228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 36

مجھے لگا تھا کہ ایک بار جیل جانے کے بعد تم سدھر جاؤ گے چوہدری لیکن تم ویسے ہی ہو ۔
کیوں کیا ہے تم نے یہ سب کچھ صرف کچھ زمین کے لیے ۔
میں جانتا تھا تم کمینے ہو لیکن اتنے بے حس ہو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔
تمہارے آدمی نے مجھ پر گولی چلائی تھی ۔جانتے ہو اس وقت مجھے کیا لگا تھا کہ تمہارے آدمی نے تمہاری اجازت کے بغیر یہ کام کیا ہے ۔
کیونکہ مجھے تم کبھی بھی اتنے سخت دل لگے ہی نہیں تھے وہ زمین تمہارے آباؤاجداد کی تھی اسی لیے لڑ رہے تھے نہ تم اس کے لیے ۔
اور پھر جب تمہارے ہی والدین نے وہ زمین میرے والدین کو بیچی تھی تو وہ زمین ہماری ہوچکی تھی ۔
وہ زمینی مسائل حل ہوچکے تھے چودھری تو پھر کیوں کیا تم نے یہ سب کچھ ۔
وہ زمین کی بات اتنی بڑی تو نہ تھی کہ تم مجھ سے میری زندگی چھیننے کی کوشش کرتے ۔
بتاؤ کیوں تم نے یہ سب کچھ ۔اس وقت اس کے آدمیوں کی گرفت میں چوہدری فیروز تھا جسے مزمل نے ایئرپورٹ پر بھاگنے سے پہلے ہی پکڑ لیا ۔
اور اچھا خاصا مار بھی چکے تھے ۔
لیکن سالار کا ارادہ اسے مارنے کا نہیں بلکہ اس سے سچ جانے کا تھا آخر ایسی کونسی وجہ تھی کہ وہ اس سے سیرت کو الگ کرنا چاہتا تھا ۔
تم جانتے ہو نہ وہ لڑکی میری کمزوری ہے اس لڑکی کے لیے میں ہر حد پار کر سکتا ہوں چودھری اور تم نے اسے ہی مجھ سے دور کرنا چاہا ۔
کیوں ۔۔۔۔۔۔؟
تم تو ایسی لڑائی میں فیملی کو نہیں گھسیٹتے تھے نہ کیا ہوا تمہارے اصولوں جواب دو مجھے کیا دشمنی ہے تمہاری سیرت سے کیوں مارنا چاہتے ہو تم اسے ۔۔۔؟
میں سیرت کو نہیں مارنا چاہتا تھا شاہ
اس سے مجھے کوئی مطلب نہیں تھا میں تو بس تمہیں نیچا دکھانا چاہتا تھا جب وہ زمین میرے ہاتھ سے نکل گئی میرے خاندان والوں نے مجھے دن رات تانے مارے ۔ سارا گاؤں ہنستا تھا مجھ پر ۔
کسی کے سامنے سر اٹھا کر چل نہیں پا رہا تھا میں ۔
یہ سوچ کہ کل کے آئے ہوئے لڑکے نے مجھ سے سے چودھری سے ساری زمین چھین لی یہ بات برداشت نہیں کر پا رہا تھا میں مجھ سے وہ بےعزتی برداشت نہیں ہو رہی تھی شاہ
لیکن شاہ تمہاری بیوی کو میں نے تم سے دور نہیں کیا میں اسے کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا ۔
اسی لئے تو جب اسد نے یہ کہا کہ وہ اس لڑکی کو تم سے دور لے جائے گا کبھی تم سے ملنے نہیں دے گا لیکن اس کو زندہ چھوڑ دو تو میں نے اسے زندہ چھوڑ دیا ۔
لیکن وہ اسے زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔
اب پھر وہ تمہاری بیوی پر حملہ کرنے والا ہے ۔
کون ۔۔۔۔۔۔؟
بتاؤ چوہدری کون ہے وہ آدمی جو مجھ سے میری سیرت کو الگ کرنا چاہتا ہے ۔
بتاؤ ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گا اس کا گربان پکڑتے ہوئے غصے سے دہاڑا ۔
شاکر ۔۔۔۔۔شاکر شاہ تمہاری بیوی کو مارنا چاہتا ہے ۔۔۔۔
تمہاری بیوی کی وجہ سے اس کی بیٹی پاگل ہوگئی ۔
اس لڑکی کی وجہ سے تم نے شاکرشاہ کی بیٹی سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ۔
اب ایک پاگل لڑکی سے کون شادی کرے گا سالار شاہ اسی وجہ سے شاکر شاہ نے تمہاری بیوی کو راستے سے ہٹا کر دریا کی شادی تم سے کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
مطلب میرا شک ٹھیک تھا یہ سب کچھ دریا کروا رہی تھی سالار نے مہراج کو دیکھتے ہوئے کہا
نہیں یہ سب کچھ دریا نہیں کروا رہی اسے تو پتہ تک نہیں ہے اس کے بارے میں ۔وہ اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی ۔شاکر نے اپنی کسی پلیننگ میں اپنی اولاد کو شامل نہیں کیا ۔
شاکر کی بیٹی تین بار موت کے منہ سے واپس آئی ہے اسی لیے وہ تم سے بدلہ لینا چاہتا ہے ۔
تمہارے باپ نے اس کی بہن کو مار ڈالا اور تم نے اس کی بیٹی کی زندگی خراب کر دی ۔اسی لئے اب وہ سیرت کو مار کر اپنا بدلا پورا کرنا چاہتا ہے
میرے بابا نے میری ماما کو نہیں مارا تھا وہ صرف ایک ایکسیڈنٹ تھا سالار چلایا ۔
ہاں لیکن شاکر یہ بات نہیں مانتا وہ کہتا ہے کہ اس کی بہن تمہارے باپ کی وجہ سے مر گئی ہے
آج وہ پھر سے کچھ کرنے والا ہے جلدی گھر جاؤ سیرت کو اکیلا مت چھوڑو ورنہ وہ اسے مار دے گا ۔
اس نے کہا تھا کہ جب تک تمہیں شاکر کا پتہ چلتا ہے تب تک سیرت راستے سے ہٹ جائے گی تمہیں سیرت کو اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے شاہ جاؤ اپنی زندگی بچا لو
••••••••••••••••
سیرت تم سو جاؤ تب تک میں پری کو کمرے سے لے آتی ہوں کب سے حنا کے پاس ہے اسے تنگ کر رہی ہوگی ۔
منت نے اس کے قریب سے اٹھتے ہوئے کہا تو سیرت نے فورا اس کا ہاتھ تھام لیا وہ بہت بری طرح سے ڈری ہوئی تھی سالار اسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا ۔
لیکن اس کا جانا بھی بہت ضروری تھا ۔
رات ڈھائی بجے کا وقت تھا ۔سب ہی جاگے ہوئے تھے سالار مہراج حاشر اسد سب لوگ فیروز سے ملنے گئے تھے ۔
لیکن اس کے باوجود بھی سیرت بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی وہ تو بس یہ سوچ رہی تھی کہ آخر فیروز کی اس کے ساتھ دشمنی کیا ہے جو وہ اسے مارنا چاہتا ہے ۔
بھابھی آپ مت جائیں مجھے ڈر لگ رہا ہے سیرت نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا ۔
میں نے کہا نہ میری جان میں بس دو منٹ میں آ رہی ہوں بس پری کو لے کر میں جلدی سے واپس آ جاؤں گی ۔
وہ اس کے اوپر کمبل ٹھیک کرتی اس کے قریب سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی ۔
جب اچانک ہی دروازہ بند ہونے کی آواز آئی
بھابھی آپ اتنی جلدی واپس آگئی ۔
سیرت نے دروازے کی طرف کروٹ لیتے ہوئے کہا لیکن سامنے نقاب پوش انسان کو دیکھ کر پریشان ہوگئی ۔
کون ہو تم۔۔۔۔۔۔؟
یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔؟
تم یہاں اندر کیسے آئے ۔۔۔۔؟
سیرت نے ڈرتے ہوئے پوچھا
جب کہ نقاب پوش کے ہاتھ میں نہ جانے کس چیز کی بوتل تھی اس نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا ۔۔وہ غور سے اس آدمی کو دیکھ رہی تھی
شاید نہیں یقینا وہ اسے جانتی تھی لیکن یہ کون تھا اسے یاد کیوں نہیں آرہا تھا ۔
میں پوچھتی ہوں کون ہو تم ۔۔۔۔؟ سیرت اونچی آواز میں چلائی تھی اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھتی منت اس کی آواز سن کر تیزی سے واپس آئی تھی ۔
ارے سیرت بیٹا تم نے مجھے نہیں پہچانا میں ہوں شاکر انکل وہی شاکر انکل جس کی بیٹی کی زندگی تمہاری وجہ سے برباد ہوگئی ۔
تمہاری وجہ سے سالار نے میری بیٹی سے شادی کرنے سے انکار کردیا ۔
میں جانتا ہوں اس وقت وہ بزدل چودھری فیروز سب کچھ بک چکا ہوگا اور اب اس کے ہاتھ میرا گربان پکڑ نے کہا کرنے کے لئے مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے لیکن اس سے پہلے ہی میں یہاں آگیا تھا کہ تمہیں ختم کر سکوں اب اتنا سب کچھ کرنے کے بعد مجھے کچھ تو حاصل ہو
یہ کہتے ہوئے شاکر نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بوتل کھولی اور اس میں موجود تیل بیڈ پر اور سیرت پر چھڑکنے لگا ۔
انکل پلیز آپ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا آپ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہیں ۔
سیرت نے اٹھ کر کمرے سے بھاگنا چاہا جب شاکرنے سے پھر سے دھکا دیا ۔
تمہاری وجہ سے میری معصوم بچی کی زندگی تباہ ہوگئی ۔
اب تمہیں مرنا ہوگا ۔تاکہ میری بیٹی کو اس کی خوشیاں نصیب ہوں یہ تو میں سمجھتا ہوں کہ سالار کبھی بھی میری بیٹی سے شادی نہیں کرے گا اور سالار کے بغیر میری بیٹی خوش نہیں رہ سکتی اگر میری بیٹی خوش نہیں رہ سکتی تو سالار بھی خوش نہیں رہے گا شاکر نے اپنے ہاتھ میں پکری ہوئی ماچس سے تیلی جلائی۔
اور بیڈ پر پھینک دیا آگ بُری طرح سے پھیل چکی تھی ۔
سیرت اپنا بچاؤ کر رہی تھی جب کہ منت زور زور سے دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی ۔
شاکر کے قہقوں کی آواز باہر تک آ رہی تھی۔
منت کی چیخ و پکار سن کر گھر کے سب لوگ سیرت کے کمرے تک آئے تھے اور دروازہ زور سے کھٹکھٹانے لگے ۔
زاویار اپنا لکج پھینکتا ہوا تیزی سے اوپر آیا ۔
اور سب کو پیچھے ہٹنے کے لیے کہنے لگا ۔
دو تین جھٹکوں کے بعد دروازے کڑی ٹوٹ گئی اور دروازہ کھل گیا ۔
منت حنا آیت فورا سیرت کی طرف بھاگی تھی جس کا پیر سے جل چکا تھا ۔
جبکہ زاویار اور دریا بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھ رہے تھے۔
زاویہ حنا کو سرپرائز دینے کے لئے آج ہی پاکستان آیا تھا ۔
لیکن گھر پہنچنے کے بعد اس نے اپنے باپ کو فون کیا تھا ۔
جس نے اسے بتایا کہ آج وہ اپنی بیٹی کو انصاف دلانے جارہا ہے ۔ زاویار کو کچھ سمجھ نہ آیا بس اتنا سمجھایا تھا کہ وہ کچھ اچھا نہیں کرنے والا ۔
••••••••••••••••
ہاں یہ سب کچھ میں نے کیا ہے ۔
ہاں میں سیرت کو مارنا چاہا سالار کی زندگی سے اسے دور کرنا چاہتا تھا میں اسے
اب اتنا کچھ بتا ہی دیا ہے تو یہ بھی بتا دیں کہ آپ نے یہ سب کچھ کیوں کیا ہے زاویار کب بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کچھ کر بیٹھے ۔
جبکہ سالار تو کب سے سیرت کا پیر اپنی گود میں رکھے کبھی مرہم لگاتا تو کبھی نرمی سے چھوتا ۔
اسے تو جیسے پتا ہی نہیں تھا کہ یہاں کیا ھو رھا ھے اگر کچھ پتہ تھا تو بس اتنا کہ سیرت کو چوٹ لگی ہے اور اس کا پہر بہت بری طرح سے جلا ہے ۔
کیونکہ نہیں دیکھ سکتا اپنی بیٹی کو گھوٹ گھوٹ کر مرتے ہوئے ۔اس شخص کی وجہ سے میری بیٹی کی زندگی برباد ہوگئی اس لڑکی کی وجہ سے اس نے میری بیٹی کو چھوڑ دیا ۔انفال اور سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
بس کردے بابا اگر سالار کی زندگی میں سیرت نہیں ہوتی تب بھی وہ دریا سے شادی کبھی نہیں کرتا ۔
مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ آپ ایسا کر سکتے ہیں بابا زاویاربے یقینی سے کے قریب بیٹھ گیا ۔
اس کا باپ اتنا کیسے گر سکتا تھا کہ کسی کی جان لینے کی کوشش کرے ۔
پالر میں بھی آپ نے آگ لگائی تھی نہ ۔۔۔۔وہ ان کے قریب بیٹھ کر پوچھنے لگا ۔
ہاں انہوں نے ہی لگائی تھی پالر میں آگ۔ میں نے تب بھی انہیں بتانے کی کوشش کی تھی ۔کہ سالار دریا سے نہیں مجھ سے پیار کرتے ہیں ۔
لیکن انہوں نے میری بات نہیں مانی ۔میری وجہ سے انہوں نے پالر میں موجود پینتیس اور لڑکیوں کی جان لے لی ۔
جب شاکر نے سیرت کو آگ لگانے کی کوشش کی کو پالر والا سارا واقعہ اسے یاد آ چکا تھا ۔اور اپنی پرانی زندگی بھی اسے اپنی پرانی زندگی کا ایک ایک لمحہ یاد آ چکا تھا ۔
اس کے سامنے وہی سب کچھ دہرایا گیا تھا جو اس کی یاداشت جانے سے پہلے ہوا تھا شاید اسی لیے اس کی یادداشت واپس آگئی تھی ۔
لیکن سیرت تمہارابریسلٹ وہ لاکٹ ۔۔۔۔۔؟ مہراج کے دل میں یہی ایک سوال کھٹکتا تھا اگر سیرت زندہ تھی تو وہ بریسلیٹ اور اس کا لاکٹ کسی دوسری لڑکی کے جسم سے کیوں ملا تھا ۔
وہ لوگ چور تھی ۔ کیا آپ نے بہت شرم میں کپڑے چینج کرنے گئی تھی تو میرے پیچھے دو لڑکی آ گئی ۔
اور مجھے ڈرا کر انہوں نے مجھ سے سارے پیسے میرا فون اور ساری جویلری اتروالی ۔
لیکن وہ خود بھی اس آگ میں ماری گئی سیرت نے سالار کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے سب کچھ بتایا ۔
آپ نے جو کیا ہے اس کی سزا آپ کو ضرور ملے گی بابا ۔
آپ نے یہ سب کچھ میرے لئے کیا ہے لیکن کم از کم مجھ سے ایک بار پوچھ تو لیتے کیا آپ مجھے سالار کو پانے کی خواہش ہے ۔
دریا نے زمین پر اپنے باپ کے پیروں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا ۔
نہیں بابا میرے دل میں سالار کو پانے کی خواہش اسی دن مر چکی تھی جس نے کہا کہ سیرت کے علاوہ اس کی زندگی میں کبھی کوئی لڑکی شامل نہیں ہوسکتی ۔
آپ نے ٹھیک کہا آپ ایک پاگل لڑکی سے کون شادی کرے گا ۔
شاید میں اس قابل ہی نہیں ہوں کہ کوئی مجھ سے شادی کرے ۔
میرے پاپا نے جو کچھ کیا اس کے لیے میں آپ سب سے معافی مانگتی ہوں ۔جانتی ہوں میں سالار اور سیرت کی زندگی کے خوبصورت چھ مہینے واپس تو نہیں دے سکتی
میں معافی کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتی یا شاید میں آپ لوگوں کی معافی کے قابل بھی نہیں ہوں ۔
دریا سب سے بڑی بات اپنی غلطی کو قبول کرنا ہوتا ہے ۔
ضروری نہیں کہ ہم زندگی میں جو چاہیے ہمیں وہی ملے ۔
مجھے تم سے یہ تمہارے بابا سے کوئی گلا نہیں ہے ۔
لیکن ضد اور بدلے صرف زندگی برباد کرتے ہیں ۔
اور کس نے کہا کہ تم کسی کے قابل نہیں ہو ۔۔۔تم بہت اچھی ہو دریا ۔
اور اگر تم میرے بھائی سے شادی کرنے سے ہاں کر دو توتم ولڈ کی بیسٹ بھابھی بھی بن سکتی ہو لیکن منت بھابھی سے زیادہ نہیں ۔
سیرت نے اتنی معصومیت سے کہا کہ ہال میں بیٹھے سب لوگوں کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔
السد نے کل غلطی سے بتا دیا تھا کہ سے دریا اچھی لگی ہے لیکن سیرت اس طرح سے کچھ کرنے والی ہے اسے بالکل اندازہ نہ تھا ۔
دنیا نے ایک نظر اپنے پیچھے بھرے اسد کو دیکھا ۔
انکل کیا آپ اپنی بیٹی کی شادی میرے بھائی سے کریں گے۔
سیرت نے اب شاکر سے پوچھا تھا ۔
میں تمہارا یہ احسان زندگی بھر میں ہی بولوں گا شاکر صاحب نے اسد کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
میری بیٹی کا ہاتھ تھام کر تم نے میرا احساس جرم کم کردیا ہے اسد ۔
اس کا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں تھما کر میں اپنا وہ جرم قبول کروں گا جو میں نے چھ مہینے پہلے سیرت کو مارنے کے لئے ان پینتیس بےگناہ لڑکیوں کی جان لے لی ۔
سیرت کی کہتی ہے ضد اور بدلے انسان کی زندگی تباہ کر دیتے ہیں سوارتے نہیں ۔
شاکر صاحب نے روتے ہوئے کہا ۔
اپنی بیٹی کی زندگی سوارنے کے لئے انہوں نے نہ جانے کتنے ہی بے گناہوں کی جان لے لی تھی ۔
اور اب وہ اپنا جرم قبول کرنا چاہتے تھے ۔
جس میں سب لوگ ان کا ساتھ دے رہے تھے
•••••••••••••••••••
کل دریا اور اسد کا نکاح تھا ۔
سالار اپنا سارا دھیان پری پد دیتا اسے یہاں سے وہاں گھما رہا تھا ۔
جبکہ سیرت سنی اور اپنے گڈو کے ساتھ مستیاں کرنے میں مصروف تھی ۔
سارے انتظامات ہوچکے تھے نکاح حویلی میں ہی رکھا گیا تھا ہارون صاحب ابھی کچھ دیر پہلے ہی یہاں پہنچے تھے ۔
انہیں بھی اپنی بہو بہت پسند آئی تھی ۔
اسد کو کبھی نہیں لگتا تھا کہ جو لڑکی پہلی ہی نظر میں اسے اتنی اچھی لگے گی وہ اس کی زندگی میں بھی شامل ہو جائے گی ۔
سالار کمرے میں آیا تو سیرت منہ بنائے بیٹھی تھی ۔
کیا ہوا جانم تھک گئی ہو کیا موڈ کیوں ہے ۔۔۔۔۔؟
وہ اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھا اور اسے کھینچ کر اپنی باہوں میں لیتے ہوئے بولا ۔
اب آئی ہے میری یاد سارا دن تو پری کے ساتھ چپکے رہتے ہیں آپ ۔وہ اپنا آپ چھراتے غصے سے بولی ۔
ہاں تو تم بھی تو سنی اور گڈو کے ساتھ چپکی رہتی ہو میں نے تو منع نہیں کیا ۔اور نہ ہی تمہاری طرح جل جل کے انگارا ہو رہا ہوں ۔
سالار کو تو جیسے موقع مل گیا تھا اگلے پچھلے تمام حساب میں پا کرنے کا ۔
ہاں تو وہ بچے ہیں سیرت منہ بنا کر بولی ۔
پری صرف دس ماہ کی ہے ۔سالار نے گویا یاد کروایا ۔
جائیں میں نہیں بولتی آپ سے سیرت کو کچھ نہ سوچا تو ناراض ہو کر بیٹھ گئی ۔
سنو پری جیسی ایک پیاری سی پری ہم بھی لے آتے ہیں سالار نے اسے اپنی باہوں میں لیتے ہوئے بڑے پیار سے کہا ۔
ہاں تاکہ آپ دن رات اسی کے ساتھ چپکے رہیں اور مجھے بھول جائیں ۔
سیرت کھا جانے والے انداز میں بولیں ۔
واہ جانم یعنی کے تم میری اس بیٹی سے جل رہی ہو جو ابھی تک اس دنیا میں بھی نہیں آئی ۔
ہاں کیوں کے آپ کے پیار پر صرف میرا حق ہے اور جب اس طرح سے آپ آگے پیچھے سب کو پیار کرتے ہیں تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا ۔وہ منہ بنا کر بولی ۔
لیکن تم سے زیادہ تو کسی کو نہیں کرتا نہ ہاں لیکن میں اپنی بیٹی کی کوئی گارنٹی نہیں دیتا میں پہلے بتا رہا ہوں ۔
سالار نے سے جان مٹاتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرائی۔
جانتی ہوں مجھ سے زیادہ آپ کسی سے پیار نہیں کرسکتے
سیرت کے ہاتھ سالار کی شرٹ کے بٹن کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔
اور پھر بھی اتنی جل رہی ہو ۔ سالارنے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے چھڑا
تو پھر کیا خیال ہے ہماری پری کے بارے میں سالار اسے اپنی باہوں میں لیتے ہوئے بیڈ پر لٹا چکا تھا ۔
خیال تو نیک ہے سالار لیکن ابھی نہیں تین سال بعد ۔‏سیرت نے تین انگلیاں دکھاتے ہوئے کہا تو سالار نے اس کا ہاتھ تھام کر چوما
اور یہ تین سال بعد کیوں۔ ۔۔۔؟ سالارنے پوچھا
کیونکہ میں حاشر بھائی کا خواب پورا کرنا چاہتی ہوں سالار میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں ۔
میرے بھائی نے اتنی مشکلیں جھیلی تھی اور ہم ان کا ایک خواب بھی نہ پورا کرسکی۔
آیت آپی اپنی زندگی میں بہت بیزی ہو چکی ہیں اب ان کا ڈاکٹر بننا ناممکن ہے لیکن میں تو بن سکتی ہوں نہ میں تو اپنے بھائی کا پورا کر سکتی ہو ں سالار میں اپنے بھائی کا خواب پورا کرنا چاہتی ہوں ۔
سیرت میں اجازت طلب نظروں سے سالار کی طرف دیکھا تھا ۔
مطلب کے تین سال تک مجھے پری کے ساتھ ہی گزارہ کرنا پڑے گا سالار نے کافی دیر سوچتے ہوئے کہا توسیرت کھکھلاکر مسکرا ئی
ہاں ۔۔سیرت نے زور زور سے گردن ہاں میں ہلائی
توسالار آنکھیں بند کرکے لیٹ گیا جب تھوڑی دیر کے بعد اپنے گال پر اس کے نرم ہونٹ محسوس ہوئے۔
لیکن اس نے آنکھیں نہیں کھولیں سیرت ذرا سی پیچھے ہٹی تو سالار نے پکڑ کر اسے پھر سے اپنے قریب کھینچ لیا ۔
سیرت میں چاہتا ہوں کہ آج کی رات تو مجھے یہ احساس دلاو کے تم میرے قریب ہو۔
وہ بنا آنکھیں کھولے بول رہا تھا ۔
جب سیرت نے اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے شرما کر اپنے لب اس کے ہونٹوں پر رکھے ۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی سے ہٹتی سالاراسے مکمل طور پر قید کر چکا تھا ۔
صرف ایک رات کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے وہ اس کی پناہوں میں قید ہو کر رہنا چاہتی تھی