصاری کو شدت سے دور دھکیل کر نفرت سے کہا جو اسکی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ رہا تھا اسکے دھکیلنے پر پیچھے ہوا اور اسے دیکھنے لگا اور پھر اسکی بات پر تعجب سے اسے دیکھنے لگا اور آگے بڑھا اور اسکی بیک کو اوپر اٹھا کر اسے اپنے بے حد نزدیک کرتا بوجھل لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“جانم تُم۔۔!!
وہ اسکے بالوں پر نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تو ری نے اسے غصے سے گھورا اور خود سے دور کیا جو ناممکن تھا کیونکہ وہ اس طاقتور مرد کو ایک انچ بھی ہلا نہ سکی اور وہ اپنے دونوں ہاتھ اسکی پشت پر پھیرتے ہوئے اسکی کمر پر سختی سے اپنے ہاتھ کا لاک لگاتا اسے دیکھنے لگا جو اسکے بازوؤں میں بری طرح سے مچل رہی تھی۔۔۔
“ہاتھ مت لگاؤ بہت تکلیف ہو رہا ہے مجھے تمہارے چھونے سے ممم۔۔مجھے بھی اُس وقت تم سے محبت کا احساس کیوں ہوا جب تمہاری اصلیت مجھ پر ظاہر ہوئی بولو کیوں کیا تم نے ایسا بولو کیوں۔۔!!
اپنے دونوں نازک ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر وہ بری طرح سے روتی ہوئی اسکے سینے پر مکے مارنے لگی جبکہ ارحام انصاری اسکی اس سچویشن میں محبت کا اظہار سن کر بے بسی سے مسکرانے لگا پھر نرمی سے اسے خود سے الگ کرتا اپنے اوپر سے چادر ہٹا کر بیڈ سے نیچے اترا اور ریحام اسے خاموشی سے اٹھتے ہوئے دیکھ کر اپنی سرخ آنکھیں اُس پر ڈال کر اُسے گھورنے لگی جو شرٹ لیس تھا اور سامنے کھڑا اُسے ہی دیکھ رہا تھا پھر وہ سامنے فرش پر پڑے اپنے شرٹ کو اٹھا کر آرام سے پہننے کی کوشش کرنے لگا اور اسی بیچ چوٹ پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے اسکی بازو سے خون نکلنے لگا اور ایک درد کی لہر ارحام انصاری کو اپنے پورے وجود میں دوڑتا ہوا محسوس ہوا تو وہ تکلیف سے کراہ اٹھا اور اپنا بازو پکڑے نیچے روم کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھتا چلا گیا ریحام جو سر جھکائے اپنی نظریں بیڈ شیٹ پر ڈالے اسے اگنور کر رہی تھی کہ اسکی درد بھری کراہ سن کر تیزی سے اپنا سر اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی جو نیچے فرش پر بیٹھا اپنا بازو پکڑے درد کی شدت سے ہلکی آواز میں کراہ رہا تھا وہ اسکی کچھ دیر والی حرکت کو بھول کر تیزی سے بیڈ سے اٹھی اور اسکی جانب بڑھی جسکے گلے سے تکلیف سے نکلنے والی ایک ایک آواز اُسے تکلیف پہنچا رہی تھی۔۔
“یہ کیسے ہوا اور تُم نے اپنی حرکتوں سے اپنے زخم کو اور زیادہ گہرا کر دیا دیکھو کتنا خون بہہ رہا ہے چلو اٹھو یہاں سے۔۔۔!!
اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر وہ اسکے بازو سے نکلتے خون کو تکلیف سے دیکھتی سخت غصے سے بولی تو ارحام انصاری اسکی فکر مند آواز پر درد کے باوجود بھی مسکرانے لگا۔۔
“بیوی تُم تو مجھ سے سخت نفرت کرتی ہو تو پھر یہ چہرہ میری تکلیف پر کیوں سفید پڑ گیا ہے اور یہ فکر کس لئے میں تو بہت بڑا کمینا انسان ہو۔۔؟؟
اسکے نازک ہاتھ کو پکڑ کر وہ نقاہت سے مسکراتے ہوئے بولا۔۔
“اور جانم جس حلیے میں تم میرے سامنے اِس وقت بیٹھی ہو نا تو ہوسکتا ہے میں اپنی تکلیف بھول کر پھر سے تمہیں استعمال کروں اور پھر تم یہ فکر بھول کر مجھے اور زخمی کر دو گی جو میں برداشت نہیں کر سکوں گا۔۔۔!!
اسے اسکے حلیے کی جانب متوجه کرتا وہ تکیلف سے لیکن شریر لہجے میں کہنے لگا تو ریحام نے جھٹکے سے اپنے حلیے کی جانب دیکھا جو صرف بلیک رنگ کی گھٹنوں تک آتی ایک چھوٹی سی اسکرٹ میں ملبوس تھی یہ دیکھ کر وہ شرم کے مارے تیزی سے پیچھے ہٹی اور پریشانی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور واش روم کی جانب بڑھی۔۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ باہر آئی تو اسے روم میں وہ کہیں نظر نہیں آیا ہاں جس جگہ پر وہ بیٹھا تھا وہاں ایک پیپر پڑا ہوا تھا اور ساتھ میں اسکے خون کے نشانوں نے سفید فرش کو داغ دار کیا تھا۔۔
“ڈئیر بیوی بہت جلد ہماری ملاقات ہوگی اور کیسے یہ میں خود نہیں جانتا مگر یاد رکھنا مس میزائیل میں نے کبھی بھی تمہارا استعمال نہیں کیا کیونکہ میں نے صرف تمہارے دل سے محبت کہ احساس کو ظاہر کرنے کے لئے یہ سب کہا تھا لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم میری باتوں سے بدگمان ہوگی اور اگر پتہ ہوتا کہ تم بدگمان ہو جاؤ گی مجھ سے نفرت کرنے لگ جاؤ گی تو میں یہ سب کہنے سے بهتر تھا کہ میں خود کو ہی مار دیتا۔۔!!
اسی لیے میں جا رہا ہو زریاب خان کے خفیہ ادے میں تاکہ اپنے ساتھ اسکے ادے کو بھی دھماکے سے اڑا دو تاکہ تم آزاد ہو جاؤ مجھ جیسے خبیث انسان کے قید سے تم چاہتی ہو نا کہ میں اپنی شکل دوباره نہ دیکھاؤ تو یہ سب سے اچھا آئیڈیا ہے اس طرح ایک غنڈے کو ختم کرنے کے ساتھ میں بھی ختم ہو جاؤ گا۔۔!!
پیپر پر لکھے الفاظوں کو پڑھ کر وہ‌ ساکت رہ گئیں تبھی نظریں اسکے خون پر پڑی تو ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے خون کے نشانوں کو چھونے لگی اور ہچکیاں لے کر رونے لگی۔۔
“نہیں تم یہ پاگل پن نہیں کرسکتے میں تمہیں یہ کرنے نہیں دو گی مسٹر غازی تم ایک پڑھے لکھے ہو کر خودکشی کیسے کر سکتے ہو یہ میں نہیں ہونے دونگی۔۔۔۔!!
وہ غصے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور چیختے ہوئے بولی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
ارحام اذان شاہ مینشن سے باہر نکل کر ریحام کی باتوں کو سوچتا ہوا روڈ کی دوسری جانب اپنے کار کی جانب بڑھا جو اسنے پارک کیا تھا۔۔
وہ اب نہیں جانتا کہ اسکے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے لیکن پھر بھی وہ خود کو اپنی کار کی جانب گھسیٹ رہا تھا کیونکہ کچھ دیر پہلے اسے کمانڈر کا میسج ملا تھا کہ آج زریاب خان کے سبھی خفیہ جہگوں کو تم‌ اور تمہاری پاٹنر نے بم سے اڑانا ہے اور جو لڑکیاں اور بچوں کو وہ اسمگل کرنا والا تھا ان سب کو وہاں سے باہر نکالنا ہیں لیکن اسنے ریحام کو اس میسج کے متعلق کچھ نہیں بتایا کیونکہ وہ وہاں اکیلا جانا چاہتا تھا تاکہ کچھ اسے بھی تو سزا ملے۔۔
“مسٹر غازی تم مجھے چھوڑ کر اس طرح نہیں بھاگ سکتے۔!
ارحام اپنی کار کی چابی جیب سے نکال رہا تھا کہ ریحام نے پیچھے سے آکر اسے غصے سے کالر سے پکڑا اور زور سے اپنی طرف کھینچا تو وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور نیچے روڈ پر اسکے ساتھ گرا وہ جو اسکے اوپر جھکی شدید غصے سے اسے دیکھ رہی تھی اچانک سے اُسنے سختی سے اسکی کارلر کو پکڑا اور اسکے چہرے کو بے حد نزدیک کرتے ہوئے اسے دیکھا جسکا چہرہ تکلیف کی وجہ سے زدر ہو گیا تھا۔۔
“مس میزائیل پیچھے ہٹو ورنہ میں یہی شروع ہو جاؤ گا اور پھر مت کہنا کے میرے گھر کے سامنے روڈ پر میرے ساتھ تم نے زبردستی کیوں کیا ہے ۔۔!!
ارحام نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا اور سر ہلکا سا اوپر اٹھا کر اپنے لب اسکی چھوٹی سی سرخ ناک پر رکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“مسٹر غازی تم ایک بدتمیز انسان ہو تمہیں کیا لگا کمانڈر کا میسج صرف تمہیں ملے گا مجھے نہیں انکا میسج مجھے دن کے دو بجے ملا تھا اور ٹھیک ایک منٹ بعد تمہیں بھی انکا میسج ملا تھا اور میں نے تمہارا موبائل خاموشی سےتمہاری پینٹ کے جیب سے نکال کر چیک کیا تھا اور تم اب مجھے اسطرح چھوڑ کر اکیلے مشن پر نہیں جا سکتے ہو اور تم مسٹر ارحام خوش فہمی بلکل بھی مت پالنا کیونکہ میں ابھی بھی تم سے نفرت کرتی ہو صرف اپنے کمانڈر کے کہنے پر تمہارے ساتھ جا رہی ہو۔۔!!
اسکے چہرے کو شدت سے پکڑتی وہ اسکے اوپر جھکی اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غصے سے بولی۔۔۔
“مس میزائیل میرا بھی وعده ہے تم سے کہ بہت جلد تم ساری بدگمانیوں کو بھول کر میرے گلے لگو گی اور مجھ سے عشق کا اظهار کرو گی۔!!
ارحام انصاری نیچے سے اٹھا اور اسے دیکھتے ہوئے اپنے دل میں اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا جو بڑے سے استحاق سے اسکی کار کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اے بی نے اپنے اوپر بوجھ محسوس کیا تو جھٹکے سے اسنے اپنی آنکھیں کھولی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی زریاب خان سے نفرت میں مزید اضافہ ہوا اسکا دل چاہا کہ وہ اس شخص کو بری موت دے جس نے آج اپنی درندگی سے اتنے معصوم بچیوں کی زندگیوں سے کھیلا اور کتنے بچوں کو ڈرگز جیسی مہلک چیز کا عادی بنایا۔۔
وہ اپنے اوپر جھکی دو کم عمر لڑکیوں کو تاسف سے دیکھنے لگا جو شاید ڈرگز کی وجہ سے اپنے ہوش میں نہیں تھی اور اپنے نھنے ہاتھوں سے اسکے جسم کو چھو رہی تھی یہ دیکھ کر وہ تیزی سے اٹھا لیکن اپنے ہاتھ پیر مضبوط رسیوں سے جکڑنے کی وجہ سے وہ غصے سے اپنا سر تکیہ پر رکھ کر ان معصوموں پر ترس کھانے لگا کیونکہ وہ جو کر رہی تھی وہ دونوں ڈرگز نہ ملنے کی وجہ سے کر رہی تھیں۔۔
“شیر کیسا لگا تمہیں پہلا تحفہ اور یہ تحفہ میں اپنے خاص بندوں کو دیتا ہو جن سے میں بہت محبت کرتا ہو اور ابھی دوسرا تحفہ میں دینے آیا ہو تاکہ تم بھی ان دونوں کی طرح اپنے ہوش کھو کر ان کے ساتھ کھیلو اور میں ایک سپراسٹار کی وڈیو بنا کر پیسے کما سکو بہت اچھا آئیڈیا دیا ہے تم نے مجھے کل رات کو بے ہوش ہونے کے بعد بھی ببر شیر اور آج میں اس آئیڈیے کو تم پر افلائی کرو گا۔۔!!
زریاب خان روم میں داخل ہوا اور اسے دیکھتا کمینگی سے مسکرا کر کہنے لگا تو اے بی جو کب سے خاموشی سے اپنے ہاتھوں سے رسیوں کو کھولنے کی کوشش کر رہا تھا اسے اندر آتے ہوئے دیکھ کر طیش میں آکر اپنے ہاتھوں کو زور سے حرکت دینے لگا تاکہ وہ رسیاں ڈھیلی ہو کر خود ہی کھل جائے۔۔
“زریاب خان تمہیں مجھ سے محبت نہیں تمہیں ضرورت ہے میری کیونکہ میرے غصے کی وجہ سے پانچ سال پہلے تم سے سب ڈرتے تھے اور تم اب بھی یہی چاہتے ہو۔۔۔!!
وہ درشت لہجے میں بولا تو زریاب خان آگے بڑھا اور اپنے ہاتھ میں ڈرگز والا انجیکشن کو زور سے اسکے بازو پر گاڑھتے ہوئے اسے خباثت سے دیکھنے لگا لیکن اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر وہ پیچھے ہٹا اور تعجب سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“زریاب خان کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ اے بی رسیوں سے نہیں بلکہ لوہے کی زنجیرو سے قابو میں آسکتا ہے افسوس یہ رسی تو کھل گیا۔۔!!
طنزیہ انداز میں کہتا وہ ان دونوں لڑکیوں کو پیچھے کرتا اٹھا اور اپنے پیروں سے رسیوں کو کھولنے لگا۔۔
“شیر تُم نے اگر مجھے مارا تو اپنے آپ کو کیسے بچاؤ گے کیونکہ یہ معمولی ڈرگز نہیں ہے یہ بہت خطرناک ڈرگز ہے اور اس کی سب سے اچھی بات پتہ ہے کیا ہے۔۔۔!!
زریاب خان نے پرسرار انداز میں وہ ڈرگز والا انجیکشن کو دیکھا اور اس سے کہنے لگا جو اسنے اے بی کی گردن پر لگایا تھا۔۔
“جو ڈرگز پانچ سال پہلے استعمال کرتا تھا یہ ڈرگز لینے سے وہ انسان ایک ہی دن میں اپنے ہوش میں نہیں رہتا کیونکہ یہ ڈرگز بہت خطرناک ہے اور اس سے انسان کی جان بھی چلی جاسکتی ہے۔۔!!
طنزیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تو اے بی شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اسے دیکھتا چھوٹے سے بیڈ سے اترا اور چل کر اسکے مقابل کھڑا ہوا۔۔
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس ڈرگز کی وجہ سے میں اپنے ہوش گنوا دو نگا میں صرف تمہیں مار کر اپنے پانچ سال کو برباد کرنے کا بدلا تم سے لونگا اور بہت ساری چیزیں تو میں نے ایک ایک کر کے تم سے چھینی ہے تمہارا بھائی جس کو میں نے موت کی سزا دیا صرف تمہاری وجہ سے اور اسکی غلط حرکتوں کی وجہ سے اب تمہاری باری لیکن اس سے پہلے میں تمہیں کچھ دیکھاتا ہو۔۔!!
موبائل فون نکال کر وہ پرسرار لہجے میں بولا۔۔
“یہ کیا کیا تم نے شیر میرا سب کچھ ختم کر دیا۔۔۔!!
وڈیو میں جلتے اپنے سارے ڈرگز اور کارخانوں کو دیکھتے ہوئے چیخ کر بولا جو اسکے کہنے پر ریحام اور ارحام نے جلا دیے تھے۔۔
“کیوں نہیں کرسکتا اپن کا باس یہ سب ہاں زریاب خان۔۔۔؟؟
تبھی شنکر نے وہاں انٹری ماری اور زریاب خان کو غصے سے دیکھا جو سخت تعجب سے اسے دیکھ رہا تھا جو اے بی کے ساتھ آکر کھڑا ہوا اور اسے طنزیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“تو فکر مت کر اپن اپنا تعارف ابھی کرے گا لیکن اس سے پہلے اپن کا باس اپنا تعارف تمہیں اچھے سے کرائے گا۔۔!!
شنکر نے کمینگی سے اے بی کی جانب دیکھتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر اپنا ہاتھ اے بی کے آگے بڑھا کر کہا اسکی چوڑی ہتھیلی پر ایک انجیکشن دیکھ کر زریاب خوفزدہ ہونے لگا
“اذی یار میں یہ انجیکشن آسکی گردن پر تو ضرور مارو گا لیکن سب سے بڑا گناہگار تو یہ تمہارا ہے جس نے تمہاری بہن کی وڈیو کو اپلوڈ کیا تھا۔۔!!
اے بی نے انجیکشن شنکر کے ہاتھوں سے لیا اور شنکر سے کہنے لگا۔۔۔
“ہاں کمانڈر اسی لیے تو یہ وہ سب محسوس کرے گا جو اسنے بچوں کو اور چھوٹی بچیوں کو محسوس کروایا تھا پھر یہ بری طرح سے جل جائے گا۔۔!!
زریاب خان اے بی کے منہ سے اذی نام سن کر وہ شنکر دادا کو حیرت سے دیکھنے لگا جو اسے غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔
“اذی میں اس کا قصہ ختم کرتا ہو کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے بم پھٹنے سے پہلے ہمیں سب بچوں کو باہر نکال کر انہیں صحیح سلامت انکی فیملی تک پہنچانا ہے۔!!
اے بی کے قدم یکدم سے لڑکھڑانے لگے تو وہ تیزی سے اذان شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولا کیونکہ نشہ دماغ پر چڑنے سے پہلے وہ سب بچوں کو باہر نکالنا چاہتا تھا۔۔
“لیکن شاہ آپکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔!!
اذان شاہ نے اسکے لڑکھڑاتے قدموں کی جانب دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“ایجنٹ اذان مارخور نے پہلے بھی اس جیسے گھٹیا ڈرگز کی وجہ سے ہار نہیں مانا ہے تو پھر آج کیسے مانے گا اور تم میری فکر مت کرو ان سب بچوں کو باہر نکالو میں اس زریاب خان کو دیکھتا ہو۔۔۔!!
شدید غصے سے کہتا اسنے اذان شاہ کو شدت سے خود سے دور کیا اور بند سرخ آنکھوں کو مشکل سے کھولتے ہوئے کہنے لگا تو اذان شاہ نے بے بسی سے اس ضدی انسان کو دیکھا جو زریاب خان کی جانب سرخ نظریں لئے لڑکھڑاتی قدموں سے بڑھ رہا تھا۔۔
“ایجنٹ اذان کھڑے کیا دیکھ رہے ہو جاؤ سب بچوں کو باہر نکالو انہیں کچھ بھی ہوا نا تو آئی سیور میں تمہیں زنده نہیں چھوڑو گا۔۔!!
بنا پیچھے مڑے وہ سنجیدگی سے بولا تو اذان شاہ نے تاسف سے اسے دیکھا اور تیزی سے قدم اس جانب بڑھایا جہاں زریاب خان نے ان بچوں کو قید کیا ہوا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥