228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 21

اب عقل آئی ہے جناب کو۔ ۔۔۔ہونہہہ۔۔۔وہ اپنے فون پر کس کی 24 مسڈکال کو لے کر بولی۔جو کہ سائلینٹ پر لگا کے وہ پرسکون ہو کر اپنی پڑھائی کر رہی تھی۔اپنے فون پر آنے والی اسے ہر کال کا نہ صرف اندازہ تھا بلکہ ہر کال پہ اپنا فون دیکھ رہی تھی ۔
بڑا آیا مجنوں ۔
اس کا مسلسل جگمگاتا فون اب بالکل خاموش ہوچکا تھا ۔وہ ایک بار پھر سے اپنی پڑھائی میں مصروف ہو چکی تھی جبکہ اس کی سکرین پھر سے روشن ہوئی
لیکن اس بار کال نہیں بلکہ میسیج آ رہا تھا وہ بھی تقریبا 20 منٹ کے بعد ۔اس نے متجسس ہوکر فون اٹھایا اور ان باکس اوپن کیا
جسے پڑھتے ہیں مرہاہ کا رنگ سفید پڑ گیا ۔
جانم میں تمہارے گھر کے نیچے کھڑا ہوں تمہیں صرف ایک بار دیکھنا چاہتا ہوں تم نیچے آنا پسند کرو گی یا میں اوپر آؤں اس کا میسج پڑھتے پڑھتے مرہاہ فورا کے کی طرف بھاگی
اور اس کی کھڑکی کے بالکل سامنے نیچے سالار اپنے نیو ماڈل کی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے بڑے آرام سے اس کے کمرے کی کھڑکی پر نظریں جمائے کھڑا تھا ۔
اسے اپنے آپ کو دیکھتا پا کر اس نے مسکراتے ہوئے سے ہاتھ ہلایا اور ساتھ اسی ہاتھ سے نیچے آنے کا اشارہ بھی کر دیا ۔
جبکہ اس کو اس طرح سے اپنے فلیٹ کے باہر دیکھ کر مرہاہ کی اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔
اگر اس کا بھائی اسے اس وقت یہاں دیکھ لیتا تو کیا سوچتا ۔اس کا پہلا دھیان اسد کی طرف گیا تھا ۔
اگلے ہی لمحے وہ اپنے فون کے طرف بھاگی اور اسے فون کرنے لگی
دو تین بار سالار میں کال اٹھانے کی زحمت نہیں کی آخر وہ بھی تو پچھلے دو گھنٹے سے مسلسل اسے فون کر رہا تھا اس نے فون اٹھایا کیا جو اب سالاراٹھائے ۔
لیکن پھر اسے یاد آیا کہ فون کرنے والی کوئی اور نہیں بلکہ اس کی جان ہے ۔
اسے ستانے کا تنگ کرنے کا حق وہ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے لیکن پھر کیا کرتا اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے فون اٹھایا کیونکہ وہ اس کی آواز سننے کے لئے بے چین تھا
دیکھیں بہتر ہوگا کہ آپ ابھی کے ابھی یہاں سے چلے جائیں میرے بھیا جاگ رہے ہیں اگر ان کو پتہ چل گیا نہ ۔۔۔۔۔
ہاں ہاں جانم میں ڈر گیا تمہارے بھیا سے چلو اب جلدی سے باہر آونا میں تمہیں ایک بار قریب سے دیکھنا چاہتا ہوں پھر چلا جاؤنگا تمہارے بھیا کو بھی زحمت نہیں کرنی پڑے گی جلدی آؤ وہ اس کے بات کاٹتے ہوئے جلدی جلدی بولا شاید اسے ڈر تھا کہ وہ اس کی آواز سنتے ہی فون کاٹ دے گی
آپ کا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا میں کیوں آؤں گی آپ سے ملنے وہ غصے سے بولی
تم کیوں نہیں آؤ گی ۔۔۔۔۔تم ضرور آؤ گی اگر تم نہیں آئی تو میں آؤں گا پھر مجھے میرے سالے سے بھی نپٹانا پڑے گا تو میرا نہیں خیال کہ تمہیں میرے سالے صاحب کو اس طرح سے تکلیف دینے کی ضرورت ہے کیا کہتی ہو تم ۔۔۔۔۔تم آرہی ہو یا میں اؤں شاید نہیں یقینا اس کی تنقید میں اثر دکھایا تھا ۔
میں نہیں آرہی آپ نے جو کرنا ہے کرلیں کیوں غصے سے کہتی فون بند کر چکی تھی ۔
سالاراس کی اس حرکت پر کھل کر مسکرایا جبکہ دوسری طرف مرہاہ کھڑکی پر کھڑی اسی کو دیکھ رہی تھی ۔سالار نے اسے اس طرح سے خود کو دیکھتے پاکر بڑے پیار سے اپنا ہاتھ ہلایا ۔
فوراً پردے برابر کردیئے پھر فون کے قریب آکر فون اٹھائی اور آخری نمبر پر کال کی فون ایک پل کے اندر ہی رسیو ہوا دیکھ لیا مجھے آپ نے صرف دیکھنا چاہتے تھے نہ چلے اب فورا سے پہلے یہاں سے نکل جائیں وہ آرڈر دیتی سالار کو بالکل پرانی سیرت کی طرح لگی
لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی سالار کی آواز آئی
میری دور کی نظر کمزور ہے ۔۔
کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے ڈھیٹ پانے پر غصے سے بولی
مطلب صاف ہے جلدی سے نیچے اور نہ میں اوپر آؤں گا اس بار انداز میں وارننگ بھی تھی
اب کی بار مرہاہ کو بھی یقین آگیا تھا کہ وہ ایسے نہیں جانے والا اگروہ نیچے نہیں گئی تو وہ اوپر ضرور آئے گا
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر وہ اس سے اتنا کیوں ڈر رہی ہے اسے تو یہ بات اپنے بھائی کو بتانی چاہیے لیکن وہ اسے بتا کیوں نہیں پا رہی
اپنی بے بسی اس کی اپنی ہی سمجھ سے باہر تھی اب وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ وہ کیا کرے ایک بار اس کا دل چاہا کہ اسد کو جاکر اس کے بارے میں سب کچھ بتا دے لیکن اس کے بعد کیا ہوگا اس کے آگے وہ سوچ بھی نہیں پا رہی تھی
انجانے میں ہی سہی لیکن سالار اس کی زندگی میں شامل ہو چکا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کے دماغ میں ہے یا اس کے دل میں آفس میں پہلی بار اس سے ملنے کے بعد سالار شاہ کہی تو تھا ۔
سالار کا انتظار اسے بھی بے چین کر رہا تھا وہ کافی دیر ویسے ہی باہر کھڑا تھا ۔
نہ اوپر آ رہا تھا نہ ہی واپس جا رہا تھا ۔
اس نے ایک آخری بار سالار کے نمبر پر کال کی لیکن کال نہیں لگی کیونکہ اس کا فون بند جا رہا تھا
مجبور ہو کر اپنے بیڈروم سے نکلی اسد کے کمرے کا تھوڑا سا دروازہ کھلا تھا اور لائٹ آن تھی یقینا اپنے آفس کا کام کر رہا تھا ۔
اس نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا تھا
اور آہستہ سے مین ڈور کھولا۔اور پھر اسی خاموشی سے دروازہ بند کرکے دبے پاؤں راہداری میں نیچے کی طرف آئی۔
اس کے اندر کسی غیر محرم سے ملنے کا جب پکڑے جانے کا خوف نہیں تھا ۔
جانے کیوں سالار جب بھی اس کے قریب ہوتا اسے کسی قسم کا خوف نہیں آتا تھا ۔
•••••••••••••••••••••••••
آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں وہ آتے ہی اس پر برس پڑی ۔
جانم سانس تو لے لو ۔پھر سکون سے بات کرتے ہیں وہ ڈھیوں کی طرح مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔
ہاں تو کیا پوچھ رہی تھی تم ۔۔۔۔۔؟مرہاہ جو اس کی بات سن کر خاموشی سے اسے گھور رہی تھی اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھ کر سالار نے بات کا آغاز کرنا زیادہ بہتر سمجھا ۔
میرا مسئلہ تو میری پیاری سی چھوٹی سی چوزی جانم میرا مسئلہ تم ہو ۔وہ پیار سے اس کے گال کھینچتے ہوئے بولا مرہاہ نے فوراً اس کے ہاتھ اپنے گال سے ہٹائے
سالارنے اس کی حرکت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا
اور دوسرا سوال کیا تھا تمہارا پیچھے کیوں پڑا ہوں تو بیوی ہو تم میری اس لیے پیچھے پڑا ہوں ۔اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہاری جان چھوڑ دوں میرا مطلب ہے اس طرح سے تنگ کرنا چھوڑ دوں تو چلو میرے ساتھ اپنے گھر واپس اگر نہیں تو برداشت کرو وہ بات شروع کرتے ہوئے جتنا پرسکون اور آرام سے بولا تھا اب اتنا ہی سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولا ۔
میں نے جب پہلی بار آپ کو دیکھا تھا نہ تو مجھے لگا آپ کہ اپنی وائف سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں اور ان کی موت کا صدمہ آپ قبول نہیں کر پا رہے سچ کہوں تو تب ترس بھی آیا تھا آپ پر لیکن وہ صرف میری غلط فہمی تھی کیونکہ آپ تو اپنی وائف سے پیار ہی نہیں کرتے ایک نمبر کے ٹھرکی قسم کے انسان ہیں آپ ۔۔۔۔جسے اپنی وائف سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے انہیں مرے ہوئے ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا اور آپ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں
تمہارے ہی پیچھے پڑا ہوں نا کسی اور کے تو نہیں وہ پھر سے مسکرایا۔
جبکہ اس کی بات پر مرہاہ سلگ اٹھی تھی
میں اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہوں تمہیں کچھ یاد نہیں ہے کیونکہ تمہارے یہ جھوٹے بھائی اورباپ تمہیں جو میڈیسن دے رہے ہیں اس کی وجہ سے تم اپنی پچھلی زندگی بھول چکی ہو لیکن میں ہوں نہ جانم تمہارے ان جھوٹے بھائی اور باپ کو اس کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا لیکن اس سے پہلے مجھے یہ پتہ لگانا ہے کہ یہ دونوں یہ سب کچھ کر کیوں رہے ہیں ۔
اگر یہ میرے کوئی دشمن ہوتے نہ تو میں انہیں کب کا معاف کر دیتا جانم لیکن ان لوگوں نے مجھے تم سے دور کرنے کی کوشش کی ہے جب تک امہیں جہنم میں نہ پہنچاؤں تب تک سکون کا سانس نہیں لوں گا ۔
خیر انہیں تو ساری زندگی کے لیے جیل بھیج دوں گا اور تم۔۔۔۔۔
بس بہت کر لی بلواس آپ نے اس سے پہلے کہ میرے بھائی آجائیں چلے جاہیں یہاں سے ورنہ آپ کی وہ حالت کریں گے اگر تم میری سیرت نہیں ہو تو اپنے بھائی کو بتاتی کیوں نہیں کہ میں تمہیں پریشان کر رہا ہوں وہ ایک بار پھر سے مسکرایا تھا
جبکہ مرہاہ کو نجانے کیوں اس پر مزید غصہ آنے لگا ۔ٹھیک ہی تو کہتا تھا وہ اگر وہ سیرت نہیں تھی تو اسد کو کیوں نہیں بتا دیتی تھی کہ وہ اسے تنگ کر رہا ہے ۔
کیونکہ مجھے لگا تھا کہ جب آپ کو سچ پتا چلے گا آپ خود ہی پیچھے ہٹ جائیں گے لیکن آپ تو ایک نمبر کے ڈھیٹ ثابت ہوئے ہیں لیکن اب میں اپنے اس بھائی کو ضرور بتاؤں گی پھر اپنے انجام کے لیے بھی تیار رہیے گا وہ اسے ڈرانا چاہتی تھی
آئی ڈونٹ کیئر۔ بلکہ اچھا ہوگا کہ تم اسے بتا دو تاکہ وہ سالہ جیل جانے کے لیے تیار رہے وہ نارمل انداز میں کہتا اسے اچھا خاصہ ڈرا چکا تھا آپ ایسا نہیں کر سکتے مرہاہ نے پریشانی سے کہا ۔
کون روکے گا مجھے تمہارا باپ میری جان وہ بھی ساتھ جائے گا اسے تو کم از کم دس سال کے لیے اندر کرواؤں گا مجھ سے اب اچھی امید مت رکھنا ۔
ایسا کرتا ہوں کل ہی تمہارے باپ پر دھوکہ دہی کا الزام لگاتا ہوں بچارا ساری زندگی خود کو بے گناہ ثابت کرتا رہے گا سالار بالکل سیریز انداز میں بول رہا تھا
نہیں آپ ایسا نہیں کرسکتے پلیز ۔۔۔مرہاہ نے پریشانی سے کہا
میں ایسا کر سکتا ہوں جانم اور میں ایسا ضرور کروں گا اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو ۔۔۔۔۔سالار نے اس کا چہرہ نظروں کے حصار میں لیے کہا
آپ جو کہیں گے میں کروں گی پلیز آپ میرے ابو جی کو جیل مت بھیجئے گا ۔
ٹھیک ہے جانم اس طرح سے پریشان مت ہوکچھ نہیں ہوگا تمہارے سوکڈ جھوٹی فیملی کو بس کل دو بجے مجھے ملنے آ جانا ۔
میں کیسے آسکتی ہوں مرہاہ نے پریشانی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔
مجھے نہیں پتا جانم لیکن تم سے آؤ گی نہ آنے کی صورت میں تمہارے باپ کے ساتھ کیا ہوگا تم سوچ بھی نہیں سکتی خیر ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی
میں جب بھی تمہیں فون کروں گا تم شرافت سے فون اٹھاکر مجھ سے پیار بھری باتیں کرو گی
وہ میڈیسن آج سے تم چھوڑ دوںخ گی اگر مجھے ذرا سی بھنک بھی پڑی کہ تم نے وہ میڈیسن دوبارہ لی میرے منع کرنے کے باوجود تو پھر اس سے اگلی صبح تم اپنی اس جھوٹی فیملی سے جیل میں ملنے آؤں گی وہ بھی اگر میں چاہوں گا تو
اگر میں چاہوں تو ابھی کے ابھی تمہیں اپنے ساتھ لے کے جا سکتا ہوں اور تمہیں سیرت ثابت کرتے ہوئے بھی مجھے زیادہ ٹائم نہیں لگے گا
لیکن اس سے پہلے میں تمہاری اس جھوٹی فیملی کا اصل چہرہ تمہارے سامنے لاؤں گا فلحال میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اصل مرہاہ کون ہے اور تمہیں اس کی ایڈینٹی کیوں دی گئی ہے
اب جاؤ جاکر آرام کرو اور کان کھول کر سن لو خبردار جو تم نے وہ میڈیسن دوبارہ لی وہاں سے وارننگ دیتا ہوا اس کے اُوپری ہونٹ کے نقطہ نما تل پر اپنے لب رکھ چکا تھا مرہاہ نے فورا اس سے دوری بنائی۔لیکن اپنا کام مکمل کر کے وہ ڈھیٹوں کی طرح مسکرایا
وہ اس کے چہرے پر اپنی محبت اور شرم و حیا کے خوبصورت رنگ دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کرتا وہاں سے چلا گیا
جبکہ مرہاہ اپنے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھے بے یقینی سے کھڑی تھی پھر خاموشی سے واپس آئی اسد کے کمرے کی لائٹ ابھی تک آن تھی وہ اپنے کمرے کی طرف جانے لگی
گڑیا باہر تم ہو کیا اسے اسد کی آواز سنائی دی
میرے کمرے میں پانی نہیں ہے پلیز رکھ تو اسد کے کہنے پر وہ فورا کیچن میں آئی اور پانی لے کر اس کے قریب آ کر رکھا
اب آرام کرو اور کتنا پڑوگی جاؤ جاکر اپنی میڈیسن لو اسد نے کہا تم وہ ہاں میں سر ہلاتی خاموشی سے اپنے کمرے میں آئی لیکن میڈیسن کو دیکھتے ہی سالار کی دھمکی یاد آگئی ۔
وہ بنا میڈیسن لیے اپنے بیڈ پر لیٹ گئی اور اسی طرح سے لیٹے لیٹے اسے سالار کے اچانک کی گئی حرکت یاد آئی جس کے بعد اس کے گال ایک بر پھر سے سرخ ہوگئے ۔
اپنے تیز تیز دھڑکتے دل سمیت خود پر مکمل کبمل تان کر زبردستی سونے کی کوشش کرنے لگی