228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 25

سالار نے اس کے بےہوش وجود کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور باہر کی طرف بھاگا ۔
اسدنےبھی اس کے پیچھے آنا چاہا لیکن تب ہی پولیس ان کے گھر میں داخل ہوئی ۔
اسد خان اور ہارون خان ہم آپ کو سالار شاہ کی بیوی کو اغوا کرنے کے جرم میں گرفتار کرتے ہیں آپ نے انہیں نہ صرف ان لیگل دوائیاں دی بلکہ انہیں ان کی فیملی سے بھی دور رکھا
ان دوائیوں کی وجہ سے وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھی ہیں اور قانون کی نظر میں یہ ایک بہت بڑا جرم ہے
ہم آپ کو گرفتار کرتے ہیں پولیس نے ہتھکری سامنے کرتے ہوئے کہا جبکہ سالار اور حاشر سیرت کو لے کر نہ جانے کہاں جا چکے تھے
دیکھیں انسپیکٹر وہ پہلے ہی اپنی یاداشت کھو بیٹھی تھی ان دوائیوں کی وجہ سے اسے صرف کچھ بھی یاد نہیں آیا ۔اسد نے سمجھانا چاہا
یہ سب کچھ تو اب آپ کورٹ میں جا کر بتائے گا ۔
لیکن آپ کے پاس ثبوت کیا ہے ۔آپ اس طرح سے ہمیں گرفتار نہیں کرسکتے اسد نے غصے سے کہا
ہمارے پاس ثبوت بھی ہے اور گواہ بھی جس ڈاکٹر سے آپ آن لیگل دوائیاں لیتے رہے ہیں وہ آپ کے خلاف گواہی دے چکا ہے ۔
اس کے علاوہ وہ لڑکی سیرت ہی ہے ۔یہ سالار شاہ کے گھر میں لگی ہوئی تصویریں اور ان کا آئی ڈی کارڈ ہمیں بتا رہا ہے اس کے علاوہ ایک انسان کو جھوٹی پہچان دے کر اسے ایک فیک لائف پر مجبور کرنا بھی قانون کی نظر میں ایک جرم ہے ۔
انسپیکٹر نے ان دونوں کو گرفتار کرتے ہوئے کہا
•••••••••••••••
ڈاکٹر صاحب میری سیرت کیسی ہے ۔
وہ بہتر ہیں فی الحال انجیکشن کے زہر اثر سو رہی ہیں
لیکن ان کی یاداشت کے بارے میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ وہ صرف ایک جھٹکا تھا
آپ نے وہ میڈیسن دینا انہیں چھوڑ دیا ہے ان شاء اللہ ان کی میمری جلد ہی واپس آ جائے گی لیکن آپ کو جو لگ رہا ہے کہ چار مہینے سے یہ میڈیسن لینے کے بعد ان کی یاداشت ایک ہی بار میں واپس آجائے تو یہ صرف ایک غلط فہمی ہے اور کچھ نہیں
ان کی یادداشت واپس آجائے گی لیکن یاد رکھیں کہ غلطی سے بھی وہ میڈیسن نہ لیں ۔
ابھی ان کی یادداشت واپس آنے میں ٹائم لگے گا لیکن آہستہ آہستہ وہ اپنی بھولی ہوئی زندگی ریکور کر لیں گی
آپ کو کوشش کرنی ہوگی کہ انہیں زیادہ سے زیادہ پرانی خوبصورت یادیں جن کے ساتھ وہ خوش رہتی ہیں یاد کروانے کی کوشش کریں
ایسی کوئی بات جو ان کے لیے مینٹل ٹینشن بن جائے ان کے سامنے نہ کریں ۔
انہیں ان کے بچپن کی خوبصورت یادیں واپس دیں۔
ان کے لیے وہ سب کچھ کرے جو وہ پسند کرتی ہیں ۔
ڈاکٹر تفصیل سے سمجھاتا ہوا باہر چلا گیا
•••••••••••••••••
سالار تمہیں لگتا ہے ابھی ہمیں سیرت کو اسپتال نہیں رکھنا چاہیے تم اتنی جلدی کیوں کررہے ہو اسے گھر لے کے جا کیوں رہے ہو
حاشر تمہیں ڈاکٹر کی بات نہیں سنی سیرت کےلیے وہ سب کیا جائے جو اسے پسند ہے اور کم ازکم ہسپتال کی سمیل تو اسے بالکل پسند نہیں ہے ۔
سالار پرسکون انداز میں سیرت کا سویا ہوا وجود اپنے باہوں میں بھرے باہر کی طرف لے جا رہا تھا
جبکہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا حاشر اس سے وجہ پوچھ رہا تھا
سالارنے آہستہ سے لاکر اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور اسکا سر اپنے کندھے پر رکھا ۔
حاشر بھی اسکی ضد کے آگے خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گیا وہ جانتا تھا اس شخص نے بات تو ویسے بھی کوئی نہیں ماننی۔
مزمل نے گاڑی چلائی اور شاہ خویلی کی طرف لے آیا ۔
صبح تقریبا گیارہ بجے تم سب کو لے کر یہاں آ جانا ۔ پھر ہم آگے کی پلاننگ شروع کریں گے سیرت کی یادداشت واپس لانے کے لئے ۔
سالار نے سب کچھ سمجھایا ۔
حاشر نے اس کے سوئے ہوئے وجود پر نظر ڈالی اور اس کے ماتھے کو چوم تھا باہر چلا گیا ۔
سالار اسے خاموشی سے اٹھا کر اپنے بیڈروم میں لے آیا
تمہیں لیفٹ سائٹ پسند ہے نا سیرت آج کے بعد میں کبھی ضد نہیں کروں گا لیفٹ سائیڈ سونے کی جو تمہیں پسند ہے وہ تمہارا ہے
تم جتنے چاہے نخرے کر سکتی ہو تمہارا ہر نخرہ سر آنکھوں پر
وہ اسی لیفٹ سائیڈ پر بیڈ پر لٹاتا خود رائٹ سائیڈ پر آیا لیکن اس کے بلکل قریب
اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے نجانے سیرت نے کب اٹھنا تھا
جبکہ سالار تو اس کے ساتھ اسے نظروں کے حصار میں لیے لیٹا تھا
مجھے یقین نہیں آرہا تم میرے اس قدر قریب ہو ۔
ایک بار اٹھو نہ پھر محسوس کروں گا تو پتا چلے گا نا
وہ اس کے گال کو نرمی سے اپنے لبوں سے چھوتا سرگوشی کر رہا تھا
••••••••••••••••
وہ گہری نیند میں تھی جب اسے اپنے اوپر دباؤ محسوس ہوا ۔
ایک انجانے سے احساس نے اسے گھیرا ۔
لیکن ابھی نیند اس اس پر حاوی تھی ۔
جب اسے چہرے پر کسی کہ لبوں کا لمس محسوس ہوا ۔
اس لمس میں کچھ انجان نہ تھا ۔ ایک خوبصورت سا احساس جو جو اتنے طویل عرصے بعد ملا تھا ۔
اسے کو مدہوش ہونے پر مجبور کر گیا ۔
چہرے سے اب وہ لمس اس کی گردن پر محسوس ہوا ۔لیکن وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ محبت کا یہ ہوادار سلسلہ اس کے لیے اتنا خوبصورت کیوں ہے ۔
وہبنا آنکھیں کھولیں اسے محسوس کر رہی تھی ۔
سالارجونجانے کتنی ہی دیر سے اس کی خوبصورت چہرے پر نظریں جمائے بے خود سا ایسے دیکھے جا رہا تھا
اس کے کمسمسانے پر اس کے قریب آگیا ۔
اس کا ارادہ صرف سیرت کو تنگ کرنا تھا ۔لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ وہ بھی اس کی محبت کو محسوس کرنا چاہتی ہے ۔
سالارا سے اپنے اس حد تک قریب دیکھ کر اپنا کنٹرول کھو بیٹھا
اور اس کے چہرے پر جابجا اپنے لبوں سے لمس چھوڑنے لگا ۔
اسے سیرت کی پیشقدمی نے اس کی گردن پر جھکنے پر مجبور کردیا۔
وہ اس کی خوبصورت گردن پے اپنے لبوں سے محبت کی داستان لکھتا اس کے پورے وجود پر حاوی ہوچکا تھا ۔
آئی لو یو سیرت میں تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا وہ بے خودی کے عالم میں بولا
اور اس کی بند آنکھوں پر ہونٹ رکھے تمہارا میرا ہونا میری زندگی کا سب سے خوبصورت ترین احساس ہے ۔
وہ سرگوشی نما آواز میں کہتا اس کے خوبصورت لبوں پہ اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا ۔
وہ بے باکی کی حدوں کو چھوتا اپنے آپ کوسیراب کر رہا تھا ۔
اس وقت اسے کچھ بھی پتا نہ تھا پتا تھا تو بس اتنا کے اس کی سیرت اس کے بالکل قریب ہے ۔
سیرت کو اپنے لبوں پر کچھ عجیب محسوس ہوا تو اس کی آنکھیں اچانک کھل گئی ۔
نیند اور مدہوشی چھن سے ٹوٹی تھی ۔
اپنے آپ کو سالار کی باہوں میں اس طرح سے قید دیکھ کر وہ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھی۔
سالار اسے اپنی باہوں میں اس طرح سے قید کئے ہوئے تھا کہ اس کا نکلنا ناممکن تھا ۔
اس نے اپنے دونوں ہاتھ سالار کے سینے پر رکھ کر اسے خود سے دور کرنا چاہا ۔
جو سالار نے اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر نرمی سے تکیے پر رکھے ۔
جب کہ اس کے لبوں پر سالار کی پکڑا اب بھی مضبوط تھی
لیکن اس کے اس طرح سے پھڑپھڑانے پر سالار کی مدہوشی میں جنون شامل ہو رہا تھا ۔
وہ جتنا اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی سالار اس کی ہر کوشش ناکام بناتا مزید اس کے قریب ہو رہا تھا ۔
وہ نازک سی لڑکی اس طاقتور آدمی کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی ۔
اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی ۔جبکہ سالار اس پر رحم کھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔
لیکن اب وہ اس پر کوئی رسک نہیں اٹھا سکتا تھا
سالار نے اس پر ترس کھاتے ہوئے اس کے لبوں کو آزادی بخشی ۔
سیرت کی سانسوں کا توازن بری طرح سے بکھر چکا تھا
اور اب مزے سے وہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا سالار میں اس کے لبوں کو تو بخش دی ہے لیکن اس کو نہیں ۔
وہ ابھی تک سالار کی باہوں میں قید تھی سیرت نے اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ناکام ۔
اتنے دنوں بعد ملی ہوں جانم اتنی آسانی سے تو نہیں چھوڑوں گا تمہیں یاد ہے تم نے پارلر جانے سے پہلے مجھ سے کیا وعدہ کیا تھا ساری رات جاگ کر میرے جذبات کو سکون پہنچاؤ گی ۔
آج تم وہی وعدہ نبھاؤ گی
اور مجھ سے نرمی کی امید مت رکھنا
آج میں تمہیں بتاؤں گا ۔کہ سالارشاہ تمہارے لیے دنیا کی کوئی بھی حد پار کرنے کو تیار ہے
چھوڑیں۔۔۔۔۔۔۔ مجھے خدا کے لئے آپ کیا کر رہی ہیں ۔سیرت اپنے آپ کو چھڑواتے اس کی باہوں میں پھڑپھڑا رہی تھی
اب اتنی بھی ننھی کاکی نہیں ہو جانم کہ یہ بھی سمجھانا پڑے کہ میں کیا کر رہا ہوں ۔
سالار سیرت کے دوپٹے کو نکال کر دور پھینکا تھا ۔
سالار کی اس جرت پر سیرت کا چہرہ مزید سرخ ہوگیا
وہ ہاتھ کی انگلی سے اس کے چہرے پر لکیریں کھینچتا اپنے گرم سانسوں سے اسے بے چین کر رہا تھا
جب اسے محسوس ہوا کہ اس کے بازوؤں میں قید یہ معصوم سی لڑکی اس سے رہائی چاہتی ہے ۔
خبردار سیرت تم نے ایک آنسو بھی بہایا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔
اسے رونے کی تیاری پکڑتے دیکھ کر وہ سختی سے گویا ہوا ۔
چھوڑیں مجھے خدا کے لئے مجھے میرے گھر جانا ہے میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا کیوں آپ میرے پیچھے پڑے ہیں سیرت روتے ہوئے بولی ۔
سالار کی سختی بھی اس کے آنسو روک نہیں پائی تھی ۔
اپنے آنسو کو روک لو سیرت ورنہ جس انداز سے میں یہ صاف کروں گا وہ انداز تم مجھ سے چہرہ چھپانے پر مجبور کردے گا ۔
وہ اسے دھمکاتا ہوا ایک بار پھر سے اس کے چہرے پر جھکنے لگا ۔
پلیز مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔وہ اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی ۔
جو سالار نے فورا چھوڑ دیا ۔
تمہارا ہر حکم سر آنکھوں پر تم جو کہو گی وہ میں کرونگا لیکن خود سے دور نہ جانے دوں گا نہ تم سے دور جاؤں گا
سیرت نے اپنا سارا زور لگا کر اس بھاری وجود کو خود سے پڑے کیا اور باہر کی جانب بھاگ گئی
سالار نے سوچا تھا کہ وہ شاید اس کا وزن برداشت نہیں کر پا رہی اسی لئے وہ اس سے ذرا سا پڑے ہٹا لیکن وہ تو ہاتھ سے ریت کی طرح باہر نکل گئی ۔
سالار نے مسکراتے ہوئے اس کا ڈوپٹہ اٹھایا اور آہستہ آہستہ باہر کی طرف آیا ۔
جانم آج دنیا کی کوئی بھی دیوار سالار شاہ کو تم تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی