228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 33

پلیز اسد مجھے بتاؤ سمجھنے کی کوشش کرو سالار پر حملہ ہوا ہے
حملہ سالار پر نہیں ہوا حاشر حملہ سیرت پرہوا تھا ۔اور جب تک وہ سالار کے ساتھ رہے گی اس پر اسی طرح سے حملے ہوتے رہیں گے وہ جو کوئی بھی ہے وہ سالار اور سیرت کو الگ کرنا چاہتا ہے میں نے تمہیں اس دن بھی بتانے کی کوشش کی تھی لیکن تم نے میری بات نہیں مانی
اسد میں مانتا ہوں مجھے تمہاری بات سننی چاہئے تھی لیکن اسد کیا تم جانتے ہو کہ وہ لوگ کون ہیں میرا مطلب ہے جس نے سیرت پر حملہ کیا ہے وہ آدمی فرار ہو چکا ہے ۔
وہ تو شکر ہے کہ گولی سالار کے بازو کو چھو کر گزر گئی ۔
حاشر کو منت نے فون کرکے جب یہ بتایا کہ سالار کو گولی لگی ہے تو سیدھا اسد کے پاس آیا تھا
نہیں یار میں نہیں جانتا وہ آدمی کون ہے ۔لیکن اگر وہ میرے سامنے آیا تو میں اسے پہچان لوں گا جب ان لوگوں نے پہلی بار سیرت پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی تو آج بھی مجھ سے ملا تھا
اور اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں سیرت کو یہاں سے بہت دور لے جاؤں تاکہ وہ کبھی بھی سالار سے نہ مل پائے ۔
اس کا مطلب ہے کہ تم اس آدمی کو پہچان لو گے حاشر نے امید سے اس کی طرف دیکھا ۔
ہاں میں پہچان لونگا لیکن صرف ایک آدمی کو ہی دوسرا آدمی کون ہے اس کا مجھے نہیں پتا وہ مجھے فون کرتا ہے اور کہتا ہے کہ سالار سیرت سے نہیں ملنی چاہیے ۔
لیکن وہ آدمی جو سیرت کو مارنے آیا تھا وہ سالار کی بربادی چاہتا ہے وہ کہتا ہے کہ وہ سالار کو برباد ہوتے دیکھنا چاہتا ہے اسے سیرت سے کوئی مطلب نہیں ہے اسے پتہ ہے سیرت سالار کی کمزوری ہے اگر اسے سالار سے دور کردیا جائے گا تو سالار ٹوٹ جائے گا ۔
وہ آدمی جو مجھ سے ملنے آیا تھا اس کا مطلب مقصد صرف سالار کو برباد کرنا ہے سیرت کو اس سے دور کرنا نہیں ۔
لیکن جو آدمی مجھے فون کرتا ہے اس کا مقصد سیرت کو ختم کرنا ہے سیرت کو سالار سے دور کرنا ہے ۔
فون پر مجھے کہتا تھا کہ سیرت زندہ ہے یہ جانتے ہوئے بھی سالار اس تک نہیں پہنچ پا رہا یہ سوچی ہی سالار کو توڑ کر برباد کردے گی ۔
اس کی محبت دنیا میں ہونے کے باوجود بھی اس سے کبھی نہیں مل پائے گی ۔
لیکن ایسا کون ہو سکتا ہے سالار کی تو کسی کے ساتھ ایسی کوئی دشمنی نہیں ۔
یہ تو مجھے نہیں پتا مجھے جتنا پتا ہے میں تمہیں بتا چکا ہوں اس کے علاوہ اس آدمی کو پہچاننے میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں ۔
ٹھیک ہے وہ لوگ جانتے ہیں کہ ہم سب اس وقت گاؤں میں ہے اور وہ سیرت پر دوبارہ حملہ ضرور کریں گے تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا حاشر نے کہا تو اسد فوراً مان گیا کیوں کہ اس کا مقصد ہی سیرت کی جان بچانا تھا ۔
•••••••••••••••
گولی سالار کے بازو کو چھو کر گزر چکی تھی ۔
اس سے پہلے بھی سالار پر ایک ایسا ہی حملہ ہوا تھا لیکن بہت پہلے ۔
اس دن بھی سیرت سالار کے گلے لگ کر ایسے ہی روئی تھی جس طرح کے آج رو رہی تھی ۔
اور وہ اسے چپ کروانے میں ہلکان ہوچکا تھا ۔
ضرورت کیا تھی آپ کو اس طرح سے سامنے آنے کی وہ مجھے مارنے والا تھا تو مارنے دیتے مجھے ۔
اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو وہ روتے ہوئے بار بار ایک ہی بات دہرا رہی تھی ۔
جبکہ سالار کی سوچ بس یہی تھی کہ اگر سیرت کو کچھ ہو جاتا تو۔سالارکا تو سب کچھ لوٹ جاتا
مزمل اور اس کی بیوی جو ندی کے قریب کھڑی گاڑی دیکھ کر وہاں قریب آئے تھے سالار کو زخمی حالت میں دیکھ کر مزمل فورا ہی اسے ہسپتال لے آیا ۔
گولی اسے چھو کر گزر گئی تھی اسی لئے سالار ہسپتال میں رہنے کا کوئی ارادہ نہ رکھتا تھا اور وہ دو ہی گھنٹے میں حویلی واپس آگیا تھا کیونکہ وہ سیرت کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔
اسد اس کو لے کر یہاں آ رہا تھا اور اسد کا کہنا تھا وہ ان لوگوں میں سے ایک انسان کو جانتا ہے ۔
اور اسے پہچان بھی سکتا ہے ۔
جبکہ سالار کو یقین تھا کہ سیرت کو مارنے کی کوشش دریا کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا
•••••••••••••••••••••
سب لوگ سالار کو آرام کرنے کا کہہ کر باہر جا چکے تھے جبکہ سیرت اس کے قریب ہی بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔
سیرت مجھے بہت درد ہو رہا ہے ایک بات مانوگی سالار اس کے روتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر محبت سے بولا
جی سالار آپ جو کہیں گے میں مانوں گی ۔
اور اس کے نزدیک آ کر بیٹھی ۔
ایک کِسی دونہ کیا پتا درد تھوڑا کم ہو جائے وہ اتنی معصومیت سے بولا کہ سیرت اسے گھور کر رہ گئی ۔
حال دیکھیں اپنا بستر پر پڑے ہیں اور اوپر سے جناب کو کِسی چاہیے ۔
سیرت نے منہ بنا کر سالار کی نقل اتاری ۔
ہاں تو ہر انسان اپنا علاج کسی نہ کسی طریقے سے کرتا ہے ۔
اپنے زخموں پر مرہم لگاتا ہے اور میرے زخموں کا مرہم صرف تمہارے یہ خوبصورت لب ہی کر سکتے ہیں اس کے لبوں کو اپنے انگوٹھے چھوتا ہوا اس پر جھکا تھا ۔
باش آ جائیں سالار ۔اور کچھ نہ سہی تو اپنے بازو کا خیال کریں جہاں ابھی بھی زخم تازہ ہے ۔
وہ اس سے دور ہٹتے ہوئے بولی ۔
کیسی بیوی ملی ہے ذرا پروا نہیں ہے میری ۔ تمہارے لئے گولی کھا لی میں نے ایک چنی منی سی کِسی نہیں دے سکتی ۔
وارے سالار شاہ تیری قسم وہ اپنی قسمت کو کوستا واپس بیڈ پر لیٹ گیا ۔
جبکہ اس کی آنکھیں اب بند تھی
سیرت نے شرمیلی نگاہوں سے ایک نظر اس کی طرف دیکھا پھر بنا آواز پیدا کیے اس کے بلکل قریب آئی۔
اس غیر محسوس انداز میں اس کے لبوں پر اپنے لبوں سے مہر لگائی ۔اس سے پہلے کے سالار اسے محسوس کرتا ہے وہ اس سے دور ہٹ چکی تھی ۔
سیرت یہ کیا تھا اس کا تو مجھے پتا بھی نہیں چلا ۔
سالار نے حسارت سے اسے دیکھا تھا
چُنی مُنی سی کِسی ایسی ہی ہوتی ہے پتہ بھی نہیں چلتا ۔
سیرت شرماتے ہوئے بولی اس سے پہلے کے سالار بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاس آتا وہ کمرے سے باہر بھاگ چکی تھی
میری بہادر چوزی رات کو تو آؤ گی ہاتھ وہ بڑبڑاتا واپس بیڈ پر لیٹ گیا
•••••••••••••••••••••
کیوں میری بہن کو مارنا چاہتی ہوکیا دشمنی ہے تمہاری میرے بھائی کے ساتھ ۔آیت نے ایک زور دار تھپڑ دریا کے منہ پر مارا وہ ابھی ابھی اس کے کمرے میں آئی تھی اور اس کے پیچھے ہی مہراج اسے غصے میں دیکھ کر آیا تھا
اس سے پہلے کہ دریا تھپڑ سے سنبھلتی آیت نے دریا کو ایک زوردار جھٹکا دیا ۔
آیت یہ تم کیا کر رہی ہو ۔میں نے نہیں کیا یہ سب کچھ سالار میرا کبھی نہیں ہو سکتا ۔
خدا کے لئے میرا یقین کرو یہ میں نے نہیں کروایا دریا نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی۔
او پلیز یہ سارے ڈرامے اپنے بھائی اور بھابھی کے سامنے کرو تمہاری حقیقت سے اچھی طرح سے واقف ہوں میں ۔
تم بھائی کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہو
اور مجھے پتا ہے یہ سب کچھ تم نے کیا ہے اس لیے اب یہ معصوم بننے کا ناٹک بند کرو اور صاف صاف بتاؤ کیا دشمنی ہے تمہارے میرے بھائی کے ساتھ ۔
کیا لگتا ہے سیرت کو مروا کر تم سالار بھائی کو حاصل کرلو گی تو ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔
آیت نے اس کے بال اپنے ہاتھوں کی مٹھی میں جکڑ کر رکھے تھے جب دریا کے حالت دے کر مہراج کو آگے بھرنا پڑا
ایت کیا کر رہی ہو تم بس کرو مہراج نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے جانے کی کوشش کی ۔
نہیں مہراج میں بس نہیں کروں گی آج میں اسے اس کی حقیقت بتاؤں گی ۔
آیت نے اپنا ہاتھ مہراج کے ہاتھ سے چھڑوا کر ایک اور زور دار تھپڑ اس کے منہ پر جھاڑا تھا ۔
آیت آپی بس کرے خدا کے لئے یہ سب کو دریا نے نہیں کیا ہے حنانے سمجھانے کی کوشش کی ۔
تم بیچ میں مت آؤ ورنہ بہت برا ہوگا اجی اپنے منہ سے اپنی حقیقت بولے گی ۔
خدا کے لئے میرا یقین کرو آیت میں نے کچھ نہیں کیا میں نے سیرت کو مروانے کی کوشش نہیں کی ۔
دریا نے روتے ہوئے اپنا یقین دلانے کی کوشش کی لیکن سامنے آیت پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا
لیکن ےبھی باہر حاشر کی گاڑی روکنے کی آواز آئی ۔۔
اور وہ اسے سخت نظروں سے گزرتی باہر چلی گئی
•••••••••••••••••••
نہیں جو دو لوگ مجھے فون کرتے ہیں ان میں کوئی لڑکی نہیں ہے یہ دونوں آدمی ہیں ۔
ایک کی ایج کافی زیادہ ہے دوسرے کی بھی ایج 50 کے اوپر ہی ہوگی ۔
انے سدنظر اٹھا کر سامنے بیٹھی دریا کو دیکھا اس وقت ان سب کے لئے مشکور تھی ۔۔
اسد کے بعد مکمل سننے کے بعد دریااپنے کمرے میں چلی گئی ۔
اسد کیا تم اس آدمی کا اسکیچ بنوا لو گے ۔مہراج نہیں پوچھا ۔
نہیں مہراج میں نے اسے بس ایک ہی بار دیکھا ہے اگر وہ دوبارہ میرے سامنے آیا تو میں اسے پہچان ضرور لوں گا ۔
لیکن اتنا تفصیلی وہ مجھے یاد نہیں ۔
مہراج کے بات پرآیت نے اسے گھورا ۔
مہراج اسد ایک عام انسان ہے کوئی سالارسکندر نہیں اس کا آئیکیو لیول ہائی ہوگا ۔آیت کے بات پر نا چاہتے ہوئے بھی ہال میں بیٹھے سب لوگوں کے لبوں پر ہنسی آگئی ۔
اتنےسیریس موضوع پر بھی آیت انجانے میں سب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل چکی تھی ۔وہ کیا بول رہی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی غصے میں اکثر اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا تھا
جبکہ سالار کو اپنے قریب سے ہیں سیرت کے منمناتی آواز سنائی دی ۔
میرے سالار شاہ بھی سالارسکندر سے کم نہیں ۔
جانم لیکن آئی کیو لیول میرے پاس بھی نہیں ہے ۔
وہ اس کے کان کے قریب بولا تو سیرت کھکھلاکر مسکرا ئی