228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 19

گاڑی کے رکھتے ہیں سالار کے ساتھ مہراج بھی باہر آگیا آئیں ہارون صاحب بہت خوشی ہوئی آپ پرانی ساری باتیں بھلا کر یہاں آئے مہراج کہہ تو ہار ون صاحب سے رہا تھا لیکن دیکھ اسد کو رہا تھا
اس دن کے بعد آج ہی ان کا سامنا ہواتھا آئینخں نہ پلیز اندر چلے مہراج نے مسکرا کر مرہاہ کو دیکھا اس کے اس طرح سے مسکرانے پر مرہاہ کے ڈمپلز نمایاں ہوئے جنہیں دیکھ کر سالارنے بے اختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھا
اس کی یہ حرکت مرہاہ سے بھی چھپی نہیں رہی تھی جس نے فوراً اسد کا بازو پکڑا تھا
خویلی میں قدم رکھتے ہی اسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا آیت اور منت اس سے ملنے کے لیے آگے آئیں تو نے اپنا ہاتھ آگے بڑھادیا اس کے ایک طرف اسد اور دوسری طرف ہارون صاحب کھڑے تھے
جس کی وجہ سے آیت اور منت چاہ کر بھی اسے گلے نہ لگا سکی لیکن پری کو دیکھتے ہی وہ مسکراتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی
ہیلو پریٹی گرل آپ کا نام کیا ہے کیوٹ بےبی وہ پری کو اٹھاتے ہوئے بولی جیسے ہی اٹھایا حاشر اس کے سامنے کھڑا تھا حاشر کو دیکھتے ہی نجانے کیوں اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اسے احساس بھی نہ ہوا نہ جانے کیسے اس کی آنکھیں نم ہونے لگی اس کا دل چاہا سامنے کھڑے آدمی کے سینے سے لگ جائے جبکہ سامنے کھڑے آدمی کا دھیان اس پے کم اس کے ہاتھ پر زیادہ تھا
اس کی نظروں کو دیکھتے ہوئے مرہاہ نے نجانے کیوں اسد کا بازو فوراً چھوڑ دیا
کوئی اس کے قریب کیا بول رہا تھا کیا نہیں جیسے اس نے سنا ہی نہیں جبکہ اس کا ہاتھ چھوٹتے ہی حاشر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی
یہ حاشر ہے میری سیرت کا بھائی سالار نے تعارف کروایا
آپ سے مل کر خوشی ہوئی حاشر کہتے ہوئے پری کو اس کی گود سے لیا تو اس کا ہاتھ مرہاہ کے ہاتھ سے ٹکرایا تو مرہاہ نے فوراًگھبرا کر اپنا ہاتھ پیچھے کیا ۔
کیا ہوا حاشر نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
تو مرہاہ نے فورا نفی میں گردن ہلائی
کچھ نہیں وہ جلدی سے بولی
چلو اندر چلیں سیرت میرا مطلب ہے مرہاہ آیت نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا تو اس فورا ہی آیت کا ہاتھ تھام لیا
چلو میں تمہیں پہلے گھر دکھاتی ہوں وہ کیا ہے نا تمہارا چہرہ ہماری سیرت سے بہت ملتا ہے اسی لئے غلطی سے منہ سے سیرت کا نام نکل گیا
کوئی بات نہیں مرہاہ نے مسکرا کر تھا
♧•••—♧—••••♧
باقی مہمان کہاں ہے اسد نے پوچھا
صرف گھر کے ہی لوگ ہیں یہاں ہم نے باہر کسی کو نہیں بلایا مہراج نے جواب دیا
ہم تو باہر سے ہی آئے ہیں اسد نے اچانک کہا
ہم آپ سے اپنے اس دن کی رویہ کے لیے معافی چاہتے تھے اس لیے مہراج نے مختصر سا جواب دیا
صرف وہی تھا جو ان سے باتیں کر رہا تھا
جبکہ سالار اس کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا
جبکہ حاشر تو باقاعدہ ان دونوں کو گھور رہا تھا
اسد اور ہارون دونوں نے ہی اندازہ لگایا لیا تھا کہ حاشر کو وہ لوگ پسند نہیں آئے
اسد کا دھیان سامنے والے کمرے کی طرف تھا جہاں وہ دونوں لڑکیاں مرہاہ کو لے کر گئی تھی
جب اچانک اس کا دھیان سامنے والی دیوار پر گیا جہاں فل سائز میں سیرت اور سالار کی تصویر تھی ایک لمحے کیلئے وہ اسے دیکھتا رہ گیا سالار اس کی نظریں دیکھ چکا تھا وہ کھل کر مسکرایا
“میری” سیرت سالار نے “میری” پر زور دیتے ہوئے کہا تو اسد ا سے دیکھ کر مسکرایا
کافی ملتی ہے “میری” مرہاہ سے اس بار اسد نے” میری” پرزور دیا
جس پر سالار کے ماتھے پر بل پڑ گئے ۔
نہ جانے کیوں اس کے ماتھے کے بل دیکھ کر اسد نے انجوائے کیا تھا
جبکہ مہراج کا اس کا ہاتھ پکڑنا بھی اس سے چھپا نہ رہا
♧•••—♧—••••♧
آپ کی سیرت تو واقع ہی بالکل میری طرح دکھتی ہے میں بھی سوچوں اتنی زیادہ غلط فہمی کیسے ہو سکتی ہے میں آپ لوگوں کے جذبات سمجھ سکتی ہوں آپ لوگوں نے اپنی سسٹر کو کھویا ہے
مجھے اس بات کا بہت افسوس ہے میں مرہاہ نے سیرت کی تصویر دیکھتے ہوئے اداسی سے کہا اسے سچ میں بہت افسوس تھا وہ اسے پورا گھر دکھا رہی تھی
اب وہ اسے اپنے ساتھ سالار کے کمرے میں لائی تھی جہاں بیڈ کے اوپر ایک بڑے سائز میں سیرت اور سالار کی تصویر لگی تھی وہ دونوں ایک ساتھ کتنے خوبصورت لگتے تھے مرہاہ نے سوچا پھر جٹ اپنی سوچ کو جھٹلایا منت اٹھ کر باہر چلی گئی اسے کچن میں کچھ کام تھا
جبکہ آیت اسے کمرہ دکھا رہی تھی وہ بار بار اسے سیرت کہنے کی وجہ سے شرمندہ ہو جاتی
ابھی وہ اسے سیرت کے بارے میں بتا ہی رہی تھی منت نے اسے پکارا
تم رکو میں آتی ہوں
بھابھی کو ضرور کچھ کام ہوگا وہ اسے یہی بھی اٹھا کر باہر چلی گئی جب کہ سیرت پورا کمرہ دیکھنے لگی جب اچانک کوئی کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کر دیا
مرہاہ نے گھبرا کر آنے والے کو دیکھا جو مسکرا کر اس کی طرف بڑھ رہا تھا
♧•••—♧—••••♧
مرہاہ گھبرا کر دروازے کی طرف آئی آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔۔۔۔؟
وہ دروازہ کیوں بند کیا ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔؟
وہ غصے سے بولی
تم جانتی ہو نا یہ کلر مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے
پھر کیوں پہنا چینج کرو ایسے ابھی وہ اس کے بالکل قریب آ کر رکاا
آپ ہوتے کون یہ مجھ پر حکم چلانے والے کیوں میں مانوں آپ کی بات راستہ چھوڑیں میرا
مجھے باہر جانا ہے مرہاہ غصے سے کہتی باہر جانے لگی
جب سالار نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی چھوڑیں مجھے ورنہ میں سب چلاچلا کر یہاں بلا لوں گی مرہاہ نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی
چپ ایک دم چپ آواز نہیں آنی چاہیے مجھے تمہاری سالارنے اسے گھورتے ہوئے سختی سے کہا تو وہ سہم گئی
ساؤنڈ پروف روم ہے یہ ہہاں باہر سے نہ کوئی آواز اندر آتی ہے اور نہ ہی یہاں کی آواز باہر جاتی ہے اب اس کمرے سے تم تبھی باہر جاؤ گی جب یہ ڈریس چینج کرو گی اگر تم نے یہ ڈریس چینج نہیں کرنا تو تمہیں آج ساری رات یہی میرے کمرے میں گزارنا ہوگا وہ مسکراتے ہوئے بیڈکر بیٹھ چکا تھا
کچھ دیر پہلے والا غصہ اب اس کے چہرے پر ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہا تھا
جب مرہاہ نے بنا اس کی بات کی پروا کئے قدم دروازے کی طرف بھرئے اور دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی لیکن افسوس بہت کوشش کے بعد بھی دروازہ نہ کھلا
سیرت جانم کیوں تھک رہی ہو ویسے اگر یہ ڈریس چینج نہیں کرنا چاہتی تو میرے پاس ایک اور آئیڈیا بھی ہے
سالار نے سوچتے ہوئے کہا
کیا۔۔۔۔۔؟ مرہاہ نے ایک نظر اسے دیکھ کر پوچھا تو سالار مسکراتا ہوا اس کے قریب آ روکا اور دونوں ہاتھ دیوار پر رکھ کر اس کا راستہ بند کر دیا
اگر تم اس کمرے سے باہر جانا چاہتی ہو تو میں مجھے سالار نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی
دماغ خراب ہوگیا ہے آپ کا سوچا بھی کیسے آپ نے مرہاہ شرم سے لال ہوتے ہوئے بولی
ہاں میں نے تو کچھ نہیں کہا تم خود ہی الٹا سیدھا سوچ رہی ہو لیکن اگر تم مجھے کس کرنا چاہتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں سالار نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا
تو مرہاہ مزید دروازے کے ساتھ چپک گئی
ارے گھبرا کیوں رہی ہو میں کچھ غلط تو نہیں کہہ رہا آخر شوہر ہوں تمہارا بےبی ایک بار چیک تو کر لو یہ فیلنگ پہلی بار محسوس کر رہی ہو یہ پہلے بھی کر چکی ہو وہ مزید اس کے قریب ہوا تو مرہاہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنے لگی
پلیز مجھے جانے دیں یہ صرف آپ کی غلط فہمی ہے میں آپ کی بیوی نہیں ہوں وہ اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جہاں سالار ہمیشہ کی طرح بے بس ہوگیا
تم جانتی ہو نہ یہ آنسو میری کمزوری ہیں تم جانتی ہو میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا وہ محبت سے اس کی آنکھیں صاف کرنے لگا جب مرہاہ نے اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے دور کیے
جاؤ جلدی سے یہ کپڑے چینج کرو اور باہر چلی جاؤ وہ حکم دیتا ہوا بیڈ پر بیٹھ گیا تمہارے سارے کپڑے الماری میں ہے وہ مسکراتا ہوا لیٹ گیا
مرہاہ کے پاس اب اور کوئی چارہ نہ تھا
وہ مجبور ہوکر الماری کی طرف بھری
الماری کے اندر ایک سے ایک مہنگے سے مہنگا جوڑا تھا لیکن سب کے سب بلڈ ریڈ کلر میں
سادہ سا جوڑ لے کر اسے گھورتے ہوئے چینج کرنے چلی گئی جبکہ سالار اس کی گوریوں پر مسکراتا ہوا بیڈ پر پھیل کر لیٹ گیا