117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

ارحام انصاری روم میں یونیفارم پہنے ڈریسنگ کے سامنے کھڑا اپنے بالوں پر برش پھیر رہا تھا کہ ریحام کی آواز پر وہ برش نیچے پھینک کر تیزی سے روم سے باہر نکلا۔۔
“مس میزائیل کیا ہوا اتنی زور سے کیوں چیخی تُم۔۔۔؟؟
ارحام کچن میں داخل ہو کر سامنے چولھے سے تھوڑی دور ہو کر کھڑی گھبراہٹ کے مارے فرائی فین میں آئل ڈالنے کی کوشش کرتی ریحام سے پوچھنے لگا۔
“اہہہہ۔۔۔!!
ریحام جو پین میں آئل ڈالنی کی کوشش میں اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ اچانک سے اُسکے آواز دینے پر وہ ڈر گئی اور ہاتھوں میں تھما بوتل چھوٹ کر فرائی پین کے اندر گر گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آئل کی وجہ سے یکدم سے آگ بھڑک اٹھی تو ارحام تیزی سے آگے بڑھا اور اسے اپنی جانب کھینچ کر اُسے اپنے سینے سے لگا کر وہ اُسے لیے جلدی سے باہر نکلا۔۔
“یہ کیا کر رہی تھی تم اگر تُمہیں کچھ ہو جاتا تو ڈیم اٹ۔۔!!
وہ اُسے خود سے دور کرتے ہوئے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے غصے سے کہنے لگا۔۔
“وہ ممم۔۔میں ناشتہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی تُمہارے لیے لیکن پتہ نہیں یہ کیسے ہوگیا۔۔!!
ریحام سر جھکائے افسردہ لہجے میں بولی تو ارحام اسے سر نیچے جھکائے افسردہ دیکھ کر آگے بڑھا اور اُسے اپنے سینے میں بھینچ کر اُسکے بالوں میں اپنے لب رکھتا اُسکی افسردگی کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
“وائف جانم اگر تُمہیں کوکنگ کرنا نہیں آتا تو کیا ہوا میں ہو نا تمہارا سگھڑ شیف اُسے تو ہر قسم کے ڈشز بنانا اچھے سے آتا ہے چلو پہلے کچن میں جو تم نے اپنا کارنامہ آج سر انجام دیا ہے اسے مل کر صاف کرتے ہیں پھر مل کر کچھ اچھا سا تیار کرتے ہیں۔۔!!
ارحام انصاری نے اُسے سامنے صوفے پر بٹھا کر شریر لہجے میں کہتا وہ اسکی چھوٹی سی ناک کو زور سے کھینچتا اپنی جگہ سے اٹھا اور کچن کی جانب بڑھا۔۔
“تُمہارا اب اور کتنا حیران کرنا باقی ہے مجھے مسٹر فائر بریگیڈ صاحب۔۔!!
جب وہ کچن سے باہر نکلا تو ریحام نے اسکے ہاتھوں میں دو کپ چائے کے دیکھیں تو حیرت سے کہتی وہ صوفے سے اٹھی اور آگے بڑھ کر کپ اسکے ہاتھوں سے لیتی سامنے ٹیبل پر رکھتی ہوئی پیچھے پلٹی تو اسے بلکل اپنے پیچھے دیکھ کر پیچھے صوفے کی جانب الٹے قدم لینے لگی۔۔
“مس میزائیل یہ تو شروعات ہے آگے آگے دیکھیے کہ آپ کے یہ فائر بریگیڈ صاحب کیا کرتے ہیں آپ کو حیران کرنے کے لیے ویسے چائے ہم شئیر کر کے بھی پی سکتے ہیں کہتے ہیں اس طرح محبت عشق میں بدل جاتی ہے..!!
وہ معنی خیز لہجے میں کہتا اُسکی کمر پر ہاتھ ڈال کر اُسے اپنے ساتھ لگا کر اپنا کپ اسکے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے اسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
“ارحام انصاری آپ کو تو ابھی اسٹیشن بھی جانا ہے اور آپ اپنی عشق اور معشوقی کے ڈائیلاگ جھاڑ رہے ہیں ابھی تو آپ نے ناشتہ بھی بنانا ہے۔۔!!
ریحام اسکی پناہ میں پھڑپھڑا کر منہ بسور کر بولی تو ارحام انصاری اسے آج پہلی بار بیوی کی طرح دیکھ کر مسکرا اٹھا۔۔
“مس میزائیل آج تُم مجھے بلکل ایک مشرقی بیوی کی طرح لگ رہی ہوں منہ بسور کر خفگی سے دیکھتی اور لاڈ اٹھاتی شرماتی سی خوبصورت مشرقی بیوی ویسے ایک بات بتاؤ تُمہیں مس مشرقی بیویاں تمہاری طرح جلاد بھی ہوتیں ہے میں نے سنا ہے۔!!
وہ مسکرا کر اسکے چہرے کو چھو کر آخری لفظ اسنے شریر لہجے میں کہا تو ریحام جو شرم سے گلال چہرہ لیے نظریں جھکائے ہوئے تھی اسکی آخری بات پر سر اٹھا کر اسے غصے سے گھورنے لگی۔۔
“اچھا تو میں تُمہیں جلاد لگتی ہوں۔۔؟؟
اُسے سختی سے خود سے دور کرتی وہ بولی ارحام جو اسکے دھکا دینے پر پیچھے صوفے پر گرا تھا وہ اسے شریر نظروں سے دیکھتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگا۔۔
“ویٹ ویٹ مس میزائیل پہلے ناشتہ پھر فائٹ کیونکہ ابھی تمہارے اِس غازی کے ان بازؤں میں لڑنے کے لیے بلکل بھی طاقت نہیں ہے پہلے ناشتہ ساتھ مل کر بنائے گے پھر محبت سے ساتھ مل کر کھائے گے اور پھر ساتھ میں عشق والا فائٹ جا کر اپنے بیڈ روم میں لڑے گے۔۔!!
صوفے کے ہتھے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اسنے اپنا سر ہاتھوں کے اوپر رکھا اور اُسے شرارت سے دیکھتا مسکرا کر کہنے لگا۔۔
“ارحام ارحام۔۔!!
ریحام چڑ کر آگے بڑھی اور صوفے کے نیچے پڑے کشن کو اٹھا کر اُسے مارتے ہوئے کہنے لگی۔۔
جی جانِ ارحام۔۔؟؟
کشن کو پکڑتے ہوئے وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے اپنے اوپر گرا کر گھمبیر لہجے میں بولا تو ریحام اسکے اوپر گری اسے گھورنے لگی۔۔
“بدتمیز انسان ہاتھ ہٹاؤ۔۔!!
اپنی کمر پر اسکے ہاتھوں کو محسوس کرتی وہ شرم اور گھبڑاہٹ کے مارے زور سے بولی۔۔
“جانِ ارحام اگر نہیں ہٹایا تو۔۔؟؟
شریر لہجے میں کہتا اسنے کمر پر گرفت اور تنگ کیا تو ریحام اُسکی گرفت تنگ کرنے پر سٹپٹا کر اسے دیکھنے لگی۔۔
“دیکھو ارحام ابھی ناشتہ بھی بنانا ہے ہمیں ساتھ مل کر اور تُمہیں دیر ہو جائے گی اس طرح اگر تُم کروں گے۔۔!!
وہ نظریں نیچے جھکائے بری طرح سے چڑتی ہوئی بولی۔۔
“جانِ ارحام ہو جانے دو دید کیونکہ آج تمہارا یہ دیوانہ عشق جنون کی سرحدیں پار کرنا چاہتا ہے اس عشق کی داستان کو مکمل کرنا چاہتا ہے۔۔!!
اسکی لرزتی پلکوں کو اپنے لبوں سے چھوتا وہ اپنی شدت بھرے لمس کو اسکے چہرے پر چھوڑنے لگا آج وہ اپنی عشق کی لازوال کہانی کو اتنا مضبوط بنانا چاہتا تھا کہ کوئی پھر اذان شاہ یا عروج کی طرح انہیں ایک دوسرے سے جدا نا کر پائے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“چلو لڑکوں تم لوگ اب گھر جا سکتے ہو صاحب نے ابھی فون کر کے ہمیں حکم دیا ہے اور یاد رکھنا اب اگر سگریٹ پیا نا تو صاحب تم لوگوں کو عمر بھر جیل میں بند کردیں گے سمجھے۔۔!!
اسامہ نے ان دونوں کو جیل سے باہر نکالتے ہوئے کہا۔۔
“اب ہماری توبہ جو ہم سگریٹ لفظ کو بھی اپنے منہ سے نکالے۔۔!!
شام نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے جھرجھری لیتے ہوئے کہا۔۔
“کانسٹیبل صاحب اپنے ارحام انصاری صاحب سے کہنا بہت جلد ملے گے۔۔!!
سام جو کب سے خاموش کھڑا تھا وہ آگے بڑھا اور اسامہ کی جانب سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“کس خوشی میں سام برو کانسٹیبل صاحب آپ اس کی بات کو اگنور کریں یہ ایسے ہی مزاق کر رہا ہے۔۔!!
شام نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے بیک وقت اسامہ اور سام سے بولا۔۔
“شام برو میں سچ میں بہت جلد ارحام بھائی سے ملنا چاہتا ہوں اور مجھے پتہ ہے انہوں کیوں ہمیں بند کیا ہے۔۔!!
وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“سام برو وہ کیوں۔۔؟؟
شام نے تعجب سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“یہ گھر چل کر بتاتا ہو آپ کانسٹیبل صاحب یاد سے اپنے صاحب کو کہنا ہماری ملاقات کا اوکے۔۔!!
وہ سنجیدگی سے اسامہ سے کہنے لگا۔۔
“ٹھیک ہے میں سر کو آپ کا پیغام دے دونگا۔۔!!
اسامہ نے سر ہاں میں ہلاتے ہوئے کہا تو وہ دونوں بھائی اسٹیشن سے باہر نکلے۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اے بی سوئمنگ پول کی گہرائی میں اپنی آنکھوں کو بند کیے وہ اپنے غصے کو کم کر رہا تھا اُس سے جب بھی غصہ کنٹرول نہیں ہوتا تھا تو وہ سوئمنگ پول کی گہرائی میں جا کر اپنی آنکھیں بند کرکے خود کو پرسکون محسوس کرتا تھا ابھی بھی حور کی کلائی سے نکلتے خون اور ان تصویروں کی وجہ سے وہ سخت غصے سے پاگل ہو گیا تھا اور اسی لیے وہ روم سے باہر نکلا تھا تاکہ وہ اپنے غصے کی وجہ سے اپنی زندگی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔۔
اور دوسری طرف حور جو بیڈ پر بیٹھی بغور وہ توجہ سے ان تصویروں کو دیکھ رہی تھی لڑکی کے کپڑوں کو دیکھ کر وہ ساکت رہ گئی تھیں کیونکہ اُس لڑکی کے اور اسکے کپڑے بلکل ایک جیسے تھے اور یہ جان کر کے یہ تصویریں اُس دن کی ہے جب وہ اور اے بی سمندر کے اندر سوئمنگ کر رہے تھے اور وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود تھی یہ جان کر وہ تصویریں اپنے سینے سے لگا کر بری طرح سے رونے لگی۔۔
“نہیں کنگ یہ میں نے کیا کر دیا مم۔۔۔میں نے صرف ان تصویروں کی وجہ سے آپ پر یقین نہیں کیا اپنی محبت پر۔۔!!
وہ بلند آواز میں چیختی ہوئی رو کر کہنے لگی۔۔
“مجھے معافی مانگنے چاہیے لیکن آپ تو مجھ سے روٹھ گئے ہیں تو مم۔میں آپ کو کیسے مناؤ۔۔۔!!
وہ اُسکی ناراضگی کا سوچ کر بری طرح سے روتی ہوئی بولی۔۔
“نہیں حور چاہے کچھ بھی ہو جائے تُمہیں اُسے منانا پڑے گا اور اس کے لیے جو کرنا پڑے وہ کرنا پڑے گا۔۔!!
اپنے آنسو صاف کرتی وہ اٹھی اور روم سے باہر نکل کر اُسے ڈھونڈتی ہوئی سوئمنگ پول کی جانب بڑھی اُسے یقین تھا کہ اُسکا روٹھا ہوا سجن اُسے وہی ملے گا۔۔
حور سوئمنگ پول کے سامنے کھڑی سوئمنگ کے اندر دیکھنے لگی جہاں وہ گہرائی میں اپنی آنکھیں موندے اسے بیٹھا ہوا نظر آیا تو اُسنے اپنی نائیٹی کی ڈوری کھول کر نائیٹی کے اوپر پہنی گاؤن اتار کر سامنے کرسی پر پھینکا اور خود سوئمنگ کے اندر کودی اور گہرائی میں جا کر بلکل اس کے مقابل بیٹھی اور اُسے نم آنکھوں سے دیکھنے لگی جو اب پرسکون ہو گیا تھا۔۔
اُن دونوں کے منہ سے بلبلے نکل کر اوپر کی جانب بڑھ رہے تھے وہ آگے بڑھی اور اے بی کے چہرے کو ہاتھ میں پکڑتی تھوڑی دیر اُسے دیکھنے کے بعد وہ روتے ہوئی اپنے نازک ہونٹوں سے اُسکے مونچھوں تلے سختی سے دبے عنابی لبوں کو چھونے لگی۔۔
اے بی جو اب پرسکون انداز میں اپنی آنکھیں موندے ہوئے تھا اچانک سے اُسے اپنے ہونٹوں پر کوئی نرم چیز محسوس ہوئی تو فوراً سے اسنے اپنی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو اپنے سامنے اپنی زندگی کو دیکھ کر اپنا سارا غصہ بھول گیا اور اپنا ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کر اسے اپنے بے حد نزدیک کرتا اسے لیے سوئمنگ کی گہرائی میں سوئمنگ کرتے ہوئے شدت سے اُسکی ہونٹوں پر وہ بھی اپنا لمس چھوڑنے لگا جبکہ حور جو نم آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی اسکے خوبرو چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتی وہ اُسکی لمس کو محسوس کرنے لگی۔۔
اے بی سوئمنگ کرتا اُسے لیے اوپر کی جانب بڑھا اور حور اسکے چوڑے سینے پر سر رکھے اسکی خوشبو کو اپنے اندر محسوس کرنے لگی۔۔
“جانم یہ کیا حرکت تھی۔۔؟؟
اوپر پہنچ کر اے بی نے غصے سے کہا۔۔
“کنگ آئی ایم سوری۔۔!!
وہ روتی ہوئی اس سے بولی۔۔
“جانم میں نے سوال کچھ اور پوچھا ہے اور تُم جواب کچھ اور دے رہی ہوں وائے۔۔۔!!
وہ سختی سے اپنی گرفت اسکی کمر پر مضبوط کرتا ہوا بولا۔۔
“کنگ میں بہت بری ہو بہت زیادہ جو آپ پر یقین نہیں کیا۔۔!!
وہ بری طرح سے اسکے سینے سے لگی روتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“جانم کس نے کہا کہ تُم بری ہو۔۔؟؟
اے بی اسکی کمر کو سب سہلاتے ہوئے نرم لہجے میں کہنے لگا۔۔
“کسی نے نہیں میری بے یقینی نے کہا آج جو کچھ بھی ہوا وہ ٹھیک نہیں ہوا مجھے اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا آپ کے ساتھ کنگ بلکل بھی نہیں آپ میری محبت ہے تو پھر میں نے کیسے اپنے ہی محبت پر یقین نہیں کیا۔۔!!
سر اٹھا کے اُسے سرخ روئی روئی سی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔۔
“جانم تمہیں پتہ ہے اس وقت تُمہاری بے یقینی نے نہیں بلکہ اِس وقت تمہاری اِن خوبصورت آنکھوں میں آنسوؤں دیکھ کر میں مر رہا ہوں۔۔!!
اسکے آنسوؤں کو اپنی پوروں سے چن کر وہ اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو حور اسکی بات پر جلدی سے اپنی ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھوں کو صاف کرنے لگی۔۔
“اب میں کبھی بھی آپ کے سامنے نہیں روؤ گی۔۔!!
وہ یکدم سے مسکرا کر بولی تو اے بی یہ دھوپ اور چھاؤں والا خوبصورت منظر دیکھ کر مہبوت رہ گیا اچانک سے آگے بڑھا اور اسکے چہرے کو پکڑ کر اُسے دیکھتے ہوئے وہ اسکے لبوں پہ اپنے لب الجھا کر اُسے شرمانے پر مجبور کرنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“آپکی چائے۔۔!!
رعابہ اُسکی جانب دیکھتی مسکرا کر بولی تو اذان شاہ نے ہاتھ آگے بڑھا کر کپ اسکے ہاتھوں سے لیا اور اسے مسکرا کر دیکھنے لگا ۔
“آپ اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں۔۔!!
رعابہ اسکی نظروں کو اپنے اوپر دیکھ کر سٹپٹا کر بولی۔۔
“اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں اور ویسے ابھی اِس پر عمران خان نے ٹیکس نہیں لگایا اسی لیے موقعے سے فائدہ اٹھا رہا ہو پھر پتہ نہیں کب اس پر بھی خان صاحب پابندی لگانے کی گستاخی کر لیں۔۔!!
وہ شریر لہجے میں کہتا اسے کنفیوژ کرنے لگا۔۔
“اذان آپ بھی نہ۔۔!!
وہ خفگی سے اُسے دیکھتی کہنے لگی۔۔
“جنگلی بلی میں بھی نہ کیا۔۔!!
وہ چائے کا کپ اپنے لبوں کی جانب لے جاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“کچھ نہیں وہ باہر شاید دروازہ کوئی بجا رہا ہے۔۔!!
رعابہ نے چڑ کر کہا تو وہ اسکے چڑنے پر مسکرا کر چائے پینے لگا اور رعابہ دروازے کی جانب بڑھی اور دروازہ کھول کر باہر کھڑے ایک پولیس اہلکار کو دیکھ کر اذان شاہ کی جانب دیکھنے لگی جو سامنے صوفے پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔۔
“بی بی یہ ریحام شاہ کا گھر ہے۔۔؟؟
اہلکار نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔
“جی لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔!!
رعابہ تعجب سے اہلکار کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“انکا کل رات ایک لڑکے کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور وہ موقع پر ہلاک ہوگئی ہے یہ انکی چیزیں دینے اور آپ سب کو انفارم کرنے آیا تھا۔۔!!
اہلکار کی بات پر وہ زور سے چیخی تو باہر سے سام اور شام آ رہے تھے اہلکار کی بات پر وہیں ساکت رہ گئے جبکہ اندر اذان شاہ رعابہ کی چیخ سن کر وہاں آیا تھا اہلکار کو تعجب سے دیکھنے لگا جو اسے ریحام کی چیزیں تھما کر اسے ہاسپٹل کا پتہ بتا کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
“یہ کیا ہوگیا اذان کل صبح تو وہ ہمارے ساتھ تھی۔۔!!
رعابہ بری طرح سے روتی ہوئی بولی تو اذان نے اسے اپنے سینے سے لگا کر اسے لیے اندر کی جانب بڑھا اور ان دونوں کے پیچھے سام اور شام بڑھے۔۔
🔥🔥🔥🔥
“اسامہ کام ہوگیا۔۔؟؟
ارحام انصاری جب پولیس اسٹیشن کے اندر داخل ہوا تو رشید آصف لوگوں نے اسے دیکھا تو جلدی سے سلوٹ اسے کرتے ہوئے اپنی اپنی ٹیبل کی جانب بڑھنے لگے۔۔
وہ سر سے انہیں اشارہ کرتا اپنے روم کی جانب بڑھا اور اسامہ کو اپنے روم میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا۔
“یس سر اور ان دونوں کو بھی صبح سویرے باہر نکال دیا تھا۔۔!!
اسامہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“گڈ اب تُم جا کر مجھے اس کیس کی فائل لا کر دو جس کے بارے میں تم کل کہہ رہے تھے۔۔!!
وہ اب سنجیدگی سے اس کیس کی فائل کے متعلق پوچھنے لگا جو پنجاب کے ایک پسماندہ علاقے کی لڑکی کی ریپ کیس کی تھی جس پر بہت سے آفیسر نے اس کیس پر کام کیا تھا لیکن ان وڈیروں کے ڈر وجہ سے وہ سبھی یہاں سے چپ چاپ بھاگ گئے تھے۔۔
“سر وہ لوگ بہت خطرناک ہے آپ اس کیس کو بھول جائے ورنہ وہ لوگ آپکا جینا حرام کر دے گے۔۔!!
اسامہ نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔
“اسامہ وہ لوگ شاید ارحام انصاری کو نہیں جانتے ہیں اب انکا جینا حرام میں کروں گا بہت کھیل لیا ان لوگوں نے بے قصور لوگوں کے ساتھ اب اسکواڈ گیم میں ان کے ساتھ کھیلوں گا۔۔!!
وہ پرسرار لہجے میں کہتا اسامہ کو خوفزدہ کرنے لگا۔۔
“لیکن پہلے تو اپنے فیملی دشمن کو تو سبق سیکھاؤ بہت تڑپایا تھا اس نے مجھے اب اس کی باری گیم ون تو کھیل لیا اب گیم ٹو اس کے لیے بہت جلد ریڈی کروں گا۔۔!!
اب کے اسکے لہجے میں اذان شاہ کے لیے سختی آگئی تھی اور وہ سرخ نظروں سے اسامہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“پتہ چل گیا بھاٹیا جی اُس شخص کے بارے میں جسے اپنی زندگی پیاری نہیں ہے۔۔!!
اے بی اس وقت بھاٹیا کے ساتھ ترکی کے ایک مشہور ریسٹورنٹ میں بیٹھا اس سے پوچھ رہا تھا۔۔
“سر مجھے لگتا ہے اس دن آپ نے اس ہمایوں ملک کو دھمکی دیا تھا ہو سکتا یہ سب کچھ اسی کا کام ہو۔۔!!
بھاٹیا نے اس کے سپاٹ خوبرو چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔
بھاٹیا جی اگر یہ اُس نے کیا ہے تو اب اسے اے بی سیدھا جہنم میں بھیجا گا۔۔!!
اے بی نے سرد لہجے میں کہا۔۔
“ایک کام کرو اس پر نظر رکھو اور ہاں یہ کام پاکستان جا کر تُم کرو گے سب پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کو ہمایوں ملک کو کام دینے کا کہو گے تاکہ وہ اس چیز میں اتنا مصروف ہو کہ اسے پتہ نہ چلے کہ اے بی اس پر نظر رکھ رہا ہے۔۔!!
سگریٹ سلگا کر وہ آگے جھکتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔
“اوکے سر۔۔!!
بھاٹیا نے سر جھکا کر کہا۔۔
“بھاٹیا جی یہ اپنا تربوز جیسے سر کو کبھی بھی میرے سامنے مت جھکاؤ بیکاز میں نے کبھی بھی تُمہیں اپنا غلام نہیں سمجھا،اگر سمجھا ہے تو تمہیں میں نے اپنا بڑا بھائی سمجھا ہے۔۔!
اے بی سنجیدگی میں بھی اسے ٹوکنے سے باز نہ آیا وہ ہمیشہ بھاٹیا کے اس طرح سر جھکانے پر چڑتا تھا اور وہ اسے روکتا بھی تھا لیکن بھاٹیا تھا کہ اس کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسری سے نکالتا تھا۔۔
“سر میں کیا کرو آپ کے وہ سبھی احسان میں یاد کرتا ہو تو میرا سر خودبخود آپکے سامنے جھکتا چلا جاتا ہے۔۔!!
بھاٹیا نے بے سی سے کہا۔۔
“بھاٹیا جی وہ میرا احسان نہیں وہ رحم تھا جو مجھے تمہیں سڑک پر بے روزگار پھرتے ہوئے دیکھ کر تم پر آیا تھا۔۔!!
اے بی نے بے پروائی سے کہا وہ ایسا ہی تھا کبھی بھی نا خود کسی کا احسان لینا پسند کرتا تھا اور نہ کسی پر احسان۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
“کون ہو سکتا ہے مسٹر اے بی کے پک اس طرح ساری میڈیا کو دینے والا اور کون ہے جو اپنی موت کو بلا رہا ہے آخر وہ کون ہوسکتا ہے۔۔؟؟
ٹی وی کے ہر چینلز پر صرف اے بی کے بارے میں باتیں ہو رہی تھی جسے دیکھ کر وہ شخص غصے سے سامنے صوفے پر بیٹھا اپنے اندر وہ حرام شے انڈیل رہا تھا کہ تبھی اپنے سامنے ایک بے باک لڑکی کو دیکھ کر وہ اٹھا اور آگے چل کر اسکے مقابل کھڑے ہو کر اُسے گردن سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا شدت سے اسکے ہونٹوں پہ جھکا اور اپنا سارا غصہ اس لڑکی پر اپنی وحشی لمس سے نکالنے لگا۔۔
“نو نو سر۔۔۔!!!
وہ لڑکی اسکی شدتوں سے بری طرح سے مچلتی اُسے خود سے دور کرنے لگی لیکن وہ وحشت بھری نظر اُس پر ڈالتا اُسے پیچھے بیڈ کی جانب دھکا دے کر اپنی شرٹ اتار کر نیچے پھینکتے ہوئے وہ بیڈ کی جانب بڑھا اور اس کے اوپر جھک کر اُسکی صراحی دار گردن کو اپنے دانتوں سے کاٹنے لگا۔۔
“پلیز پیچھے ہو جاؤ مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔!!
لڑکی اُسکی وحشی گرفت میں بری طرح سے مچلتی ہوئی کانپ کر بولی۔۔
“یہ سزا ہے تمہارے لیے مس کیٹی جو تُمہیں چپ چاپ سہنا پڑے گا کیا کہا تھا اُس دن کے کام اگر تُم نے اچھے سے کیا تو میں تُمہیں جانے دونگا اگر تُم نے کچھ گڑبڑ کیا تو تمہیں اس گھر سے زندہ نہیں مردہ حالت میں بھیجوں گا۔۔!!
وہ وحشت بھری نظریں اُسکے نڈھال چہرے پر ڈال کر بولا۔۔
“سر ممم۔۔میں نے تو کام ایمانداری سے کیا تھا پھر گڑبڑ کیسی۔۔؟؟
وہ بری طرح سے کھانستی ہوئی بولی۔۔
“کام ایمانداری سے نہیں مس کیٹی بے ایمانی سے کیا ہے اور تُم نے مجھے دھوکا دیا ہے میں نے تُمہیں اُس اے بی کے پاس جا کر اسے نشہ آوار دوائی دینے کے بعد اُسے اپنے روم میں لے جا کر اسکے ساتھ تصویریں کھینچنے کے لیے کہا تھا ناکہ اسکی بیوی کی تصویر کو ایڈٹ کر کے اپنی یہ خوبصورت چہرہ لگانے کا کہا تھا۔۔!!
وہ اسکی گردن کو شدت سے دبوچ کر غرایا تو کیٹی بری طرح سے اسکی مضبوط گرفت میں مچلنے لگی اور خود کو بے بسی سے چھڑانے لگی۔۔
“اے بی اب دوسرا جال تمہارے لیے تیار کروں گا ویٹ اینڈ واچ۔۔!!
لڑکی کو چھوڑ کر وہ سامنے ٹی وی کی اسکرین پر نظر آتے اے بی کی تصویر کو دیکھتا نفرت سے کہنے لگا۔۔