Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 9
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 9
بھائی آپ نے اپنی بائیک کیوں بچ دی اگر وہ ہوتی تو ہمیں اتنی دور پیدل تو نہ چلنا پڑتا اس کی معصوم سی آواز پر اسد مسکرایا شاید اسے پتہ تھا کہ پردے کے پیچھے منہ کا کون سا ڈیزائن بنا ہوا ہے
ہاں تو میں نے تمہیں کتنی بار کہا تھا کہ ہم قریب سے ہی واپس آ جاتے ہیں تمہیں کراچی کا بازار دیکھنے کا شوق ہوا تھا اسد نے کہا جبکہ مرحا چل چل کے تھک چکی تھی
بھائی آپ سے ایک بات پوچھوں مرحانے پوچھا
اگر میں نہیں کہوں گا تو کیا تم نہیں پوچھو گی اسد نے الٹا اس سے سوال کیا تھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
ابوجی کیسے یاد کر کے روتے ہیں اور مجھے کب سب کچھ یاد آئے گا کب ساری پرانی باتیں مجھے یاد آئیں گی میرا بچپن میرا سکول کیوں مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے مرحا اداسی سے بولی
ایسے ہی آ جائے گا مرحا آہستہ آہستہ سب کچھ یاد آئے گا ابھی صرف چار مہینے ہی تو ہوئے ہیں اور ابوجی اپنے ماما بابا کو یاد کرکے روتے ھیں ابو جی نے دادا جی کے خلاف جاکر ماما سے شادی کی تھی اور پھر وہ لوگ ان سے ناراض ہوگئے
پھر کچھ عرصے بعد ابو جی کے والدین کا انتقال ہوگیا اور وہ ان کا آخری دیدار بھی نہیں کر پائے والدین تو سب کو عزیز ہوتے ہیں نا اسی لئے ابو جی روتے ہیں اسد نے اسے پیار سے سمجھایا جبکہ مرحا بس اس کے ساتھ چلے جا رہی تھی
۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔
مہراج آپ نے حاشر بھائی کو بول تو دیا کہ آپ سالار بھائی سے شادی کے لیے بات کریں گے لیکن یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے سالار بھائی تو آپ کے اتنے خلاف ہوگئے ہیں اس سے تو وہ آپ سے مزید بدظن ہو جائیں گے آیت نے پریشانی سے کہا
جانتا ہوں آیت یہ اتنا آسان نہیں ہے لیکن میں سالار کو اس حال میں بھی نہیں دیکھ سکتا مہراج پریشانی سے بولا لیکن مہراج آپ سالار بھائی سے یہ بات کریں گے کیسے۔۔۔۔۔!
میرا مطلب ہے وہ تو ٹھیک سے بات بھی نہیں کرتے
وہ میرا بھائی ہے میرا دوست ہے وہ مجھے جان سے بھی مار دے تو اف تک نہیں کروں گا ہاں لیکن اب دو تین مکے گھسے تو کھا ہی لونگا
لیکن بات ضرور کروں گا مہراج نے مسکراتے ہوئے
لیکن سالار بھائی آپ کو غلط نہ سمجھے آیت اب بھی پریشان تھی
بس اپنے بھائی کی ہی فکر ہے کبھی جو میری پرواہ کی تم نے وہ اسے باںہوں میں کھینچتے ہوئے بولا
مہراج بچے آیت نے بچوں کی طرف اشارہ کیا
سو رہے ہیں بچے اور تم اپنے شوہر پر دھیان دو مہراج نے اسے اپنی طرف کھینچ تو آیت بھی مسکراتے ہوئے اس کے قریب آگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہیں آپ کے نیو ڈیزائننگ ایڈیٹر وہ سامنے رکھی فائل کو دیکھ رہا تھا سامنے کرسی پر ساتھ ہی ہارون صاحب بیٹھے تھے
گڈ کتنے سالوں کا ایکسپیرینس ہے آپ کو سالار نے ان کی فائل پر دھیان دیتے ہوئے کہا
جی سر مجھے پندرہ سالوں کا ایکسپریس ہے میں ایک کمپنی میں۔۔۔۔۔۔ ہارون صاحب ابھی سے کچھ بتا رہے تھے جب سالار نے ہاتھ اٹھا کر انہیں چپ رہنے کو کا اشارہ کیا
تو آپ کو وہاں سے نکالا کیوں گیا۔۔۔۔۔۔؟ سالار نے دوسرا سوال پوچھا
جبکہ اس کا یہ سوال ہارون صاحب کو کچھ خاص پسند نہ آیا تھا
سر مجھے نکالا نہیں گیا میں نے خود جاب چھوڑ دی ہے دراصل میرے بیٹے کو بہت اچھی جاب مل گئی تھی اس لئے میں اپنی بیٹی اور بیٹے کے ساتھ یہاں آگیا
اوکے آپ کا کام مجھے پسند آیا ہے آپ کا طریقہ بھی مجھے پسند ہے آپ ہمارے لئے کام کرسکتے ہیں اور آپ بہت قابل بھی ہیں اس لیے مجھے اچھا نہیں لگے گا کہ آپ ہمارے آفس کے ممبر ہوتے ہوئے ایک ریٹ ہاؤس میں رہیں
یہ ہمارے اسپیشل ورکرز کے لئے فلیٹ ہیں ان میں سے ایک فلیٹ آپ کو دے رہے ہیں آپ اپنی فیملی کے ساتھ 6ماہ تک یہاں رہ سکتے ہیں
اس کے بعد اگر آپ مزید ہمارے لئے کام نہیں کرنا چاہتے تو آپ کو جاب کے ساتھ ہمارے ساری دی گئی سہولیات کو بھی چھوڑنا ہوگا
سالار پروفیشنل انداز میں کہتا اٹھ کر کھڑا ہوگیا
جبکہ چابی سامنے ٹیبل پر چھوڑدی
جو ہارون صاحب نے خوشی خوشی لے لی کیونکہ جس گھر میں وہ اس وقت رہ رہے تھے وہ گھر بہت چھوٹا تھا اور آبادی سے تھوڑا دور ہونے کی وجہ سے ان کا آفس بھی بہت دور پڑتا تھا اسد بھی اکثرلیٹ ہو جاتا اس لیے ہارون صاحب کو یہ آفر بہت اچھی لگی تھی
۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو جی یہ گھر تو اس گھر سے کافی بڑا ہے مرحانے خوشی سے بتایا تھا
ہاں ابو جی یہاں سے تو میرا آفس بہت قریب ہے اور یہ فلیٹ بھی بہت اچھا ہے اسد کو بھی فلیٹ بہت پسند آیا تھا اسد بیٹا تم مرحا کو یہاں سے کالج میں ایڈمیشن دلوا دو
لیکن بابا میرا ایڈمیشن کیسے ہو گا میرے سارے سرٹیفیکیٹس اورپیپرز تو آگ میں جل گئے تھے نا مرحا نے سوچتے ہوئے بتایا
ابو جی میں اسے اپنے ساتھ لے جاؤں گا ایک ٹیسٹ ہوگا اور تمہارا ایڈمیشن ہوجائے گا یہاں کالج میں میرا ایک دوست ہے وہ سب کو سنبھال لے گا میں نے اس سے بات کرلی ہے تم بس ٹیسٹ اچھے سے دینا کچھ بھی گڑبڑ مت کرنا
اسد نےجیسے اس کی ہر پریشانی دور کردی
آپ بے فکر ہو جائیں بھائی ٹیسٹ میں کچھ گڑبڑ نہیں ہوگی میں اتنا اچھا ٹیسٹ دوں گی کہ سر خود ہی ٹیچرچئیر سے اٹھ کر مجھے وہاں بٹھا دیں گے مرحا نے خوشی خوشی پرجوش انداز میں کہا اسے یقین تھا اس کا ٹیسٹ بہت اچھا ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسد ہارون صاحب کو لینے آیا
ارے بیٹا تم نے بائیک لے لیا ابو جی نے خوشی سے
اس کا نیو بائیک دیکھا
جی ابو جی مرحا روز کہتی تھی کہ گھومنے لے کر چلیں اور پیدل بھی وہ چل نہیں سکتی تو کچھ انتظام کرنا ہی تھا اسدنے مسکراتے ہوئے بتایا
ہارون صاحب اس کے پیچھے بیٹھے جبکہ ان سے کچھ فاصلے پر اپنی گاڑی کے نزدیک کھڑا مہراج اس لڑکے کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا
کہیں تو دیکھا ہے اسے لیکن کہاں مہراج سوچتے ہوئے اندر چلا گیا لیکن دماغ ابھی بھی اسی کی طرف تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے ہو سالار مہراج نے اس سے ملتے ہوئے پوچھا
بالکل ٹھیک ہوں تم سناؤ بچے کیسے ہیں آیت کیسی ہے
سالار نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
ہاں سب ٹھیک ہیں گھر آؤ کبھی مل لو بچوں سے
کسی دن ٹائم نکال کے آؤنگا اچھا آدمی رکھا ہے تم نے کام کافی اچھے سے کرتا ہے سالار کو واقع ہی ہارون صاحب بہت پسند آئیں تھے
سالار میں تم سے ایک بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں غلط مت سمجھنا میری بات کا غلط مطلب مت نکالنا مہراج نے کہا
ایسی کونسی بات کرنی ہے جو میں تمہیں غلط سمجھنے لگوں گا شاید سالار کو اس کی بات کا کچھ اندازہ تھا
پلیز شادی کر لو سالار دیکھو سالار سیرت جا چکی ہے وہ کبھی واپس نہیں آئے گی وہ مرچکی ۔۔۔۔۔۔
بس آج کہہ دیا آئندہ مت کہنا چلے جاؤ یہاں سے سالار غصے سے بولا
دیکھو سالار ۔۔۔۔
جاؤ مہراج میں آج تو کیا کبھی اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہوں گا
تم جا رہے ہو یا میں چلا جاؤں گا اس بار وہ غصے سے دھاڑا تھا مہراج بے بسی سے دیکھتا ہوا خود اٹھ کر چلا گیا
جبکہ سالار یہ سوچ رہا تھا آخر اس کا سب سے پیارا دوست اس کے لئے ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے
سیرت میری محبت ہے مہراج تم اسے کیسے بھول سکتے ہو وہ زندہ ہے میں اسے ڈھونڈوں گا جب تک میں زندہ ہوں میری سیرت کو کچھ نہیں ہوگا
کہاں ہو تم سیرت کیوں میرا ضبط آزما رہی ہو کیوں نہیں واپس آجاتی کو کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بےبسی سے سوچ رہا تھا
