117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

❤️
“بابا اور دادا تو ہمارے حویلی کے تہہ خانے میں بند تھے پھر ان کے بارے میں شاه صاحب آپ کو کیسے پتہ چلا۔۔!!
شازم اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے شاه بخت سے پوچھنے لگا جو سنجیدگی سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا اسکی بات پر سیدھا ہوا اور اے بی کی جانب دیکھنے لگا جو حور کے ساتھ بیٹھا اُسے ہمایوں ملک والی بات پر اگنور کر رہا تھا۔۔
“آپ کے دادا وجاہت شاہ کی وجہ سے وہ بہت زیادہ زخمی تھے لیکن شاید انکا دل مضبوط تھا جو انہوں نے مشکل سے لیکن اپنے بیٹے کو زخمی حالت میں حویلی سے باہر بھیجنے میں کامیاب ہوگئے تھے تاکہ سید علی شاہ کسی کو انکے بارے میں جا کر خبر کر دے اور میرا وہاں عالم کے ساتھ اپنے ڈرائیور کی بیٹی کی شادی میں آنا ہوا تھا تو آپکے بابا مجھے راستے میں مل گئے تھے پھر میں اور عالم آپکی حویلی میں انکے ساتھ پہنچ گئے تھے تاکہ آپکے دادا کو بچا سکے لیکن ہمارے حویلی پہنچنے سے پہلے ہی انکی ڈیتھ ہوگئی تھیں۔۔
شاہ بخت کی بات پر شازم نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی یہ سب اس عورت کی وجہ سے ہوا تھا جسے وہ اپنی ماں مانتا تھا لیکن اسے سزا دینے کے بعد بھی وہ اس تکلیف کو نہیں بھولتا تھا جو اس عورت نے اسے دیا تھا دھوکا دے کر اور اسکا ساتھ اسکے بھائی جیسے کزن نے بھی دیا یہ دکھ وہ مرتے دم تک نہیں بھول سکتا تھا۔۔
“شازم شاه مجھے پتہ ہے بہت کچھ کھویا ہے تُم نے اور وہ بھی اپنوں کی وجہ سے اور یہ درد میں اچھی طرح سمجھ سکتا ہو کہ جب کوئی اپنا ہمیں دھوکا دیتا ہے تو بہت زیادہ تکلیف ہوتا ہے۔۔!!
شاہ بخت نے اسکے سرخ چہرے کو دیکھا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور آگے بڑھ کر اُس صوفے پر بیٹھا جہاں شازم بیٹھا اپنے آنسوؤں کو ضبط کے باعث اپنی آنکھوں سے بہنے سے روکے ہوئے تھا تو اُسکے دونوں مضبوط ہاتھوں کو تھام کر شاه بخت نرمی سے کہا۔۔
“سہی کہہ رہے ہیں سسسر محترم آپ پر یہ لو گرو پتہ نہیں اس بات کو کب سمجھے گے ہمارے ساتھ جو ہوا ہے وہ اللہ کی مرضی سے ہوا ہے ہم بندے یہ بات پتہ نہیں کب سمجھے گے آخر کو ہر انسان کو موت کا ذائقہ کسی نا کسی دن چھکنا ہے تو پھر یہ دکھ درد کیوں بلکہ دکھ کے بجائے ہمیں کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ ہم مرنے کے بعد کسی کو دکھ دینے کا باعث نا بنے سہی کہا نا میں نے سسسرِ محترم۔۔!!
اے بی نے سنجیدگی سے کہا تو اسکی بات پر سب ہاں میں سر ہلانے لگے اور اذان شاہ جو خاموشی سے سبکی بات سن رہا تھا کہ اسے اسی وقت ارحام انصاری کا میسج ملا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور سب کو دیکھنے کے بعد شاه بخت کی جانب بڑھا۔۔
“بڑے پاپا مجھے ایک ضروری کام سے باہر جانا ہے تو آپ رعابہ کو اپنے ساتھ لے جائے شاید مجھے آنے میں دیر ہو جائے۔۔!!
وہ سنجیدگی سے کہہ کر رعابہ کو دیکھنے لگا جو اسکے جانے کا سن کر پرسکون ہوگئی کیونکہ وہ ساری پارٹی میں اسکے سزا کا سوچ کر بے چین رہی تھی۔۔
“رعابہ تُم میرا انتظار ضرور کرنا کیونکہ میں کھانا گھر آ کر تمہارے ساتھ ہی لگاؤ گا۔۔!!
اُسے بغور دیکھتے ہوئے اسنے سنجیدگی سے کہا تو رعابہ کا سارا سکون اسکی سنجیدگی سے کہنے پر ہوا ہوگئی وہ تو سمجھ رہی تھی کہ اب وہ اس کھڑوس کی قہر سے بچ گئی ہے لیکن اسکی وارننگ دیتی نظروں سے وہ اسکے خطرناک ارادو کو اچھے سے سمجھ گئیں ہے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
وہ جب ہاسپٹل پہنچا تو سامنے ارحام انصاری کو دیکھ کر تیزی سے اسکی جانب بڑھا اور جب وہ اسے ایک روم میں لے کر گیا تو سامنے بیڈ پر ریحام کو دیکھ کر ساکت رہ گیا کیونکہ ریحام بہت بری طرح سے زخمی حالت میں بیڈ پر آنکھیں بند کیے شاید بے ہوش تھی۔۔
“مجھے پتہ تھا تُم یہی حال کرو گے میری بہن کا لیکن اب میں اُسے ہرگز تمہاری زندگی میں آنے نہیں دونگا اُسے تُم سے بہت دور کرو گا۔۔!!
اذان شاہ اپنی بہن کو اِس حالت میں دیکھ کر غم و غصے سے پھٹ پڑا جبکہ ارحام انصاری اُسکی بات پر ضبط سے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچنے لگا۔۔
“اذان شاہ یہ تُمہاری بھول ہے کہ ارحام انصاری ایسے چپ کر کے بیٹھے گا تُم اپنی بہن کو چاہیے دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپا لو میں اُسے ڈھونڈ لونگا۔۔!!
اپنی سرخ آنکھیں اذان شاہ کے خوبرو چہرے پر ڈالتے ہوئے بولا تو اسکی بات پر اذان شاہ نے اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔
“بہت ہی بے شرم انسان ہو تُم میری بہن کو یہاں تک پہنچا کر تُم پھر بھی میرے سامنے کھڑے ہو کر اِسطرح بے شرموں کی طرح بات کر رہے ہو۔۔!!
وہ بیڈ پر لیٹی ریحام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سخت غصے سے چیخ کر بولا۔۔
“ریحام کی یہ حالت جس کی وجہ سے ہوا ہے وہ بھی نہیں بچے گا سالے صاحب بہت جلد پکڑا جائے گا لیکن تُم مجھے میری بیوی سے الگ نہیں کر سکتے یاد رکھنا اگر تُم نے ایسا کیا تو میں کسی کا بھی لحاظ نہیں کرو گا۔۔!!
اُس کار ڈرائیور کے متعلق کہتے ہوئے اسکا لہجہ یکدم سے نفرت آمیز ہوگیا تھا جسے محسوس کر کے اذان شاہ حیران رہ گیا لیکن اپنے تاثرات کمال مہارت سے وہ چھپا گیا۔۔
“یہ جس کی وجہ سے ہوا ہے میں اسے نہیں چھوڑو گا لیکن مجھے اُس انسان سے زیادہ تُم قصور وار لگتے ہو پہلے بھی تُم نے اس وڈیو کی وجہ سے میری بہن کو ہرٹ کیا تھا اور اگر اب اُسے اپنے بچے کے بارے میں پتہ چلے تو تُم اُسے کیا جواب دو گے ہاں بولو پہلے تو میں نے تمہیں میشن کی وجہ سے اگنور کیا تھا پَر اب بلکل بھی نہیں کرو گا یہ میری بہن کی زندگی کا سوال ہے۔۔!!
اذان شاہ نے سرد لہجے میں کہا۔۔
“میری وجہ سے وہ ہرٹ ہوئی تھی ہاں یا پھر تمہارے اس دو ٹکے باس کی وجہ سے شنکر دادا بتاؤ مجھے تُم ہی تو تھے نا اس دن مجھے بے شرموں کی طرح دھمکی دے کر مجھ سے پیسے مانگنے والے۔۔!!
وہ شدید غصے سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔
“ہاں میں ہی تھا لیکن تُم یہ بھی تو مت بھولو کہ اس دن میں نے میشن کی وجہ سے سب برداشت کیا تھا اس زریاب خان کو اور تُمہیں ارحام انصاری لیکن اب اور نہیں بس بہت ہوگیا اب تُم یہاں سے چلے جاؤ سمجھے ورنہ میں تُمہیں جان سے مار دوں گا۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہنے لگا کہ تبھی ایک نرس نے روم میں داخل ہو کر اُن دونوں کو خاموش ہونے کا کہا تو ارحام انصاری جو اذان شاہ کو کچھ کہنے والا تھا وہ خاموش ہو گیا اور ریحام کو دیکھنے لگا جو ابھی تک بے ہوش تھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥
“رعابہ تُم جلد سے جلد سام اور شام کو کہنا کہ اپنے کچھ ضروری سامان پیک کر لیں اور ہاں تُم ریحام کے لئے کچھ ضروری چیزیں ایک بیگ میں پیک کرکے تیار اُن کے ساتھ سیدھا بس اسٹاپ تک پہنچنا۔۔!!
کیونکہ اب سے ہم سب اسلام آباد والے اپارٹمنٹ میں رہے گے اور وہ تینوں اب وہی پر پڑھے گے اور یہ بات تُم اس ارحام انصاری کو نہیں بتاؤ گی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔!!
اذان شاہ نے ارحام انصاری کے وہاں سے نکلتے ہی جلدی سے رعابہ کو فون کیا اور اسے کہتا وہ ریحام کی جانب دیکھنے لگا جو ہوش میں آ رہی تھی۔۔
“شاہ آپ سے برا تو کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔۔!!
دوسری جانب رعابہ نے بڑبڑاتے ہوئے کہا تو اذان شاہ نے اسکی ہلکی آواز میں بڑبڑاہٹ سنی تو وہ غصے سے فون کو کان سے ہٹا کر گھورنے لگا جیسے وہ فون نہیں رعابہ ہو۔۔
“رعابہ اس وقت میں بلکل بھی مزاق کے موڈ میں نہیں ہو تُمہیں جو کہا ہے وہی کرو ورنہ میں تمہارے لیے سچ میں برا بن جاؤ گا۔۔!!
لہجے میں سختی محسوس کرتی رعابہ جلدی سے اپنے اور اسکے روم سے باہر نکلی اور ریحام کے روم میں پہنچی ۔
“اوکے میں اب ریحام کے روم میں ہو تو آپ بعد میں مجھے کال کر لینا میں سام اور شام کے ساتھ پہنچ جاؤ گی بس اسٹاپ۔۔!!
منہ بسور کر سامنے الماری کی جانب بڑھتے ہوئے بولی۔۔
“اوہ بے وقوف عورت میں نے تُمہیں واپس کال کرنے کا نہیں کہا ہے میںنے تمہیں ان دونوں نالائقوں کے ساتھ بس اسٹاپ پہنچنے کا کہا ہے۔۔۔!!
وہ سخت لہجے میں کہنے لگا تو رعابہ اسکی سخت لہجے پر خفگی سے فون کو کان سے ہٹا کر دیکھتی غصے سے فون کو منہ چھڑانے لگی جسے وہ اذان شاہ کو منہ چھڑا رہی ہوں۔۔
“اوکے بابا اوکے میں سام اور شام کے ساتھ آ جاؤ گی آپکے بس اسٹاپ پر۔۔!!
سخت چڑ کر اسنے کہا اور کٹ سے کال کاٹ کر فون بیڈ کی جانب بڑھی اور غصے سے پھینک کر الماری سے ریحام کے کپڑے نکال کر بیڈ پر پھینکنے لگی جبکہ دوسری طرف اذان شاہ کا اسکی آپکے بس اسٹاپ کہنے پر اپنا سر پھیٹنے کا دل چاہا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ارحام وہ کہا ہے اذان بھائی۔۔؟؟
کیا وہ نہیں آیا ہے اپنی ریحام کو دیکھنے۔۔.!!
ریحام اپنی آنکھیں کھول کر اذان شاہ کو اپنے سامنے دیکھ کر اس سے ارحام انصاری کے متعلق پوچھنے لگی جو اسے وہاں نظر نہیں آیا تھا لیکن جب وہ اپنے ہوش کھو رہی تھی تو اسنے اسے اپنے پاس محسوس کیا تھا تو اب وہ اسے اس طرح زخمی حالت میں چھوڑ کر کہا جا سکتا ہے یہ سوچ اسے کافی پریشان کرنے لگا تھا۔۔
“کل رات کو اُسکا کسی نے قتل کر دیا ہے اب ریحام تُم اسے بھول جاؤ تو تُمہارے لئے بہتر ہوگا ورنہ وہ مرا ہوا انسان تمہاری زندگی سے نہیں نکلا تو تُم برباد ہو جاؤ گی۔۔!!
اذان شاہ نے سنجیدگی سے بچے والی بات چھپا کر ارحام انصاری کے قتل والی جھوٹی بات اسے بتائی جو اسنے پہلے سے سوچ لیا تھا کہ ریحام کے ہوش میں آتے ہی وہ اسے یہی بتائے گا۔۔
“نہیں بھائی ایسا نہیں ہوسکتا وہ مم۔۔مجھے اس طرح اکیلا چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔۔!!
ریحام ارحام کی موت کا سن کر زور سے چیختی ہوئی رو کر کہنے لگی تو اذان شاہ اسکے آنسو دیکھ کر ضبط سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا اسے اب اپنی جھوٹ کہنے پر خود پر شدید غصہ آنے لگا کہ کیوں اسے یہ جھوٹ اس وقت بولا۔۔
“ریحام وہ تمہیں چھوڑ کر چلا گیا ہے تُم پلیز رو رو کر خود کو تکلیف مت دو اس شخص کے ساتھ تمہارا بس اتنا لکھا ہوا تھا۔۔!!
وہ بیڈ پر اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا کر نرمی سے کہنے لگا وہ اس وقت جو بھی کر رہا تھا اپنی بہن کو اس شخص سے دور کرنے کلیئے کر رہا تھا کیونکہ یہ ایکسیڈنٹ اسکی پاگل کزن نے کروایا تھا یہ بات اسے اپنے خاص بندے سے پتہ چلا تھا اب تو وہ اپنی بہن کو ہر گز بھی اس شخص کے ساتھ رہنے نہیں دے گا اسے دور لے کر جائے گا چاہیے اسے کسی بھی حد تک جانے پڑے وہ جائے گا۔۔
“بھائی ایسے کیسے وہ مجھے اکیلا چھوڑ سکتا ہے کیسے۔۔؟؟
ریحام روتے ہوئے اسکے شانے کو تھام کر بولی تو اذان شاہ اسکی بات پر اپنی آنکھیں بند کرتا اپنے جھوٹ کہنے پر دل میں اس سے معافی مانگنے لگا۔۔
“ریحام بچے وہ اب کبھی نہیں آئے گا اور آج ہم اسلام آباد چلے جائے گے ناں تو تمہیں اسکی یاد کم آئے گی کیونکہ یہاں رہ کر تُم ہر جگہ صرف اسے سوچو گی جو تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے ابھی رعابہ سام شام آئے گے تو ہم اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائے گے۔۔!!
اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا تو ریحام نے اپنی آنکھیں بند کی تو ا سے ارحام انصاری کا چہرہ نظر آیا تو وہ پھر سے بے آواز آنسو بہانے لگی۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“بڑے پاپا آپ لوگ تو واپس لندن جا رہے ہیں تو ایزل اور عشوہ یہاں اکیلے کیا کرے گی آپ ان دونوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائے اور ٹکٹ میں نے منگوا لیا اپنے سیکریٹری سے کہہ کر آپ اسکی فکر مت کریں۔۔!!
اذان شاہ اپنا فون کان سے لگائیں دوسری جانب موجود شاه بخت سے کہنے لگا جو اپنے آفس کے باہر کھڑا اسکی بات سن رہا تھا۔۔
“اذان بچے اچھا کیا جو تُم نے بتا دیا ورنہ ہم ان دونوں بچیوں کو یہاں اکیلا چھوڑ کر چلے جاتے ویسے بھی حور اور بہرام شاہ ترکی کے لیے ابھی نکل گئے ہیں۔۔!!
شاہ بخت کی سنجیده آواز پر وہ اپنے ساتھ بیٹھے ریحام اور رعابہ سام شام کو دیکھنے لگا جو اسکی سنجیدگی کی وجہ سے ابھی تک چپ تھے جبکہ
ریحام ارحام انصاری کے بارے میں جان کر خاموش ہو کر رہ گئی تھی۔۔
“اوکے بڑے پاپا اب میں فون رکھتا ہو کار ڈرائیو کر رہا ہو نہ اسی لیے اور آپ ڈیڈ سے ضرور کہہ دینے ہمارے اسلام آباد جانے کے بارے میں ورنہ وہ ہمیں گھر میں نہ دیکھے گے تو پریشان ہو جائے گے۔۔!!
وہ مسکرا کر کہنے لگا تو شاه بخت نے اسے اپنا اور باقی بچوں کا خیال رکھنے کا کہہ کر فون بند کر دیا تو وہ ان چاروں کو خاموشی سے بیٹھے ہوئے دیکھ کر سنجیدگی سے ایک شاپر رعابہ کی جانب بڑھا کر کہنے لگا۔۔
“یہ لو تُم سب کو بھوک لگ رہی ہوگی یہ کھا لینا آگے جب کوئی ہوٹل نظر آجائے گا تو ہم سب کھانا کھا لے گے۔۔!!
سنجیده چہرہ لیے وہ انہیں دیکھنے لگا تو شاپر رعابہ نے پکڑ کر سام اور شام کی جانب بڑھایا جو کب سے بھوک کے مارے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے جیسے کھانے کے لئے کچھ ڈھونڈ رہے ہو۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ایسے کیسے ڈاکٹر صاحب آپ نے اسے جانے دیا اور یہاں سب کو پتہ تھا کہ اسے ہاسپٹل میں لے کر آیا تھا پھر بھی اسے جانے دیا۔۔!!
ارحام انصاری اُس ہوٹل کے جس میں اے بی اور شاه بخت نے پارٹی کے لئے بک کیا تھا باہر لگے کیمرے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد جب ہاسپٹل ریحام کو دیکھنے کے لئے آیا تو اسے روم میں نا پاکر پاگلو کی طرح ڈاکٹر سے کہنے لگا۔۔
“سر وہ انکا بھائی تھا تو ہم نے آپکی وائف کو ان کے ساتھ جانے دیا ہمیں پتہ نہیں تھا کہ آپ دونوں کے درمیان کچھ چل رہا ہے۔۔!!
ڈاکٹر نے اسے معذرت کرتے ہوئے کہا تو وہ غصے سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اذان شاہ کو کال کرنے لگا لیکن اسکا نمبر بند دیکھ کر وہ غصے سے پاگل ہونے لگا اب اسے اچھے سے اندازه ہوگیا تھا کہ اذان شاہ اسکی ریحام کو اس سے بہت دور لے کر گیا ہے لیکن وہ بھی اسے اپنے سے دور ہونے کبھی نہیں دے گا لیکن اس سے پہلے ریحام کا پتہ لگانا تھا وہ اتنا تو جان چکا تھا کہ اذان اسے یہاں کراچی میں تو نہیں رکھے گا کیونکہ ارحام کے آس پاس تو وہ اب اسے غلطی سے بھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔۔
“اذان شاہ بہت بڑی غلطی کی ہے تُم نے میری ریحام کو مجھ سے دور کر کے اب میں اسے اپنے طریقے سے اپنے گھر میں لیں کر آؤ گا کیونکہ پہلے تو میں ریحام کی وجہ سے اسے عزت کے ساتھ رخصت کرا کہ لیں جانا چاہتا تھا لیکن تُم نے مجھے خود مجبور کر دیا ہے اسے سب بڑوں کی راضا مندی کے بغیر ارحام انصاری کی زندگی میں لانے کے لیے۔۔!!
غصے کی زیادتی سے اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچتے ہوئے خود سے کہنے لگا تو ڈاکٹر نے اسکی سرخ آنکھوں کی جانب دیکھا تو وہ ڈر کے مارے جلدی سے روم سے باہر نکلا کئی وہ اپنی بیوی کے بھائی کا غصہ اس پر نہ نکال دے۔۔۔