Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 14
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 14
بہت بڑی غلطی کی حاشر میں نے تم سے مدد مانگ کر نا تو مجھے یہ چاہیے تھا کہ کسی کو بھی بنا کسی سے پوچھیں سیرت کر یہاں لے آنا چاہے تھا
مجھے تم لوگوں کو بتانا ہی نہیں چاہئے تھا کہ میری سیرت ہے
دیکھ لی میں نے تمہاری محبت سیرت کے لیے یہ تھی تمہاری محبت حاشرتمہیں تو سیرت کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
بس میرے لیے ضروری ہے وہ صرف میری ہے
میں بھی وعدہ کرتا ہوں حاشر قریشی ایک بار اگر میں سیرت کو اپنے پاس لے آیا تو کبھی زندگی میں تمہیں اسے دیکھنے بھی نہیں دوں گا
تم اس کس لئے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کروا سکتے صرف ایک چھوٹا سا ٹیسٹ
ارے ڈوب مرو حاشر قریشی
تم تو اپنی بہن کو بہن تک ثابت کرنے کے لئے تیار نہیں اور میں تم سے امید لیے بیٹھا تھا
اب میں اپنی سیرت کو خود واپس لے کے آؤں گا
اگروہ سیدھے طریقے سے آگئی تو ٹھیک ہے ورنہ میں اسے اپنے طریقے سے لاونگا سالار تیز رفتار میں گاڑی چلاتے ہوئے بڑبڑا رہا تھا
♧♧——————————–♧————————–♧
دیکھو حاشر سالار تمہاری بات کو نہیں سمجھے گا ایک پوائنٹ سے دیکھا جائے کہ تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن ہمیں سیرت کو سیرت بھی تو ثابت کرنا ہے نا
دیکھو پلیز تم سمجھنے کی کوشش کرو ایک ٹیسٹ کروا لینے سے کیا ہوگا اور ہمیں یقین ہے کہ وہ سیرت ہے اس کی زندگی برباد نہیں ہوگی
مہراج مسلسل سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے مان جائے
لیکن حشر نہیں مان رہا تھا
تم چاہتے ہو میں بے غیرت بن جاؤں اپنی بہن کی نظروں میں
بتاؤ مہراج اگر یہاں میری بہن کی جگہ تمہاری بہن ہوتی تو کیا سب ایسا ہی کرتے کیا تم نے سیرت کو اپنی بہن نہیں کہا
کیا میری جگہ تم ہوتے ایک لڑکی کے ساتھ ایسا ہونے دیتے
ایک بار سوچو تو سہی اگر وہ ہماری سیرت نہ ہوئی کیا منہ دکھائے گی وہ اپنے بھائی اور باپ کو ۔۔۔؟
اور گروہ سیرت ہوئی تو کیا میں اپنی بہن کی نظروں میں دیکھنے کے کبھی اس کے سامنے نظریں اٹھا نے کے قابل رہونگا ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
کہ میں اپنی بہن سے یہ کہوں گا کہ تمہیں اپنی بہن ثابت کرنے کے لئے مجھے تمہارا ڈی این اے ٹیسٹ کروانا پڑا
نہیں مہراج میں اتنا نہیں گر سکتا
حاشر نے انکار کرتے ہوئے کہا
سالار پاگل ہے مہراج وہ سیرت کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے اسے سیرت کے علاوہ اور کوئی نظر نہیں آتا ہم پاگل نہیں ہیں
ہمیں اسے سمجھانا چاہے کہ اور بھی بہت سے طریقے ہیں سیرت کو سیرت ثابت کرنے کے ہم اسے اپنی محبت کا احساس دلا سکتے ہیں اسے پرانی باتیں یاد دلانے کی کوشش کر سکتے ہیں یہ کیا طریقہ ہوا ڈی این اے ٹیسٹ کرواؤ
حاشر نے کہا تو مہراج نے اسرار میں سرہلایا
لیکن سالار کو یہ بات کون سمجھائے بات ابھی بھی وہی کی وہی تھی
♧♧——————————–♧————————–♧
سالار کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا
اس نے کمرے کے ہر چیز کو توڑ دی ۔
کسی سب سے زیادہ غصہ حاشر پہ آ رہا تھا
جو اتنے اہم معاملے میں اس کے ساتھ نہیں تھا اسے رہنے کر حاشر کی باتیں یاد آ رہی تھی
لیکن سالار کے مسئلہ کا حل صرف سیرت تھی
اسے سیرت چاہیے تھی کسی بھی قیمت پر اور سیرت کو اپنے پاس لانے کا آخری طریقہ صرف حاشر تھا
اور حاشر تھا جس کی بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھا
♧♧——————————–♧————————–♧
تمہاری پڑھائی کیسی جارہی ہے گڑیا کچھ دن میں تمہارے پیپرزا سٹارٹ ہونے والے ہیں اچھے سے تیاری کرنا
اور اس کے بعد میں چاہتا ہوں ہم آپس چلے جائے وہی میں پھر کوئی اچھی جاب ڈھونڈ لوں گا اور بابا تو ویسے بھی جاب چھوڑ دینا چاہتے ہیں
میں نہیں چاہتا کہ ہم مزید یہاں پر روکے
ویسے کل صبح بابا جا رہے ہیں آفس اور مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ بابا کو اس نوکری سے نکال دیں گے تم ہمارا سامان پیک کر دینا بابا کی جاب کے ساتھ ہمیں یہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا
اسد نے بتایا
بھائی یہ فلیٹ کتنا اچھا تھا میرے کالج کے بھی قریب تھا اور آپ بھی آفس جلدی پہنچ جاتے تھے ہمیں اتنی جلدی میں نیا گھر ملے گا کیسے ۔۔۔۔۔مرہاہ نے پریشانی سے پوچھا
تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میرا بچہ میں ڈھونڈ لوں گا نیا گھر
تم بس سامان پیک کرکے رکھنا ۔
بلکہ ایسا کرونگا کہ صبح میں بھی جلدی واپس آنے کی کوشش کروں گا پھر مل کے سارا کام کرلیں گے اسدنےاس کی مشکل آسان کرتے ہوئے کہا تو وہ مسکرائی
ٹھیک ہے جیسا آپ کو بہتر لگے
♧♧——————————–♧————————–♧
مہراج اور ایت کا آج حاشر کے گھر پہ بھی رکنے کا ارادہ تھا حاشر کب سے سوچے جا رہا تھا کہ اس سالار کی بات مانی چاہیے یا نہیں
اس کے دل میں بھی سیرت کو دیکھنے کی شدت سے خواہش اگلے ہفتے اس کا برتھ ڈے تھا
اور اپنے اگلے برتھڈے پر نہ جانے کتنی ھی فرمائشیں سیرت نے اس سے کی تھی
اس کا بھی بہت دل چاہ رہا تھا کہ وہ سیرت کو دیکھنے جائے لیکن وہ لوگ اسے اپنی مرہاہ بتاتے تھے کیا وہ اس سے ملے دینگے کیا سیرت اس سے ملے گی حاشر کے دل میں کہی سوال اٹھے جب باہر گاڑی رکھنے کی آواز آئی
اگلے کچھ سیکنڈ میں سالار اندر داخل ہوا
حاشر کا سارا دھیان اسی کی طرف ہے جبکہ مہراج بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ ابھی ابھی کھانا کھا کے فارغ ہوئے تھے
منت کا ارادہ پری کو سلانے کا تھا
جسے وہ بھی روم میں لے کر جا رہی تھی
منت بھابی مجھے پری کو تھوڑی دیر باہر لے کے جانا ہے
اس نے منت کو پری کو لے جاتے ہوئے دیکھ کر کہا
اور اگلے ہی لمحے اسے اٹھا کر جانے لگا جب حاشر نے اس کا راستہ روکا
دیکھو سالار اگر تم میں لگتا ہے کہ ہمارے پاس بس یہی ایک طریقہ ہے سیرت کو سیرت ثابت کرنے کا تو حاشر تھوڑی دیر رکا
تو میں تیار ہوں
کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ میں کبھی اس کا سامنا نہیں کر پاؤں گا ٹھیک ہے کم از کم تمہیں تمہاری سیرت مل جائے گی نہ ۔۔
ہم سب کو یہ تو پتہ چل جائے گا کہ ہمارے زندہ ہے میرے لئے بس اتنا ہی کافی ہے ۔ممیں ڈی این اے کروانے کے لیے تیار ہوں حاشر نے سے دیکھتے ہوئے کہا
جبکہ سالار جانتا تھا کہ وہ صرف اس کے لئے سب بول رہا ہے جبکہ اس کا دل ٹیسٹ کروانے کے لیے مطمئن نہیں ہے
وہ کیا ہے نہ حاشر میں نے بہت سوچا کہ تم میرا ساتھ کیوں نہیں دے رہے وہ تمہاری بہن ہے تم مجھ سے محبت کرتے ہو
تو پھر تم ٹیسٹ کروانے کے لیے تیار کیوں نہیں ہو۔
پھر مجھے تمہاری بات یاد آئی کہ ہم سیرت کو اور بھی بہت سے طریقوں سے سیرت ثابت کرسکتے ہیں ضروری نہیں کہ ہم اس کی پہچان پر سوال اٹھائیں
پھر کیا تھا میری جان میں نے سوچ لیا کہ سیرت کو میں اپنے طریقے سے سب کچھ یاد کرواؤں گا ۔
سیرت ہمارے پاس واپس آئے گی حاشر اور یقین مان تجھے کبھی اس کے سامنے سر نہیں جھکا نا پڑے گا
سالار نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پری کو باہر لے جانے لگا
اس وقت اسے کہاں لے کے جا رہا ہے اس کے سونے کا وقت ہے حاشر نے کہا
میں نے اور پری نے سیرت کو واپس لانے کے لئے تھوڑی سی پلاننگ کرنی ہے اس لئے ہم لونگ ڈرائیو پہ جارہے ہیں بعد میں سے سلا دینا
پری ڈارلنگ بابا کو بائے بولو ۔۔۔۔سالار نے محبت سے پری سے کہا
تو پری اپنا ننھا سا ہاتھ ہلاتی اسے بائے بائے کرنے لگی
جس پر حاشر مسکرا کے ایسے بائے کیا
