Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 35
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 35
••••••••••••••
اسد نے اپنی بہن کے حق میں بہت لڑائی کی تھی ۔
کورٹ کچہریوں کے چکر ہارون صاحب نے اسے منع بھی کیا تھا کہ یہ سب کچھ کرنے سے مرحا واپس نہیں آئے گی ۔لیکن اسدنے ان کی کوئی بات نہ مانی
نا نمیر کا پیسہ کام آیا اور نہ ہی طاقت اسدنےخود اس کے خلاف گواہی دے کر اسے عمر قید سزا دلوائی تھی ۔
چھ مہینے تک پاگلوں کی طرح اپنی بہن کو انصاف دلانے کے لئے کورٹ کچہریوں کے چکر کاٹتا رہا ۔
اور اب چھ مہینے بعد کراچی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
کراچی ان سے بہت کچھ چھین چکا تھا ۔
ہارون صاحب اور اسد کراچی چھوڑ کر کسی اور شہر شفٹ ہو رہے تھے جب ایک لڑکی اچانک ان کی گاڑی کے سامنے آئی گاڑی سے ٹکرانے کی وجہ سے اس لڑکی کی حالت بہت بگڑ چکی تھی ۔
اسد فوراً گاڑی سے نکل کر لڑکی کے قریب آیا جس کی بس یہی الفاظ اسے سنائی دے رہے تھے ۔
بھائی مجھے بچائیں وہ مجھے مار ڈالیں گے وہ مجھے مارنا چاہتے ہیں ان سے بچائیں ۔
وہ آگ لگا رہے ہیں وہ مجھے آگ لگا دیں گے کہتے کہتے وہ لڑکی اس کے سامنے بے ہوش ہوگئی لیکن اس کے سارے الفاظ اسے مرحاکی یاد دلا گئے ۔
اس نےدور سے کچھ لوگوں کو ہاتھوں میں آگ سے جلتے ڈنڈے اٹھا کر اس کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا ۔
اس نے بنا ایک لمحہ ضائع کیے اس لڑکی کو اٹھایا اور گاڑی میں ڈال دیا اور جتنا جلدی ہو سکے وہاں سے بھاگ نکلا
••••••••••••• ۔
یہ لڑکی کیا لگتی ہے آپ کی لڑکی کی حالت دیکھتے ہوئے ڈاکٹر نے پوچھا ۔
جب ہارون صاحب نے کہہ دیا کی یہ ان کی بیٹی ہے اور اس کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔وہ کسی قسم کے پولیس کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتے تھے
اسد کی گاڑی سے لگنے کا جھٹکا اتنا شدید تھا کی وہ لڑکی اپنی یاداشت کو بھول چکی تھی ۔
وہ لڑکی کون تھی کون نہیں اسد بلکل نہیں جانتا تھا ۔
ڈاکٹر نے جب آ کر انہیں یہ بتایا کہ اس لڑکی کی جان بچانا بہت مشکل ہے اسد مزید بے چین ہو گیا وہ اسے مرتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔
اس لڑکی کی حالت اتنی خراب ہوچکی تھی اسد کو مجبوری اس جگہ واپس جہاں جانا پڑا ۔
وہاں ایک لڑکیوں کا پالر تھا جسے آگ میں جلا دیا گیا اس پالر میں صرف یہ لڑکی کی نہیں بلکہ اور بھی پینتیس لڑکیاں موجود تھی جو آگ میں جل چکی تھی ۔
اور ابھی تک ان لڑکیوں کے ولی ورثہ کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا ۔
پولیس اندر نہیں جا نے دے رہی تھی ۔
لیکن اس نے وہاں مہراج کو دیکھا تھا جو ہاتھ میں سیرت کی تصویر لیے وہاں کے لوگوں سے پوچھ رہا تھا ۔
اسد فورا اس کے پاس جا کر اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ لڑکی ہسپتال میں ہے ۔
لیکن تبھی اس کا فون بجا نجان نمبر سے فون آتا دیکھ کر اسد نے فون اٹھا لیا ۔
اگر اپنی اور اپنے باپ کی جان چاہتے ہو تو اس سامنے کھڑے آدمی کو اس لڑکی کے بارے میں کچھ بھی مت بتانا اگر اسے یہ پتہ چلا کہ وہ لڑکی زندہ ہے کہ تم اور تمہارا باپ مریں گے ۔
اسد کے چلتے قدم وہیں گئے ۔
وہ وہیں سے واپس آگیا ۔
•••••••••••••••••
وہ لڑکی کون تھی وہ بلکل نہیں جانتا تھا وہ اس کے نام تک سے واقف نہیں تھا ۔لیکن پھر بھی وہ اس کو مرنے نہیں دے سکتا تھا
وہ فون کس نے کیا تھا اور وہ اس لڑکی کو کیوں مارنا چاہتے تھے یہ تو اسد نہیں سمجھا لیکن وہ چاہ کر بھی اس دن مہراج کو کچھ نہیں بتا پایا تھا ۔
لیکن جب دو دن کے بعد رات ہسپتال میں سیرت پر جان لیوا حملہ ہوا تو اسد نے بچا لیا ۔
اس آدمی نے ہر ممکن طریقے سے سیرت کو مارنے کی کوشش کی تھی
۔آخر کیا دشمنی ہے تمہاری کیوں مارنا چاہتے ہو اس لڑکی کو ۔اسد نے چلاتے ہوئے پوچھا
تم سے کوئی مطلب نہیں ہے اپنے کام سے مطلب رکھو اگر اپنی اور اپنے باپ کی زندگی چاہتے ہو تو اپنے ہاتھوں سے لڑکی کو مار دو ۔
نہ تو میں اس لڑکی کو مارو گا اور نہ ہی میں سے مارنے دوں گا بتاؤ کیا دشمنی ہے تمہاری اس سے اور کون ہے یہ ۔
اسد آدمی کو سیرت سے پیچھے دھکیلتے ہوئے پوچھا ۔
یہ سیرت ہے سالار شاہ کی بیوی ہے یہ سالارشاد کی کمزوری ہے یہ اس کمزوری کو ختم ہونا پڑے گا ۔
اس آدمی نے چاقو سے سیرت پر پھر حملہ کرنے کی کوشش کی جب اسد نے اس کو تھامتے ہوئے اس آدمی کو پیچھے کی طرف دکھا دیا
نہیں ہے یہ کوئی سیرت یہ مرحا ہے میری بہن اسد نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے وہ خود بھی نہیں جانتا تھا وہ چاہتا تھا کہ وہ اس آدمی کو یہ بات ثابت نہیں کر پائے گا اس کی نظروں میں یہ سیرت اور اس کے سامنے ہی وہ اسے اٹھا کر ہسپتال آیا ہے ۔
پاگل سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے یہ سالار شاہ کی بیوی ہے ۔
یہ سالار شاہ کی بیوی تھی لیکن سالار شاہ کی بیوی تو ایکسیڈنٹ میں مر گئی نا اس آگ میں جل کر مر چکی ہے وہ اسے زندہ رہنے دو کیا بھگارہ ہے اس لڑکی نے تمہارا تمہاری دشمنی سالار شاہ کے ساتھ ہی تو جاکر اس کے ساتھ اس کی دشمنی نکالو اس معصوم لڑکی کو کیوں مارنا چاہتے ہو ۔
میں تم لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں ہو یہ لڑکی کبھی بھی سالار شاہ سے نہیں ملے گی میں اسے خود اس سے دور کر دوں گا لیکن اسے مار کرکوں خود کو گنہگار کر رہے ہو وہ اس کا قتل کر کے ۔
کیا خدا سے کبھی نظریں ملا پاؤگے اس کی بنائی ہوئی جان کی جان لینا چاہتے ہو دیکھو میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں اس لڑکی کو چھوڑ دو میں اسے یہاں سے اتنی دور لے جاؤں گا کہ کبھی سالار اس تک پہنچ نہیں پائے گا ۔
یہ لڑکی سیرت نہیں مرحا ہے میری بہن نجانے ان لوگوں کے دل میں کیا سمائی تھی یا اسد کی باتیں ان پر اثر کر گئی تھی مگر جو بھی تھا وہ لوگ سیرت کو چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔
اس کے فوراً بعد ہی اسد سیرت کو شہر سے دور لے آیا تھا ۔
تاکہ اس کی جان بچ جائے ۔
ہاں وہ اس کی بہن مری نہیں تھی اس کی بہن زندہ تھی اس کے ساتھ تھی ۔
ایک آدمی کا اس کو فون آتا تھا وہ کون تھا وہ یہ نہیں جانتا لیکن اس کا کام سیرت کی جان لینا تھا ۔
جب کہ جو آدمی اس کے سامنے آتا تھا اس کا مقصد سیرت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ صرف سالار کو بے بس کرنا تھا وہ اسے ہارتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا سالار کے ساتھ اس کی کیا دشمنی تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔
اور نہ ہی اسدنے دوبارہ پوچھنے کی غلطی تھی ۔بس ان لوگوں نے جو دوایاں اسد کو دینے کیلئے کہا تھا وہ پابندی سے دے رہا تھا ۔کیونکہ اس کیلئے سیرت کی یاداشت نہیں بلکہ اس کی زندگی زیادہ اہمیت رکھتی تھی
••••••••••••••••
کوئی پیار نہیں کرتا مجھ سے ۔۔سیرت اس کے ساتھ آ کر لیٹی تھی جب سالار کی آواز سنائی دی جسے سنتے ہی اس کی ہنسی نکل گئی ۔
کیسے پیار کیا جاتا ہے بتائیں مجھے ۔آخر کس طرح سے پیار کروں کیسے ثابت کرو ں۔ آخر چاہتے کیا ہیں آپ وہ اس کے قریب آ کر بیٹھی۔
101طریقے ہوتے ہیں اپنے پیار کو ثابت کرنے کے لئے اگر تم غور کرو نا تو تمہیں بھی پتہ چلے گا کہ پیار کس طرح سے کیا جاتا ہے ۔
کبھی کوئی رومینٹک فلم دیکھی ہو تو پتا چلے پیار کس طرح سے کیا جاتا ہے ۔
کبھی دوسرے کی فیلنگز محسوس کرو تو پتہ چلے گا پیار بھی طرح سے کیا جاتا ہے ۔
سالار جذباتی انداز میں اسے سمجھانے لگا۔
سارا دن آپ کے پاس یہاں بیٹھی رہی ہوں میں اپنے ہاتھوں سے آپ کے کپڑے استری کیے ہیں میں نے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا ہے آپ کو اگر آپ محسوس کریں تو اس میں بھی پیار ہے سیرت نے اسےلاجک دیا تھا ۔
کھانا دیا کپڑے استری کیے پاس بیٹھی رہی بیوی کرتی ہے اس نے نیا کیا ہے
سالار نے چڑ کر کہا
گولی لگنے کی وجہ سے کوئی بھی اسے کمرے سے باہر نکلنے نہیں دے رہا تھا اس لیے وہ آجکل کافی چرا ہوا تھا ۔
کہاں وہ سیرت کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا اور کہاں وہ ایک ہی کمرے کا ہو کر رہ گیا تھا ۔
اور ایک سیرت تھی جو اس پر سے تقریبا دس فٹ کی دوری پر جاکر بیٹھتی تھی کیونکہ پاس بیٹھنے پر اسے اپنی شامت محسوس ہوتی ۔
اچھا ٹھیک ہے غصہ مت ہوں بتائیں کس طرح سے ثابت کروں میں اپنا پیار اس کا غصہ دیکھتے ہوئے سیرت نے معصومیت سے اس کی بات ماننے کا ارادہ کیا تھا ۔
کچھ بھی مت کرو سالار ناراض ہوتے ہوئے واپس بستر پر لیٹ گیا ۔
اچھا نہ بابا آپ ناراض نہ ہوں میں کوئی فلم لگاتی ہوں ہم رومینٹک فلم دیکھتے ہیں سیرت نے اسے پیار سے پچکارتے ہو لیپ ٹاپ پر کوئی فلم لگانے لگی
لیکن فلم کے دوران بھی سالار نے منہ بنائے رکھا تھا ۔وہ ہر تھوڑی دیر میں اسے منانے کی کوشش کرتی ۔
لیکن پھر سالار اچانک ہی مان کر اسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا سیرت نے فلم پہلے نہیں دیکھی تھی اسے نہیں پتا تھا کہ فلم میں آگے کیا ہونا ہے ۔
لیکن جب اچانک ہی ہیرو صاحب نے کارنامے دکھانے شروع کیے تو سالار کا اپنے قریب آنے کا مقصد بھی سمجھ آگیا ۔
آپ تو ناراض نہ ناراض ہی رہے اس نے سالار کے دونوں ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔
میں ناراض تھا لیکن اب نہیں ہوں تم نے مجھے منا لیا ہے سالارا سے کھینچ کر اپنے قریب کرتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا ۔
اور ویسے بھی تو تم نے اسی لئے تو یہ فلم لگائی ہے اس کے لبوں پر جھکا اپنی تشنگی مٹانے لگا ۔
سالار مجھے نہیں پتا تھا یہ فلم اس قسم کی ہے اچھی خاصی تو چل رہی تھی اچانک کیا ہوگیا ۔
سیرت کو واقعی نہیں پتا تھا کہ فلم میں آگے بولڈ سینز اسٹارٹ ہونے والے ہیں ۔اور سالار نے اسی چیز کا فائدہ اٹھایا تھا ۔
اب سیرت کو کسی بھی قسم کا صفائی کا موقع دیئے بغیر لیپ ٹاپ بند کر چکا تھا ۔
اور سیرت کو اپنے شکنجے میں لئے خود کو سیراب کرنے لگا ۔
ہر قسم کی راہ فرار بند ہوتے ہی سیرت نے مجبورا خود کو اس کے سپرد کر دیا ۔
•••••••••••••
وہ سب کچھ بتا چکا ہے انہیں سب کچھ پتہ چل گیا ہے کہ یہ ہم نے کیا ہے ۔
اب سالار نہیں چھوڑے گا ۔سیرت کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔
میں تو یہ شہر چھوڑ رہا ہوں فیروز نے سامنے کھڑے آدمی سے کہا ۔
مطلب تم میرا ساتھ چھوڑ رہے ہو ۔تم نے تو کہا تھا کہ تم سالار کو برباد کرنا چاہتے ہو اور اب ذرا سا کھیل کیا الٹا تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے ۔
ارے تمہیں تو وہ کچھ نہیں کہے گا مجھے جان سے مار دے گا فیروز اس کے انداز پر چلا اٹھا تھا ۔
اور میرا مقصد صرف سالار کو برباد کرنا تھا اس کی بیوی کو اس سے دور کرنا یا اس کی بیوی کو مارنا نہیں ۔
اور اب ہم پھسے گے تم تو پھر بچ جاؤگے لیکن سالار مجھے نہیں چھوڑے گا ۔اسی لئے میں یہ شہر بلکہ میں یہ ملک ہی چھوڑ کر جا رہا ہوں ۔
میں تو کہتا ہوں تم بھی چلو ان لوگوں کو چھوڑ دو ان کے حال پر ۔
فیروز نے کہا ۔
نہیں میں سالار کو خوش نہیں رہنے دوں گا میں سیرت کو زندہ چھوڑوں گا میں ا سے جان سے مار دوں گا ۔
سالار کو پل پل تڑپنا ہوگا ۔
•••••••••••••
سیرت کو کمرے میں سوتا چھوڑ کر وہ باہر آیا تھا ۔
دن میں تو اسے کوئی بھی کمرے سے باہر نہیں نکلنے دے رہا تھا ۔
باہر مہراج کو بیٹھا دیکھ کر ایک پل کے لئے اس کا دل چاہا کے اندر واپس چلا جائے ورنہ پھر مہراج اسے صحت پر لیکچر دے گا ۔
لیکن پھر سوچا مہراج کے بات سنتا کون ہے اسی لئے خاموشی سے اس کے قریب سے گزرتا باہر چلا گیا مہراج کی سخت نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا ۔
لیکن وہ بھی سالار جس پر اس کی نظروں کا کوئی اثر نہ ہوا ۔
دنیا بدل جائے گی یہ بندہ نہیں سدھرے گا وہ ایک بار پھر سے ہاتھ میں پکڑی بک پڑھنے لگا ۔
سالار نے باہر آکر ٹھنڈی ہوا کو اپنے اندر اتارا اس کا ارادہ باہر کرسیوں پر جاکر بیٹھنے کا تھا لیکن وہاں دریا کو بیٹھا دیکھ کر اس کا موڈ خراب ہونے لگا ۔
اسی لئے اس سے تھوڑے فاصلے پر چہل قدمی کرنے لگا ۔
دریا اسے دیکھ چکی تھی لیکن کچھ نہیں بولی اور نہ ہی اس کے قریب آئی
••••••••••••••
سیرت گہری نیند سو رہی تھی کوئی خاموشی سے کھڑکی کھل کر اندر داخل ہوا ۔
اور اس کے قریب پڑاہوا سالار کا تکیہ اٹھا کر سیرت کے منہ پر رکھ دیا ۔
سیرت کی آنکھ جھٹکے سے کھلی تھی اس نے اپنے آپ کو چھڑوانا چاہا لیکن سامنے والے کی گرفت میں بہت طاقت تھی ۔
سیرت نا چلا پا رہی تھی نہ ہی خود کو چھڑوا پا رہی تھی ۔
وہ یہ سمجھ چکی تھی کہ سامنے والے کا ارادہ اس کی جان لینا ہے ۔
اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی وہ اپنا سارا زور لگا کر اس سے اپنا آپ کو چھڑوانے کی کوشش کر چکی تھی ۔
نجانےبھی اتنی ہمت کہاں سے آئے کہ اس نے اسے دھکا مارا جس سے وہ نیچے جا گرا اور اگلے ہی لمحے چلانے لگی
اس کی چیخوں کی آواز سن کر سب بھاگ کا اس کے کمرے کی طرف آئے تھے جبکہ اس چیختا دیکھ وہ آدمی جس طرح سے آیا تھا اسی طرح کھڑکی سے باہر بھاگ گیا ۔
سالار تیزی سے کمرے میں آیا اور سیرت کو اپنے سینے سے لگایا
سیرت کے مارے بری طرح سے رو رہی تھی ۔
جب کہ کسی کو بھاگتا دیکھ کر سب ملازم الرٹ ہو کر اس کے پیچھے بھاگے تھے ۔
کون ہوسکتا ہے وہ آدمی مہراج نے پریشانی سے بھی پوچھا ۔
وہ آدمی کون ہے یہ بات تو ہمیں یہ بتائے گی اس نے دریا کی طرف غصے سے اشارہ کیا ۔
سالار میں نہیں جانتی ہوں کون ہے اور سیرت کو کیوں مارنا چاہتا ہے میں نے کچھ نہیں کیا دریہ ایک بار پھر سے خود کو سخت نظروں کا شکار دیکھ کر پریشانی سے بولی ۔
تم سب جانتی ہواور تم اب بتاؤ گی کہ یہ سب کچھ کون کر رہا ہے سالار غصے سےدھارتے ہوئے اس کے قریب آیا ۔
سیرت پر اس کے ہوتے ہوئے جان لیوا حملہ سالارکے غصے کو ہوا دے گیا تھا اور اسے شک نہیں یقین تھا یہ سب کچھ کروانے والی دریا ہے ۔
خدا کے لئے میرا یقین کریں میں نہیں کر رہی یہ سب کچھ ۔
دریا نے روتے ہوئے کہا ۔
تبھی مزمل بھاگتے ہوئے اندر آیا ۔
شاہ سائیں چودھری فیروز کو ایئرپورٹ سے بھاگتے ہوئے پکڑ لیا ہے ہم نے ۔یہ سب کچھ کروانے والا وہی تھا ۔اس کے ساتھ اور کون کون ملا ہوا ہے یہ بھی پتا چل جائے گا ۔
اسد سر چلیے ہمارے ساتھ دیکھیے یہ وہی آدمی ہے جو آپ کو دھمکیاں دیتا تھا ۔
مزمل اسد سے مخاطب ہوا تو اسد ہاں میں سر ہلاتا اس کے ساتھ آنے لگا ۔
جبکہ سالار سیرت کو اپنے سینے میں بھیجے اس کے ٹھیک ہونے کی یقین اپنے آپ کو دلا رہا تھا
