117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

شاہ بخت آفس میں بیٹھا سامنے رکھے باکس کے اوپر سے سفید لفافے کو اٹھا کر چاک کرتے ہوئے اس کے اندر لکھے لفظوں کو پڑھنے لگا۔۔
ڈئیر سسسر محترم میں جانتا ہو کہ آپ مجھ سے بہت زیادہ چڑتے ہیں لیکن اب سے ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا جسکی وجہ سے آپ مجھ سے چڑتے ہیں شاید نفرت بھی کرتے ہیں۔۔ اور شاید میں آج سے بہت دور چلا جاؤ یا پھر آپکی نظروں میں اچھا بن جاؤ لیکن آپ کو یہ ڈائری ضرور پڑھنی ہوگی میرے ماضی کی باتیں جن سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ میں کیوں ایسا بن گیا ہو۔۔!!
لفافے میں لکھے الفاظ سے اسے پتہ چل گیا کہ یہ کس نے بھیجا ہوگا اسے تبھی سامنے باکس کی جانب دیکھتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر باکس کو اسنے اپنی جانب کھینچا۔۔
“عالم آج میں کوئی بھی میٹنگ اٹینڈ نہیں کرو گا اور ہاں سب ورکرز سے کہنا کہ آج مجھے کوئی دسٹرب نہ کریں۔۔!!
بلند عالم کو کہنے کے بعد کے وہ آج کوئی میٹنگ اٹینڈ نہیں کرے گا اور کوئی اسے دسٹرب نہ کریں روم میں واپس آ کر وہ ڈائری کھول کر اندر خوبصورتی سے بہرام شاہ کے نام کو دیکھتے ہوئے صفحے پلٹنے لگا۔۔
یہ میری برتھ ڈے والے دن کا واقع ہے اور اسی دن میری زندگی مکمل بدل گئی یہاں تک میں خود بھی آپ کو اندازه نہیں ہوگا کہ اتنا معصوم بچہ کیسے درندہ بن گیا وہ سب آپ کو اس ڈائری کو پڑھ کر پتہ چلے گا۔۔
شاہ بخت نے یہ لائن تعجب سے پڑھا اور ڈائری کے اندر رکھے اس لفافے کو نیچے ٹیبل پر رکھا جس میں اے بی نے یہ لکھ کر دائٹری کے پہلے پیج پر رکھا تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ماضی
(پانچ سال پہلے)
“بیٹا بھی بلکل اپنے باپ پر جائے گا شادی کے بعد اپنے ماں باپ کو بلکل اپنے باپ کی طرح بھول جائے گا۔۔!!
اٹھارہ سالہ بہرام شاہ جو اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ ہنس کر باتیں کر رہا تھا اپنے پیچھے کے ٹیبل پر بیٹھی دو عورتوں کی بات پر خاموش ہو کر انکی باتیں سننے لگا۔۔۔
“شازیہ شازم سائیں کی بیوی ایک غریب خاندان کی ہے تو وہ یہی چاہے گی نا کہ گھر میں صرف وہ اور اسکا بیٹا اور شوہر ہو باقی شوہر کے گھر والے جائے بھاڑ میں اسکی بھلا سے۔۔!!
وہ اپنی ماں کے بارے میں اس طرح کے الفاظ سن کر سخت غصے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور ان دونوں کی جانب بڑھا اور ٹیبل پر رکھے سبھی کھانے کی چیزوں کو ہاتھ مار کر نیچے پھینکنے لگا۔
“میرے گھر میں بیٹھ کر کھانا کھا کر میرے ہی ماں کے بارے میں بکواس کر رہے ہیں آپ دونوں نہیں چھوڑو گا میں آپ دونوں کو سنا آپ دونوں نے۔۔!!
وہ غصے سے ٹیبل پر رکھے سبھی گلاسوں کو پھینکنے کے بعد انکی جانب بڑھا تو وہ عورتیں چیخ مار کر پیچھے ہٹی ۔
“اے لڑکے پاگل ہوگئے ہو کیا تم اور تمہاری ماں ایسی ہے تو ہم اسکے بارے میں ایسی ہی باتیں کریں گے نا اور اگر ہم جھوٹ بول رہے ہیں تو جاؤ جا کر اپنی ماں اور اپنے باپ سے پوچھو کہ وجاہت شاہ اور علی شاہ کو وہ لوگ کیوں نہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔۔!!
ایک عورت نے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔۔
“شاہ بیٹا یہ آپ بڑوں سے کس طرح بات کر رہے ہیں۔۔!!
شازم اور دلکش کو جب اپنے بیٹے کے غصے کے بارے میں پتہ چلا تو وہ اسی جانب بڑھے اور بہرام شاہ کو آج پہلی بار اتنے زیادہ غصے میں دیکھ کر ساکت رہ گئیں کیونکہ وہ غصہ اگر کرتا بھی تھا تو یوں بڑوں سے بدتمیزی کبھی بھی نہیں کرتا تھا۔۔
“مما جانی یہ وجاہت شاہ اور علی شاہ کون ہے۔۔؟؟
وہ دلکش کے سامنے کھڑا ہوا اور اس سے پوچھنے لگا جو یہ نام سن کر تعجب سے اسے دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“بیٹا وجاہت شاہ آپ کے بابا کے دادا اور علی شاہ آپکے بابا کے بابا اور آپ کے دادا اور یہ آپ کو انکے بارے میں کس نے بتایا۔۔؟؟
دلکش انکے بارے میں بتا کر آخر میں اس سے پوچھنے لگی۔۔
“مما جانی تو پھر وہ اب کہا ہے کیوں ہمارے بیچ میں نہیں ہے اور آپ نےمجھے انکے بارے میں کیوں نہیں بتایا تھا کہ میرے بھی دادا ہیں۔۔!!
دلکش کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔
“بیٹا جب آپ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے وہ ہماری حویلی سے گم ہوگئے تھے وہ بھی زخمی حالت میں اور ہم نے انہیں بہت ڈھونڈا لیکن وہ ابھی تک ہمیں نہیں ملے ہیں۔۔!!
شازم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔۔
“نہیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں شازم سائیں صرف آپکی وجہ سے وہ دونوں ابھی تک آپکو نہیں مل رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ آپ انہیں ڈھونڈ ہی نہیں رہے ہونگے اور آپکی اس حرکت کی وجہ سے سب میری ماں ہر انگلی اٹھا رہے ہیں۔۔!!
وہ شدت سے چلاتے ہوئے بولا تو دلکش اور شازم اسکی بات پر شاکڈ رہ گئے کیونکہ اسکے دل میں ان عورتوں کی باتوں کو سن کر ایک ہی منٹ میں شازم کے لئے بدگمانی پیدا ہو جائے گی وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
“شاہ بیٹا میں سچ کہہ رہا ہو۔۔!!
شازم آگے بڑھتے ہوئے بولا۔
“نہیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں اور میں اب یہاں ایک منٹ بھی نہیں رہوں گا کیونکہ اس گھر سے نکالنے سے پہلے میں خود نکل جاؤ تو شازم سائیں یہ میرے لئے بہتر ہے۔۔!!
وہ ہاتھ اٹھا کر شازم کو روکتے ہوئے کہنے لگا اور اپنے قدم پیچھے لینے لگا تو یہ دیکھ کر دلکش تیزی سے آگے بڑھی لیکن وہ اسے دیکھے بغیر تیزی سے گھر سے باہر نکلا اور دلکش وہی بیٹھ کر بری طرح سے رونے لگی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“شیر یہ چیز تمہیں سارے چیزوں سے بہت دور لیں جائے گی جہاں صرف تم ہوگے اور تمہارے ساتھ یہ چیز۔۔!!
بہرام شاہ زریاب خان کے گھر میں اسکے روم میں بیٹھا وہ سب باتیں یاد کر رہا تھا اور اسکا غصہ زریاب خان کے روم کی ایک ایک چیز پر وہ نکال رہا تھا اور یہ زریاب خان سے بلکل بھی برداشت نہ ہوا تو اسنے ایک سفید پاؤڈر اسکے سامنے بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
“یہ کیا ہے خان۔۔؟؟
وہ پاؤڈر اپنے ہاتھ میں لے کر اس سے پوچھنے لگا تو زریاب خان نے خباثت سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا جو اٹھارہ سال کا تھا اور اس سے دو سال چھوٹا تھا۔۔
“یہ ایک جادو ہے اسے لینے سے تمہیں لوگوں کی باتیں پریشان نہیں کرے گی جو تمہاری مما جانی کے بارے میں کرتے ہیں اور تمہارے بابا سے نفرت اور بڑھ جائے گی۔۔!!
ٹیبل پر وہ پاؤڈر لکیر کی صورت میں پھینکتے ہوئے ڈرگز کو سونگھتے ہوئے کہنے لگا تو اسکی بات سن کر بہرام شاہ نے بھی اسی کی طرح اس سفید مہلک چیز کو سونگھا اور پہلی بار تو اسکی عیجب بدو کی وجہ سے وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹا لیکن سونگھنے کی وجہ سے جو آہستہ آہستہ اسکے دماغ میں نشہ چڑھ رہا تھا اسکی وجہ سے وہ دوباره ٹیبل پر جھکا اور مدہوشی سے اس پاؤڈر کی تلخ بو کو سونگھنے لگا۔۔
“خان بہت مزا آ رہا ایسا لگ رہا ہے میں ہواؤں میں اڑ رہا ہوں۔۔!!
وہ نشے کی حالت میں جھومتے ہوئے ہنس کر بولا۔۔
“شیر یہ تو کچھ بھی نہیں ہے اب جو میں تمہیں دیکھاؤ گا تو تمہیں اور مزا آئے گا۔۔!!
زریاب خان نے خباثت سے مسکراتے ہوئے کہا۔
“وہ کیا ہے خان۔۔؟؟
اپنی ٹھوڑی پر انگلی رکھ کر وہ ناسمجھی سے زریاب خان کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“یہ میرے شیر۔۔۔!!
دروازے کی جانب کھڑی لڑکی کی جانب اشاره کرتے ہوئے وہ کمینگی سے مسکرایا جبکہ بہرام شاہ اس لڑکی کو حقارت سے دیکھنے لگا جو چھوٹی ڈریس میں ملبوس ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
“ہیلو ہینڈسم۔۔!!
اپنی کمر تک آتے لمبے بالوں کو آگے سے ہٹا کر وہ بہرام شاہ کی جانب بڑھتے ہوئے بولی۔
“خان یہ ہینڈسم کون ہے۔۔؟؟
زریاب خان کو دیکھتی وہ پوچھنے لگی۔۔
“جانم یہ میرا بہت اچھا دوست ہے اور بہت تکلیف میں ہے اسے سکون چاہیے اسی لئے تو میں نے یہاں تمہیں بلایا ہے۔۔!!
زریاب خان اپنی جگہ سے اٹھا اور اُس بے باک لڑکی کو اپنی ٹائی پر بٹھا کر عیجب طرح سے اپنے ہونٹوں سے چھونے لگا یہ دیکھ کر بہرام شاہ تیزی سے اٹھا اور روم سے باہر نکلا۔۔
جبکہ اندر زریاب خان کو اس لڑکی کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرتے ہوئے دیکھ کر نجانے کیوں اسے سب کچھ یکدم سے غلط لگا لیکن پھر ان عورتوں کی بات زہن میں چلنے لگی تو وہ غصے سے روم کے اندر داخل ہوا اور ان دونوں کی جانب بڑھا جو ایک دوسرے میں کھوئے ہر حد پار کر رہے تھے۔۔
“خان مجھے سکون چاہیے لیکن اس طرح نہیں جو تم کر رہے ہو یہ بہت ہی عیجب ہے۔۔!!
منہ دوسری طرف کرتا وہ زریاب خان کو آواز دے کر بولا تو زریاب خان اس لڑکی کے اوپر سے اٹھا اور اپنی شرٹ پہننے لگا جبکہ وہ لڑکی برہنہ حالت میں بیڈ پر لیٹی ان دونوں کو بے باکی سے دیکھ رہی تھی۔۔
“ہینڈسم اگر تم سکون چاہتے ہو تو یہ رات میرے نام کر دو میرے ساتھ یہ رات گزار کر دیکھو قسم سے تمہیں سکون ہی سکون دونگی۔۔!!
لڑکی اسی حلیے میں بیڈ سے اٹھی اور بہرام شاہ کی جانب آہستگی سے بڑھتی ہوئی بولی تو اسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر اسنے غصے سے کہا
“وہی رک جاؤ آگے مت بڑھنا ورنہ جان سے مار ڈالو گا۔۔!!
سرخ آنکھیں اس پر ڈال کر وہ تیزی سے بولا تو لڑکی اسکی غصیلی آواز سن کر ڈرتی ہوئی پیچھے ہٹی تو زریاب خان آگے بڑھا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر باہر نکلا جبکہ لڑکی وہی روم میں کھڑی اسے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر پرسکون سانس خارج کرتی بیڈ پر گری۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“شیر یہی ہے وہ لڑکا جس نے مجھے ابھی تک پیسے نہیں دئیے ہیں۔۔!!
زریاب خان کے ساتھ پورے دو ماه رہنے کے بعد وہ بلکل بدل گیا تھا پہلے جو اسے اتنا زیادہ غصہ نہیں آتا تھا اب زریاب خان کی باتوں اور ڈرگز دینے کی وجہ سے وہ اپنا غصہ بلکل کنٹرول نہیں کرتا تھا اب بھی سامنے کرسی پر باندھے لڑکے کو بری طرح سے گھور رہا تھا جو زریاب خان سے ڈرگز لیتا تھا لیکن پیسے نہیں دیتا تھا۔۔
“تو خان ختم کر دو سمپل سی بات ہے ہم کیوں ان جیسے لوگوں پر اپنا رقم خرچ کریں۔۔!!
سگریٹ سلگا کر وہ ایک کرسی پر بیٹھا اور اس لڑکے کو طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“ٹھیک کہہ رہے ہو تم شیر اب اس طرح کے لوگوں کو ہم اس طرح سبق سیکھائے گے۔۔!!
زریاب خان نے اسکے ہاتھ میں ایک بوتل تھامیا اور کہنے لگا تو اسنے سگریٹ بجا کر بوتل کا رخ اس لڑکے کی جانب کرتے ہوئے اس کے اندر موجود شے کو اس لڑکے کے چہرے پر پھیکنا تو وہ لڑکا بری طرح سے چلانے لگا۔۔
“باس کالج میں پولیس آئی ہے۔۔!!
تبھی وہاں زریاب خان کے گروپ میں سے ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا اور ان دونوں سے کہنے لگا تو زریاب خان ڈر کر باہر کی جانب بھاگا جبکہ وہ وہی لڑکے کے سامنے بیٹھا اسے اسی طرح دیکھ رہا تھا۔۔
“ابے لڑکے یہاں دہشت گردی کرنے آتے ‌ہو یہ کیا حال کر دیا ہے اس بے چارے کا تم نے نمبر دو اپنے باپ کا۔۔!!
پولیس آفیسر نے اسے کالر سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہوئے کہا۔۔
“بے چاره نہیں یہ ایک نمبر کا خبیث انسان ہے اور کیوں دو میں اپنے باپ کا نمبر اور میرے پاس نہیں ہے کسی باپ واپ کا نمبر جاؤ جو کرنا ہے جا کر کرو سیاه وردی والے بابو اے بی کسی سے نہیں ڈرتا ہے۔۔!!
اپنا کالر غصے سے پولیس کے ہاتھ سے چھڑوا کر وہ کہنے لگا۔
“اے لڑکے خود کو بہت پہنچی ہوئی چیز سمجھ رہا ہے تو جو ہمیں دھمکی دے رہے ہو۔۔!!
اسے کالر سے دوباره پکڑ کر کلاس سے باہر نکالتے ہوئے آفیسر نے کہا۔۔
“ہو تو سمجھ رہا ہو نا وردی والے بابو چلو تھانے لے کر چلو وہاں پتہ چل جائے گا تمہیں۔۔!!
مسکراتے ہوئے کہہ کر وہ انکے ساتھ چلنے لگا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“یہ دیکھیں آپکے بیٹے نے ان دو ماه میں کیا کیا ہے اتنے تیزاب والے کیس اس پر فائل ہوئے ہیں۔۔!!
شازم کو پورے دو ماه بعد اسکے بارے میں پتہ چلا بھی تو کس طرح یہ دیکھ کر وہ شاکڈ رہ گیا کیونکہ سامنے جیل میں جو کھڑا تھا وہ اسے اپنا بیٹا نہیں بلکہ کوئی بدمعاش لگ رہا تھا۔
“اے آفسر یہ میرا کچھ نہیں لگتا ہے مجھے باہر نکالو میرا جسم درد کر رہا ہے۔۔!!
شازم کو غصے سے گھورتے ہوئے وہ آخر میں بے بسی سے اپنے جسم کو سہلانے لگا جو ڈرگز نہ ملنے کی وجہ سے بری طرح سے جل رہا تھا۔۔
“مسٹر شازم حیران مت ہوئیے آپ کا بیٹا ڈرگز بھی لیتا ہے۔۔!
شازم کے حیرت زده چہرے کو دیکھ کر پولیس آفیسر نے یہ بری خبر بتائی تو وہ بہرام شاہ کو دیکھنے لگا جو اب نیچے زمین پر گرتے ہوئے اپنے بال پاگلو کی طرح نوچ رہا تھا۔
“آپ پلیز میرے بیٹے کو جیل سے نکالے میں اسے اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا اور یہ سب اس لڑکے کا کام ہے مجھے جلد اپنے بیٹے کو اس لڑکے سے دور کرنا ہوگا۔۔!!
شازم نے پریشانی سے کہا۔
“سر بس کچھ کاغذی کاروائی کے بعد آپ کے بیٹے کو باہر نکالے گے آپ بلکل بھی فکر مت کریں اور اس زریاب خان کو تو ہم نہیں چھوڑے گے۔۔!!
آفیسر نے آرام سے کہا تو شازم پرسکون ہو کر تاسف سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھنے لگا جو جیل کے اندر بری طرح سے تڑپ رہا تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“نہیں چھوڑو مجھے ورنہ میں تُم لوگوں کو مار دو گا۔”
پانچ آدمی اسے قابو کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو غصے سے چیختے ہوئے سارا ہسپتال سر پر اٹھا چکا تھا اسے شازم تھانے سے سیدھا کراچی کی ایک مہشور ہاسپٹل میں علاج کے لیے لے کر آئے تھا وہ علاج کے لیے ایک شرط پر مانا تھا کہ وہ اکیلا رہے گا کوئی بھی اسکے پاس نہیں آئے گا یہاں تک شازم بھی نہیں تب وہ مکمل علاج کرانے کے لیے راضی ہوگا۔۔
“ڈاکٹر ارسلان بہرام شاہ کی حالت بہت زیادہ سیریس ہے۔وہ پھر سے ڈرگز لینے لگا ہے آج وارڈ بوائے ہارون نے اُسے اسٹور روم میں ڈرگز لیتے ہوئے دیکھا ہے۔”
ڈاکٹر ساجد نے جب روم میں داخل ہوتے ڈاکٹر ارسلان کو دیکھا تو وہ آگے بڑھا اور ان سے کہنے لگا جو بہرام شاہ کو دیکھ رہے تھے
جو ا‌ِس وقت اٹھارہ سال کا تھا مگر اِس کے باوجود بھی وہ اُن پانچ طاقتور آدمیوں سے قابو میں نہیں آ رہا تھا۔یکدم سے اُنہوں نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور اُن آدمیوں کو پیچھے ہٹنے کا کہ کر خود پیچھے ہٹے تاکہ دیکھے تو سہی آخر وہ کہا جاتا ہے۔
“اسے ڈرگز کس نے دیا ہے۔۔؟؟
سب کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر ارسلان نے کہا تو سب نے نفی میں سر ہلایا تو وہ بہرام کی جانب دیکھنے لگے جو اب باہر جانے کے لیے پرتول رہا تھا۔۔
“شاہ آپ کو کس نے ڈرگز دیا ہے۔۔؟؟
اسے بغور دیکھتے ہوئے وہ پوچھنے لگے تو بہرام شاہ نے اپنی سرخ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
“خان نے۔۔!!
زریاب خان کا نام سن کر وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگے جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔۔
“آپ کو باہر جانا ہے۔۔؟؟
کھڑی سے باہر دیکھتے ہوئے ڈاکٹر ارسلان نے کہا تو اسنے ہاں میں سر ہلایا۔۔
“تو جاؤ بچے آج تم باہر گزار کر آؤ لیکن ڈرگز کو غلطی سے بھی ہاتھ مت لگانا اور اپنے دوست کے ضد کرنے پر مت لینا اوکے۔۔!!
اسے باہر کی جانب اشاره کرتے ہوئے انہوں نے مسکرا کر کہا تو وہ اٹھا اور تیزی سے باہر کی جانب بڑھا۔۔
“ڈاکٹر یہ لڑکا ابھی اپنے ہوش میں نہیں ہے پھر آپ نے اُسے کیوں باہر جانے دیا وہ کسی کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔”
ڈاکٹر ساجد نے پریشانی سے ہسپتال کے گیٹ سے باہر اُسے نکلتے ہوئے دیکھا تو ڈاکٹر ارسلان سے کہنے لگا۔جو کہ سنجیدگی سے اپنے روم کی کھڑکی کے سامنے کھڑا بہرام شاہ کو دیکھ رہا تھا۔
“ڈاکٹر ساجد یہ کیس باقی سب کیسوں سے مختلف ہے۔یہاں جتنے بھی ڈرگز کے مریض آئے تھے وہ سبھی بہرام شاہ سے عمر میں بڑے تھے۔اور بہرام ڈرگز کو چھوڑنا چاہتا بھی ہے اور نہیں بھی۔”
وہ پیچھے پلٹ کر اپنی ٹیبل پر رکھے بہرام شاہ کے رپورٹ کو بغور دیکھتے ہوئے ڈاکٹر ساجد سے بولے۔اور سامنے فائل پر بہرام شاہ کے سپاٹ چہرے والی تصویر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ اس وقت ایک پارک کے سامنے کھڑا سپاٹ نظروں سے اپنے سے چھوٹے بچوں کو اندر کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا
تبھی ایک بال آ کر اُسکے کندھوں سے ہو کر گزرا تو وہ غصے سے پیچھے دیوار سے لگ کر نیچے گرتے بال کو گھورنے لگا۔
“سوری بڈی آپکو پرنس نے ہرٹ کیا۔”
ایک نرم خوبصورت آواز پر وہ تیزی سے غصے سے پیچھے پلٹا اور جب اپنے سامنے کھڑی ایک 16 سالہ خوبصورت چھوٹی سی کیوٹ لڑکی کو اُسنے دیکھا تو وہ غصہ بھول
کر اُسے دیکھنے لگا۔
جو اپنا چشمہ بار بار درست کرتی اُسے معصومیت سے اپنی سیاه نظروں سے دیکھ رہی تھیں تبھی یکدم سے ایک سترہ سالہ لڑکا تیزی سے وہاں آیا اور اُسے اپنے ساتھ کھینچ کہ وہاں سے لے جانے لگا اور یہ دیکھ کر بہرام شاہ کی آنکھیں غصے کی زیادتی سے سرخ ہونے لگی۔
“شیر یہ تم یہاں کیا کر رہے ہو اور یہ لڑکی کون تھی۔۔؟؟
زریاب خان کی آواز پر وہ پیچھے مڑا تو اپنے سامنے اسے دیکھ کر وہ خوشی سے آگے بڑھا اور اسے گلے سے لگا کر کہنے لگا۔۔
“خان تم اس دن ہاسپٹل سے کیوں اتنی جلدی بلے گئے تھے اور اب یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔!!
خفگی سے کہہ کر وہ سنجیدگی سے اس سے پوچھنے لگا جبکہ زریاب خان کی نظریں اس معصوم لڑکی پر جمی تھی اور دماغ میں ایک بیانگ پلان چل رہا تھا۔
“شیر پہلے تو تم مجھے یہ بتاؤ کہ یہ لڑکی تمہیں کیسی لگتی ہے۔۔۔!!
نظریں ہنوز اسے لڑکی پر جما کر وہ خباثت سے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا تو بہرام شاہ نے سامنے لڑکے کے ساتھ کھیلتی لڑکی کو دیکھا لیکن اس لڑکے کے ساتھ کھیلتے ہوئے نجانے کیوں اسے غصہ آنے لگا تھا۔۔
“خان وہ یکدم سے میرے سامنے آکر میرے ہوش گم کر گئیں اور پتہ نہیں کیوں اسے کسی لڑکے کے ساتھ دیکھ کر اب یہ دل پتہ نہیں کیوں جل رہا ہے۔۔۔!!!
اور حیرت کی بات ہے ہم آج ہی ملے ہیں تو وہ کیوں مجھے اپنی اپنی سی لگنے لگی ہیں۔۔!!
کھوئے ہوئے انداز میں کہتا وہ اسے دیکھتے ہوئے زریاب خان سے کہنے لگا۔۔
“پگلے اس کو عشق کہتے ہیں جو تمہیں اس لڑکی سے بے پناه ہوا ہے جو کسی بھی وقت کسی سے بھی ہوسکتا ہے جیسے مجھے ڈرگز سے ہوا ہے۔۔!!
زریاب خان نے کمینگی سے مسکرا کر ڈرگز کے پیکٹ کو چھومتے ہوئے کہا اور اسنے ڈرگز اسکی جانب بڑھایا لیکن وہ کہا اسکی جانب دیکھ رہا تھا جو اسکے ہاتھ میں ڈرگز کو دیکھ کر پاگل ہو جاتا آج وہ صرف اس معصوم لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔تبھی ہاسپٹل سے کسی وارڈ بوائے کو وہاں آتے ہوئے دیکھ کر زریاب خان تیزی سے وہاں سے ہٹا اور پارک سے باہر نکلا۔۔
“شاہ چلے یہاں سے آپکی میڈیسن لینے کا ٹائم ہو رہا ہے۔”
ایک وارڈ بوائے نے آکر ڈرتے ہوئے اُسے مخاطب کیا جو اب اپنی سرخ نگاہوں سے اُس لڑکے کو دیکھ رہا تھا جو اُس لڑکی کو اپنے ساتھ کھینچ رہا تھا۔
“نہیں چاہیئے مجھے کوئی میڈیسن۔”
وہ غصے سے کہتا اپنے قدم ہسپتال کی جانب بڑھانے لگا۔تو وارڈ بوائے اپنے کندھے اچکا کر اُسکے پیچھے چلنے لگا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“شاہ آپ میڈیسن کیوں نہیں لینا چاہتے ہیں۔؟
ڈاکٹر ارسلان بیڈ پر لیٹے بہرام شاہ سے بولے۔جو جب سے باہر سے آیا تھا تب سے وہ خاموش اور سخت چڑچڑا ہوگیا تھا میڈیسن نہ لینے کی ضد کر رہا تھا۔
“ڈاکٹر ارسلان ایک دن میڈیسن نہیں لوں گا تو مر نہیں جاؤ گا میرا جب موڈ کرے گا میں میڈیسن لے لوں گا۔مہربانی کر کے آپ پلیز یہاں سے چلے جائے ورنہ میں آپکا سر بھی پھاڑ سکتا ہوں۔”
وہ آنکھیں کھول کر غصے سے سامنے رکھے جگ کو اٹھا کر بولا۔تو ڈاکٹر ارسلان اُسکی دھمکی دینے پر مسکرانے لگے کیونکہ وہ ایسا ہی تھا جب دل کرتا اِنہیں دھمکی دیتا اور جب دل چاہتا ہنس کر ان سے باتیں کرتا۔
“دیکھو بیٹا تُم میڈیسن نہیں لوں گے تو تمہارے جسم میں تکلیف شدت پکڑے گا۔اور آپکو پتہ تو ہے آپ پھر کتنا پاگل ہو جاتے ہیں۔”
ڈاکٹر ارسلان نے اُسے اپنے ہاتھ بری طرح سے پکڑتے ہوئے دیکھا تو وہ تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے اس سے بولنے لگے۔جبکہ وہ اب اپنا سر بری طرح سے تکیے پر مار رہا تھا اور بار بار کسی کو اپنے پاس بلا رہا تھا ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
سر آپ کا بیٹا کل رات کو یہاں سے بھاگا ہے اور اسکے ساتھ زریاب خان بھی موجود تھا۔۔!!
ڈاکٹر ارسلان نے شازم کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
“ڈاکٹر ارسلان یہ ٹھیک نہیں ہوا آپ لوگوں کی موجودگی میں وہ کیسے بھاگ گیا اور میں نے زریاب خان کو اس کے آس پاس آنے کے لئے منا کیا تھا پھر بھی وہ یہاں تک پہنچ گیا۔۔!!
شدید غصے سے ڈاکٹر ارسلان کو گھورتے ہوئے کہنے لگا تو انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“شازم سر وہ تین دن سے کچھ بھی نہیں کھا رہا تھا اور نا ہی داوئی لیں رہا تھا بس کسی لڑکی کا بار بار ذکر کر رہا تھا۔۔!!
ڈاکٹر کی بات پر وہ تعجب سے انہیں دیکھنے لگے۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“کون ہے آپ لوگ اور مجھے اس طرح کیوں باندھا ہے۔۔؟؟
اپنے آپ کو زور سے رسیوں سے چھڑا رہا تھا کہ دو لڑکوں کو اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر وہ غصے سے بولا۔۔
“پہلے تُم بتاؤ کہ اس کے کیا لگتے ہو تُم اور کس حق سے تم اسے چھوتے ہو ہاں۔۔!!
بہرام شاہ ہوڈی پہنے سگریٹ منہ میں دبائے ہاکی اسٹک اسکے چہرے پر پیھرتے ہوئے کہنے لگا تو اذان شاہ اسکو ناسمجھی سے دیکھنے لگا جو پتہ نہیں کس کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
“میں سمجھا نہیں تم کس کی بات کر رہے ہو۔؟
وہ ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو بہرام شاہ نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے زریاب خان کو اشاره کیا جسنے سامنے کھڑکی سے پرده ہٹایا تو اذان شاہ نے باہر دیکھا جہاں حور ایک صوفے پر ڈری سہمی ہوئی بیٹھی ہوئی تھی۔
“تم لوگوں کی اتنی ہمت میری کزن کو ہاتھ بھی کیسے لگایا تم نے ہاں۔۔!!
وہ غصے سے چیخا تو بہرام شاہ باہر نکلا اور کھڑکی کی جانب دیکھتے ہوئے اسے اشاره کرتے ہوئے حور کی جانب بڑھا اور اسے صوفے سے اپنے بازؤوں میں بھر کر اندر روم کی جانب تیزی سے بڑھتا ہوا نظر آیا اور یہ دیکھ کر اذان شاہ غصے سے پاگل ہونے لگا۔۔
“میرے ہونے والے سالے صاحب اس طرح اور کبھی بھی بہرام شاہ کو چیلنج مت کرنا ورنہ وہ اس طرح چلینج پورا کرتا ہے۔۔!!
حور کی جانب اشاره کرتے ہوئے وہ مسکرا کر کہنے لگا جبکہ سولا سالہ حور اسکی باہوں میں بری طرح سے مچلنے لگی وہ معصوم تو اسکے زبردستی یہاں لانے پر کافی خوفزدہ ہوگئی تھی۔۔
“خان میرے ہونے والے سالے صاحب کو کھول دو یہ کمزور ہے اپنے ہونے والے داماد کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔۔!!
حور کو سامنے صوفے پر احتیاط سے بٹھا کر وہ سنجیدگی سے بولا تو زریاب خان نے کمینگی سے مسکراتے ہوئے اذان شاہ کو رسیوں سے آزاد کیا جبکہ وہ رسیوں کی قید سے آزاد ہو کر اس پر پل پڑا تو بہرام شاہ نے اسے ایک ہی جھٹکے میں خود سے دور اچھالا اور یہ دیکھ کر حور بری طرح سے ڈرنے لگی۔۔
“سالے صاحب ابھی تمہیں سیکھنے کی بہت ضرورت ہے۔۔!!
کمینگی سے مسکرا کر وہ اذان شاہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگا جو نیچے زمین پر گرا اسے غصے سے گھور رہا تھا۔۔
“چھوڑو ہم دونوں کو بدتمیز انسان ورنہ ہمارے بڑے پاپا تمہیں نہیں چھوڑے گے۔۔!!
وہ گھبراتی حور کی جانب دیکھتے ہوئے تیز لہجے میں اس سے کہنے لگا جو حور کو دیکھ رہا تھا کہ اسکی بات پر اپنی جگہ سے اٹھا اور حور کی جانب بڑھا اور اسکے نازک لرزتے ہوئے وجود کو اپنے سینے میں بھینچ کر اسے دیکھنے لگا جو ابکے اسکی حرکت پر سخت نظروں سے اسے گھورنے لگا تھا۔
“کوئین ابھی تو میں تمہیں جانے دے رہا ہو لیکن بہت جلد تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤ گا۔۔!!
پیشانی پر ہونٹ رکھتے ہوئے کہنے لگا تو حور رونے لگی جبکہ اسے روتے ہوئے دیکھ کر اذان شاہ تیزی سے نیچے سے اٹھا اور اسکی جانب بڑھنے لگا لیکن اسکے غصے سے ہاتھ بیچ میں کرنے پر وہ وہیں کھڑا اسے سخت نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“وہی رک جاؤ اور آج کے بعد تم میری ہونے والی بیوی کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤ گے سمجھے ورنہ تمہارے ہاتھ میں کاٹ ڈالو گا۔۔!!
سخت نظروں سے گھورتا وہ جنونی انداز میں کہنے لگا۔۔