228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 03

سعدی کی برتھ ڈے ہے سالار آپ آج جلدی آئیے گا پلیز سعدی کو رات میں لے آئی تھی اپنے ساتھ اب جب تک سعدی وہاں نہیں ہوگا تب تک اس کا برتھ ڈے اسٹارٹ نہیں ہوگا
ویسے کتنے مزے کی بات ہے نا جس کا برتھڈے ہے وہی گھر سے غائب سیرت اپنی بات پر ہنستے ہوئے بولی تو سالار بھی مسکرا دیا
ہاں میری جان تم فکر مت کرو میں جلدی آ جاؤں گا تم تیار رہنا اور سعدی کو بھی تیار رکھنا
آیت صبح سے میرا دماغ کھا رہی ہے کہ اس کے بیٹے کی پارٹی ہے اوراس کا بیٹا غائب ہے
اچھا سالار میری بات سنیں نہ آج پارٹی کے بعد آپی بھائی کے ساتھ جا رہی ہیں تو میں بھی۔۔۔۔۔۔
سیرت یہاں بہت ٹریفک ہے ٹھیک سے آواز نہیں آرہی
میں واپس آ کر بات کرتا ہوں وہ اسے ٹالتا ہوا بولا
جھوٹ۔۔جھوٹ آواز آرہی ہے سیرت نے غصے سے کہا لیکن سالار نے مسکراتے ہوئے فون بند کردیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔ آٹھ بجے پارٹی شروع ہونی ہے ساڑھے سات تو ویسے بھی بج چکے ہیں ۔
جانم کہاں ہو تم ۔۔۔؟ پارٹی پے جانا ہے تیار ہو کہ نہیں ابھی تک
وہ کمرے کی طرف آتے ہوئے گردن سے ٹائی اتار رہا تھا ۔
آفس سے آکر جب تک وہ سیرت کی صورت نہ دیکھے اسے سکون نہیں ملتا تھا ۔
یہاں ہوں تیار ہو رہی ہوں ۔آپ بھی جلدی سے تیار ہو جائیں وہ ڈریسنگ روم سے بولی تھی ۔
پہلے دیدار یار تو کروا دو وہ ڈریسنگ روم کا دروازہ کھٹکھٹا کر بولا تھا ۔
نہیں کروانا جلدی سے تیار ہوں۔ جب دیکھو رومینس ہی سوجتا رہتا ہے ۔
میں پہلے بتا رہی ہوں میں حاشر بھائی کو بتا چکی ہوں کہ میں ان کے ساتھ گھر جاؤں گی اور تین دن تک واپس نہیں آؤں گی اس نے دروازہ کھول کر اپنے نرم و نازک ہاتھ کی تین انگلیاں باہر کرکے دکھائیں ۔اور اگر آپ نے ذرا بھی اشارہ کیا تو پھر دیکھئے گا میں آپ کا کیا حال کرتی ہوں۔
سیرت نے کسی غنڈے کی طرح دھمکی دی تھی ۔
لیکن اس کی دھمکی پر وہ دل کھول کر ہنسا۔
ہاں ٹھیک ہے یار چلی جانا کل میں تمہیں صبح لے آونگا ۔سالار نے اپنے طریقے سے اجازت دی تھی۔
سالار تین دن۔۔ وہ معصومیت سے چہرہ باہر نکال کے بولی ۔
ہاں جان یہی تو کہہ رہا ہوں میں کل صبح تمہیں لے آؤں گا ۔سالار نے شرٹ اتار کر الماری سے ٹاؤل نکالا ۔
میں نے کہا میں تین دن رہوں گی آواز میں غصہ صاف جھلک رہا تھا ۔لیکن اب چہرے کے ایکسپریشن دیکھنا مشکل تھا کیونکہ دروازہ دوبارہ بند ہوچکا تھا ۔
پہلے ایک دن کی تو اجازت لے لو جانم ۔بڑی آئی تین دن مجھ سے دور رہنے والی ۔خیر چھوڑو اس بحث کو یہ بحث ہم واپس آکر کریں گے ۔ جلدی سے تیار ہوجاؤ میں شاور لے کے آتا ہوں ۔
بس اتنا بول کر وہ چلا گیا۔ تقریبا پانچ منٹ کے بعد سیرت کو پھر سے دروازے کی آواز سنائی دی ۔یعنی وہ شاور لے چکا تھا
سالار میں وہیں سے جاؤں گی واپس آکر کوئی بحث نہیں ہوگی ۔سیرت نے ایک بار پھر سے ڈریسنگ روم سے منہ باہر نکالا ۔
سیرت باہر نکلو یہاں سے اسی وقت کمرے سے بھی باہر نکلو سالار سختی سے بولا تو سیرت ابھی تک جو منہ باہر نکالے کھڑی تھی اسے دیکھنے لگی ۔
میں کیوں جاؤں یہ میرا بھی تو کمرہ ہے ۔سیرت پوری کی پوری باہر نکلی تھی ۔
سرخ کلر کی انارکلی فراک میں وہ سراپا حسن تھی ۔
اور یہ فراک وہ اس بار شاپنگ کر کے لائے تھے۔جو سالار نے اسے خود اپنی پسند سے خرید کر دی تھی ۔
جانم یہ کمرہ بھی تمہارا ہے اور یہ عاشق بھی تمہارا ہے ۔اور اگر تم آج پارٹی میں لیٹ نہیں ہونا چاہتی تو پلیز جاؤ ۔سالار نے بے بسی سے اس کے سراپے سے نظر چرائی تھی۔
لیکن سالار ہم لیٹ کیوں لیٹ ہوں گے میں تو اللموسٹ ریڈی ہوں میں بالکل تیار ہوں وہ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتے ہوئے سے بتانے لگی ۔
ہاں جانم تم تو تیار ہو ۔لیکن میں تو تیار نہیں ہوں نا ۔اور اگر تم یہیں کھڑے رہ کر ایسے ہی مجھ پر بجلیاں گراتی رہو گی تومیں کیسے تیار ہوں گا ۔
وہ جو اپنا مکمل جائزہ لینے کے بعد الماری میں اس کے لیے کپڑے نکالنے جارہی تھی قدم وہیں رک گئے ۔
لیکن بنا پلٹے تیزی سے الماری میں ہاتھ مارنے لگی ۔وہ جو کب سے سوچ رہی تھی کہ سالار اسے جانے کی اجازت نہیں دی ۔تو وہ اس سے اجازت کیسے مانگے ۔اسے حنا کی باتیں یاد آنے لگی۔
شوہر کو کنٹرول کرو اسے اپنی مٹھی میں رکھو ادائیں دکھاؤ ۔اور پتہ نہیں کیا کیا ۔
لیکن سیرت کی معصومیت اس کی بورڈ نس پر ہمیشہ سے حاوی تھی ۔اس نے شرما کے سالار کو دیکھا ۔
جو اسے دیکھنے سے مکمل گریز کر رہا تھا
اس نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے شرٹ کھینچی جو شرمائی شرمائی سی کھڑی تھی ۔
سیرت اگر تم ایسے ہی شرماتی رہو گی تو میں پہنچ گیا پارٹی اور میں ہو گیا تیار بھی وہ ایک بار پھر سے اسے ڈانٹ کر آئینے کے سامنے کھڑا اپنی شرٹ پہننے لگا ۔
ہمت سیرت۔۔۔۔ آج تو تین دن کی اجازت مانگ کر رہوں گی ۔
وہ ہمت کرکے سالار کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی ہاتھ میں ٹائی تھی ۔
یہ کیا اب میرا قتل کرنے اٹھا لائی ہو اس نے ٹائی کی طرف اشارہ کیا مسکرا دو تمہارے ڈمپلز ویسے بھی سالار کو گھائل کرنے کا فن جانتے ہیں ۔
مگر سالار کو قتل کرنا چاہتا کون ہے سیرت تو چاہتی ہے کہ وہ زندہ رہے اور تڑپتا رہے ۔اس نے سالار کا بازو پکڑ کر اپنے کمر پر رکھا ۔
اس کا یہ روپ دیکھ کر سالار کی تو پوری کی پوری آنکھیں کھل گئی۔
کیا بات ہے ۔سالار کے لئے اس کا یہ بولڈ انداز بھی بالکل معصوم تھا سالار نے اس کی کمر پے اپنے ہاتھ سختی سے حائل کرتے ہوئے سے قریب کرنا چاہا ۔۔سیرت اسے اس طرح سے اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے ذرا نروس ہوئی پھر دھکا مار کے اسے ڈریسنگ چیئر پر بٹھایا ۔
سالار کے ہونٹوں سے او نکلا ۔جس کا مطلب تھا وہ اس کی یہ حرکتیں انجوائے کر رہا ہے ۔
سیرت نے بڑے پیار سے اس کی شرٹ کے بٹن بند کیے ۔پھر اپنی طرف کھینچ کر اس کی ٹائی کی ناٹ لگائی۔جبکہ اس کام میں اپنی پوری گردن اوپر کیے وہ اس کی مدد کر رہا تھا ۔
پھر سالار کی گھڑی اٹھا کر اس کے بازو پر باندھی ۔
پھر اٹھ کر جانے لگی تو سالار نے واپس اسے پکڑ کر اپنے قریب کیا ۔
بال بھی بنا دیجئے میڈم ۔اس نے جل کی شیشی اٹھا کر اس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا ۔اب سیرت اس کی نظروں سے کنفیوز ہو چکی تھی ۔وہ ہمیشہ حنا کی بات پر عمل کرکے پچھتاتی تھی ۔
کتنی گندی سمیل ہے اس کی ۔بوتل کھولتے ہی اس نے سالار کے اوپر پھینک دی جسے سالار نے بروقت کیچ کیا۔
وہ آپ کا وولٹ پڑا ہے ۔وہ جان چھڑانے کے لئے جلدی سے بھاگنے لگی۔
او میڈم یہاں آئیے اور اپنی فیس لے کے جائیے ہم نہ کسی سے مفت کا کام کرواتے ہیں اور نہ ہی کسی کا ادھار رکھتے ہیں ۔
سالار نے اسے کھینچ کر اپنے قریب اور اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا ۔
لیکن ہم کرتے رہتے ہیں ایسی چھوٹی موٹی چیرٹیز ۔سیرت نے اس سے دور ہونا چاہا لیکن سالار کی باہوں سے آزادی اتنی بھی آسان نہ تھی ۔
لیکن اگلے ہی لمحے سالار کو اپنی ٹانگوں پر کسی کا دانتوں سے کاٹنا محسوس ہوا اس نے نیچے دیکھا تو سعدی اس کی ٹانگ میں اپنے دانت گاڑے اپنی آنی کو بچانے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا۔
یہ تمہارا چھوٹا فوجی کبھی جو سکون سے مجھے رومینس کرنے دے ۔
سیرت نے مسکراتے ہوئے سعد کو اپنی باہوں میں اٹھایا ۔
میرا گڈو ہمیشہ مجھے آپ جیسے گندے لوگوں سے بچائے گا ۔سیرت نے سعدی کے دونوں گالوں پر زور سے پیار کرتے ہوئے کہا ۔
دیکھا گڈو آپ کے چاچو کتنے گندے ہیں ۔اب وہ سعدی سے اس کی شکایت لگانے میں مصروف ہو چکی تھی ۔
اور اپنی چاچی کو دیکھو کبھی جو مجھے بھی اس طرح سے پیار کر لے جس طرح سے تمہیں کرتی ہے ۔
میں چاچی نہیں ہوں جی آنی ہوں وہ منہ بنا کر بولی اور اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی ۔
اب سالار سکون سے تیار ہوسکتا تھا ویسے بھی آدھا تو وہ اسے تیار کرکے ہی گئی تھی ۔
میں کبھی منع نہیں کروں گا سیرت جب تمہارا دل چاہے تب چلی جانا
لیکن واپس آ جاؤ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر ہم نے آپ کے کہنے پر پالر کی لڑکیوں کا ایک بار پھر سے بائیو ڈیٹا نکلوایا ہے لیکن سر ہمیں افسوس ہے کہ یہی ثابت ہوا ہے کہ وہ مسز سالارتھی ۔
لیکن ایک بات ہے جو سمجھ نہیں آرہی کہ مسز سالار کی ہائٹ 5 فٹ ہے جبکہ ہمیں جو بوڈی ملی ہے اس کی ہائٹ 5۔ 3 تھی
صرف یہی بات ہمیشہ شک میں مطلع کرتی ہے لیکن آپ کی مسزکا بریسلیٹ اور ان کا لاکٹ وہ ہمیں انہی کی لاش سے ملا ہے پولیس والے نے ایک بار پھر سے تفصیل بتائی
سر ہم جانتے ہیں کہ ان کی ہائٹ کی وجہ سے آپ بھی ان کی موت کو قبول نہیں کر پا رہے
لیکن یہ ایک غلط فہمی بھی تو ہوسکتی ہے شاید بہت ساری لاشوں کی وجہ سے رپورٹ میں کچھ گڑبڑ ہوگئی ہو
مجھے لگتا ہے کہ آپ کو اس کیس کو یہی چھوڑ دینا چاہیے اور اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ سالار نے اپنی سرخ آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ فورا خاموش ہوگیا
ایک بات کان کھول کر سن لو جب تک سالار شاہ کا دل دھڑک رہا ہے تب تک اس کی سیرت زندہ ہے میری اجازت کے بغیر وہ کمرے سے باہر نہیں جاتی تو دنیا کیسے چھوڑ سکتی ہے
میں سیرت کو خود ڈھونڈ لوں گا تم سب کے سب بے کار ہو تمہارے ان ثبوتوں سے برا میرا یقین ہے وہ اسے سخت نگاہوں سے گھورتا باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے کمرے سے سیرت کی چیزیں کہاں گئی وہ غصے سے کمرے سے باہر نکلا اور سب نوکروں کو آواز دینے لگا
میں پوچھتا ہوں ڈریسنگ ٹیبل پر جو سیرت کا سامان تھا اس کو کس نے ہاتھ لگایا
کس نے جرت کی ان چیزوں کو وہاں سے غائب کرنے کی مہراج جو ابھی ان کے گھر سارا سے ملنے آیا تھا اس کی غصے سے بھرپور آواز پروہی رک لیا
منہ میں زبان نہیں ہے کیا میں کچھ پوچھ رہا ہوں بولتے کیوں نہیں ہو وہ دھاڑتے ہوئے بولا
جب اس کے غصے کو دیکھ کر سارا بیگم باہر آئیں
سالار وہ سب کاسٹیمیٹ کی چیزیں میں نے ہٹائی ہیں وہاں سے ان کی ڈیٹ اوور ہوچکی تھی اس لیے میں نے ہٹاوادی
کس کی اجازت سے۔۔۔۔؟ اب وہ ان کی طرف موڑا
سالاروہ سب چیزیں ایکسپائر ہو چکی تھی وہ سب بے کار تھی سارا بیگم نے سمجھانا چاہا
میری سیرت کی یادیں تھی جو آپ کو بے کار لگی وہ غصے سے ادب و لحاظ بھول کر بولا
لیکن سارا اس کے غصے کی عادی تھی یہ بات الگ تھی کہ اب بہت بدل گیا تھا سلمان صاحب کی بعد وہ سارا کا بہت خیال رکھنے لگا تھا
لیکن سیرت کے معاملے میں ہمیشہ سے ایک الگ ہی سالار تھا “صرف سیرت سالار”
کوئی جواب نہ پا کر اس نے موڑ کردیکھا
سیرت کی ایک ایک چیز واپس اسی جگہ ہونی چاہیے خبردار جو کسی نے میری اجازت کے بغیر میرے اور میری سیرت کے کمرے میں قدم رکھا وہ غصے سے کہتا ہوا جانے لگا ۔
جبکہ سارا بیگم بھی اس کا غصہ دیکھ کر نوکروں کو ساری چیزیں واپس رکھنے کا کہنے لگی
جب پلٹ کا دروازہ پر مہراج کو کھڑا دیکھا اور اپنی شرمندگی مٹا کر مسکرا کر اسے ویلکم کرنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔
چاچی مجھے لگتا تھا کہ سالار کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا وہ سیرت کی موت کو قبول کر لے گا لیکن یہ صرف میری غلط فہمی تھی
میں نے اسے بہت سمجھانا چاہا لیکن اب تو وہ میرے بھی خلاف ہوگیا ہے آفس میں بھی ضرورت کے علاوہ بات تک نہیں کرتا
حاشر سے بھی بات نہیں کرتا ہم سب کو اپنا دشمن سمجھنے لگا ہے
چاچی مجھے نہیں لگتا کہ ہم اسے سمجھا پائیں گے میرے خیال سے آپ کو اس کی آگے کی زندگی کے بارے میں سوچنا چاہیے
اس سے دوسری شادی کے لیے بات کریں
مہراج تمہیں کیا لگتا ہے وہ میری بات مانے گا صرف سیرت کی چیزیں ہٹا دینے سے وہ اتنا بڑا ہنگامہ کر رہا تھا
وہ نا تو سیرت کو بھلاتا ہے اور نہ ہی وہ سیرت کی یادوں سے باہر آنا چاہتا ہے
لیکن چاچی ہمیں کچھ تو کرنا پڑے گا ہم ساری زندگی اسے اس طرح سے نہیں دیکھ سکتے۔ہمیں اس کی دوسری شادی کے بارے میں سوچنا چاہیے پلیز آپ اس سے بات کرنے کے بارے میں سوچے
کچھ دنوں میں وہ ترکی جانے والا ہے پھر ایک ماہ بعد ہی واپس آئے گا تب اس سے شادی کے لیے بات کرتے ہیں ہوسکتا ہے وہ ہماری بات سمجھ جائے سارا بیگم نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا