Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 22
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 22
ساری رات اسے نیند نہیں آئی وہ کروٹیں بدلتی یہی سوچ رہی تھی نہ جانے سالار اب کیا کرے گا وہ اس کے باپ یا بھائی کو کچھ بھی کر سکتا ہے وہ یہ بات تو سمجھ گئی تھی کہ وہ بہت پاورفل آدمی ہے
کم ازکم اس کے بھائی اور باپ سے زیادہ
وہ اس کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے اور اس کی بات نہ ماننے پر اسد یا ابو جی کے ساتھ کچھ بھی اور جو دھمکی سالار نے اسے بھی تھی کہ وہ اس کے باپ کو دھوکہ دری کے کیس میں اندر کروادے گا اس بات سے وہ اور بھی زیادہ ڈر چکی تھی ۔
مجھے صبح ان سے ملنے جانا ہی پڑے گا اگر میں کل نہ گئی تو یہ نہ ہو کہ وہ سچ میں ابو کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کردیا
اور اگر ابو جی کو پولیس پکڑ کر لے گئی تو پریشانی سے کروٹ بدلتی یہی سوچ رہی تھی میڈیسن نہ لینے کی وجہ سے اسے نیند بھی نہیں آرہی تھی
اور سالار کی دھمکی کی وجہ سے تو میڈیسن لینے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی
••••••••••
اسے سیرت کو یوں بے بس کر کے اچھا تو نہیں لگا تھا لیکن وہ کیا کرتا سیرت جو میڈسن لے رہی تھی اس کی وجہ سے وہ اپنی پرانی زندگی بھول چکی تھی
اسے سیرت کو واپس لانا تھا جس کی وجہ سے یہ ضروری تھا اب پتا لگانا تھا کہ آخری مرہاہ کون ہے کوئی ہے بھی یا نہیں لیکن سیرت سے ملنے کے بعد وہ بہت خوش تھا اسے یقین تھا کہ اب سیرت وہ میڈیسن نہیں لے گی
ابھی وہ یہی سب کچھ سوچ رہا تھا کہ اس کا فون بجا جیسے دیکھتے ہی سالار نے اٹھا لیا شاید وہ اسی کال کا انتظار کر رہا تھا ہاں بولو کچھ پتہ چلا مزمل
جی شاہ سائیں میں نے پتہ لگا لیا ہے جو میڈیسن سیرت بی بی کو دی جارہی ہے وہ کراچی کا تو کوئی ڈاکٹر نہیں دیتا
لیکن کراچی سے تھوڑی دور کے علاقے میں ایک ڈاکٹر ہے اور اہم بات تو یہ ہے کہ یہ میڈیسن چھوٹی عمر کے لوگوں کو نہیں دی جاتی تھی یہ ایسے لوگوں کو دی جاتی ہے جو عمر رسیدہ ہوں
کیا مطلب ہے میں کچھ سمجھا نہیں سالار نے پریشانی سے تھا
سائیں ۔ سیرت بی بی کو جو دوائیاں دی جارہی ہیں وہ آن لیگل ہو ۔میڈیکل اتھارٹی اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی کے 50 سال سے کم عمر کے آدمی یا عورت کو ایسی کوئی بھی دوائی آلاؤڈ کی جائے ۔
یہ جو ڈاکٹر دوائیاں دے رہا ہے وہ آن لیگل کے کام کر رہا ہے اگر آپ چاہیں تو اس کے خلاف ایکشن لے سکتے ہیں ۔
مزمل نے بتایا ۔
مزمل جلدی سے جلدی پتہ لگاؤ وہ ڈاکٹر کون ہے ہمیں اس سے ملنا ہوگا ۔
وہ تو میں پتہ لگا چکا ہوں شاہ سائیں اگر آپ چاہیں تو ہم کل ہی اس سے ملنے بھی چل سکتے ہیں ۔
مزمل نے کہا تو سالار نے اس کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کل ہی اس ڈاکٹر سے ملنے کا فیصلہ کیا
فون رکھنے کے بعد وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کل تو وہ سیرت سے ملنے کے لیے بھی جانے والا ہے لیکن فی الحال سیرت سے ملنے سے زیادہ ضروری تھا سیرت کی یادداشت واپس آنا
اورمرہاہ کا سچ جاننا
••••••••••••
صبح اس کی آنکھ کھلی تو ابو جی کہیں نہیں تھے اس نے جلدی سے ناشتہ بنایا ۔اسد بھی تیار ہو کر باہر آ چکا تھا
گڑیا ناشتہ بن گیا ۔اسد نے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تو مرہاہ نے جلدی سے اس کے سامنے ناشتہ رکھا
ابوجی کہا ہیں اسد بھائی وہ جو کب سے پریشان تھی اس سے پوچھنے لگی
کہاں ہو سکتے ہیں گڑیا آفس جانے کا وقت نہیں ہوا اندر ہونگے جاؤ دیکھو ۔
نہیں ہیں میں نے دیکھ کے آئی ہوں
اس نے پریشانی سے کہا کیونکہ اسے سالار کی دھمکی یا دانے لگی تھی
تم پریشان کیوں ہو رہی ہو جلدی چلے گئے ہوں گے میں ابھی فون کرتا ہوں اسد اپنا موبائل نکالے فون کرنے لگا
گڑیا ان کا فون بند ہے اسد نے بتایا تو مرہا ہ کی پریشانی مزید بڑھ گئی
تم بھی جلدی سے ناشتہ کرو میں تمہیں کالج چھوڑ دیتا ہوں اپنے آفس میں ہوں گے اسد نے بے فکری سے کہا لیکن مرہاہ اتنی بے فکر نہیں رہ سکتی تھی
اسے یقین تھا سالار ضرور کچھ نہ کچھ کرے گا کہیں ابوجی کو پولیس تو نہیں پکڑ کر لے گی اس نے پریشانی سے سوچا
اور پھر تھوڑی دیر کے بعد اسد کے ساتھ کالج اگی اسد کافی دیر دروازے پر کھڑا اسکے اندر جانے کا انتظار کرتا رہا اور جیسے ہی وہ اپنے گیٹ کے اندر ہوئے اسے اپنا بائیک سٹارٹ کر کے اپنے آفس چلا گیا
اس نے جیسے ہی دیکھا کہ اسد جا چکا ہے وہ جلدی سے وہاں سے نکلی تاکہ سالار شاہ کے پاس جائے اور اسے پوچھیں کہ اس کے ابو جی کہاں ہیں
سالار نے اس کے سامنے دو بجے ملنے کی شرط رکھی تھی لیکن اس نے دو بجے سے پہلے ہی اس کے ابو کو گرفتار کروادیا
مرہاہ نے پریشانی سے سوچتے ہوئے اس کے اس گھر میں آئی جہاں اسے پارٹی میں بلایا گیا تھا
••••••••••••••••
سالار ناشتہ تو کرلو سارا بیگم نے اسے اس طرح سے نکلتے دیکھ کر کہا
نہیں ماما آج میں ایک بہت ضروری کام کے لیے کہیں جا رہا ہوں فی الحال ناشتہ نہیں کروں گا مزمل انتظار کر رہا ہوگا
سالار نے کہا اور باہر جانے لگا
لیکن سامنے سے آتی سیرت کو دیکھ کر اسے خوشگوارسی حیرت ہوئی
سیرت میری جان ابھی نہیں آنا تھا ہم دو بجے ملنے والے تھے سالار جلدی بھی اسی لیے نکل رہا تھا تاکہ وہ واپس آکر سیرت سے دو بجے مل سکے وہ جلدی سے اس کے قریب آ کر کہنے لگا لیکن اس کی اتری صورت دیکھ کر پریشان ہوگیا کیا ہوا تم پریشان کیوں ہو
میرے ابو جی کہاں ہے چہرے پر دنیا جہان کی معصومیت سجائے وہ اس سے پوچھ رہی تھی
سیرت تمہارے ابو جی کا مجھے کیسے پتہ ہوگا
آپ نے کہا تھا آپ میرے ابو جی کو پھسا دیں گے پولیس سے پکڑوا دیں گے آپ نے ایسا ہی کیا ہوگا کہاں ہیں میرے ابو جی بتائیں مجھے ورنہ ۔۔۔
ورنہ سالار دونوں ہاتھ سینے پر باندھے دلچسبی سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
ورنہ اچھا نہیں ہوگا سالار بدمزا ہوا کیونکہ وہ اس سے کوئی اچھے جواب کی امید رکھتا تھا
اچھا تو اچھا نہیں ہو گا خیر مجھے نہیں پتا تمہارے ابو جی کہاں ہیں۔ آفس میں ہونگے یا شاید تمہیں بتائے بغیر کسی لڑکی کے ساتھ بھاگ گئے ہونگے
مطلب بندہ بشر ہے امان تو کبھی بھی ڈگمگا سکتا ہے ہو سکتا ہے انہیں کوئی لڑکی پسند آگئی ہو ۔۔۔
شٹ اپ اب میرے ابو جی ایسے نہیں ہی سمجھے آپ وہ اس کی شرارتی نظر اگنور کر سیریز سے انداز میں بولی
سالار نے اس کے غصے کو دیکھتے ہوئے شرارت سے اپنی انگلی اپنے ہوںٹھوں پر رکھیی
خاموشی سے اپنی جیب سے فون نکالا اور اپنے آفس فون کیا
ہاں فیصل ہارون صاحب آفس پہنچ گئے اس نے پوچھا
نہیں کوئی کام نہیں بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا ٹھیک ہے آفس میں ملتے ہیں وہ فون بند کرکے واپس اپنی جیب میں رکھ چکا تھا
تمہارے ابو جی آفس میں ہیں اور کام کر رہے ہیں
آج ایک بہت اہم میٹنگ تھی شاید اسی کی وجہ سے وہ جلدی آ گئے ہوں گے ۔اتنی جلدی ایکشن نہیں لونگا دو بجے کا وقت دیا تھا نہ میں نے _۔ تمہیں میں دو بجے کے بعد ہی ان کے بارے میں کچھ سوچنے والا تھا ۔
اپنے ابو جی کی پریشانی میں لگتا ہے ناشتہ بھی نہیں کیا تم نے چلو اندر چلو کچھ کھالو پہلے ۔ذرا سی صورت نکل آئی ہے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اپنے ساتھ اندر لے آیا ۔
مجھے ناشتہ نہیں کرنا مجھے اپنے کالج واپس جانا ہے ۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ سالاراسے اپنے ساتھ گھسیٹتے زبردستی اندر لے کے آیا اور کرسی پر بیٹھا دیا
ارے مرہاہ بیٹا تم یہاں ۔۔۔۔سارا نے پریشانی سے پہلے اسے اور پھر سالار کو دیکھا
مرہاہ نہیں سیرت یہ سارا ڈرامہ صرف اس کے جھوٹے بھائی اور باپ کے سامنے ۔سالار نے انہیں آنکھ دبا کر کہا ۔اور اس کے لیے اور اپنے لئے ناشتہ لگانے لگا
سوچا تھا تمہارے ساتھ لنچ کروں گا کوئی بات نہیں بریک فاسٹ کر لیتے ہیں ۔
بات تو ایک ہی ہے دونوں کنڈیشنز میں دیکھنے تو میں نے اپنی جانو کی صورت ہی ہے سالار نے بڑے پیار سے اس کے گال پر چٹکی کاٹی ۔
سالار کو تو شرم آنی نہیں تھی سارا بیگم خود ہی مسکرا کر اٹھی اور اندر چلی گئی ۔
ٹھیک سے ناشتہ کرو سالار نے اس کے سامنے جوس رکھا تو وہ نہ میں گردن ہلانے لگی تو سالار میں تھوڑی سی سختی دکھائی
آپ کو سمجھ نہیں آ رہا مجھے نہیں کرنا ناشتا مجھے میری کالج جانا ہے سیرت بھی اس بار غصہ دکھاتے ہوئے بولی ۔
تمہیں پتا ہے جانم جب تک تم ناشتہ نہیں کرتی تب تک میں تمہیں کہیں نہیں جانے دیتا تو پھر بے کار میں ضد کیوں کر رہی ہو ۔
چلو جلدی سے شروع کرو” ورنہ” ۔۔۔۔یقین کرو میرا “ورنہ” اچھا نہیں ہوگا سے بہتر ہوگا سالار نے اس کے “ورنہ” کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا
