Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 10
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 10
بہت اچھا کیا آپ نے بائیک لے لی اب میں آسانی سے کراچی گھوم سکتی ہوں مرحا نے کہا
ہاں گڑیا یہ میں نے تمہارے لئے ہی لیا ہے کل سے میں تمہیں خود کالج لے جایا کروں گا
اسد نے کہا ویسے کالج کیسا ہے
بہت اچھا سب اچھے ہیں مگر کہتے ہیں تم تو سکول کی اسٹوڈنٹ لگتی ہو
میں نے بھی بول دیا اگر میرے کالج اسٹوڈنٹ ہونے پر آپ لوگوں کو اتنا ہی شک ہے تو میرا ٹیسٹ دیکھ لیں ویسے اسد بھائی آج میری ایک سہیلی بنی مجھ سے پوچھ رہی تھی میری برتھ ڈیٹ کیا ہے ۔۔۔۔؟اور مجھے تو یاد ہی نہیں بتائیں نا میری ڈیٹ آف برتھ کیا ہے ۔۔۔۔؟
مرحا نے اس کے لئے چائے بناتے ہوئے سوال کیا جس پر اسد پریشان ہوگیا
برتھڈے ۔۔۔۔تمہاری ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ تمہاری۔۔ برتھ ڈے وہ 8 اکتوبر اسد نے بہت سوچتے ہوئے جواب دیا
تو مرحامسکرادی
مطلب آپ بھول گئے تھے نہ وہ جانچتی نظروں سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
تم نے اچانک پوچھا تو میرے ذہن سے نکل گیا اسد نے مسکرا کر جواب دیا اس کے لہجے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی بہانہ بنا رہا ہو
میری عمر کیا ہے مرہاہ نے پوچھا
مرحا میری پیاری گڑیا اپنے دماغ پر اتنا زور مٹ ڈالو اور ابھی تو تم ٹھیک ہونا شروع ہوئی ہو ڈاکٹر نے کہا ہے تمہیں آہستہ آہستہ سب یاد آجائے گا تو تھوڑا سا صبر رکھ لو اسد اپنا کپ اٹھا کر باہر چلا گیا
کب یاد آئے گا مجھے سب کچھ جب یاد کرنے کی کوشش کرتی ہوں تو ہر طرف آگ جلتی نظر آتی ہے مرحا نے اداسی سے سوچا
♧♧——————————–♧————————–♧♧
تعریف آپ کو راس نہیں آئی ہارون صاحب یہ کیا ہے ابھی آپ کو یہاں کام کرتے ہوئے دو ہفتے ہوئے ہیں اور اتنی بڑی غلطیاں آپ نے اگر یہی سب کچھ کرنا ہے تو مجھے آپ کے خلاف جلدی سے جلدی ایکشن لینا ہوگا سالار نے فائل ٹیبل پر پٹختے ہوئے کہا
سر اس پروجیکٹ میں میں نے اپنی جان لگا دی ہے اور آپ کو کوئی ڈیزائن پسند نہیں آ رہے
اور ویسے بھی مسلہ ڈیزائن کا نہیں ہے سر اگرآپ ڈیزائن کے بارے میں سوچتے رہ جائیں گے تو وقت ضائع ہوگا ہارون صاحب نے سمجھانا چاہا
ایک منٹ ایک منٹ آپ میرے ورکر ہیں میں آپ کے انڈر کام نہیں کر رہا آپ مجھے میرا کام نہ سمجھائیں تو زیادہ بہتر ہوگا آپ کو جتنا کہا ہے آپ اتنا ہی کریں
اگر مجھے کسی کے آئیڈیا کی ضرورت ہوئی تو یہاں میرے پاس ایڈوائزر موجود ہیں آپ اپنے کام سے مطلب رکھیں
سب سے پہلے آپ یہ ڈیزائن چینج کریں اور اگر اس بار مجھے آپ کے یہ ڈیزائن پسند نہیں آئے تو آپ کی جاب خطرے میں آ سکتی ہے
سالار نے سختی سے وارن کیا
جبکہ اپنی بےعزتی پر ہارون صاحب کا دل چاہا اس جاب کو اس مغرور آدمی کے منہ پر مار کر چلے جائیں لیکن ایگریمنٹ کے مطابق وہ یہ جاب چھوڑ نہیں سکتے تھے
♧♧——————————–♧————————–♧♧
ہیلو سالار بھائی کیسے ہیں آپ ۔۔؟
آج منت نے اسے فون کیا تھا اسے بہت خوشی ہوئی کیونکہ سیرت کےجانے کے بعد آج پہلی بار منت اسے فون کیا تھا
جی بھابھی میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں۔۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں لیکن پری ٹھیک نہیں ہے وہ آپ کو بہت مس کر رہی ہے
آج وہ آپ کی فوٹو کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی میں نے فوٹو اٹھائی تو رونے لگی تب سے روئے ہی جارہی ہیں پلیز آپ کچھ دیر کے لیے آ سکتے ہیں پری بہت زیادہ رو رہی ہے منت نے پوری بات بتائی
جی بھابھی میں کچھ دیر میں پہنچتا ہوں آپ پریشان نہ ہوں اسے واپس آئے ہوئے پانچ دن گزر چکے تھے لیکن وہ جب سے واپس آیا تھا پری سے ملنے نہیں گیا تھا
پری کو وہ یاد تھا بچے محبت کرنے والوں کو کبھی نہیں بھولتے سالارنے ساری میٹنگ کینسل کر دی وہ سارا دن پری کے ساتھ گزارنے والا تھا
جبکہ اس کے اس طرح سے اچانک میٹنگ کینسل کرنے پر ہارون صاحب کو اس پر بہت غصہ آیا وہ صبح سے صرف اس میٹنگ کے لیے محنت کر رہے تھے اور چلا گیا
حدہے مٹنگ کرنی ہی نہیں تھی تو صبح سے مصیبت میں کیوں ڈالے رکھا تھا
وہ غصے سے کمپیوٹر آف کر چکے تھے جب واٹس اپ پر مرحا کی ابھی ابھی لی گئی سیلفی آئی وہ بے اختیار مسکرائے ان کی بیٹی ان کی ہر پریشانی کا حل تھی
♧♧——————————–♧————————–♧♧
بس پری میری بچی سالار ماموں آرہے ہوں گے پھر وہ آپ کو بہت سارا پیار کرینگے منت پری کوسنبھالتے ہلکان ہو رہی تھی جبکہ وہ بس روئے ہی جارہی تھی منت نے اس کا رونا دیکھ کر فوٹو پیسے واپس دینی چاہیے لیکن نہ جانے وہ غصے کے معاملے پر کس پر گئی تھی سالار کی فوٹو ہی دور پھینک دی وہ سالار سے بھی بہت ناراض تھی اب بھی روئے جارہی تھی
سالار کی گاڑی کی آواز آتے ہی منت پرسکون ہو گئی
جبکہ اس کے رونے کی آواز سن کر سالار نے اپنی سپیڈ تیز کردی
شکرہے سالار بھائی آپ آگئے منت نے شکر ادا کرتے ہوئے پری کو سالارکی طرف متوجہ کیا
اور اگلے ہی پل وہ اپنے ساری ناراضگی بلاکر اس کے سینے سے لگ گئی کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ایک نو ماہ کی بچی اپنے ماں باپ سے زیادہ کسی اور سے محبت کر سکتی ہے
ایم سوری میری جان ماموں بہت گندے ہیں آپ سے ملنے نہیں آسکے پلیز اپنے ماموں کو معاف کر دو وہ اسے سینے سے لگائے بول رہا تھا جبکہ منت شکر کا کلمہ پڑھتی اپنے کام نپٹانے لگی
جب وہ سالار کے لئے چائے بنا کر لائی تو نہ وہاں سالار تھا اور نہ ہی پری بس سالار کی گاڑی باہر کھڑی تھی مطلب وہ تھوڑی ہی دور گئے ہیں جلدی واپس آجائیں گے منت کچھ سوچتے ہوئے آرام سے بیٹھ کر سالار کے لیے بنائی گئی چائے خود پینے لگے
سالار بھائی پری سعد اور سنان سے اتنی محبت کرتے ہیں تو اپنے بچوں سے کتنی کریں گے
♧♧——————————–♧————————–♧♧
مرحااسد کے لئے چائے بنا کر لائی پھر جڑکر ابو جی کے ساتھ بیٹھ گئی جس کا مطلب سمجھ کر ابوجی مسکرائے
ابو جی کال آپ کو سیلری ملنے والی ہے نہ اس نے ابوجی کا بازو اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے لاڈ سے کہا
جی ہاں کل مجھے سیلری ملنے والی ہے ابوجی مسکرائے
تو میں کالج سے سیدھا وہی آ جاؤں پھر ہم شاپنگ پر چلیں گے مرحانے شرارت سے کہا
ٹھیک ہے بیٹا تو کل ایسا کرتے ہیں تم وہی آجانا اسد تم بھی کل چابی لے جانا فلیٹ کی میں اور مرحاکل دیر سے واپس لے آئیں گے
شاپنگ کرئے گے مووی دیکھیں گے پھر ڈنرکرینگے ابو جی نے پلان بناتے ہوئے کہا تو اسد کا کھلا منہ دیکھا
مطلب آپ لوگ اپنی پلاننگ میں مجھے شامل نہیں کر رہے اسد نے صدمے سے کہا تو ابو جی قہقہ لگا کر ہنس دیے
اسد بھائی ہم آپ کو شامل کریں گے تین دن بعد جب آپ کو سیلری ملے گی مرحا نے شرارت سے کہا اور پھر ہنسنے لگی لیکن مجھے تو کل ہی شامل ہونا ہے کوئی گنجائش نکالے پلیز اسد نے منت کی توابو جی نے مرحاکی طرف دیکھا
کیا خیال ہے بیٹا تھوڑی گنجائش نکل سکتی ہے انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
ٹھیک ہے آپ بھی ہمیں جوائن کر سکتے ہیں مرحا نے احسان جتانے والے انداز میں کہا
♧♧——————————–♧————————–♧♧
چاہیے کچھ بھی ہو جائے آج کے بعد آپ کے ساتھ کبھی شوپنگ نہیں جاؤں گی سیرت نے ہر بار والا فیصلہ سنایا جس پر سالار مسکرایا
مجال ہے جو ایک چیز بھی اپنی پسند سے لی ہو میں نے سب کچھ تو آپ اپنی پسند کالیتے ہیں اور اوپر سے سب کچھ ریڈ مطلب میں اور کوئی کلر نہیں نہیں پہن سکتی
ریڈ ریڈ ریڈ آپ تو مجھے سرخ رنگ پہنا پہنا کر سرخ ہی کر دیں گے سیرت نے تنگ آکر کہا
جانم تمہیں سرخ کرنے کے لیے تمہیں ریڈپہننے کی ضرورت نہیں ہوا آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور بے ساختہ اس کے لبوں پر جھکا۔
دیکھا میں نے کہا تھا نہ تمہیں سرخ کرنا بہت آسان ہے وہ اسے شرارت سے دیکھتے ہوئے بولا
جواب نظریں جھکاۓ شرم سے زمین کو دیکھ رہی تھی
میں شاہ سائیں سے شکایت لگاؤں گی وہ غصے سے دھمکی دینے لگی
کیا کہوں گی ان کو کہ میں نے تمہیں کس کیا سالار نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا جواب بھی بھی شرم سے سرخ تھا
جی نہیں میں ان سے کہو کہ آپ مجھے تنگ کرتے ہیں
مجھے رات بھر سونے نہیں دیتے
6 بجے کی واپسی کا کہتے ہیں چار بجے ہی ٹپک پڑتے ہیں میری پسند کے کپڑے نہیں لینے دیتے اور جب دل کرتا ہے کس کرتے ہیں
اور گھر بھی نہیں جانے دیتے سیرت منہ بنا کر بولی
تو پھر تمہارے شاہ سائیں کیا کریں گے مجھے سولی پر لٹکا دیں گے سالارنے گویا مزاق اڑیا
میرے شاہ سائیں ایسا کر بھی سکتے ہیں وہ میرے لیے اپنی جان بھی دے سکتے ہیں شکر منائیں جو مجھے آپ کو دے دیا ورنہ وہ اپنی چیزیں کسی کو نہیں دیتے سیرت کے لہجے میں غرور تھا سالار نے مسکرا کر اسے دیکھا پھر جھک کر اپنے ہونٹ اس کے لبوں پر رکھے
تمہارے شاہ سائیں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے یہ میرا علاقہ ہے شاہ سائیں کی حکومت صرف گاؤں تک ہے وہ اسے اٹھا کر بیڈ پے رکھتے ہوئے بولا
اور اب میں پوری رات تمہارے یہ شاہ سائیں کا نام نہ سنوں اس وقت صرف سالار کا نام لو وہ جذبات سے بوجھل انداز میں بولا
جی نہیں اگر میں ان کو یاد کئے بنا سو گئی تو وہ ناراض ہوں گے مجھ سے سیرت شرارت سے بولی
بس اب مت کہنا مجھے شاہ سائیں وہ ذرا سخت لہجے میں بولا
کیا سالار آپ میرے شاہ سائیں سے جلتے ہو سیرت نے کہا
میں نے کہا نام مت لو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ میں نہیں کوئی اور ہے وہ سختی سے بولا تو سیرت کا منہ بن گیا
کوئی اپنے آپ سے جلیس ہوتا ہے وہ منہ بسور کر بولی تو وہ مسکرایا
میں ہوتا ہوں تمہارے لبوں سے صرف اپنا نام سننا چاہتا ہوں
