Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 27
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 27
سیرت کو تنگ کرنے میں سالار کو بہت مزہ آرہا تھا سارا بیگم کو گاڑی کے پاس چھوڑنے کے بعد وہ ڈائریکٹ ڈوبلیکیٹ کی لے کر اس کمرے میں آ پہنچا
چابی سے دروازہ انلاک کیا وہ بے فکر ہو کر نہانے چلی گئی تھی
سالار مسکراتا ہوابیڈ پر آکے لیٹ گیا ۔
اور اس کا انتظار کرنے لگا
کچھ ہی دیر میں سیرت شاوع لے کے گیلے بالوں سے باہر نکلی ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا جو لاکڈ تھا اور اب بنا بیڈ کی طرف دیکھنے کی زحمت کی وہ شیشے کے سامنے آ گئی تھی
سالار کو اس کی بے خبری پر رشک آیا ۔
وہ آہستہ سے اٹھا اور اس کے پیچھے آ کر رک گیا ۔اسے دیکھتے سیرت کی چیخ بلند ہونے لگی جس کی آواز سالار نے اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر بند کی
ماننا پڑے گا آپ کو جانم ذرا آگے پیچھے کی بھی خبر رکھیں اتنی بے خبری اچھی نہیں ہوتی
سالارنے بولتے ہوئے اچانک ہی اسے کھینچ کر اپنے قریب کر لیا ۔
وہ جو پہلے اسے دیکھ کر حیران اور پریشان تھی اب بری طرح سے ڈر چکی تھی
سالار نے نرمی سے اپنا ہاتھ کے لبوں سے ہٹایا
چھوڑ ۔۔۔۔چھوڑیں پلیز کیا کر رہے ہیں آپ پلیز چھوڑیں سیرت کو کل رات والا واقعہ یاد آگیا جب وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ سیرت کو سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا
میں تمہیں نہیں چھوڑنے والا جانم بیکار محنت مت کرو وہ اسے مزاحمت کرتے دیکھ کر بولنا
دیکھیں پلیز مجھے چھوڑ دیں سیرت رونے والی ہو چکی تھی
شاید پہلے چھوڑ دیتا سیرت لیکن اب نہیں رات جو حرکت تم نے کی ہے نہ اس کی سزا تو تمہیں ضرور ملے گی
کیوں تم نے ایسا کیا میں کوئی غیر ہوں کیسے بتاؤں تمہں سیرت بولو تم مجھ سے بھاگ رہی ہوں سیرت مجھ سے اپنے سالار سے کس بات کا ڈر ہے تمہیں ہاں بتاؤ مجھے کون سی بات تمہیں ڈرا رہی ہے ۔
کیا لگتا ہے تمہیں کوئی لٹیرا ہوں جو تمہاری عزت لوٹ لے گا شوہر ہوں تمہارا سالار شاہ اپنی چیزوں پر ڈاکہ نہیں ڈالتا
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے سختی سے بول رہا تھا
پلیز مجھے چھوڑ دیں آپ جو کر رہے ہیں وہ صحیح نہیں ہے میں آپ کی بیوی نہیں ہوں
تو بن جاؤ میری بیوی ۔تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارا شوہر نہیں ہوں تو بنا لو مجھے اپنا شوہر ۔
نکاح کر لو مجھ سے ہم دوبارہ نکاح کر لیتے ہیں پھر تو سب کچھ ٹھیک لگے گا نا تمہیں سیرت میں تمہارے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں یہاں تک کہ اپنے اس جائز رشتے کو تمہارے سامنے ثابت کرنے کے لیے تم سے نکاح کرنے کے لئے تیار ہوں
لیکن پلیز مجھے خود سے دور مت کرو میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر
کیا تم نہیں جانتی کہ کتنی مشکل سے پایا تھا میں نے تمہیں
کیا نہیں کیا تھا میں نے تمہارے لیے سیرت تم جان ہو میری میں تم سے نکاح کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن مجھ سے دور جانے کی سوچ اپنے دماغ سے نکال دو
نا تو میں سیرت ہوں اور نہ ہی میں آپ سے نکاح کروں گی مجھے میرے گھر واپس جانا ہے اپنے بھائی اور اپنے ابو جی کے پاس وہ اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی مکمل کوشش کر رہی تھی لیکن سالار کے دونوں بازوؤں کو پکڑے اپنے بے حد نزدیک کیے ہوئے تھا
کیسے جاؤ گی انکے پاس ہاں کیسے جاؤ گی تم ان دونوں کے پاس جیل میں ہیں وہ ایک سیکنڈ میں سو سو بار مر رہے ہیں ۔
وہ تمہیں مجھ سے دور کر رہے تھے سیرت سزا تو انہیں ملنی ہی ہے
پرسوں کورٹ میں ان کا فیصلہ ہوگا لیکن اس سے پہلے ان کی وہ حالت ہوجائے گی جو وہ ساری زندگی یاد رکھیں گے لیکن اگر تم میری ایک بات مان لو تو وہ دونوں بچ سکتے ہیں
میرا مطلب ہے کہ میں ان دونوں کو آزاد کروا دوں گا کیونکہ ان لوگوں نے جو بھی کیا ایک کام انھوں نے اچھا کیا کہ انہوں نے تمہارا خیال رکھا تمہارے ساتھ فیملی کی طرح رہے اور یہ ایک بات ہے جس کی وجہ سے میں ان دونوں کو معاف کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن ایک شرط پر ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔۔اس کی جلد بازی پر وہ مسکرایا تھا
جب سالار نے اسے کمر سے پکڑ کر مزید اپنے قریب تر کر لیا جو چند انچ کا فاصلہ سیرت نے بڑی مشکل سے قائم کیا تھا وہ بھی مٹ گیا
“چھوڑ تو دیتے ہم تمہیں تمہارے حال پر
لیکن یہ لب تمہارے فساد کی جڑ ہیں “
وہ اس کے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا اور اگلے ہی پل اس کے لبوں پر جھک کر استحاق سے اپنی محبت کی مہر ثبت کی
اس کی پکڑ میں اتنی شدت تھی کہ سیرت کانپ کر رہ گئی ۔
شاید سالار آج اس کے ہونٹوں کو بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔
لیکن سیرت کے ناخنوں نے اپنا کام دکھایا
سالار نے اس کے لبوں کو بخش کر ایک نظر اپنے کندھے کی طرف دیکھا جہاں اس کے ناخنوں کی وجہ سے خون کی ننھی ننھی بوندیں سفید شرٹ کے اوپر تک آ چکی تھی
کل ہمارا نکاح ہوگا اور اس کے بعد تم صرف اور صرف سالار شاکی ہوگی ویسے تو تم اس وقت بھی صرف میری ہو لیکن دیکھو نہ کتنا بد قسمت انسان ہوں میں تمہیں اپنی محبت کا ثبوت دینا پڑ رہا ہے
وہ اسے اس کے حیران اور پریشان چہرے کو دیکھتا ہوا باہر جانے لگا
اسے باہر جاتا دیکھ کر سیرت نے سکون کا سانس لیا جب وہ پلٹا
دو منٹ میں نیل کٹر لے کر آرہا ہوں واپس کسی خوش فہمی میں مت رہنا ۔چھوڑوں گا نہیں تمہیں
سالار اس کی طرف ایک پیاری سی مسکان اچھالتا باہر چلا گیا
جبکہ اس کے جانے کی وجہ سے سیرت کا جو سانس بحال ہوا تھا اس کی بات سن کر واپس اٹک گیا
•••••••••••••••••
سر وہ تو آدمی کہہ رہا ہے کہ سالار شاہ کی بیوی کی جان خطرے میں ہے تو آپ کو نہیں لگتا کہ ہمیں اس کی پوری بات سننی چاہئے اور یہ بات سالار شاہ کو بتانی چاہیے کانسٹیبل نے اسپیکٹر سے مشورہ کیا
ارے نہیں نہیں یہ سب یہاں سے بچنے کے بہانے ہیں اور کچھ نہیں
سالار صاحب نے ہر قسم کی بات سننے سے ہمیں منع کر رکھا ہے ہمہیں صرف انکی عقل کے لگانی ہے
لیکن سر مجھے پھر بھی لگتا ہے کہ ہمیں سالار شاہ کو اس بارے میں بتانا چاہیے کہیں سچ میں ہی ایسا نہ ہو
ہاں تم بھی کہتے ہو یہ بات ہے تو بتانے والی آج دوپہر میں حاشر صاحب آئیں گے
ان سے بات کریں گے اس بارے میں
اگر انہیں ٹھیک لگا تو پوچھ تاچ کریں گے ورنہ ایسے کیسز میں ایسے بہانے تو مجرم بناتے ہیں رہتے ہیں
••••••••••
اپنے کہنے کے مطابق سالار تھوڑی ہی دیر میں ہاتھ میں نیل کٹر لےکر آیا
اور بنا اس کے چہرے کی طرف دیکھیں اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھایا
خود زمین پر بیٹھ کے اس کے ناخن کاٹنے لگا
یاد ہے سیرت تمہارے لمبے ناخنوں کی وجہ سے اکثر رات میں میں زخمی ہو جاتا تھا
تم صبح بہت سارا روتی تھی اور پھر پیار سے میرے زخموں پر مرہم لگاتی تھی
کیوں نہ آج بھی ویسا ہی کیا ڈونٹ وری میری جان میں تمہیں رونے کے لیے نہیں کہہ رہا بس ممرہم رکھنے کے لئے کہہ رہا ہوں
مجھے آپ پر بالکل بھی ترس نہیں آرہا اور میں اس کو دوائی لگائی ہوں جو مجھے اچھا لگتا ہے اور آپ مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہیں سیرت کی زبان اتنی تیزی سے بولی تھی کہ سالار سے دیکھ کر رہ گیا
یا تم میرے کاندھے پر مرہم لگاؤ گی یا اپنے ہونٹوں پر ۔
تو کونسا آپشن سلیکٹ کروگی ۔ سالار ایسے پوچھ رہا تھا جیسے کوئی بالکل نارمل بات کر رہا ہوں
ہاتھ میرے آپ نے پکڑے ہوئے ہیں کیسے مرہم لگاؤں سیرت کو دوسرا آپشن بہترلگا تھا بلکہ بہترین سالار نے اگلے ہی سیکنڈ اپنے جسم سے شرٹ ہٹائی تھی
جسے دیکھتے ہی سیرت نظریں جھکا گئی
نجانے کونسے لیول کے بے شرم انسان ہیں آپ شرم نہیں آتی اس طرح سے لڑکیوں کے سامنے شرت اتارتے ہوئے وہ غصے سے گھورتے ہوئے بولی
شرم آتی ہے میری جان لیکن تم کوئی لڑکی تھوڑی ہو تم تو میری بیوی ہو تم سے کیا شرمانا کونسا تم سے کچھ چھپا ہوا ہے
وہ بے شرموں کی طرح کہتا سائیڈڈرو سےمرہم نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھتا پیٹھ اس کی جانب کرکے کھڑا ہوگیا ۔
سیرت نے نظریں جھکا کے اس کے کندھے کو روئی سے صاف کیا ۔
مرہم لگاتے ہوئے سیرت کو احساس ہوا کہ اسے کافی گہرا زخم آیا ہے پھر اس نے اپنے ہاتھ کے ناخن کو یاد کیا جو کافی لمبے تھے لیکن اب کٹ چکے تھے
دور ہو رہا ہے ۔۔۔اپنا غصہ بھلائے معصومیت سے پوچھنے لگی
ہورہا ہے مگر بہت میٹھا درد ۔سالار نے اس کے چہرے کو نظر کے حصار میں لیتے ہوئے محبت سے جواب دیا
