Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 4
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 4
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کیا ہے فیصل۔۔۔۔؟ وہ فائل ٹیبل پرپٹختا غصے سے بولا ۔
سریہ کام احمد صاحب کرتے تھے اب اچانک ایک نیا ایڈیٹر ملنا آسان نہیں ہے۔
ان ڈیزائن کے لیے بھی ہمیں بہت قمیت دینی پڑی ہے لیکن وہ بھی آپ کو پسند نہیں آرہے
فیصل پاکستان بڑا پڑا ہےایسے ایڈیٹرز سے سوشل میڈیا پرعام ہیں یہ سب کچھ مجھے بیسٹ ورکرچاہیے ۔
وہ بھی جلدی سے جلدی ۔
سر اتنا جلدی ورکر کا انتظام کرنا بہت مشکل ہے ۔
فیصل نےسمجھاتے ہوئے کہا ۔
مجھے کچھ نہیں سننا مجھے بس میرا کام چاہے
اٹھا کر لے کے جاؤ یہ سب کچھ اس نے فائل کی طرف اشارہ کیا ۔
ایک کام کا ایڈیٹر نہیں ڈھونڈ سکتے ہیں یہ لوگ ۔۔احمد صاحب کی جانے کی وجہ سے سالار کو بہت نقصان ہو رہا تھا جس کی وجہ سے آج کل وہ بہت غصے میں تھا ۔
فیصل اس کے غصے کی وجہ سے کچھ بھی نہیں بولتا تھا کیونکہ اسے اپنی نوکری پیاری تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کی ایڈیٹنگ بیسٹ ہوگی اس کو رکھ لینا اور پلیز کوئی بچہ مت رکھنا آج کل کے بچے باس کی کم اپنی زیادہ چلاتے ہیں
تم بے فکر ہو جاؤ سالار میں سب سبھالوں گا مہراج نے کہا۔
چلو ٹھیک ہے میں نکلتا ہوں مجھے واپسی میں تقریبا ایک مہینہ لگ جائےگا ترکی والی کمپنی کے شئیرز بہت تیزی سے گر رہے ہیں
مجھے سب کچھ واپس سیٹ کرتے ہوئے وقت لگ جائے گا بابا تھےتو وہ سب سنبھال لیتے تھے سلمان صاحب کو یاد کرتے ہوئے سالار اداس ہو گیا
جو تین مہینے پہلے اپنے بیٹے کو ہر ٹنشن سے دور کرتے ہوئے ایک رات خود اس سے دور ہوگئے
سیرت کے بعد سالار تو جیسے بےجان ہو کر رہ گیا جس کی وجہ سے سلمان صاحب نے اسے ہر ٹنشن سے دور رکھتے ہوئے کچھ وقت تک سب کچھ خود سنبھالا
لیکن ایک رات ہارٹ ایٹک کی وجہ سے وفات پا گئے ان کے بعد سالارنے ایک بار پھر سے سب کچھ سنبھال لے گا
اس نےسارہ کا بھی بہت خیال رکھا
سلمان صاحب کے جانے کے بعد سالار کو ان کی بہت کمی محسوس ہوئی لیکن وہ سنبھل گیا تھا
لیکن وہ سیرت کی موت کو قبول نہیں کر پا رہا تھا سالار کو یقین تھا کہ وہ زندہ ہے اسے سیرت کی موت کا یقین تب تک نہیں آنا تھا جب تک اس کی لاش کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے
اور جب تک اسے سیرت کی موت پر یقین نہ آ جائے تب تک وہ اسے ڈھونڈنے والا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہراج نے سعد کے سکول کا نمبر دیکھتے ہوئے فورا فون اٹھا لیا
سر آپ کا بیٹا بہت رو رہا ہے پلیز ہم اسے سنبھال نہیں پائے رہے
ٹیچر نے سعد کی کنڈیشن بتائی تو مہراج پریشان ہوگیا
اور فوراً آیت کو فون کرنے لگا
ہیلو آیت سعدی اسکول میں بہت رو رہا ہے ٹیچر نے فون کرکے بتایا ہے میں اسے لے آؤں ۔۔۔۔۔؟
مہراج نے کسی ننھے بچے کی طرح اجازت مانگی
نہیں مہراج ہم اگر اس کےرونے کی فکر کر کے روز اسے ایسے ہی لاتے رہیں گے تو وہ روز ہی ایسے ہی روئے گا اور میں نہیں چاہتی کہ سعد پڑھائی کے معاملے میں لاڈلا بنے
اور ویسے بھی میرا شہزادہ کچھ دن میں عادی ہو جائے گا آیت کی بات ٹھیک ہے مگر مہراج اپنے دل کا کیا کرتا جو سعد کے رونے کا سوچ کر پریشان ہو رہا تھا
کون کہتا ہے باپ سخت دل ہوتا ہے یہاں تو ماں سخت دل پتھر دل سنگدل تھی
اور اب 12 بجے تک مہراج کو چین نہیں آنا تھا ۔
۔اور پھر پورے بارہ بجے مہراج آفس سے نکل کر اس کے سکول میں گیا جہاں وہ اپنے ہم عمر بچے کے ساتھ مزے سے کھیل رہا تھا ۔
آیت ٹھیک کہتی ہے کہ بچہ ہے اسے عادت ہو جائے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار ایئرپورٹ کے لئے آدھا گھنٹہ پہلے ہی نکل گیا تھا
کیونکہ اسے کچھ وقت پری کے ساتھ گزارنا تھا
لیکن وہاں جا کر دیکھا کہ پری سو رہی ہے
منت نے کہا تھا کہ وہ اسے جگا دے گی لیکن سالار نے اسے جگانے نہ دیا
بلکہ کافی دیر اس کے قریب بیٹھ کر کے اسے دیکھتا رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار دیکھیں نہ یہ میری جیسی دیکھتی ہے نہ مہراج بھائی یہ میری جیسی ہے نا۔ ۔۔۔۔؟
جھوٹ مت بولو سیرت اس کی آنکھیں میرے جیسی ہیں آیت نے اسے ایک طرف ہٹاتے ہوئے پری کو اپنی گود میں اٹھانا چاہا
آپ جھوٹی ہیں مہراج بھائی اپنی بیوی کو بتائیں پری مجھ پہ گئی ہے
اس کے لپس دیکھیں یہ بھی میرے جیسے ہیں سیرت نے ایک نظر گھور کر آیت کو دیکھا اور پھر پیار بھری نظروں سے پری کو دیکھا
ہاں کبھی آنکھیں تمہاری جیسی ہیں کبھی لپس تمہارے جیسے ہیں اب تم کہنا کہ یہ ڈمپل بھی تمہارے جیسا آیت نے جھک کر اس کے گال پر پیار کیا ۔
جس سے سیرت کی نظر اس کے ڈمپل پر پڑی
سالار تو نہ جانے کب سے نظر پری کے چہرے پر جمائے اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا
واو کتنا بیوٹیفل ڈمپل ہے یہ تو پوری کی پوری مجھ پر گئی ہے سیرت چلاتے ہوئے خوشی سے آدھی سے زیادہ سالار پر چڑ چکی تھی
جس پر قریب سوئی منت کی آنکھ کھل گئی
سوجاو جان بچے ہماری لاڈلی کو دنیا میں ویلکم کر رہے ہیں حاشر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سائیڈ پر اشارہ کیا جہاں دو کرسیوں پر سالار اور مہراج بیٹھے تھے اور ساتھ آیت اورسیرت کھڑی لڑ رہی تھی
پریشے نام رکھا ہے دونوں نے ہماری بے بی کا حاشر نے مسکراتے ہوئے بتایا تو منت بھی مسکرا دی
وہ ابھی تک نیند کے انجیکشن کے زہر اثر تھی جبکہ حاشر نے ابھی تک اپنی بچی نہ دیکھتی کیونکہ وہ اس لمحہ کو یادگار بنانے کے لیے پری کو منت کے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا اس لیے اس کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا
بھائی آپ بتائیں نہ پری کس پہ گئی ہے سیرت کی شکل رونے جیسی ہو گئی تھی جبکہ آیت اسے مزے سےتنگ کر رہی تھی جب مہراج اسے اٹھا لایا
حاشر منت کو اٹھانے میں مدد کر رہا تھا مہراج نے پری کو لا کر اس کی گود میں رکھا
جسے دیکھتے ہی منت نے ایک نظر سیرت کو دیکھا جو اپنے موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو لائے مکمل رونے کی تیاری پکڑ چکی تھی کیونکہ وہ سیر ت جیسی ہونے کے باوجود بھی آیت اس بات کو قبول نہیں کر رہی تھی
جبکہ سیرت کی حالت دیکھ کر آیت کا قہقہ نہ روکا دیکھا میں نے کہا تھا نہ ہی یہ مجھ پر گئی ہے وہ اسے دیکھ کر پھر سے تنگ کرنے لگی
جب سیرت نے سچ میں سالار کے کندھے پر اپنا سر رکھ کر چہرہ چھپا لیا
بس آیت اپنی شکل دیکھی ہے تم نے مرغی جیسی میری بیٹی تو چوزی جیسی ہے بالکل سیرت پر گئی ہے حاشر آیت کو ڈانٹا تو سیرت نےسالار کے کندھے سے سر اٹھا کر بھیگی آنکھوں سے آیت کو دیکھا اور بھاگ کر حاشرکے گلے لگ گئی یاہوووووووو میں نے کہا تھا نہ مجھ پر گئی ہے
سیرت نے نعرہ لگا کر کہا جس پر سب مسکرا دیے
سالار پری زیادہ پیاری ہے یا سیرت حاشر کی توپوں کا رخ اب سالار کی طرف تھا جس پر سالاد نے ایک نظر پری کو دیکھا
اور پھر اپنے چند انچ کے فاصلے پر کھڑی سیرت کو دیکھ کر مسکرایا سیرت اسے خود کو دیکھتے پاکرشرما دی
اوووووووو
سب نے ایک آواز میں کہا تو سیرت بوکھلا کر رہ گئی
میں بےبی کی پک حنا کو سینڈ کرتی ہوں
سیرت اتنا کہہ کر باہر کی طرف دوڑ لگا چکی تھی جبکہ اس کے پیچھے سے سب کے قہقہوں کی آواز آ رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی تک اپنا سارا دھیان پری کے چہرے پر کیے بیٹھا تھا جب منت دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آئی سالار بھائی آپ کی فلیٹ کا ٹائم ہوگیا ہے
آپ لیٹ ہو رہے ہیں منت نے آکر بتایا تو سالار جیسے خیالوں کی دنیا سے باہر نکلا ۔
جبکہ پری ابھی تک گہری نیند میں سو رہی تھی
جی بھابھی میں جارہا ہوں وہ پری کا ہاتھ چوم کر اٹھا اقر جانے لگا
بھابھی جب میں ایک ماہ بعد واپس آؤنگا تو کیا پری مجھے بھول چکی ہوگی وہ باہر آتے ہوئے پوچھنے لگا
نہیں سالار بھائی بچے اپنے پیاروں کو کبھی نہیں بھولتے وہ آپ کو بہت مس کرے گی
آپ جلدی واپس آنے کی کوشش کریے گا منت نے مسکرا کر کہا
سالار نے ایک نظر پری کو دیکھا سالار کی حالت دیکھ کر منت ہمیشہ دعا مانگی تھی کہ اس کا شک سچ ثابت ہوجائے
جو وہ سوچتا ہے صحیح ہو بس کہی سے سیرت واپس آجائے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ سیرت کے جانے کے بعد سالار اس طرح سے دنیا سے کٹ کر رہ جائے گا
۔۔۔۔۔۔
