228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 17

نہیں ابو جی مجھے نہیں جانا آپ کو تو پتہ ہی ہے مجھے اس طرح کی محفلیں پسند نہیں اور نہ جانے کیسے لوگ ہوں گے ۔
میں نہیں جارہی کسی پارٹی پر اوپر سے اس سیرت کی برتھ ڈے ہے جس کی غلط فہمی کا شکار ہو کر وہ آدمی میرے گلے پر گیا تھا ۔
مجھے نہیں جانا کسی پارٹی پر مرہاہ نے صاف انکار کیا ۔۔۔۔
دیکھو بیٹا وہ تم لوگوں سے معافی مانگنا چاہتا ہے
ابو جی اگر وہ نہیں جانا چاہتی تو آپ بار بار کیوں کہہ رہے ہیں ۔
میرا بھی نہیں خیال کہ مرہاہ کو وہاں جانا چاہیے ۔
اور جہاں تک میرا سوال ہے تو میں تو وہاں کبھی نہیں جانا چاہوں گا ۔
اسد صاف انکار کرکے اٹھ کر اندر چلا گیا ۔
لیکن ہارون صاحب چاہتے تھے کہ وہ دونوں اس پارٹی میں جائیں تاکہ ان لوگوں کو جو غلط فہمی ہوئی ہے وہ دور ہو جائے ۔
اور مرہاہ کی طرف جو ان کا دھیان گیا ہے وہ بھی ختم ہو جائے ۔
لیکن اب وہ ان لوگوں کے انکار کو ہاں میں نہیں بدل سکتے تھے یہ تو وہ جانتے تھے اسی لئے وہ بھی بحث کیے بغیر اٹھ کر اندر چلے گئے
♧♧——————————–♧————————–♧
وہ مسلسل فون پر سیرت کی فوٹو دیکھ رہا تھا رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے اس نے دن میں ہی اس کے فون سے نمبر لیا تھا اور اس وقت وہ صرف اس سے بات کرنا چاہتا تھا
اس وقت وہ صرف اس کی آواز سننا چاہتا تھا اس وقت سالار کو وہ دن یاد آرہا تھا
جب اس نے پہلی بار سیرت کی آواز سنی تھی اور پھر اس کا دل چاہا اسی کی آواز سنتا رہے
سالار نے بنا سوچے سمجھے اس نمبر پر فون کیا
مرہاہ بیٹھی اپنے نوٹس بنا رہی تھی انجان نمبر سے فون آتا دیکھ کر سوچنے لگی کہ اٹھائے یا نہ کیونکہ ابو جی اور اسد سو چکے تھے
اس نے فون نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ایک بار پھر اسے اپنے نوٹس بنانے میں مگن ہوگئی
لیکن مقابلے بہت ڈھیٹ ثابت ہوا تھا جس نے آج قبر سے مردوں کو بھی جگانے کا ارادہ رکھا تھا
مسلسل 16 بار فون بجا تو مرہاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے فون اٹھا لیا
ہیلو ۔اس نے فون اٹھاتے ہی کہا
ہیلو کی بچی کب سے فون کر رہا ہوں اٹھا کیوں نہیں رہی تھی مطلب بندہ پاگل ہو جائے لیکن محترمہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا
آپ نے مجھے فون کیوں کیا مرہاہ نے ایک گایا تھا اسے پہچاننے میں
تم سے باتیں کرنے کے لئے سالار نے اس کے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا
وہ اس کی آواز سے ہی اسے پہچان چکی تھی یہ بات بھی سالار کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھی
مجھے آپ سے بات کرنے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے مرہاہ کویہ آدمی عجیب لگا صبح وہ اس کے لئے برا محسوس کر رہی تھی
کیوں نہیں تمہیں مجھ سے بات کرنی جانتی بھی ہو 6مہینے سے کیسے رہا ہوں میرے ان چھے مہینوں کا حساب زندگی بھر نہیں چکا سکتی تم اب سیدھے طریقے سے بات کرو مجھ سے وہ حکم جڑتے ہوئے بولا
پہلی بات تو یہ میں آپ کو نہیں جانتی اور نہ ہی میں آپ کو جاننا چاہتی ہوں دوسری بات آپ کو نمبر کہاں سے ملا مرہاہ اس کی باتیں سن کر مرہاہ کا دل بہت بری طرح سے دھڑکنے لگا لیکن بہت چاہنے کے باوجود یو فون بند نہیں کر پائی
نہ جانے کیوں اس شخص کی آواز سننا چاہتی تھی
وہ تو ابھی تک نہیں سمجھ پائی تھی وہ اس دن اس کو ٹھیک سے سن بھی نہیں پائی تو آج سے فون پر کیسے پہچان گئی
جبکہ اس کی آواز تو اس نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی نہ جانے کیوں اس کا دل چاہا کہ وہ شخص بولتا رہے اور وہ اسے سنتی رہے
اچھا یہ فضول باتیں بند کرو پرسوں میں تمہارا برتھ ڈے منا رہا ہوں کیک تم ہی کاٹو گی اور دیکھو اس بار میرے صبرکا امتحان مت لینا شرافت سے ٹائم پر آجانا اس برتھ ڈے پر کچھ بھی اسپیشل نہیں کروں گا اس میں اسپیشل یہ ہے کہ تم واپس آگئی ہو
اور اس سے زیادہ میرے لئے اور کچھ بھی اسپیشل نہیں ہوسکتا اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم اس برتھ ڈے پر میرے ساتھ رہو سالار نے حق سے کہا
دیکھیں میں نا تو سیرت ہوں اور نہ ہی میرا برتھڈے ہے اور میں کہ کیوں کاٹوں گی کیک ۔۔۔؟
میرے ابو جی کہہ رہے ہیں کہ آپ مجھ سے معافی مانگنا چاہتے ہیں لیکن آپ کی باتوں سے تو آپ مجھے بالکل بھی شرمندہ نہیں لگ رہے بلکہ آپ کی باتیں سن کر مجھے لگ رہا ہے کہ آپ ایک منیٹل پیشنٹ ہیں
ایم سوری مسٹر سالار شاہ مجھے لگتا ہے آپ کو ایک ڈاکڑ کی اشد ضرورت ہے مرہاہ نے ایک ایک لفظ چھبا چھبا کر کہا اور فون بند کر دیا
جبکہ سالار نے اس کی ساری باتوں میں سے صرف اپنا نام سنا تھا جبکہ اس کا یوں فون کاٹنا اسے اچھا نہ لگا اس نے جلدی سے دوبارہ نمبر ملایا لیکن آگے سے کسی نے فون نہیں اٹھایا پھر سالار نے اپنا ڈھیٹ کام جاری کردیا لیکن پانچویں کال کے بعد فون بند ہوگیا
اور سالار کا غصہ مزید بڑ گیا
♧♧——————————–♧————————–♧
ساری رات غصے میں جلتے کرتے سے نیند نہ آئی بھی وہ صبح ہوتے ہی آفس جانے کے لیے تیار ہوا
سالار بیٹا آج کوئی میٹنگ ہے کیا تم اتنی صبح صبح جا رہے ہو سارا بیگم نے اسے ناشتے کے بغیر جاتے دیکھ کر کہا
نہیں بس آج جلدی جانا ہے سالار انہیں جواب دیتا نکل گیا۔
آفس آنے کے بعد سارے ورکس کی شامت آگئی آج وہ سب پر اپنا غصہ نکال رہا تھا اور ساتھ ہی بے چینی سے ہارون صاحب کا انتظار کر رہا تھا
لیکن انہیں تو اپنے ٹائم پر ہی آنا تھا پھر تھوڑی بعد اس نے اپنی سیکرٹریز سے کہا کہ جیسے ہی ہارون صاحب آئے سالار کو انفارم کردیا جائے
ہارون صاحب کو پیغام ملتے ہی وہ سیدھے سالار کے آفس میں آئے تھے
آپ کو پتہ ہے مجھے غیر ذمہ دار اور دیر سے آنے والے لوگوں بہت ناپسند ہیں آپ کو اندازہ بھی ہے میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہا ہوں سالاران پر چڑدوڑا شاہد سیرت کا غصہ ان پر نکال رہا تھا
ایم سوری سر میں اپنی بیٹی کو کالج چھوڑنے چلا گیا تھا ہارون صاحب نے دیکھا وہ پانچ منٹ لیٹ تھے اس لئے فورا ہی اپنی غلطی تسلیم کر کے بولے
جب کہ سیرت کا ذکر سنتے ہیں اس کا موڈ ٹھیک ہونے لگا
جو اسی کی وجہ سے اس کا موڈ بگڑا تھا
ٹھیک ہے یہ فائل لے جائیں اور چیک کریں وہ انہیں کام بتانے لگا تو ہارون صاحب فائل اٹھا کر باہر جانے لگے
آپ کی بیٹی کو واپس کر کون لینے جائے گا سالار نے فکر مندی سے پوچھا
سر میرا بیٹا ٹائم نکال کر اسے واپس چھوڑ آتا ہے ہارون صاحب نے بتایا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ سالار کو ان پر کسی بھی قسم کا شک ہو سالار نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ باہر نکل گئے
♧♧——————————–♧————————–♧
دن دو بجے کے قریب سالار نے سیرت سے ملنے کا فیصلہ کیا اب تک یقینا اسد اسے چھوڑ کے جا چکا تھا لیکن اس کے لیے ہارون صاحب کو بیزی رکھنا ضروری تھا
تین بجے کے قریب ایک میٹنگ تھی اور ہارون صاحب کے ٹیبل تک آیا
ہارون صاحب آج کی میٹنگ آپ کو ہینڈل کرنی ہے مجھے بہت ضروری کام ہے جس کی وجہ سے جانا پڑ رہا ہے دیکھیں کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے یہ کنٹریکٹ ہر حال میں چاہیے مجھے
میں آپ کو بہت بڑی ذمہ داری دے رہا ہوں مجھے شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے وہ سخت لہجے میں کہتا باہر چلا گیا
جب کہ ہارون صاحب پریشان ہو چکے تھے کیونکہ یہ ایک بہت بڑا پروجیکٹ تھا جوان کی کمپنی کے لیے بہت ضروری تھا
ضرور سالار کو کوئی بہت ضروری کام ہوگا ورنہ اتنی ضروری میٹنگ چھوڑ کر وہ کبھی نہیں جاتا
مہراج کو پوری بات بتانے کے بعد وہ سیرت سے ملنے کے لیے جاچکا تھا
مہراج اس کے غصے کی وجہ جانتا تھا
اب اسے سیرت سے ملنا تھا تو مطلب ملنا تھا اس وقت اسے سیرت کو دیکھنے کی طلب تھی جب جو بغیر اسے دیکھے ختم نہیں ہوسکتی تھی
♧♧——————————–♧————————–♧
سالار بالکل خاموشی سے گھر میں داخل ہوا آج اسے پتہ تھا کہ سیرت کہاں ہے وہ بنا آواز پیدا کیے اسی کمرے میں آیا جہاں پچھلی بار سیرت کو سوتے ہوئے چھوڑ کر گیا تھا
اس نے دیکھا آج بھی سیرت سو رہی تھی سالار اس کے قریب آیا اس کا چہرہ دیکھنے لگا
اٹھو جانم دیکھو تمہارا سالار تمہارے بغیر کیا بن گیا ہے وہ بے چینی سے اس کے اٹھنے کا انتظار کرنے لگا لیکن سیرت کے اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی
سیرت
اس نے بہت شدت سے اسے پکارا تھا
سیرت میری جان اٹھو نہ دیکھو کیا کیا بہانے لگا کر تم سے ملنے آیا ہوں وہ اس کے کان کے قریب بولا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی
سالار کو اس کی نیند عجیب لگی وہ کیوں نہیں اٹھ رہی تھی اور پریشانی سے سوچنے لگا تھا اس کی نظر سامنے ٹیبل پر رکھی میڈیسن پڑی ۔
سالار نے جلدی سے اپنا فون اٹھایا ۔
اور مزمل کا فون کیا
السلام علیکم شاہ سائیں آپ نے جو دوائیوں کی تصویریں بھیجی تھی میں نے چیک کروا لی ہیں وہ میموری لوز کی دوائیاں ہیں
یہ میڈیسن پیشنٹ کو تب دی جاتی ہے جب وہ بھی پرانی زندگی بھولنا چاہتا ہے ۔
تاکہ اسے اپنی پرانی زندگی بھول جائیں اور وہ ایک نئی زندگی کی شروعات کریں ۔
دوائوں کا سب سے زیادہ نقصان یہی ہے کہ انسان اپنی پرانی زندگی بالکل ہی بھول جاتا ہے ۔
کوئی واقعہ کوئی بات جو اس کی پرانی زندگی سے جڑی ہوئی سے یاد نہیں آتی ۔
اور اگر وہ یہ دوائیاں لینا چھوڑ دے شاہد خوابوں کے ذریعے یاداشت واپس لائی جا سکتی ہے ۔
مزمل اسے پوری بات بتائی اور بند فون کرتے ہی سالار نے غصے سے ساری دوائیاں زمین پر پھینک زوردار دھماکے سے سیرت کی آنکھ کھل گئی