Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 26
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 26
رات کے 3 بج رہے تھے سیرت دروازہ کھول کر باہر تو آ گئی تھی لیکن اب وہ کہاں جائے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا مین گیٹ لاک تھا
اور شاید اس وقت اس گھر میں سالار کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا یہ سوچ دماغ میں آتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے جبکہ سالار اس کی ہر حرکت کو بہت غور سے دیکھتا سیڑھیوں پر کھڑا تھا
جانم کہاں جانے کی تیاری ہے کیوں بھاگ رہی ہو مجھ سے کیا مجھ سے دور جا سکتی ہو تم ۔۔۔۔؟وہ اس سے سوال کر رہا تھا
وہ قدم اٹھاتا ہوا اس کے قریب آرہا تھا جس طرح سے اس کے قدموں کی رفتار تھی اس سے کہیں زیادہ تیز سپیڈ میں سیرت کا دل بھاگ رہا تھا ۔
دیکھیں پلیز مجھے گھر جانے دیں آپ جو کہہ رہے ہیں وہ سہی نہیں ہے ۔وہ ہمت کرکے بولی
لیکن ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں جانم ۔کرنے کا ارادہ تو میں اب رکھتا ہوں
سالار کے مزید قریب آنے پر دروازے سے چپکی ۔
بےبی بہت مضبوط مٹیریل سے بنا ہے یہ دروازہ اس طرح سے نہیں ٹوٹے گا اسے دروازہ پر زور لگاتا دیکھ کر وہ مسکرا کر بولا
پلیز مجھے جانے دیں مجھے اپنے گھر جانا ہے ۔بند دروازے سے چپکی آنسو بہانے کی مکمل تیاری پکڑ چکی تھی ۔
سیرت کیا ہو گیا ہے تمہیں کیوں بھاگ رہی ہو مجھ سے میں تمہارا محروم ہو کوئی غیر تو نہیں ۔
شادی کے بعد چار مہینے تک تم نے مجھے تڑپایا ۔مشکل سے میری زندگی میں بہار آئی تھی کہ تم پھر سے مجھے چھوڑ کر چلی گئی
پر اب واپس ملی ہو تو سب کچھ بھلا کےسیرت اس وقت اگر تم میری حالت سمجھ لو تو ساری زندگی مجھ سے دور جانے کا سوچتے ہوئے بھی روط کانپے گی تمہاری
وہ اس کے رونے کی پرواہ کیے بغیر اس کی گردن پر جھکا سیرت نے اسے پیچھے دھکا دینے کی کوشش کی لیکن اس کی باہوں میں قید تھی ۔
ایک بار محسوس کرو سیرت ایک بار محسوس تو کرو یہ لمحات ہم پہلے بھی جی چکے ہیں
سالار اس کے بالوں میں منہ چھپاتا مدہوشی کے عالم میں بولا
دیکھیں پلیز مجھے چھوڑ دیں مجھے میرے گھر جانے دیں وہ روتے ہوئے خاصی اونچی آواز میں بولی تھی
کیا کر رہی ہو سیرت اتنی اونچی آواز میں کیوں بول رہی ہے ماما جاگ جائیں گے دالار نے سے گھورتے ہوئے کہا ۔
مطلب وہ یہاں اکیلی نہیں تھی ۔
سالار نے جس کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے سیرت سے کہا تھا وہ اپنا آپ اس کی باہوں سے چھڑواتی تیزی سے اس کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی
اس کی بیوقوفی پر سالار کا دل چاہا کہ ایک تھپڑ لگا کے اسے سیدھا کر دے لیکن اسے تھپڑ لگانا سالار کے بس کی بات نہ تھی
••••••••••••••••
دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے سیرت سیدھی اندر جا چکی تھی ۔
آنٹی پلیز مجھے بچا لے وہ مجھے میرے گھر میں جانے دے رہے پلیز ان سے کہیں مجھ سے دور رہیں
وہ روتے ہوئے سارا بیگم کے ساتھ بیڈ پر چڑھ چکی تھی
سارا بیگم جو گہری نیند سو رہی تھی اسے اس طرح سے دیکھ کر پریشانی سے کبھی سالار تو کبھی اسے دیکھنے لگی
سالار کیا ہوا ہے سیرت اس طرح سے کیوں رو رہی ہے سرت روتے ہوئے ان کے سینے سے لگی تو ساہ بیگم پریشانی سے سالار سے پوچھنے لگی
دماغ خراب ہوگیا ہے آپ کی بہو کا سالار نے سے گھورتے ہوئے کہا
چلو اپنے کمرے میں سالار نء اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا ۔
آنٹی پلیز مجھے بچا لیں یہ پتا نہیں میرے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں ۔سیرت اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش میں مزید سارا بیگم کے ساتھ چپکی
سیرت دماغ خراب ہوگیا تمہارا کیا بولے جا کر رہی ہو ۔جلدی سے چلو اپنے کمرے میں نہیں تو اٹھا کے لے جاؤنگا وہ اس بار غصے سے بولا تھا
اسے ہرگز امید نہ تھی کہ سیرت اس طرح سے سارا بیگم کو نیند سے جگا کر اس طرح سے رونا دھونا کرے گی
جیسے وہ اس کا محافظ نہیں بلکہ لٹیرا ہو
وہ سارا بیگم سے چپکتی خود کو اس سے بچانے کے لئے کہہ رہی تھی اور یہی بات تھی جو سالار کا غصہ دلارہی تھی
سنالار تم اپنے کمرے میں جاؤ سیرت کو میرے پاس رہنے دو میں سنبھال لوں گی اسے سارا بیگم نے یقین دلاتے ہوئے کہا
نہیں ماما سیرت میرے ساتھ جائیگی سالار کے لہجے میں ضدی پن شامل تھا
اس وقت وہ اس کا ساتھ چاہتا تھا سارا بیگم سمجھ سکتی تھی کہ سیرت کے بغیر اس کی زندگی کتنی ویران ہے ۔
لیکن فی الحال انہیں سیرت کی کنڈیشن بھی سمجھنی تھی جو سالار کو اپنا شوہر نہیں سمجھتی تھی ۔
سالار میں کہہ رہی ہوں تم اپنے کمرے میں جاؤ میں سے سمجھاؤں گی فکر مت کرو سب کچھ بالکل ٹھیک ہو جائے گا وہ اسے یقین دلاتے ہوئے بولی
پلیز مجھے میرے گھر جا نا ہے سیرت نے روتے ہوئے کہا
سیرت اب یہی تمہارا گھر ہے اس باع وہ دھاڑا تھا
جبکہ اس کا غصہ دیکھ کروہ مزید سارا بیگم کے ساتھ چپکی
سیرت میری بات سمجھنے کی کوشش کرو یہ ہے تمہارا اصل گھر ہے اور سالار تمہارا شوہر ہے ۔
وہ تمہاری فیملی نہیں ہے ہم ہیں تمہاری فیملی سارا بیگم نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا
نہیں آنٹی وہ میری فیملی ہے آپ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں وہ مجھے ڈھونڈ رہے ہونگے
کہاں ڈھونڈ رہے ہونگے جیل میں سالار نے غصے سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا
جیل ۔۔۔سیرت نے بڑی مشکل سے یہ لفظ وعدہ کیا تھا
ہاں جیل مجھ سے میری بیوی الگ کرنے اور اسے غلط میڈیسن دینے کے جرم میں انہیں تھانے تک پہنچا چکا ہوں دو دن میں کورٹ میں ان کا فیصلہ بھی ہوگا جھوٹی آئیڈنٹی دینے کے جرم میں کم از کم پانچ سال کے لیے اندر ہوں گے وہ دونوں
سالار جو سوچ رہا تھا کہ وہ سیرت کے ان بارے میں بتا کر مزید پریشان نہیں کرے گا اس کی بے وقوفی پر سب کچھ بتا دیا
وہ سالار اور سالار کی محبت پر ان لوگوں کو فوقیت دے رہی تھی اور یہ بات سالار سے برداشت نہیں تھی
وہ سخت نظروں سے اسے گھورتا باہر نکل گیا
جبکہ سیرت پریشانی سے سارا کو دیکھنے لگی
آنٹی میرے ابو اور بھائی
سیرت الحال آرام کرو ان شاءاللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ہم اس بارے میں صبح بات کریں گے ۔
وہ سیرت کو سمجھاتی اسے بستر پر لیٹانے لگی
••••••••••••••••••••••••••
اپنے کمرے میں آنے کے بعد بھی سالار کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا ۔
آخر وہ سالار کو سمجھ کیا رہی تھی ۔
وہ اس پر اپنا آپ ثابت نہیں ظاہر کرنا چاہتا تھا وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے ۔
اور وہ اس سے دور بھاگ رہی تھی
نہیں سیرت تم مجھ سے دور نہیں جاسکتی ۔
تم مجھ سے دور نہیں جا سکتی اور نہ ہی میں تمہیں مجھ سے دور جانے دوں گا آج نہ سہی لیکن کل رات تو میرے کمرے میں رہوگی ۔
اس کی سزا تو میں تمہیں ضرور دوں گا ۔وہ غصے سے مسلسل کمرے میں ٹہل رہا تھا نیند کوسوں دور تھی
اسد اور ہارون کا تو میں وہ حال کروانگا کہ وہ غصے سے اپنا فون اٹھانے لگا
ہیلو مزمل وہ انسپیکٹر ہے نا جسے اسداور ہارون کی نگرانی کے لیے رکھا گیا ہے
اسے چائے پانی کا خرچہ دے کر ان دونوں کو ٹھیک سے خاطر تواضع کرواؤ سالار نے غصے سے کہا
جیسا آپ کا حکم شاہ سائیں مزمل فون بند کیا ۔
فون بند کرنے کے بعد اس کے غصے میں تھوڑی سی کمی آئی تھی ۔
لیکن جو حرکت سیرت نے کی تھی وہ بھی بلانے والے نہیں تھی
اس بےوقوف لڑکی کو تو میں چھوڑوں گا نہیں ۔وہ غصے سے سوچ رہا تھا
لیکن پھر اس سب کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے ہنسی آنے لگی ۔
جانم تمہیں لگتا ہے تم مجھ سے بھاگ جاؤ گی ۔
ہائے میری بہادر چوزی تمہیں تو پتہ ہی نہیں جانے من کہ ماما توکل اپنی بھتیجی کی شادی کے لئے جانے والی ہے اس کے بعد سالارشا ہوگا میری بہادر چوزی ۔
لیکن آئی پرامس اب میں تمہیں ڈراؤں گا نہیں ۔سالار نے مسکراتے ہوئے سوچا ۔
•••••••••••••••••
انسپیکٹر اسد کو کو مارے جا رہا تھا ہارون صاحب کی عمر کا لحاظ کر کے انہیں تھوڑا سا مار کے ہی پیچھے ہو گیا تھا
لیکن اسد کی اس نے وہ درگت بنائی تھی جو تھانے کے سبھی قیدیوں کو یاد رکھنی تھی ۔
براشوق ہے تم لوگوں کو لوگوں کی بچیاں اغوا کرکے انکی آئیڈنٹی بدلنے کا
لیکن ایک بار یہ بھی تو سوچ لیتے کہ جب پکڑے جاؤ گے تب کیا حال ہوگا ۔انسپیکٹر اپنے ڈنڈے کا استعمال کرتا اسد کو بری طرح سے پیٹ رہا تھا ۔
۔ٹھیک ہوں انسپکٹر میری بات سن لو ۔اس لڑکی کی جان خطرے میں ہے میں نے اس کی آئیڈنٹی بھی اسی لیے چینج کی تھی تاکہ اس کی جان بچ سکے ۔
وہ لوگ اسے مار دیں گے سالار شاہ کے پاس وہ محفوظ نہیں ہے وہ مر جائے گی اسد مسلسل اسے کو بتانے کی کوشش کر رہا تھا
جبکہ انسپکٹر کو جو موٹی رقم ملی تھی اس کے بعد وہ کچھ سننے کے لیے نہیں بلکہ صرف عمل کرنے کے لیے آیا تھا
•••••••••••••••••••••
سیرت کی آنکھ کھلی تو سارا بیگم کو بیگ پیک کرتے دیکھا آپ کہاں جا رہی ہیں آنٹی اس نے فوراً پوچھا
سیرت مجھے آنٹی مت کہا کرو بیٹا ماما بلایا کرو ۔وہ مصروف انداز میں بولی
میری میکے میں شادی ہے میرے بھائی کی بیٹی کی اسی سلسلے میں جا رہی ہوں ۔
آپ مجھے اکیلے چھوڑ کر چلی جائیگی ان کے پاس سیرت صدمے سے انہیں دیکھتے ہوئے بولی
پلیز مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلے سیرت نے منت کرتے ہوئے کہا توسارا بیگم مسکرا دیں
اگر تم میرے ساتھ آتی تو مجھے بہت خوشی ہوتی تھی لیکن سالاراجازت نہیں دے گا ۔تم تو جانتی ہو نا وہ تمہارے معاملے میں کتنا ٹچی ہے
پرانے محبت سے اسکا گال چھوٹے ہوئے کہا
مطلب آپ مجھے ان کے پاس بالکل اکیلی چھوڑ کر چلی جائیگی ۔یہ صرف آپ کی غلط فہمی ہے آنٹی میں ان کی بیوی نہیں ہو سیرت نے سمجھانا چاہا
تم اس کی بیوی ہو سیرت اور تمہیں بہت جلدی سب کچھ یاد آجائے گا وہ کوئی غیر نہیں ہے ۔سارا بیگم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
تبھی سالار دروازے پر آیا ماما گاڑی آ گئی ہے ڈرائیور باہر آپ کا انتظار کر رہا ہے چلیں۔آپ آلریڈی لیٹ ہیں سیرت کی حالت دے کر سالارنے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے نے یاد دلایا کہ وہ آلریڈی لیٹ ہیں
سارہ بیگم نے اسے گلے لگایا اور سالار سے مل کر باہر چلی گئی
جانم اب تمہیں کون بچائے گا مجھ سے سارا بیگم کے باہر نکلتے ہی سالار نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
چہرے پر شرارتی مسکراہٹ سجائے ہوئے سے بخشنے کابلکل کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔
جبکہ اس کے باہر نکلتے ہی سالار نے دروازے کو دیکھا جا اندر سے بند ہوچکا تھا ۔
میری معصوم بیوی
“آئی ہیو ڈوبلیکیٹ کی” سالار نے سامنے دیوار کی طرف دیکھا جہاں سارے ہی گھر کی ڈپلیکیٹ کیز تھی
وہ سارا بیگم کو گاڑی تک چھوڑنے آیا اور انہیں بھیج کراب وہ سیرت کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا
