Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 29
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 29
حاشر رات کو ہی سیرت کو اپنے ساتھ لے آیا تھا ۔
اور کل اس کا نکاح بھی تھا سالار کے منع کرنے کے باوجود بھی حاشر نے اس کی بات نہیں مانی
گھرمیں اس کے نکاح کی تیاریاں چل رہی تھی تیاریاں اس طرح سے ہو رہی تھی جیسے سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہو
حاشر کو تو جیسے موقع مل گیا تھا اپنے دل کے ارمان نکالنے کا
جبکہ یہ وہ واحد شخص تھا جوسیرت کو پہلے دن ہی انجان نہ لگا ۔
وہ خود سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر وہ اس شخص کو اتنا کیوں چاہتی ہے ۔
وہ اسے اسد سے بھی زیادہ خاص لگتا تھا
حاشر خود اس کے لئے ڈریس لےکر آیا تھا ۔
جو اسے بہت پسند آیا تھا ۔
سیرت یہ لوحنا تم سے بات کرنا چاہتی ہے آیت نے فون لاکر اس کو دیا تو وہ کنفیوز سے شکل بنا کر دیکھنے لگی ۔
تمہارے بچپن کی سہیلی تم سے بات کرنا چاہتی ہے فون پکڑو وہ فون اسے پکڑا کر دوبارہ اپنے کام نمٹانے کے لیے چلی گئی
••••••••••••••••••
سیرت کیسی ہے تو ۔۔۔؟
حنا اس سے بات کرتے ہوئے بہت خوش تھی اس کی خوشی کا اندازہ اس کے لب و لہجے سے بھی لگایا جاسکتا تھا
میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں سیرت نے پوچھا
جبکہ اس کی بات سننے کے بعد حنا کا جیسے دماغ گھوم کر ہی گیا
دماغ خراب ہوگیا ہے کیا تُو مجھے آپ کہہ رہی ہے مجھے منی ہارٹ اٹیک دینا ہے کیا ۔
حنا چِڑکر بولی
ویسے تو وہ جانتی تھی کہ سیرت کو کچھ بھی یاد نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ اس سے اپنے پرانے انداز میں بات کر رہی تھی
سوری میرا مطلب ہے تم کیسی ہو سیرت نے اس کے لہجے سے گھبرا کر فورا بات بدلی
ہاں ٹھیک ہوں میں ابھی ائرپورٹ پہ ہوں بس تھوڑی دیر میں پاکستان کی فلیٹ میں بیٹھنے والی ہوں حنا نے بتایا
تم کہاں ہوتی ہو سیرت نے پوچھا ۔
سیرت چھوڑ اس بات کو جس کے لیے میں نے فون کیا ہے وہ سن میری بات کان کھول کر جب تک میں نہ پہنچوں تب تک رسم ادا مت کرنا ویسے تو حاشر بھائی نے کہا ہے کہ میں جلدی پہنچ جاؤں گی لیکن پھر بھی سوچا تجھے بتا دوں
جب تک میں وہاں نہ پہنچوں تُو نکاح کے لئے ہاں مت کرنا
مجھے بڑا شوق ہے تیرا نکاح دیکھنے کا
مناف کو میں ساتھ لا رہی ہوں رافع کو زاویارسنبھال لیں گے حنا اس طرح سے بات کر رہی تھی جیسے وہ ہمیشہ سے سیرت سے بات کرتی آئی تھی ۔
کیونکہ سالار نے کہا تھا کہ سیرت کو بالکل وہی ماحول دیا جائے جو اس کے جانے سے پہلے تھا ۔
سیرت اتنی کنفیوز ہو چکی تھی کہ حنا کی باتیں سن کر کے اس کو یہ تک نہ پوچھ پائی کے رافع اور مناف کون ہیں اور زاویار کون ہے ۔۔۔۔
•••••••••••••••••••
صبح ہوتے ہی سالار نے بار بار فون کرنا شروع کردیا سب کو یقین تھا کہ وہ ساری رات نہیں سویا ۔
سارا بیگم بھی کر واپس آ چکی تھی ۔
لیکن حاشرنے اسے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ تین بجے سے پہلے وہ یہاں نہیں آ سکتا
اگر وہ وقت سے پہلے آیا تو وہ نکاح اور لیٹ کروا دے گا ۔
اس کی وجہ سے سالار اپنے آپ پر جبر کرتے ہوئے ابھی تک نہیں آیا تھا ۔
••••••••••••••••
اسد اورہارون جیل سے چُھوٹ کر سیدھے یہی آئے تھے
کیونکہ سالار نے انہیں جیل سے نکالا ہی سیرت کی خواہش پوری کرنے کے لیے تھا
اسد ہارون کو دیکھ کر سیرت رونے لگی ۔
اسد نے سیرت سے اکیلے ملنے کے لیح حاشر سے اجازت مانگی ۔
جوسیرت کو اچھا نہیں لگا اس کا سگا بھائی اس سے ملنے کے لئے کسی دوسرے کی اجازت مانگ رہا ہے ۔
لیکن جب تک حاشر نے اسے ملنے کی اجازت نہ دی وہ اس کمرے میں نہ آیا ۔
ایک بار پھر سے اسد کے گلے لگ کر کو بہت روئی جب اسے نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور بات شروع کی
ایک بات جو اس نے بہت نوٹ کی تھی اب وہ اسے سیرت کے نام سے پکار رہا تھا نہ کہ مرحا
دیکھو سیرت جو بار میں تمہیں بتانے جارہا ہوں وہ غور سے سنو ۔
میں نے تمہیں میڈیسن دی تھی تاکہ تم اپنی یاداشت بھول جاؤ ۔اس کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ ہے ۔تم سیرت ہو اور اپنی یاداشت بھول چکی ہو اسد نے ایک گہرا سانس لے کر اس کے چہرے کو دیکھا جو بے یقینی سے سن رہی تھی
یہی لوگ تمہارے اپنے ہی سالار شاہ تمہارا شوہر ہے ۔
ہم تمہارے کچھ نہیں لگتے یہ بات کہتے کہتے اسد کی آواز میں نمی آئی تھی
۔یہ سب لوگ تمہارے اپنے ہیں یہ تمہاری فیملی ہے آج جس شخص کے ساتھ تمہارا نکاح کیا جارہا ہے وہ تمہارا اصل شوہر ہے ۔
یہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے کچھ غلط نہیں ہے تم انہی کی بیٹی ہو ۔
تمہاری خواہش پر سالار شاہ نے مجھے اور ابوجی کو چھوڑ دیا تاکہ تم خوش رہو وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے سیرت مجھے یقین ہے کہ وہ ان لوگوں کا مقابلہ بھی کرلے گا جس کی وجہ سے میں نے تم سے تمہاری اصلیت چھن لی
مجھے یقین ہے کہ وہ تمہیں بچا لے گا ۔
اس کی رونے کی پرواہ کیے بغیر اس کے قریب سے اٹھ کر باہر چلا گیا ۔
کیونکہ اس کے آنسو پہنچنے کے لئے اس کا سگا بھائی یہاں موجود تھا ۔
اس کے جانے کے بعد سیرت نہ جانے کتنی دیر روتی رہی وہ جنہیں اپنا سمجھ رہی تھی وہ اس کے اپنے تھے ہی نہیں
ایک غلط زندگی جی رہی تھی وہ تو مرحا تھی ہی نہیں
کل رات اس گھرمیں آنے کے بعد اس کمرے میں سونے کے بعد سیرت کو اس کمرے میں موجود ہر چیز اپنی لگ رہی تھی
•••••••••••••••
اسد سے ملنے کے بعد سیرت خاموش ہو کر رہ گئی تھی ان دونوں میں کیا بات ہوئی وہ اندر اتنی دیر کیا بات کر رہے تھے سیرت کیوں رو رہی تھی اسد کیوں پریشان تھا کوئی نہیں جانتا تھا ۔
حنا کے آنے کے بعد ہی ان کا نکاح شروع ہوا تھا ۔
سیرت نے خاموشی سے نکاح قبول کیا اور نکاح نامے پر دستخط کردیئے ۔
کیونکہ وہ انکار کرے یا اقرار کرے سچ یہی تھا کہ سالار شاہ اس کا شوہر تھا
اس کی ولدیت میں ہارون خان نہیں بلکہ زمان قریشی کا نام تھا جو اس کا اصل باپ تھا ۔
نکاح کی رسم ادا ہوتے ہی رخصتی کا بھی شور اٹھ گیا
یہ سب کچھ سیرت کے لئے نیا نہ تھا وہ پہلے بھی یہ محسوس کر چکی تھی ۔
یہ فطرتی احساس تھا یا کچھ اور لیکن رخصتی کے وقت حاشرکی سینے سے لگ کر بہت روئی اسے ایسا لگا کہ اس شخص سے زیادہ اس نے کبھی کسی سے محبت نہیں کی ۔
اس شخص کا احساس ہر انسان کی محبت کے احساس سے بھاری تھا ۔
شاید اس کی جگہ دنیا میں کوئی نہیں لے سکتا تھا شاید سالار بھی نہیں ۔
لیکن سالار نے اس سے کب کہا تھا کہ وہ اس سے حاشر سے زیادہ محبت کرے وہ تو اسے چاہتا تھا بے انتہا ہر کسی سے بڑھ کر
حاشر جانتا تھا کہ وہ اس سے کبھی اس کے جتنی محبت نہیں کر سکتی اس کیلئے تو یہ احساس ہی کافی تھا کہ سیرت اس کی محبت ہے جو صرف اس کی ہے
••••••••••••••••
کل جس حویلی سے وہ اس گھر میں گئی تھی آج اس حویلی کو کسی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔
سیرت کو اسی کمرے میں لایا گیا جہاں وہ پہلے برتھ ڈے والے دن آئی تھی
آج کا دن اس کے لئے نیا نہ تھا وہ یہ سب کچھ پہلے بھی محسوس کر چکی تھی ۔
لیکن نہ جانے کیوں سالار کے بارے میں سوچ سوچ کر اسے خوف آرہا تھا ۔
جو بے انتہا خوش تھا
اب وہ سالار شاہ سے دور نہیں رہنا چاہتی تھی کیونکہ وہ پہلا نکاح مانے یا نہ مانے لیکن آج سب رسم و رواج کے بعد اس کا نکاح ہوا تھا جسے وہ دل سے مانتی تھی
آیت اور مہراج ان کے ساتھ ہی یہاں آئے تھے آیت نے بہن کے فرض نبھاتے ہوئے نجانے کتنی ہی رسمیں نبھائی ۔
جسے سیرت بہت انجوائے کررہی تھی لیکن اب جب سالار کے کمرے میں آنے کا وقت قریب آرہا تھا اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
•••••••••••••••
سالارنے جلدی کمرے میں جانے کی بہت کوشش کی لیکن آگے بھی مہراج بیٹھا تھا جس نے تو قسم کھارکھی تھی کہ آج وہ اسے تڑپا کے ہی دم لے گا ۔
مہراج دیکھ میں تجھے بہت پیٹوں کا بعد میں مجھے اندر جانے دے
بالکل بھی نہیں۔۔۔ نہیں جانے دوں گا تجھے پیٹنا ہے نہ ابھی پیٹ لے لیکن آج رات ہم دونوں پارٹی کریں گے انجوائے کریں گے سیرت واپس آگئی ہے تیری شادی ہو گئی ہے میں بہت خوش ہوں اور تیرے ساتھ پارٹی کرنا چاہتا ہوں
مہراج نے اسے تنگ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو رہا تھا
جبکہ سالار کا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی بھاری چیز اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے
دیکھ ہم کل پارٹی کریں گے ۔اور بہت انجوائے کریں گے اور خوب خوشیاں منائیں گے لیکن کل ابھی مجھے جانے دے ۔
اور اگر تو نے مجھے ابھی نہیں جانے دیا تو میں آیت کو ایک مہینے کے لئے یہاں لے آؤں گا واپس نہیں جانے دوں گا سالار نے آخری حربہ آزمایا تو مہراج نے فورا اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔
چل کیا یاد رکھے گا دوست دوست کا احساس نہیں کرے گا تو پھر کس کا کرے گا مہراج نے احسان جتایا ۔
تو سالار اسے گھورتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
لیکن اس گھر کے لوگوں نے قسم کھا رکھی تھی کہ اسے سکون سے نہیں رہنے دیں گے اس وقت بھی آیت اور حنا اس کے دروازے پر کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی ۔
سالار نے فورا اپنی جیب سے چیک بک نکالی۔
اور ان تک پہنچنے سے پہلے سائن کی ۔دونوں کو چیک پکڑائے جب تک وہ چیک کو دیکھ رہی تھی تب تک سالار کمرے کے اندر جا کے کمرہ کو بند بھی کر چکا تھا
یہ کیا بات ہوئی ہم تو ذرا سا تنگ بھی نہیں گیا آیت کو افسوس ہوا ۔
ہاں یار ذرا مزہ نہیں آیا حنا آیت کے ساتھ منہ بنا کر مہراج کے پاس آ بیٹھی
•••••••••••••••••
دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر سیرت کا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا ۔
سالارآہستہ سے چلتا ہوا اس کے قریب آ بیٹھا وہ اس کے اتنے قریب آ کر بیٹھا تھا کہ اس کے دل کی آواز بھی باآسانی سن سکتا تھا ۔
سالار نے آہستہ سے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا ۔
آج پوچھو ذرا اس دنیا سے کسی نے میری دلہن سے زیادہ خوبصورت کوئی دوسرا دیکھا ہے وہ گنھبیر آواز میں بولا
سیرت کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو وہ باآسانی محسوس کر سکتا تھا ۔
اس نے آہستہ سے سیرت کے وجود کو اپنے سینے میں چھپایا ۔
ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔وہ اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔
سیرت کچھ نہیں بولی ۔۔۔
ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتا ہوں سیرت تمہیں فی الحال یہ سب کو سمجھنے کے لئے وقت کی ضرورت ہے ۔
لیکن میں تم سے دور نہیں رہ سکتا میں چاہتا ہوں تم ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہو ۔
میں جب چاہے تمہیں دیکھوں جب چاہے تمہیں محسوس کروں جب چاہیں تمہیں پیار کروں ۔
میں تم سے شادی تمہیں اپنی نظروں کے سامنے رکھنے کے لئے کرنا چاہتا تھا ۔
میں جانتا ہوں یہ رشتہ پرانا ہونے کے باوجود بھی تمہارے لئے نیا ہے جب تک تم نہیں چاہوگی میں تمہارے قریب نہیں آؤں گا ۔
میں تو ویسے بھی کبھی تمہاری مرضی کے خلاف تمہیں نہیں چھوتا ۔میں بس اس انجانے پن کے احساس کو ختم کرنا چاہتا تھا۔بس تمہیں بتانا چاہتا تھا کہ میں تمہارا شوہر ہوں تم پہ حق رکھتا ہوں بس اسی لئے تھوڑی مستی اگر دی ۔
لیکن جب تک تم نہیں چاہو گی میں تمہارے قریب نہیں آؤں گا ۔لیکن تمہں رہنا میرے پاس ہی ہوگا میری نظروں کے سامنے ۔آٹھو چینج کرو کرو کیونکہ تم اس طرح سے سجے
سنوارےدیکھ کر میرا ایمان ڈگمگا رہا ہے ۔وہ شرارت سے کہتا اس کے قریب سے اٹھا
جب اسے اپنے ہاتھ پر ایک نرم لمس محسوس ہوا ۔
اس نے فورا پلٹ کر اپنا ہاتھ دیکھا اس کے ہاتھ میں چوڑیوں سے بھرا سیرت کے ہاتھ میں تھا ۔
اسد بھائی مجھے سب بتا گئے ہیں ۔اور آج ہمارا نکاح ہوا ہے اور میں اس نکاح کو قبول بھی کرتی ہوں میں مانتی ہوں مجھے پرانی چیزیں یاد نہیں ہیں لیکن یہ یاد ہے کہ آج ہمارا نکاح ہوا ہے ۔
اور میں نےخود اپنی مرضی سے یہ نکاح قبول کیا ہے اور آپ کے ساتھ یہ رشتہ نبھانا چاہتی ہوں ۔
اس رشتے کو نبھانے کے لیے مجھے پرانی یادوں کی ضرورت نہیں ہے سالار آپ میرے شوہر ہیں یہ حقیقت ہے ۔اور ہمارا نکاح پرانی یادوں کا محتاج نہیں ہے کہ وہ سب مجھے یاد آئے گا تب بھی ہم اپنا رشتے کا آغاز کریں گے ۔
آپ میرے قریب آئے یہ آپ کا حق ہے جونا میں آپ سے چھیننے کا حق رکھتی ہوں اور نہ ہی چھنوں گی ۔۔سیرت نظریں جھکائے آہستہ آہستہ بول رہی تھی
سالار بے یقینی سے سنتا واپس بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
مطلب تمہیں میرے قریب آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے وہ اس کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لئے پوچھ رہا تھا ۔
جب سیرت نء آہستہ سے پلکے اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔
لیکن اس کے سوال کا جواب دینے کی ہمت کہاں سے لاتی
سالاربے اختیار اس کے لبوں پر جھکتا دیوانہ وار اس کی خوشبو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا ۔
مجھے لگا تھا کہ مجھے پھر سے تمہارے لیے تڑپنا پڑے گا ترسنا پڑے گا انتظار کرنا پڑے گا ایک ایک لمحہ لیکن تم نے تو اتنی آسانی سے مجھے قبول کر لیا ۔
اسے میں اپنی محبت کی شدت سمجھوں یا انتظار کا پھل ۔وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے محبت سے پوچھنے لگا ۔
مجھے نہیں پتہ ۔۔سیرت نے شرماتے ہوئے اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا ۔
سالارکا دلفریب قہقہ کمرے میں گھونجا۔
اور محبت کی اس حسین رات میں سالار گزرتے ہر لمحے کے ساتھ سیرت کو خودمیں سمیٹتا چلا گیا
