Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 30
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 30
سالار سیرت کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے ساری رات اس کے قریب رہا ۔
اس نے اسے زیادہ تنگ نہ کیا تھوڑی دیر میں سیرت گہری نیند سو چکی تھی ۔
لیکن اس احساس نے کہ سیرت اس کے قریب ہے اسے ساری رات سونے نہ دیا ۔
اسے وہ صبح یاد آئی جب سیرت پہلی بار اس کے قریب آئی تھی اور صبح اس سے نظریں نہیں ملا رہی تھی ۔
اور اس وقت بھی وہ شاید یہ محسوس کر چکی تھی کہ سالار اسے دیکھ رہا ہے اسی لئے جاگنے کے باوجود بھی آنکھیں نہیں کھول رہی تھی ۔
سیرت اگر تم نہیں اٹھی نہ اب تو میں تمہیں اپنے طریقے سے جگاؤں گا ۔
وہ اسے ڈرانے والے انداز میں بولا
لیکن سیرت نے کوئی اثر نہ لیا ۔
بلکہ بلینکیٹ اپنے چہرے پر کھینچنے لگی ۔
نہیں جانم یہ اتنا آسان نہیں ہے اب مجھ سے چھپنا تمہارے بس کی بات نہیں سالار نے بلینکیٹ واپس اس کے چہرے سے کھینچا ۔
آپ کیا پہلے بھی اسی طرح سے مجھے تنگ کرتے تھے وہ بلینکیٹ نیچے کرکے سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ چہرے پر بکھری ہوئی سرخی سالار کو گستاخیوں پر اکسا رہی تھی
نہیں جانم پہلے تم میرے دل کی ہر بات سمجھتی تھی تب تمہیں معلوم تھا کی سالار شاہ کیسا ہے اور کس حد تک جاسکتا ہے وہ اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے بولا ۔
مطلب آپ ہمیشہ سے ایسے ہی بے شرم ہیں ۔سیرت نےاسے خود سے دور کرنے کی ناکام سی کوشش کی ۔
تب بھی بے شرم تھا لیکن اتنا نہیں تمہاری دوری نے مجھے بہت کچھ بنا دیا ہے وہ اس کی راہ فرار بند کرتے اس کے دونوں ہاتھ تھامے ہوئے اس پر جھک چکا تھا۔
سیرت کو لگا کے اب وہ اس سے نہیں بچ سکتی اسی لیے اسے حاموشی سے اس کی من مانی کرنے دی
••••••••••••••••
حاشر اور منت اس کا ناشتہ لے کر آئے ساری رسم بالکل اسی طرح سے ہورہی تھی جس طرح سے کوئی عام شادی
آیت اور مہراج رات سے انہیں کے گھر پر تھے ۔
جب صبح حنا ان کے گھر آئی۔
حنا کو دیکھ کر سیرت جہاں خوش ہوگئی وہی دریا کو اس کے ساتھ دیکھ کر اسے عجیب لگا وہ اس لڑکی کو پہچان تو نہیں پائی تھی لیکن اتنا سمجھ چکی تھی کہ وہ اچھی نہیں ہے یا شاید وہ اسے غلط سمجھ رہی تھی لیکن نہ جانے کیوں اسے دریا سے عجیب سا خوف آنے لگا
جبکہ سب حنا کو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے جیسے پوچھ رہے ہوں کہ اسے یہاں کیوں لائی ہو ۔
بابا کیسی ایئرپورٹ میٹنگ کی وجہ سے کچھ دن کے لیے یے لنڈن گئے ہیں اس لئے دریا کو سنبھالنے کے لئے کوئی نہیں ہے میں پاکستان میں ہی تھی بابا نے مجھ سے کہا دریا کا خیال رکھنے کے لیے کہا تو میں انکار نہیں کر پائی
آپ سب کو تو پتہ ہی ہے دریا کی کنڈیشن کیا ہے ۔
حنا نے بات سمجھانے کی کوشش کی
لیکن حنا بھابھی آپ جانتی ہیں نا کہ دریا سالارکو دیکھ کر اب ان نورمل بہیو کرتی ہے ۔
میرا خیال ہے آپ کو اسے یہاں نہیں لانا چاہئے تھا مہراج نے کہا
لیکن مہراج بھائی میں اسے اکیلے گھر پر بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی وہ پہلے بھی تین بار خودکشی کرنے کی کوشش کر چکی ہے ۔
بابا اسے میرے پاس چھوڑ کر گئے ہیں انہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے میں ان کا بھروسہ توڑ تو نہیں سکتی زاویار کو بھی برا لگتا ۔حنا نے بے بسی سے کہا تو مہراج خاموش ھوگیا ۔
ٹھیک ہے لیکن کوشش کرنا کیا یہ سیرت سے دور رہے مہراج جانتا تھا کہ اب دریہ پہلے جیسی نہیں رہی نہ تو وہ پہلے کی طرح ضد کرتی ہے نہ ہی وہ بدتمیز رہی ہے اور نہ ہی اب وہ سیرت کی دشمن ہے لیکن پھر بھی مہراج کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا ۔
جب کہ دریا کو یہاں دیکھ کر سالار کا غصہ بھی وہ سمجھ چکا تھا
••••••••••••••••••√
سالار پلیز بات کو سمجھنے کی کوشش کرو حنس مجبوری میں اسے یہاں لے آئی ہے ورنہ کیا وہ ایسا کر سکتی تھی ۔
دیکھو وہ زیادہ دیر یہاں نہیں رکے گی ۔
کل ویسے بھی کل تو ہم سب گاؤں جا رہے ہیں نا مہراج نے سمجھانا چاہا
توحنا بھی تو ہمارے ساتھ جا رہی ہے وہ دریا کو کہاں چھوڑ کے جائے گی مہراج ایک بات کان کھول کر سن لو میں اس لڑکی کو کل اپنے ساتھ گاؤں ہرگز نہیں لے کے جاؤں میں اسے برداشت نہیں کر سکتا
پتہ نہیں یہ چڑیل کب میرا پیچھا چھوڑےگی سالار اسے اپنے گھر میں دیکھ کر بری طرح سے چرچکا تھا
جس دن سے اس نے سیرت پر ہاتھ اٹھایا تھا وہ اس سے نفرت کرنے لگا تھا وہ اس کی سیرت کو مارنا چاہتی تھی اس کے پاگل پن کے بارے میں تو وہ بچپن سے ہی جانتا تھا ۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ دریا سیرت اور سالار کو ایک ساتھ دیکھ کر کچھ الٹا سیدھا کر دے
یہ تو اب وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ ان دونوں کو نقصان نہیں پہنچائے گی کیونکہ اب وہ اپنا نقصان کرتی تھی
وہ تین بار خودکشی کرنے کی کوشش کر چکی تھی اور فی الحال وہ سیرت کی یادداشت واپس لانا چاہتا تھا وہ اس کے سامنے ایسا کچھ نہیں ہونے دے سکتا تھا جس سے وہ ٹینشن لے
•••••••••••••••••••
سالار کمرے میں آیا تو سیرت ایک ڈریس اپنے ساتھ لگائے شیشے میں خود کو دیکھ رہی تھی ۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس آیا اور اس کے گرد اپنی باہوں کا گھیرا بنایا ۔
یہ آئینہ تمہیں نہیں بتا سکتا سیرت کہ تم کتنی خوبصورت ہو کیوںکہ اس آئینے کے پاس سالارشار کی آنکھیں نہیں ہیں۔
افف اسےخود پر جھکتا دیکھ کر سیرت نے فوراً اپنا بچاوکرنا چاہا لیکن الٹا اس کی باہوں میں بری طرح سے قید ہو کر رہے گئی
آپ کوئی بھی موقع جانے نہیں دیتے ہاتھ سے اتنا رومینس کیسے سوجتا ہے آپ کو وہ اپنا آپ اس کی باہوں سے چھڑاتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
وہ کیا ہے نہ جانم میں ایک بہت ہی شریف سا بچہ ہوں لیکن تمہیں دیکھتے ہی بدمعاش بچہ بن جاتا ہوں اب تم میں ہی کچھ گڑبڑ ہے ۔ یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوتا ہے میری کوئی غلطی نہیں وہ اس کے لبوں پر جھکتا ہوا محبت کی مہر لگاتا محبت سے بتا رہا تھا انداز میں شرارت ہی شرارت تھی جبکہ سیرت سوائے شرمانے کے اور کچھ نہیں کر پا رہی تھی ۔
اس کے ہوںٹھوں کو بخشتا سالار پیچھے ہٹا ۔
جلدی سے اپنا سامان پیک کرو کل ہم لوگ گاؤں جا رہے ہیں کچھ وقت صرف تمہارے ساتھ گزارنے کے لیے لیکن میں صدقے جاؤں اپنی بیوی کے جس نے ہمارے چھوٹے سے ہنیمون کی پلاننگ کو پوری فیملی ٹرپ بنا دیا ۔
سالار نے اسے گھورتے ہوئے کہاتو وہ شرارت سے مسکرائی کیونکہ سالار نے اس کے ساتھ اکیلے گاؤں جا نے کا پلان بنایا تھا جس میں اس نے سب کو یہ کہہ کر شامل کردیا کہ سب چلتے ہیں بہت مزہ آئے گا ۔
۔سالار نے اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے کچھ نہیں کہا لیکن یہ وہ اس کے ساتھ اکیلے میں ٹائم سپینڈ کرنا چاہتا تھا
•••••••••••••••••
حاشر کیا یہ دریا بھی ہمارے ساتھ جائے گی میرا مطلب ہے مجھے یہ لڑکی کچھ ٹھیک نہیں لگتی منت تےکہا ۔
ٹھیک تو مجھے بھی نہیں لگتی منت لیکن حنابھی تو ہمارے ساتھ آ رہی ہے اور حنا اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی وہ اس کی ذمہ داری ہے ۔
اور ہم سب ہیں نہ وہاں سالار اور سیرت کے ساتھ تم گھبراؤ مت کچھ نہیں ہوگا ۔
وہ حنا کے ساتھ جا رہی ہے ہم لوگوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔حاشر نے سمجھاتے ہوئے پری کو گود میں اٹھایا اور اس کے ساتھ کھیلنے لگا جبکہ منت کو دریا کا اس طرح سے ان کے ساتھ آنا بھی کوئی پسند نہ آیا تھا
عجیب سی لڑکی تھی ہر وقت سالار کو گھورتی رہتی تھی ۔
پر اب جب سے یہاں آئی تھی تب سے سیرت کو گھور رہی تھی ۔
اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ پھر سے سیرت کے ساتھ کچھ غلط نہ کردے کیوں کہ اس کے پاگل پن کی وجہ سالار تھا
•••••••••••••••
آیت کیا ہو گیا ہے تمہیں ذرا سی بات کو لے کر اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو مہراج اس کے قریب بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا جو دریا کے یہاں آنے کی وجہ سے بہت چری ہوئی تھی
مجھے زہر لگتی ہے وہ لڑکی مہراج نہ جانے کیوں وہ یہاں آئی ہے آخر چاہتی کیا ہے وہ ۔
جب بھی ہم لوگ خوش ہوتے ہیں اپنی کالی نظر لے کر یہاں آ جاتی ہے آیت کا غصہ کسی طرح کم نہیں ہو رہا تھا
یہ سالار بھائی اور سیرت کو خوش دیکھ ہی نہیں سکتی کہاں تھی وہ چھ ماہ سے وہی رہتی نہ سیرت کی واپسی کی خبر ملتے ہی یہاں پہنچ ائی ہے مجھے تو لگتا ہے سیرت کا غائب کرنے میں بھی اسی چڑیل کا ہاتھ ہے آیت غصے سے بولی ۔
کیا ہوگیا ہے آیت آہستہ بولو وہ سن لے گی اسے برا لگے گا اب وہ پہلے کی طرح نہیں رہی مہراج نے سمجھانا چاہا ۔
نہیں وہ ویسی ہی ہے آپ نے دیکھا نہیں ہو سالار بھائی اور سیرت کو کس طرح سے گھور رہی تھی مہرآج مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے مجھے لگ رہا ہے جو کچھ بھی ہوا ہے وہ سب کچھ اسی نے کروایا ہے ۔
لیکن ایت یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم دریا کو غلط سمجھ رہے ہوں۔ مہراج اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا
مع
ہراج مجھے تو سمجھ نہیں آرہا کہ حنا اسے یہاں لے کر کیسے آ سکتی ہے جبکہ وہ جانتی بھی ہے کہ وہ سیرت کے ساتھ کیا کیا کر چکی ہے لیکن پھر بھی اس کو اس طرح اسے یہاں لے آئی
کیا حنا بھول گئی کہ اس نے حنا کے ساتھ کیا ۔۔۔آیت نے بولتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا جہاں حنآ کھڑی اس کی باتیں سن رہی تھی ۔ حنا نے آہستہ سے کمرے میں قدم رکھا اور اس کے سامنے آکر رکی
نہیں آیت آپی میں کچھ نہیں بھولی مجھے سب یاد ہے کہ اس نے میرے ساتھ کیا کیا تھا ۔
جتنا نقصان اس نے میرا کیا ہے اتنا کسی کا نہیں کیا
لیکن ہمیں گناہ سے نفرت کرنی چاہیے گنہگار سے نہیں دریا اپنی ساری غلطیوں پر پچھتا رہی ہے وہ بدل چکی ہے پلیز میرا یقین کریں اس نے جو کچھ میرے ساتھ کیا وہ اس کی معافی بھی مانگ چکی ہے ۔ہمیں اس سے نفرت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے ایک نورمل ماحول دینا چاہیے تاکہ وہ ٹھیک ہو سکے ۔
حنانے اسےسمجھانے کی ایک ناکام سی کوشش کی جبکہ صاف ظاہر تھا کے آیت اس کی بات کو سمجھنے کی بالکل کوشش نہیں کر رہی اس کی نظروں میں دریا غلط تھی تو مطلب تھی ۔
•••••••••••••••
سالار نہا کر باہر نکلا تو سیرت خود میں الجھی اپنا ہاتھ پیچھے کمر کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
وہ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اس کے قریب آیا ۔
کیا ہوا سیرت اس طرح سے اچھل کیوں رہی ہو وہ اسے دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا ۔
میں اچھل نہیں رہی ہو مجھے ایچنگ ہو رہی ہے پیچھے وہ اپنا ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے لے جانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جبکہ سالار مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ۔
میں کچھ ہیلپ کرو سالار نے آفر کی ۔
نہیں آپ ہیلپ کے چکر میں کیا کریں گے سب جانتی ہوں میں وہاں سے گھورتے ہوئے اپنے کام میں دوبارہ مصروف ہو چکی تھی لیکن ہائے یہ کمبخت ہاتھ جو پیچھے پہنچ ہی نہیں رہا تھا ۔
اچھا جی ایک ہی رات میں سمجھ گئی سالار نء مسکراتے ہوئے اس کی بات پکری تھی
سالاراس وقت مجھے تنگ نہ کریں میں بہت بیزی ہوں
سلار بڑے مزے سے اس کی باتیں سنتے ہوئے اس کی اچھل کود دیکھ رہا تھا
اچھا ادھر آؤ میں کچھ نہیں کروں گا صرف مدد کروں گا تمہاری قسم یہ کام میں بہت ہی مانداری سے کروں گا شاید وہ اس پر یقین نہ کرتی اگر وہ اس کی قسم نہ کھاتا تو ۔
سالار آہستہ سے اس کے قریب آیا ۔
اور اپنے ہاتھ سے اس کی کمر سہلانے لگا۔
اب ٹھیک ہے ۔۔۔سالار نے بنا بےایمانی کے ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہوئے پوچھا تو سیرت نے آہستہ سے گردن ہاں میں ہلائی
تھینک یو
اوچ ۔۔۔سیرت الماری کی طرف بھر رہی تھی جب سالار کی آواز آئی
کیا ہوا سالارآخ ٹھیک تو ہیں ۔
سیرت اب مجھے ایچنگ ہو رہی ہے ۔سالار نے بے بسی سے کہا توسیرت اپنے ڈیمپل دیکھاتی خوب ہنسی
میں آپ کی طرح رحم دل نہیں ہوں مسٹر سالار شاہ مجھے آپ پر بلکل ترس نہیں آئے گا میں تو مدد نہیں کروں گی وہ ہنستے ہوئے اس کے سامنے بڑے مزے سے اس کی حالت دیکھ رہی تھی لیکن اس کے مقابلے میں سالار کوئی اچھل کود نہیں کر رہا تھا ۔
اچھا بتائیں کہاں ہو رہی ہے ایچنگ میں ہلیپ کرتی ہوں سیرت نے احسان کرنے والے انداز میں کہا ۔
جب سالار نے بڑے مزے سے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی یہاں ۔
پر اب جس طرح سے میں نے ایمانداری سے تمہاری ہیلپ کی اسی طرح سے تمہیں بھی ایمانداری سے میری ہیلپ کرنی ہوگی سالار مسکراتے ہوئے اس کے قریب آیا اور اس کے بھاگنے سے پہلے ہی اسے پکڑ کر اپنی باہوں میں لے لیا ۔
اگر کوئی آپ کی مدد کرے تو بدلے میں آپ کو بھی اس کی مدد کرنی چاہیے ۔
وہ اس کے لبوں پر جھکتا ہوا اپنی خودساختہ مدد کرنے لگا ۔
اور پھر جب تک سیرت نے اپنے شرمانے کا شغل فرمایا سالار نے بڑے مزے سے اسے باہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا ۔
سالار آپ بہت بے شرم ہے وہ اس کی گستاخیوں سے گھبراتی اس کے سینے میں منہ چھپاتی آہستہ سے بولی ۔
تمہاری سوچ سے زیادہ سالار نے اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے کہا ۔آج رات وہ اس پر اپنی تمام تر شدتیں لٹانے کا ارادہ رکھتا تھا
