Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 32
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 32
سب لوگ گاؤں پہنچ چکے تھے لیکن سیرت اور سالار ابھی تک نہیں آئے ۔
ان لوگوں نے شارٹ راستہ لیا تھا ۔
جبکہ مہراج آیت کو پہلے ہی بتاچکا تھا کہ ان لوگوں نے لیٹ پہنچنا ہے ۔
سفر نے سب کو اچھا خاصہ تھکا دیا تھا ۔
اس کی وجہ سے سب ہی اپنے اپنے کمرے میں آ کر تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتے تھے ۔
در یا تم بھی تھوڑی دیر آرام کر لو حنا نے دریا سے کہا
نہیں بھابھی میں تھکی نہیں ہوں آپ جائیں آرام کریں میں بالکل ٹھیک ہوں ۔
دریا نے اپنے لہجے کو نارمل رکھنے کی کوشش کی جیسے حنا نے بہت نوٹ کیا تھا
حنا کو لگ رہا تھا کہ وہ یہاں کر خوش نہیں ہے
حنا نے یہی سوچا تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ یہاں نہیں آئے گی بلکہ دریا کے ساتھ گھر پر روکے گی لیکن زاویار نےفون کرکے کہا ۔
کوشش کرو کہ دریا بھی تم لوگوں کے ساتھ ہی چلی جائے ورنہ اکیلے رہ کر کیا کروگی زاویار کو پتا تھا کہ وہ سیرت کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے ہی پاکستان گئی ہے ۔
ایسے میں حنا کو دریا کا بھی خیال رکھنا پڑ رہا تھا ۔
اسی لیے زاویار نے اس کا احساس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضرور جائے ۔
ورنہ دریا کو یہاں لانے کا حنا کا کوئی ارادہ نہ تھا
سالارکے اوف موڈ کی وجہ بھی وہ جانتی تھی
دریا پہلے جیسی نہیں تھی وہ کافی حد تک نارمل ہوچکی تھی اس کا علاج بھی کامیاب ہوچکا تھا
لیکن پھر بھی حنا وہ دن نہیں بھولا سکتی تھی جب اس نے اپنا بچہ کھویا تھا
اور سالار کو حاصل کرنے کے لئے سیرت پر ہاتھ بڑھایا تھا ۔
جب دریا کو ہسپتال سے گھر لایا گیا تھا اس نے رو رو کر حنا سے معافی مانگی تھی اور زاؤ یار کے کہنے پر حنا نے اسے معاف کر دیا تھا ۔
••••••••••••••••••
پتا تھا مجھے آپ کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے اس لیے نہیں آ رہی تھی آپ کے ساتھ ۔
صبح سے شام اور شام سے اب رات کا اندھیرا چھانے لگا تھا ۔
لیکن سالار کو تو جیسے موقع مل گیا تھا سیرت کے ساتھ اکیلے وقت گزارنے کا ۔
سیرت نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ راستہ اتنا لمبا ہو جائے گا ۔
سالار نے راستے میں اسے ایک ہوٹل سے کھانا بھی کھلایا اور وہی ہوٹل کے روم میں دونوں نے تھوڑی دیر آرام بھی کیا کیونکہ سیرت کافی تھک چکی تھی ۔
نجانے کون کون سا شارٹ راستہ کہہ کر سالار اسے کہاں لے کے لایا تھا ۔
جبکہ اب اندھیرا ہونے سے پہلے سالار نے بتایا کہ صرف ایک گھنٹے میں وہ لوگ حویلی پہنچ جائیں گے تو سیرت چر کر بولی ۔
اس طرح سے وہ غصہ کرتی اتنی کیوٹ لگ رھی تھی کہ سالار مسلسل اسے دیکھ مسکراتے ہوئے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔
آج کا سارا دن سیرت کو بے وقوف بنا کر اس نے سارا دن سیرت کے ساتھ گزار لیا تھا وہ بھی بالکل اکیلے ۔
دو تین بار تو سیرت نے کہا کہ میرے خیال میں راستہ اس طرف ہے ۔جس پر سالار نے حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کیا ہو گیا ہے تمہیں راستہ اس طرف ہے ۔
جبکہ ایک بات وہ سمجھ چکا تھا کہ سیرت کو زیادہ نہ سہی لیکن کچھ چیزیں واپس یاد آ رہی ہے ۔
اور ڈاکٹر نے ویسے بھی کہا تھا کہ آہستہ آہستہ ہی اس کی یادداشت واپس آئے گی اس لئے کسی بھی چیز پر زیادہ زور نہ دیا جائے ۔
پھر آخر وہ ایک گھنٹہ بھی مکمل ہوا اور وہ لوگ حویلی آ پہنچے ۔
وہ سب لوگ رات کا کھانا کھا رہے تھے ۔
مہراج نے راستے میں دو تین بار اسے فون کیا تو اس نے یہی کہا کہ وہ دیر سے آئیں گے ۔
اب وہ واپس آئے تو آیت ان سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھنے لگی ۔
جس پر سالار نے مہراج کو اشارہ کیا کہ اپنی بیوی کا منہ بند کرو ائے ۔
اس پر عمل کرتے ہوئے مہراج نے فورا آیت کو آگے پیچھے باتوں میں لگانا شروع کردیا لیکن حنا مسکرائے جا رہی تھی ۔
اور دریا خاموشی سے ان دونوں کو دیکھتی ان کی باتیں سن رہی تھی
اور پھر جب حنا اورسیرت اکیلے بیٹھی تب حنا نے سیرت سے پوچھ ہی لیا کہ آخر وہ سارا دن کہاں تھے اور کیا کرتے رہے ۔
جس پر سیرت نے ہمیشہ کی طرح حنا کو اے ٹو زیڈ سب کچھ بتا دیا ۔
••••••••••••••••
کھانا کھانے کے بعد بنا کسی کو بتائے اور بنا کسی سے پوچھے سیرت خود اپنے کمرے میں چلی گئی
سیرت کو اپنے کمرے کے بارے میں کس طرح سے یاد آیا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی
کمرے میں پہنچ کر وہ خود بھی کنفیوز تھی کہ وہ اس کمرے میں خود بخود کیسے آ گئی جبکہ اس کے مطابق وہ یہاں پہلے کبھی نہیں آئی تھی
سالار کا کمرہ بہت سارے کمروں کے بیچ میں تھا ایسے میں اسے کیسے پتہ چلا کہ یہی کمرا اس کا ہوگا
اسے لگا تھا کہ سالار یہاں آکر کمرے کے بارے میں پوچھے گا لیکن سالار نے کمرے میں آکر کچھ بھی نہ پوچھا ۔
ایسا نہیں تھا کہ سالار نے اس کا اس طرح کمرے میں آنا نوٹ نہیں کیا تھا
بلکہ وہ کسی بھی چیز پر زور نہیں دینا چاہتا تھا کہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اگر بار بار سیرت کو یہ بات یاد دلائی جائے گی کہ وہ اپنی یاداشت کھو چکی ہے اور اسے کچھ بھی یاد نہیں ہے یہ یاد نہیں آئے گا یا کبھی یاد آئے گا اس طرح کی باتیں اسے کنفیوز کریں گی
جس سے وہ ٹینشن لے سکتی ہے
اسی لئے سالار نے اس کے سامنے اس طرح ری ایکٹ کیا جیسے کہ اسے کچھ پتہ ہی نہیں ۔
اسی لئے سیرت نے بھی اسے اس بارے میں کوئی بات نہ کی ۔
سالار یہاں کوئی ندی ہے کیا __؟
سیرت نے اس کے سینے میں پر سر رکھے ہوئے پوچھا
ہاں ہے کیوں تمہیں جانا ہے وہاں سالار نے محبت سے پوچھا
ہاں مجھے ندی دیکھنی ہے چلے نہ چلتے ہیں سیرت نے فورا کہا
صبح چلے جانم اب اندھیرا ہوچکا ہے ۔
ٹھیک ہے پھر کل سب سے پہلے ہم و ہی جائیں گے ۔سیرت واپس اس کے سینے پر سر رکھ دیتے ہوئے بولی ۔
مجھے سمندر بہت اچھا لگتا ہے سالاروہ بولی تو سالار مسکرایا ۔
جانتا ہوں اور اس سمندر سے بھی زیادہ تمہیں اچھا لگتا ہے ننگے پیر سمندر کی ریت پر چلنا ۔
پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کے زمین کو دیکھنا ۔
تمہیں جہاز کا سفر پسند ہے لیکن تمہیں ڈر بھی بہت لگتا ہے ۔تمہارا فیورٹ گانا بہت پیار کرتے ہیں تم سے صنم ہے ۔
تمہیں پرانی فلمیں پسند ہے ۔تمہیں انگلش فلمیں نہیں پسند تم چوری چوری ناول پڑھتی ہو ۔ یہ چاہتیں یہ شدتیں تمہارا فیورٹ ناول ہے
تمہارا فیورٹ کلر پرپل ہے لیکن میری وجہ سے تم ریڈ زیادہ پہنتی ہو ۔
سالار بولے جا رہا تھا جبکہ سیرت منہ کھولے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی
یہ سب کچھ آپ کو کیسے پتہ سیرت نے حیرت سے پوچھا
مجھے نہیں پتہ ہوگا تو پھر کس کو پتہ ہوگا سالار نے اس کا سر پھر سے اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا ۔
آپ بہت بڑے چھپے رستم ہیں کس نے بتایا آپ کو یہ سب کچھ ۔۔۔سیرت پھر سے پوچھنے لگی
پیار کرنے والوں کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ محسوس کر لیتے ہیں ۔کہ ان کی محبت ان سے کیا چاہتی ہے ۔وہ مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرنے لگا ۔
جب سیرت نے فورا اس کے سینے پر سر رکھا سو جائیں مجھے بہت نیند آ رہی ہے ۔
اس کا ارادہ سمجھتے ہی وہ رائے فرار اختیار کر گئی ۔
سالار نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لیا
••••••••••••••••••
رات کا جانے کونسا پہر تھا جب سیرت کی آنکھ کھل گئی ۔
اسے سخت پیاس لگی تھی ۔
اور کمرے میں پانی نہیں تھا ۔
اس نے ایک بار سالار کو جگانا چاہا پھر سوچا کہ اگر شام کو بنا کسی کے بتائے ہوئے ہو یہاں آ سکتی ہے تو کچن میں بھی اکیلے جاسکتی ہے
سیرت آہستہ سے سالار کے حصار سے نکلی اور باہر آگئی ۔
اسے محسوس ہوا جیسے اس کے پیچھے کوئی چل رہا ہے ۔
لیکن پیچھے کوئی نہیں تھا ۔
کیا ہوگیا ہے سیرت یہاں کوئی جن بھوت نہیں ہوسکتا سیرت نے اپنے دماغ کو جھٹکا ۔
پر جلدی سے کچن میں آئی ۔لیکن کچن سے باہر ہی اسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اندر ہے ۔
کچن میں کوئی دوسری طرف پیٹھ کیے کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں کوئی چیز کی
اس نے اس میں ایک لمحہ لگایا تھا اسے پہچاننے دریا ہاتھ میں چاقو لئے اس کی طرف مڑی
اسے اس طرح سے دیکھ کر سیرت گھبرا کر پیچھے ہٹی ۔
تم ۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔
سیرت نے ہمت کرکے اس سے پوچھنا چاہا ۔لیکن وہ خاموشی سے ایک ایک قدم اس کی طرف بڑھا رہی تھی ۔
سیرت نے پیچھے مڑ کر جانا چاہا جب وہ کسی سے ٹکرائی ۔اپنے پیچھے کسی کو محسوس کرکے اس کی چیخ نکل گئی ۔
کیا ہوگیا سیرت میں ہوں حنا۔ ۔۔ حنا اسے تھمے ہوئے بولی جبکہ دریا اب اسی چاقو سے فروٹ کاٹ رہی تھی
دریا نے شام کو کھانا نہیں کھایا تھا اس لیئے اسے اب بھوک لگ رہی تھی ۔
جو بھی کھانا بچا تھا وہ سارا نوکر چلے گئے ہیں اسی لیے میں نے دریا سے کہا کہ وہ فروٹ کھا کے گزارا کر لے ۔
لیکن تم اس طرح سے ڈر کیوں گئی میں تمہارے پیچھے ہی تو آ رہی تھی ۔حنا نے اس طرح سے سے گھبراتے دیکھ کر پوچھا شاید وہ دریا سے گھبرا گئی تھی
میرے پیچھے تم تھی مجھے لگا کوئی بھوت ہے سیرت نے معصومیت سے کہا تو وہ مسکرائی۔
پھر خود ہی اس کے جگ میں پانی ڈالا اور اسے کمرے تک بھی چھوڑ کے آئی ۔
بہت ڈرپوک ہوتی جارہی ہو سیرت ۔بہادر بنو میری جان ۔یہ بھوت تمہارا کیا بگاڑ سکتے ہیں تم تو خود بھوتنی ہو حنا اسے کمرے کے باہر چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئی ۔
جبکہ خود کو بھوتنی جیسا لقب ملتے ہی سیرت نے اس کے پیچھے آنا چاہا ۔
لیکن اس وقت حویلی بالکل سنسان تھی میں صبح تم سے بدلہ لوں گی اس نے حویلی کے سناٹے کو دیکھتے ہوئے اپنے کمرے میں جانا بہتر سمجھا ۔
اور پھر جگ ٹیبل پر رکھ کر سالار کے ساتھ واپس لیٹ گئی ۔لیکن اس کے بیڈ پر لیٹتے ہی سالار نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا مطلب صاف تھا کہ وہ اس کے جاتے وقت بھی جاگ رہا تھا ۔
لیکن جان بوجھ کر نہیں اٹھا ۔
سالار سے بنا کچھ کہے وہ دریا کے بارے میں سوچنے لگی نجانے کیوں وہ لڑکی اسے اتنی مشکوک لگتی تھی ۔
••••••••••••••••••••
صبح ہوتے ہی سالار اپنے وعدے کے مطابق اسے ندی پر لایا تھا ۔
سالار یہ کتنی خوبصورت جگہ ہے ہمیں سب کو یہاں لانا چاہیے تھا سیرت سب کو مس کر رہی تھی ۔
بالکل بھی نہیں جانم یہ وقت صرف میرا ہے جو میں تمہیں کسی اور کے ساتھ ہرگز نہیں گزارنے دوں گا ۔
صرف سالاراور اس کی سیرت سالار نے اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے کہا ۔
جب تیز ہوا کے جھونکے سے سیرت کی آنکھوں میں کچھ چلا گیا ۔
اسے اپنی آنکھوں کو مسلتے دیکھ کر سالار اس کے قریب آیا ۔
کیا ہوگیا ہے سیرت ادھر آؤ سالار اس کی آنکھ صاف کرنے لگا ۔جب اس کا دھیان دور سے آتے ایک نقاب پوش کی طرف گیا ۔جو ہاتھ میں بندوق لیے ان کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس نے کا نقاب پوش نے سیرت پر گولی چلائی ۔اس سے پہلے کہ گولی سیرت کو لگتی سالار نے سیرت کو دھکا مارا اور گولی سالار کے بازو چیڑ گئی
