Ishq E Junoon By Sumyia Baloch Readelle50186 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
“میں نے جب کل سعد انکل کو اذان تُمہارے انکار کا بتایا تو اُنہوں نے مجھے ایک ایسی سچائی بتائی جسے سن کر میں شاکڈ رہ گئی تھی اور اگر میں نے تُمہیں یہ سچائی بتا دی نہ تو تُم حور کہ سامنے کبھی اپنا سر اٹھا نہیں پاؤ گے۔”
رعابہ اپنے ہاتھ کی انگلیاں آپس میں پھنسائیں پریشانی سے سامنے صوفے پر بیٹھے اذان شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی جو ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے صوفے پر سکون سے بیٹھا اُسے دیکھ رہا تھا۔
“اور ایسی کونسی بات ہے جو میرے گھر والے مجھ سےچھپا رہے ہیں اور کیوں میں سچائی جان کر حور سے نظریں نہیں ملا پاؤ گا اپنا سر نہیں اٹھا سکوں گا۔”
وہ آگے جھکتا سنجیدگی سے بولا تو رعابہ پریشانی سے اُسے دیکھتی تیزی سے بولنے لگی اور وہ بغور اُسکے سرخ چہرے کو دیکھنے لگا
“کیونکہ اذان شاہ تُم حور سے شادی نہیں کر سکتے وہ۔”
رعابہ آگے الفاظ ادا کرتی اُس سے پہلے اذان شاہ غصے سے اٹھا اور زور سے اُسکے گال پر تھپڑ مار کر اُسے طیش میں آکر صوفے سے اٹھاتے ہوئے زور سے غرایا۔
“تُمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ الفاظ منہ سے نکالنے کی ہاں اور میں کیوں نہیں کر سکتا حور سے شادی بولو کیوں۔؟؟
وہ اُسے کندھوں سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑتے ہوئے سخت لہجے میں بولا جبکہ اُسکی آنکھوں کی پتلیوں پر غصے کے باعث سرخ ڈورے سے بن گئے تھے رعابہ اُسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر ڈر کے مارے کانپنے لگی اور تیزی سے بولی۔
“اذان شاہ حور آپکی سگی بہن ہے۔!!
رعابہ لٹے کی مانند اپنا سفید چہرہ اوپر اٹھا کر تیزی سے بولی تو اذان اُسکی بات پر پیچھے صوفے پر ڈھے سا گیا
“میں یہ بات آپ سے چھپانا چاہتی تھی تاکہ آپ شرمندگی محسوس نہ کریں اور حور کے سامنے اپنا سر جھکا کر نہیں بلکہ اٹھا کر چلے لیکن آپ کے اِس جنون اور غصے کو دیکھ کر میں ڈر گئی اِسی لئے میں آپ کو یہ سچائی بتا رہی ہوں تاکہ کل کو آپ حور کے ساتھ کچھ غلط نہ کر بیٹھے اپنی سگی بہن کے ساتھ۔”
تیزی سے آگے بڑھی اور نیچے بیٹھ کر اُسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولی وہ جو ساکت نظریں سامنے دیوار پر مرکوز کیے ہوئے تھا اپنی نظریں نیچے جھکا کر رعابہ کے ہاتھوں کو خالی نظروں سے دیکھنے لگا
“یہ نہیں ہوسکتا وہ میری سگی بہن کیسے ہو سکتی ہے مم میں اِس بات کو نہیں مانتا اور اگر یہ سچ ہے تو کیوں ڈیڈ نے اور بڑے پاپا نے مجھ سے یہ بات چھپایا آخر کیوں۔؟
وہ سر اوپر اٹھا کر ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر شدت سے چیختے ہوئے بولا تو رعابہ اُسکی آواز پر سہم کر پیچھے ہوئی اور اُسے دیکھنے لگی جو غصے سے اپنے جیب سے اپنا سیل نکال کر کان سے لگاتا سرخ چهره اوپر اٹھا کر دوسری جانب ہوتی بیل کو سننے لگا۔
💕💕💕💕💕💕
“عشوہ یہ گورا کارٹون کون ہے۔؟؟
شام نے سام کے کہنے پر عشوہ کو میسج بھیجا جو فوراً سے پیشتر دوسری جانب سے عشوہ نے ریسیو کرتے ہوئے اُسکے میسج کا جواب دیا جسے پڑھ کر شام مسکرانے لگا۔
“ایزو کا دوست ہے اور مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے سخت زہر لگتا ہے یہ انگریز گوریلا میرا دل چاہ رہا ہے کہ اچھے سے بے عزت کر کے اِسے یہاں سے چلتا کر دو اور یہ تُمہیں کیسے پتہ چلا کہ ہم اِس گورے کے ساتھ کھڑے ہیں۔؟
اُسکا میسج پڑھ کر وہ سام کی جانب دیکھنے لگا جو ایزل کے ساتھ کھڑے لڑکے کو دیکھ کم رہا تھا اور گھور زیادہ رہا تھا
“میں اور سام یہی مال پر موجود ہے تُم اگر اِس انگریز کی اولاد کو یہاں سے چلتا کرنا چاہتی ہو تو تُمہیں ہمارا ساتھ دینا ہوگا ورنہ تُم برداشت کرنا اِس سفید گوریلا کو ہم تو شاپنگ کر کے سیدھا گھر چلے جائے گے۔”
اُسے بلیک میل کرتے ہوئے وہ مسکرانے لگا تو دوسری جانب عشوہ نے جلدی سے میسج بھیجا۔تو شام کے لب مسکا اٹھے
“نہیں تُم بولو مجھے کیا کرنا ہوگا یہ گوریلا تو ایسے چپکنے کی کوشش کر رہا ہے ایزو سے جسے میں اُس سے ایزو کو یہاں سے لے جاؤ گی مجھے سخت غصہ آ رہا ہے اِس پر۔!!
شام نے نظر اُسکے چہرے پر مرکوز کر دی جہاں سخت غصے کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا وہ سام کو دیکھنے لگا جو ایزل کے کندھے پر رکھے اُس انگریز کے ہاتھ کو سخت غصے سے گھورے جا رہا تھا پھر موبائل کی اسکرین پر نظر ڈالتے ہوئے تیزی سے میسج ٹائپ کرنے لگا
“جلدی سے ایزل کو لے کر شاپنگ کرنے نکلو اِس گوریلے کو میں اور سام دیکھتے ہیں آج کے بعد یہ تُم لوگوں کے سامنے نہیں آئے گا ہم وہ حال کرے گے کہ یہ تُم لوگوں کے نام سے بھی ڈرے گا۔”
طنزیہ نظروں سے واسٹن کو دیکھتے ہوئے میسج عشوہ کے نمبر پر بھیج دیا اور پھر سام کو دیکھنے لگا جو واسٹن کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا
“برو اب آگے کیا کرنا ہے عشوہ ایزل کو شاپنگ کے لئے لیں گئی ہے۔؟
شام کی بات پر سام پرُسرار انداز میں مسکراتے ہوئے واسٹن کو دیکھتے ہوئے شام سے بولا
“شام برو بہت بڑا کرنا ہے لیکن وہ تُمہیں اِس گوریلے کے سامنے ہی پتہ چلے گا کہ میں کیا کرنے والا ہو اُسکے ساتھ بس تُمہیں میرا تعارف ایزل کے عاشق کے طور پر کرانا پڑے گا اور وہ بھی مرا ہوا جو مرنے کے بعد بھی ایزل کے آس پاس پاگلوں کی طرح بھٹک رہا ہے اور کسی کو ایزل کے ساتھ برداشت نہیں کرتا ہے اور اُس انسان کو مار دیتا ہے یا پھر پاگل کر دیتا ہے بس یہ کہنا ہے آگے کا کام میرا ہے۔”
شام کو دیکھتے ہوئے بولا اور سامنے چھوٹی سی اسٹور سے اپنے چہرے پر لگانے کے لیے پاؤڈر اور ایک بلیک مارکر لے کر پھر سے واسٹن کو خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا اور شام اُسکی شرارت سمجھ کر شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اُسکی مدد کرنے مال کے واش روم کی جانب بڑھا
💕💕💕💕💕💕💕💕
“ڈیڈ آپ کو کوئی اور بہانہ نہیں ملا تھا رعابہ کو بتانے کے لیے اور یہ کیا مذاق بنا کر رکھا ہے آپ نے میری زندگی کو آپ کیوں یہ سب کر رہے ہیں۔؟
اذان سعد کے کال پک کرتے ہی سیل کان سے لگا کر غصے سے بولا تو دوسری طرف سعد جو تعامل سے اُسکی بات سن رہا تھا وہ آرام سے کہنے لگا
“اذان بچے یہ سب مذاق نہیں ہے میں نے رعابہ بیٹی سے جو کہا تھا وہ سچ ہے حور تُمہاری سگی بہن ہے بیٹا مجھ سے بس یہ غلطی ہوئی کہ یہ سچائی میں نے تُم سے چھپایا اگر میں نے تُمہیں پہلے بتا دیا ہوتا تو آج بات یہاں تک نہ پہنچتا اور تُم اِسطرح مجھ سے سوال جواب نہ کرتے میں نے تو تُم لوگوں سے یہ بات اِس لئے چھپایا تاکہ حور کو اِس سچائی کا پتہ نہ چلے وہ سچائی جان کر اپ سیٹ ہوگی لیکن بات اتنی خراب ہوگی مجھے اندازہ نہیں تھا۔”
دوسری طرف سعد کی بات سن کر اذان شاہ نے دکھ سے اپنا سر صوفے کی پشت سے لگا کر ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں سختی سے بند کرتا اضطراب سے ایک ہاتھ کا مکا بنا کر اپنے گھٹنے پر زور سے مارنے لگا
“ڈیڈ آپ حوری کو نہیں جانتے اور نہ ہی جان سکے کیونکہ وہ ہم سب سے محبت کرتی ہے اور یہ سچائی جاننے کے بعد اُسکی محبت کم نہیں ہوگی بلکہ اور بڑھے گی وہ آج بھی بڑے پاپا کو بابا مانتی ہے اور یہ سچائی جاننے کے بعد بھی وہ اِنہیں اپنا بابا مانے گی کیونکہ وہ اُن سے اور حنیہ تائی سے بہت زیادہ محبت کرتی ہے۔”
سرخ آنکھیں کھول کر نم آواز میں بولا کیونکہ وہ جان گیا تھا کہ کیوں سعد نے یہ بات اُن سب بچوں سے چھپایا وہ شاید ڈرتے تھے کہ کہی یہ سچائی جاننے کے بعد حور شاہ بخت اور حنیہ سے وہ پہلی والی محبت نہ کر سکے جو اُن سے کرتی تھی۔
لیکن اذان شاہ جانتا تھا کہ وہ یہ سچائی جاننے کے بعد بھی اُسکی محبت میں کمی نہیں ہوگی کیونکہ وہ معصوم لڑکی محبت کرنا جانتی ہے نفرت کرنا نہیں۔
“ڈیڈ کیوں کیا آپ نے ایسا کیوں میری بہن کو اپنے بھائی کو دیا چلے اگر آپ نے محبت میں اپنے بڑے بھائی اور بھابھی کو اپنی بیٹی سونپ دیا کم از کم یہ سچائی مجھ کو تو بتا دیا ہوتا کم از کم میں یہ گناہ تو نہ کرتا اُس سے شادی کرنے کا نا سوچتا۔”
ضبط سے سرخ چہرہ لیے اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کو بہنے سے روک رہا تھا کہ اُن سے شکوہ کرتے وقت اُسکے آنکھوں سے ایک آنسوں گالوں سے پھسلا اور نیچے اُسکے گھٹنوں پر رکھے رعابہ کے ہاتھوں پر گرا تو رعابہ نے تکلیف سے اُسکے آنکھوں سے بہتے آنسوں کو دیکھا اور اُسکے قدموں سے اٹھ کر صوفے پر اُسکے بے حد نزدیک بیٹھی اور اپنے دوپٹے سے اُسکے آنسوؤں کو صاف کرنے لگی جو کہ اُسکی لمس پر اور تیزی سے بہنے لگے تھے۔
“بیٹا مانتا ہو کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی جو میں نے تُمہیں نہیں بتایا لیکن میں بھی کیا کرتا اُس وقت میں اپنی بہنوں جیسی بھابھی کی آنکھوں میں ،میں آنسو بلکل بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا اور پھر حور کے پیدا ہوتے میں نے اُسےاُنہیں سونپ دیا کیونکہ شادی کے ایک سال بعد بھی وہ اولاد سے محروم رہے تھے اور یہ غم سہتے ہوئےحنیہ بھابھی سخت اسٹریس لینے لگی تھی اور اُسیلئے میں نے اور رملہ نے اپنے دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے فیصلہ کر لیا تھا کہ جب ہمارا دوسرا بچہ پیدا ہوگا تو ہم اُسے اُنہیں دے گے۔”
سعد اُس وقت کو سوچ کر ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں کو سامنے سے آتی حنیہ پر ڈالتے ہوئے بولا جو شاید کچن سے باہر نکلی تھی اور اب اپنے اور شاہ بخت کے روم کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“اذان بچے ٹھیک ہے میں بعد میں تُمہیں کال کرتا ہوں ابھی مجھے پاکستان آنے کے لئے سب کے لیے ٹکٹ بھی تو کنفرم کرانا ہے ورنہ شاہ بھائی میری اوپر کی ٹکٹ کنفرم کروا دے گے۔”
وہ ماحول کی سوگواریت کو کم کرتے ہوئے مسکرا کر بولا تو اذان شاہ اُنکی بات پر سر ہلاتا فون سائیڈ پر رکھکر وہ اپنی سرخ نظروں سے رعابہ کو دیکھنے لگا جو اپنے دوپٹے کی مدد سے اُسکے آنسو پونچھ رہی تھی۔
“رعاب میں کچھ دیر تنہا رہنا چاہتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی خدا سے مانگنا چاہتا ہوں تاکہ نکاح کے بعد میں اپنے اندر تُمہارے سامنے سر اٹھانے کی ہمت تو پیدا کر سکوں اور تُم سے نظریں چرا کر تو بات نہ کر سکوں۔”
وہ اپنے دونوں ہاتھ نرمی سے اُسکے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے بولا تو رعابہ نم آنکھوں سے اپنا سر ہلاتی مسکرا کر بولی
“اور میں انتظار کروں گی اپنے باگڑ بلے کا اپنے اذان شاہ کا جو صرف رعابہ عالم کے لئے بنا ہے جسے رعابہ کبھی ٹوٹنے نہیں دے گی بکھرنے نہیں دے گی۔”
اُسکی بڑھی ہوئی شیو پر وہ نرمی سے ہاتھ پھیرتی شرارت سے بولی تو اُسکی بات پر اذان شاہ اپنے ہاتھ اُسکے گالوں پر رکھتے ہوئے کہنے لگا
“اور میں پوری کوشش کروں گا کہ تُمہارا باگڑ بلا تُمہارے پاس صرف تُمہارا بن کر لوٹے۔”
گالوں پر انگلی سے لکیر کھینچنا وہ اُسے دیکھنے لگا جو اُسکی بات پر اُسے مصنوعی غصے سے گھورتی اُسے کالر
سے پکڑ کر کہنے لگی۔
“کوشش نہیں مجھے اپنا باگڑ بلا چاہیے ورنہ اذان شاہ میں تُمہیں جان سے مار ڈالوں گی اگر تُم نے مجھے میرا باگڑ بلا مجھے واپس نہ کیا تو انڈرسٹینڈ۔”
وہ کالر سے پکڑ کر اُسے گھور رہی تھی اذان نے اُسکی بات پر اپنے دونوں ہاتھ اُسکے ہاتھ پر رکھتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ صرف اُسکا کا بن کر واپس لوٹے گا۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“تُمہارا نام واسٹن ہے ناں۔؟؟
شام ایزل اور عشوہ کے ہٹتے ہی واسٹن کے دائیں جانب کھڑا ہو کر سامنے لگے شرٹوں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا واسٹن جو اپنے لئے شرٹ دیکھ رہا تھا اپنے سامنے کھڑے اُس اجنبی لڑکے کو تعجب سے دیکھنے لگا جو شرٹ کو ادھر ادھر کر کے دیکھ رہا تھا
“ہاں میرا نام واسٹن ویلم ہے لیکن تُم کون ہو اور میرا نام کیسے جانتے ہو ہم تو پہلی بار مل رہے ہیں۔؟
واسٹن نے اُسے حیرت سے اپنی براؤن آنکھوں سے دیکھا اور اُس سے پوچھنے لگا تو شام نے یکدم سے روتی صورت بنا کر اُسے دیکھا اور دور لیڈیز بیگ دیکھتی ایزل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا
“وہ میری کزن ہے ایزل معاذ شاہ میرے چاچو کی بیٹی اور۔!!
ایزل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ آخر میں اپنی ناک زور سے رگڑتے ہوئے بولا تو واسٹن کو اُسکی حرکت پر زور سے ابکائی آنے لگی تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھتا وہ اُس سے بمشکل بولا
“تُم پلیز یہ ناک ڑگرنا بند کروں اور اپنے اِس اور سے بھی آگے بڑوں ورنہ میں یہاں الٹی کر دوں گا۔”
اُسکے اور سے آگے بڑھنے کا کہتا وہ بے زاری سے بولا کیونکہ شام اور تک آکر بری طرح سے اپنا ناک ڑگرنا شروع کرنے لگا تھا اُسے سبق سکھانے کے لئے اور گوروں کی اِسی کمزوریوں سے وہ دونوں بھائی فائدہ اٹھاتے تھے
“ایزل میرے بھائی کی منگیتر تھی اور محبت بھی۔”
واسٹن ایزل کے منگیتر کا سن کر ساکت کھڑا رہ گیا کیونکہ وہ آج رات کو ایزل کو پرپوز کرنے والا تھا اور یہ منگیتر کا سن کر شاکڈ میں چلا گیا تھا تو شام اُسے ساکت نظروں سے اپنی جانب تھکتے پاکر اُسے بری طرح سے جھنجھوڑتے ہوئے روہانسے انداز میں بولا۔
“اور میرا بھائی جو مجھ سے دو منٹ بڑا تھا وہ اپنی منگنی کے دوسرے دن ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہمیں چھوڑ کر چلا گیا لیکن اپنی ایزل کو وہ مرنے کے بعد بھی اکیلا چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔!!
کل ہمارے گھر کے سامنے ایک لڑکے نے ایزل کو چھوا تھا اور پھر اُسے بہت تنگ بھی کیا تھا پھر رات کو اُسنے چھت سے چھلانگ لگا کر بلڈنگ سے نیچے کھود کر اپنی جان دے دیا اور ٹھیک اُس لڑکے کے مرنے کے آدھے گھنٹے بعد مجھے میرا بھائی نظر آیا اور اُسنے مجھے کہا کے اُس لڑکے نے خودکشی نہیں کیا تھا بلکہ اُسے اُسنے مارا تھا کیونکہ اُسنے اُسکی ایزل کو ہاتھ لگایا تھا۔!!
وہ روتے ہوئے بولا تو واسٹن اُسکی بات پر خوفزدہ ہوکر اپنے اردگرد دیکھنے لگا تبھی اُسے شام کے پیچھے اُسی کی سیم کاربن کاپی والا ایک لڑکا نظر آیا فرق صرف اتنا تھا کہ اُسکا پورا چہرہ سفید تھا اور آنکھیں سیاہ تھیں
“واسٹن تُم نے بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے اُس لڑکے کی طرح میری ایزو کو ہاتھ لگایا تھا جسکو میں نے کل رات کو بلڈنگ سے دھکا دے کر مارا تھا اب واسٹن تمہاری باری لیکن تُمہیں میں اُس سے بھی بدتر موت دوں گا۔!!!
سام آواز بھاری کرتے ہوئے بولا تو واسٹن اُسکی آنکھوں میں خون دیکھ کر زوردار چیخ مارتا مال کے باہر بھاگا اور اُسے پاگلوں کی طرح مال سے بھاگتے ہوئے دیکھ کر سام اور شام زور سے قہقہہ لگانے لگے۔
اور اُنکا تماشا وہاں کھڑے بہت سے لوگ دیکھ رہے تھےگورے تو ناسمجھی سے اُنہیں قہقہہ لگاتے ہوئےدیکھ رہے تھےجبکہ پاکستانی اور انڈین انکی شرارت سمجھ کر اُن جڑواں لڑکوں کو ہنستے ہوئے دیکھ رہے تھے
“چل شامی اب اِس گوریلے کو ڈرانے خوشی میں ہم اپنے لئے ڈھیر ساری شاپنگ کرتے ہیں۔”
سام ہنستے ہوئے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے بولا تو شام تیزی سے آگے بڑھا جبکہ سام اُسکی تیزی دیکھ کر مسکرانے لگا۔
💕💕💕💕💕💕
“مس رعابہ عالم آپ لوگ اتنے دنوں کہاں غائب تھی اور یہ ریحام اور وہ اُسکی کیوٹی کیوں نظر نہیں آ رہی ہے۔”
رعابہ آج اپنے کچھ نوٹس جما کرانے یونی آئی تھی اور وہ نوٹس پکڑے اپنی کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی کہ ارحام انصاری کے راستے روکنے پر وہ اُسے غصے سے دیکھنے لگی اور پھر اُسکے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے اپنے غصے کو کنٹرول کرتی بولی۔
“آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ہماری مرضی ہم جب چاہیے آ سکتے ہیں یونی میں اور اب آپ میرا راستہ چھوڑے مجھے کلاس میں جانا ہے۔”
تیز لہجے میں کہہ کر وہ قدم کلاس کی جانب بڑھانے لگی تو ارحام نے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اُسے روکا
“شروع دن سے میں تُمہیں اور مس میزائیل کی کیوٹی کو بہن مانتا ہو اِسی لئے آپ لوگ جب مجھے یونی میں نظر نہیں آئی تو ٹیشن ہونے لگی کہ پتہ نہیں کیا ہوا ہے جو تم تینوں اتنے دنوں سے یونی نہیں آرہی ہوں۔”
وہ صرف ریحام کے بارے میں جاننا چاہتا تھا اپنے اور ریحام کے رشتے کی وجہ سے وہ سچ میں اُن دونوں کو اپنا بہن سمجھنے لگا تھا
“اگر آپ سچ میں ہم تینوں کو اپنی بہن مانتے ہیں تو میری ایک چھوٹی سی ہلیپ کر دے پلیز۔!!
رعابہ معصومیت سے اُسے دیکھتی بولی تو ارحام اُسکی شکل دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا
“ضرور بہنا اگر مجھ سے ہوسکا تو میں کروں گا بتائے آپکو کیا ہلیپ چاہیے اپنے بھائی سے۔”
وہ اُسکے آگے سر جھکا کر ایک ہاتھ سینے پر رکھتا ہوا بولا تو رعابہ اُسکی حرکت پر مسکرا کر اُسے دیکھنے لگی
“وہ میرا ری برو کے بھائی کے ساتھ نکاح ہے تو میں دو تین ہفتے تک یونی میں نہیں آ سکوں گی اور ری برو حور بھی نہیں آئے گی تو مجھے نوٹس وغیرہ چاہیے ہوگی تو کیا آپ وہ میرے گھر آ کر مجھے دیا کرے گے۔”
وہ اُسے امید بھری نظروں سے دیکھتی بولی تو ارحام اُسکی بات پر مسکرایا اور اپنا سر ہاں میں ہلانے لگا۔
“ضرور کیوں نہیں بہنا نوٹس کے ساتھ اسٹدی میں بھی میں آپکی ہلیپ کیا کروں گا آپ ٹینشن نہ لیں۔”
اُسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تو رعابہ اُسے تشکر بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔
💕💕💕💕💕💕
“نمرین آنٹی یہ تو رعابہ پر بہت اچھا لگے گا ویسے ماننا پڑے گا کہ آپکی چوائس بہت زبردست ہے اب تو میں آپ کو لے کر جاؤ گی کل اپنی اور ری برو کے لیے آپکی چوائس سے ڈریس لینے کے لئے۔”
حور خوشی سے رعابہ کے نکاح کے جوڑے کو دیکھتے ہوئے نمرین سے بولی جو رعابہ کے لیے وہی سے خرید کر لے کر آئی تھی۔
“ضرور کیوں نہیں بیٹا۔!!
نمرین نے مسکراتے ہوئے حور کے گالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تو حور اُنہیں گلے سے لگاتی ریحام سے کہنے لگی۔
“ری برو آپ ریڈی رہے کل ڈھولکی ہے نا تو آپ کو میں ایک خوبصورت لڑکی کی طرح دیکھنا چاہتی ہو اور آپ انکار بلکل بھی نہیں کرے گی ورنہ میں ناراض ہو جاؤ گی۔”
ری کے منہ کھولنے سے پہلے وہ خفگی سے ہاتھ اٹھا کر بولی تو ری اُسکی دھمکی پر مسکرا کر اُسے دیکھنے لگی جو نمرین آنٹی کو دیکھ رہی تھی
“آنٹی یہ اپنی دلہن صاحبہ کہا ہے کل سے ہمیں نظر ہی نہیں آ رہی ہے لگتا ہے شرم کے مارے روم سے نہیں نکلنا چاہتی ہے۔”
ریحام نے رعابہ کے بارے میں نمرین سے پوچھا تو وہ کپڑے سائیڈ پر رکھتے ہوئے بولی۔
“ریحام بچے وہ نکاح سے پہلے روم سے باہر نکلنا نہیں چاہتی ہے اسی لئے روم میں رہ کر اپنے سبھی کام کر رہی ہے یونی کے نوٹس وہ کیا نام ہاں ارحام اور ارسم نامی لڑکے سے منگواتی ہے بہت اچھے لڑکے ہیں میں بھی ملی ہو ان دونوں سے اور وہ رعابہ کو اپنی بہن مانتے ہیں ۔”وہ مسکراتے ہوئے بولی جبکہ ری ارحام کے نام پر سخت چڑتے ہوئے کہنے لگی
“آنٹی یہ دونوں تو رعابہ کے سب سے بڑے دشمن تھے اب ایسا کیا ہوا کہ وہ دشمن سے اُسے بھائی لگنے لگے۔میں ابھی پوچھ کر آتی ہو۔”
ریحام اپنی جگہ سے اٹھی اور غصے سے رعابہ کے روم کی جانب بڑھتے ہوئے بولی جبکہ حور اور نمرین آنٹی پریشانی سے اُسے دیکھنے لگی جو رعابہ کے روم کے سامنے کھڑی ڈور نوک کر رہی تھی۔
💕💕💕💕💕💕
“رعابہ میں نے سنا ہے آجکل تُمہاری اُس ارحام انصاری اور اُسکے دوستوں کے ساتھ بہت اچھی دوستی ہوگئی ہے۔”
ری غصے سے اُسکے روم میں داخل ہوتی رعابہ کو سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی تو رعابہ جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی اُسکی غصیلی آواز پر پلٹ کر اُسے دیکھنے لگی۔
“ری برو کل میں یونی گئی تھی تو وہی وہ مجھے ملے تھے اور آپکو پتہ ہے ہمارے دو دن یونی سے غائب ہونے کی وجہ سے ارحام بھائی بہت زیادہ ٹینشن ہوگئے تھے اور اُنہوں نے آپ کے بارے میں بھی مجھ سے پوچھا تو میں نے بتا دیا کہ وہ اپنے بھائی کی شادی کی وجہ سے دو چار ہفتے تک یونی نہیں آئے گی۔”
رعابہ اپنی نظریں اُس پر جماتے ہوئے بولی
“تو تُم سے اُسکی ٹینشن نہیں دیکھی گئیں اور تُم نے اُس بدتمیز کے آگے دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا وقوف لڑکی وہ کمینا بدمعاش اب یہاں ہمارے گھر تک صرف تمہاری وجہ سے پہنچ گیا ہے۔”
دانت کچکچا کر بولی تو رعابہ پریشانی سے آگے بڑھی اور دونوں ہاتھ اُسکے ہاتھوں پر رکھتی ہوئی بولی۔
“ری برو کیا میں نے غلط کیا ہے۔؟
وہ سر نیچے جھکا کر بولی تو ری اُسے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے بولی
“لڑکی بہت بڑی غلطی کہوں اُسے کیونکہ وہ شخص دوستی کے لائق نہیں ہے بلکہ دشمنی کے لائق ہے اب تُم اُس سے دور رہو گی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اور اُس بدمعاش کو میں خود اچھے سے سمجھاؤ گی۔”
وہ غصے سے اُسے کہتی باہر روم سے نکلی اور اپنے روم کی جانب بڑھی جبکہ رعابہ اُسکے غصے سے پریشان ہو کر اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔
💕💕💕💕💕💕
“آج اتنے دنوں بعد میرے یار نے مجھے کیسے کال کیا۔؟
اے بی اپنے شاندار بیڈ روم کی سلائیڈ ڈور کھول کر سامنے بالکنی میں کھڑا نیچے رات کی تاریخی میں ڈوبے سڑک کو دیکھتے ہوئے بولا جو اکا دکا گاڑیوں کے ہیڈ لائیٹس جلنے کی وجہ سے روشنی میں چمک کر گاڑیوں کے گزرتے ہی پھر سے اندھیرے میں ڈوب جاتا تھا
“شاہ مجھے آج آپ کی ضرورت ہے مجھ گناہگار کو آج آپکی سخت ضرورت ہے۔!!
اذان اُسے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر ڈھونڈتے ہوئے بولا کیونکہ وہ دونوں جب بھی اسکائپ پر بات کرتے تھے تب شاہ اپنے روم کی ساری لائٹس آف کرنے کے بعد اپنے روم کی بالکنی میں جا کر لیپ ٹاپ سامنے چھوٹے سے ٹیبل پر رکھتے ہوئے اُس سے بات کرتا تھا
“اذی تُم گناہگار نہیں ہو بلکہ تُم تو ایک نیک انسان ہو بھلا جو انسان میرے کہنے پر میرے باپ سے بدتمیزی سے پیش آنے کے بعد دو دن اِسی ٹینشن میں گزار دیں کہ کیسے وہ اُنہیں سوری کریں اور آگے میں نے ہی تو اُسے اِس ٹینشن سے نکالا کہ اُنکو سوچ کر مجھے سوری کہہ دو اور اب وہ انسان کہہ رہا ہے کہ وہ سب سے بڑا گناہگار ہے۔”
تبھی ٹیبل سے لیپ ٹاپ اٹھا کر وہ سلائیڈ ڈور کو کھولتا لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ روم میں داخل ہوا اور بیڈ کی جانب بڑھتے ہوئے بولا تو اذان شاہ اُسکی لڑکھڑاتی آواز سن کر لیپ ٹاپ کے اسکرین کو سخت نظروں سے گھورنے لگا اور اُسے مخاطب کرتے ہوئے سخت خفا ہو کر بولا۔
“شاہ آپ نے ڈرنک کیا ہے۔؟؟
سخت لہجے میں کہتا وہ لیپ ٹاپ کو گھورنے لگا جبکہ بیڈ پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر آنکھیں بند کرکے لیٹا ہوا تھا وہ اُسکی بات پر قہقہہ لگاتے ہوئے اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا لیپ ٹاپ کی جانب بڑھا جہاں اُسے اذان شاہ صاف نظر آ رہا تھا
“اذی میرے یار جگر مجھے شراب پینے سے بہت زیادہ راحت ملتا ہے پہلے تو میں اپنا ماضی بھلانے کیلئے پیتا تھا لیکن اب میں اپنی سنو وائٹ سے دوری کی وجہ سے پیتا ہوں۔!!
مجھے اپنے ماضی کی تکلیف سے زیادہ سنو وائٹ کی دوری نے شراب پینے پر مجبور کیا ہے اور اذی میرے یار تُمہیں پتہ ہے میں تُمہاری بہن سے جدا نہیں ہونا چاہتا میں اُسے کھونے سے ڈرتا ہو اور اگر میری بیوی نے اپنے باپ کے کہنے پر مجھ سے جدا ہونے کا فیصلہ کیا نہ تو میں مر جاؤں گا۔!!
وہ ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں اذان شاہ کے سرخ چہرے پر گاڑھتے ہوئے لڑکھڑاتی آواز میں بولا لیکن اذان شاہ اُس کی بات کو کہا سن رہا تھا وہ تو اُسکے بیوی لفظ پر ضبط سے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچ رہا تھا
“شاہ آپ اِسئلے اپنا چہرہ نہیں دکھاتے مجھے کہ آپ شرمسار ہے اپنے کئے پر اور آپ حور سے عشق کرتے ہیں تو پھر کیوں آپ نے یہ بات مجھ سے چھپائی۔؟
سخت لہجے میں کہتا وہ اسے دیکھنے لگا جو اب ایزی چئیر پر بیٹھا روم کی لائٹس آن کرتے ہوئے سر اوپر اٹھا کر چھت کو گھور رہا تھا۔
اُسکی آنکھیں شراب پینے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں تو ایک دن حور سے نہ ملنے کی وجہ سے اُسکے خوبرو چہرے پر بڑھتی ہوئی شیو اُسے مجنوں ظاہر کر رہی تھی۔اذان شاہ نے تکلیف سے اُسکی ابتر حالت کو دیکھا
جو بھی تھا وہ اُسکا سب سے اچھا دوست اچھا ساتھی تھا اُسنے سترہ سال کی عمر میں اُسے ڈرگز جیسی مہلک چیز سے دور کیا تھا تو بھلا وہ اب اُسے کیسے تکلیف میں دیکھ سکتا تھا اپنی تکیلف بھول کر اُسنے اُسے سخت نظروں سے دیکھا جو مجنوں بنا چھت کو گھور رہا تھا
“اب آپ اِسی طرح چھت کو گھورتے رہیں گے یا پھر مجھے اِس تکلیف سے باہر نکالیں گے۔؟؟
وہ اُسے بے چارگی سے دیکھتے ہوئے بولا جبکہ اُسکی حالت دیکھ کر اُسے ہنسی بھی آ رہی تھی اور غصہ بھی کیونکہ جب بھی وہ تکلیف میں ہوتا تو اپنی تکلیف دور کرنے کیلئے اُس کے پاس دوڑتا تھا اور پھر جب اُسے تکلیف میں دیکھتا تو اپنا تکلیف بھول کر اُسے دلاسا دینے بیٹھ جاتا تھا۔اور ابھی بھی یہی ہونے والا تھا۔
“ہہہہہ ہاں کیا تُم کچھ کہہ رہے تھے۔؟
وہ یکدم سے چونکا اور پھر اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو تاسف سے اُسے دیکھ رہا تھا
“ہاں شاہ میں تُمہیں اپنے نکاح کی انویٹیشن دے رہا تھا۔اور تُمہیں لازمی آنا ہوگا ورنہ میں تُمہیں لینے خود پہنچ جاؤ گا۔
اذان نے مسکراتے ہوئے کہا تو اے بی اُسکے نکاح کا سن کر خوشی سے اٹھا اور لڑکھڑاتے ہوئے لیپ ٹاپ کی جانب بڑھا
“اذی میرے جگر کب ہے نکاح تُمہارا اور بھلا میں کیوں نہیں آؤں گا میں تو ضرور آؤں گا اے بی کے یار کی شادی ہے اور اے بی بلکل بھی نا نہیں کرے گا بلکہ بھنگڑا ڈالے گا اور اِسی بہانے میں اپنی سنو وائٹ کو بھی جی بھر کر دیکھ لوں گا۔!!
اب ایک اور اذان شاہ کو زور دار جھکٹا دے کر اے بی شراب کی بوتل خالی کرتا اُسے دور اچال کہ لیپ ٹاپ کی اسکرین کو دیکھنے لگا
“ککک کیا شاہ اے بی دی سپر اسٹار بھی آپ ہے۔!! ہوں اب پتہ چلا مجھے شاہ کہ آپ اُس دن کیوں نہیں آئے تھے اپنی کوئین کے چھیرنے والے شخص کا حلیہ بگھاڑنے !!
اذان شاہ شاکڈ سے نکل کر بولا۔
“شششش.!!
اے بی اذان شاہ کی بات پر کمینگی سے مسکرانے لگا اور آنکھیں چھوٹی کرکے اپنی انگلی منہ پر رکھتے ہوئے اُسے خاموش کرواتے ہوئے کہنے لگا۔
“اذی ایسی بہت سے راز ہے جو تُمہیں آرام سے میں بتاؤ گا پہلے تت۔وہ ہچکی لے کر بولا۔ تم مجھے اپنی شادی پر تو آنے دو پھر میں وہاں بیٹھ کر آرام سے سب اگل دو نگا مطلب تمہارے سامنے اپنے سبھی راز۔!!
“اور تُم تھوڑی دیر پہلے کیوں اپنے آپ کو گناہگار کہہ رہے تھے۔؟؟
وہ ایک ہاتھ منہ پر رکھتا اور سوچنے والے انداز میں اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلی ٹھوڑی پر رکھتا اُسے دیکھتے ہوئے بولا
“میں ایک گناہگار انسان ہو شاه کیونکہ میں اپنی سگی بہن سے شادی کرنا چاہتا تھا اور اب مجھے پتہ چلا ہے کہ حور میری سگی بہن ہے تو میں اُسکے سامنے سر اٹھانے کے قابل بھی خود کو نہیں سمجھتا ہوں۔”
اذان شاہ نے شرمندگی سے اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا تو وہ جو ایزی چئیر کو ہلا رہا تھا اور اُسکی بات کو غور سے سن رہا تھا اچانک چئیر کو روکتا ایک زور دار قہقہہ مار کر اٹھا اور کہنے لگا۔اور پھر چئیر سے اٹھا اور بیڈ کی جانب بڑھا۔
“گناہگار انسان شکر کروں تُم اے بی کے ہاتھوں سے بچ گئے ورنہ اگر تُم میرے سالے نہ ہوتے تو تُم اِس وقت اپنے آفس میں اپنے سیکریٹری کو مردہ حالت میں ملتے۔!!
بیڈ پر لیٹ کر ہاتھ پھیلا کر وہ آنکھیں بند کرتا ہلکی آواز میں بولا تو اذان اُسے نشے کی وجہ سے آنکھیں بند کرتے ہوئے دیکھ کر پریشانی سے اُسے آوازیں دینے لگا لیکن وہ
بیڈ پر اب کروٹ بدل کر سامنے رکھے تکیے کو سینے سے
لگا کر کچھ بڑبڑانے لگا
“لگتا ہے نشے نے اپنا اثر کر دیا ہے لیکن شاہ ہمشیہ کی طرح آپ سے بات کر کے کچھ بهتر فیل کر رہا ہوں۔!!
بیڈ کی جانب دیکھتے ہوئے مسکرا کر وہ بولا اور لیپ ٹاپ بند کر کے اٹھا اور گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کرسی سے اٹھا اور بیڈ پر چل کر پہلی بار رعابہ کے بارے میں سوچنے لگا اور پھر کچھ سوچ کر وہ مسکراتے ہوئے سائیڈ پر رکھے لیمپ کو بند کر کے آنکھیں بند کرتے ہوئے سونے کی کوشش کرنے لگا۔
💕💕💕💕💕
