228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Last Episode

چار سال بعد
میں نے ہا مجھے نہیں کھانا تو نہیں کھانا پری نے کھانا پیچھے کرتے ہوئے ناراضگی سے منہ پھیر لیا ۔
بیٹا سالار ماموں نے کہا ہے نہ شام کو آ کر آپ کو لے جائیں گے ۔تو پھر اس ضد کا کیا مطلب ہے پلیز کھانا کھا لو ۔
منت کب سے اسے سمجھا رہی تھی اور ایک پری تھی جو اس کی بات مان ہی نہیں رہی تھی ۔
لیکن پھر شاید اس بار وہ بھی اپنی ماں کا موڈ سمجھ چکی تھی اسی لیے کھانا اپنی طرف گھسیٹا
میں تین دن رہوں گی ۔سکول سے چھٹیاں ہونےکا پری بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھی ۔
ابھی ان دونوں ماں بیٹی کی بحث چل ہی رہی تھی جب حاشر آیا ۔
مطلب مجھے تین دن اپنی پری کے بغیر رہنا پڑے گا نہیں بھائی یہ تو ممکن نہیں ہے حاشرنے اسے اٹھا کر اپنی گود میں رکھا ۔
پھر اچانک ہی پری کو احساس ہوا کہ اس کا باپ تو واقع اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
اوہو بابا میں آ جاؤں گی بس دودن رہوں گی پری نے اس بار اپنے رہنے کی لیمٹ کم کی تھی ۔
دودن حاشر نے معصومیت سے منہ بنایا تو پری ایک بار پھر سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی
میں آج شام کو سالار ماموں کے ساتھ جاوں گی صبح واپس آ جاؤں گی اپنے باپ پر ترس کھاتے ہوئے پری نے لیمٹ اور کم کی ۔
جاننا ضروری ہے کیا حاشر نے پھر سے منہ بنا کر پوچھا ۔
بابا آپ آپ زیادہ فری ہو رہے ہیں پری نے سے گھورتے ہوئے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے ۔
اچھا بابا نہیں ہوتے آپ کے بابا حاشر نے اس کے گالوں کو چومتے ہوئے کہا ۔
پری بھی خوشی سے اس کے سینے سے آ لگی ۔
سالار اکثر اس سے کہتا تھا کہ میری بیوی مجھ سے زیادہ تم سے پیار کرتی ہے اس بات کا بدلہ میں ضرور لوں گا ۔
اور سالار نے بدلہ لے ہی لیا تھا کیونکہ پری حاشر زیادہ سالار کو چاہتی تھی
وہ پری کو باہر کھیل میں مصروف کرکے اندر آیا میری شہزادی تو فری ہونے نہیں دیتی سوچ رہا ہوں تمہارے ساتھ ہی فری ہو جاؤں اس نے منت کو گھسیٹ کر اپنے قریب کیا تھا ۔
باز آجائیں ایک بیٹی کے باپ ہیں اور آپ منت کی بوڈوں والی روح فورا بولی تھی ۔
خدا کا واسطہ بیوی مشکل سے 5 سال کی بیٹی ہے ہماری اور تم ہو کہ بزرگوں والی باتیں کرتی ہو
سوچ رہا ہوں ایک پری ہو گئی اب کیوں نہ ایک جن کا انتظام کریں ۔حاشر نے اسے ذہ معنی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
میں ایک پری کو سنبھال سنبھال کے ہلکان ہوگئی ہوں اور اب انہیں جن بھی چاہیے ۔
منت کانوں کو ہاتھ لگاتے اندر جا چکی تھی جبکہ حاشر کا ارادہ جن والی بات پر عمل کرنے کا تھا
•••••••••••••••••••
آیت خدا کے لیے یہ پیرپودے بعد میں لگا لینا سنی کو سنبھالو ۔
پتا نہیں وہ اندر کیا کیا کر رہا ہے مہراج نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے آج سنڈے تھا
اور ایک بار پھر سے مہراج نے یہ کہنے کی غلطی کی تھی کہ تم سارا دن کرتی کیا ہو ۔۔۔۔۔۔؟
بس جو سارا دن آیت کرتی تھی آج وہ مہراج کر رہا تھا ۔
مجھے کوئی لینا دینا نہیں کہ سنی اندر کیا کر رہا ہے جاکر سنبھالے اسے آیت نے دوسرا گملا صاف کرتے ہوئے کہا
آیت مجھ سے غلطی ہوگئی یارپلیز میں سعدی کو میں پھر سنبھال لوں لیکن یہ تمہارا سنی مجھ سے نہیں سنبھلتا ۔
مہراج نے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑے تھے ۔
جس پر آیت کی ہنسی نکل گئی ۔
آپ اپنی باتوں کا کھا رہے ہیں جائیں اور سنبھالے اسے میں نہیں آنے والی آپ کو بھی پتہ چلے بچے سمبھالنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔
آیت منہ بناتی گملا اٹھا کر دوسری جگہ رکھ چکی تھی ۔
جب اندر سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی ۔
مہراج نے ایک نظر آیت کو دیکھا کہ اندر کی طرف دوڑ لگائی ۔
لیکن پھر اونچی اونچی آواز میں قہقے لگاتا باہر آگیا ۔
کیا ہوا آپ ایسے ہنس کیوں رہے ہیں بتائیں سچ سچ مہراج سنی نے میری کونسی چیز نقصان کی ہے مہراج کے ہنسنے کا انداز بتا رہا تھا کے اندر جو بھی نقصان ہوا ہے وہ آیت کا ہوا ہے مہراج کا نہیں ۔
جاؤ جا کر دیکھ لو تمہارے ڈریسنگ ٹیبل پر ایک بھی چیز نہیں ہے
مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا میرے بیٹے میں لڑکیوں والی روح ہے ماشاءاللہ اتنا خوبصورت میک اپ کیا ہے اپنا ۔
مہراج اونچی آواز میں قہقے لگا تا اسے بتا رہا تھا جبکہ اپنے کاسمیٹک کی چیزوں کی تباہی کا سن کر آیت فوراً اندر آ گئی تھی ۔
جہاں پہ اپنی ساری کوسمیٹک کی چیزیں زمین پر بکھری ہوئی اور اپنے بیٹے کی جن نما حالت دیکھ کر اس کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا لیکن مہراج کے ہوتے ہوئے اس کے شہزادوں کو کوئی کچھ کہہ کر دیکھائے ۔
ہائے میرا شہزادہ کتنا پیارا لگ رہا ہے مہراج نے آیت کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کیا اور اپنے شہزادے کی طرف آیا ۔
کتنی گندی حرکتیں کرتے ہو تم سنی یہ ساری چیزیں گرلز لگاتی ہیں ہم مرد ہی مرد سعدی مردوں والی غیرت نے یہ قبول نہ کیا کے سنی لڑکا ہوکر یہ سب استعمال کرے ۔
سنی بے ماں کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے کہ اس بات کو قبول کرنا چاہتا ہو کہ یہ ساری چیزیں لڑکوں کے لئے نہیں بلکہ لڑکیوں کے لئے ہیں ۔
جی آہیں شہزادہ سلیم صاحب آپ کا منہ دلوائوں آیت نے اپنی ساری چیزوں کا جنازہ ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے بیٹے کو گود میں اٹھایا اور اس کا منہ دلوانے واش روم لے کر گئی ۔
سعدی کا بیٹا تھا کیوٹ سا معصوم سا یہ سنی تو بالکل مہراج تھا پہلے اسے سعدی بھی مہراج ہی لگتا تھا لیکن اب اس سے احساس ہوا تھا کہ سنی کے آگے سعد مہراج کچھ بھی نہیں ۔
اس کی شرارتوں کا اپنا ہی لیول ہے
••••••••••••••••••
آرام سے زاؤ یار ابھی ابھی حنا کو اسپتال سے واپس لے کے آیا تھا اور اپنی بیٹی کو منافق اور رافع سے ملا رہا تھا ۔
حنا اور زاویار تو اولاد کی امید ہی چھوڑ چکے تھے لیکن شاید یہ رافع اور منافق کی دعاؤں کا اثر تھا کے آج وہ ایک بیٹی کی ماں باپ بن گئے تھے ۔
بچوں کی طرح ان دونوں کی خوشی کی بھی کوئی انتہا نہ تھی آج انکی دو نہیں بلکہ تین بچے تھے ۔
ہاں یہ بات الگ تھی کہ منافع اور رافع کی جگہ شاید ان کی بیٹی کبھی نہ لے پاتی کیونکہ یہ دونوں بچے ان کی زندگی کو جنت بنا گئے تھے
یہی دو تو تھے جنہوں نے انہیں ماں باپ کہا تھا ۔
اور اب وہ دونوں اس بات کو لے کر لڑ رہے تھے کہ وہ کس کی بہن ہے ۔
جبکہ حنا کی طبیعت ابھی ٹھیک نہیں ہوئی تھی ڈلیوری کی وجہ سے کافی کمزور ہوگئی تھی لیکن زاویاا اس کا بہت خیال رکھ رہا تھا اسے یقین تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہوجائے گی ۔
جب کہ ان کی بیٹی بالکل صحت یاب تھی
••••••••••••••••
کہاں کی تیاری ہے صبح صبح بیگم ۔اسدنے اٹھتے ہی دریا کو اپنی طرف کھینچا جبکہ ولی ابھی تک سو رہا تھا ۔
پالر جا رہی ہوں آپ گھر پہ ہی ہیں تو ولی کا خیال رکھیے گا ۔
دریا نے پلان بناتے ہوئے بتایا تو اسد نے گھور کر اسے دیکھا ۔
کیا فائدہ روز روز پالر جانے کا میں تو تعریف ہے نہیں کر پاتا میرے آنے سے پہلے ہی سو جاتی ہو
بیکار میں خرچے بھرا دیے ہیں تم نے وہ بھی بنا کسی مفاد کے ۔
پچھلے ایک ہفتے سے اسد لیٹ گھرآ رہا تھا جس کی وجہ سے دریا سو جاتی تھی ۔
اور اب اسد کو بھی اسی بات کی شکایت تھی جبکہ پہلے جب دریا اس کا انتظار کرتی تھی تو اسد کہتا تھا کہ تم سو جایا کرو میرے انتظار میں جاگی رہتی ہو ۔
میاں جی آج تو آپ کہیں نہیں جانے والے تھے تو پھر آج آپ کو میرے پالر کے خرچے پر بلکل اوبجیکشن نہیں ہونا چاہیے ۔
دریا نے مسکراتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھتے ہوئے کہا ۔وہ اظہار کے معاملے میں بے باک تھی اور اسد کو اس کی یہی بات بہت پسند تھی ۔
شادی کے بعد دریا اپنا بڑا سا گھر چھوڑ کر اس کے چھوٹے سے مکان میں آ گئی تھی ۔
اپنی دولت مند اور از آرائشوں سے بھری ہوئی زندگی اس نے چھوڑ دی تھی ۔
لیکن کبھی بھی پلٹ کر اسد سے اس بات کا زکرتک نا کیا تھا ۔
اور جب شادی کے ڈیڈھ سال بعد ولی ان کی زندگی میں شامل ہوا تو ان دونوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ۔
تو ہم کام کرتے ہیں نا آج تم جاؤ ہی نہیں سارا دن میرے ساتھ گزارو اسدنے مزید اسے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا ۔
ہاں ہم ولی کو لے کر کہیں باہر چلتے ہیں دریا نے فورا اپنا ارادہ کینسل کرتے ہوئے کہا ۔
میڈم ولی سے آج ابو جی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسے پارک لے کر جائیں گے اب داداپوتا کے بیچ میں بول کر میں تو بلکل ابو جی کی ڈانٹ نہیں کھاؤں گا ۔
وہ آنکھوں میں شرارت لئے بولا جیسے کہ وہ ساری پلاننگ پہلے ہی کر چکا تھا ۔
جب دروازہ بجا۔
میرا ولی شہزادہ جاگ گیا آ جا پتر چل آج ہم پارک چلیں گے ہارون صاحب یہ جانے بغیر ولی ابھی تک سو رہا ہے بول رہے تھے اور اپنے دادا کی آواز سنتے ہی ولی کی آنکھیں کھل گئیں ۔
ماما مجھے جلدی سے ریڈی کلے (کریں )میں اور دادو پاک (پارک) جائینگے ۔
دادو نے (مز) مجھ سے پرومس کیا ہے ۔ولی نیند سے اٹھ کر بیٹھ پر ناچنے لگا ۔
لیکن بیٹا ناشتہ تو کرلو دریا کو اس کے کھانے کی فکر ہو رہی تھی ۔
دریا بیٹا تم فکر مت کرو میں اسے راستے سے کچھ بھلا دوں گا ۔
بس اسے جلدی سے بھیجو آج میں نے اپنے ایک دوست کو اپنے پوتے سے ملوانا ہے ہارون صاحب اونچی آواز میں بولے وہ اکثر صبح واک پر جاتے تھے جہاں ان کے بہت سارے دوست بن چکے تھے کام وہ چھوڑ چکے تھے اب سب کچھ اسد ہی سنبھالتا تھا ۔
ان کی بات سن کر دریا فوراً سے ولی کو تیار کرنے لگی جبکہ اسد بیڈ پر لیٹے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
دریا کو یقین تھا کہ آج سارا دن اسی کے ساتھ گزارے گا اسی لیے اس نے اپنا پالر جانے والا کا پلان کل پر رکھ لیا تھا
•••••••••••••••••••
وہ ایک بہت ضروری رپورٹ چیک کر رہی تھی جب اس کا سر گوما اس سے پہلے کہ وہ گرتی کے ساتھ کھڑی ڈاکٹر نے اسے تھام لیا
ار یواوکے ڈاکٹر سیرت ۔ڈاکٹر تمنا نے پوچھا
ہاں میں ٹھیک ہوں یار پتہ نہیں کیوں صبح سے سر گھوم رہا ہے ۔اور طبیعت بھی تھوڑی بےزار محسوس ہو رہی ہے ۔
اوہو ڈاکٹر تمنا ذہ معنی انداز میں مسکرا ئی ۔
لگتا ہے آپ کے میاں کو جس گڈ نیوز کا وئٹ تھا وہی آنے والی ہے ڈاکٹر تمنا نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
تم بھی نہ بس کہیں بھی شروع ہو جایا کرو سیرت نے اسے ڈانٹا ۔
ارے شروع ہونے والی کونسی بات ہے ماشاءاللہ تم لوگوں کی شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں اب تو گڈ نیوز آ جانی چاہیے چلو میں چیک کرتی ہوں ڈاکٹر تمنا نے اس کی نا نا کواگنورکہتے ہوئے اس کا چیک اپ کیا ۔
میں نے کہا تھا نہ مبارک ہو اور جلدی سے اپنا فون اٹھاؤ اور اپنے میاں کو گڈ نیوز دو
بلکہ رہنے دو تمہارے میاں کا کیا ہے دن میں پانچ بار تمہاری شکل نہ دیکھیں تو نے سکون نہیں ملتا ابھی تھوڑی دیر میں آتے ہی ہوں گے ڈاکٹر تمنا نے مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا ۔
سچ تھا ہر گزرتے دن کے ساتھ سالار کی محبت اس کے لیے بھر رہی تھی ۔
ڈاکٹر تمنا اور ڈاکٹر آمنہ اکثر اس سے کہتی تھی کہ ہم نے سالار جیسا دیوانہ کہیں نہیں دیکھا
ڈاکٹر آمنہ اور ڈاکٹر تمنا کو شہر سے اسپیشلی اس ہوسپیٹل کے لیےگاؤں لایا گیا تھا سیرت نے سالار سے کہہ کر میڈیکل پاس کرتے ہی گاؤں میں ہسپتال کھلوایا جس پر سالار نے ہمیشہ کی طرح اس کا مکمل ساتھ دیا تھا ۔
اور اب وہ وہیں پر ہی کام کر رہی تھی جب کہ میڈیکل کی ڈگری ہاتھ میں آتے ہی وہ سب سے پہلے حاشر کے پاس گئی تھی ۔
اپنے خواب کو پورا ہوتا دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہوئی تھی کتنی دیر وہ اسے سینے سے لگائے کھڑا رہا ۔
اپنے بھائی کا خواب پورا کرنے پر وہ خود کتنی خوش تھی بے شک وہ دن اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت ترین دن تھا ۔
••••••••••••••••••
ڈاکٹر سیرت پلیز جلدی چلیں اس کے آفس میں پیشنٹ بہت کریٹیکل حالت میں ہے نرس بھاگتے ہوئے آئی اور اسے بتایا
سیرت فوراً اپنےآفس کی طرف بھاگ گئی تھی ۔
کمرا کھولتے ہی سالار کو اپنی چیئر پر بیٹھا دیکھا ۔
وہ پریشانی سے بھاگ کر اس کے قریب آئی تھی سالار کیا ہوا ہے آپ کو پھر سے چوٹ لگا لی آپ نے ۔۔کیوں کرتے ہیں آپ ایسا یہ آپ کا ہسپیٹل ہے سالار آپ کبھی بھی وہ مجھ سے ملنے سکتے ہیں ۔
میں نے منع کیا تھا نہ آپ کو اب آپ اپنے آپ کو کوئی تکلیف نہیں دیں گے وہ اس کے ہاتھ پیر ٹٹولتی تیزی سے بول رہی تھی ۔
ایک دفعہ سیرت نے غلطی سے اس سے کہہ دیا تھا کہ یہ ہسپتال ہے وہ سالار یہاں روز نہیں آسکتا یہاں صرف پیشنٹ آ سکتے ہیں ۔
جس پر سالار اگلے دن اپنا سارا ہاتھ کاٹ کے آیا تھا ۔
اور پھر اس سے اگلے دن اپنا پاؤں پر چوٹ لگا کر ۔
یہاں تک کہ ایک بار اپنا سر دیوار میں مار کر آ گیا تھا ۔
بات بس اتنی تھی کہ وہ سیرت کو دیکھے بغیر رہ نہیں سکتا تھا ۔
لیکن اب سیرت نے اسے اپنی قسم دی تھی کہ وہ کبھی بھی خود کو نقصان نہیں پہنچائے گا وہ جب چاہے ہسپتال آ سکتا ہے ۔
سیرت وہاں چوٹ نہیں لگی یہاں لگی ہے سالار نے اپنی انگلی دکھائیں جہاں پہ ایک نقطے جتنا خون نظر آرہا تھا ۔
بہت کرٹییکل حالت ہے ڈاکٹر صاحبہ پلیز علاج کریں ۔
سالار نے معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے اپنی انگلی دکھائی جبکہ سیرت کو بڑی مشکل سے اس پر چھوٹا سا زخم نظر آیا تھا
یہ کیسے ہوا ۔۔۔۔؟
سیرت نے اس کی انگلی پکڑ دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
جب سالار نے قریب پڑی ہوئی انجکشن کی طرف اشارہ کیا ضرور اسی سے اس نے کیا تھا
سیرت نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے ہونٹ اُس کے ہاتھ پر رکھے
مت پہنچایا کرے اپنے آپ خود کو تکلیف سالار میری جان نکل جاتی ہے ۔
وہ اس کے سینے سے لگ کر رو دینے والی تھی ۔
جب ڈاکٹر تمنا اندر انٹر ہوئی ۔
تو آپ ہیں وی کریٹیکل پیشنٹ ڈاکٹر تمنا کو سچ میں ہی لگا تھا کہ کسی پیشنٹ کی حالت بہت خراب ہے اسی لیے وہ سیرت کی مدد کرنے یہاں آئی تھی ۔
جی سالی صاحبہ میں ہوں
سالار نے مسکراتے ہوئے سر کو خم دیا ۔
خیر مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا لیکن اپیشنٹ آپ نہیں بلکہ آپ کی مسز ہیں آپ کو ان کا بہت سارا خیال رکھنا ہے ۔
صرف ان کا ہی نہیں بلکہ اپنے اور ان کے ہونے والے بےبی کا بھی ۔تمنا مسکراتے ہوئے سالار کو بتا کر خود باہر چلی گئی
تاکہ یہ پرسنل موومنٹ وہ ایک دوسرے کے ساتھ انجواۓ کر سکے ۔
سالار بے یقینی سے سیرت کودیکھ رہا تھا جو کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف گھوم رہی تھی ۔
ادھر دیکھو میری طرف بتاؤ مجھے یہ ڈاکٹر تمنا جو کہہ کر گئی ہے وہ سچ ہے ۔
وہ اسے اپنی طرف گھما کر بولا اب اسے سالار سے زیادہ شرم نہیں آتی تھی لیکن پھر بھی فطرتی شرم حیا جو اس خبر کو سن کر اس کے چہرے پر آئی تھی سالار اس مس نہیں کرنا چاہتا تھا
بولو مجھے مت ستاو سالار اسے اپنے قریب کرتے ہوئے شدت سے بولا
ڈاکٹر تمنا بتا کر تو گئی ہے اب کیا پیپر پر لکھ کر دوں۔
شرم کے مارے سیرت سے ایک لفظ نہیں بولا جارہا تھا اور سالار تھا جو اسی کے منہ سے یہ خبر سننا چاہتا تھا ۔
نہیں یہاں لکھو میرے دل پر سالار نے اسے اپنے سینے میں بیھجتے ہوئے کہا ۔
سالار بےبی کا نام میں رکھوں گی ۔اس کے سینے پر سر رکھ کر سیرت نے فرمائش کی ۔
اوکے جانم ۔۔۔۔
بےبی کو گھٹی بھی میں دوں گی
اوکے جانم ۔۔۔۔۔۔
سالار اسکا پیمپر آپ کے چینج کیا کریں گے ۔
اوکے جانم۔ ۔۔۔
سالار اسے سولانا بھی اپنے ساتھ مجھے پتہ نہیں چلتا نا سوتے ہوئے ۔۔۔
اوکے جانم۔۔۔۔۔۔۔
کون سے سکول میں داخل کروائیں گے ۔۔۔۔
سیرت اس کے سینے پر سر اٹھاتے ہوئے پوچھا
دیکھ لیں گے جو سکول اچھا ہوا
ویسے ایک بار پھر سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولا
پھر جب وہ بڑایا بڑی ہو جائے گی تو شادی ہو جائے گی پھر ہمیں دکھ ہو گا نا سیرت اداسی سے بولی تو اس بار سالارکی ہنسی نکل گئی
جانم ابھی اسے آنے تو دو باکی کی پلیننگ ہم بعد میں کر لیں گے ۔
سالار نے اسے پھر سے اپنے سینے سے لگایا ۔
ہاں شاید میں کچھ زیادہ ہی فاسٹ سوچ رہی ہوں سیرت کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا
ایک بار پھر سے اس کے سینے سے لگ کر اپنی ہونے والے بے بی کی پلاننگ کرنے لگی ۔
جبکہ سالار اس لمحے کو محسوس کرتا اس کی ہر بات پر اوکے جانم بولے جا رہا تھا
“ساگر کی بانہوں میں موجیں ہیں جتنی
ہم کو بھی تم سے محبت ہے اتنی
کہ یہ بے قراری نا کبھی ہوگی کم
بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم “