Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 1
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 1
مسٹر احمد آپ اس جاب کے قابل نہیں ہیں اب آپ کو یہ جاب چھوڑ دینی چاہیے
آئے دن آپ کوئی نہ کوئی ایسی غلطی ضرور کرتے ہیں کہ مجھے آج یہ قدم اٹھانا پڑ رہا ہے
آئی ایم سوری لیکن میں آپ کو اس نوکری سے نکال رہا ہوں
سالار نے سامنے کھڑے آدمی کو دیکھ کر گہرا سانس لیتے ہوئے کہا ۔
نہیں سر پلیز یہ نہ کریں میری بیٹی کی شادی ہونے والی ہے اگر ایسے میں یہ جاب چھوٹ گئی تو بہت پرابلم ہو جائے گی
پلیز سر مجھے یہاں 22 سال ہوگئے کام کرتے ہوئے آج تک مجھ سے ایسی غلطی نہیں ہوئی اور آپ اتنی چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے مجھے اس نوکری سے نکال رہے ہیں
سر آپ اچانک اس طرح سے ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔۔؟
یہ ساری باتیں آپ کو یہ غلطی کرنے سے پہلے سوچنی چاہیے تھی
“یوکین گوناو” سالار نے حکمیہ انداز میں کہا
احمد صاحب اپنا سامنہ لیے باہر آگئے سب ورکر باہرکھڑے افسوس سے احمد صاحب کو دیکھ رہے تھے جو 22 سال سے اس کمپنی کے لیے کام کر رہے تھے سالار سے پہلے سلمان صاحب کے ساتھ تو انہوں نے اچھا وقت گزارا تھا
لیکن آج سالار نے انہیں ذرا سی بات سے جاب سے نکال دیا راشد مجھے ہماری کمپنی کیلئے ایک اچھے ایڈیٹر کی ضرورت ہے جو اچھی طرح سے ڈیزائن کرنا جانتا ہوں جو کام میں کوئی غلطی نہ کرے سالار اپنے سیکرٹری کے ساتھ اپنے روم سے نکل کر باہر آیا
جہاں سب لوگ اپنے اپنے کام چھوڑے مسٹر احمد کے قریب کھڑے تھے
انہیں اس طرح اسے دیکھ کر سالار کی پیشانی پر بل پڑ گئے
ایک سے ایک کام چور بھرے پڑے ہیں ۔
وہ غصے سے بڑبڑاتا واپس اندر جا چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕 تم نے احمد صاحب کو جاب سے کیوں آؤٹ کیا سالار۔۔۔۔۔؟ وہ 22 سال سے ہماری کمپنی کے لئے کام کر رہے ہیں اور تم نے یوں اچانک۔۔۔۔۔؟ آجکل سالار بہت سے ورکرز کو نوکری سے نکال چکا تھا لیکن احمد صاحب کو اس طرح سے بے وجہ نکالنا مہراج کو بہت برا لگا اگر وجہ تھی بھی تو بہت چھوٹی ۔۔ پر اتنی ذرا سی بات پر انہیں جاب سے نکالا مہراج کو بہت برا لگ رہا تھا اگر تمہیں اتنا ہی برا لگ رہا ہے تو تم اسے اپنی کمپنی میں رکھ لو لیکن میں اس کے لئے اپنی کمپنی کو مزید نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ سالار ہم میں میرا اور تیرا کب سے ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔؟ مہراج نے افسوس سے کہا مگر سالار کو شاید کوئی افسوس نہ ہوا تھا اس لیے اسے اگنور کرتا باہر نکلنے لگا اب کہاں جا رہا ہے تو۔ ۔۔۔۔؟ مہراج نے اس کے پیچھے آتے ہوئے پوچھا میں پری سے ملنے جا رہا ہوں اس کے بعد پولیس اسٹیشن جاؤنگا ۔ اس کے بعد کلب جاؤں گا اس کے بعد شایدگھر بھی جاؤں اور کچھ سالار نے پلٹ کر اسے جواب دیا جیسے اسے جواب دے کر کوئی بہت بڑا احسان کیا ہو پولیس سٹیشن جاکر کیوں اپنے آپ کو مزید اذیت پہنچاتے ہو سالار۔۔۔۔۔۔۔؟ تم قبول کیوں نہیں کر لیتے کہ ۔۔۔۔۔ بس ایک لفظ اور نہیں وہ غصے سے اس کی بات کاٹ کر دھاڑا تھا اور بنا اسے مزید بولنے کا موقع دیےوہاں سے نکل گیا مہراج نے بھی دوبارہ اسے نہ پکارا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب وہ نہیں رکے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕
پری اس کے چہرے کو اپنے ننھے ہاتھوں سے چھو رہی تھی وہ کافی دیر سے اس کے ساتھ تھا
منت سے وہ پھر کبھی خیر وخیریت پوچھ لیتا لیکن حاشر سے اس نے بات تک کرنا چھوڑ دیا تھا وہ سب سے ناراض تھا شاید اپنے آپ سے بھی “
وہ کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا لیکن پری میں اس کی جان تھی جس کے سب نقش اسے سیرت کی یاد دلاتے تھے وہ اپنے ننھے ہاتھوں سے اس کا دھیان اپنی طرف کررہی تھی
وہ اسے لے کر بیچ پے آیا کافی دیر سے سر اٹھائے گھومتا رہا ۔
تھوڑا سا مزید وقت اس کے ساتھ گزار کر وہ گھر جانے والا تھا وہ سیدھا پولیس اسٹیشن سے یہاں آیا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح وہاں سے آج بھی اسے مایوسی ہی ہوئی تھی ۔
وہ نو ماہ کی پری کو واپس حاشر اور منت کے پاس چھوڑ کر چلا گیا اس کے جانے کے بعد منت نہ جانے کتنی دیر ہوتے رہی جب کہ حاشر حقیقت قبول کر چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕 مہراج گھر آیا تو آیت سعد کے اسکول کی چیزیں تیار کر رہی تھی مہراج نےکل ہی اسے اسکول میں داخل کروایا تھا وہ تین سال کا ہو چکا تھا مہراج کو وہ بھی اکیلے اسکول جانے کے لائق نہیں لگ رہا تھا لیکن آیت کو اپنا اب لاڈلا جوان لگنے لگا تھا وہ حنان کے قریب آ کر بیٹھ گیا جبکہ سعد اس کی پریشانی سے انجان اس پر ناچنے لگا تھا آیت نے آتے ہی اس کی پریشانی نوٹ کرلی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ آج کل ویسے بھی سالار کی وجہ سے پریشان ہےے کھانا لگا دوں۔ ۔۔؟ آیت نے پوچھا ابھی نہیں سر میں درد ہے مہراج نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا تو آیت اس کے قریب بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگی اس کی ضرورت نہیں ہے اتنا بھی درد نہیں ہے مہراج نے مسکرا کر اس کا ہاتھ اپنے لبوں سے چھوا مجھے ضرورت ہے کیوں کہ آپ کا سر درد ٹھیک نہیں ہوگا تو آپ کے لاڈلوں کی شکایتیں کیسے لگاؤں گی آیت نے اپنا ہاتھ دوبارہ سے اس کے ماتھے پر رکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرایا دونوں کی شکایتیں ۔۔۔۔۔۔؟ مہراج نے ایک نظر اپنے دو ماہ کے بیٹے حنان کی طرف دیکھا جو بڑی معصومیت سے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں ٹمٹماتا اپنے باپ کے ہاتھ سے کھیل رہا تھا ہاں دونوں۔۔۔” حنان روتا رہتا ہے اور سعد ناچتا رہتا ہے آپ کی دونوں اولادوں نے مجھے تنگ کر رکھا ہے آیت منہ بسوع کر بولی جس پر مہراج مسکرا دیا جبکہ اسے مسکراتا دیکھ کر آیت بھی مسکرا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕
وہ رات بارہ بجے کے قریب گھر آیا تو سارہ بیگم اس کا انتظار کر رہی تھی
آپ سوئی نہیں ۔۔۔وہ ان کے قریب بیٹھ کر پوچھنے لگا
عجیب بے چینی تھی نیند نہیں آ رہی تھی سارہ بیگم نے پریشانی سے کہا
آپ میری وجہ سے اتنی پریشان رہتی ہیں۔۔۔
سالار نے شرمندگی سے کہا
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اپنوں کو تکلیف دے رہا تھا
میں ٹھیک ہوں ماما۔ ۔ ۔۔۔
ؤہ یقین دلانے والے انداز میں بولا جبکہ سارا بیگم کے چہرے کو دیکھنے لگی
سلمان صاحب کے جانے کے بعد وہ ان کا اکلوتا سہارا تھا سالار نے ان کی نظروں کو سمجھتے ہوئے ان کی گود میں اپنا سر رکھ دیا
اس نے مجھے دھوکا دیا کوئی اس طرح کرتا ہے کیا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ ۔۔۔؟
اگر وہ مجھے چھوڑ کر جانے ہی والی تھی تو کیوں میرا پیار قبول کیا کیوں میری زندگی میں آئی تھی
میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔
کیوں گئی وہ مجھے اس طرح سے چھوڑ کر میرے ساتھ جینے مرنے کی قسم کھائی تھی ۔
کیا اسے میری یاد نہیں آتی ہوگی ۔۔۔۔؟ وہ ان کی گود میں سر رکھے پوچھ رہا تھا
مجھے یقین ہے ماما وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتی وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی سالار نے یقین سے کہا ۔
سالاراگروہ ہوتی تو اب تک واپس آ چکی ہوتی
ہمارے علاوہ ہے ہی کون اس کا ۔۔۔۔۔؟اور تم نے اپنی آنکھوں سے اس کی لا۔۔۔۔۔
میری سیرت زندہ ہے ماما سے کچھ نہیں ہوگا وہ غصے سے اپنے کمرے میں چلا گیا
جبکہ سارہ بیگم بے بسی سے اس کے کمرے کا بند دروازہ دیکھ رہی تھی
۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕
