Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
“بہت زیادہ روئی تھی میں اور بہت زیادہ تڑپی بھی تھی تمہیں اپنے سامنے نہ دیکھ کر ارحام اور پتہ ہے تمہیں نا پاکر میرا دل روز خود کو ختم کرنے کا چاہتا تھا اور میرے احساس پتہ نہیں کیسے تھے جب میں نے تّمہاری موت کے متعلق سنا تھا جب وہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی ہو۔۔”
ریحام کی آنکھیں اسکے چہرے پر مرکوز تھی جو اسے اپنی مضبوط پناہوں میں قید کیے سو رہا تھا کہ تبھی ریحام بے ساختہ اپنا نازک ہاتھ آگے بڑھاتی وہ اُسکے خوبرو چہرے کو چھونے لگی اور پھر یکدم سے وہ اسکی مضبوط پناہوں سے نکلتی اسکے سامنے بیٹھی اور اسکے مضبوط ہاتھوں کو اٹھا کر باری باری چھومنے لگی۔۔
ارحام انصاری ریحام کی بے ساختگی پر جاگ چکا تھا کہ اسکی محبت بھری لمس کو اپنے ہاتھوں پر محسوس کرتا اسکے لبوں کے تراش پر ایک خوبصورت مسکراہٹ پھیل کر مدہم ہوا۔۔
ریحام اسکے ہاتھ کو واپس بیڈ پر رکھتی پیچھے ہٹی تو بے ساختہ اسکی نظریں سامنے اسکے براؤن مونچھوں تلے دبے عنابی لبوں کی جانب بڑھی جو سختی سے ایک دوسرے سے بھینچے ہوئے تھے وہ اسکے چہرے کے اوپر جھکی اور مومی ہاتھ آہستگی سے اُسکے بھینچے ہوئے لبوں کی جانب بڑھانے لگی۔۔
“بیوی تُم بھی اتنی رومنٹک ہوگی مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔!!
ارحام اسکی نازک سفید انگلیوں کو اپنے لبوں سے چھوتا گھمبیر آواز میں بولا جبکہ اسکی آنکھیں اسی پوزیشن میں بند تھی جو ریحام کے اسکی پناہوں سے نکلنے سے پہلے تھی جبکہ ریحام اسکی آواز پر سٹپٹا کر جلدی سے پیچھے ہٹی پر وہ اپنی آنکھیں کھول کر تیزی سے کروٹ بدل کر اسے اپنے نیچے کرتا مسکرایا۔۔
“تُم جاگ رہے تھے۔۔؟؟
ریحام جو اس کے لیے تیار نہیں تھی وہ اسکے نیچے اسکے چوڑے سینے پر اپنے ہاتھ رکھے اسے خفگی سے دیکھ رہی تھی اور وہ اپنی آنکھوں میں خمار کی سرخیاں لیے اسکے نازک خوبصورت سراپے کو بغور دیکھ رہا جو سیاہ رنگ کی نائیٹی میں ملبوس اسے مدہوش کر رہی تھی۔۔
“یس مائے پرنسسس۔۔!!
ارحام نے اُسے شریر نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“ارحام انصاری تّمہیں پتہ ہے میں پہلے تمہیں لفنگا چھچھورا صرف اپنے دل میں کہا کرتی تھی لیکن آج میں تُمہارے ان تیز کانوں میں بڑے ہی پیار سے کہوں گی کہ تم ایک نمبر کے لفنگے اور چھچھورے انسان ہو۔۔!!
وہ اسکے سینے پر اپنے دونوں نازک ہاتھ رکھتی اُسے گھور کر خفگی سے پیچھے کرتی بولی۔۔
“مس میزائیل پہلے سے مجھے تمہارے ان ارشادات کے بارے میں پتہ تھا کہ تُم اپنے فائر بریگیڈ صاحب کو انہیں ناموں سے یاد کرتی ہوں۔۔!!
ارحام انصاری نے بڑے ہی آرام سے اسکی بات پر ڈھیٹوں کی طرح مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“دیکھا اب تُم مجھے بہت بڑے ڈھیٹ بھی لگ رہے ہو۔۔!!
ریحام اُسے اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھ کر منہ بسور کر کہا۔۔
“مس میزائیل ڈھیٹ نہیں ڈھیٹوں کے سردار کہو کیونکہ میں خود کو ڈھیٹوں کا سردار سمجھتا ہوں۔۔!!
وہ مسکرا کر اسکے چہرے کو اپنے ہاتھ کی پشت سے ہولے سے سہلا کر معنی خیزی سے کہتا اسکے چہرے کے اوپر جھکنے لگا۔۔
“ارحام پلیز پیچھے ہٹو ورنہ۔۔!!
وہ اُسے پیچھے دھکیلتی ہوئی مصنوعی غصے سے بولی۔۔
“نو وائف اب تو پیچھے نہیں آگے بڑھوں گا بہت رہ لیا تنہا اب پاس رہنے کا حق سب سے لے کر رہو گا خاص کر تُم سے اور وہ بھی ابھی ڈئیر مس میزائیل۔۔!!
وہ مسکرا کر اسکے چہرے کو بغور دیکھتا ہاتھ آگے بڑھا کر دونوں گالوں کو نرمی سے چھو کے اُسکی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا ہولے سے نیچے اسکی خوبصورت گلابی پھنکڑیوں کو اپنے عنابی لبوں سے چھونے لگا ریحام اسکی بڑی ہوئی شیو کی چھبن کو اپنے لبوں پر محسوس کرتی شدت سے اُسکی گردن پر ہاتھ رکھ کر اُسے خود سے دور کرنے لگی۔۔
ارحام انصاری اسکی نرم گلزار لبوں کو ہولے ہولے سے چھو رہا تھا اور وہ اسکی گردن پر ہاتھ ڈالے آنکھیں زور سے بند کیے اسکی شدتوں کو برداشت کر رہی تھی کہ تبھی ارحام کی شدت بھرے لمس کو وہ اپنی گردن پر محسوس کرتی لرزی اور ارحام انصاری اسکی لرزنے کی پرواہ کئے گردن سے نیچے کی جانب مدہوشی کے عالم میں بڑھا اور اپنے شدتوں سے اسے تسخیر کرنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“مجھے کچھ بھی نہیں سننا ہے مجھے آئسکریم کھلائے ورنہ میں آپ کو چھوڑ کر اپنے بابا کے پاس چلی جاؤ گی وہ بھی اکیلی۔۔!!
حور اُسکے ساتھ ترکی کی مہشور آئسکریم کھانا چاہتی تھی لیکن وہ تھا کہ سردی کا کہہ کر اسے انکار کیے جا رہا تھا تب حور چڑ کر نیچے زمین پر بیٹھ کر بچوں کی طرح منہ بسور کر بولنے لگی۔۔
“جانم تُم بیمار ہو جاؤ گی آئسکریم کھا کر اور اگر تُم بیمار ہوگئی تو کیسے لندن جاؤ گی۔۔!!
اے بی اسکی ناراضگی کو خاطر میں لائے بغیر سنجیدگی سے بولا تو اُسکی بات پر حور اسے سختی سے گھورنے لگی۔۔
“نہیں مجھے کوئی بہانہ نہیں سننا آپکا اور اچھے سے پتہ ہے آپ کیوں انکار کر رہے ہیں کیونکہ آپ ڈر رہے ہیں ڈانس کرنے سے سپر اسٹار صاحب۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اس پر چوٹ کرتی کہنے لگی تو اے بی اسکی بات پر خود بھی اسکے مقابل زمین پر بیٹھا اور اُسے بغور دیکھنے لگا۔۔
“جانم ابھی تک ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا کہ وہ آپ کے ظالم شوہر کو ڈرا سکے۔۔!!
اسکی نازک کلائیوں کو سختی سے اپنی گرفت میں لے کر اسے اپنے بے حد نزدیک کرتا وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“نو آپ نے غلط کہا کیونکہ ایک فرد ہے اس دنیا میں جس سے آپ سب سے زیادہ ڈرتے ہیں۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اپنی کلائی کو اسکی گرفت سے کھینچتی ہوئی بولی تو اے بی اسکی بات پر تعجب سے اُسے دیکھنے لگا۔
“بیوی کون ہے وہ شخص جس سے میں یعنی اے بی دی سپر اسٹار + کمنیا بقول تمہارے بہت زیادہ ڈرتا ہوں۔۔!!
اسکے کمر پر ہاتھ ڈال کر اپنے نزدیک کرتا بغور اسکے چہرے کو دیکھتا کہنے لگا۔۔
“ہیں ایک بہادر شخص جس سے یہ سپر اسٹار صاحب بہت زیادہ ڈرتے ہیں جسے دیکھ کر اُسکی بہادری کہی جا کر سو جاتی ہے۔۔!!
وہ بھی اب اسکی کالر سے کھیلتی ہوئی شریر لہجے میں بولی۔
“اوہ تو میری بلی مجھے ہی میاؤں۔۔!!
اُسکی بات پر اے بی سر ہلا کر معنی خیزی سے بولتا مخمور نظروں سے اُسکی نرم پھنکڑیوں کی جانب بغور دیکھنے لگا اور حور نے اسکی نظروں کو اپنے ہونٹوں پر دیکھ کر اُسکے ارادے کو اچھے سے جان کر زور سے اُسے پیچھے دھکیلتی اپنی جگہ سےاٹھی اور اس سے دور سڑک پر بھاگنے لگی اس وقت وہ دونوں ایک سنسان سڑک پر تھے جہاں کسی انسان تو دور کی بات کتا بھی انہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔۔
“کنگ وہیں رک جائے ورنہ میں سچ میں چلی جاؤ گی۔۔!!
وہ سامنے درخت کی جانب الٹے قدموں بڑھتی انگلی اٹھا کر بولی۔۔
“مائے لو تو چلی جاؤ نا تمہیں روکا کس نے ہے۔۔؟؟
وہ سنجیدگی سے آگے بڑھتا اس سے کہنے لگا۔۔
“میں سچ ممم۔۔میں چلی جاؤ گی آئسکریم کھانے۔۔!!
انگلی اب لرز رہی تھی اُسے اپنے بے حد نزدیک آتے ہوئے دیکھ کر وہ جو سنجیدگی سے آگے بڑھ رہا تھا اسے کپکپاتے ہوئے دیکھ کر معنی خیزی سے مسکرانے لگا۔۔
“بیوی ڈر کیوں رہی ہو جاؤ نا وہ رہا کار اور یہ رہی کار کی چابیاں۔۔!!
اسکے مقابل آ کر اپنے دونوں ہاتھ درخت پر اسکے کندھوں کے اوپر دائیں اور بائیں رکھتا اُسے شرم سے کپکپاتے ہوئے دیکھ کر کار کی چابی آگے بڑھا کر کہنے لگا۔۔
“کنگ پلیز مجھے آئسکریم کھانی ہے تو آپ پلیز میرے ساتھ مزاق نہ کرے سچ میں میں آپکو چھوڑ کر لندن چلی جاؤ گی۔۔!!
نظریں اوپر اٹھا کر وہ اسے دیکھتی خفگی سے بولی۔۔
“تو پھر کوئین چلو لیکن میں تمہیں آئسکریم خود کھلاؤ گا وہ بھی اپنے ہاتھوں سے اور تم مجھے اپنے ان کومل ہاتھوں سے کھلاؤ گی۔۔!!
اسے اچانک سے اپنے مضبوط بازؤوں میں بھرتا اپنی کار کی جانب بڑھا جبکہ اسکی حرکت پر حور شرم سے سرخ ہوتی اسے گھورنے لگی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“ہمیں باہر نکالو تھانے دار صاحب۔!!
شام نے نعمان اور آصف کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو سامنے بیٹھے پھر سے پتے کھیل رہے تھے اور اسامہ ارحام انصاری کو انکی وڈیو بنا کر وائس ایپ کر رہا تھا۔۔
“اے لڑکے چپ کر کے سکون سے کھانا کھاؤ ورنہ یہ جو تم دونوں کے لیے صاحب نے اشپیشل اپنی جیب سے کھانا منگوایا ہے انہیں ہم دونوں چٹ کر جائے گے۔۔!!
نعمان نے سخت لہجے میں ان کے سامنے کھانوں کی پیکٹ کی جانب اشاره کرتے ہوئے کہا۔۔
“تھانے دار صاحب کھا لوں ہم لوگ بھابھی کے ہاتھ کے مزے دار نوڈلز کھا کر باہر نکلے تھے لیکن آپ دونوں نے ہمیں پکڑا ہم کب سے کہہ رہے ہیں کہ ہم لوگ بے قصور ہے اور یہ ارحام بھائی بھی پتہ نہیں کیوں ہمیں یہاں ساری رات بند کرنے کا اراده کیے بیٹھے ہیں۔۔!!
سام نے نعمان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“لڑکے صاحب نے کچھ سوچ کر تم دونوں کو اندر کیا ہوگا۔۔!!
رشیدے کی بات پر سام نے اسے تیز نظروں سے گھورا۔۔
“انکل آپ تو یہ اتنی محنت مت کرے کیونکہ آپکا یہ جو موٹا پیٹ ہے نا اتنی محنت کرنے سے نیچے نہیں ہونے والا ہے۔۔!!
سام نے ناگواری سے رشیدے کو ورزش کرتے ہوئے دیکھا تو سنجیدگی سے اسکے موٹے پیٹ پر چوٹ کرتا شام کی جانب دیکھنے لگا۔۔
“اے لڑکے چپ ابھی ایک چماٹ پڑے گا میرے الٹے ہاتھ کا تو عقل آ جائے گا اور تُمہیں ایک پولیس والے سے پنگا لینے کا انجام بھی پتہ چل جائے گا۔۔!!
رشید نے غصے سے کہا۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔!!
شام یہ بابا تمہیں کئی سے پولیس والا لگ رہا ہے مجھے تو یہ چور لگ رہا ہے۔۔؟؟
سام کی جانب دیکھ کر اسنے اپنا ایک آنکھ دبا کر شرارت سے کہا تو شام اسکی بات پر زور سے قہقہہ لگا اٹھا تھا۔۔
اے لڑکوں بڑی ہنسی آ رہی ہے نا اب سر تُم لوگوں کو باہر نکالنے کا کہے گے بھی تو میں تم دونوں کو باہر نہیں نکالوں گا۔۔!!
رشید نے غصے سے دونوں کی طرف دیکھا اور جیل کی سلاخوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگا۔۔
“ایسے کیسے باہر نہیں نکالو گے لندن میں ہم نے اچھے اچھے آفیسروں کو ٹھیک کیا ہے پھر تم رشیدے کس کھیت کی مولی ہو۔۔!!
سام نے ناگواری سے اسکے توند کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو رشید غصے سے اسامہ کو ان لوگوں کے سامنے سے کھانا اٹھانے کا کہنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“”جنگلی بلی یہ تُم رات کے اس وقت یہاں لاؤنج میں کیا کر رہی ہوں۔۔؟؟
اذان شاہ کی جب آنکھیں اچانک سے باہر کسی چیز کے گرنے کی آواز سے کھلی تو رعابہ کو روم میں نہ پاکر وہ تیزی سے بیڈ سے اٹھا اور روم سے باہر نکلا اور سیڑھیوں کی جانب بڑھا تو نیچے ٹی وی لاؤنج میں روشنی دیکھ کر حیرت سے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا وہ جب نیچے پہنچا تو سامنے رعابہ کو بہت ساری چھوٹی سی اسٹک سے کچھ بناتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھا اور تعجب سے اس سے پوچھنے لگا۔۔
“اذان یہ میں روم میں لگاؤ گی دیکھو نا کتنا خوبصورت بن رہا ہے۔۔!!
وہ مسکرا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو وہ نیچے زمین پر گول شکل میں بنے خوبصورت چھوٹے بڑے اسٹک کو دیکھ کر اسکے مقابل کہنیوں کے بل لیٹا اور اسکے چہرے کی جانب دیکھنے لگا جو خوشی سے دمک رہا تھا۔۔
“ہاں جانم بہت زیادہ خوبصورت ہے۔۔!!
اسکے چہرے کے خدو خال کو بغور دیکھتا وہ بوجھل لہجے میں بولا تو رعابہ اسکی بھاری آواز پر اپنا سر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی جو مخمور آنکھیں لیے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“اذان میں اس کی بات کر رہی ہوں اور آپ نہ پتہ نہیں کہا پہنچ گئے۔۔!!
وہ خفگی سے بولی تو اذان شاہ نے بے باکی سے اسے دیکھا جو سرخ رنگ میں خوبصورت لگ رہی تھی یکدم سے اپنی جگہ سے اٹھا اور اسکی جانب بڑھا اور اُسے کھینچ کر اپنے اوپر گرا کر اسے مدہوش نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“اور جانم میں اپنی بیوی کی بات کر رہا ہوں۔۔!!
اسکے چہرے پر آئے آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو رعابہ اسکی مضبوط گرفت میں سٹپٹانے لگی۔۔
“اذان چھوڑو مجھے ابھی اسے فائنل ٹچ بھی تو دینا ہے۔۔!!
اسکی گرفت میں بری طرح سے مچلتی ہوئی وہ بولی۔۔
“زوجہ محترمہ میں جو اپنا فیملی مکمل کرنے کا سوچ بیٹھا ہو وہ تُم کب پورا کروں گی۔۔!!
اسے نیچے لیٹا کر وہ خود اسکے اوپر جھکا اور اُسکے سرخ گالوں کو باری باری اپنے ہونٹوں سے نرمی سے چھوتا گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔۔
“اذان تم پھر سے شروع ہوگئے ابھی پیچھے ہٹ جاؤ اور یہ ہمارا بیڈ روم نہیں ہے جو تُم یہاں پر بھی شروع ہوگئے اگر ابھی شام یا سام کوئی یہاں آ گیا تو وہ کیا سوچے گے بلکہ وہ اپنے کھڑوس بھائی کا یہ روپ دیکھ کر بے ہوش ہو جائے گے کیونکہ ان دونوں نے تو ہمیشہ تمہیں شریف سمجھا ہے۔۔!!
رعابہ اُسکی لمس پر شرم سے سرخ ہوتی اسکے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے پیچھے کرتی منہ بسور کر بولی۔۔
“بولنے دو بلکہ بے ہوش ہونے دو ان دونوں شیطانو کو ویسے یہ دونوں کہاں ہے اور یہ ریحام بھی نظر نہیں آ رہی اسنے کھانا بھی نہیں کھایا تھا وہ ٹھیک تو ہے ناں۔۔!!
وہ سام اور شام کے بارے میں کہتے ہی ریحام کے متعلق اس سے پوچھنے لگا اور پھر پریشانی سے تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور رعابہ کی جانب دیکھنے لگا۔۔
کیونکہ آج رعابہ اکیڈمی سے واپس آ کر اپنے روم سے نہیں نکلی تھی پھر کھانا بھی اسنے ان لوگوں کے ساتھ نہیں کھایا تھا۔۔
“سام اور شام نے تو نوڈلز کی فرمائش کیا تھا اور میں نے انکے لیے بنا کر ان روم میں تھوڑی دیر پہلے دیا تھا اب وہ دونوں شاید سو گئے ہونگے ری برو شاید اکیڈمی سے آ کر جلدی سو گئی تھی۔۔!!
رعابہ اُسکی پریشانی کے خیال سے سام اور شام کے بارے میں جھوٹ بولتی جلدی سے ریحام کے جلدی سونے کے متعلق اسے بتانے لگی۔۔
“تو سب سو رہے ہیں پھر محترمہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
اُسے معنی خیز نظروں سے دیکھتا وہ آگے بڑھا اور اُسے اپنے بازؤوں میں بھرتا اُسے لیے بیڈ روم کی جانب بڑھا اور رعابہ اسکی حرکت پر شور مچانے لگی لیکن اسکے شور کو وہ خاطر میں لائے بغیر اُسے لیے بیڈ روم میں داخل ہوا اور دروازه پیروں سے بند کرتا وہ سامنے بیڈ کی جانب بڑھا کر اسے بیڈ پر گرا کر وہ سامنے کھڑے ہو کر اپنی شرٹ کے بٹنو کو آہستگی سے کھولنے لگا اور رعابہ اسکے ہاتھوں کو شرٹ کے بٹنو کو کھولتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے چہرہ شرم کے مارے تکیے میں چھپانے لگی۔
وہ شرم کے مارے بری طرح سے لرز رہی تھی کہ اپنی گردن پر تپش محسوس کرتی وہ شدت سے کانپی تو اذان شاہ نے اُسکے دوپٹے کو اتار کر سائیڈ پر رکھا اور اسکا رخ اپنی طرف کیا جبکہ وہ جو شرم کے مارے بری طرح سے لرز رہی تھی وہ گردن سے نیچے اسکی لمس کو محسوس کرتی آنکھیں سختی سے میچنے لگی اور اذان شاہ لگتا تھا کہ ساری رات اسے اپنی شدتوں سے کپکپانے پر مجبور کرنے کا اراده لیے اسکے وجود کو تسخیر کر رہا تھا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کنگ یہ آپ مجھے کہا لیں کر جا رہے ہیں۔۔؟؟؟
حور اُسکے مردانہ سرخ و سفید ہاتھ کے نیچے دبے اپنی نازک ہاتھ کو سختی سے دیکھتی بولی۔۔
اے بی اُسکا ہاتھ ایسے مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا جیسے وہ چھوٹی سی بچی ہو اور حور اسکے کھینچنے پر اور ترکی کی سڑکوں پر اُسے تیز قدموں سے آس پاس چھوٹے سے رنگ برنگے خوبصورت گھروں کی جانب دیکھتے ہوئے بڑھ رہا تھا
“پرنسس آئسکریم کھانے اور کہاں۔۔!!
وہ سنجیدگی سے آگے بڑھتے ہوئے کہنے لگا تو حور اسکی بات پر سامنے غصے سے رکھے ایک خوبصورت وائٹ رنگ کی بینچ کی جانب بڑھی اور بیٹھتی اپنا منہ بری طرح سے بسورنے لگی
تو اسے منہ بسورتے ہوئے دیکھ کر اے بی کے قدم تھمے اور اُسے سامنے خوبصورت وائٹ رنگ کے بینچ پر بیٹھے دیکھ کر اچانک سے اسکا دل اسے اسکے ساتھ ایک شرارت کرنے پر اکسانے لگا
Ohhh ah
Ohhh ah
Ohhhh aaahhh
وہ بینچ پر اسکے کندھوں سے کندھا ملا کراسکے بلکل نزدیک بیٹھا اور اپنی خوبصورت آواز میں گنگنانے لگا سامنے کچھ ترکش لڑکیاں وہاں سے گزر رہی تھیں کہ اے بی کے منہ سے ماسک ہٹتے ہی وہ لوگ زور سے چیخ مار کر بینچ کے سامنے گول دائرہ بنا کر کھڑے ہوگئے تھے۔۔
حور اُسکے بے حد نزدیک بیٹھنے پر خفگی سے تھوڑی سی آگے ہوئی تو اے بی اسکے دور ہونے پر اپنا رخ اسکے سرخ چہرے کی جانب کرتا ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے پورے چہرے
پر ہاتھ شرارت سے پھیرنے لگا تو حور اپنے چہرے پر اسکا ہاتھ دیکھتی ناگواری سے اپنی منہ کو گول گول شیپ میں کرنے لگی۔۔
You know you love me, I know you care
Just shout whenever, and I’ll be there
You are my love, you are my heart
And we will never ever ever be apart
وہ اُسکے دونوں غبارے کی طرح پھولے ہوئے گالوں کو زور سے کھینچتے ہوئے اسے شریر نظروں سے دیکھنے لگا جو اسکی حرکت پر اسے سختی سے گھور رہی تھی۔۔
Are we an item? Girl, quit playing
We’re just friends, what are you saying?
Said there’s another and looked right in my eyes
اب اے بی کے ہاتھ اسکی خوبصورت پھنکڑیوں کو شرارت سے چھو رہی تھیں جبکہ اُسکی بے باک حرکت پر حور شرم سے سرخ ہوتی سامنے کھڑی لڑکیوں کو دیکھنے لگی جو اے بی کے فینز تھے وہ اے بی کو حسرت سے دیکھ رہی تھیں اور اسے رشک سے اور انکی محبت و عشق کو اسی طرح قائم رہنے کی دعا اپنے دل میں کرنے لگی تھیں۔۔
My first love broke my heart for the first time
And I was like…
وہ اسکو اچانک سے اپنے مضبوط پناہوں میں قید کرتا وہاں سے اٹھا اور اُسے بغور دیکھنے لگا جو اب شرم سے سرخ پڑتا چہرہ اسکے سینے میں چھپا کر اُسکی شریر نظروں سے بری طرح سے نروس ہونے لگی تھی۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥
“یہ کیا ہے۔۔؟؟
حور بے یقینی سے اے بی کو دیکھتی وہ لفافہ اسکے چہرے پر پھینکتی چیخ کر بولی۔۔
“کیا ہوا جانم تم اتنا غصہ کیوں کر رہی ہوں۔۔؟؟
اے بی آج اپنی سنو وائٹ کو پہلی بار اتنے زیادہ غصے میں دیکھ کر آگے بڑھا اور نیچے گرے لفافے کو اٹھا کر اس سے پوچھنے لگا جو اب سامنے بیڈ پر بیٹھی اپنا چہرہ نیچے جھکائے بری طرح سے رو رہی تھی۔۔
“ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیوں کیا آپ نے بولے کیوں۔۔!!
وہ غصے سے اٹھی اور آگے بڑھ کر اسے کالر سے پکڑ کر روتے ہوئے بولی تو اسکی بات اور بے یقینی سے دیکھنے پر اے بی کو تعجب ہوا۔۔
“مطلب پورا کر کے آپ نے مجھے اپنی اصلیت دکھا ہی دی مسٹر اے بی دی سپر اسٹار چچچی ابھی بھی اپنے فلم کے ہیرو کی طرح مجھے بے وقوف بنا رہے ہیں۔۔!!
وہ شدت سے سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے سبھی چیزوں کو ہاتھ مار کر غصے سے بولی۔۔
“مجھے یہاں اسی لیے لے کر آئے تھے نا۔۔؟؟
وہ تیزی سے آگے بڑھی اور اسکے ہاتھوں سے لفافہ لے کر کھول کر اسکے منہ پر وہ تصویریں شدت سے پھینک کر غرائی۔۔
“جانم بہت خون بہہ رہا ہے تُم پاگل تو نہیں ہوگئی ہو اور یہ سب باتیں ہم بعد میں کرے گے پہلے آؤ یہاں بیٹھو میں مرہم لگاتا ہو۔۔!!
اے بی کی نظریں اسکی نازک کلائی سے نکلتے خون پر پڑی تو وہ تیزی سے آگے بڑھا اور تڑپ کر اسکا نام لیتے ہوئے اسے سامنے صوفے پر بٹھا کر خود نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا۔۔
“میرے جسم کے زخم کو تو تُم مرہم لگا کر ٹھیک کر سکتے ہو لیکن اس دل کے زخم کو تُم کسی بھی مرہم سے ٹھیک نہیں کر سکتے ہو۔۔!!
تصویروں کو نیچے فرش پر گرے تصویروں کو دیکھتی وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہنے لگی۔۔
“بیوی کیا ہوا اور یہ اس میں کیا ہے جو تُم جب سے ہم باہر سے ہو کر آئے ہیں تب سے تُم مجھ سے خفا ہو۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جو سامنے گرے لفافے کو نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
“خود ہی دیکھ لیں کہ اس میں کیا ہے۔۔!!
سرد لہجے میں کہتی وہ اٹھی اور بیڈ کی جانب بڑھی تو اے بی اپنی جگہ سے اٹھا اور سامنے پڑے لفافے کی جانب بڑھا اور لفافے کو کھول کر اس کے اندر رکھے تصویروں کو نکال کر ایک نظر اسے دیکھا جو بیڈ پر خاموش بیٹھی تھی۔۔
“Nonsense..!!
یہ کیا بکواس ہے نہیں چھوڑا گا میں یہ جس نے بھی کیا ہے میرے ساتھ اور بیوی تُم کب سے ان فیک پک کی وجہ سے مجھ سے اتنا غصہ کر رہی تھی۔۔!!
غضب ناک نظروں سے تصویروں میں خود کو نیم برہنہ حالت میں ایک لڑکی کے ساتھ دیکھ کر وہ سخت غصے سے پاگل ہونے لگا اور پھر حور کی جانب شدید غصے سے بڑھا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑ کر کہنے لگا۔۔
“غصہ نہیں مسٹر اے بی نفرت اسے نفرت کہوں جو آج تمہاری اصلیت دیکھ کر مجھے تُم سے ہو رہی ہیں اب تم اور کتنا جھوٹ بولو گے مجھ سے ہاں کیا یہ ساری تصویریں جھوٹی ہے جواب دو مجھے ہاں سچ بتاؤ کیا کرنے آئے تھے تُم یہاں چچی مجھے سوچ کر گھن آ رہی ہیں کہ تم جیسا بے ایمان انسان جو اپنی ہوس کا نام محبت لے کر بیوی سے اور پھر بعد میں باہر کی کسی غیر عورت کے ساتھ بھی اففففف یہ تصویریں دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئیں۔۔!!
وہ نفرت سے اسے دیکھتی غصے سے بولی تو اے بی اسکی آخری بات پر سخت غصے سے سرخ چہرہ لیے آگے بڑھا اور اسے زور سے بیڈ پر گرا کر دائیں بائیں اپنا ہاتھ رکھتا اسکے اوپر جھکا اور سرخ نظروں سے اسکے چہرے پر اپنے لیے نفرت دیکھ کر وہ پاگل ہونے لگا کیونکہ آج پہلی بار وہ اپنی چاہت زندگی کی آنکھوں میں اپنے لیے اتنا سارا نفرت دیکھ کر اندر سے ٹوٹنے لگا لیکن وہ بڑے ہی بہادری سے اپنے اندر کا حال اس پر ظاہر کیے بغیر اُسکے لبوں پر جھکا اور شدت سے اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔
“آج تو تمہاری اس نازک زبان سے میں نے مرنے کا لفظ سن کر برداشت کیا ہےجانِ دلم دوسری بار میں برداشت نہیں کرو گا بلکہ تمہاری اس نازک زبان کو نکال کر فالتو کتوں کے آگے پھینک دو گا۔۔۔!!
وہ اُسے سخت نظروں سے دیکھتا سختی سے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہاتھوں سے جھکڑتا وہ اسکی زبان کی جانب سختی سے اشارہ کرتا ہوا شدید غصے سے کہنے لگا تو حور اسکی دہشت انگیز نظروں سے گھبرا کر اپنی آنکھیں سختی سے میچنے لگی۔۔
