228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 2

کیا تم مجھے مس نہیں کرتی سیرت کیوں اتنی ناراض ہو گئی ہو مجھ سے
تم جانتی ہو نہ میں تمہاری ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا یہ روم یہ ڈریسنگ ٹیبل یہ لمپ تم ہمیشہ جلا کر سوتی تھی میں کبھی بھی منع نہیں کروں گا تم مجھے کمرے سے نکالو گی
تو میں کھڑکی سے واپس کبھی نہیں آؤں گا یہ کھڑکی بھی ہمیشہ کے لئے بند کروا دوں گا پلیز تم واپس آجاؤ
تمہارا سالار تمہارے بغیر مر رہا ہے میں مر جاؤں گا سیرت میں برداشت نہیں کر سکتا میری برداشت جواب دے چکی ہے سیرت وہ سب لوگ کہتے ہیں کہ تم نہیں ہو میں ان سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم ہو میری سیرت ہے ایک بار بس ایک بار واپس آ جاؤ
پھر دیکھنا میں کیسے ان سب کو بتاتا ہوں کسی کو ملنے نہیں دوں گا
پتہ نہیں کس کی قبر بنا کر روز فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں یہ سب لوگ جب کہ تم تو زندہ ہو میرا دل کہتا ہے تم زندہ ہو جب تک سالار شاہ کی دھڑکن چلتی ہے تب تک اس کی سیرت کو کچھ نہیں ہو سکتا وہ اس کی تصویر کو اپنے سینے سے لگائے بول رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔…۔ ۔
حنا یارکہاں ہو مناف کو دیکھو اس نے پھر سے سوسو کر دیا زاویار مناف کو اٹھاکم لٹکا زیادہ رہا تھا ۔
زاویار آپ کیا کر رہے ہیں کیوں میرے بچے کو چمکادر کی طرح لٹکایا ہوا ہے آپ نے چھوڑیں اسے وہ فکرمندی سے اس سے سیدھا کرنے لگی
جبکہ مناف صاحب اپنے باپ کو ڈانٹ پروا کر بہت خوش تھے ۔
اور اب حنا کی محبت سے سرشار ہو رہے تھے
مناف بہت شرارتی تھا اور زاویار کو ہمیشہ تنگ کرکے رکھتا اس کی بہ نسبت رافع بہت معصوم اور سادہ مزاج تھا
حنا اسے صبح صبح تیار کرکے زاویار کء ساتھ بھیج دیتی مجال ہے جو وہ وہاں اسے تنگ کرے یا روئے اسی لئے تو وہ زاویار کا لاڈلا تھا
جبکہ حنا کالاڈلا تو سارا دن اسے تنگ کرکے رکھتا جبکہ مناف کی شرارتیں اور رافع کی معصومیت نے ان دونوں کی زندگی کو جنت بنا رکھا تھا ۔
چھ ماہ پہلے ہوئے اس حادثے نے ان سب کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا بیوٹی پارلر میں ہونے والے حادثے نے اس کی جان سے پیاری دوست کو اس سے چھین لیا
اس پارلر میں سیرت کے علاوہ اور بھی 38 لڑکیاں تھیں اور سب کی سب اتنے برے طریقے سے جل گئی تھی کہ ان کی پہچان بھی نہ ہو پائیں
سیرت کی پہچان بھی اس کے بریسلٹ اور سالار کے نام کے لاکٹ سے ہوئی تھی لیکن سالار کو یقین تھا کہ اس کی سیرت زندہ ہے
اور سالار کے علاوہ حنا بھی تھی جو سالار کی اس بات پر یقین کرتی تھی
نہ جانے کیوں ہیں نہ کو لگتا تھا کہ سیرت کہی نہ کہی ہے جبکہ مہراج آیت حاشر منت یہاں تک کہ زاویار بھی سیرت کی موت کو قبول کرچکے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری شاباش بیٹا پیر اٹھاؤ منت ایک ایک قدم پیچھے کرتی پری کو چلنا سکھا رہی تھی
جبکہ حاشر نے دونوں ہاتھوں سےاسکے گرد گھیرا بنایا ہوا تھا کہ وہ گر نہ جائے
وہ بس نو ماہ کی عمر سے چلنا شروع کر چکی تھی اس کا ہر نقش انہیں سیرت کی یاد دلاتا تھا اس کی آنکھیں اس کی ہونٹ یہاں تک کہ اس کے ڈمپلز شاید یہی وجہ تھی کہ سب کے ساتھ ساتھ سالار کی بھی جان تھی ۔
ؓنت تم ایک طرف سے اس کا ہاتھ پکڑو اور اس طرف سے میں اس کا ہاتھ پکڑتا ہوں
نہیں حاشر ایسے نہیں چلے گی رونے لگے گی کسی کا سامنے ہونا ضروری ہے
منت نے کہا تو حاشر نے سامنے سے آتے سالار کو دیکھا جو حاشر کواگنور کیے پری کی طرف آ رہا تھا ۔
جو اسے دیکھتے ہی خوش ہوگئی اسے دیکھتے ہی منت نے ایک طرف سے پری کو پکڑ لیا اور دونوں کا سہارا پا کر پری سالار کی طرف دوڑ لگا چکی تھی
اسے چلتا دیکھ کر وہ مسکرایا ایک عرصے کے بعد وہ اس طرح سے مسکرایا تھا
یا اللہ اسے سیرت کی موت پر صبر دے حاشرنے دل ہی دل میں اس کے لئے دعا کی تھی
سیرت کی وجہ سے وہ اس سے بہت عزیز ہو گیا تھا
مبارک ہو سالار بھائی آپ کی پری آپ اپنے پیروں کا استعمال کرنا جان گئی ہیں
منت نے مسکرا کر کہا
آپ کو بھی مبارک ہو وہ مسکراتے ہوئے اس کے ننھے ننھے گال چومنے لگا ۔
جبکہ حاشے نے روم کی طرف جانے لگا
سالار بھائی آپ پولیس سٹیشن گئے تھے کچھ پتہ چلا وہ جانتی تھی جو اب ہر بار والا ہی ہوگا لیکن پھر بھی پوچھ لیتی کیا پتا شاید ۔۔۔۔۔۔۔
اس کی بات کا جواب سننے کے لیے حاشر بھی وہیں رک گیا لیکن پلٹا نہیں
نہیں بابھی لیکن ان شاءاللہ میں کوشش کر رہا ہوں اس کی آدھی بات سن کر حاشر اندر چلا گیا جبکہ منت اداسی سے مسکرائی
میں آپ کے لئے چائے لاتی ہوں
نہیں بھابھی میں بس پری کو لینے آیا تھا کچھ دیر میں اسے چھوڑ جاؤں گا وہ کہتا ہوں پری کو اٹھا کر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا دن روتا رہتا ہے تمہارا بیٹا مجال ہے جو ایک سیکنڈ کے لیے بھی منہ بند کرلے
میں نے کہا بھی تھا اسے سکول اکیلے مت بھیجو لیکن تم دونوں بہن بھائی میری کبھی کوئی بات سنتے ہوئے اس نے ساتھ سالار کو بھی گھسٹا تھا
ہاں تو اکیلے نہیں جائے گا تو کیا پورا پاکستان داخل کرواؤں۔ابھی بچہ ہے آہستہ آہستہ سمجھ جائے گا آیت نے بے فکری سے کہا
آیت میں بھی تو ہی کہہ رہا ہوں ابھی بچہ ہے تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے اسےاسکول بیھجنے کی
ہاں تو کیا جب بوڑھا ہو جائے گا اس کے بعد بھیجوں گی آیت برا منا کر بولی
نہیں آیت میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کہ تھوڑا سا صبر۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے صبر نہیں کرنا چاہیے یہ بڑا ہوگیا ہے اسے اسکول بھیجنا چاہیے اس کی بات آیت کی گھوری نے بدل دی۔
روئے پیٹے جو بھی کرے اسکول تو یہ ضرور جائے گا اب میرا سعدی جوان ہوگیا ہے اسکول جائے گا ڈاکٹر بنے گا ماں کا نام روشن کرے گا
اپنی آنی۔ ۔۔۔آنی کا خواب پورا کرے گا وہ کہتے کہتے رونے لگی تو مہراج نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا
وہ چاہ کر بھی سالار کو یہ بات نہیں سمجھا سکتا تھا کہ سیرت صرف اس کے لئے نہیں بلکہ اس کے سب اپنوں کے لئے خاص تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔………..💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں آیا تو سیرت بیڈ پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی
آج بھی لیٹ میں آپ سے بات نہیں کروں گی کہا بھی تھا آج بھائی سے ملنے جانا ہے جلدی آ جانا لیکن آپ نے میری کب میری سنی ہے
بات مت کیجئے گا مجھ سے اور کوئی بہانہ بھی مت بنایئے گا میں ناراض ہوں آپ سے اور بالکل بھی راضی نہیں ہونے والی وہ غصے سے کہتی منہ پھیر بولی
سالار بھی بنا کچھ کہے اس کے پاس بیٹھ گیا
میں ناراض ہوں سیرت نے اونچی آواز میں کہا
سالار مسکرایا
سیرت نے نظر گھما کر اس کی طرف دیکھا جہاں سالار بالکل سیریس انداز میں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا
وہ پھر سے منہ پھیر گئی
میں ناراض ہوں پھر یاد دلایا
جانتا ہوں جانم لیکن تم مجھے بات کرنے کے لیے منا کر چکی ہو میں کیسے مناوں وہ اپنی ہنسی دبا کر بولا ۔
اگر میں نے منع کردیا تو آپ مجھے منائیں گے نہیں سیرت صدمے سے بولی
آپ مجھے اپنی صفائی پیش نہیں کریں گے ۔سیرت بے یقینی سے اس سے پوچھ رہی تھی ۔
کرتا نہ جانم لیکن تم نے بہانہ بنانے سے منع کر دیا سالار اپنی ہنسی کنٹرول کرتے بولا
لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ مجھ سے بالکل ہی لاپرواہ ہو جائیں مجھے بات ہی نہیں کرنی آپ سے وہ غصے سے پھر سے منہ پھیر گئی
جب سالار نے مسکراتے ہوئے اپنی جیب سے ایک خوبصورت سے انگوٹھی نکالی ۔
اور پھر اس کی ناراض صورت کو دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر پہنانے لگا
یہ ڈھونڈتے ہوئے وقت لگ گیا تھا وہ بہت محبت سے اس کا ہاتھ چوم کر بولا
آج تو میرا برتھڈے نہیں ہے سیرت نے اپنے ہاتھ کی انگوٹھی پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا
نہیں جانم آج وہ دن ہے جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا حنا می منگنی والا دن سیرت نے معصومیت سے پوچھا
نہیں لائبریری والا دن سالار نے مسکرا کر بتایا
آپ کو اتنے سارے دن کیسے یاد رکھتے ہیں ۔
پہلی ملاقات کا دن کڈنیپ والا دن برتھ ڈے والا دن پہلی بار بات کرنے والا دن نام لینے والا دن ہر دن ہی کوئی نہ کوئی دن نکل آتا ہے ہمارا سیرت نے کہا ۔
ہاں کیوں کے تمہارے ساتھ گزارا ہر ایک لمحہ میرے لئے خاص سے سالار نے اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا
لیکن آج تو آپ نے مجھے بھائی کی طرف لےجانے کا وعدہ کیا تھا سیرت نے اس سے الگ ہوکر کہا
کل کر لے جاؤں گا وعدہ سالار نے اسے دوبارہ اپنے قریب کیا
اگروعدہ خلافی کی تو معاف نہیں کروں گی سیرت نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا اور اس کے سینے پر سر رکھا۔
سالار نے چونک کر اپنے ہاتھ سے سگریٹ دور پھینکا جو اس کی دو انگلیوں کو جلا چکا تھا
سیرت میں کبھی وعدہ نہیں توڑوں گا پلیز واپس آ جاؤ تمہارا سالار تمہارے بنا مر رہا ہے وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے اپنے آنسو جو دن کی روشنی میں سب سے چھپاتا تھا بہا رہا تھا
آج پھر سے سیرت کی یادوں نے اسے سونے