Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186

Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Last updated: 23 August 2025

52.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq E Junoon

By Sumyia Baloch

Shining in the shade in sun like a pearl up on the ocean Come and feel me Girl feel me Shining in the shade in sun like a pearl up on the ocean Come and heal me Girl heal me Thiking about the love we making And the life we sharing Come and feel me Girl feel Shining in the shade in sun like a pearl up on Come and feel me Common heal me ہوا جو تو بھی میرا میرا تیرا جو اقرار ہوا تو کیوں نا میں بھی کہ دو کہ دو ہوا مجھے بھی پیار ہوا تیرا ہونے لگا ہوں کھونے لگا ہوں جب سے ملا ہوں تیرا ہونے لگا ہوں حور جو اُسکے چوڑے سینے پر اپنا سر ٹکائے اپنی آنکھیں زور سے میچے دونوں‌ نازک ہاتھ اُسکے شانوں پہ رکھے ہوئی تھی۔ اُسے اپنی کمر پر اُسکے ہاتھ رینگتے ہوئے محسوس ہوئے تو وہ کانپتی ہوئی اُسکے شانوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے لگی۔ اور بہرام اپنے شانوں پر اُسکی گرفت کو مضبوط محسوس کرتا مسکرا کر اُسکی کمر پر اپنا پکڑ اور مضبوط کرتا اُسے لیے پیچھے اُس اسٹوڈنٹ کی جانب بڑھا جہاں وہ سب مزے سے کھڑے اُنہیں ڈانس کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ وہاں پہنچ کر اُسنے حور کو ایک ہاتھ سے خود سے لگا کر اور پھر اپنا دوسرا ہاتھ سامنے کھڑے لڑکے کوزور سے جان بوجھ کہ اُسنے مارا۔!! وہ لڑکا اِسکے زور دار وار کو بلکل بھی سہہ نا سکا اور دور جا گرا اور یہ دیکھ کر وہ حور کو تیزی سے اپنےپیچھے کھڑا کرکے منہ کھولے ایکٹنگ کرنے لگا۔ "سس۔سوری میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا آپ ٹھیک تو ہے نا۔آپکو زیادہ چوٹ تو نہیں آیا پلیز آپ سب کھڑے کیا کر کے اٹھائے اِنہیں اور ہاسپٹل لے کر جائے دیکھ نہیں رہے اُنکا کتنا خون بہ رہا ہے۔" وہ اپنا چشمہ درست کرتے گھبرا کر اُن سب لڑکوں سے بولا۔تو حور جو اُسکے پیچھے کھڑی تھی۔وہ اُسے اپنے سے کمزور لڑکوں سے ڈرتے دیکھ کر وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی اپنی ہنسی کا گلہ گھوٹنے لگی۔ "اے بیٹری یہ تُم نے جان بوجھ کر کیا ہے۔میں نے خود دیکھا تُم ہنس رہے تھے۔اور تُم ایسے لگتے نہیں ہو۔جو تُم خود کو ظاہر کر رہے ہو۔دیکھ لوں گا میں تُمہیں۔اور تُم سب ہنس کیوں رہے ہو۔اب چلو یہاں سے یا پھر منگواؤ تُم سب کے لئے ایمبولینس۔" وہ لڑکا انگلی اٹھاکر اُسے دھمکیاں دیتا ہوا آخر میں چڑ کر اپنے سارے گروپ سے کہنے لگا۔جو اُسے کمر پکڑے دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ "لیکن سر ابھی اِس وقت تو آپکو سب سے زیادہ ایمبولینس کی ضرورت ہے۔آپکے اِن لڑکوں کو نہیں کیوں جوانوں سہی کہا نا میں نے۔" بیگ پر گرفت سخت کرتا دوسرے ہاتھ سے حور کا ہاتھ پکڑ کر وہ آہستہ آہستہ پیچھے قدم لیتے ہوئے بولا تھا۔جبکہ حور حیرت سے اپنے نازک ہاتھ پر رکھے اُسکے سفید مردانہ ہاتھ کو دیکھنے لگی جو گرفت مضبوط کیے اُسے لیے پیچھے کی جانب بڑھ رہا تھا۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اُسے لے کر دائیں جانب بھاگنے لگا۔ "پکڑو اُن دونوں کو شاید یہ بیٹری کی اولاد عارف خان سے پنگا لینے کا انجام اچھے سے نہیں جانتا اِسی لئے یہ الجھنے کی غلطی کر رہا ہے۔" وہ لڑکا غصے سے اپنے لڑکوں کو اُن دونوں کے پیچھے لگاتے ہوئے سختی سے بولا تھا۔ 💞💞💞💞💞💞💞