Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 31
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 31
صبح سالار کی آنکھ کھلی تو سب سے پہلے اس نے اپنے قریب سیرت کو تلاش کرنا چاہا ۔
کل رات وہ اس کے ساتھ کچھ زیادہ ہی من مانیاں کر بیٹھا تھا ۔
کل رات اپنے جذبات پر کنٹرول نہ کرتے ہوئے سالار کچھ زیادہ ہی بے شرم ہو گیا ۔
جس کا اندازہ اس وقت سیرت کو کمرے سے غائب کر لگایا تھا ۔
وہ جلدی سے شاورلے کر کمرے سے باہر آیا نجانے سیرت کہاں تھی۔
باہر سب لوگ بیٹھے خوشگپوں میں مصروف تھے ۔
جبکہ سیرت کا پنک آنچل کچن سے لہراتا نظر رہا تھا وہ سارا کے ساتھ کچھ باتیں کرنے میں مصروف تھی۔ اس کی میٹھی آواز باآسانی سالار کے کان سن رہے تھے
سارا تو صاف نظر آرہی تھی لیکن دروازے سے سیرت کا صرف آنچل ہی نظر آیا ۔
تم لوگوں نے ناشتہ کیا سالار نےہال میں بیٹھی آیت منت اور حنا سے پوچھا ۔
بھائی یہ ناشتے کا وقت نہیں ہے ٹائم دیکھا ہے آپ نے کیا ہوگیا ہے ۔سیرت صبح سے ہمارے پاس ہے نہ جانے اب کس کے خواب دیکھنے کے لیے ابھی تک سوئے ہوئے تھے ۔
سالار نے ایک نظر اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کو دیکھا جو ساڑھے گیارہ بجے جارہی تھی ۔
سیرت کے جانے کے بعد آج وہ پہلی بار سکون سے سویا تھا سیرت اس کا سکون تھی جسے پا کر وہ پرسکون تھا ۔شاید اسی لیے اس کی نیند جلدی نہ کھلی
وہ بھی وہیں مہراج اور حاشر کے قریب بیٹھ کر باتیں کرنے لگا جبکہ نظر بار بار کچن کے دروازے کا طواف کر رہی تھی
تھوڑی دیر میں اسے سیرت کچن سے نکلتی ہوئی دکھائی دی۔
ریڈ جتنا تو نہیں لیکن پنک کلربھی اس پر بہت سوٹ کرتا تھا ۔
کھلے کالے بالوں میں چاند سا روشن چہرہ ایک پل کے لئے سالار اسکے معصوم حسن میں کھو سا گیا ۔
ایسا لگا جیسے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے صرف وہ اس کی سیرت شاہد وہ پہلے اس کے لئے پہلے اتنا پاگل نہیں تھا ۔
اسے کھونے کے بعد شاید اسے اس کی اہمیت کا احساس ہو گیا تھا ۔
اس سے آتا دیکھ کر وہ صوفے سے اٹھ گیا
وہ ہر چیز سے بیگانہ ہوکر بے خیالی میں اس کی طرف قدم بڑھانے لگا جبکہ سیرت اس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر سب کو دیکھنے لگی ۔
لیکن شاید ان پر کسی کا دھیان نہ تھا ۔
حنا اپنے فون سے کچھ منت اورایت کو دکھا رہی تھی ۔
جب کہ حاشر اور مہراج اٹھ کر باہر جارہے تھے ۔سارا بیگم کچن میں کچھ کر رہی تھی
سالار کو اپنے قریب آتے دیکھ کر اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔ابھی تک تو وہ سالار کی رات کی جسارتوں اسے نہ سنبھلی تھی
اس کا ارادہ اس سے کچھ دیر ناراض رہنے کا تھا ۔تاکہ وہ اسے بتا سکے کل رات سالار نے اس کے ساتھ زیادہ ہی بے شرمی دکھائی ہے
لیکن سالار کو تو جیسے کسی چیز کا ہوش ہی نہ تھا بس ایک ایک قدم چلتا اس کی طرف بڑھ رہا تھا
سالار اس کے بالکل قریب آکر رکا ۔
سیرت نے ایک نظر پیچھے دیکھا سب کا دھیان کسی نہ کسی چیز پر تھا ۔
جبکہ سالار کا اس پر
اور نے اس کی نظروں کی پرواہ کیے بغیر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے لبوں پر جھک گیا ۔
لیکن اگلے ہی پل سیرت کو محسوس ہوا کہ کوئی بہت غور سے انہیں دیکھ رہا ہے سیرت نے ایک جھٹکے سے سالار کو خود سے الگ کیا ۔
ان کے بالکل قریب کھڑی دریا آنکھوں میں بے جان سا تاثر لئے ان کو گھور رہی تھی سالارسیرت کی نظروں کا زاویہ دیکھ کر سمجھ گیا ۔
ایسے کیا گھور رہی ہو سالار نے غصے سے کہا شاید وہ خود بھول چکا تھا کہ وہ سیرت کے ساتھ کیا کرنے کے لئے اس کے قریب آیا تھا ۔
یا اس کے ساتھ کیا کر چکا تھا ۔
سالاربھائی ناشتہ کرلے ہمیں کچھ دیر میں نکلنا ہے ۔اس سے پہلے کہ سالار دریا کو کچھ سخت سناتا منت فوراً بول اٹھی ۔
سالار دریا کو سخت نظروں سے گھورتا کچن کی طرف چلا گیا ۔
کیا ہوا سیرت تم کیوں اتنی سرخ ہو رہی ہو بخار تو نہیں ہورہا تمہیں منت نے فکر مندی سے اس کے ماتھے کو چھوا ۔
لیکن اس کے چہرے کی سُرخی کا راز سوائے سالار اور دریا کے کوئی نہیں جانتا تھا
•••••••••••••••••
سالار ناشتہ کرکے آیا تو سیرت کمرے میں آخری بار اپنا سامان چیک کر رہی تھی۔
اسے کمرے میں آتا دیکھ کر شروع ہوگئی
ذراشرم نہیں آتی آپ کو کہیں بھی شروع ہو جاتے ہیں آپ ۔۔۔۔؟
وہ دریہ نجانے کیا سوچ رہی ہوگی ہمارے بارے میں دیکھ رہے تھے کس طرح سے گھور رہی تھی ہمیں مجھے تو اتنی شرم آرہی تھی ۔
آپ بھی حد کرتے ہیں ایٹلیسٹ دیکھ تو لیا کریں ہم اکیلے نہیں تھے وہاں گھر کے سب لوگ وہاں موجود تھے ۔
نا رات میں ہوش ہوتا ہے آپ کو دن میں ہوش ہوتا ہے سیرت بولے جارہی تھی ۔
جب سالار نے اچانک پکڑ کر اسے اپنے قریب کر لیا ۔
کیا کروں جانم میں جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں اپنے ہوش کھو بیٹھا ہوں ۔
تمہارے علاوہ میرا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے سمجھنے کی کوشش کرو وہ اس کی گردن میں چہرہ چھپاتا اپنے ہونٹ اس کی صراحی دار گردن پر بے لگام چھوڑ چکا تھا ۔
سالار کیا کر رہے ہیں آپ ہمیں نکلنا ہے سالار کو پھر سے مدہوش ہوتا دیکھ کر اسے بتانے لگی لیکن سالار نے تو شاید قسم کھا رکھی تھی کہ اس کی کسی بات کو نہیں سنے گا ۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید مدہوش ہوتا دروازہ ایک دھماکے سے کھلا تھا ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں قدم رکھنے کی سالار غصے اسے دھاڑا تھا ۔
سیرت نے سالار کو اس قدر غصے میں اس دن بھی نہ دیکھا تھا جس دن وہ اسد لڑ رہا تھا ۔
اس کے سامنے کھڑی دریا سالار کو دیکھ رہی تھی اس کی نظروں میں شرمندگی بالکل کہیں نہیں تھی ۔
تم سے کہہ رہا ہوں میں کس کی اجازت سے میرے کمرے میں قدم رکھا ہے تم نے سالار پھر سے دھاڑا ۔
وہ نیچے گاڑیاں آ گئی ہیں یہی بتانے آئی تھی میں اس کی آواز یا لہجے میں کہیں کوئی معذرت نہ تھی کہ وہ اس طرح سے ان کے کمرے میں آ گئی ہے ۔
جلدی سے نیچے آ جاؤ ہم لوگ گاؤں جا رہے ہیں ۔
دریا کہہ کر وہاں سے پلٹ گئی ۔
جبکہ سالار کے غصے کا پارہ ہائی ہو چکا تھا یہ بھی ان کے ساتھ جا رہی تھی یہ چیز اس کی برداشت سے باہر تھی
••••••••••••••••••••
دیکھے سالار بھائی سمجھنے کی کوشش کریں اگر ہم دریا کو یہاں چھوڑ کر جائیں گے تو پھر مجھے بھی یہی رہنا ہوگا ۔
حنا نے بے بسی سے اپنی مجبوری بتائی
لیکن سالار ابھی تک ایک ہی بات پر اٹکا ہوا تھا کہ وہ دریا کو اپنے ساتھ نہیں لے کے جائے گا ۔
حنا یہ فیملی ٹرپ اور وہ ہماری فیملی نہیں ہے ۔
سالار نے وجہ نکالی ۔
پھر تو میں بھی آپ کی فیملی نہیں ہوں سالار بھائی ٹھیک ہے اگر آپ دریا کو نہیں لے کے جانا چاہتے تو میں بھی نہیں چلوں گی ۔
کیونکہ میں نے بابا سے وعدہ کیا ہے کہ میں دریا کا خیال رکھوں گی اور اس طرح سے میں اسے نہیں چھوڑ سکتی ۔
نہیں حنا تم ہمارے ساتھ آؤ گی سیرت نے حنا کا ہاتھ تھام لیا ۔
اس کو یہ تو یاد نہیں تھا کہ حنا کے ساتھ اس کا کیسا وقت گزر رہا ہے لیکن وہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی اور اس کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی اور اس بات کا اندازہ سیرت لگا چکی تھی ۔
ٹھیک ہے حنا لیکن تم اسے اپنی ذمہ داری پر لے کے جا رہی ہو میں اسے سیرت کے آس پاس بالکل برداشت نہیں کروں گا وہ حنا سے بولتا آگے بڑھ گیا ۔
سیرت میں اور تم ایک گاڑی میں جائیں گے ۔
سالار سیرت کو کہتا ہوا ڈرائیور سے گاڑی کی چابی لے چکا تھا ۔
تُو تو گئی سیرت حنا نے آہستہ سے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔سیرت نے گھور کر اسے دیکھا جس کا اس نے کوئی اثر نہ لیا ۔
جا میری معصوم سہیلی جی لے اپنی زندگی ۔کیونکہ گاؤں پہنچنے کے بعد ایسے خوبصورت لمحات کم ہی نصیب ہوں گے تم لوگوں کو وہ اسے آنکھ مارتے ہوئے بولی تو سیرت مسکراتی ہوئی سالار کی گاڑی میں آ بیٹھی
جبکہ سالار کا دھیان دریا کے چہرے پر تھا ۔
جوانہیں کو دیکھ رہی تھی ۔
حاشر کے آفس میں کل میٹنگ ہونے کی وجہ سے وہ آج ان کے ساتھ نہیں آرہا تھا کل میٹنگ کے بعد ہی وہ گاؤں آنے والا تھا ۔
••••••••••••
سالار یہ لڑکی دریا آپ کو کچھ عجیب نہیں لگتی سیرت نے سفر شروع ہوتے ہی پوچھا ۔
عجیب نہیں بہت عجیب ہے سیرت تم اس سے دور رہنا ۔
بہت چلاک لڑکی ہے ۔
سالار نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
سالار وہ آپ کو اس طرح سے گھور گھور کر کیوں دیکھتی ہے ۔
سیرت کے پوچھنے کا انداز نارمل نہیں تھا کہیں نہ کہیں بیویوں والی جلن تھی جو سالار نے فورا نوٹ کر لی تھی
یار سیرت وہ بچپن سے میری منگیتر تھی لیکن پھر مجھے تم سے پیار ہو گیا ۔
تمہیں دیکھنے کے بعد مجھے کسی چیز کا ہوش نہ رہا اپنا بھی نہیں ۔
اٹھتے بیٹھتے جاگتے سوتے سے تم ہی نظر آنے لگی ۔
تم نظروں میں ایسے سمائی کہ کسی اور کی جگہ ہی نہ رہی ۔
پھر دریا کو راستے سے ہٹا کر میں نے تم سے شادی کرلی ۔
اور اب تم ہی میری زندگی کے مالک ہو ۔اس دل پر تمہاری حکومت ہے اس جان پر تمہاری حکومت ہے ۔
تم جیسے چاہے راج کرو ۔وہ محبت سے اس کا ہاتھ اپنے ہوںٹھوں سے چھوتے ہوئے بولا ۔
سیرت نے فوراً اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکالا
گاڑی چلائیں ایکسیڈنٹ کروائیں گے آپ ۔وہ اسے گھورتی ہوئی نظر دوڑتی ہوئی سٹرک کی طرف کر چکی تھی ۔
جبکہ سالار یہ سوچ رہا تھا کہ آخر دریا واپس کیوں آئی ہے چھ مہینے پہلے اسے پاگل خانے سے نکلوا کر اس کا باپ گھر واپس لے آیا تھا ۔
لیکن اس کے بعد دریا کبھی بھی سالار کہ گھر نہ آئی تھی ۔اور پھر سیرت غائب ہوگئی ۔
ان چھ مہینوں میں جن میں سیرت اس کے قریب نہیں تھی دریا بھی نہیں آئی اور سیرت کے واپس آتے ہی دریا بھی آگئی ۔
ان مہینوں میں دریا نے تین بار خودکشی کرنے کی کوشش کی شاید وہ سالار کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی
کہیں سیرت کو غائب کرنے میں دریا کا ہاتھ تو نہیں تھا ۔ورنہ اس کے علاوہ کون ہو سکتا ہے جو سیرت کو اس سے دور کرنا چاھے
اگر تمہارا مقصد میری سیر ت کو وہ مجھ سے دور کرنا ہے تومیں تمہیں تمہارے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا
