Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 5
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 5
سالار مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز آپ سارا وقت میرے ساتھ ہی رہیے گا کہ آپ ایک سیکنڈ بھی میرا ہاتھ مت چھوڑیے گا پلیز وہ اس کے ساتھ تقریبا چپکی ہوئی تھی
اوکے جانم لیکن اس کے بعد تمہیں رات کو میرے ساتھ ایسے ہی چپک کر سونا ہوگا سالار نے شرارت سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے مزید قریب کیا
گندے سیرت نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا کر پھینکنے والے انداز میں دور کیا ۔
لیکن اس کا ہاتھ چھوڑا نہیں
وا جانم تم چھوو تو ڈیٹول سے دھویا ہوا میں چھووں تو گندہ سالار نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا جو سیرت نے فورا واپس پکڑ لیا۔
ہاتھ چھوڑو میرا مسز سالار اگر میں گندا ہوں تو تم بھی گندی ہو وہ اس کی آنکھوں دیکھتا شرارت سے بولا۔
اچھےبچے ایسی گندی باتیں نہیں کرتے سیرت نے اس کا گال کھینچ کا پیار سے پچکارہ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سالار کو اس کا یہ انداز بہت پسند ہے
یہ بات الگ تھی کہ سالار اس کی ہر ادا نہیں مرتا تھا
لیکن جانم میں بہت گندا والا بچہ ہوں جو گندی باتیں اور گندی حرکتیں نہ کرئے تو اسے سکون نہیں ملتا سالار نے اسے اپنے قریب کھینچ کر ایک زوردار بوسہ لیا ۔
جبکہ لوگوں سے بڑے ہوئے جہاز میں سیرت کو یہ امید نہ تھی اسی لیے اسے گھور کر دیکھا
“اوے ہوے” سالار نے دل پر ہاتھ رکھ کر آہ بھری۔
اب کیا نظروں ہی نظروں میں قتل کرنے کا ارادہ ہے وہ بنا شرمندہ ہوئے مزید قریب ہوا
مسٹر سالار شاہ ہم لوگوں سے بڑے ہوئے جہاز میں ہیں سیرت نے ایک نظر گھور کر کہا
ڈونٹ وری جانم نیکسٹ ٹائم ہم اپنے پرسنل جٹک میں جائینگے وہ سالارہی کیا جو شرمندہ ہوجائے ۔
سر پلیز سیٹ بیلٹ پہن لے ائیرہوسٹسز نے آکر کہا تو سالار کو خیالوں کی دنیا سے نکلا
اس نے عجیب سی نظروں سے سامنے کھڑی خوبصورت لڑکی کو دیکھا جس کی وجہ سے وہ ڈسٹرب ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ترکی پہنچا تو زاویار رافع کو گود میں اٹھائے اس کا انتظار کر رہا تھا سالار نے آگے بھرکر اسے گلے لگایا ۔
کیسے ہو تم ذاویار یہ کون ہے رافع یامناف سالار نے بچے کو اٹھا کر اپنی گود میں لیا ۔
ارے یار یہ رافع ہے مناف صاحب میرے پاس نہیں رہ سکتے اسے تو حنا مشکل سے سنبھالتی ہے زاویار نے مسکرا کر بتایا
چلو گھر چلتے ہیں حنا تو تب سے تمہارا انتظار کر رہی ہے جب سے تمہارے آنے کا پتہ چلا ہے زاویار نے خوشی سے بتایا
لیکن وہ جانتا تھا کہ سالار ان کے گھر نہیں رکے گا وہ ہمیشہ سے ہی اپنے ہوٹل میں رہتا تھا
سیرت کے جانے کے بعد سالار پہلی بار یہاں آیا تھا اور اب وہ اس کے ساتھ اس کے گھر جا رہا تھا
گھر پہنچتے ہی حنا مناف کو لیے دروازے پر اس کا انتظار کر رہی تھی
اس شخص کو اس نے سیرت کے بغیر کبھی نہیں دیکھا تھا یہ ان کی پہلی ملاقات تھی جب سیرت ان کے بیچ نہیں تھی
لیکن حنا اور سالار دونوں کو یقین تھا کہ سیرت زندہ ہے اور وہ ایک نا ایک دن واپس ضرور آئے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی اچھے سے ورکر کا انتظام ہوا مہراج نے آفس میں آکر پوچھا
نہیں سر ہم نے ایڈ دیے ہیں شاید سر کے آنے سے پہلے کوئی اچھا سا آڈیٹر مل جائے
سر احمد صاحب آپ کے آفس میں کام کرتے ہیں فیصل نے پوچھا
ہاں وہ ایک بہت اچھے ورکر ہیں اور 22 سال سے انہوں نے ہمارے لیے اتنا بیسٹ ورک دیا ہے
سالار نے غصے میں ان کے ساتھ زیادتی کردی ہے لیکن میں جانتا ہوں سالار بھی اس بات کو لے کر خوش نہیں ہے
اس لیے میں نے انہیں اپنی کمپنی میں جاب دی ہے اور پلیز تم جلد سے جلد ایک اچھے ورکر کا انتظام کرو
مہراج نے کہا تو وہ سر ہلاتا باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔
سالار بھائی یہ بریانی ٹرائی کریں نہ آپ تو کچھ لے ہی نہیں رہے حنا ایک سے بھر کرایک ڈش اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولی
نہیں حنا بابھی میں یہ کٹلس لوں گا
سالار نے کٹلس کی پلیٹ لیتے ہوئے کہا
سیرت نے آپ کو بھی اپنی ساری اپنی عادتیں لگا دی ہیں مجال ہے جو وہ سکول میں ایک دن بھی بغیر کٹلس کے رہی ہو واپس آئے گی تو پوچھوں گی کہ شوہر کو اپنی پسند کی چیزیں کھانے پے مجبور کیسے کرتے ہیں
حنا نے مسکرا کر کہا تو سالار بھی مسکرا دیا
ایک حنا ہی تو تھی جسے اس کے یقین پر یقین تھا ایک حنا ہی تھی جسے پتہ تھا کہ سیرت واپس ضرور آئے گی
شوہر کو اپنی پسند کی چیزیں کھلانے کے لیے اپنی پسند بھی اچھی ہونی چاہیے محترمہ زاویار نے کہا جو کب سے ان کی باتیں سن رہا تھا
اس ٹیبل پر آج صرف سیرت کا ہی ذکر ہو رہا تھا زاو یار کو یقین تھا کہ اب سیرت ان کے بیچ نہیں ہے لیکن وہ ان دونوں کا کیا کرتا جنہیں یقین تھا
کہ سیرت واپس ضرور آئے گی جبکہ سالار بہت پرسکون لگ رہا تھا شاید وہ اس بات سے خوش تھا کہ کوئی تو ہے جسے اس کے یقین پر یقین ہے کہ سیرت زندہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار آپ سو کیوں رہے ہیں دیکھیں تو سہی بس اب کچھ دیر میں ہیرو اور ہیروئن مل جائیں گے پھر ہیپی اینڈنگ اٹھیں نہ سیرت اسے زبردستی جگائے فلم دکھانے دکھا رہی تھی
جو وہ شادی کے بعد ہزار بار دیکھ چکی تھی
سیرت جب ختم ہو جائے گی تب مجھے اٹھا دینا پھر ہم اپنی فلم اسٹارٹ کریں گے سالارنے بلینکیٹ اپنے منہ پر ڈال لیا
سالارآپ بہت گندے ہیں اٹھے آپ میرے ساتھ یہ فلم دیکھیں ورنہ میں بات نہیں کروں گی
سالار اسے دیکھتا اٹھ کر بیٹھ گیا فلم ابھی تک تقریبا ایک گھنٹے کی رہتی تھی
سالار مجبوراً اٹھ کر دیکھنے لگا
سیرت یہ فلم تم پہلے کتنی بار دیکھ چکی ہو اتنا سیریس ہوکر کیوں دیکھ رہی ہو
جب کہ تمہیں پتا ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے سیرت کا اتنا سیریس ہوکر فلم دیکھنا اسے ایک آنکھ نہ بھایا
لیکن سیرت نے اسے کوئی بھی جواب دینے کے بجائے فلم پر اپنا فوکس رکھا
جبکہ سالار کا دھیان فلم سے ہٹ کر اس کے دوپٹے سے بےنیاز وجود پر گیا۔
اور پھرسالار کی نیت خراب ہوگئی سالار نے غیر محسوس انداز میں اس کے گرد گھیرا بنایا اور پھر سیرت کو اس کے لب اپنی گردن پر محسوس ہوئے اس کی گرم سانسوں نے سیرت کے ہوش ایک بار میں ہی ٹھکانے لگا دیے
سالار میں فلم دیکھ رہی ہوں سیرت منمنائی
میں کل تمہیں یہ فلم لا کر دوں گا جب تمہارا دل چاہے تب دیکھ لینا فی الحال میرے دل کی مانو وہ کہتے ہوئے اسے بیڈ پر لیٹا گیا
اب وہ اسے مکمل اپنے حصار میں لے چکا تھا
سالار مجھے نیند آرہی ہے سیرت نے بہانہ بنایا
میری نیندیں اڑا کے میں تمہیں تو نیند لینے نہیں دے سکتا سالار نے اپنے لب اس کے گالوں پر رکھے
اب بولنے کی ہمت ختم ہوچکی تھی
سالار۔۔۔۔ اس نے پکارا تو سالار مسکرا دیا وہ کبھی اس کی مرضی کے خلاف نہیں جا سکتا تھا سالار نے ریموٹ واپس اس کے حوالے کردیا اس پر سے اٹھ کر ایک سائیڈ ہوگیا سالار اپنے جذبات کو کیسے کنٹرول کرتا تھا یہ صرف وہ خود جانتا تھا
وہ اسےآزادی بخشتا اس پر سے ہٹ کر اپنے اوپر بلینکیٹ لیے سونے لگا
سیرت کو پتا تھا کہ وہ کبھی اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرے گا
سالار کا اس کی طرف سے پلٹ کر سونا سیرت کو بالکل اچھا نہ لگا اب فلم بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی اس نے ٹی وی بند کیا اور سالار کو دیکھا جو شاید ٹی وی کی آواز بند ہوتی نوٹ کر چکا تھا
مگر آنکھیں بند تھی اندازہ لگانا مشکل تھا کہ ٹی وی بند ہوچکا ہے
لیکن اپنے دائیں گال پر نرم و نازک ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے اس کی آنکھیں کھل گئیں
لائٹ بلب کی ہلکی سی روشنی میں سیرت نے اسے وہ خوشی دی تھی جو شادی کے ان چھ ماہ میں نہ ملی تھی وہ کبھی خود سے اس کے قریب نہ آئی تھی وہ شرمیلی سی لڑکی اس سے آگے نہیں بڑھ سکتی تھی وہ مسکرایا اور اس کے نازک سے وجود کو خود میں سمیٹ لیا
