228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 12

سیرت میری جان کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا میں نے تمہیں کہاں چلی گئی تھی تم اپنے سالار کو چھوڑ کر اسے خود میں بھیجے وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامے اس کا ایک ایک میں نقش اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا
جبکہ مرہاہ پریشانی اور انجان نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
جبکہ وہ کبھی چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتا تو کبھی اسے اپنے سینے سے لگا لیتا
آئی لو یو سیرت اب مجھے چھوڑ کر مت جانا میں نہیں جی سکوں گا تمہارے بغیر میں تمہاری قسم کھاتا ہوں میں مر جاؤں گا
اگر اب تم مجھ سے دور کوئی تو معاف نہیں کروں گا بہت ظلم کیا ہے تم نے مجھ پہ وہ سب کہتے ہیں کہ تم نہیں رہی لیکن مجھے یقین تھا کہ تم ضرور واپس ضرور آؤ گی دیکھو تم آگئی میرے پاس تم صرف میرے لیے واپس آئی ہو وہ ایک بارر پھر اسے سختی سے خود میں بھیجے ہوئے بولا
وہ جب تمہیں دیکھیں گے تو پاگل ہو جائیں گے پھرمیں کسی تم سے بات کرنے دوں گا تمہیں کسی کو تمہیں دیکھنے بھی نہیں دوں گا
تم صرف میری ہو تم صرف میرے لئے واپس آئی ہو میں تمہیں سے کسی کو بات تک نہیں کرنے دوں گا کسی کو دیکھنے تک نہیں دوں گا ہمیشہ کے لیے تمہیں اپنے دل میں چھپا لوں گا اب تم آگئی ہو کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا آئی لو یو
وہ بولے جا رہا تھا
یہ جانے بغیر کے سامنے کھڑی لڑکی اپنے آپ کو اس کی قید سے رہاہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے
لیکن اس کی شدت سے لڑنا اس کے بس سے باہر تھا جس کی وجہ سے آپ لوگ بری طرح سے رو رہی تھی
سالار نے اس کی مزاحمت کی پروا نہ تھی اسے تو بس اس کی جان واپس مل گئی تھی سالار کو اگر پتا تھا تو بس اتنا کہ اس کی سیرت اس کے پاس واپس آ گئی ہے
سالار کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا
سیرت نے اس سے الگ ہونا چاہا تو سالار نے اسے مزید حود سے قریب کر لیا
میٹنگ میں موجود لوگ ایک دوسرے کدیکھ رہے تھے
ابوجی بچائے مجھے ابو جی وہ زور زور سے چلا رہی تھی سالار نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا
جبکہ ہارون صاحب اپنے آپ کو سنبھالتے اندر آئے تو سالار کو مرہاہ کے ساتھ زبردستی کر دیکھا تو غصے سے آگے بھرے
چھوڑو میری بیٹی کو تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کے ساتھ زبردستی کرنے کی ہارون صاحب غصے سے کہتے ہوئے متہاہ کو اس سے چھڑوانے لگے جبکہ سالار اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھا
میں کہتا ہوں چھوڑو میری بیٹی کو وہ غصے سے چلائیں تھے یہ میری بیوی سیرت یہ میری ہے سالار نے اسے زبردستی خود سے لگایا اوراسے ہارون صاحب کی پہنچ سے دور کیا
یہ میری بیٹی ہے مرہاہ چھوڑ دو میری بیٹی کو ہارون صاحب کومرہاہ کے حالت دیکھ کر اور زیادہ غصہ آنے لگا جو اب باقاعدہ کانپ رہی تھی
چھوڑو میری بیٹی کو ہارون صاحب چلائے
سالار کسی دیوانے کی طرح مرہاہ کو ہارون کی پہنچ سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کی باہوں میں بے ہوش ہو چکی ہے
اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا پریشانی سے اس کے گال تھپتھپانے لگا پھر بغیر ہارون صاحب کی پرواہ اسے اپنی باہوں میں اٹھائے باہر کے طرف بھاگا
ڈرائیور جو اسے اس طرح سے تیزی سے آتے دیکھ کر الٹ ہوچکا تھا پورا دروازہ کھولا سالار اسے اپنے ساتھ پچھلی سیٹ پر لیٹاتا ڈرائیور کو چلنے کا آرڈر دے چکا تھا جب کہ ہارون سالار کے پیچھے بھاگتے ہوئے آئے اور اسد کو پکارا جو باہر ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا
اسدوہ آدمی مرہاہ کو لے کے گیا ہے چلو اس کے پیچھے وہ پریشانی سے بولے ان کی حالت دیکھ کر اسد اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے
جبکہ جن کے سامنے یہ سارا تماشہ ہوا تھا وہ مہراج کو فون کر چکے تھے
♧♧——————————–♧————————–♧♧
ڈاکٹر کیا ہوا ہے میری بیوی کو ڈاکٹر ابھی ابھی اسےکو چیک کرکے باہر آئی تو سالار نے پوچھا
انہوں نے کسی بات کا بہت زیادہ سٹرئس لیا ہے جس کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہوگئی ہیں انہیں ضرور کوئی شوکڈ لگا ہے ڈاکٹر نے تفصیل سے بتایا
اسے کب تک ہوس آئے گا سالار نے بے چینی سے پوچھا
اسے کچھ دیرمیں خوش ہوجائے گا ڈاکٹر بتا کر چلی گئی اور سالار اس کے قریب بیٹھ کر اس کی ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگا سالار نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑا
جاگ جاؤ نا پلیز بہت ساری باتیں کرنی ہیں اٹھونا جلدی کتنا کچھ بتانا ہے تمہیں میری جان کتنا ترسا ہوں تمہیں دیکھنے کے لئے دیکھو نہ تمہارے بغیر تمہارے سالار کی کیا حالت ہوگئی ہے
سالار اس کے قریب بیٹھیں اس کا چہرہ اپنی نظروں کے حصار میں لیے بیچینی سے اسے دیکھتا اپنے دل کحال بیان کررہا تھا
♧♧——————————–♧————————–♧♧
مہراج اور وہ لوگ ہسپٹل آئے ہارون صاحب نے اسے ساری بات بتائی جبکہ اسد غصے سے اسے دھمکیاں دے رہا تھا
لیکن مہراج ہوری بات جانے بنا کچھ نہیں کہنا چاہتا تھا
ہارون صاحب اور ایک اجنبی انسان مہراج کے ساتھ کمرے کے اندر داخل ہوئے
سالار مہراج کو دیکھتے ہی اس کے گلے لگ گیا
معراج میری سیرت وہ۔۔۔۔۔ میری سیرت وہ اس کی طرف اشارہ کرکے بولا
جبکہ سدر ہارون صاحب مرہاہ کے قریب کھڑاپریشانی سے دیکھ رہے تھے
او ہیلو دور رہو میری بیوی سے سالار غراتے ہوئے اسد کی طرف آیا
یہ تمہاری بیوی نہیں میری بہن ہے تم کسی غلط فہمی کا شکار ہو اسد بھی اسی کے انداز میں بولا
ایک منٹ ایک منٹ کیا ثبوت ہے آپ کے پاس کہ یہ آپ کی بہن ہے مہراج جو باہر مسلسل اس کی الٹی سیدھی باتیں برداشت کر رہا تھا پوچھنے لگا
اس کی بات سن کر اسد مسکرایا تم مجھ سے میری بہن کے لیے ثبوت مانگ رہے ہو خیر ابھی ثبوت خود ہی مل جائے گا تم دونوں کو وہ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
یہ میری بیوی ہے سمجھے تم سالار کو اس کی بات پر مزید غصہ آنے لگا
جی نہیں یہ میری بہن ہے مرہاہ وہ چلاتے ہوئے اسی کے انداز میں بولنا تو مہرہاہ جاگ گئی
ابو جی بھائی مرہاہ نے ہارون صاحب کو پکارا اس کے اس طرح سے پکارنے پر اسد مسکرایا تھا اور جلدی سے مرہاہ کے قریب آیا
اب تو آپ کو یقین آگیا کہ یہ آپ کی کچھ نہیں لگتی جبکہ میری بیٹی ہے ہارون صاحب نے جتلاتے ہوئے کہا
جی نہیں آپ سالار نے کچھ کہنا چاہ جب مہراج نے اسے تھام لیا
چھ مہینے پہلے سالار کی بیوی سیرت پالر میں آگ لگنے کی وجہ سے مسگ ہے اور آپ کی بیٹی کا چہرہ بالکل اسی کی جیسا ہے ہمیں لگتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
آپ کو کیا لگتا ہے کیا نہیں اس سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں آپ مہربانی کریں ہم اورجاہیں یہاں سے ورنہ ہمیں پولیس سے رابطہ کرنا ہوا کا مہراج کی باتیں ادھوری تھی جب اسد بولا
تم ہمہیں پولیس کی دھمکی دو گےسالار نے غصے سے کہا جبکہ اصل غصے اب اسے مہراج پے آ رہا تھا
مہراج نے ایک نظر بیڈ پے بیٹھی ہوئی اس لڑکی کو دیکھا جو ہارون صاحب کے سینے سے لگی ان دونوں سے اپنا آپ چھپائے ہوئے تھے
مہراج کچھ سوچتے ہوئے سالار کی طرف آیا سالار میرے خیال سے ہمیں چلنا چاہیے مہراج نے سمجھاتے ہوئے کہا
پاگل ہوگیا ہے کیا سالاردھاڑتے ہوئے بولا
نہیں تو میرے ساتھ چل مہراج اسے اپنے ساتھ زبردستی باہر لے جانے لگا
♧♧——————————–♧————————–♧♧
تم ٹھیک ہو میرا بچہ ہارون صاحب کی طبیعت بہت خراب تھی لیکن آج جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد وہ مرہاہ کے لئے پریشان ہو چکے تھے
وہ لوگ ابھی تک وہ سالار کے بارے میں ہی سوچ رہے تھے جبکہ مرہاہ کی سوچ بھی اسی طرف تھی
میری جان کچھ مت سوچو ان کے بارے میں تم ٹینشن مت لو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا میں ہونا تمہارا بھائی ہے یہاں تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہم سب سنبھال لے گے ابو جی نے اسے پریشان دیکھتے ہوئے کہا
لیکن ابو جی وہ لوگ مجھے سیرت کیوں کہہ رہے تھے مرہاہ نے پریشانی سے پوچھا
کیوں کہ وہ پاگل ہے
ہمارے باس کے ساتھ کوئی ذہنی مسئلہ ہے کچھ ماہ پہلے اس کی بیوی کی موت ہوگئی اور اب اسے لگتا ہے کہ تم اس کی بیوی ہو مہراج سر نے بتایا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو کھونے کے بعد بہت زیادہ غصہ کرنے لگا ہے بچپن میں ہوئے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے اس کے سر میں کوئی مسئلہ بھی ہے
جس کی وجہ سے اکثر وہ غصے سے پاگل ہو جاتا ہے اور وہ اپنی بیوی کی موت کو قبول بھی نہیں کر پایا اور ہر جگہ اپنی بیوی کو ڈھونڈتا پھرتا ہے عجیب آدمی ہے
ابو جی آج کے بعد مرہاہ آپ کے آفس نہیں جائے گی اسد نے ان کی بات مکمل سنی کے بعد کہا
وہ بہت برا آدمی ہے اس نے ابو جی کو انسلٹ کیا تھا اسی لیے تومیں اس کی طبیعت صاف کرنے گئی تھی مرہاہ نے اپنے پھولے ہوئے گالوں کو مزید پھیلایا جس سے وہ اور زیادہ کیوٹ لگنے لگی اسد اور ابوجی بےساختہ مسکرائے
بیٹا یہ میرا کام ہے میری وجہ سے آج ان لوگوں کو بہت نقصان ہوا ہے مجھے تو سمجھ نہیں آرہا میری فائل میں تمہارے اسکیچ کس نے رکھے تھے ابو جی نے سوچتے ہوئے کہا تو مرہاہ نے اسد کو دیکھا
ایم سوری ابو جی میں نے مرہاہ کے ساتھ شرارت کرنے کے لئے رکھے تھے جس کی وجہ سے ایسا ہوا اسد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ فورا معافی مانگنے لگا
کوئی بات نہیں بیٹا زیادہ سے زیادہ وہ لوگ مجھے جاب سے نکال دیں گے اس سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں ویسے مجھے لگتا ہے کہ مجھے تمہاری بات مان کر اب ریسٹ کرنا چاہے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرایا
لیکن ابو جی آپ رو چھ مہینے تک یہ جاب نہیں چھوڑ سکتے نہ متہاہ نے پریشانی سے کہا
تمہیں کو کیا لگتا ہے کہ وہ اتنے بڑے نقصان کے بعد مجھے اس جاب پر رکھیں گے
جو کچھ آج ہوا ہے اس کے بعد وہ لوگ خود ہی مجھے نوکری سے نکال دیں گے ابو جی نے مسکراتے ہوئے جیسے ان کے مسئلہ کا حل بتایا تھا

♧♧——————————–♧————————–♧♧
وہ مجھے پہچان کیوں نہیں رہی ایک ہاتھ لگاتا خود ہی پہچان جاتی لے کر آتا اسے اپنے ساتھ وہ میری سیرت ہے
جیسے میں ان دونوں کے پاس چھوڑ آیا صرف تیری وجہ سے سالار کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا
جبکہ مہراج نے اس کے غصے کی پروا کیے بغیر اسے اپنے گلے لگایا مبارک ہو سالار تیرا یقین جیت گیا ہم سب ہار گئے تیری سیرت زندہ ہے
تو نے اپنے سیرت کو ڈھونڈ لیا مہراج کے لہجے میں خوشی تھی سالار نے بھی اپنا غصہ بلاکر سیرت کی ملنے کی خوشی منائی مجھے یقین تھا میری سیرت زندہ ہے اور مجھے ضرور ملے گی لیکن وہ مجھے پہچان کیوں نہیں رہی وہ لوگوں کے پاس کیسے ہے سالار نے پریشانی سے کہا
یہ تو مجھے بھی سمجھ نہیں آرہا وہ ہمیں نہ پہچاننے کا ڈرامہ کر رہی ہے لیکن وہ ایسا کیوں کر رہی ہے مہراج نے کہا
ایسا لگتا ہے جیسے وہ ہمیں پہچانتی نہیں مجھے لگتا ہے اسے ہم لوگ یاد ہی نہیں ہیں
اوکم آن مہراج وہ کوئی اتنی چھوٹی بچی نہیں ہے جو ہمیں ایسے بھول جائے گی وہ نو ماہ کی پری اگر آپنے پیار کرنے والے انسان کو نہیں بھلا سکتی تو سیرت انیس سال کی ہے وہ کیسے مجھے بھلا سکتی ہے تجھے کیسے بھلا سکتی ہے وہ اپنے بھائی بہن منت وہ کیسے بھلا سکتی ہو اور وہ لوگ
مجھے یقین ہے کہ لوگ سیرت کو بلیک میل کر رہے ہیں سالار نے غصے سے کہا
نہیں سالار اگر وہ لوگ اسے بلیک میل کر رہے ہوتے تو ہمیں پتہ چل جاتا تم جانتے ہو نہ سیرت کبھی اپنے چہرے سے اپنے دل کا حال نہیں چھپا سکتی
ضرور وہ ہمیں بھول چکی ہے مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی یاداشت کھو چکی ہے مہراج نے کہا
دماغ خراب ہوگیا ہے کیا یہ کوئی انڈین فلم نہیں ہے مہراج زندگی ہے اور اس اصل میں ایسا نہیں ہوتا سالار غصے سے بولا
یاداشت کھولنا ایک بیماری ہے یہ صرف انڈین فلمیں میں نہیں ہوتا اصل زندگی میں ہوتا ہے جب ہم اپنے دماغ کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرتے ہیں یا بالکل استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ ٹینشن لیتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ بے فکر ہو جاتے ہیں جب ہمارے سر پہ کوئی بھاری چیز لگتی ہے ۔یا پھر کوئی ایکسیڈنٹ کچھ بھی ہو سکتا ہے سالار یہ ایک بیماری ہے
تم نے کبھی نوٹ نہیں کیا انسان جیسے جیسے بوڑھا ہونا شروع ہوتا ہے اسے اپنی پرانی زندگی بھولنے لگتی ہے
اور ایسا ہی حادثات کی وجہ سے بھی ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ سیرت کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے
مہراج نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
تو اب ہمیں کیا کرنا چاہیے سالار نے پریشانی سے پوچھا
اگر تم سیرت کو اپنی زندگی میں واپس چاہتے ہو تو تمہیں اس کی یاداشت واپس لانی ہوگی
ہاں ٹھیک ہے میں فوراً جا کر اسے بتا دیتا ہوں کہ وہ میری بیوی ہے اور آج سے میرے ساتھ رہے گی میں سے اپنے ساتھ یہاں لے آؤں گا اور وہ ان دونوں کو میں پولیس کے حوالے کروں گا کڈنیپنگ کیس کروں گا دونوں پر سالار نے فوارً فیصلہ سنایا
اس سے کیا ہوگا ۔۔۔مہراج نے پوچھا
سیرت میرے پاس آ جائے گی اور کیا سالارنے لاپرواہی سے کہا
ہاں سالار اس سے سیرت تیرے پاس آ جائے گی لیکن اس کی یادداشت واپس نہیں آئے گی سیرت ان لوگوں کو اپنا سمجھتی ہے
جیہنں تو پولیس کے حوالے کرے گا
کیا تو بھول چکا ہے وہ وقت جب سیرت تجھ سے نفرت کرتی تھی تجھ سے دور بھاگتی تھی کتنا تڑپتا تھا تو اس کے لیے
کیا تو پھر سے سیرت کی آنکھوں میں اپنے لیے وہی نفرت دیکھ پائے گا
نہیں نہ سالار ہمہیں سیرت کی یاداشت واپس لانی ہوگی اسے اس کی پرانی یادیں واپس دینی ہوگی
ہم اس سے کچھ بھی چھین نہیں سکتے اور میں نہیں چاہتا کہ ہم اسے کسی بھی قسم کی ٹنشن دیں ہمیں اسے پرسکون طریقے سے ہینڈل کرنا ہوگا مہراج نے اسے سمجھایا تو سالار نے نہ چاہتے ہوئے بھی گردن ہاں ہلائی اب یہ وہی جانتا تھا کہ وہ اتنے وقت تک سیرت سے دور کیسے رہے گا