228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 7

۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیرت کی ایکسپئیر ہوئی چیزیں کمرے سے ہلانے نہیں دیتا اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کسی اور کو سیرت کی جگہ دےگا
ایم سوری بیٹا مجھے نہیں لگتا کہ سالار دوسری شادی کے لئے کبھی بھی تیار ہوگا نہ آج اور نہ ہی آگے کبھی سارہ بیگم نے مایوسی سے کہا
نہیں آنٹی ہمہیں سالار کو دوسری شادی کے لیے تیار کرنا ہوگا ہم اسے مجبور کریں گے اسے اس بات کا احساس دلائیں کہ ہم سب کے لئے وہ اہم ہے ہم سب نے سیرت کو کھویا ہے
اور جو کچھ سالار کر رہا ہے وہ بھی ہم سے دور ہو گیا ہے ہم اسے کھو نہیں سکتے ہمیں اسے واپس لانا ہوگا ہم سب کو مل کر اسے منائیں گے
حاشر نے امید بھری نظروں سے مہراج کی طرف دیکھا جو سالار سے اپنی ہر بات منانے کا فن جانتا تھا
جب سے میں نے سالار کو کہا ہے کہ سیرت کے زندہ ہونے کی امید چھوڑ دے
تب سے وہ مجھ سے بھی ٹھیک سے بات نہیں کرتا وہ مجھے اور تمہیں اپنی محبت کا دشمن سمجھنے لگا ہے حاشر وہ میری کوئی بات نہیں مانے گا
اسے گئے ہوئے ایک ہفتے سے اوپر ہو چکا ہے صرف ایک بار فون کیا ہے اس نے اور وہ بھی اپنے کام کے لئے
مہراج نے نا امیدی دکھائی
لیکن پھر بھی کوشش کروں گا اسے مایوس ہوتا دیکھ کر مہراج نے کہا جبکہ اس سب کے دوران منت اور ایت بالکل خاموش بیٹھی تھی جو دل ہی دل میں سالار کے یقین کے سچ ہونے کی دعائیں مانگ رہی تھی
لیکن پھر ہر بار حقیقت انہیں اپنا آپ دکھا تی
اور یہ حقیقت ہر بار سامنے آ کر یہی کہتی کہ سیرت انہیں چھوڑ کر جاچکی ہے
۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔
سالار آپ بھی آئیں نہ وہ اس وقت ترکی کے تاریخی مقامات پر فوٹو بنا رہی تھی جبکہ سالار مسلسل اپنے فون پر کسی سے باتیں کر رہا تھا
شاید کام کے سلسلے میں
ایک تو آپ میری بات سنتے نہیں ہیں وہ اس کے ساتھ چپک کر سیلفی لیتے ہوئے بولی جو فون پر بیزی ہونے کے باوجود اس کے ساتھ سیلفیاں بنا رہا تھا
مسکرا کر فون کی سکرین کی طرف دیکھنے لگا
اف آپ کا فون لائیں ادھر مجھے دیں وہ ایک ہاتھ سے اس اس کے کان کے قریب سے فون کھینچتی دوسرے ہی پل بند کر چکی تھی جس کے ساتھ انجانے کتنے لاکھوں کی بزنس ڈیل کا جنازہ اٹھ چکا تھا
ایک تو آپ اونٹ جتنے ہیں لمبو کہیں کے وہ دیوار پر چڑھتے ہوئے بولی
جانم یہ لمبو بھی تمھارا ہے تم یہیں رکو میں بناتا ہوں اپنی پیاری سی جانم کی پیاری سی سیلفی وہ ہاتھ اونچا کرنے لگا تو سیرت مسکرا کر اس کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی
سالار جس میٹنگ کے لیے اتنا پریشان تھا وہ ڈیل تو ویسے بھی نہیں ملنے والی تھی تو کیوں بیکار میں اتنا پریشان ہوتا سواب وہ سیرت کے ساتھ انجوائے کرنے لگا
سالار دیکھیں نہ وہ لوگ وہاں پے اپنا نام لکھ رہے ہیں چلے آئے ہم بھی لکھتے ہیں
سیرت نے کچھ فاصلے پر اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں پانی کے ساتھ برے برے پتھروں پرلوگ اپنے نام لکھوا رہے تھے
سیرت سالار سے پہلے دوڑ پر وہاں پہنچی
اور ایک پرچی پر اپنا اور سالار کا نام لکھ کر دیا
تو سامنے کھڑا آدمی فورا ہی پتھر پر ان دونوں کا نام لکھنے لگا سیرت کسی معصوم بچے کی طرح کھلکھلاتی خوش ہو رہی تھی جب سالاراس کے قریب آکر رکا
سالار آپ کو پتہ ہے یہ نام ہمیشہ یہی رہیں گے دیکھیں کتنے سالوں سے لوگوں کے نام یہاں لکھے ہیں کسی کا خراب نہیں ہوا اور نہ ہی مٹا ہے
ہمارا نام بھی ہمیشہ یہاں رہے گا اگر میں مر گئی تو بھی اس سے پہلے سیرت کی بات پوری ہوتی سالار نے اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
آج کے بعد ایسی بکواس مت کرنا سیرت
عشق کرتا ہوں تم سے تم ہو تو میں ہوں تم ہو تو یہ دل دھڑکتا ہے سالار نے اس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھا
تم ہو یہ سانسیں چلتی ہیں تم ہو تو سالار شاہ ہے سالار کا عشق سالار کا جنون سالار کا ہر پل تم سے شروع ہوکر تم پہ ختم ہوتا ہے سالار کی محبت کی ابتدا سے لے کر عشق کی انتہا بس ایک نام پر آ کر کھڑی ہوتی ہے
سیرت سالار شاہ
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا تو سیرت بنا کسی کے پرواہ کیے اس کے سینے میں اپنا منہ چھپا گئی
آج بھی سالار اسی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا کب سے وہ اپنا اور سیرت کا نام ایک ساتھ پتھر پر لکھا دیکھ رہا تھا اس کا فون نہ جانے کتنی بار بج کر بند ہوچکا تھا مگر سالارنے نہیں اٹھایا سیرت جب اس کے ساتھ ہوتی تو اس کو فون کو اٹھانے کی اجازت نہ تھی
وہ اس کی موجودگی میں اپنا فون یا تو سینٹ رکھتا ورنہ بند کر دیتا
سیرت اس سے کہتی تھی اگر اس کی موجودگی میں اس نے فون اٹھایا تو وہ اسے چھوڑ کر چلی جائے گی اور پھر اسے چھوڑ کر چلی گئی سالار نے بے ساختہ اپنے گال پربہتا آنسو صاف کیا
کیونکہ وہ اسے یہاں سب کے سامنے نہیں بہا سکتا تھا یہ تو اس کی تنہائی کا ساتھی تھا
۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔
کیا کر رہی ہو جانم اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔
چوکلیٹ کھا رہی ہوں سیرت نے معصومیت سے جواب دیا ۔
نہیں جانم تم اسے کھا نہیں رہی تم اسے گھور رہی ہو سالار نے اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ۔
کھانا چاہتی ہوں لیکن سیرت نے منہ بنایا
لیکن ۔۔؟لیکن کیا جانم سالار نے دلچسپی سے پوچھا ۔
ختم ہو جائے گی نہ یہ آخری ۔اور اب آپ تو ایک ویک کے بعد لا کے دیں گے نہ جواب دے کر سیرت ایک بار پھر سے چاکلیٹ کو گھورنے لگی ۔
جبکہ اس کی بات پر سالار قہقہ لگا کر ہنسا۔ سیرت نے منہ بنا کر اسے دیکھا ۔
ویسے میرے پاس ایک آئیڈیا ہے جس سے تمہاری چوکلیٹ ختم نہیں ہوگی ۔
سالار جانتا تھا کہ چوکلیٹ سیرت کو بہت پسند ہے لیکن یہ اتنی بھی اچھی چیز نہیں ہے کہ اسے اتنا زیادہ کھانے دیتا ۔
سالار ابھی صبح اس کے لیے پورا پیکج لایا تھا جو اب آخری بچا تھا
کون سا آئیڈیا۔۔؟ سیرت نے خوشی خوشی پوچھا کہ وہ اپنا آخری چوکلیٹ بچانا چاہتی تھی
تم سو جاؤ ویسے بھی ساڈے گیارہ بج چکے ہیں سالار نے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
لیکن مجھے نیند نہیں آ رہی نہ ایک بار پھر سے دنیا جہان کی معصومیت سمیٹے بولی
نو پروبلم اس کا بھی حل ہے
میرے پاس ایک ایسا آئیڈیا ہے جس سے تمہیں فوراً نیند آ جائے گی
وہ کیا سیرت ایک بار پھر سے ایکسائٹڈ ہو کر پوچھنے لگی
جب سالار نے اسے کھینچ کر اپنی باہوں میں لے لیا اور اس پر جھکنے لگا
سیرت نے فوراً گھبرا کر اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی۔
مجھے بہت نیند آ رہی ہے سالار ٹائم دیکھیں .آپ نے صبح آفس جانا ہے
اس کی بات سن کر سالار نے ایک بار پھر سے قہقہ لگایا
دیکھا میرا آئیڈیا کتنی جلدی تمہیں نیند آگئی
سالار نے اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا
اب جلدی سے سو جاؤ تاکہ تمہاری آخری چوکلیٹ کی جان بچ جائے
اور ایسا ہی ہوا اس کے سینے سے لگتے ہی سیرت تھوڑی دیر میں سو گئی ۔سالار نے مسکرا کے اس کے ماتھے پر بوسا دیا
اور خود بھی سونے لگا