228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 18

آپ یہاں۔۔۔۔۔۔؟ اس سے اپنے کمرے میں دیکھ کر وہ جلدی سے بیڈ پر اٹھی
سیرت یہ لوگ بہت برے ہیں دیکھو یہ لوگ تمہاری پرانی زندگی بلانے کے لیے تمہیں یہ میڈیسن دے رہے ہیں
ان میڈیسن کی وجہ سے تم مجھے بھول گئی ہو سیرت تمہیں سب کچھ بھولتا جا رہا ہے یہ لوگ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں تم چلو میرے ساتھ سالار اس کا ہاتھ تھامے زبردستی سے اپنے ساتھ لے کے جا رہا تھا
چھوڑیں میرا ہاتھ آپ کی ہمت کیسے ہوئے گھر میں آنے کی اور آپ میرے بھائی اور میرے ابو جی کی غیر موجودگی میں یہاں کیوں آئے ۔۔۔۔؟
اس نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا
پر ساتھ ہی اپنا فون اٹھنے لگی
سیرت وہ نہ تمہارا باپ ہے اور نہ ہی وہ تمہارا بھائی وہ لوگ تمہارے کچھ نہیں لگتے تمہارا ان سے کوئی رشتہ نہیں ہے کسے فون کر رہی ہو تم ۔،۔۔؟
سیرت کے ہاتھ میں فون دیکھ کر فوراً اس کے ہاتھ سے فون چھیننے لگا
سیرت تم میری بات سنو
نہیں ہوں میں سیرت مرچکی ہے آپ کی بیوی کیوں آپ قبول نہیں کر لیتے کیوں آپ ہمیں پریشان کر رہے ہیں پلیز چلے جائیں یہاں سے ورنہ میں چلا چلا کر سب کو بلا لوں گی مرہاہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی
زندہ ہے میری سیرت تم ہو میری سیرت خبردار جو کوئی بھی بکواس کی تم نے وہ غصے سے کہتا اسے بازو پکڑ کر اپنے نزدیک کرلیا
چھوڑیں مجھے دیکھے میں سیرت نہیں ہوں آپ اس کاصرف چہرا مجھ سے ملتا ہے میں سمجھ سکتی ہوں آپ اپنی بیوی کو بہت چاہتے ہیں اس لیے آپ اس کی بہت کو ایکسیپٹ نہیں کرپارہے مرہاہ نے غصے سے دیکھا اور سمجھانے لگی
جب سالار اس کے مزید قریب ہوا تم ہو سیرت اور تم زندہ ہو تم ایکسیپٹ نہیں کر رہی سچ ان لوگوں کی وجہ سے تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے کوئی بات نہیں تمہاری برتھ ڈے پر میں ثابت کروں گا کہ تم سیرت ہو میں تمہارا انتظار کروں گا یقین کرو تم سے زیادہ میں خود بیچین ہو یہ بات ثابت کرنے کے لیے تمہیں اپنی زندگی میں واپس لانے کے لئے سالار اپنا ہاتھ نرمی سے اس کے گال پر رکھتے ہوئے بولا
میں نہیں آؤں گی
تم آؤ گی اور اگر تم نہیں آۓ تو تمہارے اس سوکالڈ بھائی کے ساتھ وہ ہوگا جو تم نے کبھی نہیں سوچا ہوگا
تم سمجھ سکتی ہو میں اس کے ساتھ کیا کیا کر سکتا ہوں کیونکہ تم سے بہتر تو ویسے بھی مجھے کوئی نہیں جانتا اب مجھے پیار سے یہاں سے بھیجو اور کل شرافت سے پارٹی میں آجانا ورنہ کل تمہارا وہ بھائی گھر واپس نہیں آئے گا
اور ہاں رات کو فون کروں گا اور فون نہ اٹھانے کی صورت میں ‘ میں واپس یہاں آجاؤں گا تم مانو یا نہ مانو تم میری بیوی ہو
6 مہینے سے میرے جذبات تمہارے لیے کس حد تک بے لگام ہو چکے ہیں تمہیں پارٹی میں نہ آنے کی صورت میں یہاں کر بتاؤں گا
سالار بے باکی سے کہتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھ گیا
مرہاہ اندر تک کانپ گئی
گھبراؤ مت جانم میں کونسا پہلی بار تمہارے اتنے قریب آیا ہوں ۔۔ کل ملتے ہیں۔
میں تمہارا انتظار کروں گا وہ مسکرا کر کہتا باہر نکل گیا جبکہ مرہاہ آہستہ آہستہ وہی دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی آخر کیوں یہ شخص انجان نہیں لگتا تھا وہ اسے اپنے دل کے قریب لگتا تھا ںخ آخر کیوں اس کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ سیرت ہے
اس نے جلدی سے اپنے دماغ کو یہ سب سوچنے سے باز رکھا
لیکن خود کو سالار کو سوچنے سے باز نہیں رکھ پائی
♧♧——————————–♧————————–♧
مرہاہ چاہ کر بھی اسد اور ابو جی کو سالار کے بارے میں کچھ نہیں بتا پائی
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر کیوں سالار کا ذکر کسی کے سامنے نہیں کر پاتی سالار کی باتیں اس کے ذہن پر بری طرح سے سوار ہو چکی تھی
ابو جی نے دوبارہ اسے پارٹی پر جانے کے لئے نہ کہا لیکن جس طرح سے سالار دھمکی دے کر گیا تھا کہ پارٹی پر نہ آنے کی صورت میں اسد واپس گھر نہیں آئے گا یہ بات سوچتے ہوئے اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے
نجانے وہ آدمی اس کے بھائی کے ساتھ کیا کردے
اگر اس نے سچ مچ میں اسد بھائی کے ساتھ کچھ کر دیا تو ان امیر لوگوں کا کوئی بھروسا نہیں ہے میں اس کی اس بے فضول ضد کی وجہ سے اپنے بھائی کو کچھ نہیں ہونے دے سکتی ۔
اور ویسے بھی وہ تو صرف یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ میں سیرت ہوں کل وہ نہیں کر پائے گا تو خود ہی ہار کر پیچھے ہٹ جائے گا
اور ویسے بھی اگر میں سیرت ہوں ہی نہیں تو مجھے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے میں سیرت نہیں مرہاہ ہوں اور چاہے وہ کچھ بھی کرلے میں مرہاہ ہی رہوں گی وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے سوچ رہی تھی ۔
مرہاہ بیٹا تم نے میڈیسن لی ابو جی نے کمرے میں آتے ہوئے پوچھا ۔
نہیں ابو جی میڈیسن ٹوٹ گئی مرہاہ نے سر جھکا کر کہا
تو بیٹا مجھے بتایا کیوں نہیں میں اسد کو بھیجتا ابوجی نے باہر جاتے ہوئے اسد کو پکارا
ابو جی اب تو بہت وقت ہوگیا ہے صبح لے آئے گا اور ویسے بھی اب میں ٹھیک ہوں مجھے اب ان میڈیسن کی ضرورت نہیں ۔
ایسے کیسے ضرورت نہیں وہ میڈیسن کی تمہارے لئے بہت ضروری ہے بیٹا ابو جی نے سمجھاتے ہوئے کہا
لیکن ابو جی آپ نے بالکل ٹھیک ہوں تو پھر میڈیسن کیوں۔ ۔۔؟ مرہہاہ نے معصومیت سے منہ بنایا
کیونکہ بیٹا جو کچھ چھ مہینے پہلے ہوا ہے اس کی وجہ سے تم آج بھی ڈر جاتی ہو اس لیے میڈیسن دی گئی ہیں تاکہ تم کو حادثے بھول جاؤ ابو نے پیار سے سمجھایا
چھ مہینے پہلے کیا ہوا تھا مرہاہ نے پوچھا
بیٹا میں چاہتا ہوں تم سب کچھ بھول جاو اگر میں خود ہی تمہیں وہ سب کچھ بتانے لگا تو پھر تمہیں وہ میڈیسن دینے کا کیا فائدہ پلیز سب کچھ بھولنے کی کوشش کرو ابو نے اسے پیار سے سمجھایا
نہ جانے چھے مہینے پہلے ایسا کیا ہوا تھا وہ تو جب بھی یاد کرنے کی کوشش کرتی اسے ہر جگہ آگ جلتی نظر آتی
♧♧——————————–♧————————–♧
ٹھیک سے تیاری کرلی وہ آیت کے سر پر کھڑا اسے کام کروا رہا تھا جبکہ حنان اور سعد مہراج کی گود میں تھے
حاشر پری کو اٹھائے ادھر سے ادھر گھوم رہا تھا جبکہ منت بھی سیرت کی برتھ ڈے کی تیاریاں کر رہی تھی سارا بیگم بھی ان کا پورا پورا ساتھ دے رہی تھی
سالار کی خوشی دیکھنے لائق تھی
ہر کوئی اس کی خوشی میں خوش تھا آیت اور منت سیرت کا بے تابی سے انتظار کر رہی تھی
حاشر نے کہا تو نہیں تھا لیکن وہ بھی بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا
سالار کو یقین تھا وہ ضرور آئے گی وہ اپنے قریب رہنے والے ہرانسان کو چاہتی تھی تو اسد کو تو اپنا بھائی سمجھتی تھی اس لیے اسد کا نام لیا اس کا ارادہ اسد کو نقصان پہنچانے کا ہرگز نہ تھا وہ تو بس سیرت کو پارٹی میں لانے کے لئے اسے دھمکی دے گیا
اسے اسد کی آنکھوں میں سیرت کے لیے محبت محسوس ہوئی تھی بے شک وہ اسے اپنی سگی بہن کی طرح چاہتا تھا لیکن سیرت اس کی بہن نہیں تھی
اور آج سالار یہی بات ثابت کرنے والا تھا گھرمیں لگی سیرت کی تصویریں ہی یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی تھی
وہ اس کی سیرت تھی لیکن پھر بھی سیرت پر یہ ظاہر کرنا ضروری تھا اور اس سے زیادہ ان دونوں پر جو سیرت کو مرہاہ کہتے تھے
رات سالار نے سیرت کو بہت بار فون کیا لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا پہلے تو سالار کو بہت غصہ آیا لیکن پھر وہ سمجھ گیا کہ وہ اس میڈیسن کی وجہ سے سو گئی ہے
سالار نے میڈیسنس کے بارے میں مزید پتا کروایا تھا اور اب وہ کافی زیادہ ٹینشن میں تھا
اگر وہ مسلسل چھ ماہ تک وہ میڈیسن لیتی رہی تو وہ اپنی یادداشت بالکل ہی کھو بیٹھے گی اور اگر ایسا ہوا تو اس کی یاداشت کبھی واپس نہیں آئے گی
ساری تیاری مکمل ہوچکی تھی اب انہیں صرف اور صرف سیرت کا انتظار تھا
♧♧——————————–♧————————–♧
حد ہے مری ہوئی لڑکی کی برتھ ڈے کو مناتا ہے اسد نے
کوفیت سے کہا
سالار شاہ ابو جی نے مسکرا کر جواب دیا
مجھے تو لگتا ہے کہ وہ صرف ہم پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہے اسد نے کہا
نہیں اسد وہ سچ میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے
میں نے اس شخص کی آنکھوں میں ایک جنون دیکھا ہے ابو جی نے کہا
خیر جو بھی ہے میں اور مرہاہ گھر پر ہی رہیں گے آپ ہجائیں آخر آپ کے باس کی بیوی سالگرہ ہے مرہاہ گڑیا کھانا لگاؤ اس نے کمرے میں جاتے ہوئے کہا
لیکن سامنے ہی مرہاہ کو بلیک لونگ فراک میں تیار کھڑا دیکھ کر پریشان ہو گیا
تم تو نہیں جانے والی تھی نہ اسد نے پوچھا
ہاں بھائی میں نہیں جانے والی تھی پھر میں نے سوچا آخر دیکھوں تو کیا ان کی سیرت بالکل میری طرح دکھتی ہے مرہاہ نے اپنے کانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹوپیس پہنے
ٹھیک ہے میرے کپڑے نکالو اس شخص کے سامنے تو تمہیں اکیلے کبھی نہیں جانے دوں گا
اسد نے ابو جی کی بات پر پہلے کچھ خاص ورنہ کیا تھا لیکن اب مرہاہ کا جانے کا سن کر اسے ابو جی کی باتیں یاد آنے لگیں
سالار شاہ کی آنکھوں میں مرہاہ کے لیے محبت اسد نے سوچتے ہوئے مرہاہ سے کہا
مرہاہ خوشی خوشی اس کے کپڑے نکالنے لگی ۔
اسد بھائی کے سامنے وہ میری طرف دیکھنے کی ہمت بھی نہیں کرے گا مرہاہ نے سوچا
یہ جانے بغیر کے سالار شاہ کو اپنی سیرت کو دیکھنے کے لئے کوئی نہیں روک سکتا
سالار ساری رات وہ اسے فون کرتا رہا لیکن مرہاہ میڈیسن لے کر سو چکی تھی صبح جب سالار کی اتنی ساری مسٹکالز دیکھی تو پریشان ہوگئی
کال کرنے کے علاوہ بہت سارے میسیج بھی تھے آخری میسیج میں گڈنائٹ لکھا تھا
جو تقریبا پونے چار بجے کیا گیا تھا
وہ اسد کپڑے نکالتے مسلسل سالار ہی سوچ رہی تھی
سالار سر کا فون تھا پیچھے ایک گھنٹہ سے جو گاڑی باہر کھڑی ہے وہ ہمارے انتظار میں ہےے
اس ڈرائیور کو ہمیں لینے کے لیے بھیجا ہے
چلو بیچارہ کب سے انتظار کر رہا ہے اگر سالار سر پہلے بتادیتے تو اتنا انتظار تو نہ کرنا پڑتا بیچارے کو ابوجی کہتے ہوئے باہر نکلے جبکہ وہ فلیٹ لاک کرنے لگی