117K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

“بہرام شاہ یہ سب کیا ہے۔؟؟
اے بی جو بیڈ پر بلانکٹ اوڑھے پورے بیڈ پر پھیل کہ سویا ہوا تھا وہ اپنے اوپر سے بلانکٹ کھینچنے پر سخت غصے کی حالت میں اٹھا اور سامنے بیڈ سائیڈ پر رکھا اپنا سیل اٹھا کر ابھی وہ اُس شخص پر پھینکنے ہی والا تھا کہ شازم شاه کی غصیلی آواز سن کر کمینگی سے مسکرا کر اُسنے بلانکٹ دوباره خود پر اوڑھا اور سامنے کھڑے شازم کو دیکھنے لگا۔جو اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔
“کیسے آنا ہوا سویٹ سے لو گرو اپنے اِس کمینے + بدمعاش بیٹے کے اِس عالیشان محل میں اور یہ کیا آپ تو کھڑے ہے۔یہ جو ڈاکٹرز ٹی وی شوز میں بار بار اپنا گلا پھاڑ پھاڑ کر کہتے ہے کہ اِس عمر میں بڈھے لوگوں کا اتنی دیر کھڑے رہنا صحت کلیئے بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ تو پھر آپ اِسطرح کیوں کھڑے ہے بیٹھے نا اور اگر آپ میری موجودگی میں بیٹھنا پسند نہیں کر رہے ہیں تو میں یہاں سے چلا جاتا ہو۔”
اُسنے بلانکٹ اپنے اوپر سے ہٹایا اور بیڈروم کے بیچوں بیچ اچھالتے وہ خود بیڈ سے نیچے اترا اور بیڈ سائیڈ سے ایک سگریٹ کا پیکٹ اٹھا کر اُس میں سے ایک سگریٹ نکال کر اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے بولا۔شازم جو اُسے سخت تیور لئے گھور رہا تھا اُسے سگریٹ لبوں سے لگاتے دیکھ ناگواری سے بولا۔
“بہرام شاہ سخت افسوس ہورہا ہے۔کہ تُم میرے بیٹے ہو۔۔بہت امیدیں تھی مجھے تُم سے کہ ایک دن میرا بیٹا ضرور اپنے باپ کا نام روشن کریں گا۔لیکن یہ سب دیکھ کر کبھی کبھی مجھے تّم سے ہر تعلق توڑنے کا دل کرتا ہے۔لیکن تُمہاری ماں کا سوچ کر میں خاموش ہو جاتا ہوں۔کہ وہ عورت اپنے بیٹے سے بہت زیادہ پیار کرتی ہے۔لیکن اُسکا بیٹا تو صرف ایک چھوٹی سی بات کو لے کر اپنا سب سے بڑا رشتہ توڑنے پر تلا ہوا ہے۔”
شازم نے سختی سے اُسکے منہ پر نیوز پیپر پھینک کہ سرد لہجے میں کہا۔تو اے بی جو ضبط سے کھڑا اُنکی باتیں سن رہا تھا۔اُسکی نظر جب نیوز پیپر پر اپنی اور حور کی تصویر کے نیچے افئیر کے بارے میں لکھی نیوز پر پڑی تو وہ سخت غصے سے پیپر اپنے ہاتھ میں دبوچ کہ بھاٹیا کو آوازیں دینے لگا۔
“مسٹر سید شازم علی شاہ آپ کیلئے وہ باتیں تو چھوٹی ہوسکتی ہے۔لیکن میرے لئے نہیں میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ آپکی وجہ سے میں دس سال سے اپنے دو انمول رشتوں سے محروم ہوں۔صرف آپکی لاپروائی کی وجہ سے آج وہ دونوں ہمارے بیچ نہیں ہے۔پتہ نہیں وہ کہا ہونگے۔اور پتہ نہیں کس حال میں ہونگے۔”
وہ ضبط سے سرخ ہوتی نظریں اُن کے چہرے پر گاڑتے بولا۔تو شازم اُسکے لہجے میں اپنے دادا سید علی شاہ اور پر دادا سید وجاہت شاہ کے لئے پریشانی اور درد محسوس کر کےوہ خود بھی اپنے دل میں اُسکے دکھ کا جان کر درد محسوس کرنے لگا تھا۔آگے بڑھ کر وہ اُسے اپنے گلے سے لگانا چاہتا تھا لیکن اُسکی مخدوش حالت دیکھ کر وہ تیزی سے روم سے باہر نکلا۔
اور اے بی اُنکے خاموشی سے وہاں سے نکلتے ہی وہی تکلیف کے مارے نیچے بیٹھتا چلا گیا اور درد کے باعث اِس وقت وہ اپنی اور حور کے افئیر والی نیوز کو بھی فراموش کر گیاتھا
💕💕💕💕💕💕💕
“بھاٹیا اُسے اکیلا چھوڑو وہ اِس وقت سخت اسٹریس میں ہے۔تُم اُسے اِس وقت تنہا رہنے دو وہ خود ٹھیک ہو جائے گا۔میں جب تک اُسکی ماں کو یہاں لے کر آتا ہوں۔”
شازم اے بی کے روم سے نکل کر گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ بھاٹیا کو اُسکے روم کی جانب تیزی سے بڑھتے دیکھ وہ اُسے وہی روکتے ہوئے بولا۔
“بٹ شاہ سر اے بی سر مجھے بلا رہے تھے۔اگر میں نہیں گیا تو وہ غصہ کرے گے۔؟؟
بھاٹیا اے بی کے غصے کا سوچ کر بری طرح سے جھرجھری لیتے ہوئے بولا۔تو شازم اُسکی جانب بڑھا اور اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“ریلیکس وہ تُمہیں کچھ نہیں کہے گا کیونکہ جب اپنی مما جانی کو دیکھے گا نا تو وہ سب بھول جائے گا تُم صرف اُسے وائن کو ہاتھ لگانے مت دینا ورنہ اُسکی ماں نے اُسے نشے کی حالت میں دیکھا تو وہ دکھی ہو جائے گی اپنے بیٹے کو اِس حالت میں دیکھ کر یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے۔اگر میں نے اُسے وقت دیا ہوتا نہ تو آج وہ خود کو اِس طرح تنہا محسوس نہ کرتا۔”
شازم اے بی کی حالت کا زمہ دار خود کو ٹھہرا کر بھاٹیا کو دیکھتے ہوئے بولا۔تو بھاٹیا نے اُنکی بات پر اِنہیں تعجب سے دیکھا۔
“اچھا اب میں چلتا ہوں۔تُم میرے بیٹے کا خیال رکھنا کہ وہ خود کو نقصان نہ پہنچا دے تب تک میں شاہ ولا سے اُسکی مما جانی کو لے کر آتا ہوں۔”
وہ اُسکے پیٹھ پر تھپکی دیتے ہوئے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا تو بھاٹیا نے اُنہیں دیکھا پھر اے بی کے روم کی جانب جہاں اِس وقت مکمل خاموشی چاہی ہوئی تھی۔اور وہ اِس خاموشی کو محسوس کرکے گھبراہٹ کے مارے آگے بڑھا اور روم کا دروازہ کھول کر اندر جھانکنے لگا لیکن وہ اپنے اے بی سر کو وہاں نا پاکر پریشانی سے روم کے اندر تیزی سے داخل ہو کر اُسے آوازیں دینے لگا۔
“اے بی سر کیا آپ اندر ہے۔؟؟
بھاٹیا واش روم کے دروازے کو نوک کرتے ہوئے بولا۔جب اندر سے اے بی کی آواز نہ آئی تو وہ دروازہ کھول کر واش روم کے اندر دیکھنے لگا۔تو وہاں کسی کو نا پاکر اُسنے واشروم کا دروازہ بند کیا اور اے بی کے جہازی سائز بیڈ کی جانب بڑھا
شاید بیڈ سائیڈ ٹیبل پر اُسے کچھ ملتا۔اور واقعی اُسے وہاں ایک سفید کاغذ رکھا ہوا ملا جسے اٹھا کر روم سے باہر نکلا۔تاکہ وہ اُس سفید لفافے کو شازم تک پہنچا سکے۔
💕💕💕💕💕💕💕
“مسٹر شازم علی شاہ مجھے ڈھونڈنے کی کوشش ہرگز مت کرنا۔کیونکہ میں یہاں سے بہت دور جا رہا ہو۔کل رات جو میں نے مماجانی کو وعدہ کیا تھا نا کہ میں بہت جلد اپنے اور آپ کے دادا کو ڈھونڈ کر اِنہیں واپس شاہ ولا لے کر آؤں گا۔تو مسٹر شازم اب میں اِس وقت کہا جا رہا ہو۔یہ میں نے مما جانی سے بھی ذکر نہیں کیا ہے۔اِسی لئے آپ اُنکو یہ میرا خط دکھا کر پریشان مت کریں۔”
شازم اے بی کی خوبصورت ہینڈ رائٹنگ کو نم آنکھوں سے چھوتے ہوئے سامنے صوفے پر بیٹھی دلکش کو دیکھنے لگا۔۔ جو اے بی کے روم میں بیٹھی اُسکی ایک ایک چیز کو چھو کر اُسے محسوس کر رہی تھیں۔
“شازم بہرام شاہ کا کچھ پتہ چلا اور اّس خط میں کیا لکھا ہے کیا میرا بیٹا تو ٹھیک ہے نہ وہ اِس وقت کہا ہےاور یہ آپ اِسطرح خاموش کیوں کھڑے ہیں۔آپ کچھ کہتے کیوں نہیں بولے میرا بہرام شاہ کیسا ہے۔؟؟
دلکش اپنی ساڑھی کا پلو درست کرتی صوفے سے اٹھی اور چل کر اُسکے مقابل کھڑی ہو کر اُسے کندھوں سے تھام کے جنجھوڑ کر بولی۔تو شازم نے تیزی سے اپنا رخ دوسری جانب موڑتے ہوئے وہ سفید لفافہ جلدی سے اپنے جیب میں ڈالا اور پھر اپنے چہرے کے تاثرات سخت کرتے ہوئے کہنے لگا
“دل کہا جاسکتا ہے آپ کا لاڈلا بدتمیز بیٹا یہی کئی آوارہ گردیاں کر رہا ہوگا کسی بے چارے کی ہڈیاں توڑ رہا ہوگا یا پھر کسی کو سبق سیکھا رہا ہوگا۔اِس شہر میں اُس کمینے کے آتے ہی وبال آ چکا ہے یہ دیکھیں آپ کسکی بیٹی کو آج کل بدنام کرنے کا جاب آپلائی کیا ہے۔آپکے بگڑے بیٹے نے
لکھ کر رکھ لیں آپ کہ یہ ایک دن ضرور مجھے ہارٹ اٹیک دلا کر رہے گا۔”
شازم اے بی کے جہازی سائز بیڈ کی جانب بڑھا اور وہاں رکھے کل کے نیوز پیپر کو اٹھا کر دلکش کی طرف بڑھاتے ہوئے غصے سے بولا۔وہ غصہ صرف دلکش کی توجہ اے بی کے خط سے ہٹانے کے لئے کر رہا تھا۔
کیونکہ دلکش نے اے بی کا خط اگر پڑھا تو وہ اسکے بارے میں سوچ سوچ کرخود کو بیمار کر لیں گی۔
“شازم یہ ٹھیک نہیں ہے آپ جلدی سے کچھ کریں ورنہ میرا بیٹا اگر اِس بار ٹوٹ گیا نا تو ہم اُسے ہمیشہ کے لیے کھو دے گے۔”
دلکش نیوز پیپر میں اپنے بیٹے کو اُس لڑکی کو دیوانوں کی طرح تھکتے پاکر شازم کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔تو شازم نے ایک پرسکون سانس خارج کیا اور دلکش کو دیکھا جو اب مکمل نیوز پیپر کی جانب متوجہ تھیں۔
“دل اب میں کیا کر سکتا ہو۔آپ تو اپنے ضدی بیٹے کو اچھے سے جانتی ہے۔کہ وہ اگر کسی چیز کے پیچھے پڑ جائے نا تو وہ اُسے حاصل کرکے رہتا ہے۔اِس مرتبہ معاملہ کچھ مختلف ہے۔کیونکہ اِس بار وہ کوئی بےجان چیز کے پیچھے نہیں ایک جیتی جاگتی لڑکی کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔اور لڑکی بھی کسی معمولی بیگ گراؤنڈ سے تعلق نہیں رکھتی۔کیونکہ وہ دنیا کے موسٹ پاور فل بزنس ٹائیکون حنین بخت شاہ کی لاڈلی اور اکلوتی بیٹی ہے۔”
شازم اے بی کے بیڈ کے پیچھے لگے اُسکی خوبصورت اویزہ پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے بولا۔جو دلکش نے اُسے اُسکی برتھ ڈے پر دیا تھا۔
“شازم پھر بھی آپ کچھ کریں اور اُسے روکے ورنہ وہ اپنی دیوانگی میں اُس معصوم کے ساتھ زیادتی کر بیٹھے گا۔اور یہ میں ہرگز نہیں چاہتی کہ میرے بیٹے کی وجہ سے کسی معصوم کو تکلیف پہنچے۔”
دلکش بیڈ پر بیٹھ کر شازم سے بولی۔تو شازم اُسکی بات پر طنزیہ انداز میں مسکرانے لگا اور اُسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اُسکے دونوں گھنٹوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“دل پہلے کبھی وہ میری سنتا تھا جو اب سنے گا۔اور آپ تو اُسے مجھے روکنے کا کہ رہی ہیں۔جو کہ ناممکن ہے۔آپکا بیٹا ضدی اور پاگل ہے اب اُسے صرف خدا روک سکتا ہے۔میں آپ اور وہ بزنس ٹائیکون بھی نہیں۔کیونکہ وہ بدتمیز کے ساتھ ساتھ ایک کمینا اور بے غیرت انسان ہے کہا ہماری باتیں سنے گا وہ تو عشق میں اندھا ہو چکا ہے۔”
شازم دلکش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔تو دلکش کو اب ایک نئی فکر لاحق ہوگئی کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی غصیلی طبیعت کو اچھے سے جانتی تھی۔کہ وہ غصے کی وجہ سے کسی کو بھی نقصان پہنچا سکتا تھا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“کمانڈر ہم دونوں نے اِس تالاب سے آپ کے کہنے پر بنا ہاتھ لگائے مچلھیاں پکڑی ہے۔اور اب ہمیں اِنکا کیا کرنا ہے۔؟؟
ایجنٹ غازی اور ایجنٹ ایس آر دونوں تالاب کے اندر کھڑے اپنے منہ کی مدد سے موٹی اور تازی مچلھیاں پکڑے اور اپنا سر باہر نکالتے ہوئے مارخور کی جانب دیکھتے ہوئے ایک آواز میں بولے۔تو مارخور سنجیدگی سے اِنہیں باہر نکلنے کا اشاره کرتے خود تالاب کے کنارے کھڑے ہو کر اِنہیں باہر نکلتے ہوئے دیکھنے لگا۔
“ہممممم۔”
“It was a good effort, but it was too late”
“یاد رکھنا یہ سب کھانے کی چیزیں صرف جسم کو طاقت فراہم کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔اور ہم جو مشن کی وجہ سے کبھی جنگل تو کبھی پہاڑی علاقوں میں جاتے ہیں تو وہاں ہمیں ایسی چیزوں کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔جو کہ عام انسان کو کرنا نہیں پڑتا ہمیں جنگل میں خود شکار کرکے اپنی خوراک خود ڈھونڈا پڑتا ہے۔اور سخت بارش کی وجہ سے کبھی ہمیں جنگل میں کچے گوشت بھی نوش کرنے پڑ جاتے ہیں۔اِسی لئے میں ہمیشہ خود کو ہر فیز کیلئے پہلے سے ہی تیار کرتا ہوں۔اب تُم دونوں کا اگلا اور سب سے بڑا خطرناک امتحان وادی بولان کو سر کرنے کا ہے۔
سو بی ریڈی گائیز۔ “
مارخور ایجنٹ غازی اور ایجنٹ ایس آر کو ایک ساتھ پیچھے سرد تالاب میں دھکا دیتے سرد لہجے میں بولا۔تو وہ دونوں جو تالاب سے نکل کر سامنے جلتی آگ کو بے چارگی سے دیکھ رہے تھے۔اب کے اُسکے اگلے حکم‌ پر ایک دوسرے کو بے بسی سے دیکھتے سردی کی وجہ سے کانپتے وجود کو لئے تیزی سے اُسکے پیچھے بھاگنے لگے جو سامنے مضبوط چٹان کے اوپر بنا خوف کے بھاگ رہا تھا۔تینوں رات کے تین بچے اتنی زیادہ سردی کے باوجود اِس وقت بلوچستان کے ایک پہاڑ جسکا نام وادی بولان تھا کے اوپر بھاگ رہے تھے۔مارخور تو کسی ماہر ایتھلیٹ کی طرح بھاگ رہا تھا مگر اُن دونوں کی حالت بھاگنے کی وجہ سے سخت خراب ہو رہی تھی۔
“ایجنٹ غازی ائینڈ ایجنٹ آیس آر جب تک ہمارے حساب اِس چٹان کی مانند مضبوط نہیں ہونگے ہم اپنے دشمن کا سامنا بہادری سے نہیں کر سکے گے۔اور حساب کو مضبوط کرنے کلیئے سب سے اچھی جگہ یہ مضبوط پہاڑ ہے اگر ہم اِس پہاڑ کی بلندی پر چھرنے میں کامیاب ہوگئے نا تو اپنے دشمنوں کے سامنے بھی ہم بنا خوف و ڈر کے کھڑے ہونے میں کامیاب ہو جائے گے۔”
وہ اُنکی رفتار سست دیکھ کر تیزی سے پیچھے پلٹا اور اپنی نیلی آنکھیں اُنکے پسینے سے شرابو چہرے پر ڈال کہ بولا۔تو وہ اُسے رکتے دیکھ کر لمبی سانس خارج کرتے وہیں کھڑے ہوگئے لیکن بے رحم اور سخت جان کو دوباره بھاگتے دیکھ وہ دونوں روہانسے ہو کر اُسکے پیچھے تیزی سے بڑھیں۔
💕💕💕💕💕💕💕
“باگڑ بلے میں کہ رہی ہوں نا کہ مجھے تُم سے شدید قسم کی محبت ہے تو پھر تُم کیوں میرے ساتھ ایسے کر رہے ہو۔”
وہ غصے سے اپنا سرخ ستواں ناک رگڑتے ہوئے بولی۔تو اُسکی بات کب سے تعمل سے سنتے اذان شاہ کو اُس کے اوپر سخت غصہ آنے لگا جو کہ رات کے بارہ بجے اِسکے روم میں کھڑی اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی۔
“یہ تُم کیا بکواس کر رہی ہو اپنی عمر دیکھو اور میری ہمارا کوئی جوڑ نہیں بن سکتا اور تُم اپنی پڑھائی پر زیادہ توجہ دو نا کہ ایسی ایکٹیویٹیس پر اور ابکے تُم نے دوبارہ ایسی کوئی حرکت کی نا تو میں بھول جاؤ گا کہ تُم میری دوست سب سے اچھی ہو۔”
وہ اُسکے غصے سے سرخ ہوتے چہرے کی جانب بغور دیکھتے اُسے دھمکی دینے لگا۔تو وہ اُسکی دھمکی پر اپنی سرخ نیلی آنکھیں اوپر اٹھا کر اُسے تیز نظروں سے دیکھنے لگی۔
“مجھے پتہ ہے کہ آپ کسکی وجہ سے مجھ سے محبت نہیں کرتے اور میں یہ بھی اچھے سے جانتی ہوں کہ آپ کس سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔لیکن آپ بھی اچھے سے کان کھول کر سن لیں کہ میں یہ کبھی ہونے نہیں دو گی۔یا تو میں خود کو ختم کر دو گی یا پھر آپکی جان لے لوں گی۔”
وہ قدم اُسکی جانب بڑھا کر غصے سے اُسکے چوڑے سینے پر اپنا ہاتھ زور سے مارتی سخت لہجے میں بولی تھی۔جبکہ اذان شاہ اُس چھوٹی سی لڑکی کی دیوانگی دیکھ کر شاکڈ رہ گیا وہ تو اُسے ہمیشہ ایک لا ابالی لڑکی سمجھتا تھا لیکن آج وہ جنونی انداز میں اِسکے سامنے اپنی محبت کا اظہار کرتی وہ اُسے بلکل ایک دیوانی لگی تھی۔
“تو لڑکی تُم بھی کان کھول کر سن لو کہ میں اُس سے نکاح بہت جلد کروں گا۔بلکہ کل ہی میں بڑے پاپا سے کہ کر انکی راضہ مندی سے اُس سے نکاح کروں گا۔تُمہیں جو کرنا ہے جا کر کرلوں کیونکہ میں تُمہاری دھمکیوں سے ڈرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔”
وہ اُسکی سرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے چیلنج دیتے ہوئے بولا تھا۔تو اُسکے منہ سے نکاح کا سن کر اُسکی آنکھوں سے آنسوؤں گالوں پر بہنے لگے تھے۔اور وہ اُسے کسی اور کا سوچ کر اُسکے دل میں سخت درد سا اٹھنے لگا تھا۔
“ہاہاہا ہاہاہاہاہاہا۔!!
باگڑ بلے تُمہیں کیا لگا کہ میں یعنی رعابہ بلند عالم دی ماسٹر مائنڈ تُم سے محبت کروں گی۔نو نیور مجھے تو باہر سڑک کے کنارے بیٹھے فقیر سے تو محبت ہوسکتی ہے۔لیکن تُمہارے جیسے کھڑوس اور مغرور انسان سے ہرگز نہیں جسکو رومنٹک کا ر تک نہیں آتا اور مجھے ابھی سے تُمہاری حوری پر ترس آ رہا ہے کہ کس خشک انسان سے اُس کا واسطہ پڑ رہا ہے۔”
یکدم سے رعابہ زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے بولی۔تو اذان شاہ اُس نوٹنکی باز کو سخت غصے سے گھورتا وہ اُسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے روم سے باہر نکلا
“ڈارمہ کوئین اب تُم دو دن تک غلطی سے بھی میرے سامنے مت آنا ورنہ تُمہارے بالوں کا حشر نشر کر دوں گا۔ “
وہ اُسکے پونی ٹیل میں مقید لمبے اور ریشمی بالوں کو زور سے کھینچتا ہوا غصے سے بولا۔تو اُسکے بالوں کو زور سے کھینچنے کی وجہ سے رعابہ کی آنکھوں سے تکلیف کے مارے آنسو بہنے لگے تھے۔
“آہ۔باگڑ بلے تُم آخر خود کو سمجھتے کیا ہو۔اب تو میں تُمہارا پیچھا کبھی نہیں چھوڑو گی۔دیکھتی ہو کہ تُم اب کیسے حوری سے شادی کرتے ہوں۔”
وہ اپنی ٹھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اُسے دھمکی دینے لگی۔تو اذان شاہ اُسکی دھمکی پر زور سے قہقہہ لگانے لگا۔
“میری چھوٹی سی دوست تُم پہلے اپنی فکر کروکیونکہ میں بہت جلد تُمہیں یہاں سے بہت دور بھیجنے والا ہو تاکہ تُم جل ککڑی میری اور حوری کی شادی میں کوئی روکاوٹ پیدا نہ کر سکوں.”
اذان شاہ اپنا ہاتھ جہاز کی طرح اڑاتے ہوئے بولا تھا۔اور رعابہ اُسکے اِس طرح کرنے پر اپنے پیر زور سے پٹک کہ اُسکے مضبوط کندھوں پر چٹکی کاٹتے ہوئے تیزی سے وہاں سے بھاگی اور وہ اپنا کندھا پکڑ کر اُسے غصے سے بھاگتے ہوئے دیکھنے لگا۔
💕💕💕💕💕💕💕
“مائے لٹل بے بی تُم صرف میری ہو۔”
وہ صوفے کے ہتھے پر اپنے ہاتھ رکھے اپنی زندگی کو دیکھ رہا تھا جو آنکھیں بند کیے سو رہی تھی۔یکدم سے اُسے ایک شرارت سوجھی اور اُسنے سامنے ٹیبل پر رکھے سفید پھول کو اٹھایا اور اُسکے چہرے پر نرمی سے پھیرنے لگا۔اور وہ معصوم پری اپنے چہرے پر نرم چیز محسوس کر کے نیند میں ہی مسکرا اٹھی۔
“اِس معصومیت کا حقدار صرف میں ہو مائے پرنسز۔اور اِن لبوں کی مسکراہٹ صرف میرے لیے ہونی چاہیے۔اور تُمہاری ان آنکھوں میں چمک صرف میرے لیے آنی چاہیے۔اگر اِن آنکھوں میں،کبھی کسی اور کیلئے چمک پیدا ہوتے دیکھا نا میں نے تو بے بی میں اُس انسان کو زنده نہیں چھوڑو گا۔”
نرم پھنکڑیاں آنکھوں سے ہوتے نرم لبوں پر پھیرتا وہ شدت پسندی سے بولا۔جبکہ وہ معصوم پری اپنے چہرے پر بھیگی اور نرم چیز کو محسوس کرکے اپنے آپ میں سمٹنے لگی۔
“بے بی یہ دل جو صرف تُمہیں دیکھ کر ڈھرکتا ہے۔اِس شور کو میں تُمہیں حاصل کر کے پورے استحاق سے ضرور سناؤ گا۔اور اِس خوبصورت احساس کو میں بہت جلد تُم سے بیان کروں گا۔”
وہ اُسکے نازک ہاتھ بلانکٹ سے نکال کر اپنے چوڑے سینے پر رکھتے ہوئے بولا۔تو وہ اُسکے چھونے پر کسمسا کر اپنے نازک ہاتھ کھینچنے لگی۔وہ اُسکی حرکت پر مسکرا کہ سامنے ٹیبل پر جا کر بیٹھا اور اُسکی کلائی پہ اپنی گرفت اور مضبوط کرنے لگا۔
جبکہ وہ پری اپنی کلائی پر کسی کی گرم لمس محسوس کرتی اپنی آنکھیں جھٹکے سے کھولتے ہوئے سامنے ٹیبل پر آرام سے بیٹھے شخص کو ڈرتے ہوئے دیکھنے لگی۔جو مکمل اُسکے چہرے کو اپنی نظروں کی گرفت میں لیے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“پلیز آپ مجھ سے دور رہے ورنہ مم۔میں اپنے گھر والوں کو آوازیں دو گی۔وہ آپ کو نہیں چھوڑے گے۔”
صوفے پر اپنے دونوں پیر اوپر کرتی وہ خوف کے مارے اپنی کلائی روتے ہوئے اُس سے چھڑانے لگی۔اور ساتھ ہی وہ اُسے اپنے گھر والوں کا نام لے کر ڈرانے لگی۔
جبکہ وہ اب ٹیبل پر بیٹھا اُسکی کاروائی کو بڑے ہی غور سے دیکھ رہا تھا کہ اُسکی دھمکی پر وہ مسکرایا اور آگے کو جھک کہ اپنا دوسرا ہاتھ اُسنے آگے بڑھایا اور اُسکے دوسرے ہاتھ کو‌ اپنی آہنی گرفت میں لے کر اپنے لبوں سے لگا کر اُسے مسکراتی نظروں سے دیکھنے لگا۔جو کہ اُسکی بے باک حرکت پر شرم سے سرخ ہوتی اپنی آنکھیں نیچے جھکا گئیں تھی۔
“سنو وائٹ تُمہیں میرے سامنے بلکل بھی کسی اور کا ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا۔کیونکہ میں اِن لبوں پر صرف اپنا ذکر سننا پسند کرتا ہو۔مائے بے بی‌ گرل اب اگلی بار اگر تُم نے میرے سامنے کسی اور کا ذکر کیا نا تو میں اپنا لمس تُمہارے ہاتھوں پر نہیں بلکہ تُمہارے اِن خوبصورت لبوں پر چھوڑوں گا۔”
وہ اُسکی کلائی کو چھوڑ کر اپنا انگوٹھا آگے بڑھا کر اُسکے لبوں پہ پھیرتے ہوئے بے باکی سے بولا تھا۔تو وہ اپنے لبوں پر اُسکا لمس محسوس کرتی بری طرح سے کانپ اٹھی تھی۔
“Snow White, never do that.”
“تُمہارے اِن خوبصورت گلزار لبوں پر صرف میرا حق ہے۔اِن پر صرف میرا لمس ہونا چاہیے۔ تُمہارا بھی نہیں۔ تُمہارے وجود پہ تُمہارے نام پہ صرف اور صرف اےبی اپنا ملکیت چاہتا ہے۔۔تُمہارے وجود پر وہ کسی اور کی ملکیت کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ “
وہ اُسے لبوں کو بے دردی سے دانتوں سے کاٹتے دیکھ کر تیزی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے لبوں کو چھو کے غصے سے بولا۔تو حور بری طرح سے سہم کر پیچھے صوفے کی پشت سے جا کر لگی۔
جبکہ اے بی سخت غصے میں آکر اُسکے دونوں ہاتھوں کو صوفے کے ہتھے پر سختی سے رکھ کر خود اُسکے خوفزدہ چہرے پر جھکا اور اُسکے نرم ہونٹوں پر اُسنے اپنا ڈھکتا ہوا لمس چھوڑا۔اور پھر بےخودی کے عالم میں وہ اپنی سانسوں کو اُسکی سانسوں میں الجھانے لگا۔
“اے بی دی سپر اسٹار اپنے اسٹائل میں اپنی سنو وائٹ سے یہ آخری ملاقات ضرور یاد رکھیں گا۔اور بہت جلد دوبارہ پھر سے اُسی انداز میں ہماری ملاقات ہوگی۔اور دو سال بعد میں تُم سے تُمہارے اِن خوبصورت لبوں کی نرماہٹ سے اپنا ویلکم ضرور خوبصورت بناؤ گا۔”
وہ اُسکے نرم لبوں کو اپنے لمس کے قید سے آزاد کرتے مسکرا کر اپنے ہونٹوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے نرم لبوں کو اپنی آنکھوں سے چھو کر بے باکی سے بولا۔تو حور اپنے جلتے ہوئے لبوں پر تیزی سے ہاتھ رکھ کر وہ خود کو صوفے پہ رکھے بلانکٹ سے چھپانے لگی۔اور اے بی اِسکے بچکانہ حرکت پر مسکان لبوں پر سجائے اُسے دیکھنے لگا جو خود کو بلانکٹ میں چھپائے تر تر کانپ رہی تھی۔وہ آگے بڑھا اور اُسکے اوپر سے بلانکٹ کو کھینچ کر اُسکے کانپتے وجود کو آخری بار نظروں میں بھرتے ہوئے وہ اپنے لب اُسکے سر پہ رکھے کچھ دیر وہیں کھڑے اُسے محسوس کرنے لگا۔
اور پھر ایک خوبصورت ریپر میں لپٹا باکس سامنے ٹیبل پر رکھ کر وہ اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے روم کی بندکھڑکیوں کی جانب بڑھا۔
💕💕💕💕💕💕
“بھاٹیا جی میں نے جتنے بھی فلم سائن کیے ہیں آپ ان سبھی کو کینسل کروا دیں۔۔کیونکہ اب اے بی دو سال تک کوئی فلم نہیں کریں گا۔میں دو سال اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔”
کار ائیرپورٹ کی جانب تیزی سے بڑھ رہا تھا اور پیچھے اے بی پرسکون انداز میں بیٹھا اپنا فون کان سے لگائے بھاٹیا سے کہ رہا تھا جبکہ دوسری جانب بھاٹیا کو اے بی کی بات پر سخت شاک لگا کیونکہ وہ اپنے کرئیر کو داؤ پر لگانےکی بات کر رہا تھا۔
“بٹ سر اِسطرح تو آپ اپنے کیرئیر کو داؤ پر لگانے کی بات کر رہے ہیں۔کیونکہ یہاں تک پہنچنے میں ایک سپر اسٹار اے بی بننے میں آپ نے کتنا سٹریگل کیا تھا یہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔اور آپ ہے کہ اتنی جلدی پیچھے ہٹنا چاہ رہے ہیں۔”
وہ بھاٹیا کی باتیں تعمل سے سن رہا تھا کہ اُسکی سٹریگل والی بات پر وہ سخت لہجے میں بولنے لگا۔تو اُسکی آواز پر بھاٹیا خاموش ہوگیا۔
“بھاٹیا جی اگر اچھی صحت چاہتے ہو تو ہمیشہ اے بی کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ورنہ جب اے بی کا دماغ گھوم گیا نہ تو تُمہیں اِس دنیا سے گم کر دے گا۔اتنی جلدی فلمی دنیا کو میں خیر باد نہیں کروں گا۔لیکن ابھی میں صرف اپنی اصل زندگی کا ہیرو بننا چاہتا ہوں۔میں خود ایک فلم پروڈیوس کرنے جا رہا ہوں۔اور بھاٹیا جی آپ کو پتہ ہے اِس فلم کا پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ہیرو سب کچھ میں خود ہو۔صرف کچھ کردار الگ ہوگے۔جو میرے اشاروں پر ناچے گے۔اور ایک معصوم پری بھی ہوگی جو صرف میری ہوگی۔اور میں اُسکا بہرام شاہ دی پرفیکٹ مین۔”
وہ موبائل سیٹ پر رکھ کر اپنی آنکھوں میں سبز لینسز لگا کر بولا۔تو بھاٹیا کو اُسکی باتیں بلکل بھی سمجھ میں نہیں آئی تو وہ اُس سے پوچھنے لگا۔
“سر آپ پریس سے کیا کہے گے اور وہ مجھے لگتا ہے کہ وہ سب آپ کے فیصلے پر بلکل بھی چپ نہیں بیٹھیں گے۔شاید آپ جہاں جا رہے ہیں وہ لوگ وہاں آپکو دیکھ کر تنگ کرنے پہنچ جائے۔”
بھاٹیا کی بات پر اے بی کے گھنے مونچھوں تلے دبے عنابی ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آن ٹھہرا اور اُسنے سامنے مرر میں اپنے خوبرو چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے دائیں اور بائیں اپنے چہرے کو کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“بھاٹیا جی اب اے بی ایک نئے لُک کے ساتھ سب کے سامنے آئے گا۔ایسے لّک کے ساتھ جسے دیکھ کر کسی کو بھی مجھ پر شک نہیں ہوگا کیونکہ اب سے میں سب کے لئے سید بہرام شاہ جو ایک اچھا اور نیک انسان ہوگا نا کہ کمینا اے بی دی سپر اسٹار۔”
مرر میں اے بی کے لُک کو آخری اور مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا۔تو بھاٹیا کو جب اُسکی ساری باتیں اچھے سے سمجھ میں آئی تو وہ مسکرانے لگا کیونکہ اُسے پتہ تھا کہ اُسکا کمینا + بدمعاش اے بی سر اپنی کمینگی سے باز آنے والوں میں سے ہرگز نہیں ہے۔اُسنے پلان بھی بنایا اور اُسے بھنک تک پڑنے نہ دیا۔