Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 34
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 34
•••••••••••••
اندھیرا ڈالنے کے تھوڑی دیر کے بعد اسد اپنے کمرے سے باہر نکل کر لان کی طرف آیا اور وہاں دریا کو بیٹھے دیکھ کر واپس جانے لگا ۔
لیکن اسے احساس ہوا کہ جیسے دریا رو رہی ہے ۔
اپنے آپ کو سمجھانے کے باوجود بھی وہ خود کو اس کے قریب جانے سے روک نہ سکا ۔
پوچھنے کا حق تو نہیں رکھتا لیکن کیا میں جان سکتا ہوں کہ تم اسے کیوں رو رہی ہو ۔
وہ یہ تو جان چکا تھا کہ دریا سالار سے محبت کرتی ہے ۔اور ان سب کو دریا رشک بھی ہے کہ یہ سب کچھ کروانے والی دریا ہی ہے ۔
لیکن نہ جانے کیوں اسے پہلی بار دیکھتے ہی اسد کوہ بہت حاص گئی تھی ۔
نجانے اس کے دل میں کیا آیا تھا لیکن جو آج شام سے وہ دریا کے لئے محسوس کر رہا تھا شاید ہی پہلے کسی لڑکی کے لیے گیا تھا
کچھ نہیں دریا نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے دوسری طرف چہرا پھیرا ۔
اسد اسے روتا دیکھ کر خاموشی سے اس کے قریب بیٹھ گیا ۔
دریا میں کوئی فلاسفی کی باتیں نہیں کروں گا کہ بات شیئر کرنے سے دکھ کم ہو جاتا ہے اور نہ ہی میں تم پر ایسا کوئی حق رکھتا ہوں کہ تم سے تمہارہ تمہاری اداسی کی وجہ پوچھوں
لیکن تمہیں اس طرح سے روتے دیکھ کر مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا ۔میں کوئی تمہارا دوست نہیں ہوں ۔
لیکن پھر بھی تمہیں اس طرح اسے روتا دیکھ کر مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا
اسی لئے تمہارے رونے کی وجہ جاننا چاہتا ہوں اسد کی نظریں خاموشی سے اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔
وہ سب مجھ پر شک کر رہے ہیں میں نے کچھ نہیں کیا میں نے سالار کی دیوانگی دیکھی ہے سیرت کے لئے میں ہمیشہ سے اسے چاہتے آئی ہوں لیکن اب مجھے احساس ہو چکا ہے کہ وہ شخص کبھی میرا نہیں ہو سکتا ۔
میں نے پاگل خانے میں تین دفعہ خودکشی کرنے کی کوشش کی جب مجھے یہ بتا چلاکہ سیرت مر چکی ہے مجھے لگا شاید اب سالار میری طرف متوجہ ہوجائے ۔
لیکن ایسا نہیں ہوا اسد سالار شاید میرے لیے بنا ہی نہیں ہے چاہے اس کے لئے کچھ بھی کر لوں سیرت کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی ۔
پتہ نہیں اور لوگوں کو مجھ پہ یقین آئے گا دریا بری طرح سے روتی ہوئی دریہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی ۔
جب کہ اسد اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہو چکا تھا ۔
••••••••••••
اسد میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ مجھ سے شادی کر لو ورنہ میں خودکشی کر لوں گی ۔
کیا کہہ رہی ہو نمرہ تمہارا دماغ خراب ہے کیا میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میرے اور تمہارے اسٹیٹس میں بہت فرق ہے ۔
میں کبھی بھی تمہیں زندگی کی آزائش نہیں دے سکتا جو کہ تمہارے والدین دے سکتے ہیں میرے دل میں تمہارے لئے ایسی کوئی فیلنگ نہیں ہے ۔
تم صرف میرے لیے میری دوست ہو میں نے کبھی تم سے شادی کے بارے میں نہیں سوچا ۔
کیوں کہ مجھے میرا قد پتا ہے اور اور میں اپنا قد دیکھ کے ہی دل لگاؤں گا ۔
اسد میں تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ دوں گی خدا کے لئے مجھ سے شادی کر لو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی
نمرہ میں ہاتھ جوڑتا ہوں تمہارے بس کردو آئے دن تمہاری انہی سب باتوں کی وجہ سے ڈسٹرب ہو کر رہ گیا ہوں میں ۔
خدا کے لئے سمجھنے کی کوشش کرو میری بہت ساری ذمہ داریاں ہیں جو مجھے نبھانی ہیں مجھے میری ماما کا علاج کروانا ہے مجھے میری بہن کی شادی کروانی ہے یہ پیار محبت کے چکروں میں پڑنے کے لیے ٹائم نہیں ہے میرے پاس
اسد اسے غصے سے جھٹکتا آگے بڑھ چکا تھا ۔
اسد اگر تم نے مجھ سے شادی نہیں کی نہ تو میں خودکشی کر لوں گی میں مر جاؤں گی ۔
نمرہ جذباتی ہو رہی تھی ۔
بکواس بند کرو نمرہ کوئی کسی کے لئے نہیں مرتا ۔میرے لئے تم صرف ایک اچھی دوست ہو میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں ۔
اور ایک بار پھر سے بتا رہا ہوں کہ میرے دل میں تمہارے لئے کوئی جذبات نہیں ہیں
•••••••••••••••••
اسد مرحا کے لئے بہت اچھا رشتہ آیا ہے بہت امیر آدمی ہے ہماری بچی کو خوش رکھے گا ۔
میں نے سب پتا لگا لیا ہے بہت اچھے لوگ ہیں ۔آج اسد گھر آیا تو ہارون صاحب اسے بتانے لگے ۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے بابا ۔اگر آپ کو مناسب لگے تو ہاں کر دیں
اسد نے لڑکے کی تصویر دیکھتے ہوئے کہا
اور ایک نظر کیچن سے آدھی جھانکتی اپنی بہن کو دیکھا ۔
پھر آہستہ سے اٹھ کر اندر آیا ۔
یاررشتہ تو تمہارے لئے بہت اچھا آیا ہے لیکن لڑکا عجیب سا ہے اسد منہ بنا کر بولا
کیا عجیب ہے بھائی۔۔۔۔۔۔۔؟
مرحاکب سے اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ لڑکے کی فوٹو دیکھ کر اسے بتائے گا کہ وہ کیسا دکھتا ہے۔۔۔ ان دونوں میں ایسی ہی دوستی تھی یہ دنیا کا واحد انسان تھا جس کے سامنے وہ کوئی بھی بات آسانی سے کر سکتی تھی ۔
یار اتنا کالا ہے اور ناک دیکھو اس کا ایسے لگتا ہے جیسے پورا فٹبال لا کر کسنیے ناک پر رکھا دیا ہے ۔
کیا اتنا بدہ دکھتا ہے مرحا نے منہ بنایا
ارے یار وہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن آنکھیں اس کی ۔
کیا ہوا آنکھیں کیسی ہیں اس کی ۔۔۔۔۔مرحا نے پریشانی سے کہا ۔
ارے چھوڑو یار جیسا بھی ہے ابو جی کو تو پسند ہے نا ۔
اسد نے اپنی ہنسی دباکر کہا ۔
میں نہیں کروں گی شادی ایسا دیکھنے والے سے میں خود اتنی خوبصورت ہوں دیکھیے مجھے وہ اپنا میک اپ سے پاک چہرہ اسے دکھاتے ہوئے بولی وہ واقعی بہت خوبصورت تھی ۔
ہاں یار تم تو اچھی دکھتی ہو لیکن قسمت کا کیا کر سکتے ہیں ۔
اسد سے قسمت سے ڈراتا باہر جا چکا تھا ۔
ابو جی میں پہلے بتا رہی ہوں چاہے کسی سڑک پر چلنے والے آدمی سے شادی کروا دیں لیکن میرے ساتھ کھڑا ہوا ہیرو دیکھنا چاہیے ۔
مرحا باہر آئی اور بنا شرما و لحاظ کے بولنا شروع ہوگئی ۔
جب ابو نے ایک نظر اسد کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے تصویر مرحا کے ہاتھ میں رکھی ۔
اور تصویر دیکھتے ہی مرحا نے غصیلی نگاہوں سے اسد کو دیکھا ۔
کیوں کہ تصویر میں موجود آدمی اتنا بھی برا نہیں دیکھتا تھا جتنا اسد بتا رہا تھا بلکہ اس سے سو گنا بہتر تھا ۔
جبکہ اس کی شکل دیکھ کر اسد کا قہقہ بلند ہوا
•••••••••••••••••••
وہ سب لوگ منگنی کی رسم ادا کرنے کے لیے ان کے گھر میں آئے جب اسد نے ان کے ساتھ نمرہ کو دیکھا اسے یقین نہیں تھا کہ نمرہ نمیر کی بہن ہوگی
لیکن جو بھی تھا نمیر بہت اچھا انسان تھا اسد کے ساتھ ساتھ گھرمیں سب کو بہت پسند آیا تھا ۔
رشتہ ہونے کے بعد جلدی سی نکاح رکھا گیا تھا ۔
اور نکاح کے بعد اسد کی نمرہ کے ساتھ صرف ایک ہی ملاقات ہوئی تھی
دیکھا اسد میں نے تم سے کہا تھا نہ میں تمہارے لیے کچھ بھی کروں گی دیکھو میں نے اپنے بھائی کو تیارکرلیا تمہاری بہن سے شادی کرنے پر یہی مسئلہ تھا نہ تمہارا اور تمہارا دوسرا مسئلہ تمہاری ماما کا علاج وہ بھی ہم کروا دیں گے
دیکھو میرے بھائی مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں انہوں نے میرے لیئے تمہاری بہن سے شادی کر لی ۔
اب تو تمہیں مجھ سے شادی کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے نہ نمرہ نے ایک آس سے پوچھا تھا ۔
آج مرحا کی رخصتی نمیر کے ساتھ ہونے والی تھی ۔
دیکھو نمرہ میں اپنی بہن کے لیے تمہیں کوئی جھوٹی امید نہیں دلواؤں گا میں کبھی اپنے لئے اپنی بہن کی زندگی داؤ پر نہیں لگاؤں گا ۔
مجھے ایسی شادیوں پر یقین نہیں ہے ۔
اور نہ ہی میں اس طرح سے شادی کرنا چاہتا ہوں دیکھو نمرہ میں تمہیں بہت بار سمجھا چکا ہوں میرے دل میں تمہارے لئے اسے کوئی جذبات نہیں ہیں میں تمہیں کیسے سمجھاؤں
مجھے نہیں پتا تضا کہ نمیر میرے گھر میں رشتہ اس لئے لے کر آیا تھا لیکن اس سب کے بعد بھی میں تمہیں کوئی جھوٹی امید نہیں دوں گا ۔
میں اپنی بہن سے بے تحاشہ محبت کرتا ہوں اور تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں خدا کے لیے ہماری زندگی کے لیے میری بہن کی زندگی تباہ مت کرنا ۔
اسد جانتا تک نہیں تھا کہ اس کے لفظوں نے نمرہ کو کس حد تک ہرٹ کیا ہے ۔
برات کے جانے تک نمرہ نے نا نظریں زمین سے ہٹائی تھی اور نہ ہی اس کی طرف دیکھا تھا ۔
اپنی بہن کو رخصت کرنے کے بعد وہ پرسکون ہو چکا تھا
اسے یقین تھا کہ نمرہ اس کی بات کو سمجھ چکی ہوگی
••••••••••••••••
رات ساڑھے بارہ بجے کا وقت تھا ۔جب اسد کا فون بج اپنے فون پر نمرہ کی کال دیکھ کر اس نے فورا ہی اٹھا لیا ۔
میں نے کہا تھا نہ تم سے اسد میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں میں تمہارے لئے کچھ بھی کر لوں گی مجھے اپنا لو ورنہ میں مر جاؤں گی ۔
لیکن تم نے میری بات نہیں مانی میں نے تمہارے لیے اپنے بھائی کی منتیں کیں کہ وہ تمہاری بہن سے شادی کر لے اپنے بابا کو منایا کہ وہ تمہاری ماما کا علاج کروائے ۔
اور تم نے کیا کیا تم نے میری محبت پر یقین نہیں کیا میری سچی محبت کو ٹھکرا دیا
میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی اسد ۔۔ایک بات یاد رکھنا سدا ایسے لوگوں کی محبت کو ٹکراتے نہیں جو محبت میں ہر حد سے گزر جانے کو تیار ہوں ۔
میری محبت کو ٹھکرا کر تم نے کتنی بڑی غلطی کی ہے یہ تم آج میری جانے کے بعد احساس ہوگا ۔
نمرا کیا کہہ رہی تھی اور کیا نہیں اس کی ایک بھی بات اسد کو سمجھ نہیں آئی تھی ۔
فون بند ہو چکا تھا اور اس کے فون بند ہوتے ہی تھوڑی دیر کے بعد مرحا نے اسے فون کیا ۔
بھائی نمرہ نے خودکشی کرلی ہے اور اپنے آخری خط میں اس نے لکھا ہے کے اس کی موت کیسے زمدار آپ ہیںں
آپ نے اس کی محبت کا قبول نہیں کیا مرحس ابھی بول ہی رہی تھی کہ کسی نے اس کے ہاتھ سے فون کھینچ کر ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر مارا ۔
تیرے بھائی کی وجہ سے میری بہن مر گئی اب تجھے مرنا ہوگا زندہ نہیں چھوڑوں گا میں تجھے ۔
کل تک جو انسان ادب اور احترام کی زندہ مثال تھا آج اس کے منہ سے اپنی بہن کے لئے گندی گالیاں سنتے ہوئے اسد کا خون کھول اٹھا تھا ۔
اسد نے فون وہیں پر پھینکا اور جلدی سے اپنے گھر سے باہر بھاگا
••••••••••••••••••••
بھائی مجھے بچا لیں خدا کے لیے یہ مجھے مار ڈالیں گے بھائی پلیز مجھے بچا لیں ۔
اسد بھائی پلیز بچالیں مجھے خدا کے لئے بچالیں ۔
نمیر کے عالی شان محل سے رونے اور چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں ان کے گھر کی بیٹی مر چکی تھی ۔
اور اب وہ اسد کے گھر کی بیٹی کو مار دینا چاہتے تھے ۔
اس سے پہلے کہ اس گھر کے اندر پہنچتا کچھ آدمیوں نے اسے دبوچ کر زمین سے لگایا ۔
میری آنکھوں کے سامنے میری بہن مر گئی تیری آنکھوں کے سامنے تیری بہن کو ماروں گا ۔
نمیر گندی گالیاں بکتا مرحا کو بالوں سے گھسیٹ کر اسد کے سامنے لایا ۔
بھائی مجھے بچا لیں ۔
مرحا میں تجھے کچھ نہیں ہونے دوں گا وہ لوگ بری طرح اس کو پیٹ رہے تھے جبکہ وہ ہر ممکن طریقے سے اپنی بہن کے قریب جانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
جب نمیر نے اس کے سامنے اس کی بہن کے اوپر تیل چھڑکا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے آگ لگا دی ۔
اگر میں چاہتا تو تجھے پولیس کے حوالے کر سکتا تھا لیکن میں ایسا نہیں کروں گا جس طرح سے میں اپنی بہن کے درد میں مروں گا تو بھی پل پل تڑپے گا ۔
نمیر مسلسل اسے پیٹتے ہوئے مرحا کو اس کے سامنے جلا چکا تھا اس کی بہن اس کے سامنے روتی آگ کی نظر ہوگئی ۔
اور وہ کچھ نہ کر سکا بیٹی کی خبر سن کر اسی دن اس کی ماں بھی اس دنیا سے چل بسی ۔
ایک ہی دن میں اس کی زندگی کیا سے کیا ہو چکی تھی
ایک لڑکی کی بےجا ضدنے اس کی پوری ہنستی کھیلتی زندگی تباہ کردی ۔
وہ ایک بار اپنی بہن کو اپنی نظروں کے سامنے کھو چکا تھا اب دوسری بار نہیں کھول سکتا تھا ۔
آج ایک سال کے بعد اسد کے سامنے زندگی کا وہی دن واپس آ چکا تھا دریا کی سالار کے لیے دیوانگی دیکھ کر اسے نمرہ یاد آئی تھی ۔
سہی کہا تھا اس نے ایسے لوگوں کی محبت کی قدر کرنی چاہیے جو محبت میں کسی بھی حد کو پار کرنے کے لئے تیار ہوں ۔
