228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 16

سالار ابھی تک وہی بیٹھا سیرت کو دیکھے جا رہا تھا ۔
اتنے دنوں کے بعد یہ چہرہ دیکھنے کے بعد سالار کا اپنی نگاہ اس چہرے سے ہٹانے کا دل نہیں کر رہا تھا ۔
لیکن اسے جانا تھا کیونکہ جانا بھی بہت ضروری تھا ۔
اس سے پہلے کہ یہاں کوئی اور آ جاتا اس کا یہاں سے نکلنا ضروری تھا وہ نہیں چاہتا تھا فلحال وہ کسی کی بھی نظروں میں آئے ۔
وہ اپنے دل کو مناتا بڑی مشکل سے اس کے قریب سے اٹھا تھا جب دھیان سامنے پڑی میڈیسن پرگیا ۔
اس کے کمرے میں ہے تو یقینا اسی کی ہوں گی وہ ایک نظر سیرت کے سوئے ہوئے وجود کو دیکھتا اور میڈیسن کے قریب چلا گیا ۔
نہ جانے کس چیز کی دوائیاں تھی یہ ۔شاید سیرت کی طبیعت خراب ہے ۔
سالار نے اس کے سوئے ہوئے وجود بے چین سے دیکھنے لگا ۔
سیرت تو بالکل ٹھیک لگ رہی تھی تو یہ دوائیاں کس چیز کی تھی ۔
اسے سوچتے ہوئے دوائیاں واپس نہیں پر رکھ دی لیکن اپنے فون سے فوٹو بنانا نہ بھولا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو بھی اس کے یہاں آنے پر شک ہو ۔
میڈیسن کے ساتھ ہی اس کا فون پڑا تھا۔ سالار مسکرایا
جانم آپ تو فون بھی رکھتی ہیں سالار نے اس کا فون اٹھا کر اس کے فون سے اپنے سیل پر رنگ کی
اس کا نمبر سیکر کے فون واپس وہی رکھا
سالار کا ارادہ اب واپس جانے کا تھا ۔
جب اسے محسوس ہوا کہ دروازے پر کوئی ہے وہ فورا ہی سیرت کے کمرے کے دروازے کے پیچھے چھپ گیا ۔
اگلے دو منٹ میں اسد کی آواز ہے سنائی دی گڑیا کہاں ہو یار دیکھو میں تمہارے لئے کیا لے کے آیا ہوں ۔
تمہاری فیورٹ رس ملائی وہ بچوں کی طرح پچکارتا اندر آگیا ۔
لیکن سیرت کو سوتا ہوا دیکھ کر خاموش ہو گیا ۔
ارے یہ تو سو رہی ہے بے چاری نے اتنا کام کیا ہے ریسٹ کر رہی ہوگی ۔
یہ رس ملائی میں فریج میں رکھ دیتا ہوں ۔
وہ اس سے باتیں کرتا کچن کی طرف چلا گیا
جب کہ اس کے انداز میں سالار کو بالکل بھائی والا پیار محسوس ہوا ۔
اس کے انداز میں کہیں پر بھی دوغلاپن نا تھا ۔
اسے دیکھ کر سالار کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ سچ میں ہی اس کا بھائی ہو
آج پہلی بار وہ اسے سب ذرا سا اچھا لگا تھا ۔
وہ غیر محسوس انداز میں جس طرح آیا اسی طرح فلیٹ سے باہر نکل گیا ۔
♧♧——————————–♧————————–♧
ہارون صاحب سالار کے کمرے میں آئے تاکہ ڈیزائن اسے دکھا سکی
ں لیکن یہاں مہراج کو دیکھ کروہ واپس جانے لگے
سالار انہیں کام دے کر کبھی اس طرح سے غائب نہیں ہوتا تھا اس لیے ان کا حیران ہونا کوئی بڑی بات نہ تھی
ارے ہارون صاحب آئے نہ بیٹھے مہراج کو جس کام پر لگایا گیا تھا وہ تو اس نے کرنا ہی تھا
سروہ میں یہ ڈیزائن سالارسر کو دکھانے کے لئے آیا تھا لیکن شاید وہ کہیں جا چکے ہیں ۔
ہاں دراصل میں نے اسے کام کے لئے بھیجا ہے آپ یہ ڈیزائن رکھیں دکھائے مجھے وہ ہارون صاحب کو بزی کرنے لگا
تو ہارون صاحب اس کے قریب بیٹھ گئے ۔
اور اسے ڈیزائنز کے متعلق بتانے لگے
♧♧——————————–♧————————–♧
سر مجھے یہاں بیٹھے ہوئے کافی دیر ہوچکی ہے میں اپنا فون ٹیبل سے اٹھا کے لے آتا ہوں ہوسکتا ہے میری بیٹی فون کرے ۔
ہارون صاحب جو کب سے مہراج کی بے مقصد باتیں سن رہے تھے کہنے لگے
پر اس کی ضرورت نہیں ہے بس اب کچھ ہی دیر میں چلے جائے گا بس یہ آخری ڈیزائن کا کلر مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا
آپ کو کیا لگتا ہے اس پر کوئی چینج نہ کردیں ۔
وہ ایک بار پھر سے انہیں باتوں میں لگانے کی کوشش کرنے لگا
یہ سالار کا بچہ کہاں رہ گیا ۔
اگر ہارون صاحب نے گھر پہ سیرت کو فون کر دیا تو کہیں ساری پلیننگ پر پانی نہ پھر جائے ۔
مجال ہے جو تھوڑا سا صبر کر لے یہ آدمی ۔اسے ہارون صاحب کی باتیں بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی اسے ڈیزائننگ کے کام سے نفرت تھی اور سالار کی وجہ سے اسے یہی سب کچھ کرنا پڑ رہا تھا
وہ بور ہوکر کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا لیکن اپنے آپ کو اس طرح سے ظاہر کر رہا تھا جیسے ہارون صاحب کی ساری باتیں سن رہا ہوں
تبھی باہر سے سالار کی آواز آئی وہ واپس آ چکا تھا مہراج کی سانس میں سانس آئی
♧♧——————————–♧————————–♧
وہ سیدھا اپنے روم کے اندر آیا مہراج نے اپنا کام بالکل ٹھیک سے سرانجام دیا تھا
ہارون صاحب جو کام میں نے آپ کو دیا تھا وہ ہوگیا وہ مہراج کی چھوڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر پوچھنے لگا
جبکہ مہراج نے فورا اپنے جانے کے لیے باہر کی راہ لی
جی سر تقریبا کام ہو چکا ہے یہ آپ چیک کر لے مہراج سر کو ڈیزائن کے کلر پسند نہیں آ رہے ۔
اگر آپ بھی ایسا ہی چاہتے ہیں تو میں چینج کروا دیتا ہوں وہ فائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بتانے لگے
ویسے ہارون صاحب آپ کا بیٹا کیا کرتا ہے سالار نے فائل دیکھتے ہوئے انہیں مخاطب کیا
سر وہ بھی یہ ایک کمپنی میں کام کرتا ہے ۔ہارون صاحب نے مختصر بتایا
اور آپ کی بیٹی سالار نے پھر سے سوال کیا ۔
جی وہ پڑھتی ہے کالج میں ہارون صاحب نے کہا اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گئے
کونسی کلاس میں سالار نے پھر سے پوچھا ۔
ہارون صاحب نے ایک نظر اس کے چہرے پر دیکھا
بی اے کررہی ہیں سر پہلے سال میں ہے ہارون صاحب نے بتاتے ہوئے اس کی توجہ ڈیزائنز کی طرف دلانے کی کوشش کی
عمر کیا ہے آپ کی بیٹی کی سالار نے ایک اور سوال پوچھا
18 سال کی ہے سر ہارون صاحب کافی دیر سوچتے ہوئے کہا سالار کی باتیں انہیں کچھ عجیب سی لگ رہی تھی وہ مرہاہ کے بارے میں اتنی باتیں کیوں کر رہا تھا
میرے سیرت 19 سال کی ہے بی اے کے سیکنڈ ایئر میں تھی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی ۔
سالار نے بتایا تھا شاید انہیں بتانا چاہتا تھا کہ وہ اسے نہ صرف ایک سال چھوٹا کر رہے ہیں بلکہ اس کی تعلیم کا بھی ایک سال برباد کروا رہے ہیں ہارون صاحب صرف مسکرا دیے ۔
اللہ اسے جنت نصیب کرے ۔۔ہارون صاحب نے ایک ہی جملے میں اسے آگ لگائی تھی ۔
میں دوبارہ آتا ہوں سر ہارون صاحب اٹھ کر باہر چلے گئے ۔
جن تو اللہ تم دونوں باپ بیٹوں کو نصیب کرے گا ۔اگر جنت کے قابل ہوئے تو ۔ سالار غصے سے مٹھیاں بھچتا اپنا موبائل نکال کر مزمل فون کرنے لگا
♧♧——————————–♧————————–♧
سالار بھائی جس طرح سے حنا نے کہا تھا ہم نے سب کچھ ویسے ہی کر دیا ہے
اور جو اسے کھانے میں پسند ہے وہ ہم پرسوں بنا لیں گے ۔
اس کے علاوہ آپ دیکھ لیں اگر کہیں پر بھی آپ کو کوئی کمی لگتی ہے تو بتا دیں ۔
پھر آپ کا کمرہ آیت نے کچھ کہنا چاہا جب سالار نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا ۔
نہیں کمرے کا کچھ بھی مت کرنا وہ جیسا ہے ویسا ہی رہنا چاہیے وہ سیرت جیسا اسے چھوڑ کے گئی تھی ویسا ہی ہے ۔
اور باقی سب کچھ سیرت کے پسند کا کر دو ۔
سالار بھائی آپ سیرت کو حیران کر دینا چاہتے ہیں نہ سب کچھ اس کی پسند کا کرکے جیسا وہ چاہتی ہے آیت نے مسکراتے ہوئے پوچھا
نہیں آیت میں اسے حیران نہیں خوش کرنا چاہتا ہوں ۔
چھ مہینے پہلے اپنی اتنی ساری مصروفیات کو چھوڑ کے وہ صرف اس گھر کو سجانے میں لگی رہتی تھی ۔
میں چاہتا ہوں یہ گھر ویسا ہی ہو جیسا اس نے سجایا تھا اس نے کہا تو سارا بیگم مسکرائی۔
اچھے مہینے سے خوداس گھر کا کونا کونا سنبھال رہی تھی ۔لیکن پھر بھی سیرت کی سوچ اس کے مطابق نہیں کر سکی
کیونکہ گھر بنانا سجانا حسرت کا شوق تھا ۔
جبکہ سارا بیگم صرف اپنی ذمہ داری نبھاتی تھی